Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • آج کا مسلمان ; تحریر فرازرؤف

    آج کا مسلمان ; تحریر فرازرؤف

    ہمیں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا کیا اور اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہم حضرت محمد ﷺ کے امتی ہیں۔

    لیکن بدقسمتی سے ہم امتی ہونے کا حق ادا کرنا بھول گئے، ہم اپنی زندگیوں کو آپ کے بتائے ہوئے احکامات پر چلانے کی بجائے ایسے کاموں میں ملوث ہو گئے جس کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔

    افسوس کہ آج مسلمان مذہب سے دوری کے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت کو بھی بھول گئے ہیں۔ بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں اخلاقی زوال، بے حیائی، جھوٹ، چغل خوری، مکر و فریب، غرور و تکبر سرایت کرگئے ہیں۔

     اگر ایک نگاہ مسلمانوں کے موجودہ احوال پر ڈالی جائے، برما ہو یا شام، فلسطین ہو یا افغانستان، افریقہ یا امریکہ، عراق ہو یا یمن، ہر ملک اور دنیا کے ہر خطہ میں مسلم قوم تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ تمام اقوام عالم نے یک زبان ہو کر دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑدیا ہے، مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔

    قرآن کریم میں اللہ تعالی مسلمانوں کے حوالے سے ارشاد فرماتا ہے: ” تم بہترین امت ہو "یعنی دنیا کی سب سے اچھی امت ہو ؛حالانکہ سب سے اچھی امت اسے کہتے جسے دنیا میں عز ت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے، دوسری اقوام جسے اپنے لیے نمونہ بنائیں، اس کی تہذیب کو اپنایا جائے نیز وہ ایسی امت ہو کہ خوش حالی کی زندگی گزارے، تمام طرح کی دنیاوی پریشانیوں سے مامون ومحفوظ ہو۔ ان میں سے کوئی چیز بظاہر امت مسلمہ میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

    وہ کون سے اسباب ہیں جس کی وجہ سے آج مسلمانوں کی یہ حالت ہے، ہمیں جلد ہی ان عوامل کو تلاش کرنا ہو گا کہیں دیر نا ہو جائے۔ ان دنیاوی چیزوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے کہیں کسی دن موت کا بلاوا نہ آ جائے۔ بحیثیت مسلمان اور نبی کریم ﷺ کے امتی ہمیں ہر وقت اپنی آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیئے اور آخرت کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہیے۔

    مسلمانوں کی موجودہ پریشان حالی کے اسباب یہ ہیں کہ وہ لاشعوری اور غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں، جب کہ انھیں اس ذمہ داری کے ساتھ دنیا میں بھیجا گیا ہے کہ وہ اس دنیا میں بسنے والے تمام افراد کے نفع و نقصان کی فکرکریں، مگر وہ اپنی ذاتی زندگی میں اس قدر مصروف ہوگئے ہیں کہ اپنی اس عظیم ذمہ داری کو بھول بیٹھے ہیں۔

    دوسرا سبب یہ ہے کہ مسلمان تعلیمی اور فنی میدان میں بہت پیچھے رہ گئے اور تعلیم کے بغیر کسی قوم کی کسی بھی میدان میں صحیح راہنمائی کرنا محض خواب وخیال ہے۔

    تیسرا سبب یہ ہے کہ دین سے ان کا رشتہ بہت کمزرو پڑچکا ہے، چنانچہ دینی تعلیمات ، اسلامی طرز زندگی اور اسلامی اخلاق ان کی زندگی سے ختم ہورہے ہیں۔

    چوتھا سبب یہ ہے کہ امت اللہ کی طرف رجوع کرنا بھول گئی ہے، جس کا بہترین راستہ نماز ہے، 

    نماز ہر طرح کی پریشانیوں، تکلیفوں، غموں، مصیبتوں، الجھنوں، بیماریوں اور حزن و ملال کے بادل چھانٹ دیتی ہے۔ جب کبھی حضور ﷺ کو کوئی اہم مسئلہ پیش ہوتا تو آپ اپنے رب کی بارگاہ میں نماز کی حالت میں رجوع کرتے، نماز کی ادا سے اپنے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے اور نماز سے ہی اپنے تمام معاملات کو بہتر کرتے۔ کائنات میں صرف ایک ذات اللہ عزوجل کی ہے جو دل کو جمانے اور ڈھارس بندھانے والی ہے۔

     ہم لوگ آج ہر طرف سے نفسیاتی،جسمانی،دماغی، معاشرتی، پریشانیوں، الجھنوں میں پھنسے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی طرف رجوع کرنے اور نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ سے صبر و سکون حاصل کرنے کے بجائے ہم مادی وسائل کا انتخاب کرتے ہیں، جب کہ سکون، اطمینان حاصل کرنے اور ان  تمام بیماریوں کے علاج کا ایک ہی ذریعہ، ایک ہی مداوا اور حل ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے خالق و مالک کے سامنے نماز کی حالت میں جھک جائے۔

    لہٰذا مسلمانوں کو ان چاروں اسباب میں غور کرنا چاہیے اور ان چاروں کی طرف سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیے،ان انشاءاللہ کامیابی و کامرانی ان کا مقدر ہوگی اور زمین کی سربراہی اور دیگر اقوام کی قیادت و سیادت انھیں حاصل ہوگی، وہ ایک قائد امت بن کر دوبارہ ابھر سکیں گے اور پوری دنیا انھیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے گی،  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

     آیت 139: وَلاَ تَہِنُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا:  ”اور نہ کمزور پڑو اور نہ غم کھاؤ’ 

    وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ:  ”اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔”

    Author: Faraz Rauf

    Twitter ID: @farazrajpootpti

  • سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت  حصہ دوئم: تحریر اصغر علی

    سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت  حصہ دوئم: تحریر اصغر علی

    –  

                                             Written by : Asghar Ali 

    حصہ دوئم:-                                                          انقرہ شہر کا محاصرہ ہو چکا تھا صرف یہی نہیں اس کے بعد امیر تیمور کی فوج نے سلطان بایزید اول کے واپسی کے راستے پر تمام فصلیں اور گودام جلا ڈالے اب سلطان بایزید اول کے لیے واپس انقرہ جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا اور واپس اسی راستے سے جانا تھا جس راستے پر امیر تیمور کی فوج  نے سب کچھ جلا دیا تھا اب نہ کچھ کھانے کو تھا اور نہ ہی کچھ پینے کو اور تیموری لشکر ایک ایسی جگہ پر  تھا جہاں پر گراؤنڈ اس کی مرضی کا تھا اس جگہ پر امیر تیمور کو تین فائدے تھے نمبر ایک گراؤنڈ اس کی مرضی کا تھا نمبر 2 امیر تیمور کی فوج سلطان بایزید اول سے 60 ہزار سے زیادہ تھی جبکہ اس فوج میں ہندوستان سے لائے گئے ہاتھی بھی شامل تھے نمبر تین  امیر تیمور کی فوج کو آرام کرنے کا موقع مل گیا تھا اس کے مقابلے میں سلطان بایزید اول کی فوج کو دیکھیں اس مقام پر اس کو تین بڑے نقصان تھے ایک اس کی فوج منظم بھی نہیں تھی ایک لمبے سفر سے بھوک اور پیاس کا مقابلہ کر رہی تھی دوسرا یہ یہ کہ لمبے سفر کے باعث بھوک اور پیاس سے بیس ہزار سپائی راستے میں ہی دم توڑ چکے تھے تیسرا بڑا نقصان فوج کی تنظیم میں چھپا تھا وہ یہ کہ اس میں تین طرح کے لوگ تھے یعنی وہ فوج ایک منظم اور اکٹھی فوج نہیں تھی اس میں میں سب سے پہلے جینیسیریز تھے جو کہ وہ سلطان بایزید اول کے بھروسے کے لوگ تھے اس کے بعد وہ ترک اور تاتاری سپاہی تھے جن کو پیسے دے کر فوج میں شامل کیا گیا تھا اور وہ کسی بھی لالچ کے تحت کسی بھی ٹائم ترک فوج کو چھوڑ سکتے تھے تیسرے وہ یورپی دستے جو سلطنت عثمانیہ کی وفاداری کے تحت اس کے ساتھ شامل تھے اب ڈیڑھ لاکھ تیموری فوج 70 ہزار  عثمانی فوج کے سامنے کھڑی تھی یہ بات دونوں سلطان بایزید اول امیر تیمور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ ایک بہت بڑی جنگ ہونے جا رہی ہے کیونکہ اس وقت پوری روئے زمین پر ان دونوں سے بڑی اور خطرناک سلطنتیں اور کہیں نہیں تھی دونوں سلطان جو کل تک ایک دوسرے کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے تھے آج ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں اب جنگ باضابطہ طور پر شروع ہو چکی تھی پہلا حملہ امیر تیمور کی جانب سے ہوا مگر اس کو ترک فوج نے پسپا کردیا جیسے جیسے جنگ آگے بڑھتی گئی امیر تیمور کا لشکر عثمانی سلطان کے لشکر پر حاوی ہوتا چلا گیا اس کے بعد آہستہ آہستہ امیر تیمور کی فوج سلطان سلطان بایزید ثانی کی فوج کو شکست دینے لگی اب سلطان بایزید اول کے پاس چند ہی وفادار سپاہی بچے تھے جن کو جینسیریز کہتے تھے تیموری فوج طاقت کے ساتھ ساتھ تیرے برساتی رہیں لیکن کب تک جینسیریز ان کا مقابلہ کرتے جب سلطان نے دیکھا کہ امیر تیمور کی فوج حاوی ہونے لگی ہے تو وہ میدان جنگ سے فرار ہو گیا یہاں پر پر اب امیر تیمور کی تیموری فوج جیت چکی تھی مگر سلطان بایزید اول ان کی حراست میں نہیں تھا اور ان کے سامنے سے زندہ فرار ہو چکا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ہوا ایک ایک تیموری گھڑسوار نے بھاگتے ہوئے سلطان بایزید اول کے اوپر تیر برسایا جس کا گھوڑا زخمی ہو گیا اور سلطان زمین پر گر گیا اور امیر تیمور کا قیدی بن گیا یہ سلطنت عثمانیہ کے لیے بدترین شکست تھی اس سے بدترین شکست عثمانیوں کو آج تک نہیں ہوئی تھی اب سلطنت عثمانیہ کا سلطان امیر تیمور کا قیدی تھا اور اس کے تین بیٹے بھی امید تیمور کی تلواروں کے نیچے تھے لیکن امیر تیمور نے اس کے بیٹوں کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ وہ تیمور کی اطاعت قبول کرتے رہیں گے سلطان بایزید اول یورپ کا بہت بڑا فاتح تھا اور وہ یہ اذیت برداشت نہ کر سکا اور چند ماہ بعد دوران قید ہی مر گیا اس کے کچھ ہی ماہ بعد1405 میں امیر تیمور بھی مر گیا اس کے بعد تیموری سلطنت کافی حصوں میں ٹوٹ کے بکھر گئی جب کہ سلطنت عثمانیہ بھی سلطان بایزید اول کے تینوں بیٹوں میں بٹ چکی تھی  بھائی بھائی کے خون کا پیاسا تھا اور پوری سلطنت خانہ جنگی میں چلی گئی لیکن اس خانہ جنگی میں سلطنت عثمانیہ بکھری ضرور مگر ٹوٹی نہیں اس کی وجہ  تھی کہ یورپ میں کوئی بھی ایسی طاقت نہیں تھی جو سلطان بایزید کی حکومت ختم ہونے کے بعد یورپ سے ترکوں کو نکالنے کی کوشش کرتی یا اناطولیہ پر قبضہ کرتی اور دوسرا یہ کہ امیر تیمور اور اس کے ساتھی بھی اناطولیہ میں ٹھہر کر  عثمانی سلطنت پر حکمرانی نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے ترک سلطنت کو تیمور اور اس کے جانشینوں نے بھی کنٹرول میں نہیں لیا تو بہرحال بایزید کے چار بیٹے محمد اول عثمان عیسی اور موسی کے درمیان اگلے 11 سال تک خونریز جنگ ہوتی رہی اس میں عثمان عیسی  مارے گئے اور موسی فرار ہوگیا اور محمد اول بچ گیا اس طرح سلطنت عثمانیہ کو ایک نیا سلطان محمد اول مل گیا تھا اور سلطنت عثمانیہ ایک دفعہ پھر دنیا کے نقشے میں چودہ سو چودہ میں نمودار ہوگی سلطان محمد اول نے ایک تاریخی کام کیا کہ اس نے ترکوں کی تاریخ لکھوانا شروع کر دی آج ہم ترکوں کے بارے میں جو کچھ بھی جانتے ہیں وہ سلطان محمد اول کی مرہون منت ہے

    Twitter id:    @Ali_AJKPTI

  • کیا ہم انسان ہیں؟  تحریر: ظفر ڈار

    کیا ہم انسان ہیں؟ تحریر: ظفر ڈار

    @ZafarDar 

    کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ہم کسی ظلم اور جبر کی داستان نہ سنیں۔ کہیں قتل وغارت تو کہیں لوٹ مار، کہیں عزتوں کے سودے اور کہیں خواہشات کی غلامی میں معصوم بچوں اور بچیوں کی آبروریزی۔ کسی بھی حساس انسان کیلئے خود کو ایسی خبروں سے بے نیاز رکھنا ممکن نہیں ہوتا اور لامحالہ ہماری سوچ ہمیں اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں ہم یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ہم انسان بھی ہیں یا محض لباس انسان میں ہیں؟

    اللہ تعالٰی نے ہمیں انسان بنا کر اشرف المخلوقات قرار دیا، حتیٰ کہ اپنے عبادت گزار فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں۔ فرشتوں کو حکم ربی بجا لانے کا ہی اختیار ہے، انکار کا نہیں۔ جس نے اس حکم کی تعمیل نہیں کی وہ اگرچہ گروہ جنات سے تھا لیکن اپنے علم کی وجہ سے فرشتوں کا سردار تھا، ابلیس سے شیطان بن کر ہمیشہ کیلئے معتوب ہو گیا۔ یوں اللہ تعالٰی نے انسان کی فضیلت اپنی تمام مخلوقات پر قائم کر دی۔ اللہ کی ہزاروں مخلوقات میں سے اس دنیا میں ہمارا واسطہ حیوانات و نباتات سے رہتا ہے اور کبھی کبھار جنات سے لیکن وہ ایک غیر مرئی تعلق ہے۔

    انسان اور حیوان اس دنیا میں تقریباً ایک جیسے انداز میں زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی پیدائش و افزائش نسل، سونا، جاگنا، کھنا پینا، ہضم کرنا اور دیگر معاملات انسانوں کی طرح ہی ہیں۔ اسی لئے میڈیکل کے طالبعلموں کو جانوروں کے نظام پر پہلے تجربات کرائے جاتے ہیں اور کسی بھی نئی دوا کو متعارف کرنے سے پہلے اس کی افادیت اور مضر اثرات جاننے کیلئے جانوروں پر ہی تجربات کئے جاتے ہیں۔ تمام خصوصیات میں مماثلت کے باوجود ایک فرق جو انسان اور جانور میں تفریق کرتا ہے وہ شعور ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، اچھے برے کی تمیز، اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت۔ اللہ نے انسان کو بے شمار معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے جو اپنی مرضی اور سوجھ بوجھ کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ گویا انسان جب اپنے علم، شعور اور دماغی صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے تو وہ انسان کے درجے سے نکل کر حیوان کے درجے میں شامل ہو جاتا ہے۔

    انسانیت کو معراج اس وقت عطا ہوئی جب اللہ نے انسانیت پر احسان فرمایا اور اپنے محبوب ﷺ کو خاتم الانبیا بنا کر مبعوث فرمایا۔ گویا مسلمان ہونا اور حضور اکرم ﷺ کا امتی ہونا ہمیں انسانیت کے اعلٰی ترین مرتبے پہ فائز کرتا ہے۔ اگرچہ ایک مسلم معاشرے کا رکن ہونے کے ناطے میرا فخر ہے کہ میں مسلمان ہوں اور میرا دین وہ مکمل دین ہے جس کے بعد کسی مزید ترمیم اور اصلاح کی ضرورت اور گنجائش نہیں اور جو قیامت تک قائم رہنے والا ہے۔ اس طرح دین فطرت اور سرکار ﷺ کے امتی ہونے کے ناطے ہم سب مسلمانوں کا طرز عمل دیگر انسانوں (اور مذاہب کے ماننے والوں) سے بہت اعلٰی معیار کا ہونا چاہئے۔ کیونکہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب قرآن مجید اور محسن انسانیت ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو ہماری راہنمائی کیلئے موجود ہے۔

    لیکن جب ہم عملی طور پر موجودہ معاشرے کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اکثر غیر مسلم، انسانیت کا بہتر نمونہ نظر آتے ہیں۔ جو احکام اسلام نے ہمیں دئے، ہم نے انہیں بھلا دیا اور غیر مسلموں نے ان احکام کو اپنی زندگیوں اور معاشروں میں رائج کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ اخلاقی طور پر ہم سے بہتر نظر آتے ہیں۔ جبکہ ہم عمل سے خالی ہونے کے باوجود خود فریبی کا شکار ہیں۔ اگرچہ ہم حقوق اللہ کی طرف مائل ضرور ہیں لیکن حقوق العباد سے بہت دور ہیں جبکہ دین ہمیں معاشرت سکھاتا ہے۔ "تم میں سے بہتر وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے  مسلمان محفوظ رہیں” یہ کس طرف اشارہ ہے؟

    ابھی تک کی گفتگو میں یہ معاملہ زیر غور لانا چاہ رہا ہوں کہ معاشرتی رویوں اور اپنے عمل سے ہم نے خود کو انسانی درجے سے بھی نیچے حیوان کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے۔ جو یہ نہیں سوچتا کہ میں کسی کے ساتھ ظلم کیوں کر رہا ہوں؟ کیا مجھے اللہ کے سامنے حاضر نہیں ہونا جہاں مجھ سے سوال کیا جائے گا؟ میں کسی کی ماں، بہن یا بیٹی کے ساتھ زیادتی کر رہا ہوں تو کوئی میری بہن بیٹی کے ساتھ بھی ایسا کر سکتا ہے۔ ہمیں حیوان کی سطح سے انسان اور پھر مسلمان کی سطح پر واپس آنا ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر معاشرہ دے سکیں۔ خود کو تبدیل کئے بغیر ہم ریاست مدینہ کے خواب کی تعبیر نہیں حاصل کر سکتے۔

    یاد رکھیں قومیں ترقی اسی صورت میں کرتی ہیں جب وہ اچھے معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں۔ آج یورپ اور امریکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہیں تو دو سو سال پہلے یہ صورتحال نہیں تھی۔ اور آج ہم مسلمان تباہی اور اخلاقی پستی کا شکار ہیں تو چند سو سال پہلے تک ہم ایک تہائی دنیا پر حکومت کرتے رہے ہیں۔

    تحریر: ظفر ڈار

    @ZafarDar 

  • چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے  تحریر: علی خان

    چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے تحریر: علی خان

    @hidesidewithak

    جب بھی عوامی مسائل  اور ترقی نہ  ہونے کی بات ہوتی ہے تو کرپشن کو اسکا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ ہر دور حکومت میں ماضی کے حکمرانوں ، بیوروکریٹس اور صنعت کاروں اور تاجروں پر بدعنوانی اور فراڈ کے الزامات لگتے ہیں لیکن  صدقے جائیے ہمارے نظام انصاف کے کہ آج تک کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوسکا۔ الزام ثابت بھی ہوجائے تو  مجرم پوری ڈھیٹائی سے  اس وقت تک اپنے  بے گناہ ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے  جب  تک کوئی  دوسری حکومت برسراقتدار نہیں آجاتی یا ادارہ احتساب سے ڈیل نہیں ہوجاتی۔  سیاستدانوں کے لیےمعاملہ زیادہ آسان ہوتا ہے کہ انہیں پانچ یا دس سال کے وقفے سے اقتدار دوبارہ مل جاتا ہے اور ان کا لوٹ کا پورا مال ہی بچ جاتا ہے

    آج کل اپنے سنہری دور کے انتظار  کرنے والے سیاستدانوں میں 35 سال اقتدار کے مزے لوٹنے والے 3 بار کے وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب  بھی شامل ہیں۔ میاں صاحب پر پاناما پیپر اسکینڈل کے بعد  کیس چلنا شروع ہواتو انکے وکلاء کی جانب سے بار بار پینترے بدلے گئے۔ میاں صاحب نے دادا سے جائیداد براہ راست بچوں کو منتقل ہونے کا موقف اپنایا تو کہانی میں قطری خط اور کیلبری فونٹ جیسے متعدد جھول واضح ہوئے، میاں نواز شریف کے تمام اہل خانہ کی جانب سے متضاد موقف نے معاملے میں کچھ نہ کچھ کالا ہونے کو پریقین کردیا۔ مریم نواز کی جانب سے جائیداد نہ ہونے کا بیان پھر لندن فلیٹس کی ملکیت کا ثابت ہونا یا پھر حسن اور حسین نواز کی جانب سے کیس کی پیروی سے یہ کہہ کر فرار کہ ہم برطانوی شہری ہیں ہم پر کیس نہیں چل سکتا۔ 

    قوم کے ساتھ اس سے بڑا مذاق کیا ہوسکتا ہے کہ والد 3 بار ایک ملک پر حکمرانی کریں اور مزید کی خواہش رکھتے ہوں لیکن بچوں کی جانب سے اسکے قوانین ماننے سے ہی انکار کیا جائے۔ میاں صاحب خود بھی جب  جیل میں سزا نہ کاٹ سکے تو ایک نامعلوم بیماری میں مبتلا ہوگئے جس میں  انکی جان کو خطرہ لاحق ہوا اور دن تک گنے جانے لگے۔ پاکستان سے باہر چار ہفتے علاج  کے لیے جانے والے نواز شریف صاحب انہی فلیٹس میں  قریباً ایک سال سے مقیم ہیں جن کے بارے میں انکا پورا خاندان  متضاد بیانات دیتا رہا ۔ انہی فلیٹس کے لیے میاں صاحب کے بچوں نے مادر وطن سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور اس مبینہ غبن کے ماسٹر مائنڈ اسحاق ڈار اور میاں صاحب کے  قریبی عزیز بھی مختلف کیسوں میں مطلوب اور لندن میں بیٹھ کر ملک کا درد جتا رہے ہیں

    میاں صاحب پر یہ مثال  "چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے” بالکل صادق آتی ہے۔ نواز شریف صاحب  ان فلیٹس اور لندن میں انکشاف کردہ دیگر جائیدادوں کے لیے اتنی ذلالت جھیل چکے ہیں  لیکن اس بے نامی، مشکوک اور مبینہ طور پر قومی خزانے کی لوٹ سے بنائی جائیداد  کو چھوڑنے پر راضی نہیں۔  میاں صاحب اس  کوشش میں  وطن عزیز کے خلاف واہیات زبان استعمال کرنے والے افغان حمد اللہ محب سے ملتے ہیں تو انکی صاحبزادی ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل بیان بازی میں مصروف ہیں۔ ہر موقعے پر ریاست مخالف بیانیہ اپنانے سے انکے سگے بھائی شہباز شریف بھی ان سے دوری اختیار کرتے جارہے ہیں لیکن میاں صاحب کی سمجھ اور فہم صرف اپنا لوٹ کا مال بچانے تک محدود ہے۔ اپنے کیسوں میں میرٹ کی بجائے طبی بنیادوں پر ضمانت حاصل کرنا اور دوسرے ملک  میں بیٹھ کر حب الوطنی کے دعوے میل نہیں کھاتے۔ میاں صاحب اس ملک نےآپکو عزت دی اور سب سے بڑی مسند پر فائز کیا۔ دل بڑا کریں اور اس دولت  کو ملک و قوم کے نام کرکہ وطن سے محبت کا حقیقی ثبوت دیں۔ حب الوطنی کے نعرے ایک بات ہے  اور ان کا عملی مظاہرہ دوسری۔ عمل کا وقت قریب ہے ورنہ قوم یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ جو شخص دولت بچانے کے لیے ملک دشمنوں سے میل ملاقات رکھ سکتا ہے تو اسکی حب الوطنی پر یقین بے وقوفی ہے

  • نظامِ زندگی میں صبر کی طاقت تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    نظامِ زندگی میں صبر کی طاقت تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    صبر کی طاقت کامیابی کے ایک اہم جز میں سے ایک ہے۔. اگر آپ صبر کرتے ہیں تو ، اس سے بہت سارے انعامات ملتے ہیں ، جیسے ذاتی نمو ، زیادہ بصیرت اور افہام و تفہیم حاصل کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ، یہ ایک مضبوط کردار بناتا ہے جو آپ کو پرامن زندگی کی طرف لے جاتا ہے

    عظیم سائنس دانوں ، کاروباری افراد اور کاروباری افراد کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں جن کی زندگی میں صبر نے ایک بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔. انہوں نے حالات کو بالکل بھی توڑنے نہیں دیا ، لیکن نئے امکانات کو وسعت دیتے ہوئے وہ جو حاصل کرنا چاہتے ہیں اس پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔. یہ ان کی صبر کی طاقت ہے ، ماحولیاتی حالات اور کھلے ذہنیت کی طرف رواداری کی خوبی جس نے انہیں کامیاب ہونے کے قابل بنایا ہے۔. اس مقام پر ، نپولین ہل کے الفاظ قابل ذکر ہیں ، "صبر ، استقامت اور پسینہ کامیابی کے لئے ناقابل شکست امتزاج بنا دیتا ہے

    صبر کی طاقت آپ کو اپنی زندگی کو بااختیار بنانے میں مدد دیتی ہے جس کی وجہ سے حکمت اور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔. کامیابی خوشی کو جنم دیتی ہے اور خوشی محنت اور صبر کی پیداوار ہے۔. صبر کا حصول اعتماد کا بہتر احساس حاصل کرنا ہے ، تاکہ آپ کو ہر پریشانی کا ازالہ ہو ، مسائل کا حل ہو اور زندگی کے دکھوں کا حوصلہ ہو ۔صبر کو زندگی کے ستونوں میں سے ایک کے طور پر بنانا چاہئے ، کیونکہ صبر کی ایک اچھی مقدار کامیاب اور پرامن زندگی کی شاہراہ ہے۔.

    اگر آپ صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ، آپ نئی مہارتیں حاصل کرسکتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔. اس طرح ، آپ اپنے اہداف اور مقاصد کے حصول کی طرف خود کو ہدایت کرسکتے ہیں۔. صبر آپ کو اپنے تیز فیصلوں پر قابو پانے میں مدد کرتا ہے جبکہ یہ آپ کو دباؤ والے حالات اور جذباتی اتار چڑھاؤ سے مؤثر طریقے سے نمٹنے میں بہت مدد دیتا ہے۔.

    صبر آپ کو دوسروں پر ہمدردی رکھنے کی اجازت دینے میں بھی روادار ہونے میں مدد کرتا ہے۔. جتنا آپ صبر کرتے ہیں ، اتنا ہی آپ دوسروں کے روادار ہوتے ہیں جو آپ کو ان سے عزت دیتا ہے۔.

    یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے ، لیکن کامیابی نظم و ضبط ، محنت اور صبر کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔. رکاوٹیں آپ کے راستے میں آتی ہیں اور آپ کو چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔. خود اعتماد اور صبر کی بنا پر آپ کو خوف اور ناکامیوں کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔. تمام تر مشکلات کے خلاف متحرک رہنے کی ضرورت ہے۔

    صبر صرف ایک خصلت نہیں ہے ، بلکہ یہ ایک ایسی مہارت ہے جسے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا ، ہمیں خود کو یہ کہتے ہوئے مستقل طور پر یاد دلانا چاہئے ، صبر  کا پھل میٹھا ہوتا  ہے۔

    @HamxaSiddiqi 

  • تبدیلی ہی تو مانگی تھی تحریر : سیف الرحمان

    انسان بھی کیا چیز ہے۔ جب کمزور ہوتا ہے تو کمزروں کو بازو بنا کر کمزوں کے حق کی بات کرتا ہے ۔ جب طاقت میں ہوتا ہے طاقتوروں کو ساتھ ملا کر کمزوں کا خون نچوڑنے کی تدبیریں کرتا ہے۔ کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ شروع شروع میں مجھے اس بات کی سہی سمجھ نہیں آئی لیکن پھر اﷲ بلا کرے عمران خان کا جنہوں نے ہمیں سیاسی شعور دیا۔  
    خان صاحب نے تبدیلی کے نام پہ نوجوانوں سے ووٹ مانگا۔ نوجوانوں نے خان صاحب کو تبدیلی لانے کیلئے مکمل تعاون کیساتھ ساتھ ووٹ بھی دیا۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکلتی چلی گئی۔ نوجوانوں میں آہستہ آہستہ مایوسی کے بادل چھانے لگے۔ اس کی وجہ خان صاحب کے وزیراعظم بننے سے پہلے کے وہ دعوے  اور وعدےہیں جو انہوں نے اپنی قوم کیساتھ کئے۔اب خان صاحب چاہ کر بھی ماضی سے جان نہیں چھڑا سکتے۔
    کیا خوب کہا کسی شاعر نے
    یاد ماضی غذاب ہے یا رب______چھین لے مجھ سے میرا
    خان صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ جب تحریک انصاف پاور میں آئے گی تو لوگ باہر سے نوکریاں چھوڑ کر  پاکستان آئیں گے۔  سبز پاسپوٹ کی دنیا میں عزت کی بات کیا کرتے تھے۔  ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ بھی ابھی تک ادھورا  پڑاہے۔  پچاس ہزار مفت گھر دینے کا وعدہ بھی  وفا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اس کے علاوہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کیلئے خان صاحب نے کبھی ملائیشیاء ماڈل  بنانے کی بات کی تو کبھی چینی ماڈل کو ترقی کیلئے اہم قرار دیا کبھی ایرانی انقلاب لانے کی باتیں کی تو کبھی ریاست مدینہ کا نعرہ لگایا کبھی ترکی کی آذاد خیالی سے متاثر ہوئے تو کبھی  یورپ کی مثالیں دیں۔لیکن ان بلنددعوؤں میں  پاکستانی عوام کو کیا ملا؟
    آج جب خان صاحب اقتدار کے تین سال پورے کر چکے اور ماشاءاﷲ چوتھا سال شروع ہے تو کوئی بتا سکتا ہے پاکستان میں اس وقت کونسا ماڈل چل رہا ہے؟ 
     عوام کو تو سوائے مہنگائی اوربیروزگاری  کے کچھ نہیں ملا۔ اگر کچھ ملا ہے تو بتائیں۔  آپ کسی بھی چیز کے ریٹ سابقہ کرپٹ حکمرانوں کے دور سے ملا لیں موجودہ حکومت سے کم ہی  ہوں گے۔پیپلز پارٹی جیسی کرپٹ ترین حکومت کے دور میں بھی اس شرع سے مہنگائی نہیں تھی۔ خان صاحب عوام کوسٹاک ایکسچینج کے اتار چڑاؤ سے کوئی غرض نہیں۔ آپکی درآمدات اور بر آمدات سے بھی کوئی لینا دینا نہیں۔ آپ کی پناہ گاہوں کا بھی فائدہ کچھ افراد کے علاوہ اکثریت کو نہیں۔ عوام کو سستا آٹا چاہئے۔ سستا گھی چاہئے سستی چینی چاہئے ۔ سستی دالیں اور صابن چاہئے۔ وہ آپ کی حکومت ابھی تک دینے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ وقت نکال کر اس بارے لازمی سوچیں۔ کیونکہ اگلے الیکشن میں ان ہی غریب لوگوں نے ووٹ دینا ہے۔ 
    خان صاحب اقتدار سے بہتر تھا آپ اپوزیشن میں رہتے۔ آپ کی تبدیلی کا آسرا تو تھا۔ اگر آپ تبدیلی لانے میں ناکام ہو گئے تو عوام کس کے در پہ دستک دے گی؟  کیا پھر وہی نواز اور ذرداری ہمیں نوچیں گے؟ کیا ہمارے نصیب اتنے ہی برے ہیں کہ بلاول جیسا دودھ پیتا  بچہ ہمارا حکمران بننے کو تیار بیٹھا ہے یا مریم جیسی بدزبان اور بداخلاق عورت ہم پہ حکمرانی کرے گی؟  
    خان صاحب آپ نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ عوام کو سستا اور فوری انصاف انکی دہلیز پہ ملے گا۔غریب خوشحال ہوگا اور مہنگائی کا جن ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بوتل میں بند کر دیا جائے گا۔  لیکن حالات پہلے سے بھی ذیادہ خراب ہوتے جا رہے ہیں۔  ایسا لگ رہا ہے جیسے  اقتدار میں بیٹھے چہرے بدلے ہیں  کام وہی ہو رہے ہیں جیسا سابقہ حکمران کیا کرتے  تھے۔وہی پرانی رسم ورواج وہی بیان بازی وہی اداروں کو مورد الزام ٹھہرانا ۔ ہاں کرپش کی حد تک تبدیلی ضرور نظر آئی ہے۔ موجودہ دور میں سابقہ ادوار کی نسبت کرپشن کی شرع بہت کم ہے۔   اس پہ آپ کی حکومت قابل تعریف ہے۔
    تحریک انصاف کے پاس وقت کم  اور مقابلہ سخت ہے۔ اس کم عرصے میں پاکستان شاہد ایشیائی ٹائیگر تو نہ بن سکے لیکن اتنا ضرور ممکن ہے کے سبز پاسپوٹ کو دنیا عزت کی نگاہ سے دیکھ سکے۔ آپ کی عوام مہنگائی تلےمذید پسنے سےبچ جائے   ۔ آپ گھر اور نوکریاں بیشک نہ دیں  لیکن ایسے حالات تو پیدا کر دیں کہ  لوگ  خود اپنا کاروبار شروع کر کے باقی  بیروزگاروں کو نوکریاں مہیا کر سکیں۔ کامیاب نوجوان پروگرام  سکیم کی بجائے ڈائریکٹ  نوجوانوں کو بغیر سود قرض دیں۔ دیلیز پہ انصاف نہ بھی ملے چلے گا لیکن جسٹس سسٹم میں ریفارمز کر دیں تا کہ ججز سالوں کیس چلانے کی بجائے تین سے چھ ماہ میں فیصلے کرنے کے پابند ہو جائیں۔ پولیس ویشی کی بجائے عوام کی محافظ بن جائے۔ ڈاکٹر مسیحا بن جائیں اور سرکاری افسران نوابوں کی بجائے عوام کی خدمت کرنے لگ جائیں۔
    اس وقت عوام میں تاثر بنا ہوا ہے کہ وزیروں کی فوج اور مشیروں کی موج لگی ہوئی ہے۔خان صاحب ہوش کے ناخن لیں  عوام کیساتھ تبدیلی کے نام پہ دھوکہ ہونے جا رہا ہے۔ مہنگائی کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ پستہ ہی چلا جا رہا ہے۔ خان صاحب ان وزیروں مشیروں کو رکھنے کا فائدہ جب آپ کی عوام مہنگائی کی وجہ سے رو رہی ہے۔  بیشک صحت انصاف کارڈ آپ کا وہ کارنامہ ہے جو اگر کامیاب ہو گیا تو عوام کی تقدیر ہی بدل جائے گی لیکن چند  پرائیویٹ ہسپتال جان بوجھ اسکو ناکام بنانے کی  کوشش کر رہے ہیں۔ آپ اپنی ٹیم کو متحرک کریں۔    ایسے تمام ہسپتالوں کو سیل کر دیں جو صحت انصاف کارڈ پہ علاج سے انکار کریں۔
    خان صاحب ایک بات ذہن نشین کر لیں ۔ آئندہ عام انتخابات میں آپ کا مقابلہ مہنگائی سے ہونے جا رہا ہے۔اگر آئندہ عام انتخاب تک مہنگائی کا پلڑا بھاری رہا تو آپ کی شکست کنفرم  ہےاور اگر آپ نے 2023الیکشن سے پہلے مہنگائی میں %30تک بھی قابو پا لیا تو شاہد آپ دوبارہ اقتدار میں آ جائیں۔ اپوزیشن کی خاموشی مہنگائی کی جیت کی وجہ ہے۔ اپوزیشن نے آپ کو مہنگائی جیسے  مضبوط جن کے آگے پھینک دیا ہے۔اس کی مثال آپ کےتین سالہ دور اقتدار میں چوتھا وزیر خزانہ کی آمد سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ بیشک موجودہ وزیر خزانہ  شوکت ترین  صاحب قابل احترام اور بزرگ کاروباری شخصیت ہیں لیکن یاد رکھنا وہ اپنا بینک چلانے میں نا صرف ناکام ہوئے بلکہ فروخت کر کے آئے ہیں۔ ذرا بچ کے کہیں شوکت ترین کا تجربہ آپ کے اقتدار کو بھی نہ لے ڈوبے۔

    @saif__says 

  • ای وی ایم کا استعمال ایک اچھا قدم ہے، لیکن اپوزیشن کے اطمینان کے بغیر نہیں۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    ای وی ایم کا استعمال ایک اچھا قدم ہے، لیکن اپوزیشن کے اطمینان کے بغیر نہیں۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان میں ماضی میں ہونے والے تمام انتخابات کی شفافیت کو ہارنے والی جماعتوں نے متنازعہ بنایا تھا۔ یہاں تک کہ 2018 کے انتخابات ،جنہوں نے پی ٹی آئی کو اقتدار میں لایا، متنازعہ رہے کیونکہ بڑی اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ نتائج میں ہیرا پھیری کی گئی تاکہ عمران خان کے بطور وزیر اعظم راستہ صاف ہو سکے۔

    ایسی صورت حال میں ایک ایسے نظام کو متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے جو قابل اعتماد نتائج دے سکے، جس میں کسی کے لیے اس کی سچائی کو چیلنج کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس طرح انتخابی عمل میں ٹیکنالوجی کا استعمال صحیح قدم ہوگا، بشرطیکہ اپوزیشن کے تحفظات/ خدشات کو ان کے مکمل اطمینان سے حل کیا جائے۔

    دوسرے لفظوں میں، اگر ٹیکنالوجی کا استعمال اہم ہے، تو اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے ان کا ازالہ بھی ضروری ہے۔

    اور یہ دونوں فریقوں کے درمیان کھلے ذہن کے مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ اگر اب کوئی اتفاق رائے کا طریقہ کار نہیں بنایا گیا تو 2023 کے انتخابات کے نتائج بھی ماضی کی طرح غیر واضح ہوں گے۔

    پارلیمنٹیرین کا فرض ہے کہ وہ ملک کو درپیش تمام مسائل کا حل تلاش کریں۔ ایسے انتخابات کا انعقادہو جس کے نتائج تمام جماعتوں کے لیے قابل قبول ہوں۔

    الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں کسی خاص پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ممکنہ ہیرا پھیری کے بارے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو آسانی سے دور نہیں کیا جا سکتا۔حکومت کو چاہیئے کہ وہ ای سی پی کے اعلیٰ عہدیداروں سے منسوب کیے بغیر ان سب کا جواب دے۔

    محض یہ الزام ہے کہ الیکشن کمیشن اپوزیشن کا ہیڈ کوارٹر بن گیا ہے یا الیکشن کمیشن نے رشوت قبول کی ہے ، یا دھمکی ہے کہ ای سی پی کی عمارتوں کو جلا دیا جائے گا ، اپوزیشن کے خدشات کو کمزور نہیں کر سکتا۔

    اسی طرح، ایک وفاقی وزیر کا یہ مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو استعفیٰ دینا چاہیے، ای وی ایم کے انتظام کے بارے میں خوف کا جواب نہیں ہے۔ اگر حکومت سی ای سی کو ہٹانا چاہتی ہے تو اسے آئینی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

    وزیر سائنس شبلی فراز کی رپورٹ کردہ پیشکش ہے کہ اگر مقامی ای وی ایم قابل اعتماد نہیں ہیں تو انہیں کسی دوسرے ملک سے درآمد کیا جا سکتا ہے، اور یہ ایک معقول دلیل ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ مقامی ای وی ایم کو ہیک نہیں کیا جا سکتا اور جو دعوے کو جھٹلاتا ہے اسے انعام کے طور پر 10 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے تاکہ ان کی وزارت کی تیار کردہ مشینوں کے مخالفین کو چیلنج کیا جا سکے۔

    قوم نے گلیارے کے دونوں اطراف اپنے نمائندوں کو ووٹ دیا تھا تاکہ تمام مسائل حل ہوں۔ اس طرح منتخب نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ تمام مسائل کا حل تلاش کریں۔ صرف کیچڑ اچھالنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ گلیارے کے دونوں اطراف کے عوامی نمائندوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ملک کو درپیش تمام مسائل کا حل تلاش کرنا ان کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ کسی ایسے طریقہ کار سے اتفاق کرنے میں ناکام رہے جو مستقبل کے انتخابات کے نتائج کو ناقابل تسخیر بنا سکتا ہے تو وہ ووٹروں کی توقعات پر پورا نہیں اتریں گے۔

    پی ٹی آئی کے وزراء یہ اشارے دے رہے ہیں کہ حکومت ای وی ایم قانون پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمران جماعت دونوں ایوانوں میں اپنی عددی طاقت کی وجہ سے ایسا کر سکتی ہے۔ لیکن اس طرح کا اقدام اپوزیشن جماعتوں کے موقف کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

    لہذا، انتخابی نتائج ای وی ایم کے استعمال کے بعد بھی متنازعہ رہیں گے۔ اور ان پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔سمجھداری کا تقاضا ہے کہ دونوں فریق مل بیٹھ کر اپنے چھوٹے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کوئی حل تلاش کریں۔ اور اس مسئلے سے نمٹنے کے دوران، دونوں فریقوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگلے انتخابات میں صرف دو سال باقی ہیں اور اس آئینی ذمہ داری کو پورا کرنے سے پہلے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

    وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ اگلے انتخابات نئی مردم شماری اور حلقہ بندیوں کی نئی حد بندی کی بنیاد پر ہوں گے۔ یہ دونوں وقت لینے والی مشقیں ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ 20 سال کے وقفے کے بعد منعقد ہونے والی 2017 کی مردم شماری کے نتائج ابھی تک کچھ جماعتوں نے قبول نہیں کیے۔

    سندھی رہنماؤں کا الزام ہے کہ سندھ کی آبادی کو کم اور پنجاب کی آبادی کو دس ملین سے زیادہ سمجھا گیا ہے۔ یہ وسائل کی تقسیم میں فیڈریٹنگ یونٹ کے حصہ کو متاثر کرتا ہے۔

    مختلف موضوعات پر مختلف جماعتوں کی پوزیشنوں کے درمیان پھنسے ہوئے فرق کو دیکھتے ہوئے، اگلے انتخابات کے لیے انتظامات کرنا وقت کے خلاف دوڑ ہوگی۔ اور مسئلہ کی سنگینی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب کچھ رپورٹوں کے مطابق حکومت اگلے انتخابات شیڈول سے ایک سال قبل جولائی، اگست 2022 میں کرانے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

  • زباں زباں پہ ہے اعلان ترک تمباکو تحریر : عفراء مرزا

    زباں زباں پہ ہے اعلان ترک تمباکو تحریر : عفراء مرزا

    تمباکو نوشی ایک ایسی لت ہے جس نے بہت کم لوگوں کو چھوڑا ہے۔ اکثریت کسی نہ کسی شکل میں اس کو استعمال کرچکی ہے چاہے وہ بعد ازاں اس سے کنارہ کشی کرلیں۔ نوجوان نسل میں اس کا استعمال قدرے زیادہ دیکھنے میں نظر آرہا ہے۔ایک نوجوان ہی قوم کا بہ تر مستقبل بنا سکتا ہے اور اسی لیے دیگر ممالک میں اسکول کی سطح پر ہی تربیت کا اہتمام کردیا جاتا ہے تاکہ وہ بڑا ہوکر قوم کے مفادات کو مدنظر رکھ سکے۔یہی وجہ ہے کہ تمباکو نوشی کے مضراثرات سے آگاہ کرنا بچپن سے ہی شروع کردیا جاتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں تمباکو نوشی کی وبا تنزل کی جانب گامزن ہے۔سگریٹ نوشی بیماریوں کی جڑ ہے جس کی وجہ سے سالانہ 60لاکھ کے قریب افراد بیمار ہوکر مر جاتے ہیں۔ان میں سے 6لاکھ کے قریب ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جنھوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی ہوتی صرف اس ماحول میں رہنے کی وجہ سے ان بیماریوں کا شکار ہوکر موت کو گلے لگالیتے ہیں۔

    دنیا میں اس وقت بھی ایک ارب سے زائد لوگ سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہیں جن میں سے اکثریت ترقی پذیر ممالک میں رہائش پذیر ہے۔
    2018ء میں ایک ہوئی تحقیق کے مطابق تمباکو میں 7ہزار سے زائد کیمیکل ہوتے ہیں جن میں سے کم ازکم 69ایسے ہوتے ہیں جو کینسر و سرطان کا باعث بنتے ہیں۔تمباکو نوشی کے مضراثرات سے تو آپ سبھی واقف ہی ہوں گے جن میں کینسر، فالج اور امراض قلب وغیرہ ہیں لیکن ایک ایسا نقصان بھی ہے جس سے اکثریت ناواقف ہے اور وہ ہے بالوں سے محرومی۔

    2020ء میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق 500افراد میں سے 425لوگوں کو بالوں سے کسی نہ کسی حد تک محرومی کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ 500ایسے افراد جو تمباکو نوشی سے گریز کرتے تھے ان میں یہ شرح 200کے قریب تھی اور اس میں بھی لازماََ دیگر عوامل بھی کارفرما ہوں گے۔تحقیق کرنے والوں کے مطابق نکوٹین اور دیگر کیمیکل بالوں کی گرنے کی شرح کو تیز کردیتے ہیں تاہم انھوں نے اس متعلق مزید تحقیق پر بھی زور دیا ہے۔لندن کالج یونی ورسٹی میں ایک تحقیق ہوئی جس میں 1946ء سے لے کر 2015ء تک کی طبی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا اور اس کے نتائج سے ثابت ہوا کہ جو دن بھر میں صرف ایک سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں ان میں استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں امراض قلب کا خطرہ48فی صد ہوتا ہے اور خواتین میں یہ شرح بڑھ کر 57فیصد پر جاپہنچتی ہے۔اس طرح مردوں میں فالج کا خطرہ25فی صد اور خواتین میں 37فی صد ہوتا ہے۔

    اس کے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ سگریٹ کا کم استعمال کینسر کے خطرے کو تو کم کرتاہے لیکن فالج و امراض قلب کا خطرہ ہنوز موجود رہتا ہے اس کے لیے اس لت سے مکمل جان چھڑوانا ضروری ہے۔
    پاکستان میں اس کا استعمال جہاں بڑھ رہا ہے وہی پر اس کے خلاف معلومات کی آسان فراہمی اور حکومتی اقدامات بھی ماضی سے قدرے بہ تر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ باغی ٹی وی کی جانب سے میڈیائی معلومات کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھانا قابل تحسین و لائق تقلید ہے۔ کچھ چیزیں ہیں جن سے تمباکو نوشی کی لت سے جان چھڑوانا ممکن ہے تاکہ قارئین اپنے اردگرد سگریٹ نوشی کرنے والوں کو مطلع کرسکیں اور انھیں ابھاریں کہ اس لت سے اپنی جان چھڑائیں تاکہ آنے والی نسل اس کے برے اثرات سے محفوظ و مامون رہ سکے۔ سب سے پہلے تو مراقبہ کی مشق کرنا ہے جس سے اس لت سے چھٹکارا پانا آسان ہوجاتا ہے۔ گوگل کی ایک تحقیق کے مطابق کاروباری ہفتے کے آغاز میں اس لت سے جان چھڑانے کا عزم بھی کافی فائدہ دیتا ہے۔ ورزش کرنے کی عادت سے بھی نکوٹین نامی کیمیکل اپنی مانگ کم کردیتا ہے۔سگریٹ کی بو محسوس کرکے اس سے ناگواری کا اظہار کرنا بھی افادیت دیتا ہے کیوں کہ دماغ اس کا تعلق بدبو سے جوڑ دیتا ہے۔سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بھی پاک طرز زندگی کی طرف لانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق دوہفتوں تک وزن اٹھانا بھی فائدہ دیتا ہے۔پالتوجانوروں کے ساتھ وقت گزارنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا بھی سگریٹ نوشی سے جان چھڑواسکتا ہے۔ امریکی محکمہ صحت کے مطابق کسی سے بات چیت کرنا بھی 11فیصد تک اس امکان کو بڑھا دیتا ہے کہ اس لت سے جان چھوٹ جاے۔نئے مشاغل کو اپنانا اور اپنے آپ کو مصروف رکھنا بھی آپ کو قابل بناتا ہے کہ آپ اس سے جان چھڑوائیں۔انور شعور کا کہنا ہے کہ
    ؎زباں زباں پہ ہے اعلان ترک تمباکو
    طیور عام یہ پیغام ہر طرف کردیں
    آخر پر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اور اقدامات اسی وقت قابل عمل ہوں گے جب آپ پکا ارادہ کرکے اپنی قوت ارادی کو اس طرف لگادیں گے ورنہ تو مضبوط قوت ارادی کے مالک اس بیماری میں ایسے مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ مرتے دم تک جان نہیں چھڑواپاتے۔

    ٹویٹر اکاونٹ: @AframirzaDn

  • افغانستان اور دنیا تحریر : سکندر ذوالقرنین پارٹ نمبر ون

    امریکہ 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے ہونے کے بعد جس میں تین ہزار لوگوں کی موت ہوئی تھی اس کا الزام اسامہ بن لادن کو لگا دیا گیا اور اس کو ایک مسلم ٹیرارسٹ کا نام دیا گیا تھا اور امریکا افغانستان آپہنچا میرے خیال میں یہ صرف مسلمانوں کو تنگ کرنےاور پاکستان چین ایران اور روس کا راستہ روکنے کے لئے کیا کیا اور بعد  ایسے ہی پاکستان بھی کسی کی لڑائی میں کود پڑا

    کسی کی جنگ میں ہم نے اپنے ستر ہزار لوگوں کو کھو دیا اور ایک ڈیڑھ سو ارب  کا نقصان ہوا

    اور ہم پر ہی الزام ڈال دیا کہ سارا قصور ہمارا ہے

    امریکہ نے بیس سال تک جنگ کی اور اس بیس سالوں میں بہت سارے واقعات ہوئے اور اس میں ایک واقعہ اسامہ بن لادن کو مارنے کا ڈرامہ بھی ہوا جو 2011 میں پاکستان میں ہوا

    بیس سال بعد امریکہ کو شکست نظر آئی اور امریکہ کا جنازہ دھوم دھام سےنکلا
     امریکا نے طالبان سے معاہدہ کیا جو معاہدہ ہوا تھا اس کے مطابق ایک مئی  دو ہزاراکیس کو امریکہ کو افغانستان میں نکلنا تھا لیکن وہاں حکومت تبدیل ہونے کی وجہ سے اس معاہدے کو  توسیع دی گئ اس پر عمل درآمد کرنے کا وقت آچکا تو انحلا شروع ہوچکا تھا

    تو آہستہ آہستہ طالبان نے افغانستان کو فتح کرنا شروع کردیا ایک مہینے پہلے افغان حکومت بتا رہی تھی کہ  طالبان سے ہم اپنا قبضہ واپس لے رہے ہیں اصل مسئلہ یہ تھا کہ افغان حکومت ایک کرپٹ تھی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے
    پورے افغانستان پر قبضہ ہوتا جارہا تھا

    طالبان نے ایک حکمت عملی کے تحت افغانستان کے بارڈر پر اپنا کنٹرول حاصل کیا اور بعد میں لشکر گاہ قندھار اور ہرات پر قبضہ کرلیا اور افعان حکومت پاکستان پر الزام اور ٹیوٹر پر بس پاکستان سے جنگ کرنے میں مصروف رہے ہیں

    بڑی بڑی باتیں کی گئی امریکہ کی انٹیلیجنس کا دعویٰ یہ تھا کہ طالبان  کا دو ماہ تک قبضہ ہو گا بعد میں ان کے اپنے اندازے غلط ثابت ہوئے ایک ماہ قبلُُ طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ ہمارے پاس  80پرسنٹ علاقہ موجود ہے جو کہ وقت نے ثابت کیا کہ ان کی بات درست تھی

    بڑی بڑھکیں مارنے والے نظر ہی نہ آئے اشرف غنی اور محب اس طرح غائب ہوئے کہ جس طرح گدھےکے سر سے سینگ ہوتے ہیں پانچ چھ دن بعد پتہ چلا کے اشرف غنی دبئی میں موجود ہیں اور  بہت سارا مال   لے کر فرار ہوئے تھے اشرف غنی کی حکومت کی نااہلی تھی اور امریکہ کو یقین دہانیاں کرانے رہے کہ ہم لڑیں گے لیکن وہ تو چند دن بھی لڑ نہ کہ سکے اور پندرہ دن میں ہی طالبان نے کنٹرول حاصل کرلیا اور طالبان کابل پہنچے کی تاریخ بڑی دلچسپ ہیں پندرہ اگست 2019 تھی تھی

    کہتے ہیں کسی ملک کے لیے یہ  سرپرائز سے کم نہیں تھا امریکہ اور یورپ کے اور بہت سارے ملک کو دیکھتے رہ گے

    افغانستان طالبان کے قدموں میں پڑھا تھا امریکہ اور مغربی ممالک کو لینے کے دینے پڑ گیا اور اپنے فوجیوں اور شہریوں کو نکالنے کیلئے صبح و شام کوشش شروع کر دی 31 اگست سے پہلے نکلا جا سکیں اور کابل  ایئرپورٹ لوگوں سے بھر چکا تھا

    سکیورٹی کے بہت خدشات تھے اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا اوردو دھماکے ہو گئے جس میں 178 افغانی تیرا امریکی مارے گئے

    31اگست کے بعد طالبان کے پاس پنجشیر   کے علاوه تمام علاقے کنٹرول میں تھا  اور  احمد مسود کے ساتھ مذاکرات  کا سلسہ شروع ہوا اور بیس دن بعد مذاکرت ناکام ہونے کے بعد  جنگ شروع ہوئی اور چھ ستمبر کو پنجشیر فتح بھی
    ہوگیا@sikander037 #sikander037

  • ‏*زہر کا گھونٹ* *تحریر   بسمہ ملک*  *پارٹ 2*

    ‏*زہر کا گھونٹ* *تحریر بسمہ ملک* *پارٹ 2*

    پھر ایک شام ابّو نے ریحان کو چائے پہ بُلایا تو ابّو کے کچھ کہنے سے پہلے ہی انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ’’مجھے کوئی شرط منظور نہیں۔‘‘ کس قدر بے گانگی اور بے رُخی تھی ان کے لہجے اور رویّے میں کہ ابّو تک کا لحاظ نہیں کیا۔ میرے آنسو ہر حد توڑ دینا چاہتے تھے، جب کہ امّی کہہ رہی تھیں ’’دیکھو عائشہ! اس موقعے پر تمہیں ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ دو معصوم بچّوں کا ساتھ ہے، صرف اپنے بارے میں نہیں، ان کے بارے میں سوچو۔ اگرتمہارے ابّو نے کوئی انتہائی قدم اٹھا لیا توپھرکیا ہوگا… ؟‘‘ جب کہ دوسری جانب ریحان کے رویّے میں بھی کوئی لچک نہیںتھی۔
    امّی پھر کہہ رہی تھیں’’ اپنی بہنوں کی طرف دیکھو ، زہرا اور عنائیہ کے رشتے اسی خاندان میں طے پا چُکے ہیں۔ ہمیں اپنی دوسری بچیوں کا بھی سوچنا ہے، اگر تم اسی طرح سال ،سال بھر میکے میں بیٹھی رہو گی، تو تمہاری بہنوں کا کیا بنےگا؟ یوسف اور عنائیہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیںاور پورا خاندان یہ بات جانتا ہے۔ عنائیہ نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ یوسف کے علاوہ کسی سےشادی نہیں کرے گی۔‘‘امّی نے اپنی تمام مجبوریاں میری جھولی میں ڈال دیں۔
    ’’تو امّی اب مَیں کیا کروں؟ ابّو کی مرضی کے بغیر کیسے چلی جائوں، انہوں نے ہی تو مجھے کتنے مان سے بلایاتھا۔‘‘’’تم ریحان کو فون کردو کہ مَیں آرہی ہوں، نوید(بھائی) تمہیں تمہارےگھر چھوڑ آئے گا۔‘‘’’لیکن ابّو…ابّو ناراض ہوں گے۔‘‘’’مَیں نے تمہاری دادی اور پھپھو کو بلایا ہے، تھوڑی ہی دیر میں شمع آپا اور امّاں آجائیں گی پھر تمہارےابّو کو وہ خود سنبھال لیں گی۔ وقتی طور پر غصّہ کریں گے پھر خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔ اورجب تم اپنے گھر میں بس جاؤ گی، رہنےسہنے کی عادی ہوجاؤگی تو انہیں بھی تسلّی ہو جائے گی۔ ‘‘ امّی نے تو جیسے مجھے بھیجنے کی ٹھان ہی لی تھی کہ وہ میری کوئی بات سُننے کو تیار نہ تھیں۔
    گویا مجھے ایک بار پھر اُسی دَر پہ سر جُھکانا تھا، جہاں میری کوئی وقعت ، ضرورت نہ تھی کہ یہی تو دستور ہے کہ ماں، بیٹی، بیوی، بہن کے رُوپ میں زہر کا گھونٹ عورت ہی کو پینا پڑتا ہے۔
    ‎@BismaMalik890