Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • علم و تعلیم تحریر:رضوان۔

    علم و تعلیم تحریر:رضوان۔

    جان نثار اختر صاحب کے مصرے تعلیم کو وسعت دینے ہیں فرماتے ہیں 
    یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں 

    اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
    تعلیم حاصل کرنے کی اہمیت بہت واضح ہے مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے  ہر انسان چاہے وہ آمیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تعمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور قتدار کا خیال رکھ سکے۔تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گےا ہے Education تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گےا ہے آج کے اس پر آشوب اور تےز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کرلے۔حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے ایٹمی ترقی کا دور ہے سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگرSchool  اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم ،ٹیکنیکل تعلیم،انجینئرنگ ،وکالت Advocate  ،ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اسکے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی  Friendship کےلئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی ،عبادت ،محبت خلوص،ایثار،خدمت خلق،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح او رنیک Society معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے تعلیم کی اولین مقصد ہمیشہ انسان کی ذہنی ،جسمانی او روحانی نشونما کرنا ہے تعلیم حصول کےلئے قابل اساتذہ بھے بے حد ضروری ہیں جوبچوں کو   higher educationاعلٰی تعلیم کے حصوص میں مدد فراہم کرتے ہیں استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہوجائے بلکہ استاد وہ ہے جو طلب و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کوتا ہے اور انہیں شعور و ادراک ،علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے اپنے شاگرہ کو مالا مال کرتا ہے جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے methed سے پورا کیا ،ان کی شاگرد آخری سائنس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں اس تناظر میں اگر آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ پیشہ تدریس کو آلودہ کردیا گےا ہے محکمہ تعلیمات اور اسکول انتظامیہ اور معاشرہ بھی ان چار کتابوں پر قائع ہوگےا کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھاآج نمبرات اور مارک شیٹ پر ہے آج کی تعلیم صرف اسلیئے حاصل کی جاتی ہے تاکہ اچھی نوکری مل سکے یہ بات کتنی حد تک سچ ہے اسکا اندازہ آج کل کی تعلیمی ماحول سے لگایا جاسکتا ہے جیسے بچوں کا صرف امتحان میں پاس ہونے کی حد تک اسباق کا رٹنہ ہے بدقسمتی اس بات کی بھی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوئے ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کےلئے ہمارے تعلیمی نظم کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کررکھا ہے جس نے رسوائی کے علاقہ شاید ہی کچھ عنایت کیاہومگر پھر بھی جس طرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اسطرح مسلمان بھی کبھی جدید تعلیم سے دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ ترکے بانی مسلمان ہی ہیں اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنالیئے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے آج پاکستان میں تعلیم ادارے دہشت گردی کے نشانہ پر ہے دشمن طاقتیں تعلیم کی طرف سے بدگمان کرکے ملک کو کمزور کرنے کے درپہ ہیں ایسے عناصر بھی ملک میں موجود ہے جو اپنی سرداری ،چوہداہٹ،جاگیرداری کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کی وجہ سے اپنے اثر و رسوخ والے علاقوں میں بچوں کی تعلیم میں روکاوٹ بنے ہوئے ہیں جسکی وجہ سے اکثر بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں اوران کا مستقبل سیاہ رہ جاتا ہے اوراسی وجہ سے ہمارے نوجوان طبقہ تعلیم کی ریس میں پچھے رہ جاتی ہے مغرب کی ترقی کا راز صرف تعلیم کو اہمیت دنیا اور تعلیم حاصل کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہے اورایسی تعلیم کے بل پر انہوں نے فتح کیا ہے مغرب کی کامیابی اور مشرقی کے زوال کی وجہ بھی تعلیم کا نہ ہونا ہے دنیا کے وہ ملک جن کی معیشت تباہ ہوچکی ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں پربھروسہ کرتے ہیں ان کا دفاع بجٹ تو اربوں روپے کا ہپے مگر تعلیم بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے ،اگر کوئی بھی ملک چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے تو ان کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے وہ صرف علم کی بدولت کی ہے علم کی اہمیت سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں۔ جیسا کہ روس اور چین چاہتے ہیں کہ ان کے عوام تعلم حاصل کرکے ایک خودمختار اور جمہوریت کا پرستار بن سکیں ، اسلام میں تعلم حاصل کرنے والا اللّہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی بسر کر ے اور فکر آخرت اور دنیا کے فانی ہونے کا یقین پیدا کرے  
    Twitter  @RizwanANA97

  • دورہ   نیوزیلینڈ”  تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    دورہ   نیوزیلینڈ” تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    ایک ملک جس نے پچھلی کئی دہائیوں سے کوشش کی ہو کے ایک بار پاکستان میں کرکٹ واپس آ جائے ایسے وقت پر جب وہ معاشی طور پر ڈگمگا رہا ہوں جب ہر طرف سے مشکلات در پر ہوں اس وقت کرکٹ کی واپسی کے لیے پی ایس ایل جیسا عظیم ایونٹ کروانا اور آہستہ آہستہ پاکستان میں لے کر آنا تاکہ وہ تمام لوگ جو کرکٹ کے دیوانے ہیں جنہوں نے کئی سالوں سے دوسرے ممالک میں مہنگے داموں ٹکٹ خرید کر میچ دیکھے یا پھر گھروں میں رہ کر اس امید میں رہے کہ ایک دن ہمارے ملک کے گراؤنڈ بھی آباد ہوں گے۔ ان کے مرجھائے ہوئے دل صرف اور صرف پاکستان میں کرکٹ کی واپسی پر کھل اٹھے۔ ان لوگوں کے جذبات و احساسات کو بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن سیاسی طور پر بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ نے پاکستان کی سیکورٹی فورسز پر اپنے ناپاک ارادے کا دھبہ لگانے کے لئے اپنی ٹیم کو واپس بلا لیا۔

     جب آپ کی ٹیم ایک ہفتہ تک پاکستان میں رہی نہ ہی کوئی خطرہ پیش آیا اور نہ ہی ان کی عزت افزائی میں کمی آئی۔ جسے بڑے پروٹوکول کے ساتھ پاکستان میں خوش آمدید کہا گیا مگر پھر بھی اگر خطرہ پیش آیا تو صرف میچ سے چند لمحے پہلے ہی کیوں؟ ایک ملک میں جا کر آپ پانچ چھے دن رہیں اور پھر اس کی طاقت و قوت یعنی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے واپس چلے جائیں کیا یہ آپ کو زیب دیتا ہے؟ آپ نے نہ صرف پاکستان کے روشن چہرے اور سبز پاسپورٹ پر اپنی غلیظ حرکت سے دھبہ لگانے کی ناکام کوشش کی ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کے دلوں کی امید کو بھی توڑا ہے۔ آپ نے لاکھوں لوگوں کے جذبات سے کھیلا ہے۔

     آپ سے پہلے پی ایس ایل میں آپ کی ٹیم کے کھلاڑی ہمارے ہاں کھیل چکے ہیں انہیں تو اس سے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا اس کو چھوڑیے آپ سے پہلے ساؤتھ افریقہ، بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز وغیرہ کی ٹیمیں بھی تو پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں۔ کیا ان کو ذرہ برابر بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔

     اس منصوبے میں صرف نیوزی لینڈ ہی نہیں دوسرے ممالک بھی موجود ہیں جو کہ پاکستان کو دن بدن پستی کی جانب دھکیلنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انشاء اللہ ان کی یہ تمام کوششیں ناکام ہوئی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔ ہم مشکلات کا جرآت سے مقابلہ کرنے والی قوم ہیں۔ ہم نےبھی نیوزی لینڈ کا دورہ کیا جب مساجد میں حملے ہوئے یا پھر جب نیوزی لینڈ میں کرونا شدت سے تھا اور ان کی بدانتظامی کے باوجود ہم نے دورہ ختم نہیں کیا۔ اب وقت ہے کہ ہم صرف کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وقار کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کریں۔ اپنی ہمت اور جرات مندی سے ایسی ٹیموں کو میدان میں ہی بتا دیں کہ ہم کون ہیں؟

     ہمارے کرکٹ بورڈ کو مزید بہترین انداز میں پی ایس ایل جیسے ایونٹ کو آگے لے کر چلنا ہوگا تاکہ پاکستان کے دشمنوں کو ہر جگہ رسوائی نصیب ہو اور اس واقع پر ICC میں بھرپور آواز اٹھائی جائے۔ الحمدللہ ہمارا یہ ملک پوری دنیا کے لیے ایک محفوظ ملک ہے جس نے اپنی طاقت و قوت کا ہر جگہ مظاہرہ کیا ہے اور کامیاب رہا ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اپنی قوت و صلاحیت سے دشمن کی طرف سے ہر آنے والی سازش اور میلی نظر کو پہچانیں اور اس کو ایسا جواب دیں کہ اس کی نسلیں یاد رکھیں۔

    اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کو پہچانیں اور بےنقاب کریں جو کہ اس واقعے پر جس میں پاکستان کی عزت پر دھبہ لگانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے خوشی منا رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تب خوش ہوتے ہیں جب پاکستان پر وقت آتا ہے خدا ان لوگوں کو ہر جگہ دربدر کرے جس طرح یہ لوگ پہلے ہی ہورہےہیں۔

  • پاکستانی ثقافت تحریر : تعمیر حسین

    پاکستانی ثقافت تحریر : تعمیر حسین

    پاکستانی رہن سہن،تہذیب اور بدوباش کو پاکستانی ثقافت کہتے ہیں۔ پاکستانی قومی لباس شلوار قمیض ہے اور پاکستان کے دیہی علاقوں میں  سادہ کھانا پینا پسند کیا جاتا ہے۔

     دیسی کھانے بالخصوص مکھن ساگ کے ساتھ   ہر کوئ خوشی سے کھانا پسند کرتا ہے ۔ سبزیاں گھروں میں اگائ جاتی ہیں اور ایسی تازہ سبزیاں صحت کے لیے بھی مفید ثابت ہوتی ہیں کیونکہ ان میں مصنوعی کھادوں کا کم سے کم استعمال کیا جاتا ھے  ۔ کیونکہ ثقافت  دنیا میں پہچان کا باعث ھوتی ھے اس لیے ھمیں پاکستانی ثقافت کے فروغ کے لیے کوشاں رہنا چاہیے ۔مغربی طور طریقے اپنانے سے ہم اپنی ثقافت کو نقصان پہنچا رہے ہیں ، جس کا ادراک ھمیں مستقبل قریب میں ھو جاے گا۔ 

     پاکستان کی قومی زبان اردو ہے جو پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کے تمامی صوبوں میں  الگ الگ زبانیں بھی بولی جاتی ہیں جیسے کہ بلوچستان میں بلوچی ، سندھ میں سندھی ، خیبر پختونخواہ میں پشتو اور پنجاب میں پنجابی،  لیکن اردو زبان ہر صوبے میں بولی جاتی ہے۔

     چاروں صوبوں کے رہن سہن میں فرق ہے۔ ہر صوبے کا منفرد لباس اور کھانے پینے کے طور طریقے اور رسم ورواج مختلف ہیں ۔ دیہی علاقوں میں کچے مکان اب بھی موجود ہیں وہاں کی طرز زندگی شہروں سے بہت مختلف ہے۔ گاوں کے سادہ سے لوگ اور انکا مل جل کے رہنا انتہائ متاثر کرتا ہے شہروں میں ہر سہولت موجود ہے مگر اتنی مصروف زندگی ہوگئ ہے کہ ہر کوئ بس اپنی زندگی میں مگن ہے۔ مغربی طور طریقے اپنائے جا رھے ھیں  اور اپنی ثقافت کو بھولایا جا رھا ھے ، اگر ایسا ہی رہا تو مغربی طور طریقہ غلبہ پا لے گا اور ہماری اپنی پہچان ختم ہو جائے گی۔ اپنی ثقافت کو اپنائیں یہی ہمارا کلچر ہے ۔ ہمیں انگریزوں سے آزادی  اس لیے نہیں دلوائ گئ کہ ہم انکے نقشے قدم پہ چلیں  ہم کو اپنی ثقافت کو فروغ دینا چاہیے ۔ اپنی پہچان کو زندہ رکھیں تا کہ ھمارا شمار زندہ اقوام میں ھو ۔

    قبائلی علاقوں میں پشتو زبان بولی جاتی ہے خیبرپختون خواہ کے زیادہ تر علاقوں میں پشتو بولی جاتی ہے۔ پٹھان لوگ بہت محنتی جفاکش اور جنگجو ہوتے ہیں۔ اپنا کاروبار کرنے کو ترجیح دیتے ھیں۔ دھنبے اور بکرے کا گوشت بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ مہمان نوازی میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ھیں۔ خوشی کے موقع پر خوشی کا اظہار ہوائ فائرنگ سے کرتے ہیں۔

    پاکستانی کھانے دنیا بھر میں  اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں اور بہت زیادہ پسند کیے جاتے ہیں جیسا کہ بریانی ،مچھلی کباب تکے وغیرہ وغیرہ۔

     ہر علاقے کی شادی بیاہ کی رسمیں بھی الگ ہیں ۔ ہر قوم کے شادی بیاہ کا انداز ہی نرالا ھے۔ پنجاب میں شادی کا اہتمام زور و شور سے کیا جاتا ھے۔ شادی کے دن سے پہلے ہی گھر میں مختلف تقاریب کا آغاز ھو جاتا ھے اور دور دراز کے رستہ دار شادی میں شرکت کے لیے پہلے ہی آ جاتے ھیں۔ ڈھولک رکھی جاتی ھے ۔ پرات پر ٹپے ماہیے گاے جاتے ھیں جو کہ بے حد پسند کئیے جاتے ھیں۔ پرات لڑکیاں رکھتی ھیں اور اپنے فن کا اظہار کرتی ھیں ۔ ٹپے ماہیے پنجاب کی شان ھیں ۔

    پاکستان کے ہر علاقہ میں شادی بیاہ کا انداز ہی نرالہ ھے۔

     ہر علاقے کا اپنا کھیل ہے جیسا کہ پنجاب میں دیہات میں  گلی ڈنڈا  بہت زیادہ کھیلا جاتا ھے۔ شٹاپو، لکن میٹی  اور بہت سے کھیل کھیلے جاتے ھیں۔ لیکن   کرکٹ ہر علاقے میں پائی جاتی ھے اور اس کو نوجوان نسل بڑے شوق سے کھیلتی ھے۔

    غرض کھیل سے لے کر زندگی کے تمام پہلوئوں کے متعلق ھماری ثقافت ھماری راہنمائی کرتی ھے اور ھماری پہچان بنتی ھے۔

    اگر ہم کسی ملک میں جا کے بھی اپنا طور طریقہ نہیں بدلتے اپنی ثقافت کو زندہ رکھتے ہیں تو یہی ملک سے محبت ہے۔ ہمیں اپنی پہچان، اپنی ثقافت کو ہر حال میں زندہ رکھنا چاہیے تا کہ ھماری آنے والی نسلوں کو اپنی ثقافتی ورثے کا پتہ ھو۔ یہ ثقافتی ورثہ آئندہ آنے والی نسلوں کی امانت ھے جو کہ ھمیں ان تک پہنچانا ھے۔ ہماری پہچان ہمارا ملک پاکستان ہے دنیا کے کسی بھی کونے میں جائیں اپنی شناخت قائم رکھیں۔

    پاکستان پائندہ باد

    Official Twitter Account @J_Tameer 

  • دنیا کی عظیم ترین سلطنتیں تحریر علی اصغر خان                      

    دنیا کی عظیم ترین سلطنتیں تحریر علی اصغر خان                      

        
                          
    دنیا میں اب تک ٹوٹل 212 سلطنتیں گزر چکی ہیں ان میں سب سے بڑی اور طویل ترین سلطنت سلطنت برطانیہ ہے اور سلطنت برطانیہ ہی وہ ایسی سلطنت ہے جو لمبے عرصے تک عالمی طاقت رہی ایک اندازے کے مطابق 1921 میں یہ عروج کے دور میں 33 ملین مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی تھی یاد رہے پاکستان کا رقبہ 796096 مربع میل ہے سلطنت برطانیہ میں اس وقت 45 کروڑ اسی لاکھ لوگ آباد تھے یہ اس وقت کی عالمی آبادی کا چالیس فیصد بنتے تھے یہ اتنی وسیع و عریض تھی کہ ایک اندازے کے مطابق سو سال یا اس سے بھی زیادہ وقت سلطنت برطانیہ میں سورج غروب نہیں ہوا تھا کیونکہ یہ اس وقت دنیا کے پانچوں آباد براعظموں میں پھیلی ہوئی تھی سلطنت برطانیہ کا آغاز 1591 میں آئرلینڈ سے ہوا اس سلطنت برطانیہ کے تیزی سے پھیلنے کی ایک وجہ ایسٹ انڈیا کمپنی بھی تھی ایسٹ انڈیا کمپنی کی ابتدا 16 ویں صدی میں ملکہ ایلزبتھ  ون کے دور میں باحیثیت تجارتی کمپنی ہوئی اس کا مقصد بر صغیر کے ساتھ تجارت کرنا تھی  مغل سلطنت کے بعد برصغیر میں میں جو خلا پیدا ہوا اسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورا کیا اور اس کے بعد 1857 میں برصغیر مکمل طور پر سلطنت برطانیہ کا حصہ بن چکا تھا اس کے بعد اٹھارہ سو اٹھاون میں میں ملکہ وکٹوریہ نے  ایسٹ انڈیا کمپنی کو ایک سو بیس سال بعد ختم کر دیا اور ہندوستان کو باضابطہ طور پر پر سلطنت برطانیہ کی کالونی بنا دیا  اور ملکہ وکٹوریہ قیصر ہند بن گئی ملکہ وکٹوریہ نےبرطانیہ پر 64 سال حکومت کی اور ان کے دور حکومت میں  سلطنت برطانیہ اپنے عروج پر تھی سلطنت برطانیہ کے اثرورسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنوبی افریقہ آسٹریلیا امریکہ وغیرہ میں ان کے مقامی لوگوں سے گورو کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے جبکہ اس سلطنت سے پہلے ان جگہوں پر گوروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی ملکہ وکٹوریہ 22 جنوری 1901 کو انتقال کر گئیں اس کے بعد ایڈورڈ ہفتم  تخت نشین ہوگیا ملکہ وکٹوریا 22 جنوری 1901 سے نو ستمبر 2015 تک سلطنت برطانیہ کی طویل ترین عہد حکومت وقت کے لحاظ سے سرفہرست رہی بعد ازاں 9 ستمبر 2015 کو یہ ریکارڈ ملکہ ایلزبتھ دوم کو حاصل ہوگیا ابتدا کی طرح سلطنت برطانیہ کا زوال بھی آئرلینڈ سے ہی 1922 میں شروع ہوا اس کے بعد 1947 میں برصغیر کا علاقہ پاک و ہند بھی علیحدہ ہو گیا کیونکہ برصغیر پاک و ہند میں بہت زیادہ دہ ظلم و ستم شروع ہوگئے تھے یو آہستہ آہستہ کر کے سلطنت برطانیہ کم ہوتی گئی اس کے بعد ذکر کرتے ہیں مسلمانوں کی مشہور ترین سلطنت سلطنت عثمانیہ جس کو خلافت عثمانیہ بھی کہتے ہیں اس فہرست میں اس کا 24 وا نمبر ہے یہ سلطنت بھی تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی ان کے علاوہ عظیم سلطنتوں میں خلافت عباسیہ خلافت راشدہ مغلیہ سلطنت سلجوقی سلطنت بیزنٹائن سلطنت ایوبی امیر تیمور کی تیموری سلطنت جس نے پندرہویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کو  جب وہ اپنے عروج پر تھی شکست دی اور سلطنت عثمانیہ  کے سلطان کو اپنے قید میں کردیا بعد ازاں ا میر تیمور نے نے عثمانی سلطان کو قتل کر دیا  لیکن اس کے  بعد امیر تیمور سلطنت عثمانیہ کے اوپر حکمرانی نہیں کرنا چاہتا تھا اور وہ واپس اپنی تیموری سلطنت میں لوٹ گیا اس کے تین سال بعد امیر تیمور کا بھی انتقال ہو گیا اس کے علاوہ لاطینی اور قرطبہ خاندان مشہور سلطنتیں شمار ہوتی ہیں جو کہ اپنے رقبے اور حکمرانی کی وجہ سے دنیا میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی تھی
    Twitter: Ali_AJKPTI

  • دور جدیدایک وبال؛ تحریر؛ غلام مرتضی

    دور جدیدایک وبال؛ تحریر؛ غلام مرتضی


    آج کل چونکہ جدید دور ہے اور ہر کوئی گزرتے وقت کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے  ۔جس میں ہر کوئی خود کو دوسرے سے بہتر دیکھنا چاہتا ہے ۔لڑکے اچھی ملازمت چاہتے ہیں ،دوسروں سے زیادہ كمانا چاہتے ہیں ،خود کو دوسرے سے اچھی پوسٹ پر اور اونچا دیکھنا چاہتے ہیں ۔جبکہ لڑكياں بھی اس ریس میں پیچھے نہیں وه خود کو کسی سے كمتر تسلیم نہیں کر سکتیں ۔لڑکیاں نئے سے نئے ڈیزائن کے اور برینڈیڈ کپڑے پھننا چاہتی ہیں جبکہ ایسا ہی ہو رہا ہے۔
    اس زمانے کی بڑھتی رفتار میں کوئی بھی پیچھے نہیں ہے چاہے وه مرد ہو یا عورت ،بوڑھے ہوں یا بچے ۔بچے اچھی تعلیم کے لئے اچھے ادارے جانے کا خواب رکھتے ہیں ۔جبکہ بوڑھے پاركس میں جانے اور واک وغیرہ کرنے میں ٹھیک رهتے ہیں ۔وه بھی نئے دور کی سہولتوں  سے آراسته ہونا چاہتے ہیں ۔وه بھی وہیل چئیر اور موبائل فون کی سهولت بروئے کار لاتے نظر آتے ہیں۔ والدین کی خواہش ہے کہ ان کی اولاد پڑھ لکھ کر ان کا نام روشن کریں ۔اگر کوئی کھیل کے میدان میں اگے بڑھ رہا ہے تو وہ اپنے بچوں کو بھی وہی کرنے کا کہتے ہیں ۔چونکہ آج کل فیشن کا دور ہے تو کچھ مائیں خود کو زمانے کے برابر دیکھنے کے لئے اپنی بچیوں کو بھی ویسے ہی تنگ لباس خرید کر دیتی ہیں تا کہ وہ کسی سے کم نہ لگیں ۔جب کہ اسلام ہمیں پردے کا درس دیتا ہے ۔یہی کچھ لڑکیاں اپنے انھیں ارادوں کو پورا کرنے کے لئے اپنے والدین کے خلاف بھی ہو جاتی ہیں اور انہیں اپنا دشمن سمجھتی ہیں ۔ 
    ایک زمانہ تھا میلے لگتے تھے اور وہاں سادے لوگ اپنی اپنی خوشیاں سمیٹتے تھے ۔لیکن اب دعوتیں ہوتی ہیں جس میں ہر کوئی خود کو دوسرے سے الگ اور بہتر دیکھنا چاہتا ہے ۔کوئی عورت دوسری عورت کو اپنے سے بہتر برداشت کر ہی نہیں سکتی ۔
    پہلے پہلے مائیں اپنے بچوں کو اپنی گود میں تربیت دیتی تھیں لیکن اب یھاں بچا پیدا ہوتا ہے بولنے کے قابل ہوتے ہی اسے موبائل فون تهما دیا جاتا ہے ۔جس سے بچے کی اچھی پرورش نہیں ہو پاتی ۔
    رخ کرتے ہیں جدید دور کے ایک بڑےمسئلے کی طرف جسے (fame) کہتے ہیں ۔اسے پانے کے لیۓ کوئی بھی کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔جیسا کہ آپ میں سے کوئی ایسا نہیں جو ٹک ٹاک جیسی بے هوده ایپ سے متعارف نہ ہو یہی کافی نوجوان اپنی لگن اور محنت سے کامیاب ہوئے پر کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہنر نہ رکھنے پر فحاشی کا سہاره لے رہے ہیں اور بےہوده حر کتیں کرتے دكهائی دیتے ہیں ۔جو کہ باقی نسل کو بھی خراب کر رہے ہیں ۔لڑکے ہوں یا لڑكياں کوئی پیچھے نہیں اس دوڑ میں ۔لڑکیاں الگ الگ طریقوں سے مشہور ہونا چاہتی ہیں جبکہ اپنا پرده تک بھول بیٹھی ہیں ۔وه لڑکیاں جو اسلام کی شہزادياں ہیں وه خود کو مغرب کی پرياں سمجھتی ہیں ۔
    جبکہ لڑکے عجیب حرکتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔خدا نے مرد بنایا اپنے خاندان کی رہنمائی کے لیۓ ،عورت کی عزت کے لیۓ ۔مرد کی شان اسکی مونچھیں اور داڑھی ہوتی ہیں ۔مرد کی بارعب آواز پورے گھر میں دهات بٹھائے رکھتی ہے ۔جبکہ آج کل کچھ  لڑکے مرد بن کر راضی نہیں اور میك اپ  میں خوش رهتے ہیں ۔کئی لڑکے مشہور ہونے کے لئے داڑھی مونچھ ہٹوا کر لپ اسٹک لگانے کو عظیم سمجھتے ہیں اور بڑے بال رکھ کر اپنی مردانگی پر ایک دهبا لگا رہے ہیں ۔جس پر ان کے والدین بھی خاموشی تانے ہوئے ہیں ۔حال ہی کی ایک خبر ہے کہ لاہور میں ایک باپ نے اپنی بیٹی کو ٹک ٹاک جیسے وبال سے دور رهنے کا کہا جس پر لڑکی سے اپنے باپ کو مارا۔مزاحمت کرنے پر باپ نے بیٹی کو كمرے میں بند کیا جس پر بیٹی نے پورے گھر میں آگ لگا دی ۔بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل اس نشے میں دهت ہو چکی ہے ۔
    اب آپ بھی خوب واقف ہیں اس دور سے ۔جس سے ہر عقلمند انسان پناہ چاہتا ہے ۔بے شک اب انسان کے لیۓ ہر کام آسان ہے لیکن یہی کچھ آسانياں ایسی بھی ہیں جو ہمارے لیے بہتر ثابت نہیں ہو سکیں ۔نوجوان نسل کو اپنے اور ملک کے دفاع کے لیۓ وه کام کرنا چاہیے جو دشمن کو پست کرے ناکہ ایسی حركات سے ملک و قوم کا نام برباد کرنا چاہیے ۔اسلام آباد میں قائداعظم یونیورسٹی میں سرعام منشیات کا استعمال جاری ہے جو کہ ہمارے لیے شرم کا باعث ہے ۔ 
    اس میں کافی ہاتھ والدین کا بھی ہے جو کہیں نا کہیں اپنی اولاد کی تربيت میں كمي چھوڑ دیتے ہیں ۔یا پھر ان پر دھیان نہیں دیتے جس وجہ سے وه بری صحبت میں پڑ جاتے ہیں ۔آج ہم ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں کہ باہر پرده کر کے نکلنے کو جهالت سمجھا جاتا ہے اور فحاش لوگوں کو ماڈرن ۔بہرحال کوئی بھی انسان دوسرے جیسا نہیں اگر کوئی کہے کہ سب ایک ہیں تو یہ سراسر ناانصافی ہو گی ۔کیونکہ ایک مچهلی پورے تالاب کو گنده کرتی ہے اسی طرح چند ایسے لوگ ہمارے معا شرے کی تباہی کا باعث بنتے ہیں ۔  ہمیں چاہیے کہ اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو دیکھتے ہی انہیں سمجھائیں کیونکہ باقی نسل پر ان کا منفی اثر پڑ رہا ہے ۔ یہ ہماری نسل کی بقا کی جنگ ہے جو ہم سب کو مل کر لڑنی ہے۔ اگر ہم سب اپنے حصّے کا کام کریں گے تو ضرور اس وبال پر قابو پا لیں گے ۔

  • بدنام معاشرہ تحریر: رانا محمد جنید

    بدنام معاشرہ تحریر: رانا محمد جنید

    کسی بھی معاشرے کی صحت کے لیے اس میں امانت، دیانت اور شرم وحیا کا پایاجانا بہت ضروری ہے۔ اور یہی عناصر کیسی معاشرے کی ترقی کا سسب بھی بنتے ہیں اور جب یہ عناصر کیسی معاشرے سے ختم ہو جاتے ہیں تو وہ معاشرہ تباہی کی جانب گامزن ہو جاتا ہے. جب کوئی قوم یا معاشرہ مالی اور بد فعلی کی راہ روی پہ چل پڑتا ہے تو وہ تباہ ہو جاتا ہے اور قرآن مجید میں اس کی بہترین مثالیں موجود ہیں.

    حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ایل دوسرے کا حق چھین لیا اپنے لیے فخر کی بات سمجھا کرتی تھی اللہ پاک نے حضرت شعیب علیہ السلام کے ذریعے انہیں سراط مستقیم پہ آنے کی دعوت دی پر ان پر کوئی اثر نا ہوا، جس کے بعد اللہ پاک نے ان پر چمگادڑ کا عذاب نازل فرمایا اور اس قوم کو تباہ کر دیا.

    ایسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جنسی راہ روی کا شکار تھی حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں اس چیز سے باز رہنے کی تلقین کی پر وہ اس برائی میں دھنستے چلے گئے پھر اللہ پاک نے فرشتوں کی ایک جماعت کو ان کی طرف انسانی شکل میں بھیجا اور قوم لوط نے اس کو بھی اپنی برائی میں شامل کرنا چاہا پر اس سے پہلے وہ کچھ کرتے اللہ پاک کے حکم سے فرشتوں نے پوری بستی کو الٹ کر زمین پہ دے مارا اور پھر آسمان سے پتھروں کی بارش کی جس سے قوم لوط ماری گئی اور حضرت لوط علیہ السلام اپنے ماننے والوں کو لے کر چلے گئے تھے

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فقط برائی کے ارتکاب سے نہیں روکا بلکہ برائی کے قریب تک جانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 32 میں ارشاد فرماتے ہیں:

    ”اور زنا کے قریب نہ جاؤ ‘ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے”۔

    ہمارا پیارے دین اسلام ہر ایک جاندار ہے حقوق سکھاتا ہے مگر افسوس کی بات ہے کیسی دوسرے کے تو کیا انسان خود اپنی ہم جنس کو بھی اس کے حقوق دینے اور اس کی حفاظت کے لیے تیار نہیں

    ہمارا معاشرہ اس قدر بگڑ چکا ہے کہ اب یہاں ہر کوئی اپنی عزت کی پروا کرتا ہے اور دوسروں کی عزت کا خیال نہیں

    یہاں پر عورت کو اب صرف ایک گوشت کا ٹکڑا سمجھا جاتا ہے جیسے اپنی حوس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کچھ بھی نہیں

    حال ہی میں کچھ ایسے ہی واقعات ہمیں دیکھنے کو ملے جو روح کو جھنجوڑ کر رکھ دیتے چاہے وہ قصور کی زینب ہو یا سانحہ موٹر وے، نور مقدم کیس ہو یا سانحہ منار پاکستان ان واقعات سے ہمارے معاشرے کی بس حالی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کے ہم کس طرف جا رہے ہیں

    اگر ان واقعات کو نا روکا گیا تو ممکن ہے چند سالوں بعد ہر گھر میں زینب جیسی بچی کی عزت روند دی جائے گی.

    ہم سب مسلمان ہیں اور ہم اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں تو ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم اسلام کے بتائے ہوئے طریقوں ہر عمل کریں اور اپنے معاشرے سے برائی کو ختم کر سکیں

    قرآن مجید برائی کو روکنے کے لیے چند اصول بیان کرتا ہے جو ہر ایک مسلمان کے لیے ضروری ہیں

    مرد اپنی نگاہوں کو جھکا کر رکھیں

    عورتیں اپنی نگاہوں کو جھکائیں اور اپنے وجود کو ڈھانپیں۔

    بے نکاح لوگوں کا نکا ح کیا جائے۔

    کسی کے گھر میں داخل ہونے سے قبل اجازت لی جائے۔

    ظہر اورعشاء کے بعد اور فجر سے پہلے گھریلو کمروں میں ملازم اور بچے بغیر اجازت کے داخل نہ ہوں۔

    تہمت لگانے والوں کو سخت سزا دی جائے۔

    اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے والدین، اساتذہ، علماء کرام اور ریاست کا فرض بنتا ہے کے وہ اس برائی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں

    والدین اپنے بچوں کی اچھی طرح سے پرورش کریں اور انہیں ہر برائی اور اچھائی میں فرق کرنے کا بتائیں اور ان کی مصروفیات ہر نظر رکھیں

    اساتذہ کو چاہیے کے وہ اہنا نظام تعلیم اس طرح کا بنائیں کے جو برائی کے خاتمے کا سبب بنے ناکہ اس کو اور زیادہ ہوا دے، اور بچوں کو اس برائی کے مثبت نتائج سے آگاہ کریں

    اور یہاں ریاست کا اہم کردار ہوتا ہے کے فحاشی پھیلانے والے ذرائع بند کرے اور وہ اسے قانون بنائے جن میں ملزمان کو جلد از جلد اس کے گناہوں کی سزا دی جا سکے تاکہ دوسرے ان اے عبرت حاصل کریں

    اگر مذکورہ بالا تدابیر کو اختیار کر لیا جائے تو یقینا معاشرہ طاہر اور مطہر معاشرے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

    اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے نوجوانوں کو برائی سے بچ کر شرم وحیا والی زندگی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے،
    آمین !

     

    @Durre_ki_jan

  • جمعہ کی فضیلت : تحریر : فرح بیگم

    جمعہ کی فضیلت :

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جمعہ کا دن سارے دنوں کا سردار ہے ، اور اللّه کے نزدیک سب سے بڑا دن ہے ۔” جمعہ کا دن اللّه کے نزدیک عید الفطر اور عید الاضحیٰ سی بھی بڑھ کر ہے ۔ جمعہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب "جمع ہونا ہے ”
    اس دن ہی حضرت آدم ع کی اولاد جمع کی جائے گی ،حضرت آدم ع اور حضرت حوا ع زمین پر اسی روز ہی ملے تھے ۔ اس دن میں ہی انکو وفات بھی دی اور اس دن قیامت بھی اے گی ۔ حدیث میں جمعہ کے کہی ناموں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ جیسا کہ  سید الایام (دنوں کا سردار ) ، خیر الایام (بہترین دن ) ، افضل الایام  (فضیلت والا دن ) ، عید المومنین ( مومنوں کا دن) ۔ جمعہ ایک اسلامی اصطلاح ہے ۔ یہودیوں کے لیے  ہفتے کا دن عبادت کے لیے مقرر تھا کیوں کہ اس دن بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی تھی ۔ عیسائیوں نے اپنے آپ کو یہودی سے الگ کرنے کے لیے اتوار کا دن خود با خود مقرر کیا تھا ۔اس بات کا حکم نہ حضرت عیسیٰ ع نے دیا نہ انکی کتاب نے ۔ اسلام نے اپنی ملت کو ہمیشہ ممتاز رکھا ہے اور جمعہ کے دن کا انتحاب کیا ہے عبادت کے لیے ۔ اس لیے جمعہ کو عید کا دن کہا جاتا ہے ۔

                           حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس دن تمہارے باپ آدم ع پیدا ہے ، اور اس دن ہی صور پھونکا جائے گا اور اس دن ہی لوگ قبروں سے اٹھاییں جائے گے ۔ اور اس دن ہی سب کی پکڑ ہوگی "۔ حضرت امام سے راویت ہے کہ انہوں نے فرمایا جمعہ کا مطلب لیلتہ القدر سے بھی زیادہ ہے ۔جمعہ کا دن سارے دنوں سے افضل ہے ۔ ہر مسلمان کو چاہیئے جمعہ کے دن لازمی غسل کرے ، اپنے سر کے بالوں کو اور جسم کو خوب صاف رکھے ، مسواک کرے ، ، عمدہ کپڑے پہنے ، ناخن کاٹے، خوشو بو لگائے وغیرہ ۔ ارشاد مبارک ہے جو شخص  جمعہ کے دن اچھے سی غسل کرے گا ،اپنے آپکو پاک صاف رکھے گا اور وقت پر مسجد جائے گا تو اس نے ایک اونٹ کی قربانی کی ، اور جو اس کے بعد دوسری ساعت میں گیا تو اس نے گاۓ کی قربانی دے اور جو تیسری ساعت میں گیا اس نے مینڈک کی قربانی دی اور جو چوتھی ساعت میں گیا اس نے ایک انڈے کا صدقہ دیا ۔ جب خطبہ دینے کے لیے خطیب نکلتا ہے تو فرشتے مسجد کا دروازہ چھوڑ دیتے ہیں ۔اور نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آ بیٹھتے ہیں ۔

                      حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی فضیلت کو بیان کرتے ہوے فرمایا کہ اس میں ایک ایسی گڑھی ہے جس میں ایک مسلمان جو نماز کا پابند ہو اللّه سے جو بھی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسکو عطاء کرتا ہے ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جس مرد نے گھر میں جمعہ کی نماز ادا کی دل کرتا ہے میں اس کے گھر کو جلا دوں "۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تھے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ مبارک لال ہو جاتی تھی ، آواز بلند ہو جاتی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے میں صحابہ کو اسلام کی تعلمیات دیتے تھے ۔حضرت جبر فرماتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز معتدل ہوتی تھی اور خطبہ بھی معتدل ہوتا تھا ۔ قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے اور پھر لوگوں کو نصیحت کرتے تھے ۔ جمعہ کے خطبہ کی آرام اور سکون سے سنانا چاہیئے ۔ تا کہ روحانی فائدہ ہو سکے ۔
                     جمعہ کے دن جو دعا مانگی جائے وہ ضرور پوری ہوتی ہے ۔ مسلمان پر فرض ہے کہ وہ جمعہ کی نماز لازمی ادا کرے اور لوگوں کو بھی اس کی ترگیب دے ۔

    Twitter id: @iam_farha

  • حضرت مولانا شیخ الہند محمودالحسن قدس سرہ کی حالات)  تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    حضرت مولانا شیخ الہند محمودالحسن قدس سرہ کی حالات) تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی رح ۱۲۶۸ بمطابق 1851 کو  بریلی میں پیدا ہوئے۰ آپ رحمہ اللہ کے والد ماجد مولانا ذوالفقار علی رح ایک جید عالم تھے۰

    أپ رحمہ اللہ کا شجرہ نسب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنه سے جاکر ملتا  ہے۰

    آپ رح نے قرآن پاک کا کچھ حصہ اور ابتدائی کتابیں مولانا عبدالطیف رح سے پڑھیں۰

    ابھی آپ رح قدوری تہذیب وغیرہ پڑھ رہے تھے کہ ۱۲۸۳ میں حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح نے دارالعلوم دیوبند قائم کیا ۰آپ رح اس مدرسہ کے پہلے طالب علم بنے۰ ۱۲۸۶ میں آپ کتب صحاح ستہ کی تکمیل کرکےفارغ التحصیل ہوئے ۰ حدیث میں آپ رح کو مولانا قاسم نانوتوی رح مولانا یعقوب نانوتوی رح کے علاوہ قطب الارشاد مولانا رشید احمد گنگوہی رح اور مولانا شاہ عبدالغنی رح سے بھی اجازت حاصل ہے۰آپ رح کو فارغ التحصیل ہونے سے پہلے ہی دارالعلوم دیوبند کا معین مدرس بنادیا گیا ۰ابتدا میں آپ رح کے سپرد ابتدائی تعلیم پڑھانے کا کام کیا گیا ۰لیکن بہت جلد آپ علمی استعداد اور ذہانت ظاہر ہونےلگی اور رفتہ رفتہ آپ رح مسلم شریف اور بخاری شریف کی تدریس تک جا پہنچے۰

    آپ رح کا زمانہ تدریس چوالیس سال سے زائد ہے۰اس عرصہ میں اطراف اکناف عالم میں اپ رح کے تلاذہ پھیل گئے جن کی تعداد ہزاروں میں ہے۰آپ رح کے ممتاز تلامذہ میں مولانااشرف علی تھانوی رح ،علامہ شبیر احمد عثمانی رح،علامہ انور شاہ کشمیری رح ،مولانا حسین احمد مدنی رح،مفتی کفایت اللہ دہلوی رح،مولانا اصغر حسین دیوبندی رح،مولانا عبیداللہ سندھی رح،مولانا اعزاز علی رح،مولاناحبیب الرحمن عثمانی رح اور مولانا عبدالسمیع رح جیسے مشاہیر علم وفضل شامل ہے۰

    آپ رح شروع سے ہی نیک اور نیک فطرت تھے۰اس کے ساتھ مولانا محمد قاسم نانوتوی رح کی محبت اور صحبت اور مولانا رشید احمد گنگوہی رح کی توجہات نے آپ رح کو روحانیت کے عرش پر بٹھادیا تھا۰شیخ العرب والعجم حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی قدس سرہ نے اپ رح کے کمالات علمیہ وروحانیہ سے خوش ہوکر دستار خلافت اور اجازت نامہ بیعت عنایت فرمایا۰دربار رشیدیہ سے بھی اپ رح  کو یہ نعمت حاصل ہوئی۰حاصل یہ کہ اپ رح علم نبوت ،شریعت ،طریقت اور روحانیت کے مجمع البحرین ہی نہیں بلکہ مجمع البحار تھے۰اپ رح اگر چہ اکثر اوقات تعلیم وتعلم اور تصنیف وتالیف اور مطالعہ کتب میں مصروف رہتے لیکن اور ادووظائف ،ذکر ومراقبہ،اور صلوۃ الیل پر بھی ہر حالت سفر وحضر حتی کہ مالٹا کی طوفانی برفباری میں بھی اپ رح کے معمولات میں فرق نہ آتا تھا۰

    انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کے مشن کو اپ رح نےکافی اگےتک بڑھایا ۰اپ رح عسکری بنیادوں پر مسلمانوں کو منظم کرکے انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا چاہتے تھے۰اس ضمن میں اپ رح نے تحریک ریشمی رومال شروع کی جس کا مرکز اپ رح نے کابل کو بنایا ۰اپنوں کی سازش اور ریشہ دوانیوں سے تحریک کامیاب نہ ہوسکی تاہم اس نےمسلمانوں میں بیداری کی روح پھونک دی۰_۱۳۳۵ میں انگریزوں نے اپ رح کو گرفتار کرکے مالٹا پہنچادیا ۰ ۱۳۳۸ میں وہاں سے رہا ہوئے اور ہندوستان آئے ان دنوں تحریک خلافت وعروج پر تھی باوجود عمر میں زیادتی اور بیماری کے آپ رح نے اس تحریک میں بھر پور حصہ لیا لہذا بیماری میں اضافہ ہوگیا۰اپ رح نے ۱۸ربیع الاول ۱۳۳۹ کو دیوبند میں انتقال فرمایا۰الل.  اپ رح پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۰اتباع سنت:

    حضرت شیخ الہند رح کا معمول تھا کہ وتروں کے بعد بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے تھے۰کسی شاگرد نے عرض کیا،حضرت!بیٹھ کر نوافل پڑھنے کاثواب تو ادھا ہے۰حضرت رح نے فرمایا ہاں بھائی !یہ تو مجھے معلوم ہے مگر بیٹھ کر پڑھنا حضورﷺ سے ثابت ہے اس لیے سنت عمل کو اپنایا۰اپ رح کا معمول رمضان میں تراویح کے بعد سے صبح تک قرآن پاک سننے کا تھا حافظ بدلتے رہتے اور حضرت رح اخیر تک کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تھے جس کی وجہ سے کبھی کبھی پأؤں پر ورم بھی آجاتا تھا۰تو اس پر اپ رح خوش ہوتے کہ (حتی یتورمت قدماہ)کی سنت کی موافقت نصیب ہوگئ۰

    زمانہ نظر بندی میں اپ رح اکثر توجہ الی اللہ میں خاموش رہتے یا تسبیح اور ذکراللہ میں مشغول رہتے،عشاء کی نماز کے بعد تھوڑی دیر اپنے وظائف پڑھتے تھے پھر آرام فرماتے اور دو بجے کے قریب سخت سردی میں اٹھ کر ٹھنڈے پانی سے وضو کرکے نماز تہجد میں مصروف ہوجاتے۰نماز تہجد کے بعد اپنی چارپائی پہ بیٹھ کر صبح صادق تک مراقبہ اور ذکر خفی میں مشغول رہتے جب کہ مالٹا کی سردی مشہورومعروف ہے۰

    اللہ تعالی ہمارے اکابرین کی قبروں پر رحمتیں نازل فرمائے۰ اور اللہ ہمارےعلمائےحق کی حفاظت فرمائے اللہ تعالی ہمارے مساجد،مدارس،خانقاہوں،تبلیغی مراکز اور مجاہدیںکی حفاظت فرمائے۰امین ثم امین۰

    @Tareef1234

  • آپ اپنی زندگی کے ہیرو ہیں تحریر فاروق زمان

    آپ اپنی زندگی کے ہیرو ہیں تحریر فاروق زمان

    آپ اپنی زندگی کے ہیرو ہیں؟ ہیں یا نہیں؟ رکیں، سوچیں، اپنی زندگی کو اپنی آنکھوں میں کسی فلم کی طرح چلائیں۔ اب اس فلم میں خود کو دیکھیں کہ آپ کون سا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اپنے ساتھ ایک ہیرو کی طرح ہیں یا زیرو ہیں۔ آپ کا کردار کیا ہے، مثبت یا منفی آپ کی شخصیت و حیثیت کیا ہے۔ آپ کی زندگی کیسی ہے۔ آپ کا کردار آپ کی زندگی میں قابل ذکر یا طاقتور ہے یا نہیں۔ آپ واقعی ہیرو ہیں یا اپنی زندگی کے ولن ہیں۔ آپ فالتو کردار یا منفی کردار تو نہیں جو ہر چیز ہر بات کا منفی پہلو دیکھتا ہے۔ نا خود خوش رہتا ہے، نہ دوسروں کو خوش رہنے دیتا ہے۔ خود پریشان رہتا ہے یا دوسروں کو پریشان کرتا رہتا ہے۔ بالکل ناکام ہے۔ جو اپنی زندگی کے مقصد کو یکسر بھلا ضائع کر رہا ہے۔ بس کھانے پینے اور سونے میں مشغول ہے۔ جس میں کوئی قابل ذکر خصوصیت نہیں ہے۔ ایک کمزور انسان، جو زندگی میں آنے والی مشکلات کے سامنے ہار مان لیتا ہے اور مشکلات سے لڑنے اور ان کو حل کرنے کی بجائے ہمت ہار کر بیٹھ جاتا ہے۔ گھبرا جاتا ہے۔ آپ سوچیں آپ کو نظر آنے والی اپنی زندگی کی فلم وہی ہے، جیسا آپ اپنی زندگی کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کی زندگی آپ کی توقعات اور خواہشات کے مطابق ہے۔ آپ کی زندگی میں آپ کا کردار وہی ہے جو آپ چاہتے ہیں۔ کیا آپ واقعی اپنی زندگی کے ہیرو ہیں۔؟
    اپنی زندگی کی فلم دیکھنے کے بعد بہت سے جوابات میں آپ کو ناکامی کا اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔ میں آپ، اپنی زندگی کی فلم اپنی آنکھوں کے سامنے چلا کر دیکھیں تو ہمیں مایوسی ہوتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہیرو بالکل نہیں ہیں ، بلکہ ہمارا کردار کوئی قابل ذکر نہیں ہے۔ بعض اوقات تو لگتا ہے کہ ہم اپنے سے منسلک دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں بھی ولن کے کردار کے طور پر شامل ہیں۔ اپنی زندگی کی فلم دیکھنے کے بعد شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ آپ اپنی زندگی کے ہیرو ہیں، یا کو سکتا ہے آپ کو لگ رہا ہو کہ آپ تو بلکل بھی ہیرو نہیں ہیں۔ ہیرو نہیں ہیں تو ہیرو بننا ہوگا۔ خود کو بدلنا ہو گا۔ آپ اپنی زندگی کے ہیرو ہیں، آپ کو ثابت کرنا ہو گا۔ آپ کو ہیرو بننے کے لیے تگ و دو کرنی ہوگی۔ اپنی زندگی کی فلم   میں خود کو ہیرو کی طرح فٹ کرنا ہو گا۔ آپ کے یقیناً اپنی زندگی سے متعلقہ بہت سے خواب ہوں گے۔ زندگی سے وابستہ امیدیں ہوں گی۔ بہت کچھ بننا چاہتے ہوں گے۔ اس سب کے لیے، ہیرو بننے کے لیے آپ کو اپنا کردار از سر نو تعمیر کرنا ہو گا۔ کمر کس کر میدان میں اترنا ہو گا۔ محنت، عزم اور ہمت سے اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے جدو جہد کرنی ہوگی۔بلند مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بلند شخصیت کا حامل ہونا ضروری ہے۔
    ہیرو بننے کے لیے آپ کو اپنے ساتھ اپنا سلوک بدلنا ہوگا۔ اپنے اندر سے بہتر انسان تلاش کرنا اور اپنے اندر سے ہیرو کو باہر نکالنا ہو گا۔ دنیا داری کے منفی جال سے نکلنا ہو گا۔ اپنی شخصیت کو اچھائی کے سراپے میں ڈھالنا ہو گا۔ اپنی تعمیر بہتر اور مثبت خطوط پر کرنا ہوگی۔ اس شخصیت کی تعمیر اچھی عادات اور اچھے کاموں کی بنیاد پر کرنا ہو گی۔ بری عادتوں سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ ولن یا منفی کردار کو مقابلہ کر کے پچھاڑنا ہوگا۔ ہیرو دراصل ایک ایسا لفظ ہے، جو اچھائی کا ہر رخ ہے۔ ایک طاقت کا نام ہے، وہ طاقت جو جو برائی کا مقابلہ کرکے اس کو پٹخ کے رکھ دیتی ہے۔ آپ کو بھی ایسے ہی ہر منفی چیز کا نام مٹانا ہو گا۔
    خود کو بیکار کی باتوں اور بے مقصد کاموں میں ضائع مت کریں۔ آپ کی عادات و اطوار، اعلیٰ شخصیت، عمدہ انسان اور بہتر کردار کے حامل انسان کی ہونی چاہیے۔ زندگی کے ہیرو بن کر زبردست طریقے سے گزاریں۔ اپنی طاقت خود بنیں، بلاشبہ آپ ہی اپنی زندگی کے ہیرو ہیں۔

    @FarooqZPTI

  • پاکستان کا طاقتور ترین سیاست دان کون؟    تحریر اکرام اللہ نسیم

    پاکستان کا طاقتور ترین سیاست دان کون؟  تحریر اکرام اللہ نسیم

    جب 2018 کےجنرل الیکشن کا نتیجہ آتا ہے 

    پاکستان کے چھوٹے بڑے پارٹیوں کے رہنماء اور لیڈران دنگ رہ جاتے ہیں 

    بھلا یہ کیسانتیجہ آیا ہے کیونکہ جہاں ایم ایم اے کی تیس سے پچاس سیٹیں بنتی تھی

     وہاں انکو صرف 13 سیٹیوں تک محدود کردیا اسی طرح ن لیگ کو اقتدار سے ہٹا کر زمین پر دے مارا

     پی پی پی کا صفایہ پنجاب سے کردیا چند سیٹوں تک محدود کردیا

    جماعتِ اسلامی کو پورے ملک سے 1نمبر حلقہ سے سیٹ عبد الاکبر چترالی کی صورت میں ملی

    یہی حال اے این پی کا بھی تھا  جنہیں دیوار سے لگا دیا گیا

     ایم کیو ایم کے ساتھ تو سوتیلی ماں والا سلوک کیا گیا

    تحریک لببیک پاکستان کے ساتھ وہ گیم کھیلا گیا جو آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں ن لیگ کے ساتھ کھیلا گیا 

    اب ہر طرح مایوس اور بے چینی کی صورت حال پیدا ہو گئی ملک کے تمام سیاستدان حیران و پریشاں ہے کہ اتنے کثیر مقدار میں ووٹ کیسے چوری ہوگئے  کہ اب ہم کیا کریں کچھ سمجھ نہیں آرہا 

    سیاستدانوں کے حس ماؤف ہو چکے تھے چہرے مرجھائے ہوئے تھے

     غصے کی آگ دل میں بھڑک رہی تھی زرداری حیران نواز شریف پریشان 

     اتنے میں پاکستان کے ایک طاقتور ترین سیاست دان سربراہ مولانا فضل الرحمان صاحب آل پارٹی کانفرنس بلاتی ہیں وہاں اسی آل پارٹی کانفرنس کے اندر تمام سیاسی قائدین کو مشورہ دیتے ہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں اب اگر ووٹ چوروں نے ووٹ چوری کئے 

    اسکا واحد حل میرے ذہن میں ہیں

    وہ یہ کہ کسی بھی پارٹی کے رہنما نے حلف نہیں اٹھانی

    ووٹ چوری کو ہم اسطرح روک سکتے ہیں جب یہ تجویز سربراہ جے یوآئی مولانا فضل الرحمان صاحب نے سب کے سامنے رکھی اکثریت پارٹیوں نے اسکے ساتھ اتفاق کیا

    مگر ملک کے دو بڑی پارٹیوں ن لیگ پی پی پی نے کہا ہمیں مہلت دیں ہم اسپر سوچیں گے پھر جواب دینگے

    جب ان دو پارٹیوں کو آگے سے گٹھ جوڑ اور لالچ کی دلانے کے لئے رابطے ہوئے تو یہی وہ موقع تھا جو اپوزیشن نے ضائع کیا اور ایک چنتخب نمائندے کو عوام پر مسلط ہونے کا موقع فراہم کیا

    بات آگے بڑھی  اے پی سی کا سربراہ بھی پاکستان کے طاقتور ترین سیاست مولانا فضل الرحمان صاحب کو بنایا گیا پھر جب اے پی سی کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تحریک کا آغاز کیا گیا وہاں بھی پی ڈی ایم کا سربراہ پاکستان کے طاقتور ترین سیاست دان مولانا فضل الرحمان صاحب کو بنانا پڑا 

    مولانا فضل الرحمان صاحب الفاظ کے چناؤ کے اعتبار سے تمام سیاستدانوں سے ممتاز ہیں 

    مولانا فضل الرحمان صاحب ذہانت کے اعتبار سے بھی دیگر سیاستدانوں سے ممتاز ہیں 

    مولانا فضل الرحمان شجاعت کے اعتبار سے دیگر سیاستدانوں سے ممتاز ہیں

    مولانا فضل الرحمان صاحب کا شمار اس لئے بھی پاکستان کے طاقتور ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہیں کہ انکے پاس سٹریٹ پاور ہے

    انکے پاس پچاس ہزار باوردی رضاکاران ہیں جو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں مولانا فضل الرحمان صاحب پر جان نچھاور کرنے کے لئے

    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل 

    @realikarmnaseem