Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • دعا ایک عظیم نعمت   تحریر: اسد ملک 

    دعا ایک عظیم نعمت  تحریر: اسد ملک 

    انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے یہ شرف حاصل ہے کہ وہ دعا کے ذریعے اللہ سے دنیا کی کوئی بھی چیز حاصل مانگ سکتا۔ اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت دعا ہے اور خاص عبادت بھی گردانی جاتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ پورے دل اور اخلاص کے ساتھ اللہ سے دعا مانگے۔انسان کا مانگنا اللہ کو ویسے بھی بہت پسند ہے وہ خود چاہتا ہے کہ انسان صرف اسی سے مانگے کیوں کہ دینے والی ذات بھی صرف اللہ ہی کی ہے۔ اللہ سے مانگ کر کبھی بھی شرمندگی یا ندامت نہیں ہوتی ، جو بھی مانگا جاتا ہے وہ بندے اور اس کے رب کے درمیان ہی رہتا ہے ۔

    اللہ تعالی سے جب بھی مانگا جائے تو اس پہ پورے یقین اور توکل سے مانگنا چاہیے۔ مومن صرف اللہ ہی پر توکل کرتا ہے کیوں کہ قرآن میں بھی اللہ فرماتا ہے ، "وعلی ربّھم یتوکلون” (اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں)۔ بحثیت مومن اس بات پہ یقین ہونا کہ کائنات میں ایک پتہ بھی اللہ کی مرضی کے بنا نہیں ہل سکتا اور کوئی بھی اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کر سکتا ، سب اللہ ہی کی رضا سے ہوتا ہے لہذا وہ صرف اسی پہ یقین اور بھروسہ کرتا ہے۔ اور اس کامل بھروسے کی وجہ سے اس کے اندر کی امید کبھی مدھم نہیں پڑتی اور نہ ہی انسان کبھی کسی خوف کا شکار ہوتا۔ بے شک اللہ پہ توکل اور یقین رکھنے والوں کو آزمایا جاتا ہے مگر امید کا جو دامن اس وقت مومن کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ ہزار مشکلات کے باوجود بھی اس کے قدم ڈگمگانے نہیں دیتا ، نہ اس میں کسی قسم کی کوئی اکڑ ہوتی ہے نہ اسے کوئی چیز اللہ کے علاوہ کسی کے آگے جھکنے پہ مجبور کر سکتی ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے جو بھی ہوتا ہے وہ اللہ کی مرضی اور رضا سے ہوتا ہے اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ستر ماوں سے زیادہ محبت کرنے والا اس کے لیے کچھ برا کرے گا اسی لئے وہ ہر حال میں بہت مطمئن ہو کر وہ زندگی بسر کرتا ۔

    اللہ سے یقین کے ساتھ مانگنا چاہیے۔ دعا کرتے ہوئے انسان کو اس کی قبولیت کا یقین ہونا چاہیے کیوں کہ مایوس دل سے نکلی دعا اللہ کو پسند نہیں لہذا دعا اس یقین سے مانگنی چاہیے کہ دینے والی ذات صرف اللہ ہی کی ہے، وہ ہر شہ پہ قادر ہے اور وہ "کن فیکون” کا مالک ہے اسی لیے اس سے نا ممکن کو بھی مانگتے ہوئے ہچکچانا نہیں چاہیے اللہ عزوجل کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں۔اور جب یقینِ کامل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جاتی ہے تو وہ کریم اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ کوئی بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلا دے تو وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو خالی اور ناکام و نامراد واپس کر دے۔

    انسان زندگی میں ہر چیز حتی کہ اپنے مسائل اور خواہشات میں بھی اللہ تعالی کے حکم کا محتاج ہے ۔ دراصل انسا ن بہت بے بس اور لاچار ہے اور جب انسان کو یہ چیز محسوس ہوتی ہے تو وہ دعاوں کا سہارا لے کے اللہ کے آگے گرگراتا ہے اور اللہ کی قدرت پہ کامل یقین کے ساتھ اپنے تمام معملات اس کے سپرد کر دیتا ہے ، اس مقام پر انسان اپنی محرومی اللہ کے ہاں پیش کر دیتا ہے اور اس کی مدد کا طالب ہو جاتا ہے۔ مگر دعا قبول نہ ہونے کی صورت میں ناشکری اور نا امیدی اللہ کی ناراضی مول لینے کی مترادف ہے ۔ اللہ سے مانگنا ضرور چاہیے اور مکمل یقین کے سا تھ مانگنا چاہیے مگر ضد نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ یہ اللہ جانتا ہے کہ انسان کے حق میں کیا بہتر ہے اور کچھ دعائیں انسان کے لیے نقصان کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔ ایمان اور کامل یقین کا تقاضا دعا کی قبولیت سے ہر گز مشروط نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس پہ ہونا چاہیے کہ جو بھی ہوگا وہ میرے لیے بہتر ہی ہوگا کیوں کہ میں نے اپنا معاملہ اس ذات کے سپرد کیا ہے جو تمام کائنات کا مالک ہے اور اپنی مخلوق سے بے انتہا محبت کرتا ہے اسی لیے دعا جیسی عظیم نعمت سے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔

    @asad_malik333

    https://twitter.com/asad_malik333?s=09

  • عمران احمد خان نیازی کی بائیوگرافی تحریر علی اصغر خان         

    عمران احمد خان نیازی کی بائیوگرافی تحریر علی اصغر خان        

                           

              

    عمران خان کا جنم سنہ 1952 لاہور میں ایک پشتون گھرانے میں ہوا بچپن سے کافی زیادہ محنتی تھے عمران  نے 19 سال کی عمر  1971 میں اپنے انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز کیا اسی دوران سنہ 1975 میں انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے اپنی گریجویٹ کی ڈگری حاصل کی اپنے کیریئر کے دوران بہت سارے نشیب و فراز ان کے سامنے آئے انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران اس وقت کی بہترین ٹیموں کے  ساتھ کرکٹ کھیلی یہ وہ وقت تھا جب ویسٹ انڈیز کو کالی آندھی کے نام سے جانا جاتا تھا اور بڑے بڑے بولرز ز اس ٹائم ہوا کرتے تھے اور ان بڑے بڑے ناموں میں عمران خان نے اپنا نام بنایا یا اور پاکستان کا نام بھی روشن کیا اس کے علاوہ نیو ٹرل امپائر ر متعارف کروائے  اس کے علاوہ عمران خان سن 1982 سے لے کر سن 1992 تک پاکستان کی ٹیم کے کپتان بھی رہے ہے پاکستان کرکٹ ٹیم نے واحد ورلڈ کپ انیس سو بانوے میں عمران خان کی قیادت میں جیتا انیس سو اکانوے میں عمران خان نے  اپنی والدہ کی یاد میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کی بنیاد بھی رکھی انیس سو چورانوے میں انہوں نے شوکت خانم کینسر ہاسپٹل لاہور کو کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس کے بعد دوسرا شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال پشاور میں سن 2015 میں بنایا گیا عمران خان نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد انیس سو چھیانوے میں پاکستان تحریک انصاف پارٹی کی بنیاد رکھی  1996 میں عمران خان کے جلسے بہت بڑے تھے لیکن پاکستان تحریک انصاف بدقسمتی سے سے کوئی بھی سیٹ حاصل نہ کر سکی عمران خان کو کو اپنی سیٹ پر مشہور اینکر طارق عزیز نے شکست دی بعد ازاں ایک پروگرام میں طارق عزیز سے جب پوچھا گیا کہ آپ کو کس پر یقین ہے جو پاکستان کے حالات میں بہتر کر سکتا ہے اس سوال کہ جواب میں طارق عزیز کا جواب تھا جس کو میں نے آپنے پہلے الیکشن ہرایا تھا پھر 1999 اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے  ایمرجنسی نافذ کردی گئی عمران خان جنرل مشرف کی ایمرجنسی کے خلاف تھے( اس کے بعد سن 2001 میں جب امریکا افغانستان میں داخل ہوا اسامہ بن لادن اور ملا عمر کو پکڑنے کے لیے لئے تو واحد لیڈر عمران خان تھے جنہوں نے یہ کہا کہ افغان مسئلے کا حل جنگ  نہیں بلکہ کہ مذاکرات سے ممکن ہے اس کے علاوہ کافی موقع پر انہوں نے یہی بیان د یا آخر کار  20 سال کے بعد عمران خان کا وہ بیان سچ ثابت ہوا اور آج امریکہ افغانستان سے پوری طرح جا چکا ہے ہے)  پھر 2002 میں الیکشن ہوئے 2002 کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کو (صرف ایک سیٹ ملی اور وہ عمران خان کی اپنی سیٹ تھی اس طرح عمران خان پہلی بار قومی اسمبلی میں میں بطور ممبر نیشنل اسمبلی پہنچ گئے اس کے بعد 2008 کے جنرل الیکشن میں عمران خان نے اور ان کی پارٹی نے مکمل بائیکاٹ کر دیا اس کے بعد عمران خان اپنی پوری سیاسی طاقت کے ساتھ میدان میں اترے اور انہوں نے بہت بڑے بڑے جلسے کرنا شروع کر دیئے 2010 سے لیکر 2018 تک انہوں نے بہت زیادہ محنت کی 2013 کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کو پہلی بار پختونخوا میں میں حکومت مل گئی مگر خان کا خواب یہ نہیں  تھا عمران خان نے مزید محنت اور جدوجہد کی اور چار حلقوں کو کھولنے کا کہا ان کا ماننا تھا کہ یہ چار حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے مگر مسلم لیگ نون کی حکومت نے وہ چار حلقے کھولنے سے انکار کر دیا عمران خان کی سیاست شروع کرپشن ختم کرو سےہوتی ہے جو بھی حکومت ہو اس کو انصاف کرنا چاہیے کرپشن اگر اوپر سے لیڈر کرتا ہے تو نیچے والے لوگوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا اس کے بعد آخر کار سال 2018 آیا اور عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف نہ صرف وفاق میں بلکہ پنجاب میں اور پہلی بار ایسا ہوا کہ خیبرپختونخوا میں یکے بعد دیگرے دوسری بار پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آگئی عمران خان وزیر اعظم پاکستان پہنچ چکے تھے کرکٹ میں جب آئے اس کے بعد 22 سال کے لمبے انتظار کے بعد عمران خان نے پاکستان کو ورلڈ چیمپیئن بنوایا اسی طرح 1996 میں جب سیاست میں آئے تو ٹھیک 22 سال کے بعد 2018 میں  پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے یہ سفر یہیں پر ختم نہیں ہوا اس کے بعد بھی پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں مزید کامیابیاں سمیٹیں جن میں گلگت بلتستان کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کو فتح ملی اور اس کے بعد حال ہی میں ہوئے آزاد کشمیر کے الیکشن میں بھی پاکستان تحریک انصاف نے سادہ اکثریت حاصل کر کے حکومت بنائی انشاءاللہ 2023 میں پاکستان تحریک انصاف سندھ پنجاب بلوچستان خیبر پختونخوا سمیت پورے پاکستان اور آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی 

    Twitter account @Ali_AJKPTI

  • میرا حجاب میری مرضی  تحریر : تماضر خنساء

    اسلام ایک کامل دین ہے جس میں قیامت تک کے انسانوں کیلیے راہ ہدایت موجود ہے.. دین کامل میں زندگی کے ہر معاملے پرواضح احکامات عطا کیےگئے ہیں ..جہاں اسلام فرض عبادات کی اہمیت بتاتا ہے وہیں دوسرے معاملات پر بھی رہنمائ موجود ہے.. اسلام آنے سے قبل عرب میں جہالت کا دور دورہ تھا.. لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا، لڑکی بوجھ سمجھی جاتی تھی.. مگر اسلام نے آکر عورتوں کو انکے حقوق عطاکیے انکو عزت و اکرام عطا کیا…اسلام کی روشنی نے عورتوں کو تحفظ عطا کیا اور یہ تحفظ حجاب کی صورت میں ایک مسلم عورت کو پہچان کیلیے عطا کیا گیا…

    آج پھر سے جہالت اور بے حیائ کا دور دورہ ہے.. اسی بے حیائ اور جہالت کے پیدا کیے معاشرے کے داغ آج عورت کے تحفظ کی علامت پر سوال اٹھاتے ہیں ،ہر ناجائز کو جائز بنانے پر تلے ہیں… معاشرے کے ان داغوں سے مسلمان عورت کا بے داغ کردار آج ہضم نہیں ہورہا جبھی آج یہ مسلم عورت کو زبردستی جہالت کی کیچڑ میں لاکھڑا کرنا چاہتے ہیں.. 

    حجاب آج بھی مسلم معاشرے میں وقار اور تقدس

     کی علامت سمجھا جاتا ہے.. یہ چادر کا ایک ٹکڑا مسلمان عورت کی حفاظت کرتا ہےاور نا محرم مرد کی نگاہوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے… آج کے ترقی یافتہ دور میں حجاب لینا ایک عام بات ہے مگر بہت سے دین بیزاروں آج بھی وہی شدت پسند سوچ عام ہے.. حجاب مسلم عورت کیلیے فخر ہے کہ وہ اتنی قیمتی ہے کہ اسے ڈھانپ کر رکھنا ضروری ہے یہ تحفظ ہی توہے جو حجاب ایک مسلمان عورت کو دیتا ہے… 

    آج مسلم خواتین حجاب میں رہ کر بھی ترقی کے ہر میدان میں پیش پیش ہیں… آج مسلم عورتوں کی اکثریت حجاب میں پورے فخر سے ہر فیلڈ میں کام کرتی ہیں اور کامیاب بھی ہیں… 

    سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہر کچھ دن بعد کپڑے کا یہ ٹکڑا کسی نا کسی کو تکلیف کیوں دینے لگتا ہے؟  جب ایک عورت اس میں مکمل اطمینان محسوس کرتی ہے تو آخر ان دوٹکے کے لوگوں کو ہمارے حجاب سے اتنی تکلیف کیوں  ہے؟ 

    جب ایک چیز آپکی پہنچ میں نہ رہے تو انسان ایسے ہی باؤلا ہوتا ہے کہ جو منہ میں آتا ہے بکتا ہے یہی ان لبرلز کا حال ہے ..یہ چاہتے ہیں کہ ایک مسلم عورت سے اسکا وقار چھین لیں.. انہی لبرلز میں سے چند آنٹیاں اٹھ کر نعرہ لگاتی ہے کہ میرا جسم میری مرضی تو پھر آخر انہی میں سے کچھ لوگ دوسری خواتین پر انگلی اٹھانے کا حق کہاں سے لائے ہیں؟  اگر عورت کچھ نا پہنے تو بھی اسکی مرضی اگر وہ حجاب لے تو وہ بھی اسکی مرضی!  آپ ہوتے کون ہیں حجاب کرنے والی خواتین کے خلاف کچھ بھی کہنے والے… حجاب کرنے والی خواتین تو پاکیزگی کی علامت ہیں آپ اپنی غلیظ سوچ اور غلیظ زبان صرف اپنی کلاس(میرا جسم میری مرضی)  کی خواتین کیلیے استعمال کریں… 

    حجاب کرنے والی خواتین و لڑکیاں آج حجاب میں اسکول و کالج اور یونیورسٹیز بھی جاتی ہیں اور عام لڑکیوں سے زیادہ کامیاب بھی ہیں کیونکہ حجاب وہی خواتین لیتی ہیں جو "خاص” ہیں 

    اور جو خاص ہیں وہ تو پھر ہر چیز میں خاص ہوتی ہیں… پاکستان میں ہر شعبے میں حجاب کرنے والی خواتین موجود ہیں جنکی زندگیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ حجاب انکی زندگی میں رکاوٹ نہیں ہے… 

    حجاب تو خاتون جنت، جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا زیور ہے …حجاب تو اللہ کے رسول کی محبوب زوجہ عائشہ صدیقہ  رض کا زیور ہے… حجاب تو اسلام کی پہچان ہے… حجاب ہر خاص مسلم عورت کا زیور ہے… حجاب وہ زیور ہے جو ایک عورت کیلیے تحفظ ہے…یہ محض کپڑے کا ایک ٹکڑا اپنے پیچھے انگنت مصلحتیں لیے ہوئے ہے جبھی یہ ان دین بیزار لبرلز کے گلے کی ہڈی بن جاتا ہے.. 

    حجاب کرنا ایک مسلمان عورت پر فرض ہے …آج کی اکیسویں صدی میں خواتین پورے وقار اور فخر کے ساتھ حجاب کرتی ہیں اور بہت سی جگہوں پر حجاب فیشن بھی ہے …حجاب مسلم خواتین کو عام خواتین سے الگ اور منفرد بناتا ہے…یہی وہ انفرادیت ہے جو معاشرے کے ان داغوں سے برداشت نہیں ہوتی …

    قرآن پاک میں بھی اللہ رب العزت کا فرمان ہے :

    "اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمان عورتوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں۔ یہ ان کے لئے موجب شناخت ہو گا تو ان کو کوئی ایذا نہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ عزوجل بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔”

    اس آیت میں پردے کے واضح احکامات موجود ہیں اور جب اللہ نے حکم دے دیا مسلم عورتوں کو کہ چادر سے خود کو چھپالیں تو اس کے حکم کے بعد کس کی بات اہمیت رکھتی ہے! 

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کہ جسکی بنیاد بے شمار جوانیوں، ان گنت آبروؤں اور عصمتوں پر رکھی گئ جہاں عصمت کیلیے جان دے کر عورتوں نے اپنے وطن کا قرض ادا کیا ،جس کے لیےشہیدوں کے خون کی ندیاں بہادی گئیں… جس ملک کی بنیاد ہی لا الہ الا اللہ ہے اس ملک میں کوئ بھی دین بیزار داغدار اور معاشرے پہ بوجھ اٹھ کر مسلمان عورت کے تحفظ کی چادر پر کیسے سوال اٹھا سکتا ہے؟ 

    جتنا یہ معاشرے کے داغ ایک عورت کے تحفظ پہ سوال اٹھائیں گے اتنا ہی یہ ہمیں مزید مضبوط کردیں گے!  

    ہم اگر استقامت سے حجاب لے سکتے ہیں تو اپنے حجاب کی حفاظت کرنا بھی بخوبی جانتے ہیں!

    حجاب ہمارا وقار ہے 

    حجاب ہمارا فرض ہے

    یاد رکھیے!  کہ ہر وہ عمل جس کی بدولت ہمارا معاشرہ اخلاقی بلندی کی طرف جاتا ہے انکو تکلیف دیتا ہے اسلیے انکے منہ سے نکلی گئ غلاظت انہی کے منہ پر دے ماریے اور جس پہ یہ انگلی اٹھائیں وہی کام پورے فخر کے ساتھ کیجیے کہ یہ ہمیشہ حق پر ہی انگلی اٹھاتے ہیں… 

    اور آگے بڑھیئے کہ ہمارے لیے تو ابھی کرنے کے بہت سے کام باقی ہیں جن پر انکو مزید جلنا ہے ✌️

  • صفائی نصف ایمان تحریر: صلاح الدین

    صفائی نصف ایمان تحریر: صلاح الدین

    اسلام وہ واحد مذہب ہے جو سب سے زیادہ صفائی پر توجہ دیتا ہے اس لیے اسلام میں
    صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے مسلمانوںکو صفائی کی اہمیت کا اندازہ اپنے مذہب
    سے ہو جاتا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے غیر مذہب صفائی کی اہمیت ہم سے
    زیادہ جانتے ہیں اس لیے یورپی ممالک ہمارے ملک کے مقابلے میں بہت زیادہ صاف
    ستھرے ہوتے ہیں۔

    صفائی انسان کو بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہے۔ صاف ستھرے گھر، گلیاں اور محلے
    انسان کے مہذب ہونے کی نشانیاں ہیںصفائی کا خیال رکھنے سے آپ کی فطرت کا پتہ
    چلتا ہے۔ ہمیں روزمرہ کی زندگی میں صفائی کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور اپنے
    بچوں کوبھی صفائی کی ترغیب دینی چاہیے۔

    ہماری روزمرہ کی جگہیں جن میں گھر، گلی، محلہ اور کام کاج کی جگہ یعنی دفاتر
    دکانوں وغیرہ میں صفائی کا خاص اہتمام کرنا چاہیے تاکہوہاں گندگی نہ پھیلے۔
    اپنے گھروں کے آس پاس بھی کچرا نہ جمع ہونے دیں۔ کیونکہ کچرے سے زہریلی گیسیں
    پیدا ہوتی ہیں جو کہ انسانیزندگی کے لیے نہایت مضر ہیں۔

    ہمارے گلی محلوں میں کچرے کے  ڈھیر لگے ہوتے ہیں لیکن ہم یہ کہہ کر ان جگہوں کی
     صفائی نہیں کرتے کہ یہ حکومت کا کام ہےوہی یہاں سے کچرا اٹھائیں گے لیکن سب
    کام حکومت پر ہی نہیں چھوڑنے چاہیے یہ گلیاں اور محلے بھی ہمارے ہیں ان کی
    صفائیکا خیال بھی ہم نے ہی رکھنا ہے جیسے اپنے زاتی گھر کی صفائی کا خیال رکھتے
     ہیں۔

    ہمیں صفائی کی اہمیت کو ٹھیک طرح سے سمجھنا ہوگا تبھی جاکر ہم ایک مہذب قوم
    کہلائیں گے۔ بہت سارے لوگ بس ا ڈوں اورمارکیٹوں میں پبلک ٹوائلٹ ہونے کے باوجود
     کھلے میں بیت الخلا استعمال کرتے ہیں جس سے تعفن پھیلتا ہے اور بہت ساری موذی
    امراض بھی اس وجہ پیدا ہوتے ہیں۔

    صفائی کا تعلق صرف آپ کے گھر بار سے ہی نہیں بلکہ آپ کے کھانے پینے کی اشیا اور
     برتنوں سے بھی ہے۔ اپنے گھروں کے کچنمیں استعمال ہونے والے برتنوں کو  ڈھک کر
    رکھیں انہیں روزانہ دھوئیں، پکی ہوئی چیزوں کو محفوظ طریقے سے  ڈھک کر رکھیں
    تاکہان پر مکھیاں وغیرہ نہ بیٹھ سکیں۔ پھلوں اور سبزیوں کو استعمال سے پہلے
    اچھی طرح دھو لیں۔

    جسم کی صفائی بہت ضروری ہے روزانہ نہائیں، کپڑے دھلے ہوۓ پہنیں، ناخنوں کو
    کاٹیں تاکہ ان کے نیچے جمی ہوئی میل سے آپمحفوظ رہ سکیں اگر آپ شیو کرتے ہیں تو
     ہفتے میں کم از کم تین بار شیو کریں اور اگر آپ نے داڑھی رکھی ہوئی ہے تو اس
    کو بھیہفتے میں ایک بار ضرور صحیح کروائیں

    اپنے اردگرد کے ماحول پر خاص نظر رکھیں کوئی بھی شخص گندگی پھیلاتا ہوا نظر آۓ
    تو اس کی سرزنش کریں۔ لوگوں میں صفائی کیاہمیت کو اجاگر کریں بچوں کو صفائی کا
    اہتمام کرنے کی خصوصی تلقین کریںبچوں کو صفائی شعور دینے میں والدین اور اساتذہ
     کا کردارخصوصی اہمیت کا حامل ہے۔تن کی صفائی کے ساتھ ساتھ اپنے من کی صفائی پر
     بھی توجہ دیں کیونکہ من کی صفائی بھی بہتاہمیت رکھتی ہے۔ جب تک ہم خود اپنے آپ
     کو تبدیل نہیں کریں گے تو یہ ملک کبھی بھی تبدیل نہیں ہوسکتا۔

    Twitter ID: @S_Tanoli07

  • استاد کی عظمت ,وہ واقع ہی استاد تھے تحریر:  فیصل رفیع

    استاد کی عظمت ,وہ واقع ہی استاد تھے تحریر: فیصل رفیع

    ‘معمارقوم’

    ایک وقت تھا جب لوگ بنا غرض لالچ کے دوسروں کو کچھ دینا چاہتے تھے .استاد ہونا بڑے اعزاز کی بات تھی. استاد اپنے تمام طلباء کو بنا مطلب کے سب کچھ دینا چاہتے تھے اور سب کو برابری کی سطح پر رکھتے تھے. طالب علم اپنے استاد کی بڑی قدر کیا کرتے تھے جب استاد کوئی کام کہتا تو وہ فورا کرتے چاہے اس کے گھر کا ہو یا کوئی باہر کا کام. استاد اور شاگرد کے درمیان محبت و احترام کا رشتہ تھا. استاد دلی طور پر دعائیں دیا کرتا تھا اپنے شاگردوں کو. اپنے شاگردوں کی خطاؤں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے معاف کر کے انہیں اصل حقیقت سے آشنا کیا کرتا تھا. ایسے اساتذہ صرف وہی لوگ تھے جو صرف اور صرف دنیا کو نیک اور خوبصورت بنانے اور اچھائی کا پیغام دینا چاہتے تھے. ان کا طرز عمل ایسا ہوتا تھا کہ ان کی قدر کرنے کو جی چاہتا تھا. ایک بات ان میں تھی ایسا لگتا تھا وہ صرف اور صرف دنیا کو اچھا سبق سکھانے اور خوبصورت درس دینے کے لیے آئے ہیں. یعنی ان کے ہر عمل سے لگتا تھا کہ وہ واقع ہی استاد ہیں وہ جس منصب پر فائز ہیں واقع ہی وہ اس کے حقدار ہیں. 

    مگر جیسے جیسے ہم مہذب(Civilized) ہوتے گئے ویسے ویسے Passion —《Profession نا رہا. اصول پسندی اور اچھائی غائب ہوگئی .حادثاتی طور پر وہ لوگ اس نیک پیشے میں آئے جن کا مقصد کوئی اور تھا. وہ بننا کچھ چاہتے تھے اور بن کچھ گئے . ہوا یوں پھر, نہ وہ جگہ جاکر اپنی ذمہ داری پوری کر سکے جس سے وہ جانا چاہتے تھے اور نہ ہی یہاں پر اپنا کردار بہتر انداز میں ادا کر پائے. آئیے ذرا سوچیں ایک آدمی جو ڈاکٹر بننا چاہتا تھا یا انجینئر بننا چاہتا تھا جس نے کبھی پڑھایا ہو ہی نہ اس کو پڑھانے کا موقع مل جائے سرکاری سطح پر تو اس کا اثر کس پر پڑے گا. کیا وہ اپنا کردار بہتر طریقے سے ادا کر پائے گا اس جگہ پر جس جگہ کو وہ جانتا ہی نہیں اس نے کیا کرنا ہے وہ اپنی اصل ذمہ داریوں سے آشنا ہی نہیں ہو پائے گا .کیوں نہ کے جس نے پولیس افسر بننا تھا اسے پڑھانے کا کام دے دیا جائے تو کیا وہ اس ذمہ داری کو سمجھ سکے گا جو ایک باقاعدہ پیشہ ور استاد سمجھتا ہے.

    ” مشہور شاعر انور مسعود اپنے ایک استاد سید وزیر الحسن عابدی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں ایسے استاد صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں. وہ ایسے پروفیسر تھے کہ کسی سٹوڈنٹ کو کلاس میں آنے نہیں دیتے تھے جس کے پاس کوئی سوال نہیں ہوتا تھا. وہ کہتے تھے علم سوال سے پیدا ہوتا ہے.” 

    ہم دیکھتے ہیں یونیورسٹیوں میں کالجوں میں سکولوں میں طالبعلموں کے جائز احساسات کو دبایا جاتا ہے. ان سے جائز سوال پوچھنے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے. دیکھنے میں آیا ہے پروفیسر کلاس میں کہہ رہا تھا کہ سمجھ آئے یا نہ آئے چپ کر کے بیٹھنا ہے کوئی سوال نہیں پوچھنا. بعض دفعہ تو جائز سوال پوچھنے پر اساتذہ برہم ہو جاتے ہیں. اس طرح کے اور بھی بہت سے کام دیکھنے میں آئے جو مختلف سطحوں پر ہوتے ہیں.

    کیا ایسی شخصیت کے مالک استاد واقع ہی پڑھانا چاہتے ہیں یا جان چھڑانا چاہتے ہیں. کیا وہ واقع ہی آنے والی نسلوں کو کچھ دے کر جانا چاہتے ہیں. میں یہ بھی ذکر یہاں پر کرنا چاہوں گا کہ ایک یونیورسٹی کے استاد کے ہاتھ میں سب کچھ ہوتا ہے وہ چاہے تو طالبعلم کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے اس لیے طالبعلم خوف میں رہتا ہے کہ استاد ناراض نہ ہوجائے اور وہ جائز سوال پوچھنے سے بھی کتراتے ہیں ایک اور مسئلہ یہاں پر ہے سیشنل مارکس کا جس کے پیچھے طالبعلم نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں ایک ان پر سمسٹر سسٹم کا بوجھ ہوتا ہے. ہم مانتے ہیں ہمارا تعلیمی نظام درست سمت میں نہیں ہے مگر کیا اس بات سے انجان بن جائیں گے اور اساتذہ انہیں جیسا طرز عمل اختیار رکھیں گے.

    طالب علم تو نہ سمجھ اور نادان ہوتے ہیں ان کے پاس استاد جتنا علم نہیں ہوتا وہ تو اپنے استادوں سے سیکھتے ہیں اور استادوں کو ایسا ہونا چاہیے کہ ان کے ہر عمل سے سیکھا جائے.

    کچھ ماہر اساتذہ کے انٹرویوز لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ ہوا وہ استاد جو پڑھاتے وقت سوال پوچھنے پر برہم ہوجاتے ہیں یا ان کے رویے میں تلخی ہوتی ہے وہ مجبوراً وہ کام کر رہے ہوتے ہیں اور وہ تجربہ کار نہیں ہوتے. وہ اس جگہ بالکل نئے ہوتے ہیں . انہیں سمجھ نہیں آرہی ہوتی کہ وہ کیا کریں یہاں میں اپنے استاد کا جملہ بولنا چاہوں گا کچھ لوگ تھانے دار بننا چاہتے تھے. مگر جب وہ نہ بن پائے تو انہیں پڑھانے پر لگا دیا جاتا ہے اور پھر وہ اپنی تھانے داری دوسروں کے مستقبل سے خوب جم کر کرتے ہیں

    تو خدارا یہ نوجوان نسل یہ طالبعلم ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں. اگر آپ ان کے سوالوں کی گردنیں دبائیں گے تو یاد رکھیں آنے والی نسلیں جاہل پیدا ہوگیں. ایک پودا جس کو کھلی فضا میں بڑھنا ہے چمن کی زینت بننا ہے ہم کیوں زبردستی اسے ڈھکن دے کر بند کرنا چاہتے ہیں. اللہ تعالی نے ہر ایک کو آزاد پیدا کیا ہے اور ہمیں آزاد ہی رہنے دینا چاہیے .

    [{کالم; }]

    Twitter @FaisalRafiSays 

    FaisalRafiSays@gmail.com

  • ہمارا تعليمی نظام تحریر : ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    ہمارا تعليمی نظام تحریر : ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    ہمارا تعليمی نظام

    تعلیم کی حیثیت کیسی بھی ملک و معاشرے کے لیے ایک مینارہ نور کی سی ہے جو قوم کی رہنمائی کرتی اور اسے اس کے نصب العین کے حصول کی جانب گامزن رکھتی ہے ۔ تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے

    تعیلمی نظام کو کسی بھی ملک کی ترقیاتی ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ تعلیم حاصل کرنا ہر انسان کا حق ہے اور یہ حق  کوئی کیسی انسان سے چھین نہیں سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں

      تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے  اس بات میں کوٸی شک نہیں کہ جن قوموں نے تعیلم کی طرف توجہ دی انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کی معراج پالی امریکہ چین جاپان برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک نے اسی لاٸحہ عمل کو اپنا کر اپنے نصب العین کو پایا جو قومیں تعلیم کو ثانوی حیثیت دیتی ہیں وہ کبھی اپنے مقصد کو نہیں پاسکتیں کیونکہ جب پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی جاٸے تو دیوار ثریا آسمان تک پہنچ کر بھی ٹیڑھی ہی رہتے ہے

    خشتِ اول چوں نہد معمار کج
    تا ثریا می رود دیوار کج

    آج تعلیم کی صورت ِحال یہ ہے کہ سب کو تعلیم دستیاب نہیں ہے۔اور پاکستان میں معیارِتعلیم بھی بہت کم ہے۔تعلیم ایسی ہونی چاہیے جو معاشرے کے سبھی طبقات  چاہے وہ امیر ہو یا غریب کے لئے یکساں دستیاب ہو۔ قیام پاکستان کے ابتدائی چند سالوں سے لے کرآج تک کی حالت کا موازنہ کیا جاٸے تو فرق صاف ظاہر ہے ۔ہمارے ملک میں تعلیم کی کشتی گزشتہ پانچ دہاٸیوں سے اب تک منزل سے بےگانہ تلاطم خیز موجوں کے ستم سہہ رہی ہے

    افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ملک نظام تعلیم کا رخ پھیلاٶ کی طرف زیادہ ہے لیکن معیار پر توجہ نہ  ہونے کے باعث یہ پستی کی جانب گامزن ہے نتيجاً آج ہمارا نظام تعلیم نہ صرف ہمارے مقاصد کا درست طور پر ترجمان نہیں رہا بلکہ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ ملکی ترقی کی ضمانت دینے سے بھی قاصر دکھاٸی دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے فروغ کے باوجود آج بھی ہم اپنی حالت میں کوٸی  خاطر خواہ تبدیلی نہیں لاسکے

    اگرچہ تحریک انصاف حکومت نے اپنے طور سے تعليم کو اولی ترجيحات میں قرار دیا اور اصلاح تعیلم کے لیے مفید پالیسیاں مرتب کیں جس کے نتيجہ میں تمام تعیلمی ادارے کے نصاب کو یکساں کردیا گیا اور امید ہے کہ تعلیمی نظام میں بہتری آٸے گی اور تعلیم کے فروغ کے حوالے سے البتہ یہ کوشش کامیاب رہی گی  اور اگر ۔ نظامِ تعلیم پر مزید توجہ دی جاٸیں تو اس مسلہ کا حل نکل سکتا ہے کیونکہ جس ملک میں تعلیم نہ ہو وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا ۔

    اگر ہمارا نظام تعلیم  بھی دنیا کے ترقی یافتہ اور جدید ترین نظام کے متوازی کھڑا ہوجاتا ہے تو ملک پاکستان تعلیمی میدان میں کامیابی کا معرکہ سر کر لیا گا۔

    آخر اتنا کہنا چاہوں گا کہ

    تجھے کتابوں نے کیا کور ذوق اتنا
    صبا سے بھی نہ ملا تجھے بوٸے  گل کا سراغ

    تحریر : ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی
    @HamxaSiddiqi

  • میرے آقاﷺ کی عبادت  تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    میرے آقاﷺ کی عبادت تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    ‏(

    میرے اور آپ کے آقاﷺ مغفور تھے،مرحوم تھے،مقدس تھے مطہر تھے،مقرب ومحبوب تھے،محفوظ تھے،معصوم تھےآپ جنتی تھے بلکہ آپﷺ کو دنیا ہی میں بتادیا گیا تھا کہ بے شمار گہنگاروں کو آپ کیوجہ سے جنت میں ٹھکانہ ملے گا،آپ کو مقام محمود عطا کیا جائے گا،آپ حطاکاروں کی سفارش کریں گے،قیامت کے دن لوگ پیاسے ہونگے اور اپ اپنی امت کو حوض کوثر سے جام بھر بھر کر پلائیں گے۰

    لیکن ان تمام بشارتوں کے باوجود آپ بے انتہاعبادت فرماتے تھے۰

    آپﷺ کا قلب مبارک اور آپ کی زبان مبارک ہر لمحہ اللہ کی یاد میں مصروف رہے تھے مگر اپ صرف قلبی اور لسانی عبادت پر اکتفا نہیں فرماتے تھے بلکہ جسمانی عبادات بھی کرتے تھے۰

    ہمارے دور کے جعلی درویش اور بناسپتی پیر تو کہتے ہیں کہ جناب ہم دل ہی دل میں عبادت کرلیتے ہیں۰

    گویا یہ بدبخت روٹیاں منہ سے کھاتے ہیں ،قورمہ منہ سے کھاتے ہیں،بریانی کا ستیاناس منہ سے کرتے ہیں،تکے اور کباب کی ایسی تیسی منہ سے کرتے ہیں،حلیم اورکچھڑے کو منہ ہی سے واصل شکم کرتے ہیں،دودھ منہ سے پیتے ہیں،شربت منہ سے پیتے ہیں۰

    لیکن عبادت دل ہی سے کرتے ہیں۰ارے لنڈے کی مخلوق!اگر عبادت دل سے ہوسکتی ہے تو کیا کھانا پینا دل سے نہیں ہوسکتا؟

    ذرا کھانا پینا دل سے تو کرو سہی،دیکھنا چند ہی دنوں میں پیٹ کاسائز کتنا کم ہوجاتا ہے اور یہ پھیلی ہوئی توند کیسے نیچے أتی ہے۰

    اچھا ہے حضرت سمارٹ ہوجائیں گی۰

    یہ تو لنڈے کے مال کا حال ہے مگر وہ جو پیروں کا پیر تھا وہ جو مرشد حق تھا وہ جو نبیوں کا امام تھا وہ جو خاتم النبیین تھا اس کی عبادت کا یہ حال تھا کہ اتنی عبادت فرماتے کہ دیکھنے والوں کو ترس آنے لگتا ۰

    تہجد کی نماز کی فرضیت عام مسلمانوں سے فوت ہوگئ تھی مگر اپﷺ عمر بھر تہجد ادا فرماتے رہے اور اس طرح ادا فرماتے کہ حضرت عائشہ رض عرض کرتیں اللہ تعالی نے تو اپ کو معاف فرمادیا ہے پھرأپ اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں آپ فرماتے”افلا اکون عبدا شکورا”کیا میں اللہ کا شکر گذار بندہ نہ بنوں؟

    نبوت کے آغاز ہی سے آپ نماز پڑھتے تھے ،کفار کی موجودگی میں عین حرم میں جاکر سب کے سامنے نماز پڑھتے تھے،کئ دفعہ نمازکی حالت میں دشمنوں نے آپ پر حملہ کیا مگر پھر بھی أپ نماز سے باز نہ آئے۰

    حدیہ کہ جنگ کی حالت میں بھی نمازنہ چھوڑتے سامنے خونخوار دشمن ہوتا،تیر اور خنجر چل رہے ہوتے،لوگوں کو جان کے لالے پڑھے ہوتے ادھر آپﷺ اللہ کے حضور سجدے میں جھکے ہوتے تھے۰

    تمام عمر میں اپ کی کوئی نماز اپنے وقت سے نہیں ہٹی اور نہ دو وقتوں کے علاوہ کھبی اپ کی کوئی نماز قضا ہوئی ،ایک تو غزوہ خندق میں کافروں نے اپ کو عصر کی نماز کا موقع نہیں دیا اور دوسری دفعہ یہ ہوا کہ ایک ۔ غزوہ کی سفر میں رات بھر چل کر صبح تمام لوگ سوگئے اورکسی کی انکھ نہ کھلی تو اپ نماز قضہ ادا کی۰

     اس بھی بڑھ دیکھئے کہ مرض الموت میں شدت کا بخار تھا۰تکلیف بہت زیادہ تھی لیکن اس حالت میں بھی نماز تو نماز آپ نے جماعت کو ترک کرنا بھی گوارا نہیں کیا او دو صحابیوں کے سہارے اس حالت میں مسجد تشریف لائے کہ قدم مبارک زمیں پر گھسٹ رہے تھے۰

    یہ تو اپ کی نماز کا حالت تھا۰روزوں کا حال بھی نماز سے مختلف نہ تھا اپ بکثڑت سے روزے رکھے تھے،کوئی ہفتہ اور کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہیں جاتا تھا ۰حضرت عائشہ رض کہتی ہے”جب اپ روزے رکھنے پر اتے تو معلوم ہوتا تھا کہ اب کھبی افطار نہیں کریں گے”۰

    اپ مسلمانوں کو دن بھر سے زیادہ روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے مگر خود اپ کا یہ حال تھا کہ کبھی کبھی بغیر کچھ کھائے پئے مسلسل دودو دن اور تین تین دن روزے رکھتے تھے۰

    بعض صحابہ نے بھی دودو دن رکھنا چاہا تو اپ نے فرمایا :(تم میں سے کون میرے مانند ہے،مجھ کو تو میرا اقا کھلاتا پلاتا ہے)۰

    رمضان کے علاوہ اپ کا شعبان بھی پورے کا پورے روزوں میں گزرتا تھا،ہر مہینے ایام بیض کے روزے رکھتے تھے۰

    ہر ہفتے پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے،

    عاشورا محرم اور شوال کے چھ روزے رکھتے تھے۰

    روزوں کے علاوہ زکوۃ اورخیرات میں بھی پیش پیش تھے۰

    حضرت ابن عباس رض کہتے ہیں کہ اپ تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے ۰حضرت جابر رض فرماتے ہیں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نبی کریمﷺ سے کسی چیز کا سوال کیا گیا ہو اور اپ نے لا(نہیں)فرمایا ہو۰

    حضرت ابوھریرہ رض کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے عام اعلان فرما رکھا تھا۰جو مسلمان قرضہ چھوڑ کر مرے گا میں اسے ادا کروں گا اور جو مسلمان وراثت چھوڑ کر مرےگا اسے اس کے وارث سنبھالیں گے۰

    اپ جانتے ہیں کہ عبادت تین قسم کی ہے۰

    لسانی عبادت،مالی عبادت اور بدنی عبادت ۰یہ تینوں قسم کی عبادت حضور اکرمﷺ کی سیرت میں ہمیں اپنے کمال پر دکھائی دیتی ہے۰اللہ تعالی ہمیں اپنے آقاﷺ کی اتباع نصیب فرمائے۰

    وما علینا الا البلاغ

    ‎@Tareef1234

  • دعا کی فضیلت تحریر: فرح بیگم

    دعا کی فضیلت تحریر: فرح بیگم


    دعا عربی زبان سے نکلا ہے ۔جس کے مغی "تو التجا یا تو پکار ” کے ہیں ۔ لیکن مزہبی lعتبار سی اس سے مراد اللّه سی التجا کرنا ہے ،یا مانگنا ہے ۔
    اللّه تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ :
    "میں اپنے بندوں سے بے حد قریب ہوں اور انکی ہر پکار سننے کو تیار ہوں ۔”
    اللّه تعالیٰ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو وہ ہار بات کا علم رکھتے ہیں ۔اللّه تعالیٰ کو اخلاص کے ساتھ پکارو ۔ وہ تمہاری پکار کا جواب بھی اخلاص سے دیں گے ۔آپنے رب سے گڑگڑاتے رہو اور ان سے چیکے چپکے دعا مانگواللہ تعالیٰ سے رحمت کی امید رکھتے رہو یقیناً اللّه تعالیٰ اپنی رحمت سے ہر ایک کو نوازتا ہے ۔جب دعا مانگو تو اللہ تعالیٰ کو ان کے نام سی پکارو ۔ اللہ تعالیٰ کو یا تو اللّه کہ کر یا رحمن کہ کر پکارو ۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے روزگار کی دعا مانگتے رہو اسکی عبادت کرتے رہو اللہ تعالیٰ تمہارے رزق کو بڑھا دے گا ۔اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے رہو مسلم ہو یا غیر مسلم ان کے سامنے مانگنے سے مت شرماؤ اپنے رب کی تعریف کرتے رہو اسکی عبادت کرتے رہو بیشک کافر برا مانیں تم دعا مانگنا نہ روکو ۔ اللہ تعالیٰ زندہ ہیں اور وہی لا شریک ہے ، تواللہ تعالیٰ سے مناگتے رہو ۔دعا عین عبادت ہے ۔حضرت محمّد نے فرمایا :
    "جو اللہ تعالیٰ سے مانگنا چھوڑ دیتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جاتا ہے ”
    اللہ تعالیٰ کو دعا سے زیادہ کوئی عزیز نہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "اے آدم کے بیٹے ، جب تک تو مجھ سے دعا کرتا رہے گا ،مجھ سے امید رکھے گا میں تجھے معاف کر دوں گا بیشک تم سی کچھ بھی سر زد ہو ۔ اگر تمھارے گناہ آسمان تک بھی ہو اور زمین جتنے گہرے ہوں میں تمھارے سارے گناہ مٹا دوں گا ۔اگر تم مجھ سی بخشش مانگو گے تو میں تمھے بخش دونگا ۔اللہ تعالیٰ کہتے ہیں اگر تمہارے گناہوں سے پوری زمین بھر جائے لیکن تمھارے دامن میں میرے ساتھ شرک کا داغ نہ ہو تو میں تمھارے سب گناہ اتنی تیزی سے ختم کرونگا جیسے تم لے کر اوگے ۔
    حضرت محمّد ص فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، "اے میرے بندوں تم سب بھوکے ہو سوۓ اس کے جسے میں نے کھانا كهاليا ، تم بس مجھ سے ہی کھانا مانگو میں تمھیں کھیلونگا ،اے میرے بندوں میں تم سب ننگے ہو سوۓ اس کے جسے میں پہہنوں، تو تم مجھ سے ہی لباس طلب کرو میں تمھیں لباس دوں گا ۔ اے میرے بندوں تم مجھ سی سوال کرو میں تمہارے تمام سوالوں کا جواب دونگا ۔” میں تمھارے خزانے بھر دونگا تم مجھ سی مانگو ۔ میں تمھارے سارے راستے کھول دونگا تم میری طرف آ کر تو دیکھو ۔ میں اپنے بندے کے مطابق ہی اس سی معاملہ کرتا ہوں ۔اللہ کھتا ہے جب میرا بندا مجھے پکارتا ہے تو میں اسکے ساتھ ہوتا ہوں ۔اگر میرا بندا مجھے اپنی نفس میں یاد کرے میں اسکو اپنی نفس میں یاد کرتا ہوں۔ اگر میرا بندا مجھے کسی مجلس میں یاد کرے میں بھی اسکو اچھی مجلس میں یاد کرتا ہوں۔ اگر میرا بندا میری طرف ایک ہاتھ بڑھاتا ہے تو میں اسکی طرف دو ہاتھ بڑھاتا ہوں ۔اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اسکی طرف دوڑ کر آتا ہوں ۔
    دعا سے انسان کی تقدیر بدل جاتی ہے ۔حضرت محمّد ص نے فرمایا "تقدیر الہی کو دعا کے سوا کوئی چیز بدل نہیں سکتی ۔ اور نیکی کے سوا کوئی چیز عمر نہیں بڑھا سکتی ۔اس لیے دعا کرتے رہا کرو کیوں کہ دعا ہر انسان مرد اور عورت پر فرض ہے ۔ اور ہر نماز کے بعد دعا مانگنا لازم اور ضروری ہے ۔

    Twitter ID: ‎@iam_farha

  • ڈنکے کی چوٹ پر تحریر:احمد

    ڈنکے کی چوٹ پر تحریر:احمد

    جیسے میں اپنی ذاتی زندگی عزت و وقار کے ساتھ سر اٹھا کر گزارنا پسند کرتا ہوں ویسے ہی میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے ملک کی قیادت اور میری قوم بھی عزت و وقار کے ساتھ سر اٹھا کر زندگی گزارے

    اللہ تعالی بھی مومنوں کو سر اٹھا کر زندگی گزارنے کا حکم دیتا ہے اور یہ واضح طور پر ارشاد فرماتا ہے کہ اگر تمہارے ساتھ کوئی زیادتی ہو تو تم بھی وہی زیادتی کرو یعنی اگر کوئی تمہاری آنکھ نکالے تو تم بھی آنکھ نکالو اگر کوئی کان کاٹے تو تم بھی کان کاٹو

    یہی وہ اصول ہے میرا جس پر میں زندگی گزارتا ہوں اور آج یہی مشورہ میں حکومت پاکستان کو دینا چاہتا ہوں کہ FATF کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اسے جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے اس کے ہر حکم کو مسترد کر دو

    پاکستان کے پاس بے شمار آپشنز موجود ہیں پاکستان کو چاہیے کہ ڈنکے کی چوٹ پر اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی دنیا کے ضرورت مند ممالک کو فروخت کرکے امداد کی بجائے اپنی معیشت کو اپنے پاؤں پر خود کھڑا کرے ایران کے ساتھ کھل کر تجارت کرے ایران کے ایٹمی پروگرام کو مزید آگے بڑھانے کے لئے ان کی مدد کرے ترکی اور شمالی کوریا کو اپنی بہترین میزائل ٹیکنالوجی فراہم کرے

    افغانستان میں طالبان کی ڈنکے کی چوٹ پر حمایت کرے

    اللہ کے شیروں یعنی حافظ صاحب جیسے مجاہدین کو FATF کے جال سے نکال کر کشمیر کے لیے تیار کرے چین کے ذریعے انڈیا کو لداخ میں انگیج کر کے مقبوضہ کشمیر میں سرجیکل سٹرائیک کرے

    سینٹرل ایشیا کے ممالک یعنی روس آذربائیجان تاجکستان وغیرہ سے بڑے بڑے تجارتی معاہدات کر کے امریکی ایکسپورٹ پر سے انحصار ختم کیا جائے

    اور ڈنکے کی چوٹ پر انٹرنیشنل فورم پر Absolutely Not 

    کا بیانیہ اپنا کر اس راستے پر ثابت قدم رہو

    اگر میری ان تجاویز میں سے کوئی ایک بھی تجویز پر ریاست پاکستان اگر عمل کرلے تو پوری دنیا اپنی آنکھوں سے یہ دیکھتے ہوئے تسلیم کرے گی کہ اس روئے زمین پر پاکستان کا کردار کس قدر اہمیت کا حامل ہے

    ایران اور شمالی کوریا کو امریکہ نے ایف اے ٹی ایف کے ذریعے بلیک لسٹ میں ڈال رکھا ہے

    ذرا بتاؤ مجھے کیا شمالی کوریا اور ایران صفحہ ہستی سے مٹ گئے؟؟ بلکل بھی نہیں وہ اب بھی خود مختار ملک ہے 

    بلکل بھی نہیں یہ ممالک آج بھی اپنی خود مختاری اپنی عزت و وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سر اٹھا کر دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں، اِن دو ممالک پر کتنی مشکل پابندی عائد ہوئے لیکن غلامی نہیں کی، مجھے بتاؤ امریکہ اور ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ نے ایران اور شمالی کوریا کا کیا اکھاڑ لیا

    اور اگر تم امریکی غلامی اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ بلیک لسٹ جیسے ظالمانہ قوانین کے خوف سے اپنی خود مختاری اپنی عزت و وقار پر سمجھوتے کرتے رہو گے تو پھر ساری زندگی تمہاری حالت نہیں بدل سکتی یہاں تک کہ تمہاری موت ہی واقع ہو جائے. (تحریر احمد خان) 

    @iamAhmadokz

  • کمر توڑ مہنگائی   تحریر: احسان الحق

    کمر توڑ مہنگائی تحریر: احسان الحق

    مہنگائی کے حوالے سے آج کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں حسب روایت اور حسب توقع بڑھا دی ہیں. پیٹرول پانچ روپے اضافے کے ساتھ 123.30 کا ملے گا، ڈیزل پانچ روپے اور ایک پیسے کے اضافے کے ساتھ 120.04 میں دستیاب ہوگا. مٹی کا تیل پانچ روپے اور چھیالیس پیسے اضافے کے ساتھ 92.26 میں اور لائٹ ڈیزل آئل پانچ روپے اور بانوے پیسے اضافے کے ساتھ 90.69 میں فروخت ہوگا. مہنگائی، معاشی اور اقتصادی حوالے سے موجودہ حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ متعدد کام یا ان کے اعدادوشمار یا نرخ ملکی تاریخ میں پہلی بار اور بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں. ان میں سے چند ایسے کام یا کارنامے ہیں جو یقیناً ملک اور ملکی معیشت کے لئے بہت اچھے ہیں. مہنگائی کے حوالے سے بیشتر ایسے معاملات بھی ہیں جو قوم و ملک اور بالخصوص غریب عوام کی آئے روز کمر توڑ رہے ہیں. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل جو کہ ہمیشہ قیمتوں کے اضافے کی صورت میں ہوتا ہے، موجودہ حکومت نے ماہوار سے تبدیل کر کے پندرہ دن کر دیا ہے. پہلے ہر ماہ کے آخر میں نئی قیمتوں کا تعین کیا جاتا تھا مگر اس حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار دورانیہ تئیس دن سے کم کرکے پندرہ دن کر دیا ہے.

    شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا گزرا ہو جس ہفتے کسی چیز کی قیمت میں اضافہ نہ کیا گیا ہو. روز مرہ استعمال کرنے کی اشیاء اور اشیائے خوردونوش کے نرخ تو باقاعدگی اور تسلسل سے بڑھائے جا رہے ہیں. بجلی کے نرخ بھی ہر دوسرے مہینے بڑھائے جا رہے ہیں. حکومت کا موقف ہے کہ سابقہ حکومت کی ناکام اور معیشت دشمن پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی ہو رہی ہے. آئی ایم ایف کی بھاری اور کڑی شرائط کے بعد ہمیں قرض ملا، ان شرائط پر عملدرآمد کیلئے قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں. مختلف نئے محصولات کا لگانا، پہلے سے موجود محصولات میں اضافہ کرنا اور بجلی کے نرخ بڑھانا یہ وہ شرائط ہیں جن پر عملدرآمد کئیے بغیر قرض کی رقم ملنا مشکل ہے. یہاں تک مہنگائی یا بجلی مہنگی ہونے کی سمجھ آتی ہے. پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی کسی حد تک سمجھ میں آتا ہے کیوں کہ بھاری بجٹ خرچ کر کے پیٹرولیم مصنوعات باہر سے خریدنی پڑتی ہیں. مگر دالیں، گھی، چینی، سبزیاں اور باقی روز مرہ زندگی کے استعمال کی چیزوں میں مسلسل اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے. یہ وہ اشیاء ہیں جو مقامی ہیں. پاکستان میں ہی اگائی یا بنائی جاتی ہیں.

    تین سال پہلے کی قیمتیں اور موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے چیدہ چیدہ اشیاء کی قیمتوں کا موازنہ کر لیتے ہیں. یاد رہے کہ ذیل میں دئے گئے اعدادوشمار اور اشیاء کی قیمتیں علاقوں کے لحاظ سے اوپر نیچے ہو سکتی ہے اور یہ اعدادوشمار سرکاری نہیں. لہذا راقم ان اعدادوشمار اور نرخ ناموں سے بری الذمہ ہے.

     تین سال میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 700 سے 1300 کا ہو چکا ہے. مارچ اپریل 2018 میں 55 روپے فی کلو چینی میں نے خود خریدی تھی. چینی 55 سے 110 یا 115 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے. 135 روپے فی کلو والا گھی اب 335 سے بھی اوپر مل رہا ہے. دال چنا 120 سے 170 کی ہو گئی ہے. دال ماش 200 سے 260، باجرہ 50 سے 100، بڑا چاول 40 سے 80، سیلہ چاول 90 سے 160، لوبیہ 150 سے 220 اور دودھ 80 روپے فی لیٹر سے 130 تک کا ہو چکا ہے. پیٹرولیم مصنوعات کا تعلق بین الاقوامی مارکیٹ سے ہے. اس لئے ان کی قیمتوں پر زیادہ بات نہیں کرتے.  سونے کا نرخ بھی 60 ہزار سے ایک لاکھ پندرہ ہزار سے اوپر ہے. ڈالر بھی اوپر کی طرف جا رہا ہے اور ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے. موٹر ویز پر 100 روپے کا ٹیکس 350 پر، ڈاک خانے کا 20 والا پارسل 80 پر پہنچ چکا ہے. بجلی کی قیمتوں نے غریب عوام کو تقریباً آدھ موا کر دیا ہے. تین سال پہلے بجلی کا یونٹ 8 روپے تھا اب 20 سے بھی اوپر کا ہے. رواں ہفتے نیپرا نے ایک بار پھر 1.38 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا. گیس کے سلینڈر پر بھی تین سو فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے. دواؤں کی قیمتیں بھی دوگنا سے تین گنا بڑھ چکی ہیں.

    امریکی ڈالر 13 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے. ڈالر بڑھنے سے ملکی قرض پر 1800 ارب کا اضافہ ہوا ہے. یہ بھی موجودہ حکومت میں ہوا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار گرمیوں میں گیس کا بحران پیدا ہوا. پچھلے ہفتے حکومت پاکستان نے دو لاکھ ٹن چینی بیرون ملک سے خریدنے کا معاہدہ کیا. اطلاعات کے مطابق حکومت نے 84 روپے فی کلو کے حساب سے مقامی چینی خریدنے کی بجائے غیر ملکی چینی خریدنے کو ترجیح دی جو فی کلو 123 روپے میں پڑے گی. مطلب تقریباً 38 روپے فی کلو مہنگی چینی خریدی جا رہی ہے. اب اس فیصلے یا مجبوری کے پیچھے کیا عوامل اور محرکات ہیں، ان کی تفصیل میرے پاس فی الوقت دستیاب نہیں.

    موجودہ حکومت کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ کچھ کام ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوئے اور قیمتیں ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی ہیں. ملکی تاریخ میں پہلی ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچا ہوا ہے، جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ ڈالر بڑھنے سے 1800 ارب کا ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا. ایل این جی کی قیمتیں بھی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی ہیں اور حیران کن اور ناقابل یقین طور پر ملکی تاریخ میں پہلی بار قوم نے گرمیوں میں گیس بحران کا سامنا بھی کیا. بجلی کے بل بھی پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچے ہوئے ہیں، آٹے کا نرخ بھی ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر ہے، آٹے کا 20 کلو والا تھیلا تقریباً 1200 سے 1300 کے درمیان مل رہا ہے. غالباً چینی کی قیمت بھی ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر ہے.

    دوسری طرف بہتری اور اچھائی کے حوالے سے کچھ ایسے کام بھی ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین سطح پر ہیں جیسا کہ ایکسپورٹس بلند ترین سطح پر ہیں، کسانوں کو ان کی محنت کے بدلے گندم کا نرخ بلند ترین سطح پر دیا جا رہا ہے، گنے کی قیمتیں بھی بلند ترین سطح پر ہیں، کپاس کی قیمت بھی بلند ترین سطح پر ہے. غیرملکی زرمبادلہ بھی بلند ترین سطح پر ہے، سمندر پار پاکستانیوں نے ملکی تاریخ کا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے قومی خزانے میں تاریخ کا سب سے زیادہ زرمبادلہ بھیجا. گزشتہ پچاس سالوں میں ڈیموں کی تعمیر بھی بلند ترین سطح پر ہے مطلب 1967 کے بعد ملک میں قابل ذکر ڈیموں پر کام نہیں کیا گیا. موجودہ حکومت نے متعدد بڑے ڈیموں کی تعمیر کا کام شروع کیا ہے. سی پیک اور دوسرے شعبوں میں کثیر غیرملکی سرمایہ کاری ہو رہی ہے.

    آئندہ عام انتخابات میں موجودہ حکومت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی چیز مہنگائی ہوگی. عام پاکستانی کو س پیک، ملکی قرضوں، گرے لسٹ، خارجہ پالیسی، غیر ملکی قرضے کی واپسی، ایکسپورٹس میں اضافہ اور غیرملکی سرمایہ کاری کا کیا پتہ؟ غریب آدمی کے لئے گھی، دالیں، پیٹرول، ادویات، جیسی بنیادی چیزیں ہی سب کچھ ہیں. اگر ان چیزوں کی قیمتوں اور مجموعی طور پر مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو تحریک انصاف کو آئندہ عام انتخابات میں جھٹکا لگ سکتا ہے.

    @mian_ihsaan