Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • معاہدہِ لوزان اور حجازِ مقدس کی میزبانی تحریر: محمد اسعد لعل

    معاہدہِ لوزان اور حجازِ مقدس کی میزبانی تحریر: محمد اسعد لعل

    ارطغرل غازی کے بیٹے عثمان نے خلافتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ بڑے تگڑے اور پکے مسلمان تھے۔ انہوں نے سوا چھ سو سال تک اپنے اصولوں کے مطابق حکمرانی کی اور خلافت چلائی۔ مسلمانوں اور اسلام کا جھنڈا انہوں نے ہمیشہ بلند رکھا۔ جنگیں لڑ کر بہت سارے علاقے فتح کیے اور اسلام کو بے شمار علاقوں تک پھیلایا۔ لیکن اُس کے بعد پھر زوال آیا اور سو سال کے بعد اب وہ معاہدہ ختم ہونے جا رہا ہے جس کو معاہدہِ لوزان کہتے ہیں۔

    جب عثمانیہ خلافت کا خاتمہ ہوتا ہے تو برطانیہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ترکی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی حدود کے اندر ہی بند ہو جائے، اور کچھ شرائط رکھتا ہے جن کو آج بھی فرانس کے اندر ایک مخصوص جگہ پر لکھ کر سنبھال کے رکھا ہوا ہے۔

    اور یوں ترکی کو سو سال کے معاہدے میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ جن شرائط پر ہوا وہ شرائط یہ ہیں۔۔۔

    خلافتِ عثمانیہ ختم کر دی جائے گی۔ عثمانیہ خلافت جب ختم ہوئی تو اس کے جانشینوں کو قتل کیا گیا، انہیں غیب کیا گیا، ان کو جلاوطن کیا گیا اور ان کے اثاثے ضبط کر لیے گئے۔ یہ اثاثے جب ضبط کیے گئے تو تین براعظموں کے اندر بے شمار مال و دولت تھی، بہت ساری جائیدادیں تھیں جو ساری برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس چلی گئیں۔

    اس کے بعد ترکی کو ایک سیکولر ریاست بنا دیا گیا۔ اُس میں سے اسلام کو ختم کر دیا اور خلافت کے اوپر پابندی لگا دی گئی۔

    اس کے بعد ایک اور پابندی یہ لگائی گئی کہ ترکی پیٹرول نہیں نکال سکتا۔ یعنی ترکی نہ تو اپنے ملک سے معدنیات نکال سکتا ہے اور نہ ہی اپنے ملک سے باہر کہیں سے معدنیات نکال سکتا ہے۔ یہ بہت بڑی زیادتی تھی۔ کیوں کہ ترکی کی زمین کے اندر تیل موجود ہے، اس کے باوجود وہ دوسرے ممالک سے تیل خریدنے پر مجبور ہے۔

    ترکی کے پاس ایک باسفورس سمندر ہے اور ساحل سمندر ایک بہت ہی زبردست بندرگاہ ہے، اُس کو بین الاقوامی قرار دے دیا گیا۔ یعنی کوئی بھی یہاں سے اپنی مرضی سے آ جا سکتا ہے، اور ترکی کسی سے بھی ٹیکس نہیں لے سکتا۔ یہ بہت بڑی پابندی تھی جو ترکی پر لگا دی گئی۔

    نہر سوئز کو دنیا بھر کی تجارت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، اسی طرح باسفورس تجارت کے حوالے سے دوسری سب سے اہم جگہ ہے۔ اور آنے والے وقت میں یہ پہلے نمبر پر آ جائے گی۔

    اگر آپ نے کبھی عمرہ کیا ہو یا حج کیا ہو تو آپ ترکوں کو وہاں پر عمرہ یا حج پر آتے ہوۓ دیکھیں تو ان کے ہاتھ میں ایک نقشہ ہوتا ہے۔ کیوں کے انہوں نے بہت عرصے تک حجاز مقدس پر اپنی ذمہ داری ادا کی ہے۔ مدینہ اور مکہ میں آنے والے لوگوں کی میزبانی کی ہے۔ اس جگہ سے ان کا اتنا زیادہ اُنس اور لگاؤ ہے کہ جب بھی سعودی عرب وہاں نقشے میں تبدیلی کرتا ہے تو وہ معاہدے کے مطابق ایک ایک پتھر واپس ترکی لے جا کر ایک بہت بڑے میوزیم میں سنبھال کر رکھتے ہیں تاکہ ان کے لوگوں کو یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی کی میزبانی کی ذمہ داری ان کے پاس سوا چھ سو سال تک رکھی تھی۔

    وہاں جب ترک جاتے ہیں تو ان کے پاس نقشہ ہوتا ہے اور انہیں اس نقشے کو دیکھ کر پتہ چل جاتا ہے کہ کون سے صحابہ کا گھر کہاں ہے۔

    پچھلے سو سالوں سے ترک خانہ کعبہ میں اللہ تعالیٰ سے رو رو کر یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہم سے ناراضگی ختم کر دیجئے، جو میزبانی کا شرف ہمیں دیا تھا وہ واپس دے دیں۔ یہ ذمہ داری اس وقت آل سعود کے پاس ہے۔ ترک یہ کہتے ہیں کہ یہ ذمہ داری ہم سے چھین لی گئی تھی اور ہمیں اس کا شدید افسوس اور دکھ ہے۔

    دونوں ہی پاکستان کے برادر ملک ہیں، ترکوں کی اپنی ایک خواہش ہے جس کا ہم احترام کرتے ہیں اور جو ذمہ داری آلِ سعود کے پاس ہے اس کا بھی احترام کرتے ہیں۔ لیکن ان دونوں میں سے اس کا اہل کون ہے اس کا فیصلہ آپ سب اپنی جگہ پر کر سکتے ہیں۔

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • پاکستان کے خلاف معتصب رویہ!   تحریر: محمد اختر

    پاکستان کے خلاف معتصب رویہ! تحریر: محمد اختر

     

     قار ئین کرام!  جیسا کہ اس بات سے ہر کوئی آشنا ء ہے کہ  ان دِنوں دنیا میں بہت سی فہرستیں بنائی گئی ہیں، اور پاکستان کو کبھی بھی متعصب دنیا نے کسی اچھی فہرست میں شامل نہیں کیا۔ چاہے، دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لحاظ سے ہو یاخطے میں پُر امن  کردار کے لیے کوشیشیں۔ یہاں تک کہکرونا وائرس کی موجودہ صورتحال میں مرتب کی جانے والی فہرستوں میں بھی پاکستان کے ساتھ معتصبانہ رویہ اختیار کیا گیا۔ پاکستان بہتر کارکردگی اور بہتر نتائج کے باوجود اس کے گرد سرخ دائرہ کھینچ کر مسائل میں الجھا یا ہوا ہے۔ دنیا ایک بار پھرکرونا وائرس کے حوالے سے انتہائی خطرناک ممالک کو رعایت دینے کے لیے اپنے مفادات اور آسانیاں استعمال کر رہی ہے۔ جبکہ، ان ممالک پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں جنہیں عالمی طاقتیں نشانہ بنا رہی ہیں۔ برطانیہ نے بھی ایسا ہی جانبدارانہ فیصلہ کیا۔ماضی قریب میں؛ انگلینڈ ڈیلٹا ویرینٹ کا مضبوط گڑھ بھارت کوکرونا وائرس ریڈ لسٹ سے نکال دیا گیا ہے جبکہ پاکستان کو بہتر حالات اور اعدادوشمار کے باوجود فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد بھی کم ہے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان میں صورتحال کنٹرول میں ہے باوجود اس کے پاکستان ابھی تک اس فہرست میں شامل ہے،جبکہ دوسری طرف بھارت میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔یہ فیصلہ خالص تعصب پر مبنی ہے۔ کرونا وائرس کیسز کے حوالے سے امریکہ کے بعد ہندوستان دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ اموات کے لحاظ سے ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ لیکن، دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کرونا وائرس کے معاملات میں 30 ویں نمبر پر ہے۔ان اعدادوشمار کے بعد اس سرخ فہرست کی کیا حیثیت ہوگی، جہاں 30 ویں نمبر پر آنے والے ملک کو سرخ فہرست میں شامل کیا گیا ہے اور دوسرے نمبر پر آنے والے ملک کو رعایت دی جا رہی ہے۔لہزا، نظر آتا ہے کہ بھارت امریکہ کا ”پیارا” اور فرمانبردار ہے، امریکہ خطے میں امن و امان کو تباہ کرنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے تاکہ نریندر مودی جیسے دہشت گردوں کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کر سکے اور یہ پاکستان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑے کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔یہ تمام فہرستیں پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ کے مترادف ہیں۔ ان سب کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔یاد رہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کوویڈ 19 سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کورونا سے متاثرہ ممالک کو پاکستان کی مثال پر عمل کرنا چاہیے۔تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کرونا وائرس کے ڈیلٹا ورژن کا گڑھ بھارت کو سرخ فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ جبکہ، پاکستان اب بھی اس فہرست میں شامل ہے حالانکہ پاکستان میں کرونا وائرس کے معاملات ہندوستان کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ کاش! دنیا ان فہرستوں پر شرم محسوس کرے۔قابلِ فہم ہر پاکستانی کا یہ سوال ہے کہ آخر کس کو دھوکہ دیا جا رہا ہے؟یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس فیصلے کی کیا حیثیت ہوگی جس کے خلاف برطانوی پارلیمنٹ میں آوازیں اٹھ رہی ہیں؟ یہ دوہرا معیار نام نہاد مہذب دنیا کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام سے متعلق ادارے (ایف اے ٹی ایف) نے بھی پاکستان کے بارے میں فیصلہ کرنے میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا تھا۔ اہم نکات پر عمل درآمد کے باوجود، پاکستان پر سختی برقرار رکھی گئی، جبکہ بھارت کے لیے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت میں نمایاں ہے، متعصب عالمی برادری کا بالکل مختلف انداز ہے۔اس طرح یہ تمام اقساط یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ پاکستان کو باقاعدہ ایک مزموم منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان کو سی پیک کی وجہ سے بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، چین کے ساتھ اس کی دوستی اور دوسرا اہم پہلو پرامن افغانستان ہے۔ چونکہ، پاکستان پرامن افغانستان کے حق میں ہے جبکہ متعصب عالمی طاقتیں افغانستان میں امن کے بجائے آگ اور خون کا کھیل جاری رکھنا چاہتی ہیں۔جبکہ پاکستان خطے میں جنگ کے بجائے امن کے حق میں ہے۔اوردوسری جانب بھارت کی موجودہ حکومت ہندوتوا نظریے کے تحت خطے میں امن کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان آگ اور خون کے اس کھیل کی حمایت نہیں کرتا اور اسے اس بات کی سزا دی جا رہی ہے۔اگرچہ پاکستان نے دنیا کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے بیس سال تک قربانیاں دی ہیں، لیکن نام نہاد مہذب دنیا پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کر رہی ہے اور اسے امن کے دشمن نریندر مودی کے ذریعے ایک اور عالمی جنگ میں دھکیل رہی ہے۔ 

    @MAkhter_

  • ریلیشن شپ   تحریر: شھریار سیالوی

    ریلیشن شپ  تحریر: شھریار سیالوی

    ریلیشن شپ آجکل کے دور جدید کا سب سے بڑا فتنہ ہے اور آجکل میں دیکھتا ہوں کہ یہ لفظ ریلیشن شپ بچوں کا کھیل بن چکا ہے۔ کل تک جو پچیس سال کی عمر میں جو کہ ایک میچور بندہ ہوتا ہے وہ بھی اپنی پسند تک کے بارے میں بتانے سے ڈرتا تھا مگر آجکل کا نوجوان، میں یہ بلکل نہیں کہہ رہا کہ اظہار کرنا غلط ہے، پیار کرنا غلط ہے، مگر ایسے پیار کرنا بےشک گناہ ہے۔ یہاں یہ آجکل جو بچہ اپنے پاوں پر کھڑا نہیں ہوسکتا وہ اپنی جان کو آسمان سے تارے توڑ کر لانے کی باتیں کرتا ہے اور عجیب و غریب قسم کے سپنے دکھا رہا ہوتا ہے۔ دس سال کی لڑکی صرف اس بات پر پریشان ہوتی یے کہ اسے اسکا بوائے فرینڈ وقت نہیں دیتا۔ بارہ سال کی عمر کی بات جائے تو اسے یہ پریشانی ہوتی یے کہ میری جان کسی اور سے تو بات نہیں کرتی۔ مختصر یہ کہ پیار اور ریلشن شپ مذاق بن کر رہ گیا یے۔ یہاں پر تو وہ لوگ بھی پیار کا دعوی کررہے ہوتے ہیں جنھیں نہ تو پیار کا پتہ ہوتا ہے اور نہ ہی رشتہ نبھانا آتا ہے۔ یاد رکھیں ہمیشہ کہ ان لوگوں کیساتھ تو گزارا ہوسکتا ہے جنکی طبعیت خراب ہو لیکن اس کے ساتھ بلکل گزارا نہیں ہوسکتا ہے جنکی تربیت خراب ہو۔ یہاں پہ پیار کا مطلب پتا نہیں اور دعوی سچے پیار کا کیا جاتا ہے۔ اپنی پسند کو پیار کا نام دیا جاتا ہے، ارے نہیں نہیں اپنے ٹائم پاس کو سچے پیار کا نام دیا جاتا ہے۔پیار تو نہیں یہاں ٹائم پاس کرتے ہیں لوگ، کبھی ہم نے سوچا ہے کہ جس ٹائم پاس کو محبت کا نام دے کر استعمال کرکے چھوڑ جانے کے بعد اس انسان پر کیا گزرتی ہے، انسان بکھر جاتا ہے، جو انسان کل تک ہنستا کھیلتا تھا وہ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے اور اسے اپنی زندگی بےمعنی لگنے لگ پڑتی یے۔

     یہی وہ سب سے بڑی غلطی ہے جو ہم کرتے ہیں۔ یاد رکھیں پیار اور پسند دو الگ الگ چیزیں ہیں اور ہم اپنی پسند کو اکثر پیار کا نام دے دیتے ہیں اور پسند کبھی مستقل نہیں ہوتی اور اس پسند کو ایک نہ ایک دن ناپسند  ہونا ہوتا ہے اور ایسے انسان کیلئے رونا اور اپنی زندگی ضائع کردینا دانشمندی نہیں ہے۔ محبت منتیں کرنے کا نام نہیں ہے اور منتیں کی بھی کس سے جارہی یے جو نہ رشتوں کو نبھانا جانتا ہے اور نہ ہی اسے رشتوں کی کوئی قدر ہے تو آپ خود بتائیں ایسے انسان سے کس چیز کی توقع کی جاسکتی یے۔ محبت اس چیز کا نام نہیں کہ اپنی ذات کو بےمول کر دیا جائے۔ محبت اس چیز کا نام نہیں کہ اپنی عزت ایسے انسان کے ہاتھوں میں دے دی جائے جو صرف آپکو کھلونا سمجھتا ہو، محبت اس کا نام نہیں کہ اپنے وقار کو گرا دیا جائے۔ لوگوں کو کھونے سے کبھی نہ ڈرو، ڈرو اس بات سے کہ لوگوں کو خوش کرتے کرتے خود کو نہ کھو بیٹھو اپنا وجود ختم نہ کر ڈالو۔ ہمارے معاشرے میں وجہ سے نہیں وجہ بنا کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور ہم اس کیلئے رو رہے ہوتے ہیں جسکو نہ تو ہماری کبھی پرواہ تھی اور نہ ہی کبھی ہوگی۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کسی کی بھی زندگی میں رہنے کیلئے بھیک نہ مانگو۔ ایک دفعہ اسے بلاو بات کرو، مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرو اور اگر نظر انداز کردئیے جاو تو خاموشی سے علیحدگی اختیار کرلو۔ 

    اپنی زندگی میں ایک ایسا اصول بنالیں کہ جو چیز آپکو چھوڑ کر چلی جائے اور ایسی چیز جو کبھی آپکی تھی ہی نہیں اسے بھول جاو کیونکہ بھول جانے کی عادت انسان کو بہت سی چیزوں سے بچا لیتی ہے۔ محبت کرنے والے کبھی بھی بےادب نہیں ہوتے، کبھی پتھر دل نہیں ہوتے۔ ہمیشہ ایسے شخص کا چناو کرو جو آپکو عزت دے کیونکہ عزت محبت میں بہت خاص ترین ہوتی ہے۔ جو شخص آپکو عزت نہیں دے سکتا وہ آپ سے کبھی محبت نہیں کرسکتا۔ جو بھی پیار کا دعوی کرتا ہے تو وہ بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ نہیں بلکہ میاں بیوی بن کر رہیں۔ اظہار کرتے ہو تو نکاح کیساتھ کروں۔ یہ سب میری آپ سے گزارش ہے کہ سچا پیار کبھی بھی بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ نہیں بنے گا۔ جب بھی بنے گا محرم بنے گا۔ جب کسی سے محبت کرو تو اسے پردے میں رکھو کیونکہ محبت پردے میں ہی اچھی لگتی ہے۔ یہ نمائش کی چیز نہیں ہے۔ اندھی محبت ہو یا اندھا اعتماد دونوں گہرائی میں گرا دیتے ہیں۔ محبت کا مزہ ہی تب ہے جب محبوب محرم بن کر ملے اور جب آپ ایک دوسرے کیساتھ پاکیزہ  رشتے میں بندھ جاتے ہیں تو کوشش کی جائے کہ۔اس رشتے کو مضبوطی سے تھاما جائے اور جب اس رشتے سے عزت و احترام چلا جائے تو رشتے ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔ جن رشتوں کو ہم بہت آسان سمجھتے ہیں تو جان لیجیئے پیار کرنا آسان نہیں ہوتا  خود کو دکھ دینا بھی پڑتا ہے دوسروں کی خوشی کیلئے اور ہاں یاد رہیں کبھی بھی آپکو آپ کا پیار دکھ نہیں دے گا۔ یہاں پر اچھا انسان ٹٹول رہے ہوتے ہیں۔ ایک اچھا انسان ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ دنیا میں کبھی بھی اچھے انسان کی تلاش مت کرنا بلکہ خود کو اچھا اور بہترین بن کر دکھانا شاید کسی اچھے انسان کی تلاش ختم ہوجائے۔  ہم اکثر اوقات بہتر کی تلاش میں بہترین کو کھو دیتے ہیں۔ یہاں پہ سب سے بڑی وجہ جو رشتے ٹوٹنے کی بنتی ہے وہ ہے غلط فہمی ہے اور اسے سن کے چپ ہوجاتے ہیں اور ان سب باتوں کو پی جاتے ہیں تو وہ باتیں ہمیں اندر ہی اندر سے کھا جاتی ہیں۔ ختم ہوجاتے ہیں وہ رشتے جن کیلئے ہم جی رہے ہوتے ہیں۔ یاد رکھئیے بھروسہ ہی تو ایک رشتے کی اہم چیز ہوتی ہے جب وہی نہیں رہے گا تو رشتے میں بچے گا کیا؟ اس دنیا میں سب سے خوبصورت رشتہ میاں بیوی کا ہے۔ یہی سب رشتوں کی بنیاد ہے۔ پیار کو نکاح میں بدلو۔ اظہار کرو تو نکاح۔ دنیا کی ابتداء بھی میاں بیوی اور انتہا بھی۔ جنت میں بھی سب میاں بیوی کے رشتے سے ہی رہیں گے تو تمہارا پیار بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ سے کیسے شروع ہوسکتا ہے؟؟؟ لہذا کوشش کریں نکاح کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیں تاکہ معاشرے سے زنا جیسی لعنت کا خاتمہ ہوجائے تاکہ ایک مثالی معاشرہ وجود میں آسکے۔ اللہ ہم سبکو دین کی سمجھ عطا فرمائے (آمین )۔

  • : والدین کے حقوق  تحریر: تیمور خان

    : والدین کے حقوق تحریر: تیمور خان

    انسان کے دنیا میں جتنے بھی رشتے ہیں اور جن جن رشتوں کے ساتھ انسان دنیا میں جڑا ہوا ہے ان تمام رشتوں اور ان تمام تعلقات میں  ہر ایک انسان کا جو بنیادی رشتہ اور بنیادی تعلق ہے بلکہ جس رشتے اور تعلق کی وجہ سے ایک انسان دنیا میں آیا ہے وہ  بنیادی رشتہ اور تعلق وہ انسان کے والدین کا رشتہ اور تعلق ہے ماں باپ دونوں ایک انسان کے لئے اس دنیا میں آنے کا وسیلہ ہیں اور انسان کا وہ زمانہ جس میں وہ سو فیصد مختاج ہوا کرتا ہے وہ زمانا جس میں وہ نہ کھا سکتا ہے نہ پی سکتا نہ چل سکتا ہے نہ پھر سکتا ہے نہ ہی اپنی مرضی سے گرمی اور سردی سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے یہ تمام نازک ترین اور حساس مراحل ایک انسان کے ساتھ اگر بخوبی عافیت کے ساتھ  طے ہوتے ہیں تو وہ ایک انسان کے والدین اور ماں باپ کی برکت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

    قرآن کریم فرقان حمید میں اکثر مقامات پر جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا تذکرہ اور حکم فرمایا وہاں اپنی عبادت کے متصل والدین کے حقوق کا حکم کیا بیسیوں مقامات پر قرآن کریم میں والدین کے حقوق کی بات کی گئی مفسرین فرماتے ہیں کہ والدین کے حقوق کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لیے اور ان کے حثیت کو اہمیت دینے کے لئے اللہ نے اپنی عبادت کے متصل والدین کے حقوق ادا کرنے کے بات کی ہے اور ویسے بھی ایک انسان پر جتنے بھی حقوق العباد لازم کیے گئے ہیں یاد رکھیں آن تمام میں بنیادی حق والدین کے حقوق ہیں انسان پر اپنے بہن بھائیوں اور رشتےداروں کے کچھ نہ کچھ حقوق ہیں لیکن ان تمام میں بنیادی حق وہ والدین کا حق ہے 

    اسی لئے  جگہ جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے والدین کے حقوق کو یاد دلاتے ہوئے جو ان کے اپنے بچوں پہ احسانات ہیں اللہ نے قرآن میں ان کی بھی نشاہدہی فرمائیں اور پھر والدین کے حقوق کی مکمل تشریح اور مکمل بیان اور  تفصیل سرکارِ دوعالم ﷺ نے اپنے احادیثِ طیبہ میں ہمیں سکھائیں۔

    سورت آسرا پندرہ پارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا ٫٫ تمہارے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ساتھ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اور اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ان کے ساتھ احسان والا معاملہ کرو اگر تمہاری زندگی میں سے دونوں یا کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے یا کمزور ہو جائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم نے انہیں آف تک ہی نہیں کہنا اور ان کو جھڑکنا بھی نہیں ہے ان کے سات خندہ پیشانی کے ساتھ بات کرنی ہے اور جب بھی اپنے والدین کے سامنے بات کیا کرو تو ان کے ساتھ نرمی اور احسن طریقے سے بات کیا کرو اور ہمیشہ جو تمہارے رحمت اور شفقت اور رحم کے جو تمہارے پر ہیں وہ اپنے والدین پہ ڈالے رکھنا اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہا اپنے عمال اور قردار کے زریعے جہاں والدین کے ساتھ حسن سلوک کروگے نہ زبانی اپنے باتوں کے زریعے ان کو تکلیف پہنچاؤ گے نہ عمال کے زریعے اور پھر ساتھ ساتھ اللہ سے یہ دعا بھی کرو گے ک اے اللہ میرے والدین پہ اسی طرح رحم فرما جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں پالہ تھا جس طرح میرے والدین نے میری تربیت کی تھی میری ضروریات کو پورا کیا تھا، اے میرے رب تو میرے والدین پہ رحم فرما،  اس کا مطلب یہ ہے٫٫ اے اللہ جس وقت میں کمزور تھا اے اللہ میری کمزوری کا انہوں نے خیال رکھا تھا، اے اللہ اب میرے والدین کمزور ہیں اب مجھے توفیق دے کہ میں ان کا خیال رکھوں،، اور اللہ سے دعا کرنے کا معنیٰ بھی یہ ٫٫ اے اللہ تو میرے والدین پر رحم فرما؛؛ اے اللہ تو انہیں مختاج ہونے سے دور فرما۔

    اسی لئے یاد رکھیں والدین کے حقوق کو حقوق العباد میں بنیادی حیثیت حاصل ہے، سرکارِ دوعالم ﷺ کے بارگاہ میں ایک صحابی آئے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میرے والدین کا مجھ پر کیا حق ہے تو آپ نے فرمایا تمہارے والدین تمہارے لئے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی ہیں ، صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ ہمارے والدین ہمارے لئے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی اس بات کی ہمیں سمجھ نہیں آئی، تو آپ نے ارشاد فرمایا٫ اگر تمہارے والدین تم سے خوش ہونگے ان کو راضی رکھو گے ان کے حقوق ادا کروگے تو یہ تمہارے لئے جنت میں جانے کا سبب ہو گا، اور اگر تم اپنے والدین کو ناراض رکھوگے اور آپ کے والدین ناراضگی کی حالت میں تم سے جدا ہو گئے تو یہی ان کی ناراضگی تمہارے لئے جہنم کا سبب ہوگا،، اسی لئے یاد رکھیں سرکارِ دوعالم ﷺ نے والدین کی رضامندی کو جنت کا سبب اور والدین کی ناراضگی کو جہنم کا سبب فرمایا، اگر والدین تم سے راضی ہیں تو اللہ تم سے راضی ہے اور اللہ کی رضا یہ تمام نعمتوں سے بڑھ کر یہاں تک کہ جنت سے بھی بڑھ کے نعمت ہے۔

    مفسرین کہتے ہیں کہ اگر ایک شخص سے  والدین راضی ہیں اور اس کو سو فیصد پتہ ہو کہ ہاں میرے والدین مجھ سے راضی ہیں اور والدین بھی یہ اقرار کرے کہ ہاں ہم اپنے بیٹے سے بہت خوش ہیں اور راضی ہیں، تو مفسرین فرماتے ہیں یہ شخص قسم سے کہہ سکتا ہے کہ ہاں میرا رب بھی مجھ سے راضی ہیں، اگر ایک شخص جو روزے، حج حقوق العباد، میدان جہاد کا غازی بھی ہے لیکن والدین اس سے راضی نہیں تو پھر یاد رکھیں اس کا رب بھی اس سے راضی نہیں ہے، لیکن ایک شخص جو تہجد بھی نہیں پڑتا حقوق العباد بھی نہیں کرتا میدان جنگ کا غازی بھی نہیں کچھہ بھی نہیں کرتا لیکن اس کا باپ اس سے راضی ہے باپ اس نے راضی رکھا ہوا ہے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ ہاں میرا رب مجھ سے راضی ہے والدین ایک انسان کے لئے بہت بڑی نعمت ہے، والدین کو راضث رکھنا بہت ہی آسان ہے اگر ایک انسان نے ساری عمر والدین کی نافرمانی کی ہو اور شرمندہ ہو کر وہ والدین کے سامنے ہو جائے تو والدین کے دل میں اللہ نے اولاد کے لئے جو محبت رکھی ہے تو وہ آخر کار اپنے اولاد کو معاف کر دیتے ہیں، اس لئے اپنے یہ یاد رکھیں اللہ نے جن کو والدین عطاء کیے ہیں اور وہ زندہ ہیں تو انکو راضی رکھیں ان کے حقوق کو پورا کریں، اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری ماں جنت کا سبب قریب تر اس لئے ہے باپ سے کہ جنت تمہاری ماں کے قدموں کے نیچے ہے ایک صحابی آئے یارسول اللہ ﷺ میں جہاد کے لئے جانا چاہتا ہوں ، آپ نے فرمایا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں تو صحابی نے فرمایا باب نہیں البتہ والدہ زندہ ہے تو آپ نے فرمایا جا، جا کر اپنے والدہ کی خدمت کر یہ تیرے لئے سب سے افضل جہاد ہے یادِ رکھیں جہاد کرنا ایک نیکی ہے لیکن سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو اپنے والدین کی خدمت کریں یہ تمہارے لئے سب سے افضل نیکی ہے، جو انسان اپنے والدین کا فرمانبردار ہے اس کی اولاد کل اس کی فرمانبردار ہو گی۔ تو والدین یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اپنے والدین کو وقت دیں ان کو راضی کیجئے ان کی راضا تلاش کیجئے کہ ان کی راضا کس چیز میں ہے اور ان کی حقوق ادا کرنے کی کوشش کیجئے اپنے بچوں کو بھی سکھائے تاک اللہ ہم سے راضی ہو، اللہ تبارک و تعالٰی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق ادا فرمائے اور اپنے والدین کا فرمانبردار بنائے۔ آمین

    @ImTaimurKhan

  • ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ  تحریر: اریبہ شبیر

    ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ تحریر: اریبہ شبیر

    ہر شخص کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے لگتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو ایک ان دیکھی طاقت اسے بچا لیتی ہے۔ یہ ان دیکھی طاقت کیا ہوتی ہے؟ کیا اس طاقت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو مصیبت سے نجات دلا سکے؟؟
    پیارے دوستو! یہ طاقت ہوتی ہے صدقہ و خیرات کی طاقت، اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے کی طاقت، ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی طاقت۔ یہ طاقت ہوتی ہے غیب کی مدد۔ جب انسان تباہی کے دہانے کھڑا ہوتا ہے تو اس وقت اللّٰہ اسے بچا لیتا ہے۔ یہ اللّٰہ تعالٰی کی اپنے بندے سے محبت ہوتی ہے یہ اللّٰہ تعالٰی کا اپنے بندے پر احسان ہوتا ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے۔ انسان بھول جاتا ہے مگر خدا نہیں بھولتا۔ دور ہمیشہ ہم آتے ہیں اللّٰہ وہیں ہے جہاں پہلے تھا فاصلے ہم پیدا کرتے ہیں اور اسے مٹانا بھی ہمیں چاہئے. صدقہ اللّٰہ اور بندے کے درمیان فاصلوں کو مٹاتا ہے۔ صدقہ کیا ہوتا ہے؟ صدقہ وہ ہوتا ہے جو اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں اللّٰہ کی خوشنودی کے لیے دیا جاتا ہے۔ صدقہ دینے سے بلائیں ٹل جاتی ہیں۔ انسان برے وقت،برے حالات اور بری موت سے بچ جاتا ہے۔ ہر نیکی کا کام صدقہ ہے۔ پودے اور درخت لگانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔راہ چلتے ہوئے کی مدد کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیزیں پتھر کانٹے ہٹانا صدقہ ہے۔ مسجد میں قرآن پاک رکھوانا، اس کی تعمیر و مرمت میں اپنی استطاعت کے مطابق حصّہ ڈالنا صدقہ ہے۔ پانی پلانے کو احادیث مبارکہ میں صدقہِ جاریہ قرار دیا گیا ہے۔ پانی پلانے کا عمل نہایت معمولی ہونے کے باوجود ثواب اور خوشنودی رب کا ذریعہ ہے ۔ پیاسوں کو پانی پلانا، تشنہ لبوں کی سیرابی کا کام کرنا اور انسانوں کی پانی کی تکمیل کر نا صدقہ ہے جس کا ثواب اللّٰہ تعالٰی آخرت میں خود دے گا۔ تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانے میں صدقہ دینا افضل ہے۔ صدقہ دینے سے اور اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کبھی بھی کم نہیں ہوتا بلکہ اللّٰہ تعالٰی اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کے مال میں برکت ڈالتا ہے۔ اچھی بات بتانا بھی صدقہ ہے. دراصل
    ہم دنیا کی محبت میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ ہمارے پاس اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے کوئی چارہ نہیں ہے۔ اپنی اس مصروف ترین زندگی میں ہمارے پاس اپنوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں کیا ہو رہا ہے ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں۔ معاشرہ تو دور کی بات ہے ہم تو اس قدر بے ہوش ہیں کہ ہمارے ہمسائے میں آج کیا ہوا، کون بیمار ہے کس کا انتقال ہوا ہمیں کسی کی کوئی خبر نہیں۔انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہیں کہیں جنم لیتی ہے۔ اگر انسان سے انسانیت اور خدمت نکال دی جائے تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور عبادت کے لئے اللّٰہ تعالٰی کے پاس فرشتوں کی کمی نہیں۔
    ذرا سوچئے جس مسجد میں ہم روزانہ نماز ادا کرتے ہیں وہاں ہمیں وضو کے لیے پانی، ہوا کے لیے پنکھے، روشنی کے لیے لائٹس، جنریٹر، کارپٹ، امام اور مؤذن کی سہولت حاصل ہوتی ہے تاکہ میں نماز میں آسانی ہو۔ جبکہ ہم مسجد کو ماہانہ کیا دیتے ہیں؟دس روپے؟ زیادہ سے زیادہ بیس روپے۔ جبکہ ہم ٹی وی کیبل 300 اور انٹرنیٹ 1300 کی فیس ہر ماہ ادا کرتے ہیں۔ موبائل پر بے تحاشا لوڈ کرواتے ہیں۔ناچ گانا پارٹی ہلہ گلہ اور بے فضول کی نمود و نمائش میں بے تحاشا پیسہ اڑاتے ہیں۔ ذرا سوچئے ہم مسلمانوں کا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
    ہم اپنی زندگی میں بڑے بڑے کام کر کے ہی بڑے آدمی بن سکتے ہیں لیکن اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ہمارے لئے چھوٹے چھوٹے اچھے عمل ہی بہت ہیں۔ انسان اپنے اوصاف سے عظیم ہوتا ہے عہدے سے نہیں کیونکہ محل کے سب سے اونچے مینار پر بیٹھنے سے کوا کبھی بھی عقاب نہیں بن سکتا۔
    دعا ہے اللّٰہ تعالٰی ہمیں اپنی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    نام: اریبہ شبیر
    Twitter I’d @alifsheen_5

  • عورت کی آزادی یا عورت تک آزادی تحریر سیدہ ام حبیبہ

    عورت کی آزادی یا عورت تک آزادی ہر جگہ ہر فورم پہ عورت کی آزادی پہ مباحثے اور تقاریر چلتی ہیں.آئے دن سوشل میڈیا پہ بھی یہی موضوع زیرِ بحث رہتا ہے.
    ایک جماعت عورت کی آزادی کے حق کے لیے قلم آزمائی کرتی نظر آتی ہے.تو دوسری اسکے تحفظ یا پردے کی بابت دلائل دیتی ہے.
    اب کیسے جانیں کہ کون عورت کا اصل حامی ہے اور کون نہیں.
    اس کے لیے ہمیں آزادئ نسواں کی جدوجہد پس منظر اور موجودہ صورتحال کو یک مشت دھیان میں رکھنا ہوگا.
    عورت کو صنفِ نازک بھی کہا جاتا ہے. اس کی نزاکت اسکی جسمانی ساخت کے اعتبار سے قدرت نے طے کی ہے.اس عورت کی محبت میں اس کے احترام میں کہیں تو سردارِ انبیاء صلوۃ اعزاز میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہیں عورت کو زدوکوب کیا جاتا ہے.
    عورت پہ ظلم و ستم کی داستانوں سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں ایسے میں خواتین کے حقوق کے لیے کچھ انقلابی لوگ اٹھ کھڑے ہوئے جنہوں نے معاشرے سے اس ظلم کے خاتمے کی کوشش شروع کر دی شمع سے شمع جلتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے عالمی سطح. پہ سینکڑوں تنظیمیں خواتین کے حقوق او تحفظ کی ضامن بننے لگیں.
    سب اچھا جا رہا تھا مگر ایک پل کو رکیے کہ غلط کیا تھا اور کہاں تھا..
    ان ہی تنظیموں کو عالمی ادارے فنڈنگ بھی کرتے تھے. کہ مالی لحاظ سے کوئی دشواری نہ ہو…
    مگر پھر رکیے .
    اب دیکھیے کیا یہ ساری تنظیموں کا مقصد خواتین کا تحفظ ہی تھا؟
    قارئین محترم ایسا جال بنا جا رہا تھا جس سے بچنا ناممکن ہو جاتا.ان تنظیموں کی آڑ میں ایسی تنظیمیں وجود میں أئیں جو مغربی ایجنڈے کے لیے پسماندہ ممالک میں کام کرتیں اور عورتوں کے حقوق کے نام پہ وہاں اپنے مذموم عزائم پورے کرتیں.
    وطنِ عزیز میں بد قسمتی سے لبرل ازم کی آزادی کی خوب پامالی کی گئی.
    لبرل ازم کے نام پہ ننگ پن کو پروموٹ کیا جانے لگا.اور لباس کو جسم کو عورت کی آزادی عورت کے حقوق کے نام پہ یورپ کے مطابق ڈھالا جانے لگا.
    جینز ٹاپ اور دیگر تمام مغربی لباس پہننا عورت کی آزادی سمجھا گیا.اور برقعہ حجاب عورت کی غلامی.
    ایک پل کو وہ عورت جس نے جینز ٹائٹ پہنی ہو اور اسکے ہر شخص آتا جاتا ایکسرے کر رہا ہے
    کیا اسکے جسم پہ واقعی اسکی مرضی چل رہی ہے؟
    یا سینکڑوں راہگیروں کی مرضی؟.
    خیر آمد برسرِ مطلب کہ ایک ہود نامی شخص ایک بے ہودہ سا بیان داغتا ہے کہ برقعے حجاب میں عورت نارمل نہیں ہوتی .اور اس قدر حقارت اور ننگ دھڑنگ لڑکیاں ایکٹو ہوتی ہیں.
    یہ وہ سوچ ہے جو عورت کی آزادی نہیں عورت تک رسائی چاہتی ہے.
    یہ رال ٹپکاتے بھیڑیے ہیں.جو برقعے والی عورت کے خال و خد نظر نہ آنے پہ اس برقعے کو پستی اور غلامی سے تعبیر کرتے ہیں.
    عورت کا تحفظ خود عورت کرتی ہے.عورتیں ان کو اپنا محافظ مانتی ہیں جو دراصل انکے جسم سے لباس سے خائف ہیں اور اس کم سے کم دیکھنے کو آزادی کہتے ہیں.

    تلخی تحریر کی کڑواہٹ نہ منہ میں بھر دے
    چائے میں چینی ذرا اور ملا کر پڑھیے

    @hsbuddy18

  • بد چلن  تحریر  زوہیب خٹک

    بد چلن تحریر زوہیب خٹک

    بشیر احمد کے ہاں دوسری بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ لیکن اس لیے خوش تھا کہ چلو یے بڑی بیٹی مائزہ کی طرح معزور تو نہیں ہے ۔ بڑی محبت سے اس کا نام فائزہ رکھا ۔معمولی سا سرکاری نوکر بشیر احمد پچپن برس کی عمر میں ہارٹ اٹیک سے وفات پا گیا ۔ فائزہ کے کمزور کندھوں پر معزور بہن اور بوڑھی ماں کا بوجھ آگیا۔ فائزہ جیسے تیسے محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر اور مرحوم باپ کی پینشن سے گھر کا گزر بسر کرتی رہی اور اپنی تعلیم مکمل کر لی کہ چلو کوئی اچھی نوکری مل جائے گی تو گھر کے حالات بہتر ہو جائیں گے۔۔ فائزہ کو یقین تھا کہ بہت جلد ان کے حالات بدلنے والے ہیں لیکن وہ نہیں جانتی تھی ابھی زندگی نے اور بہت امتحان لینے ہیں۔

    برقع پہنے وہ جب نوکری کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آتی جاتی تو محلے والوں نے شک کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا ہائے یہ آخر کہاں گھومتی پھرتی ہے ۔ ہائے باپ کا سایہ نا ہو تو لڑکیاں ایسے خراب ہو جاتی ہیں ضرور اس کا کسی کے ساتھ چکر چل رہا ہے ہائے دیکھو تو اپنے مرحوم باپ کی عزت کا زرا بھی پاس نہیں ہائے اللہ ایسی اولاد کسی کو نا دے۔ الغرض جس کے منہ میں جو آتا کہہ دیتا ۔ دوسری طرف جہاں نوکری کے حصول کے لیے در بدر کی خاک چھان رہی تھی وہاں بھی مردوں کی شکل میں بڑے عہدوں پر بیٹھے درندے اس کو نوچنے کو تیار بیٹھے تھے ۔ بی بی یہ برقع یہاں نہیں چلے گا ٹھیک ہے آپ کی تعلیم اچھی ہے لیکن ہمارے دفتر میں ماڈرن لباس پہن کر آنا پڑے گا ماشااللہ آپ اتنی حسین ہیں آپ کو حسن چھپانے کی کیا ضرورت آپ ایک کام کریں پرسنل سیکرٹری کی نوکری مل جائے گی تنخواہ بھی پچاس ہزار باقی مراعات الگ تھوڑا خود کو گروم کریں آپ میں کسی چیز کی کمی نہیں۔

    یہ فکرے جملے بازیاں سنتے سنتے فائزہ راتوں کو پھوٹ پھوٹ کر روتی اللہ سے شکوے کرتی کہ اے اللہ اگر حسن دینا تھا تو اس معاشرے کا محتاج کیوں کیا۔؟ بوڑھا ہی سہی باپ کا سایہ تو تھا وہ کیوں چھین لیا۔؟ اے اللہ میری مشکلیں کب آسان کرے گا ۔؟ ایک دن صبح کے اخبار میں سرکاری اساتزہ کی بھرتی کا اشتہار دیکھا تو سوچنے لگی یہاں تو رشوت یا سفارش لگے گی میرے پاس تو دونوں نہیں ۔ سوچ میں تھی کہ معزور بہن مائزہ نے پوچھا کیا ہوا کہنے لگی سرکاری نوکری ہے لیکن مِلے گی نہیں ۔ ماں نے باورچی خانے سے آواز دی بیٹا ہمت تو کرو کیا پتہ اللہ ہمارے دن پھیر دے ۔ فائزہ نے لمبی سی آہ بھری کہا کاش ۔۔ بہر حال نا چاہتے ہوئے بھی وہ قسمت آزمانے چلی گئی امتحان دیا اور اِس یقین کے ساتھ گھر واپس آئی کہ یہاں کچھ نہیں ہوگا چند دن بعد گھر پر خط موصول ہوا کہ آپ نے امتحان میں ٹاپ کیا ہے آپ کو انٹرویو کے لیے فلاں تاریخ کو آنا ہے۔۔

    فائزہ چِلائی امی میں پاس ہوگئی امی اب مجھے نوکری مل جائے گی۔ امی آپ کی دعائیں قبول ہوگئیں ۔ بڑی بہن مائزہ کو گلے لگا کر رو پڑی ہاتھ اُٹھاتے ہوئے کہا شکر ہے تیرا میرے مالک شکر ہے تیرا تو نے مجھ پر کرم کیا ۔ اُسے یقین تھا کہ اب ضرور نوکری مل جائے گی ۔ اور آخر انٹرویو کا دن آگیا وہ پر اُمید ہو کر انٹرویو دینے پہنچی انٹرویو دیا اور واپس گھر آگئی چند دن بعد آفر لیٹر کے ساتھ خط موصول ہوا اُسے نوکری مل گئی تھی ۔ فائزہ دوڑ کر اپنی ماں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ اماں اللہ نے ہماری سن لی ماں کی آنکھیں بھی نم تھیں۔ جھلی تجھے کہتی تھی نا اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔۔

    یوں فائزہ کی زندگی بدلنے لگی ۔ اب وہ باعزت روزگار سے اپنے گھر کا خرچہ اٹھا رہی تھی ۔ ایک دن شدید بارش تھی سکول سے واپسی پر کوئی رکشہ نا مل رہا تھا تو ساتھی اُستانی نے کہا آؤ میں تمہیں گھر چھوڑ آؤں گی میرا بھائی ابھی آتا ہی ہوگا ۔ فائزہ اپنی ساتھی اُستانی کے ساتھ چل پڑی ۔ محلے میں اُتری تھی کہ محلے کی چند خواتین نے گاڑی سے اترتے دیکھ لیا ۔ اب تو شک یقین میں بدل گیا تھا ہائے ہائے میں نا کہتی تھی اس لڑکی کے لچھن ٹھیک نہیں۔ دیکھو تو کتنی بڑی گاڑی سے اتر کہ آرہی ہے ۔ دِکھانے کو برقع تو ایسے پہنا ہوتا ہے جیسے اس سے زیادہ شریف زادی کوئی نہیں اور کرتوت دیکھو اللہ معافی اللہ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے ۔ مرے ہوئے باپ بوڑھی ماں کی عزت کا بھی خیال نہیں ۔

    یہ چہ مگوئیاں آخر فائزہ کے گھر تک پہنچ گئیں کمیٹی جمع کرنے والی بلقیس خالہ نے ایک دن کہہ دیا ہائے بہن برا نا مانو یہ شریفوں کا محلہ ہے اپنی بیٹی پر نظر رکھو لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں ۔ ہائے اب تو محلے میں گاڑیاں آنے لگی ہیں ۔ محلے کی اور بچیوں پر کیا اثر پڑے گا ۔ میری مانو اپنی بیٹی کی شادی کرا دو ۔ اللہ نا کرے جوان بچی ہے کوئی غلط قدم نا اٹھا لے۔ ہائے توبہ آج کل کا زمانہ تو بہت خراب ہے۔ فائزہ کی ماں کو زمین اپنے پیروں تلے سے سرکتی ہوئی محسوس ہورہی تھی اُسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا ۔ کچھ دیر بعد فائزہ سکول سے واپس آئی تو موقع پاتے ہی ماں نے پوچھ لیا تم آج کل کہاں آتی جاتی ہو محلے والے طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں بیٹا ہم غریب ہیں پر عزت دار ہیں روکھی سوکھی کھا کر ساری زندگی گزاری لیکن اپنی عزت پر سودا نا کیا ۔ کوئی ایسا قدم نا اٹھانا کہ ہماری عزت خاک میں مل جائے ۔

    فائزہ کو حیرت کا جھٹکا لگا اور ماں سے کہنے لگی اماں آپ کو اپنی بیٹی کی پرورش پر پورا یقین ہونا چاہئیے نا میں نے کوئی غلط قدم اٹھایا نا کبھی ایسا سوچ سکتی ہوں ۔ فائزہ چیخ چیخ کر رونا چاہ رہی تھی لیکن اس کے آنسو بھی اب خشک ہو چکے تھے ۔ شائد اُسے اب یہ سب سننے کی عادت ہوچکی تھی ۔ فائزہ کے لیے رشتے آنے لگے تو محلے والوں کے بد چلن کے ٹھپے کی وجہ سے وہ بھی انکار کر جاتے فائزہ اب اٹھائیس سال کی پڑھی لکھی وہ لڑکی ہے جس پر محلے والوں نے بد چلن کی مہر لگا دی ہے۔ فائزہ دن بھر خود کو تھکا کر گھر آتی ہے راتوں کو اپنا سرہانہ آنسوں سے بھر کہ سو جاتی ہے اور صبح پھر سے کام پر چلی جاتی ہے ۔ آپ کے آس پڑوس میں ایسی انگنت فائزہ ہیں جن پر محلے والوں نے بد چلن ہونے کی مہر لگا دی ہے۔۔

    کبھی فرصت نکالیں کسی یتیم مسکین غریب فائزہ کی ماں سے پوچھیں بہن گھر میں راشن کی تکلیف تو نہیں بہن کوئی مسئلہ پریشانی ہو تو مجھے اپنا بھائی سمجھ کر یاد کیجیے ۔ بہن آپ کی بیٹیاں ہماری بیٹیاں ہیں ۔ شائد کوئی فائزہ آپ کے محلے میں جینا سیکھ جائے ۔ بزرگ فرما گئے ہیں جب استعطاعت رکھنے والے لوگ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو غریب کی بیٹیوں کی عزتیں نیلام ہوتی ہیں ۔
    تحریر
    زوہیب خٹک

    Twitter @zohaibofficialk

  • سوشل میڈیا اور سماجی رابطے تحریر ظفر ڈار۔

    سوشل میڈیا اور سماجی رابطے تحریر ظفر ڈار۔

    ہم اس نسل کے نمائندے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کی ابتداء کمپیوٹر اور موبائل فون سے نہیں کی۔ ہمیں کالج کی کوئی اسائنمنٹ بنانے کیلئے بھی کمپیوٹر کی ضرورت نہیں تھی۔ پیشہ ورانہ زندگی میں کمپیوٹر ایک ٹائپ رائٹر کے طور پر استعمال ہونا شروع ہوا۔ ہماری ایک سیکرٹری ہمارے سرکلرز ورڈ سٹار پر ٹائپ کرتی تھی، پھر پرنٹ نکال کر دیتی اور ترمیم کا ایک سلسلہ شروع ہوتا اور آخر کار دو سے تین دن میں وہ مکمل ہوتا۔ ان کے پاس بڑی بڑی گراموفون کے ریکارڈ سائز کی ڈسک ہوتی تھی جس میں بہت تھوڑا سا ڈیٹا محفوظ ہوتا تھا۔ کمپیوٹر میں ڈیٹا محفوظ ہونے کی گنجائش بہت کم ہوتی تھی۔ لیکن اس وقت ہمارے دماغ میں گنجائش بہت زیادہ تھی، ہمیں سارے دوستوں اور رشتہ داروں کے ٹیلیفون نمبرز یاد ہوتے تھے۔ کوئی اجنبی بھی ملتا تو اس کا فون نمبر یاد ہو جاتا تھا۔ 

    موبائل فون اگرچہ Amps ٹیکنالوجی پر 90 کی دہائی میں دستیاب تھے لیکن ان کا حصول اور پھر انسٹافون سے کنکشن لینا بہت مہنگا سودا تھا، کیونکہ کال وصول کرنے پر بھی پیسے لگتے تھے۔ اس وقت یہ سہولت بڑی کمپنیوں کے سینئر منیجرز کے پاس ہی دستیاب ہوا کرتی تھی۔ میں ایک فلپس کا موبائل فون یورپ سے لایا تھا لیکن جب میں نے انسٹافون سے کنکشن اور ماہانہ چارجز کی معلومات لی تو بغیر سوچے سمجھے فوراً ارادہ ترک کر دیا۔ اس وقت میرے اپارٹمنٹ کا ماہانہ کرایہ اتنا ہی تھا جتنا فون کا متوقع بل۔

    پھر تیزی سے تبدیلیاں آنے لگیں، کمپیوٹر میں ونڈوز 3.1، پھر 95 ، 98 اور ملینیم بھی آگئیں۔ اس دوران ہارڈویئر میں بھی تبدیلی آتی رہی 1.5 MB کی فلاپی ڈسک، پھر سی ڈی 750 ایم بی، یوں لگتا تھا ہم بہت سا ڈیٹا سٹور کر سکتے ہیں۔ ہم نے ہر قسم کا ڈیٹا سی ڈی میں ذخیرہ کرنا شروع کر دیا۔ زندگی آسان ہوگئی لیکن یادداشت کمزور ہونے لگی۔ ہم نے دماغ کا سارا ڈیٹا کمپیوٹر میں جمع کر دیا اور ہمارے دماغ خالی ہو گئے۔ اسی دوران موبائل فون میں بھی نمایاں تبدیلیاں ہوئیں ۔۔۔ ایمپس سے جی ایس ایم اور پھر سم کارڈ، خیر یہ گفتگو پھر کبھی۔

    غالباً 1998 یا 99 میں ہمارے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ ایک جی بی کی ہارڈ ڈسک آرہی ہے اور اس میں اتنا ڈیٹا محفوظ ہو سکتا ہے کہ آپ کو زندگی بھر کسی سی ڈی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہم اس اطلاع پر بہت خوش تھے کہ ہمیں سی ڈیز کے ڈھیر سے نجات ملے گی۔ آج کے بچے اس خوشی کو نہیں محسوس کر سکتے، کیونکہ ان کے موبائل فون میں اس سے سو گنا زیادہ ڈیٹا آ سکتا ہے۔

    اسی دوران ہم ورلڈ وائڈ ویب یعنی www سے متعارف ہوئے اور انٹرنیٹ کا استعمال شروع ہوا جو ٹیلیفون لائن سے کنیکٹ ہوتا تھا اور یوں ہم دفتری نیٹ ورک کی ای میل سے ویب کی یاہو میل اور ہاٹ میل سے متعارف ہوئے جنہیں کسی بھی جگہ دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ ہمارے لئے ایک اور بڑی سہولت تھی۔ اس انٹرنیٹ کی دنیا میں پہنچے تو سوشل میڈیا کی پہلی سائٹ جس سے ہم متعارف ہوئے وہ فیس بک تھی۔ بہت ڈرتے ڈرتے اکاؤنٹ بنایا کہ کہیں پیسے نہ مانگ لیں۔ پھر ایک دوسرے سے اس کا استعمال سیکھتے رہے۔ مجھے یاد ہے کسی بھی پرانے یا نئے دوست سے ملتے تو پہلا سوال یہ ہوتا تھا "تم فیس بک پہ ہو نا ۔۔۔ آو کنیکٹ ہوتے ہیں” اور یوں فیس بک پہ دوستیاں ہونے لگیں۔ اس وقت کسی اجنبی کو ریکویسٹ بھیجنا بہت مشکل کام تھا۔

    فیس بک نے ہمیں پرانے دوستوں کو ڈھونڈنے میں مدد کی، دوسرے شہروں اور ملکوں میں رہنے والے پرانے دوستوں سے رابطہ کرا دیا لیکن بہت دیر میں یہ احساس ہوا کہ دور رہنے والوں سے رابطے کے عوض ہم قریب رہنے والے دوستوں سے بہت دور ہو گئے۔ اس وقت تک ہم کمپیوٹر اور انٹرنیٹ میں کھو گئے تھے جس نے ہمیں سکائپ پر وڈیو کال میں مصروف کر دیا تھا۔ پھر گوگل نے سب کچھ بدل دیا اور ہم گوگل میں دب گئے۔

    فیس بک پر جب غیر ضروری دوستیوں سے تنگ آگئے تو ٹویٹر، لنکڈ ان اور واٹس ایپ کا رخ کر لیا۔ گویا سوشل میڈیا نے ہمیں مکمل طور پر جکڑ لیا۔ جو وقت ہم گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ گزارتے تھے وہ سوشل میڈیا کی نظر ہونے لگا۔ کمپیوٹر پر موجود سارے ورچوئل دوستوں کو پہچاننے میں تو آسانی ہو گئی لیکن مجسم انسانوں سے نا آشنا ہو گئے۔ میں سولہ سال سے جس اپارٹمنٹ میں رہتا ہوں، وہاں کسی کو نہیں جانتا لیکن مجھے معلوم ہے کہ اکثر پارکنگ میں ایسے لوگ ملتے ہیں جن سے میں سوشل میڈیا پر رابطے میں ہوں لیکن پڑوس میں رہ کر بھی کبھی ملاقات نہیں ہوتی۔ میں سوشل میڈیا کے دوستوں سے گفتگو کرتا ہوں، چیٹ اور وائس نوٹ بھیجتا ہوں لیکن  اپنے پڑوسیوں سے دور ہو گیا ہوں۔

    سوچتا ہوں ہماری اولاد جب ہماری عمر کو پہنچے گی تو ٹیکنالوجی انہیں کہاں لے جا چکی ہو گی ۔۔۔ ؟

    @ZafarDar

     https://www.facebook.com/zafarmdar

  • متوازن غذا  تحریر : عفراء مرزا

    متوازن غذا تحریر : عفراء مرزا

    مرغیاں کوفتے مچھلی بھنے تیتر بٹیر
    کس کے گھر جاے گا سیلاب غذا میرے بعد
    مندرجہ بالا شعر تو مجید لاہوری کا ہے جس میں انھوں نے دل کھول کر بدپرہیزی کی ہے ۔ گوشت کے دل دادہ شاعر نے زبان کے چسکے کو اس قدر خوب صورتی سے ادا کیا ہے کہ شعر زبانی یاد ہوگیا ہے ۔ انسانی جسم کو جس قدر گوشت کی ضرورت ہوتی ہے اسی قدر بلکہ اس سے زیادہ سبزیوں کی اور دیگر لوازمات کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔

     متوازن غذا ہی جسم کو توانا و تن درست رکھتی ہے ۔ جس قدر بہ ترین اور معیاری خوراک کا انتخاب کیا جاے گا ۔ اسی قدر جسم طاقت ور، صحت مند اور مدافعتی اعتبار سے مضبوط ہوگا ۔

    غذائیت سے بھرپور خوراک کے ذرائع ایسے ہوں جو جسم کی تعمیر و تشکیل اور مکمل نشوونما کرسکیں ۔ وٹامنز ، پروٹینز، چکنائی ، کیلشیم ، پوٹاشیم ، کلورین ، گندھک ، آکسیجن اور سوڈیم وغیرہ ہمارے بدن میں بیماریوں سے دفاع کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں اور جسم کو چاک و چوبند رکھنے میں اہم ترین ذریعہ ہیں ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ مندرجہ بالا اجزاء سے ہی بدن قائم رہتا ہے ۔

     ہم کو خیال رکھنا چاہیے کہ کیا کھایا ہے جب کہ ہم میں سے اکثر خیال رکھتے ہیں کہ کتنا کھایا ہے ۔ حالاں کہ ایک ترین چیز کیا کھایا ہے ۔

     جسم کی نشوونما ، قد کی مناسب بڑھوتری، بینائی اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے وٹامن اے کو لازمی حیثیت حاصل ہے جو کہ حیوانی غذاؤں مثلاً دودھ، دہی، پنیر، مکھن ،دیسی گھی اور چربی والے گوشت کے علاوہ دیگر میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ۔

     سبزیوں میں گاجر ، ٹماٹر ، پالک ، بند گوبھی وغیرہ میں مخصوص مقدار کے ساتھ پایا جاتا ہے۔  اعصابی نظام کو متحرک رکھنے ، دل و دماغ اور اعضا کو مضبوطی فراہم کرنے کے لیے وٹامن بی کی اہمیت مسلمہ ہے ۔ تمام ترکاریوں ، سبزیوں ، پھلوں اور گندم ، مکئی ، دالیں اور دودھ کی مصنوعات میں اس مقدار کافی موجود ہوتی ہے ۔

     وٹامن سی آنکھوں ، دانتوں ، مسوڑھوں اور جلد کی حفاظت کرتا ہے ۔ عام جسمانی کم زوری کو دور کرنے میں اہم کردار اسی وٹامن کا ہوتا ہے ۔ ممکنہ حد تک پھل چھلکوں سمیت  اور سبزیاں کچی کھائیں ۔


     حد سے زیادہ سبزیوں و ترکاریوں کو دھونے ، پکانے اور بھوننے سے یہ نازک و لطیف وٹامن ضائع ہوجاتا ہے۔  وٹامن ڈی کا کردار بھی لازم ہے کہ اس کا کام دانتوں کی مضبوطی اور حفاظت کرنا ہے ۔


     موسم سرما کی دھوپ اور مالش کرنا اس کے حصول کا ذریعہ سمجھ لیجیے۔  وٹامن ای انسانی نسل کشی اور افزائش کے لیے ضروری ہے۔ بوڑھاپے کے اثرات کو روکنا اسی وٹامن کا کام ہے ۔ یہ گندم ، باجرا ، جو، چنا، پستہ، بادام ، چلغوزہ و تلوں کے تیل میں کثرت سے پایا جاتا ہے ۔ نشاستہ کا کردار بدن میں ایندھن جیسا ہے اور جسم کو قوت توانائی فراہم کرنے کا بہ ترین ذریعہ ہے ۔

     پروٹین عضلات اور جسم کی دوسری بافتوں کی نشوونما کے لیے ایک لازمی جزو ہے جو کہ گوشت، انڈا، دودھ ، مکھن ، مختلف روغنیات، پالک، گاجر ، مٹر، لوبیا اور دالوں وغیرہ میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ کیلشیم ، فولاد ، میگنیشیم ، گندھک ، آئیوڈین ، کلورین ، سوڈیم ، پوٹاشیم ، فاسفورس ، زنک اور کئی دیگر وٹامنز بھی ہیں جو کہ جسم کے لیے لازم ہیں ۔

    ذرا سی احتیاط اور بہ ترین غذائی انتخاب ہمارے لیے صحت و تن درستی کا پیام بن جاتا ہے ۔ غیر معیاری اور ناقص خوراک کا استعمال ، عدم صفائی اور غیر صحت مندانہ طرز عمل ہمیں بیماریوں کی دعوت دیتا ہے۔ بازاری اشیاء سے حتی الامکان اجتناب اور معتدلانہ طرز زیست ہی ہمیں توانا و تن درست رکھ سکتا ہے ۔

    AframirzaDn

  • ‏گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔ پارٹ ٢   تحریر ۔ روشن دین

    ‏گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔ پارٹ ٢ تحریر ۔ روشن دین

    ڈاکٹر احمد حسن دانی کے مطابق پہلا شہنشاہ جس نے اس علاقے (گلگت) میں کشنا کی طاقت کو بڑھایا وہ ویما کڈفیس تھا۔ اس حوالے سے نشانیاں چلاس اور ہنزہ میں ملتے ہیں۔ کوشانوں نے نہ صرف پورے گلگت بلتستان کو فتح کیا بلکہ لداخ پر بھی اپنا اختیار بڑھایا۔ اس بات کا امکان ہے کہ ان کی حکمرانی کی نشست ہنزہ میں کہیں واقع ہوگی۔ کوشان تبت سے سنکیانگ تک لداخ ، کوہستان اور ہنزہ سمیت علاقے کو کنٹرول کر رہے تھے۔
    کنشک کے دور میں چین کے ساتھ براہ راست رابطہ سلک روڈ شاخ کے ذریعے قائم ہوا جو گلگت سے گزرا۔ بدھ مت نے گندھارا سے کھوٹن ، یارکنڈ ، کاشغر اور چین کے مغرب تک سفر کیا۔ اس عرصے میں اس علاقے میں بدھ عباتگاہوں اور سٹوپوں کی ایک بڑی تعداد کھڑی ہوئی اور بظاہر گلگت ایک اہم بدھسٹ سٹیٹ بن گیا۔ کوشانوں نے گلگت کو ترقی اور خوشحالی کی نئی راہ پر گامزن کیا۔ اس وقت گلگت کے حکمرانوں کو ’’ پٹولہ شاہی ‘‘ کا لقب حاصل تھا۔ دیوا سری چندر گلگت اور ہنزہ میں پٹولا شاہی خاندان کے آخری حکمران تھے۔
    جب تبتیوں نے گلگت پر حملہ کیا تو چینی مدد کے لیے آئے اور تبتیوں کو شکست دی اور گلگت میں پٹولا شاہیوں کو دوبارہ قائم کیا۔ اس دوران تبتیوں نے بلتستان کو اپنے قبضے میں لے لیا جہاں سکردو میں نشانیاں اور بدھ مت کی ایک بڑی تعداد دیکھی جا سکتی ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف حصے میں پٹولا شاہی حکومت قائم ہوئی۔
    1884 میں ایک ہنگری سیاح کارل یوگن نے بلتستان ، گلگت اور چترال سے پتھروں کی نقش و نگار شائع کی۔ چٹانوں کی نقش و نگار کا پہلا مطالعہ جرمن تبت کے ماہر اگست ہرمن فرانک نےکیا۔ جنہوں نے 1902 میں لداخ بلتستان ، چلاس کے بارے میں اپنی پہلی آثار قدیمہ کا مطالعہ شائع کیا۔ غلام محمد نے سب سے پہلے گلگت اور چلاس کے علاقے میں بدھسٹ راک نقش و نگار کو اپنی کتاب میں شائع کیا۔ "گلگت کے تہوار اور لوک کہانیاں” 1905 میں
    گلگت بلتستان میں چٹانوں پر بدھ مت کی کئی باقیات اور تصاویر کھدی ہوئی ہیں۔ 1986 کے اندازوں کے مطابق قراقرم ہائی وے (kkh) کے ساتھ 3000 شلالیھ اور 30000 سے زائد پیٹروگلیفس دریافت ہوئے۔ چلاس کو نوشتہ جات اور پیٹروگلیفس کے مطالعہ کے لیے ایک انتہائی دلچسپ جگہ سمجھا جاتا ہے۔ چلاس کے نزدیک خروشتی نسخہ مل سکتا ہے جو دوسرے کوشنا شہنشاہ کا حوالہ دیتے ہوئے اویما داساکاسا کا نام دیتا ہے۔ چلاس کے قریب ، تھلپن کو تراش کندہ پتھروں کی کان سمجھا جاتا ہے۔ ایک راستہ ہے جسے حاجیوں کے راستے کا نام دیا گیا ہے جہاں آپ نقش و نگار پتھروں کی دولت دیکھ سکتے ہیں ، تاریخی طور پہ تھلپن سے خنجرگاہ کے راستے گلگت جانے والا راستہ ہے۔ ایک جگہ پر بدھ کے پہلے خطبے کی کہانی ہے اور اس سائٹ کو "پہلا خطبہ کی چٹان” کہا جاتا ہے۔
    یہاں بدھ بیچ میں بیٹھا ہے جبکہ پانچ شاگرد اس کے ارد گرد ہیں۔ چلاس میں ہمیں قدیم شبیہہ کا سب سے بڑا ذخیرہ اور پتھر میں نقش و نگار ملتا ہے۔ کوہستان کے شتیال سے شروع ہو کر گلگت تک۔ تھلپن میں بدھ کے بیٹھنے کی سب سے وسیع نمائندگی محفوظ ہے جس میں بدھ کا پہلا خطبہ نمایاں ہے۔ داریل اور شتیال وادی جس میں کئی مسافر آئے تھے ، مشنری سوگڈین زبان میں کئی سو نقش یہاں پائے جاتے ہیں۔ وادی گلگت (عالم برج) اور ہنزہ میں حالات شلالیھ پیش کرتے ہیں جو پورے دور میں پھیلے ہوئے ہیں جس میں کھوش سلطنت خروش اور برہمی رسم الخط میں موجود تھی جو پانچویں اور آٹھویں صدی کی ہے۔
    گلگت شہر کے نواح میں کارگاہ (نالہ) کے افتتاح کے موقع پر بدھ کا ایک پتھر کٹا ہوا ہے۔ یہ شکل 9 فٹ بلند ہے۔ غالبا histor مورخین کے مطابق یہ سنگ تراشی ساتویں صدی میں کی گئی تھی۔ فا ہین نے بدھ کے اس اعداد و شمار کا بھی ذکر کیا جس نے 400 قبل از مسہی میں گلگت کا دورہ کیا تھا۔ گلگت کے نپور گاؤں میں کارگاہ بدھ کے ساتھ مل گیا۔ مخطوطات لکڑی کے ڈبے میں پیک کیے گئے تھے۔ یہ جگہ ایک قدیم کھنڈر معلوم ہوتی ہے جو شاید بدھ راہبوں کی رہائش گاہ تھی۔
    یونیسکو کے مطابق گلگت کے نسخے سب سے قدیم نسخوں میں سے ہیں۔ یہ نسخے برصغیر میں بدھ مت کے مخطوطات کا واحد مجموعہ ہیں۔ گلگت کے مخطوطات میں تین بدھ مت کے مترادفات (مذہب کے سربراہوں کے درمیان کانفرنس) کا حوالہ ہے۔ ایک اور مشہور مقام ہنزہ کے ایک مقام پر واقع ہے جسے ہلدیکوش (گنیش اور عطا آباد جھیل کے درمیان) کہا جاتا ہے۔ یہاں کی اہمیت ایک یادگار ہے جو صدیوں تک لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہی۔ چٹانوں پر نقش و نگار پہلی صدی کے ہیں۔ چٹان میں نوشتہ جات شامل ہیں جو سوگڈین ، خروشتے اور براہمی زبانوں میں تراشے گئے ہیں۔ ہنزہ کے خوفناک پتھروں کو سب سے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں ابیکس کی، شکار کے مناظر اور نقش درج ہے۔
    ہیرالڈ ہاپٹ مین کے مطابق پچاس ہزار سے زیادہ پتھروں کی نقش و نگار اور چھ ہزار نوشتہ جات ریکارڈ کیے گئے ہیں اور مزید تلاش کے ساتھ ان کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ کشن سلطنت کے شہنشاہ کے نام ان تحریروں کے ساتھ ساتھ کنشکا اور ہیوشکا سلطنت کے شہنشاہوں کے نام بھی ظاہر ہوتے ہیں
    تبتی لوگ لداخ سے ہوتے ہوئے بلتستان میں داخل ہوئے جہاں ان کے نوشتہ جات اور بدھ نقش و نگار سکردو اور دیگر مقامات کے قریب پائے جاتے ہیں۔ سکردو کے قریب منتھل گاؤں بدھ مت کی نقش و نگار کے لیے مشہور ہے اور یہ مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہاں بدھ کا ایک بہت بڑا مجسمہ ہے جس کے چاروں طرف بیس شاگرد ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شلالیھ دوسری اور تیسری صدی کے ارد گرد کندہ کیے گئے ہوں گے۔
    اسے پہلی بار جین ای ڈنکن نے 1904 میں دستاویز کیا تھا۔ تبت سے چین کو خطرہ تھا جو گلگت کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے ، چینی سلطنت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ تبتی حملہ آوروں کو بالائی سندھ اور آکسس سے دور رکھا جائے۔ تبتی لداخ ، بلتستان ، گلگت ، یاسین کے راستے شمال اور مغرب کی طرف بڑھا ، حالانکہ بوروگل گزرتا ہے۔ چینی مدد کے لیے آئے اور تبتیوں کو شکست دی اور گلگت میں پٹولا شاہیوں کی حکمرانی بحال کی۔ لیکن تبتی بلتستان کو اپنے قبضے میں کرنے میں کامیاب رہے۔
    یہاں ایک مکتبہ فکر بھی ہے کہ بدھ مت کے بعد گلگت اور گرد و نواح کا علاقہ قرون وسطیٰ کے زمانے میں زرتشتی حکمرانوں کے ماتحت آیا۔ ھود العلم میں لکھا ہے کہ مقامی حکمران سورج (خدا) کے پیروکار تھے۔ جان بڈولف کے مطابق آکسس وادی زرتشتی مذہب کا گہوارہ تھا اس لیے جنوب کے علاقے اس کے زیر اثر آئے۔ جان بڈولف "ٹیلیانی” تہوار کے مطابق گلگت اور ہنزہ اور بلتستان میں ماضی میں منائی جانے والی آگ کی عبادت کی یادگار ہے۔ ہنزہ میں اسے "تم شیلنگ” ، استور میں "لومی” اور چلاس میں اسے "ڈائیکو” کہا جاتا ہے۔
    جہاں تک اسلام کا تعلق ہے ، اسلام اس خطے میں تیرہ کے آخر یا چودہویں صدی کے آغاز میں کشمیر ، وسطی ایشیا اور سوات/کاغان سے آیا۔ گلگت کے آخری حکمران شری بدعت کو ایک عزور جمشید نے قتل کر دیا جس نے اپنی بیٹی سے شادی کے بعد ایک نئے خاندان کی بنیاد رکھی۔
    گلگت بلتستان میں کئی تاریخی مقامات ہیں ان مقامات کو حکومت کی طرف سے ورثہ قرار دینے کی ضرورت ہے اور ان کو ختم ہوتے ہوئے ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں محکمہ آثار قدیمہ/ریسرچ سنٹر کے قیام کی بھی ضرورت ہے جو گلگت بلتستان کے ثقافتی ورثے کے حصول کی طرف ایک قدم ہے۔ خاص طور پر ضلع چلاس میں آثار قدیمہ کے مقامات کے بارے میں خدشات ہیں کہ ممکنہ طور پر دیامر بھاشا ڈیم کے ساتھ ضم ہو جائیں گے۔ گلگت بلتستان کی حکومت اور وفاقی حکومت کو اس قومی ورثے کے تحفظ اور نقل مکانی کے لیے حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔