Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر: محمد عمران خان

    سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر: محمد عمران خان

    انسان اپنی تمام ضروریات اپنے آپ پوری نہیں کرسکتا۔ اسے اپنی خواہشات، اپنی ضروریات اور اپنا مدعا دوسروں تک پہنچانا پڑتا ہے۔ پہنچانے کے عمل کو "ابلاغ” کہتے ہیں۔

    سوشل میڈیا کا مطلب عوام کے درمیان مختلف ذرائع سے مواصلاتی روابط پیدا کرنا ہے۔ جو موجودہ دور کے معاشرے کے مزاج، خیالات، ثقافت اور عام زندگی کی کیفیات پر دورس اثرات کا حامل ہے۔ اس کا بہاؤ انتہائی وسیع اور لامحدود ہے۔ سوشل میڈیا ذرائع کی طرف سے سماج میں ہر شخص کو زیادہ سے زیادہ اظہار رائے و آزادی اظہار کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ آزاد سوشل میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔ یعنی جس ملک میں سوشل میڈیا کے ذرائع آزاد نہیں ہیں وہاں ایک صحت مند جمہوریت کی تعمیر ہونا ممکن نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کا جال اتنا وسیع ہے کہ اس کے بغیر ایک مہذب معاشرے کا تصور بھی نا ممکن ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال اگر ضروریات کے تحت مثبت طریقے سے کیا جائے تو یہ کسی بھی معاشرے میں نعمت سے کم نہیں۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک ایسے ٹول کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے معاشرے میں مثبت و منفی اثرات کے بے انتہا نقوش چھوڑے ہیں۔ سوشل میڈیا اس وقت پوری دنیا خصوصاً نوجوانوں کو اپنے سحر اور رنگینیوں میں جکڑے ہوئے ہے۔ 12 سال سے 35 سال کے افراد میں سوشل میڈیا کے استعمال کا رجحان بے انتہا حد تک بڑھ چکا ہے۔ جن نوجوانوں نے سوشل میڈیا کے مثبت پہلو کو اپنا کر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے وہ اس سے بے پناہ مالی و معاشرتی فوائد حاصل کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے نوجوان مرد و عورتیں لاکھوں کروڑوں روپے کما کر اپنے روزگار کا ذریعہ حاصل کر چکے ہیں۔ ہر آتے دن کے ساتھ ہی فری لانسرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اس کے معاشی فوائد کو کھول کھول کر بیان کررہے ہیں۔

    پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے دیکھا جارہا ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال ہو رہا ہے اور نوجوان بڑھ چڑھ کر اس کا استعمال کرتے اور اس سے متاثر ہوتے بھی نظر آ رہے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ کوئی بھی نیم خواندہ معاشرہ با آسانی انتہا پسند رویوں کا شکار ہوکر تعمیری سرگرمیوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر ٹرولز یعنی سوشل میڈیا کے ایسے گمنام یا اپنی اصل شناخت چھپائے ہوئے صارف جن کا مقصد جھوٹ سچ کی آمیزش یا طنز و مزاح کی آڑ میں انتشار پھیلانا ہوتا ہے، بڑے متحرک ہیں۔ ہم سب اس سنگین صورتحال سے آگاہ تو ہیں لیکن سدباب کیلئے عملی طور پر کوئی منظم سوچ یا کوئی مربوط حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔ اس حوالے سے شاید مناسب تجویز یہی ہوسکتی ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت اور قابل قبول استعمال کے حوالے سے معاشرے میں آگاہی کی ضرورت ہے جس میں والدین اور اساتذہ کو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی باریکیوں سے آگاہ ہونا ہوگا۔ تاکہ وہ اپنی اولاد اور شاگردوں کی تربیت کرتے قت اس اہم مگر بڑی حد تک نظر انداز معاملے پر مناسب توجہ دے سکیں۔ اس حوالے سے والدین کی اولین اور اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو کس عمر میں انٹرنیٹ اور سمارٹ فون تک رسائی دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ پھر رسائی سے پہلے اور رسائی کے دوران ان کی مناسب بنیادی تربیت اور نگرانی بھی نہایت ضروری ہے۔

    سوشل میڈیا کے منفی اثرات کی جانب ایک نگاہ دوڑائی جائے تو فکر انگیز حد تک یہ نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار کر چکا ہے۔ نوجوان فحاشی و عریانی کے بدمست کھیل میں کود کر اپنا مستقبل داؤ پر لگاتے نظر آتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی دشمن بھی اپنی چال چلتے ہوئے نوجوانوں کے ذہنوں میں شیطانیت کا پرچار کرتے ہیں۔ ففتھ جنریشن وارفیئر بھی سوشل میڈیا پر لڑی جانے والی جنگ ہے جو آج کل سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔

  • پھل کھائیں صحت مند زندگی کے لیے تحریر:خالد عمران خان

    پھل کھائیں صحت مند زندگی کے لیے تحریر:خالد عمران خان


    بعض اوقات زندگی میں ہم اتنا مگن ہوتے ہیں کے اپنے کھانے پینے کی ضرویات کا سہی طرح خیال نہں رکھ پاتے یہ شاید اتنا سوچنے کا وقت بھی نہں ہوتا ہمارے پاس کے ایسا کیا اچھا ہے کھانے میں کو بیک وقت آپکو بیماریاں سے بچائے آپ کے بال آپکی جلد آپکی جسمانی وضح کے لیے ایک ساتھ اچھا ہو ایسا کیا ہے جس کے استعمال سے ہم اپنی صحت بھی خیال رکھ سکتے اپنے بڑھتے ہوئے وزن کو بھی کنٹرول کر سکتے ہیں جی بلکل ایسے تمام خو صیات پائی جاتی ہیں پھلوں میں جس سے ہماری روز مرہ کی جسمانی ضرویات پوری ہوتی ہیں اور ہمارا وزن کو کنٹرول کرنے اور ساتھ جلد کو صاف شفاف رہنے میں بھی مدد ملتی ہے.
    آپ کو بھوک لگی ہے اور کچھ مزیدار کھانا چاہتے ہیں آپ کو بھوک ختم کرنے اور پیٹ کے بھرنے کا احساس دلائے اور آپ کو موٹا نہ کرے ، کیا یہ ممکن ہے؟ شاید یہ پہلا خیال ہے جو آپ کے ذہن میں آتا ہے۔ تو جواب ہے ہاں! یہ ممکن لیکن اس طرح کی کوئی چیز حاصل کرنے کے لیے آپ کو تھوڑی محنت کرنا پڑتی ہے تھوڑی تیاری کرنی پڑتی ہے اور آپ اتنے تھکے ہوئے ہیں کہ اٹھ کر کھانا پکانے کی ہمت نہں رکھتے
     تو ایسا کیا ہے جو آپ آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں ، کیا آسانی سے کیا کھایا جا سکتا ہے ایسر کیا چیز کھانے کے لیے جلدی ملنا ممکن ہے؟

     جی بلکل بہت آسانی سے آپ کھا سکتے ہیں صحت مند چیزیں ، کھانے کے لیے فوری تیار پھل سے آپ فوری لطف اندوز ہو سکتے ہیں جو کہ مشینی تیار نہں شدہ بلکہ آپ صرف اپنے دانتوں کو استعمال کرتے ہوئے سے بھرپور طریقے سے اِسکا مزا لے سکتے ھیں.
     لیکن یہ کیا ہے جو صحت کے متعدد فوائد فراہم کر سکتا ہے اور اب بھی آسانی سے قابل رسائی ہے؟ آئیے خیالات سے آگے نہ بڑھیں اور اپنے آپ کو فطرت کی دی گئی نعمتوں کی طرف رہنمائی کریں جس نے ہمیں رنگا رنگ اور پرکشش پھلوں سے نوازا ہے جو نہ صرف فائدہ مند ہیں جب کہ تندرستی کی بات آتی ہے بلکہ پھلوں کے بے شمار صحت کے فوائد بھی ہیں۔

     پھلوں کے صحت کے فوائد کیا ہیں؟
     چونکہ یہ جانا جاتا ہے کہ پھلوں کے بے شمار صحت کے فوائد ہیں لہذا یہاں ایک جھلک ہے کہ آپ کو اپنی خوراک میں پھلوں کو شامل کرنے کی ضرورت کیوں ہے۔

     پھل وٹامن اور معدنیات کا ایک بھرپور ذریعہ ہیں جو ضروری غذائی اجزاء سمجھے جاتے ہیں جو جسم میں میٹابولک سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور انسانی جسم میں بہت سے دوسرے کام انجام دیتے ہیں۔
     پھل فائبر کا ایک بہترین ذریعہ ہیں جو متعدد طریقوں سے فائدہ مند ہیں جن میں شامل ہیں۔ آنتوں کی صحت کو بہتر بنانا ، بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنا ، بلکے اور مکمل طور پر فراہم کرنا ، کولیسٹرول کو کم کرنا ، قبض سے نجات اور اور بہت سے فوائد
     پھل بہت سے اینٹی آکسیڈنٹس مہیا کرسکتے ہیں جو دل کے مسائل ، کینسر اور بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور ان آزاد ریڈیکلز سے لڑتے ہیں جو کے جسم میں منفی اثرات پیدا کرتے ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس بڑھاپے میں تاخیر کرتے ہیں لہذا پھل چمکدار اور جوان جلد کے حصول میں بھی مدد کرتے ہیں۔
     پھل غذائی اجزاء کی ایک وسیع رینج سے لدے ہوتے ہیں جو فوائد کی بات کرتے وقت اس کو حاصل کرتے ہیں۔ پھلوں کی ایک مثال جو وٹامن سی کی ایک بہت بڑی مقدار مہیا کرتی ہے جو لوہے کے جذب میں بہت ضروری ہے ، بہت سے انفیکشن سے بچاتی ہے ، مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے ، یہ زخموں کو بھرنے میں مددگار اور اہم ہے ہڈیوں اور دانتوں کی صحت
     پھلوں میں پانی کی اچھی مقدار ہوتی ہے جو آپ کو ہائیڈریٹ اور فعال رکھتی ہے۔
     پھل آپ کے میٹابولزم کو فروغ دیتے ہیں لہذا وزن کو کنٹرول کرنے اور ایک مثالی اور صحت مند جسمانی وزن حاصل کرنے میں یہ آپکی مدد کرسکتے ہیں اس لیے اپنی روز مرہ زندگی میں پھل کھانے کی عادت بنائیں۔
    تحریر

    Twitter handle
    ‎@KhalidImranK

  • ‏نور مقدم کے قاتل کو سزا کب ملے گی؟  تحریر: احسان الحق

    ‏نور مقدم کے قاتل کو سزا کب ملے گی؟ تحریر: احسان الحق

    آج سے تقریباً تین سال قبل ہمارے ایک رشتے دار عزیز کے خلاف اقدام قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس اس کو گرفتار کر کے لے گئی. مدعی نے ملزم پر الزام عائد کیا کہ اس نے چھری دکھاتے ہوئے مجھے قتل کی دھمکی دی یا قتل کرنے کی کوشش کی. عدالت میں گواہ بھی پیش کر دئیے گئے. ملزم مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا. آخر کار متعدد پیشیوں اور ضروری عدالتی کاروائی کے بعد معزز عدالت نے ملزم کو مجرم بنا کر جیل میں بھیج دیا. پچھلے ماہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے. دس لاکھ روپے کے بدلے صلح کرنے اور مقدمہ واپس لینے پر اتفاق ہوا. مجرم کے غریب اہل خانہ نے گھر کا سارا مال اور سامان بیچ کر اور ادھار لے کر تقریباً دو ہفتوں میں دس لاکھ کا بندوبست کر لیا. تقریباً ڈیڑھ لاکھ اوپر خرچ ہوا. کل گیارہ لاکھ چالیس ہزار خرچ کرنے کے بعد ملزم یا مجرم پچھلے ہفتے گھر واپس آیا. یہاں پر ایسا قانون حرکت میں آیا جو ہمیشہ عام غریب پاکستانی کے خلاف حرکت میں آتا ہے.

    مذکورہ بالا واقعہ گوش گزار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ چھری دکھاتے ہوئے قتل کی دھمکی کے الزام پر عدالت نے غریب ملزم یا مجرم کو جیل بھیج دیا اور دوسری طرف ایک درندے اور سفاک صفت قاتل کو اعتراف جرم کرنے کے باوجود عدالت سزا سنانے سے قاصر ہے. ایک ایسا سفاک قاتل جس کے خلاف جنسی تشدد، جسمانی تشدد، قتل، قتل کے بعد سر کو دھڑ سے الگ کرنے جیسے سنگین ترین الزامات ثابت ہو چکے ہیں. نور مقدم کا قاتل اثرورسوخ اور کافی طاقتور ہے یہی وجہ ہے کہ اعتراف جرم بلکہ اعتراف جرائم کے بعد بھی عدالت میں پیشیاں بھگتائی جا رہی ہیں. ملک عزیز میں قانون اور آئین کی پاسداری اور بالادستی ناپید ہو چکی ہے اور انصاف ملنا بہت مشکل ہو چکا ہے اور بالخصوص غریب آدمی کے لئے انصاف لینا تقریباً ناممکن بنتا جا رہا ہے. ایسے لاتعداد واقعات اور مقدمات ہیں جن میں ملزمان اعتراف جرم کرتے ہیں، اعتراف جرم کے بعد بھی ان کو سزا نہیں دی جاتی. دوسری طرف غریب آدمی بے گناہ ہوتے ہوئے بھی سزا اور جرمانے کا مستحق ٹھہرتا ہے. بعض اوقات سزا اور قید مکمل ہونے کے بعد بھی عام آدمی کو اضافی انتظار، محنت اور خرچہ کرنا پڑتا ہے، پھر کہیں جا کر اسکی جان چھوٹتی ہے.

    پچھلے سال لاہور موٹر وے پر ایک دلخراش واقعہ پیش آیا. ایک کار سوار عورت لاہور سے سیالکوٹ کا سفر کر رہی تھی، گاڑی میں تیل ختم ہونے پر مدد کی انتظار میں سڑک کنارے کھڑی تھی. دو موٹر سوار لوگوں نے جنسی زیادتی کی، جسمانی تشدد کیا اور کچھ سامان بھی چھین کر لے گئے. وہ دونوں مجرم عام پاکستانی تھے. پیسے اور تعلقات کے حوالے سے وہ کمزور مجرم تھے. ان دونوں کو پکڑ لیا گیا اور عدالت نے مختلف دفعات لگاتے ہوئے سزائے موت، قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں سنائیں. حالانکہ اس واقعہ میں عورت کو قتل نہیں کیا گیا، قتل کے بعد سر کو جسم سے الگ بھی نہیں کیا گیا، لاش کی بے حرمتی بھی نہیں گئی. پولیس اور ادارے مجرموں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے اور عدالت نے انہیں سخت سزا دی جس کے وہ یقیناً مستحق تھے. مجرموں اور متاثرہ عورت کے درمیان تعلقات اور طاقت کے حوالے سے بہت فرق تھا. متاثرہ عورت ان جیسی عام پاکستانی ہوتی یا مجرم عورت کے مساوی طاقتور ہوتے تو شاید عدالت فیصلہ کرنے میں عجلت سے کام نہ لیتی یا ابھی تک مقدمہ چلایا جا رہا ہوتا.

    نور مقدم واقعہ لاہور موٹروے واقعے سے کہیں زیادہ المناک، دردناک اور دلخراش واقعہ ہے. جس میں قاتل نے انسانیت کی ساری حدیں عبور کرتے ہوئے انتہائی سفاکانہ طریقے سے مقتولہ کو قتل کیا. قتل سے پہلے جنسی تشدد کیا، جسمانی تشدد کیا، پھر قتل کیا، قتل کے بعد پھر تشدد کیا، سر کو دھڑ سے جدا کر دیا. اس واقعہ پر بہت ساری بحث کی جا چکی ہے اور بحث ہو رہی ہے اور اب لوگوں کو اس قتل کے بابت معلوم کو چکا ہے. یہ ایسا درناک، افسوسناک اور المناک واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے اتنی کم ہے. مانا کہ قاتل اور مقتول دونوں اونچے درجے کے خاندان ہیں. دونوں کے پاس پیسوں اور تعلقات کی کوئی کمی نہیں. نور مقدم کے قاتل کا اعتراف جرم کے باوجود بھی اس کے خلاف سزا نہ سنائی جانا اس بات کی دلیل ہے کہ قاتل مقتول سے زیادہ طاقتور ہے. میری ذاتی معلومات کے مطابق مجرم نے دوران تفتیش اقبال جرم کر لیا تھا. دوسری طرف پولیس نے موقع واردات سے شواہد بھی اکٹھے کر لئے تھے اور کچھ عینی شاہدین کے بیانات بھی قلم بند کئے گئے تھے. اس سب کے باوجود قاتل ابھی تک سزا سے دور ہے.

    بمطابق 13 ستمبر بروز سوموار کو قاتل ظاہر جعفر کی پیشی تھی. احاطہ عدالت کے باہر لوگوں نے قاتل کو سزا دینے اور نور مقدم کو انصاف دینے کے لئے خاموش احتجاج کیا. ہمارا عدالتی نظام اور سزا و جزا کا عمل اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ لوگ کمرہ عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہیں پھر بھی ہماری عدالتیں ان مجرموں کو سزا دینے سے قاصر رہتی ہیں. مثال کے طور پر ذیل میں کچھ مشہور واقعات اور ان کا اعتراف کرنے والے مجرمین کا ذکر کرتے ہیں.

    کراچی وار گینگ کا سرغنہ عزیر بلوچ دوران تفتیش پولیس کے سامنے اور کمرہ عدالت میں معزز جج کے سامنے 120 سے زیادہ قتل، اغواء برائے تاوان، کراچی میں پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی شہادت، پڑوسی ملک کو حساس مقامات کی معلومات کی فراہمی جیسے سنگین ترین جرائم کا اعتراف کر چکا ہے مگر ابھی تک عدالت نے اسکو سزا نہیں دی. عزیر بلوچ کافی اثرورسوخ رکھنے والا طاقتور آدمی ہے. کراچی میں ایک فیکٹری کے دروازے باہر سے بند کر کے آگ لگا دی گئی تھی جس کے نتیجے میں 258 مزدور زندہ جل کر خاکستر ہو گئے تھے. آگ لگانے والا رحمان بھولا بیرون ملک سے گرفتار ہو کر عدالت میں پیش ہوا اور اقبال جرم کرتے ہوئے سب کچھ کچھ بتا دیا. میرے خیال میں بھولا ابھی تک زندہ ہے. شاہ زیب قتل واقعہ کے مرکزی مجرموں نے کمرہ عدالت میں قتل کا اعتراف کیا تھا مگر ان کو سزا نہیں سنائی جا سکی، اب تو سنا ہے کہ قاتل ملک سے بھی باہر چلا گیا ہے. لاہور میں کمسن گھریلو ملازمہ عظمی کو گھر کی مالکن نے قتل کیا، قتل کرنے کے بعد لاش کو گٹر میں پھینک دیا. مقتولہ نے اقبال جرم کیا، کچھ عرصے بعد عدالت نے مقتولہ کو رہا کر دیا تھا. خیبر پختونخواہ پولیس تہرے قتل میں مطلوب قاتل کو یورپ سے گرفتار کرکے پاکستان لے آئی، قاتل نے عدالت میں اعتراف جرم کیا. کچھ ہفتوں بعد غالباً دو یا تین لاکھ کے بدلے عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا. اس طرح کے واقعات سے ہماری عدالتی تاریخ بھری پڑی ہے.

    ناقابل تردید شواہد، مختلف تنظیموں اور پاکستانیوں کے پرزور مطالبے اور احتجاج کے باوجود ابھی تک قاتل کے خلاف سخت ترین کاروائی غیر یقینی نظر آ رہی ہے. عدالتی حوالے سے اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عدالتیں ظالم کو سزا دینے اور مظلوم کو انصاف دینے میں جلدی کریں. اب دیکھنا یہ ہے کہ قاتل ظاہر جعفر اور شریک جرم اس کے والدین کو عدالت کب اور کتنی سزا دیتی ہے یا پھر رہا کرتی ہے.

    ‎@mian_ihsaan

  • طالبان اور ان کے خلاف ہونے والا جھوٹا پروپیگنڈا تحریر: محمد رمضان

    طالبان اور ان کے خلاف ہونے والا جھوٹا پروپیگنڈا تحریر: محمد رمضان


    دیکھا جائے تو جب سے کابل فتح ہوا ہے تب سے اسلامی امارات کے خلاف بے بنیاد پروپیگینڈا شروع ہے ۔یہ پروپیگینڈا وہ لوگ کررہے ہیں جو تادم مرگ رہنے کا سوچ کر  افغانستان آئے تھے لیکن ان کے خواب خاک میں مل گئے 

    وہ چاہتے تھے کہ ہم افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان کے خلاف گھٹیا حرکات سرانجام دیں

    اس میں درج ذیل نکات شامل ہیں

    1.سب سے پہلا پروپیگنڈہ یہ تھا کہ یہ لوگ عورتوں کو کام پر نہیں جانے دیں گے لیکن انہوں نے عورتوں کے لیے نرس اور مختلف شعبوں میں کام جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی اور یہ پروپیگنڈہ بھی اپنی موت آپ مر گیا

    2۔دوسرا پروپیگنڈا یہ تھا کہ یہ لوگ بہت ظالم لوگ ہیں کابل فتح ہونے کے چند دنوں بعد اور امریکی اسلحہ اور ہیلی کاپٹر ہاتھ لگنے کے بعد طالبانوں نے ایک ہیلی کاپٹر اڑایا اور اس کے ساتھ نیچے رسی کےساتھ ایک مجاہد  کو لٹکا کر مشقیں کیں۔ تو انڈین میڈیا نے پروپیگنڈا کیا کہ یہ ایک امریکی ٹرانسلیٹر کو پھانسی دی جا رہی ہے

    3۔افغانستان کا ایک صوبہ پنجشیر جس پر نہ ہی سوویت یونین قبضہ کر سکی اور نہ ہی امریکہ اس کو حاصل کر سکا لیکن چند دنوں میں طالبان نے  اس پر قبضہ کرلیا  تو اس کے خلاف یہ پروپیگنڈا چلایا گیا کہ یہ سراسر پاکستانی مداخلت کی وجہ سے قبضہ ہوا ہے ورنہ طالبان کے اندر اتنی پاور کہاں سے آئی کہ جس کو سوویت یونین قبضے میں لے سکا اور نہ ہی امریکہ  قبضے میں لے سکا اس جنگ میں پاکستان کی مداخلت قرار دیدیا گیا اور کہا گیا کہ اس کے اندر پاکستان کے F16 جہاز اور  ڈرون استعمال ہوئے ہیں ۔جس کی ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے واضح الفاظ میں تردید کی

    4۔ااور پھر ملا حسن اخوند کے وزیراعظم بنتے ہی یہ کہا گیا کہ ایک میٹنگ کے دوران طالبان رہنماؤں کے لڑائی ہوئی جس میں ملا عبد الغنی برادر شدید زخمی ہوئے اور شاید فوت بھی ہوگئے 

    اس پرپیگنڈا کے پھیلنے کے بعد ملا عبد الغنی برادر کو بذات خود بیان جاری کرنا پڑا کہ وہ الحمداللہ خیریت سے ۔ وہ سفر میں تھے کہ شر پسند عناصر نے ان کے مرنے کی خبر چلادی

    لیکن ان کرپٹ لوگوں کو کوئی نہیں پوچھتا جو اپنے ساتھ 169ملین ڈالر لےکر افغانستان سےفرار ہوئےتھے۔ ان کےنائب امراللہ صالح کےپاس اتنا کچھ تھاکہ فرار ہونےسے پہلے 6.5 ملین ڈالر نقد اور سونےکی اینٹیں گھر پر چھوڑ دیں

    یہ وہ لوگ ہیں  جو کرپشن کو اپنا وتیرہ سمجھتے ہیں لیکن ان  کی 90فیصد آبادی 2 ڈالر یومیہ سے کم کماتی ہے۔

    جن کو کوئی کام نہ ملے وہ پردے پر پروپیگنڈہ شروع کردیتا ہے ۔ بندہ ان سے پوچھے ہمارا مذہب اسلام ہے اور اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے 

    مسلمانوں نے اسلام کے اصولوں پر چلنا ہے ۔جس طرح مسلمان آپ کے مذہب میں مداخلت نہیں کرتے اس طرح یورپ کو چاہیے کہ اسلام میں مداخلت نہ کریں

    اسی سلسلے میں ٹرمپ نے ایک بیان دیا کہ

    ہم چاہتے ہیں کہ

     خواتین نقاب نہ پہنیں لیکن پھر میں نے انٹرویو دیکھا جس میں انھوں نے کہا کہ ہم یہ پہننا چاہتی ہیں، اور ایک ہزار سال سے پہن رہی ہیں، کوئی ہمیں کیوں بتاتا ہے کہ اسے نہ پہنیں۔ جب وہ پہننچا چاہتی ہیں تو ہمیں کیا پڑی ہے کہ ہم اس میں دخل اندازی کریں۔ ڈونلڈ ٹرمپ

    جتنا پروپیگنڈا کرنا ہے کر لو لیکن طالبان افغانستان میں ایک حقیقت بن چکی ہے جسے تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی افغانستان کے اندر امن قائم رکھے

     آمین

    ‎@MRamzan26

  • اب اسے اس زہر کے ساتھ ہی جینا تھا تحریر:سید مصدق شاہ

    وہ دوراہے پر کھڑی تھی۔ اس کے آج کے فیصلے پر اس کی آنے والی زندگی کا دارومدار تھا۔ اس کے راہ زیست کو پھولوں سے سجنا تھا یا وہاں ہمیشہ کانٹے  ہی اگنے تھے یہ اس کے آج کے فیصلے پر منحصر تھا۔ اور وہ۔۔ وہ تو پھول اور کانٹوں میں تمیز ہی نہیں کر پا رہی تھی۔ گھر میں مہندی کا فنکشن جاری تھا۔ کل اس کی بارات آنی تھی۔ اماں کئی مرتبہ آکر اس کی بلائیں لے چکی تھیں۔ 

    لڑکیاں ڈھولک لیے اس کے گرد گھیرا بنائے بیٹھی تھی۔ گانے، شوخ قہقہے،ذومعنی جملے، چھیڑ چھاڑ اس سب میں اس کا رویہ کچھ اور ہونا چاہیے تھا 

    مگر وہ۔۔

     وہ تو تمام رونقوں سے پرے سوچوں کے عمیق سمندر میں گم تھی۔ 

    دوبارہ اسجد کا میسیج آیا تھا۔ اس نے لمبے چوڑے میسیج میں دوبارہ وہی کچھ لکھا تھا کہ وہ اس کے لیے کتنی اہم ہے اور وہ اس کے بنا نہیں رہ سکتا۔ زمانے کو لعن طعن محبت کے قسمیں وعدیں اور آخر میں دوبارہ وہی۔۔ بھاگ جانے کا مشورہ۔۔

     چاہتی تو وہ بھی یہیں تھی۔۔ اسجد اس کی دو سال کی محبت تھا جس سے وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔

     شادی تو وہ بھی کرنا چاہتا تھا۔ مگر کامران بیچ میں آگیا۔ کامران اس کا تایا زاد۔

     اس نے بہت کوشش کی منع کرنے کی مگر اس کی ایک نہ سنی گئی۔

    اسے آج فیصلہ کرنا تھا۔ ایک طرف اس کے والدین کے ہنستے مسکراتے چہرے تھے اور دوسری طرف اسجد کی محبت۔ 

    وہ سوچ رہی تھی اگر اس نے ایسا کوئی قدم اٹھا لیا تو کیا اس کے ابا معاشرے میں دوبارہ سر اٹھا کر جی پائیں گے۔

    وہ مسکان جو ابھی اماں کے چہرے پر سجی ہے کیا وہ دوبارہ مسکرا پائیں گی۔

    اسے یاد آیا وہ تو دل کی مریض تھیں۔ کیا وہ یہ صدمہ سہار پائیں گی۔ بہت سے اگر اس کا دل دہلا رہے تھے۔اور اس سے چھوٹی نادیہ۔۔ 

    اگر وہ بھاگ گئی تو نادیہ کے لیے گھر کی دیواریں اتنی اونچی کر دی جائیں گی کہ وہ باہر کی دنیا میں جھانک بھی نہ سکے۔کیا وہ ان رشتوں کے بغیر رہ پائے گی۔

     کیا وہ خون کے رشتوں سے کٹ کر سکون کے ساتھ جی پائے گی۔۔نہیں۔۔

    پر جی تو وہ اسجد کے بنا بھی نہیں پائے گی اس کے دل سے صدا آئی۔

    دل کچھ کہتا اور دماغ اسے رد کر دیتا۔ اور دل بھی کہاں دماغ کے پیش کردہ حقائق کو تسلیم کرتا۔

     اس دل و دماغ کی جنگ میں سبین اسے کھانا دینے آئے جسے اس نے بھوک نہیں ہے کہہ کر واپس بھجوا دیا۔۔

    اف۔۔ کیا کرے وہ۔۔ اسجد کے میسج پر میسج آرہے تھے۔

     اس نے ملتان کے لیے دو ٹکٹ لے لیے تھے۔۔فیصلہ ہو چکا تھا۔

     محبت اور رشتوں کی جنگ میں خون کے رشتوں کو مات ہوئی تھی۔

     اس نے سر درد کا بہانہ کیا اور کمرے میں چلی آئی۔

    وہاں آکر اس نے کاغز قلم ڈھونڈا۔ کانپتے ہاتھوں سے کچھ سطریں لکھی اور کاغذ ٹیبل لیمپ کے نیچے رکھ دیا۔

    کھڑکی کے راستے وہ گھر کے پچھلی جانب آئی جہاں اسجد اپنے دوست کی گاڑی لیے تیار کھڑا تھا۔ اس نے آخری نظر گھر کو دیکھا۔

    کچھ چہرے آنکھوں کے سامنے لہرائے۔ اس کے قدم لڑکھڑائے مگر فیصلہ تو وہ کر چکی تھی اب اس پر عمل کرنے کا وقت تھا۔ وہ پہلے اسجد کے دوست کے گھر گئے وہاں ان کا نکاح ہوا۔ پھر اس کا دوست خود انہیں سٹیشن تک چھوڑنے آیا۔

    گاڑی لاہور سٹیشن سے نکلی تو اسے لگا جیسے وہ اپنے وجود کا ایک حصہ یہیں کہیں چھوڑے جا رہی ہے۔

     آنسوؤں کی باڑ سے دور جاتا لاہور ریلوے سٹیشن اب دھندلا ہوتا جا رہا تھا۔،،

    دو سال بیت چکے تھے تھے اسے اب کبھی کبھار گھر والوں کی یاد ستاتی 

    دل انہیں ملنے کو تڑپ اٹھتا  مگر ننھی لائبہ نے اس کی توجہ ہٹا دی تھی ماضی کی تمام یادیں لائبہ کی ننھی قلقاریوں میں گم ہوجاتیں اسجد بھی تو بہت اچھا تھا اس کے ساتھ اس نے اپنی محبت کے تمام وعدے وفا کیے

    مگر پھر بھی کہیں ایک خلاصہ باقی رہتا وہ بھی جانتی تھیں کہ خلا کہیں باہر نہیں بلکہ اس کے اندر ہے مگر پھر بھی زندگی حسین تھی اور حسین ہی رہتی اگر اس روز مال میں اسے وہ نہ ملتی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ لائبہ کو لے کر شاپنگ مال گئی تھی جب پرام کو بچوں کو سیکشن کی طرح دکھیلتے ہوئے اس کی نظر اس لڑکی پر پڑی

     ایک پل کو جیسے اسے یقین نہ آیا یقینا وہ نادیہ تھی

     اس کی نظر بھی پڑھ چکی تھی اور آنکھوں میں شناسائی کی چمک ائی وہ قدم اٹھاتے اس کے پاس چلی آئی

     کیسی ہو نادیہ؟

     دل تو شدت کے ساتھ اسے گلے لگانے کا چاہ رہا تھا تھا مگر بیچ میں دو سال کا فاصلہ حائل تھا 

    میں ٹھیک ہوں اپا

     تم کیسی ہو ؟ اس نے بمشکل چہرے پر مُسکان سجا لی تھی

    تم ۔۔۔۔یہاں کیسے۔۔۔

    اس کی حیرت ہنوز قائم تھی

    میں یہاں دو ماہ پہلے آئی تھی کامران کی پوسٹنگ ہوگئی ہے نا یہاں

    کامران ۔۔۔۔ اس نے بے یقینی سے اپنی چھوٹی بہن کی طرف دیکھا

    ہاں آپا کسی نے تو ابا کی عزت رکھنی تھی نا

    اسے یقین نہیں آرہا تھا نادیہ اس سے پانچ سال چھوٹی تھی یعنی کامران نادیہ سے آٹھ سال بڑا تھا ایسے میں کوئی مرد شاپنگ بیگ تھامے اس کی جانب آیا تھا بلاشبہ کامران تھا اسے دیکھ کر وہ پل کو ٹھٹکا

     پھر چہرے پر سختی کے آثار آگئے 

    میں کاونٹر پر ہوں وہی آجانا نادیہ کو بتا کر وہ کاونٹر کی طرف بڑھ گیا

     آپی یہ تمہاری بیٹی ہے؟

    اس کی نظر ابھی لائبہ پر پڑی تھی۔۔ ہاں ، اس نے جھک کر اسے پیار کیا تھا ماشاء اللہ بہت پیاری ہے

    کامران ٹھیک ہے نا تمہارے ساتھ ؟

    اس کے دل میں کئی اندیشے جاگ رہے تھے

    ہاں کامران بہت اچھے ہیں آپا وہ نا بھی بولتی تو اس کے چہرے پر آنے والے رنگ خوشگوار ازدواجی زندگی کا پتا دے رہے تھے 

    اور اماں ابا۔۔۔؟ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا

    وہ فورا سیدھی کھڑی ہوئی لبوں کی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی اپا تم مغرور تھی ان کا

    تمہیں دیکھ کر جیتے تھے وہ

     تم نے اماں سے ان کی زندگی اور ابا سے ان کا غرور چھین لیا

    اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا

    تمہارے جانے کے بعد انہیں دل کا دورہ پڑا تھا اور وہ جان لیوا ثابت ہوا وہ الفاظ نہیں تھی بلکہ پھگلا ہوا سیسہ تھا جو اس کے کانوں میں انڈیلا جا رہا تھا

    وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی

    ابا تو شاید اس دن کے بعد بولنا ہی بھول گئےکبھی کسی نے انہیں ہنستے ہوئے نہیں دیکھا

    اسے لگا کہ کسی نے اس کا دل مٹھی میں لے کر مسل دیا ہے

    آپا پتہ ہے اماں نے مرنے سے پہلے تمہارے بارے میں کیا کہا تھا؟

    وہ یک ٹک اسے دیکھنے جارہی تھی

    ماں نے کہا تھا تم بھی میری طرح یوں ہی تڑپو گی  اسے لگا کہ کسی نے اسے پاتال میں دھکیل دیا ہو

    وہ کتنی ہی دیر گم صم کھڑی رہی نادیہ اپنی بات کہہ کر جا چکی تھی وہ بھی اپنے اعمال کردہ گناہوں کا بوجھ اٹھائے گھر کو چل پڑی بے آب اسے پوری زندگی اس بوجھ کے ساتھ جینا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وقت ماہ و سال پر اپنی گرد ڈال کر انہیں ماضی میں بدلتا رہا اور یوں 20 سال گزر گئے لائبہ جوان ہو چکی تھی اللہ نے لائبہ کے بعد اسے کوئی اولاد نہیں دی

     وقت نے اس کے بالوں میں چاندی اتار دی تھی

     سب کچھ بدل گیا تھا اگر کچھ نہیں بدلا تو اس کا پچھتاوا  تھا 

    اسے روز رات کو خواب میں اماں ابا کا چہرہ نظر آتا تھا

     اسے نادیہ کی باتوں کی گونج سنائی دیتی اماں اس کا کاندھا جھنجوڑ کر کہتی تو نے ہمیں تڑپایا ہے تو بھی یوں ہی تڑپے گی وہ نیند میں جاگ جاتی اور دوبارہ سو ہی نا پاتی

     اب تو اسے نیند اور دواؤں کے بنانیند ہی نہیں آتی جاگتے ہوئے بھی ایسے ہی خیال ذہن میں آتے رہتے ہیں

    سب کہتے لائبہ بالکل اس پر گئی ہے وہی آنکھیں وہی ناک نقشہ اور وہ دہل جاتی 

    کہیں وہ بھی میری طرح۔۔۔۔۔۔

    اس سے آگے وہ سوچ نا پاتی

    وہ ہر وقت اسے دیکھتی رہتی اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کرتی جوں ہی وہ کالج سے اتی اس کا بیگ گھنگالتی۔

    وہ سو رہی ہوتی تو کئی بار اس کے کمرے میں جا کر اسے دیکھ کر تسلی کرتی اسجد اور لائبہ دونوں ہی اس کے ان عادت سے نالاں تھے

    اسجد تو پھر سمجھ جاتا پر لائبہ اس پر چڑھ دوڑتی اسے خوب سناتی پر وہ پھر بھی نہ رہ پاتی

     ٹی وی میں یا کسی شخص سے کسی لڑکی کے گھر سے بھاگ جانے کا سنتی تو اس کا زخم ہرا ہو جاتا کئی دن  گم صم بیٹھی رہتی ایسے میں وہ خود سے بھی بے خبر رہتی اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتی رہتی 

    پھر کچھ دن بعد اسی جون میں واپس آجاتی اور لائبہ کے ساتھ وہی رویہ اپنا لیتی

    ڈاکٹرز کہتے تھے کہ اسے کوئی نفسیاتی عارضہ ہے مگر وہ تو اپنے اعمال کی فصل کاٹ رہی تھی جو زہر اس نے 20 سال پہلے بویا تھا اب وہ ایک تناور درخت بن چکا تھا اور اس کا زہر اس کے اپنے جسم میں سرایت کر چکا تھا

     اب اسے اس زہر کے ساتھ ہی جینا تھا اس زہریلے درخت کی چھاؤں تلے

    (ختم شدہ)

    Tweeter Id Handel:  @

  • دو کپ چائے (مہنگے دام سستی چائے)    تحریر: علی خان۔ 

    دو کپ چائے (مہنگے دام سستی چائے)   تحریر: علی خان۔ 

    انگریز برصغیر پر سو سال حکومت کے بعد ویسے تو بہت سی یادیں چھوڑ گئے لیکن نظام تعلیم، ڈی سی اور چائے کا مقابلہ کوئی اورچیز  نہیں کرسکتی۔ چین سے چائے کے پودے لا کر برصغیر میں اگانے اور دنیا بھر می بیچنے کے ساتھ ساتھ اہلیان برصغیر کو بھی اس سوغات سے متعارف کروایا گیا۔ اس سے قبل چائے صرف حکیموں کے پاس دوا کے طور پر موجود ہوتی اور بیماروں کو پلائی جاتی۔ یعنی چائے کے ساتھ بھی وہی حال گزرتا کہ کسی منچلے نے کہا کہ غریب کے گھر مرغ دو ہی صورتوں  میں پکتا ہے کہ بندہ بیمار ہو یا ککڑ بیمار ہو۔ خیر برصغیر میں لپٹن چائے کی ترویج ایسے کی گئی کہ شہروں  میں سڑک کنارے اسٹال لگا کر بسکٹ کے ساتھ چائے پیش کی جاتی۔ چینیوں کی گرم پانی میں ابلی پتیوں کی جگہ جب دودھ اور چینی ڈال چائے بنائی گئی تو دیسیوں کو یہ خوب بھائی اور ہر گھر میں خوراک کا لازم جزو قرار پائی

    جیسے ڈی سی نظام پورے برصغیر میں پوری شان و شوکت کے ساتھ چل رہا ہے اسی طرح  چائے بھی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ سندھ میں آپ مہمان کی تمام خاطر تواضع کرلیں لیکن اگر چائے کا نہ  پوچھیں تو مطلب آپ نے گویا مہمان کی خدمت نہیں کی۔ چائے بنانے کی ترکیب اور پیشکش میں کہیں علاقے کے حساب سے تبدیلیاں آئیں تو کہیں معاشرت کے حساب سے۔ گاوں والے پیالوں میں چائے پینے لگے تو شہری بابو ننھی پیالوں میں چسکیاں لیتے ہیں۔ بھارت میں چائے گلاسوں میں پینے کا رواج عام ہے۔ ادرک والی چائے، دارچینی والی چائے، پودینے والی چائے، الائچی والی چائے اور آج کل کی مقبول عام تندوری چائے۔ ان گنت اقسام، پیشکش کے ان گنت طریقے اور معاشرتی مقام سب کا آپس میں کنکشن سا بن گیا ہے۔ کسی کو چائے میں بسکٹ ڈبو کھانا سب سے مزے کا کام لگتا تو کہیں اسے بدتہذیبی اور گنوار پن گردانا جاتا

    برصغیر میں ]ڈی سی اور چائے کی طرح نظام تعلیم اور چائے میں بھی کچھ مشترک روایات ہیں۔ ہمارے وزیراعظم ملک میں رائج کئی درجاتی اور طبقاتی نظام تعلیم کا ذکر کرتے ہیں تو چائے پینے پلانے اور فروخت کرنے میں بھی ایسا ہی مختلف درجاتی نظام رائج ہے۔ اگر نظام تعلیم مدرسوں، سرکاری اور ٹاٹ اسکولوں، گلی محلے کے پرائیویٹ اردو میڈیم اسکولوں، قدرے اچھے پرائیویٹ انگریزی میڈیم اسکولوں اور کیمبریج و آکسفورڈ گرامر اسکولوں میں تقسیم ہے تو چائے خانے بھی ڈھابوں، روایتی دیسی ہوٹلوں، اچھے ریسٹورنٹوں اور تین چار پنج ستارہ ہوٹلوں میں تقسیم ہیں۔ آپ کی جیب پر منحصر ہے کہ آپ 20 روپے کپ والی چائے پینا چاہتے ہیں یا دو سو اور بعض صورتوں میں پانچ سو، ہزار اور دو ہزار والی۔ آج کل اس طبقاتی نظام میں اوپن ائیر چائے خانوں کا رواج چل نکلا ہے جو آپ کو چائے کے ساتھ دلچسپ مصروفیات بھی فراہم کرتے ہیں جن میں لڈو، کیرم، لائیو قوالی اور دیگر شامل ہیں۔ اس سب طبقات میں کسی بھی جگہ ذائقے کی کوئی گارنٹی نہیں۔ ہوسکتا ہے آپ کو بیس یا تیس روپے فی کپ میں مزیدار اور من پسند چائے ملے اور پانچ سو یا ہزار روپے خرچ کرکہ بھی مزہ نہ آئے۔ جیب اور موڈ آپکی چائے کا مقام طے کرتے ہیں۔ بڑی شاہراوں کنارے کچھ ٹرک ہوٹلوں کی چائے اتنی مزیدار ہوتی ہے کہ پبلک دور دور سے اسکا مزہ لینے آتی ہے۔ 

    جیسے وزیراعظم کو نظام تعلیم میں تقسیم پر اعتراض ہے تو مجھے بھی چائے خانوں کی طبقاتی تقسیم پر اعتراض ہے۔ ماحول اچھا ہونا ضروری ہے لیکن چائے کا ذائقہ بھی اچھا ہونا چاہیے۔ صرف شان و شوکت کی خاطر ان چائے خانوں کا رخ کیا جائے اور مزہ نہ آئے تو دل میں شدید خواہش اٹھتی ہے کہ وزیراعظم کسی روز یہ بھی اعلان کردیں کہ "چائے خانوں میں طبقاتی تقسیم ختم کرکہ یکساں ریٹ کا نفاذ کیا جائے گا”

  • کراچی کنٹونمنٹ کے انتخابات اور کراچی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کراچی کنٹونمنٹ کے انتخابات اور کراچی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات گزشتہ دنوں منعقد ہوئے اس انتخابات کے لئے تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے کراچی میں چھ کنٹونمنٹ بورڈز ہیں جن کو 42 وارڈوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان 42نشستوں کے لیے 354 امیدوار کھڑے کیے گئے تھے۔ جن کے رجسٹر ووٹرز کی مجموعی تعداد 466،522 بنتتی ہے۔
    یہ معرکہ پاکستان تحریک انصاف نے چودہ سیٹوں کے ساتھ سر کر لیا جبکہ گیارہ سیٹوں کے ساتھ پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر رہی۔تیسرا نمبر آزاد امیدواروں نے چھ سیٹوں کے ساتھ حاصل کیا اس کے علاوہ جماعت اسلامی پانچ سیٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر اور ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ نواز تین تین سیٹوں سے پانچویں نمبر پر رہیں۔
    کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (CBC) کراچی کا سب سے زیادہ آبادی والا کنٹونمنٹ علاقہ ہے جہاں کی مجموعی آبادی 305،938 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹرز 190،280 ہیں یہاں 10 وارڈوں میں 104 امیدوار میدان میں تھے۔پیپلز پارٹی چار،تحریک انصاف،جماعت اسلامی اور آزاد امیدواروں نے دو دو نشستیں حاصل کیں۔
    کنٹونمنٹ بورڈ فیصل (CBF) دوسرا سب سے بڑا کنٹونمنٹ علاقہ ہے جس کی زیادہ تر آبادی اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے اور ایک زمانے میں یہ علاقہ ایم کیوایم کا تصور کیا جاتا تھا یہاں کی مجموعی آبادی296،469 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹر 159،983 ہیں اس علاقے کو بھی 10 وارڈمیں تقسیم کیا گیا ہے جن میں 88 امیدوار کونسلر کی نشست کے لیے انتخاب لڑ رہے تھے۔یہاں تحریک انصاف نے چھ ،پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی،مسلم لیگ نواز اور آزاد امیدوار ایک ایک نششست حاصل کی۔
    علاوہ ازیں کنٹونمنٹ بورڈ ملیر کے دس واڈوں کے کونسلر کی نشستوں کے لیے 66 امیدوار میدان میں تھے یہاں کی مجموعی آبادی 139،052افراد پر مشتمل ہے جن میں صرف 36،447 افراد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔یہاں بھی پاکستان تحریک انصاف نے اپ سیٹ کیا اور پانچ نششستیں حاصل کیں جبکہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے دو دو اور ایک سیٹ آزاد امیدوار نے حاصل کی۔
    کورنگی کریک کنٹونمنٹ بورڈز میں پانچ وارڈ ہیں جن کی آبادی 57،745 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 21,424 ہے اور یہاں 49امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔مسلم لیگ نواز دو نشستوں پر اور ایم۔کیوایم،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک ایک نشستوں پرکامیاب ہوئے۔
    کراچی کنٹونمنٹ بورڈ KCBکراچی کا قدیم کنٹونمنٹ علاقہ ہے یہاں کی مجموعی آبادی 68,877افراد پر مشتمل ہے اور رجسٹرڈ ووٹر 36,970ہیں اس علاقے کے پانچ واڈوں کے لئے 40امیدوار میں مقابلہ تھا اوریہاں ایم کیو ایم نے دو پیپلز پارٹی نے ایک جبکہ دو آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔
    جزیرہ نما کنٹونمنٹ بورڈ منورہ کراچی کا سب سے چھوٹا کنٹونمنٹ بورڈ ہے جہاں صرف دو وارڈ ہیں جن میں7 امیدوار میدان میں تھے ، اس کی آبادی صرف 5،874 افراد پر مشتمل ہے اورجس میں سے صرف 3،544 افراد رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔
    یہاں کی دونوں نششستوں پر پیپلز پارٹی کامیاب ہوئ۔
    تحریک انصاف وہ واحد جماعت تھی جس نے تمام 42 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے یہ بڑی خوش آئیند بات ہے کہ اگر قومی سیاست میں کامیابی کو مضبوط بنانا ہے تو گراس روٹ لیول پر بھی اپنا قبضہ پکا کرنا ہو گا اور رفتہ رفتہ تحریک انصاف اس میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے ایم کیو ایم کے اندرونی انتشار کے بعد کراچی کی سیاست میں جو خلاء پیدا ہوگیا تھا اسے تحریک انصاف پر کرتی نظر آرہی ہے اور یہاں کا ووٹر مہنگائ پر شکایت تو کرتا نظر آتا ہے لیکن ووٹ صرف تحریک انصاف کو ہی دینا چاہتا ہے۔۔اللہ کرے کراچی کے ووٹرز تحریک انصاف اور عمران خان صاحب سے جو توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں وہ جلد پوری ہوں۔

    @Azizsiddiqui100

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی اور جنسی بے راہ روی تحریر: روبینہ۔

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی اور جنسی بے راہ روی تحریر: روبینہ۔

    موجودہ زمانے میں فحاشی اور جنسی بے راہ روی کے جس طوفان نے تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، اب وہ ہمارے دروازے پر ہی دستک نہیں دے رہا بلکہ ہمارے گھروں کے اندر بھی داخل ہو چکا ہے ۔ ٹی وی ، ڈش ، انٹرنیٹ اور دیگر مخرب اخلاق پرنٹ میڈیا کے ذریعے ہماری نوجوان نسل جس انداز میں اس کا اثر قبول کر رہی ہے ، اس کے پیش نظر یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ ہم بھی یورپ اور امریکا کے نقش قدم پر نہایت تیزی کے ساتھ چلے جارہے ہیں ، جس پر وہ عیسائی مذہبی رہنماؤں کی غلط تعلیمات و نظریات کے نتیجے میں آج سے ایک ڈیڑھ صدی قبل رواں دواں ہوئے تھے ۔ امریکا اور یورپ اس جنسی بے راہ روی کی وجہ سے بن بیاہی ماؤں ، طلاقوں کی بھرمار ، خاندانی نظام کی تباہی اور جنسی امراض بالخصوص ایڈز کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر کھڑے ہیں ۔ کیا مسلمان ممالک بھی انھی نتائج سے دوچار ہونا چاہتے ہیں ؟ یہ اور اس قسم کے چند سوالات ہیں جنھوں نے اس ملک کے سوچنے سمجھنے والے طبقے کو پریشان کیا ہوا ہے ۔ اس کا علاج ایک طرف امریکا ، یورپ اور اقوام متحدہ کی جانب سے مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے ایک جال ہم رنگ زمیں کے ذریعے مسلمان ممالک کو اسی رنگ میں رنگنے کے لیے کوششوں سے ہو رہا ہے ۔ تاہم اس کا دوسرا یقینی اور قابل اعتماد حل وہ ہے جو ہمیں قرآن اور اسلامی تعلیمات کے ذریعے دیا گیا تھا ، جسے نظرانداز کرنے اور بھلانے سے ہم آج اس دوراہے پر کھڑے ہیں ۔

    عورتیں بھی اس معاملہ میں پیچھے نہیں ہیں۔ جسم فروشی کا دھندہ بھی دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ ہم جنس پرست عورتوں کی تعداد بھی قابل ذکر ہے۔ سیکس ورکرز کی تعداد ہمارے ملک میں، ایک سروے کے مطابق، اس وقت 3 لاکھ کے قریب ہے۔ جس میں میل اور فی میل دونوں ہیں۔ ہم جنس پرستی کے حوالے سے ایک سروے اور تحقیق کے مطابق ایسے ایسے لوگوں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ جن کے بارے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا اور اگر ان کے نام لئے جاتے ہیں تو شاید کفر کے فتوے شروع ہو جائیں اور بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے بھی ہوں۔

    اعلی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں رہائش پذیر بڑے بڑے نام والے "معززین” اور ان کے بچے اور بچیاں نہ صرف ہم جنس پرستی کی دلدادہ ہیں بلکہ جنسی بے راہ روی کے فروغ کے لئے بھی خدمات انجام دے رہی ہیں جنسی فاقہ کشی کا یہ عالم ہے کہ معصوم بچوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انٹر نیٹ میں ننگی فلمیں اور تصاویر دیکھنے والے دنیا بھر میں پاکستانیوں کا پہلا نمبر ہے۔ بچوں سے زیادتیاں، کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ریپ، زنا بالجبر جیسے واقعات سے اخبارات بھرے ہوتے ہیں۔

    جنسی بے راہ روی کی وقتی لذت خاندان کی مضبوط اساسات کو تہس نہس کر دیتی ہے۔ مرد و عورت کا رشتہ کچے دھاگے کی طرح ٹوٹتا اور خاندان کا ادارہ ریت کے گھروندے کی طرح بکھر جاتا ہے۔ جوان مرد و عورت اس طرح کے حادثات سے وقتی طور پر متاثر ہوتے ہیں اور پھر زندگی اپنی ڈگر پر چل پڑتی ہے، مگر بچوں کی شخصیت اس عمل میں بکھر جاتی ہے۔ والدین کی علیحدگی انھیں اپنی زندگی کے سب سے بڑے سکون سے محروم کر دیتی ہے۔ ان کی زندگی قربانی، ایثار و محبت کے بجائے خود غرضی، جھگڑے، فساد اور بے صبری کا نمونہ بن جاتی ہے۔

    جنسی بے راہ روی بظاہر ایک خوشنما چیز ہے۔ مگر اس کے نتائج معاشرے کے لیے تباہ کن ہوتے ہیں۔ انسانیت نے یہ بات نہ سمجھی تو انسانوں کا مستقبل بہت خوفناک ہوگا۔

    From: Rubina

    @RubinaViews

  • کنٹونمنٹ انتخابات میں پی ٹی آئ کی کارکردگی تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    کنٹونمنٹ انتخابات میں پی ٹی آئ کی کارکردگی تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    کنٹونمنٹ انتخابات میں بحیثیت ایک سیاسی جماعت کے،

    اگرچہ پی ٹی آئ نے پورے ملک میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ نشستیں لی ہیں،

    مگر پنجاب میں اسے شدید دھچکہ لگا ہے۔

    یہاں پر نواز لیگ سیٹوں کے لحاظ سے آگے ہے۔

    راولپنڈی،ملتان اور لاہور میں بھی 

    پی ٹی آئ کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    اگرچہ خیبر پختونخواہ ،بلوچستان اور سندھ میں نتائج اچھے رہے،

    جس کے باعث مجموعی برتری تو 

    پی ٹی آئ کو ملی مگر پنجاب میں شکست بہت زیادہ الارمنگ ہے۔

    اسکے آئندہ انتخابات پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئ کے لئے مرکز میں حکومت بنانا پنجاب میں کامیابی سے مشروط ہو گا۔

    عثمان بزدار کی بطور وزیر اعلی واجبی سی کارکردگی کی جھلک ان انتخابات میں بھی نظر آئ۔

    بُزدار پر ہر طرف سے تنقید کے باوجود کپتان کا اعتماد اُس پر قائم ہے۔

    یہی اندھا اعتمادکپتان کی اننگز کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔

    عمران خان کو حقیقی بنیادوں پر بُزدار کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے،

    وگرنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ پنجاب میں حکومت ہونے کے باوجود اسی طرح نواز لیگ پھرجیت گئی،

    جس طرح کئی ضمنی انتخابات میں اس نے پی ٹی آئ کو ہرا کر اپنے میدان میں ہونے کا ثبوت دیا۔

    نہ تو ان ضمنی انتخابات کی شکستوں سے سبق سیکھا گیا اور نہ ہی کنٹونمنٹ الیکشن کی پنجاب میں اس ہار  سے سبق سیکھنے کی کوئ امید ہے۔

    وجہ اسکی یہ ہے کہ عمران خان کے ارد گرد بھی کچھ خوشامدیوں کا حصار ہے،

    جو ہر تباہی کے بعد خود ساختہ دلائل سے سب اچھا کی رپورٹ دے دیتے ہیں۔

    موجودہ کنٹونمنٹ انتخابات میں اپنی خراب کارکردگی پر پردہ ڈالنے کے لئے جو سب سے بڑالولی پاپ دیا جا رہا ہے،

    وہ یہ ہے کہ اچھی خاصی تعداد میں جیتنے والے آزاد امیدوار بھی ہمارے ہیں۔

    یہ بات انتہائ مضحکہ خیز ہے،

    اس بات میں کوئ دم نہیں،

    کیونکہ یہ لوگ اگر پی ٹی آئ کے تھے تو پی ٹی آئ کے ٹکٹ پر کیوں نہیں جیتے؟

    اگر انکا تعلق پی ٹی آئ سے تھا تو انکو ٹکٹ کیوں نہیں دئیے گئے؟

    یہ بھی ایک طرح سے پی ٹی آئ کے کرتا دھرتا افراد کی نااہلی ہے۔

    مطلب یہ ہوا کہ زمہ دارلوگ ٹکٹوں کی منصفانہ تقسیم میں بھی ناکام رہے؟

    ٹکٹوں کی غیر منطقی اور غیر منصفانہ تقسیم ماضی میں بھی اکثر پی ٹی آئ کی کامیابیوں کے آڑے آتی رہی ہےہے۔

    عمران خان کو ٹکٹ تقسیم کرنے والے افراد کے محاسبے کی بھی سخت ضرورت ہے۔

    انتخابی نتائج کو ان افراد کی کارکردگی کا معیار بنایا جاۓ۔

    انہیں اس فارمولے کے پیچھے چھپنے کی اجازت نہ دی جاۓ کہ آزاد بھی ہمارے ہیں۔

    اگر آزاد تمہارے ہیں تو تم کس کے ہو؟

    کیا تم لوگ عمران خان کے بجاۓ کسی اور کے لئے کام کر رہے ہو،

    جو تمہارے ٹکٹ یافتہ ہار جاتے ہیں اور جنہیں تم ٹکٹ نہیں دیتے،

    وہ جیت جاتے ہیں،

    کیوں ؟

    کیا یہ نااہلی نہیں ہے؟

    کیا یہ کپتان کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کے برابر نہیں ہے؟

    اس ناقص کارکردگی کے تناظر میں دیکھا جاۓ تو بہت سے وزرا،مشیر اور ممبران اسمبلی اپنے اپنے علاقوں سے لاتعلق ہو چکے ہیں،

    ان لوگوں کے عام آدمی سے رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    ن لیگی دور کی طرح پی ٹی آئ کے ان زمہ داران کے رابطے علاقہ میں اپنے ان خاص ٹاؤٹوں سے ہیں،

    جو اپنی غلط کاریوں اور مال بناؤمہم سے نام کپتان کا بدنام کر رہے ہیں۔

    انہیں اس سے غرض نہیں کہ لوگ خان کے نظریے سے دور ہوجائیں گے،

    انہیں اگر مطلب ہے تو اپنی اپنی دیہاڑیوں سے،

    جو وہ خوب کھری کر رہے ہیں۔

    عمران خان کو اپنے ان ریلو کٹے ٹائپ وزرا اور مشرا کی گردنوں میں آیا ہوا سریا نکال کے عوام میں بھیجنا ہو گا،

    جو ٹیگ کئے جانے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

    عوامی مسائل حل کرنا تو دور کی بات،

    یہ ایسی باتوں کا نوٹس تک نہیں لیتے،

    سوشل میڈیا ٹیمیں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اپنا سر دیوار سے ٹکرا کر انہیں مسائل سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں،

    مگر یہ ایسے ہی ثابت ہوتا ہے،

    جیسے بھینس کے آگے بین بجانا۔

    ابھی نور مقدم کیس کو ہی لے لیں۔اس کیس میں جو بربریت ہوئ،

    اُس پر سوشل میڈیا پر ٹرینڈز پر ٹرینڈز کئے جا رہے ہیں،

    مگر حکومتی نمائندگان مجرمانہ خاموشی کا شکار ہیں،

    حالانکہ نور مقدم کا بیہمانہ قتل ایک انسانی المیہ ہے،

    جس پر متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی حکومت وقت کا فرض ہے۔

    جب تک حکومتی نمائندےعوام میں جا کر اپنے کلف والے کپڑے خراب نہیں کریں گے،

    اس وقت تک پی ٹی آئ وہ زور نہیں پکڑ پاۓ گی،

    جس کی اُسےاگلے عام انتخابات میں فتح کے لئے ضرورت ہے۔

    اب آجاتے ہیں اُس بڑی وجہ کی طرف جو ہر موقع پر پی ٹی آئ کی کارکردگی کو گہنا رہی ہے۔

    وہ ہے مہنگائ۔

    یہ مہنگائ جینوئن ہے،

    خود ساختہ ہے یا مافیاز کے کچھ حربوں کی بدولت۔

    اس مہنگائ کے دفاع میں کم ازکم میرے پاس کوئ ایک لفظ بھی نہیں ہے۔

    ہم تھک گئے ہیں لوگوں کو طفل تسلیاں دیتے ہوۓ۔

    اب لوگ مزید لوریاں سُننے کو تیار نہیں ہیں،

    وہ ہر لحاظ سے اس مہنگائ کی کمر پر حکومت کی طرف سے لگائ جانے والی ضرب کاری دیکھنا چاہتے ہیں۔

    مہنگائ کے ستاۓ لوگوں میں اب مزید خواہ مخواہ کی تسلیاں سننے کی سکت نہیں رہی۔

    مزید جھوٹی تسلیاں لوگوں کو پی ٹی آئ سے دور اور ن لیگ اور پی پی جیسے مافیاز کے نزدیک کرنے کا باعث بنیں گی۔حکومت کو کچھ کرنا ہوگا۔

    لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا،

    مہنگائ نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔

    اب انہیں کسی قسم کا نیا لولی پاپ دینے کے بجاۓ مہنگائ کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں تاکہ آئندہ کے انتخابی معرکوں میں پی ٹی آئ اور کپتان کی سوچ سُرخرو ہو سکے۔

    اگر مہنگائ کے خاتمے اور کرپٹ افراد سے لوٹی دولت کی واپسی کے لئے اقدامات نہ کئے جا سکے تو نواز لیگ اور پیپلزپارٹی جیسی نحوستوں کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے نہیں روکا جا سکے گا۔

    لوگوں کو بیوقوف بنانا انہیں خوب آتا ہے،

    انکی اب بھی کوشش ہے کہ مہنگائ کی اس موجودہ لہر کو کیش کروا کے اپنے دہائیوں کے گناہ اور کرپشن معاف کرواکر لوٹ مار کا سلسلہ پھر سے شروع کیا جا سکے۔

    عوام مہنگائ کے ہاتھوں تنگ ہونے کے باوجود عمران خان کا ساتھ دینا چاہتے ہیں،

    مگر اس ساتھ کو حاصل کرنے کے لئے حکومت کو بھی کچھ نہ کچھ سیر حاصل کرنا ہو گا#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • بازارِ حسن سے ٹِک ٹاک تک تحریر زوہیب خٹک

    بازارِ حسن سے ٹِک ٹاک تک تحریر زوہیب خٹک

    جواز اور دلیل دی جاتی ہے کہ عوام ٹک ٹاکرز کو پسند کرتی ہے ۔۔ اس لیے حکومت بھی ٹک ٹاکرز کو سراہتی ہے ۔۔۔

    عوام کی ایک کثیر تعداد مجرے بھی پسند کرتی ہے تماش بینی ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے عوام کی ایک کثیر تعداد چرس بھی بہت پسند کرتی ہے ۔ کھول دیں بازار ۔۔؟؟ عوام کا اتنا خیال ہے تو عوام کو جو پسند ہے سب کھول دیں پھر پابندیاں قوانین اخلاقیات کا کیا لینا دینا ہمارے معاشرے سے۔۔؟؟ جب ہم نے یہی دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے کہ جو جتنا مشہور ہے اتنا قابلِ عزت ہے تو پھر مجرے کرنے والیوں کو کنجر کہنا بند کریں وہ سٹیج پر ناچتی ہیں اور آج کل کی جدید طوائفیں موبائل سکرین پر عوام کا من و رنجن کرتی ہیں۔ یہ دوہرا معیار کیوں کہ سٹیج پر ناچنے والی کنجر طوائف نا جانے کیا کیا اور ٹک ٹاک پر ناچنے والی سٹار سلیبرٹی انفلووینسر ۔۔؟

    جب ایسے لوگوں کو عزت و وقار اور شہرت ملتے کم عمر بچے دیکھتے ہیں تو وہ ان کو اپنا رول ماڈل بنا لیتے ہیں کہ مجھے بھی بڑے ہو کر یہی بننا ہے اور یہی سب کرنا ہے ۔ معزرت میں زرا دقیانوسی خیالات کا مالک ہوں ٹک ٹاک پر ناچنے کو ماڈرن کوٹھا سمجھتا ہوں اور ناچنے والوں کو اداکار فنکار نہیں بلکہ کنجر سمجھتا ہوں ۔ اپنی آنے والی نسل کی فکر کریں جو تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ہم نوے کی دہائی کی پیدائش ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے زمانے کو کروٹ بدلتے دیکھا اس لیے کچھ تربیت اثر کر گئی تو کچھ اخلاقیات کے دائرے میں خود کو قید رکھا ۔ ورنہ شہرت کون سا مشکل کام ہے ؟ صرف ایک سکینڈل کی مار ہے یہ شہرت آج کہیں منہ کالا کرائیں کل پورے ملک میں مشہور ۔۔

    ہمیں تربیت ملی کہ بیٹا ذلت کی شہرت سے عزت کی گمنامی بہتر ہے ۔ لیکن کیا کیجیے کہ چند سالوں میں زمانہ ایسا بدلا کہ اس بات سے اب کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی وجہہِ شہرت کیا ہے ۔ بس مشہور ہیں یہی کافی ہے ۔۔ وہ کہتے ہیں نہ بدنام ہونگے تو کیا نام نا ہوگا ۔؟؟ یہ جن ناچنے والیوں کو ہم آج سٹار سلیبرٹی رول ماڈلز اینفلونسر کہتے ہیں انہیں چند سال پہلے لکھنئو اور لاہور کے بازارِ حسن میں طوائفیں کہا جاتا تھا۔ اب تو بس نام ہونا چاہئیے پھر آپ سٹار بھی ہیں سیلبرٹی ہیں اور اداکار فنکار بھی ۔۔

    بد قسمتی سے ایسے لوگوں کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچانے والے بھی ہم ہی میں سے ہیں ۔ اور اس کا خمیازہ ہماری آنے والی نئی نسل بھگتے گی ۔۔ ہم کتابیں پڑھتے بڑے ہوئے بزرگوں کی ڈانٹ ڈپٹ استادوں کی اخلاقیات والدین کی تربیت نے زندگی کا مقصد بنایا اچھا انسان اور باوقار شہری بننا ہے ۔ آج کے والدین پر بھی حیرت ہے جن کی عقل پر پردے پڑے ہیں اور وہ اس فہاشی و عریانی کو نیا دور سمجھ کر قبول کر بیٹھے ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں ماشااللہ اللہ نے بچے کو بہت عزت دی ہے۔ اور کیوں نہیں جب حکومت بھی ایسے لوگوں کو سراہے گی میڈیا بھی مارنگ شوز میں بلائے گا تو پھر عزت شہرت تو ہو گئی نا ۔۔

    اپنی آنے والے نسل کی تباہی و بربادی کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں ۔۔ شکوہ نا کیجیے گا ہمیں کوئی بتانے سمجھانے یا بولنے والا نا تھا کیونکہ میں اپنا فرض پوری طرح نبھا رہا ہوں اور اس جدید دور میں بھی فیشن اور فہاشی کا فرق عوام کو بتا کر کر گالیاں کھا رہا ہوں ۔۔ خیر وہ اپنا کام کریں ہم اپنا کام کرتے رہیں گے ۔ یہی سوچ کر ۔۔ "شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات”

    Twitter @zohaibofficialk