Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • وطن کے پاسبان پاک فوج کے بہادر جوان

    وطن کے پاسبان پاک فوج کے بہادر جوان

    وطن کے پاسبان پاک فوج کے بہادر جوان ، تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر
    بھارت کی صورت میں ہمیں ایک نہایت ہی گھٹیا اور کم ظرف دشمن کا سامنا ہے ، جس نے آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ۔ ان حالات میں عسکری اور دفاعی اعتبار سے مستحکم پاکستان بے حد ضروری ہے اور پاک افواج ہی پاکستان کے دفاع کی ضامن ہے ۔ قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے ۔ جب بھی بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا پاکستان کی بہادر افواج کے افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر وطن کا دفاع کیا ہے۔ 6ستمبر 1965ء کی شب بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تو دوپہر کے وقت جنرل ایوب خان نے نہایت ہی ولولہ انگیز خطاب کیا اور کہا دشمن نے ایک ایسی قوم کو للکارا ہے جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور شہادت کے جذبوں سے سرشار ہے۔ پھر انھوں نے کہا اے میری قوم لاالہ الااللہ پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو ! تب پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ۔ جذبات کا یہ عالم تھا کہ جب پاکستان کی فضائوں میں بھارتی طیارے داخل ہوتے تو پیروجواں اور بچے سرنگوں میں پناہ لینے کی بجائے ڈنڈے اٹھائے سڑکوں پر نکل آتے اور بھارتی طیاروں کی دیکھ کر ڈنڈے لہراتے ، مکے دکھاتے اور نعرے لگاتے تھے ۔ سترہ روزہ جنگ میں ہماری افواج نے وہ کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ عوام کی والہانہ محبت اور مددو حمایت سے فوج کے حوصلے بلند ہوتے گئے ۔ میجر عزیز بھٹی کی بٹالین بی آر بی پر تعینات تھی انہوں نے بڑی جواں مردی سے کئی دن تک بھارتی یلغار کو روکے رکھا۔ وہ بار بار پوزیشن تبدیل کر کے فائر کرتے اور دشمن کو یہ تاثر دیتے رہے کہ اْسے ایک بریگیڈ کا سامنا ہے۔ وہ بڑی بے جگری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس بہادری کے عوض میجر عزیز بھٹی کو سب سے بڑے ایوارڈ نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔اسی طرح ایم ایم عالم نے سرگودہا میں ایک روز میں سات ہوائی جہاز گراکر بھارت کی فضائی برتری کا سحرتوڑ ڈالا۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی دنیا میں سب سے خوفناک جنگ لڑی گئی جو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوئی۔

    الغرض 1965ء کی جنگ میں بھارتی افواج نے جس طرف سے بھی پیش قدمی کی اسے منہ کی کھانی پڑی اس سلسلہ میں بیشمار واقعات تاریخ کاحصہ بن چکے ہیں تاہم میں یہاں ایک واقعہ بطور خاص ذکر کرنا چاہوں گا جو مجھے پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ برگیڈیئرنے سنایا وہ کہتے ہیں ہم لاہور کے محاذ پر تھے ہمارا توپ خانہ بھارتی توپوں کے جواب دے رہا تھا اس اثنا میں میں نے دیکھا کہ جب بھی بھارت فوج کی طرف سے کوئی گولہ آتا تو ہمارے توپ خانے کا ایک فوجی فوراََ اپنی توپ کے ساتھ چمٹ جاتا میں نے اس سے پوچھا آپ ایسا کیوں کررہے ہو۔وہ کہنے لگا ’’ سر آپ جانتے ہیں کہ ہمیں ایک بہت بڑے دشمن کاسامنا ہے جس کی افرادی قوت بھی ہم زیادہ ہے اور اسلحہ بھی ہم سے زیادہ ہے ۔ اس محاذ پر ہمارے پاس بہت کم توپیں ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک توپ بھی ناکارہ ہوگئی تو ہمیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ جب بھارتی توپ کا کوئی گولہ ہماری طرف آتا ہے تو میں اپنی توپ کے ساتھ اسلئے چمٹ جاتا ہوں کہ توپ کو نقصان نہ پہنچے چاہے میرا جسم ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے ۔یہ اور اس طرح کے بیشمار واقعات ہماری بہادر افواج کے ماتھے کا جھومر ہیں ۔ جب دنیا کے عسکری ماہرین نے محاذوں کا دورہ کیا اور پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کی جرأت وبہادری کو دیکھا تو بے اختیار یہ بات کہنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ میدان کارزار میں پاکستان کی افواج کا مقابلہ کرنا بھارت کیلئے ممکن نہیں ہے ۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ پاکستان کا دفاع اْن کی اوّلین ذمے داری ہے اور وہ اِس مقدس فریضے کی ادائیگی میں ہر وقت مستعد اور چوکس رہتی ہیں۔ ہماری بہادر افواج کی امتیازی شناخت اْن کا جذبہ شہادت ہے اور ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘کا ماٹو ہے۔ شہادت کا شوق اور جہاد فی سبیل ۔۔۔۔یہ دو ایسی صفات ہیں جن سے بھارت ، امریکہ ، روس اور دیگر ممالک کی افواج محروم ہیں ۔ قیام پاکستان سے اب تک ہمارے ہزاروں جانباز جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور داخلی اور خارجی چیلنجوں کے سامنے ناقابلِ تسخیر دیوار بنے ہوئے ہیں۔ہماری افواج کئی طرح کے دشمنو ں سے برسرپیکار ہے ۔ ایک دشمن وہ جو بھارت کی صورت میں سامنے ہے ۔دوسرے وہ دشمن ہیں جو سامنے تو نہیں لیکن ہماری بستیوں میں موجود ہیں بظاہر عام انسانوں جیسے نظر آتے ہیں۔ یہ دشمن بھارت سے زیادہ مکار اور خطرناک ہیں یہ اچانک اپنے ہی ہم وطنوں پر حملہ آور ہوتے اور مختلف طریقوں سے تباہی پھیلاتے ہیں۔ یہ دہشت گرد بظاہر اسلام کا نام لیتے ہیں، نام بھی مسلمانوں والے ہیں ، شکل وصورت بھی مسلمانوں والی ہے مگر حقیقت میں اْن کا دین اسلام سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ہماری فوج کے بہادر جوان ان تمام دشمنوں کے خلاف برسرپیکار ہیں جو دیدہ ہیں یا نادیدہ ہیں ۔ ہمارے دشمن یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک مضبوط فوج موجود ہے پاکستان کو نقصان پہنچانا ممکن نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن کااولین نشانہ ہماری فوج ہے ، ملک میں فوج کے کانوائے کو نشانہ بنایا جاتا ہے ، کبھی ان پر خودکش حملے کئے جاتے ہیں ، کبھی راستے میں بارودی سرنگیں بچھائی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔دشمن کا فوج کے خلاف سب سے خطرناک وار۔۔۔۔۔غلیظ پروپیگنڈا ہے۔ اس پروپیگنڈا کا مقصد یہ ہے کہ فوج اور قوم کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جائیں ۔ یہ وہی حربہ ہے جو مشرقی پاکستان میں استعمال کیا گیا پہلے وہاں بھائی کو بھائی سے لڑایا گیا پھرحالات ایسے پیدا کردیے گئے کہ کلمہ گو مسلمان اپنے ہی مسلمان اور اپنی عساکر کے خلاف ہوگئے ، افواج پر حملے کئے جانے لگے ، ان کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جانے لگا اس طرح سے اپنی افواج کو کمزور کرکے دشمن کا راستہ ہموار کیا گیا پھر جو ہوا وہ خون کے آنسو رولادینے والی داستان ہے ، ملک دولخت ہوگیا ، بھائی بھائی کا دشمن بن گیا ، پاکستان سے اسلامی دنیا کی سب سے بڑی سلطنت ہونے کااعزز چھن گیا اور ہمارے 90ہزار فوجی دشمن کے قیدی بن گئے ۔9مئی کے دن پاکستان میں جو کچھ ہوا جس طرح عسکری تنصیبات پر حملے ہوئے ، شہدا کی یادگاروں کو مسمار کیا گیا۔۔۔۔۔اور ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا یا اب بھی کیا جارہا ہے ۔۔۔۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بدترین ملک دشمنی ہے ،یہ دانستہ طور پر 1971ء جیسے حالات پیدا کرنے کی سازش ہے ۔ عسکری تنصیبات پر حملے کرنے یا افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے دانستہ یا نادانستہ دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ضروری ہے کہ ان ملک دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ یہ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔ ان کے ساتھ رعایت ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے ۔ یہ وقت قوم کے باہمی اتحاد اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا ہے۔ ہمیں وطن کی حفاظت کیلئے جانیں قربان کرنے والے شہیدوں اور غازیوں پر فخر ہے ۔ مضبوط فوج ہی پاکستان کی بقاکی ضامن اور بھارتی عزائم کی راہ میں آہنی دیوار ہے ۔ پوری پاکستانی قوم کا مطالبہ ہے کہ 9مئی کے سانحہ کے ذمہ دار اور ان کے ماسٹر مائنڈاور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کیلئے کسی کو ملک کی سلامتی اور سالمیت کے ساتھ کھیلنے کی جرأت نہ ہو ۔

  • ہم مزار بنائیں گے

    ہم مزار بنائیں گے

    24 سال قبل کراچی سے اٹھائی جانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورورتھ کی جیل ایف ایم سی کارس ول کے ویٹینگ روم میں بے چینی سے پہلو بدل رہی تھی۔۔جہاں اسکی چھوٹی بہن پچھلے 13 سال سے قید تھی۔اس کیساتھ پاکستانی سیاست کا ایک درویش صفت کردار سینٹر مشتاق احمد اور امریکی وکیل کلایئو اسٹافورڈ اسمتھ بھی اس انتظار گاہ میں موجود تھے۔۔
    خاتون قیدی کہ بڑی بہن فوزیہ صدیقی سوچ رہی تھی کہ آج 24 برس بعد میں جب چھوٹی بہن کو دیکھوں گی۔۔تو کیا اس کا سامنا کر پاوں گی۔۔اس کے سوالات کا جواب دے پاوں گی۔۔وہ نجانے مجھ سے کیا کیا پوچھے۔۔مجھے اپنے بارے کیا کچھ بتائے تو کیا میں یہ سب سن پاوں گی۔۔جبکہ ہمارا نہ تو باپ ہے اور نہ بھائی۔۔
    انہی سوچوں کے عمیق سمندر کی بے ترتیب لہروں میں اس وقت دل دہلا دینے والا ارتعاش آیا جب جیل کی سیکورٹی پہ مامور عملے نے ڈاکٹر فوزیہ کو اپنے ساتھ آنے کا کہا۔۔

    زمین و آسمان ساکت تھے۔۔جیل کی اس نیم تاریک گیلری میں صرف قدموں کی چاپ تھی۔۔۔ٹک ٹک ٹک۔۔مگر یہ ٹک ٹک ڈاکٹر فوزیہ کے دل و دماغ پہ ہتھورے برسا رہی تھی۔۔کیونکہ وہ آج اپنی چھوٹی اور لاڈلی بہن سے وطن سے ہزاروں میل دور پورے 24 برس بعد خاندان کا پہلا فرد تھیں جو چند لمحوں میں ملنے جا رہی تھیں۔۔انہیں گلے لگانے۔۔۔دبی دبی چیخوں، آہوں اور سسکیوں کے درمیان صبر و استقامت کا سبق دینے۔۔نئے عزم، ہمت، جرآت اور اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونے کا پیغام لائی تھیں جو انہیں گلے لگا کے۔۔بہت سا پیار کر کے۔۔کمر تھپتھپا کے دینا تھا۔۔۔اس کے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر اسکو تسلی دینی تھی۔۔۔
    مگر ایسا کچھ نہ ہو سکا۔۔

    اور یوں 24 برس کے سارے ارمان اس وقت کرچی کرچی بن کر بکھر گئے جب ڈاکٹر فوزیہ کو دیوار کے اس طرف بٹھا کر انتظار کرنے کا کہا گیا اور بتایا گیا کہ ابھی کچھ دیر بعد اس موٹے شیشے کے دوسری طرف جو بوڑھی، لاغر، کمزور و ناتواں، لڑکھڑاتی چال کیساتھ، ٹوٹے دانت لیئے، سفید سکارف اور جیل کا خاکی لباس زیب تن کیئے عورت آئے گی تو پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی ہو گی۔۔اور ہاں وہ اونچا سنتی ہے۔۔آپ کو اونچا بول کر اسکو بات سمجھانا پڑے گی۔۔مگر یاد رکھنا کہ تم اسکو بچوں کی تصاویر تک نہیں دکھا سکتیں۔۔کیونکہ ہم دنیا بھر کے انسانی حقوق کے وہ علمبردار ہیں جہاں یہ سب باتیں بے معنی ہوا کرتی ہیں۔۔۔یہ سب اصول، قانون اور ضابطے ہم نے تیسری دنیا کیلئے بنا رکھے ہیں۔۔۔

    پھر وہ وقت بھی آن پہنچا۔جب پورے 24 برس بعد ہزاروں میل دور دنیا کے اس کونے میں قید اس مظلوم و محکوم عورت کی پہلی ملاقات آئی۔۔عافیہ بنا کسی ہیجانی کیفیت کے پروقار انداز میں چلتی ہوئی آئی۔۔۔بڑی بہن کے سامنے بیٹھی۔۔۔اور اڑھائی گھنٹوں کی اس ملاقات میں ایک گھنٹہ اپنے اوپر گزرنے والی قیامتوں کا مختصر سا احوال بتایا۔۔پھر بتایا کہ مجھے میری ماں بہت یاد آتی ہے۔۔۔اسکو کیوں نہیں لایا گیا۔۔۔اب کون اسکو بتاتا کہ جس ماں کو تو یاد کر رہی ہے وہ ماں تجھے یاد کرتے کرتے اپنے رب کے حضور واپس پہنچ چکی ہے۔۔۔پھر بچوں کا پوچھا۔۔۔کیس کا ڈسکس ہوا۔۔اور یوں ملاقات کا وقت تمام ہوا۔۔وہ پروقار انداز میں اٹھی۔۔۔واپس مڑی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے اپنی بڑی بہن جو اس سے ملنے پاکستان سے آئی تھی اسکی طرف پیٹھ کر کے اپنے مخصوص سیل میں چلی گئی۔۔ایسے جیسے وہ اس ماحول کی پوری عادی ہو چکی ہو۔۔۔جیسے اسکا دل کہہ رہا ہو کہ وہ یہاں سے کبھی بھی نہیں نکل پائے گی۔۔۔۔جیسے وہ اپنی قید سے اس قدر مانوس ہو چکی ہو کہ اسکو اب آزادی سے خوف آ رہا ہو۔۔۔

    قیامت کب آیئگی۔۔۔ماسوائے رب کے کوئی نہیں جانتا۔۔مگر یہ منظر قیامت سے کچھ کم نہ تھا۔۔۔۔دنیا بھر کی کتنی آنکھیں ہیں جو اس وقت پرنم ہیں۔۔۔کتنے لب ہیں جو دعائیہ انداز میں لرز رہے ہیں۔۔کتنے ہاتھ ہیں جو بارگاہ خداوندی میں اٹھے ہوئے ہیں۔۔۔
    رابطہ بحال ہو گیا۔۔جلد یا بدیر جیل یا زندگی کی یہ قید ختم ہو ہی جایئگی۔۔مگر ایک روز محشر کا میدان بھی سجنا ہے۔۔اور کچھ لوگ وہاں پہنچ چکے ہیں۔۔بش سے مشرف تک۔۔۔ایک ایک کردار وہاں کھڑا ہو گا۔۔اور ان سے ایک ایک مظلوم کا حساب ہو گا۔۔۔
    باقی ہم جو ابھی تک زندہ ہیں۔۔ہم مزار بنا دیں گے۔۔۔عافیہ بی بی۔۔ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپکا جنازہ پاکستانی تاریخ کا بڑا جنازہ ہو گا۔۔ ہم بعد از مرگ تیرے لیئے جتنا ممکن ہو سکا آواز اٹھایئں گے۔۔۔مگر ابھی نہیں۔۔۔
    کیونکہ ابھی ہم سب مریم نواز، آصفہ بھٹو اور بشری بی بی کی جنگ میں مصروف ہیں۔۔فی الوقت ہم سیاسی اناوں کی نہ ختم ہونے والی جنگوں کے محاذوں پہ مصروف ہیں۔۔۔ابھی ہمارے پاس اتنا وقت بھی نہیں کہ ہم آپ کیلئے کسی بھی فورم پہ آواز اٹھا سکیں۔۔کیونکہ ہم قوم کو بتانے میں لگے ہیں کہ مریم فرائی پان سے جیل میں کپڑے پریس کیا کرتی تھی۔۔ہم سر میں خاک ڈال رہے ہیں کہ سلیمان شاہ کی بیٹی گرفتار ہو گئی ہے۔۔۔ہمیں یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ کہیں بشری بی بی کا تقدس پامال نہ ہو جائے۔۔۔۔
    جب آپ سسک سسک کر مر جاو گی۔۔۔تب ہم سب باہر نکلیں گے۔۔۔۔اور پوری قوت سے نکلیں گے۔۔
    تب تک۔۔۔تم جانو۔۔۔تمہارا خاندان جانے۔۔۔چند ایک مخلصین جانیں۔۔۔اور تمہارا خدا جانے۔۔۔ہم آپکا عالیشان مزار بنایئں گے۔۔۔اگر تمہاری باقیات کو کسی سمندر میں نہ بہا دیا گیا تو۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں ہے،سینیٹر مشتاق

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

  • اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر

    اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر

    اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر :تحریر : الیاس حامد
    کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے وقت رخصت پر انسان تو انسان شجر و حجر بھی اشکبار ہوتے ہوں گے۔ انسان کا کسی کے ساتھ جتنا گہرا اور مبنی بر اخلاص تعلق ہو اس کے ہجر و فراق اور وصل و الصاق پر غم اور خوشی کا اثر بھی اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔ شاذ ونادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ خونی رشتہ بھی نہیں ہے اور داغ مفارقت پر اس قدر رنجیدہ اور غمناک ہوا جائے۔
    لاریب، یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ استاد محترم حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللہ کی رحلت دور حاضر کے عظیم واقعات میں سے ایک ہے ۔ ان کی وفات کی خبر ان کے چاہنے والوں اور الفت و عقیدت کا دم بھرنے والوں پر قیامت صغریٰ بن کر گزری، مجھ پربھی ان کی وفات کی خبر نے یہی اثر چھوڑا۔ جونہی نماز عصر کے بعد ان کی رحلت کی خبر ملی تو یوں لگا جیسے سب کچھ ہی اجڑگیا ہو۔ اس درد و الم سے لبریز خبر نے گویا چند لمحوں کے لیے سکتہ طاری کر دیا یوں محسوس ہوا کہ جیسے ایک مشفق و مربی باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیاہے ۔اب کیا ہوگا۔ ہماری تو دنیا ہی اجڑ گئی، اس سانحے پر کیسے سروائیو کریں گے۔ اب ہمیں ہماری لغزشوں اور سستیوں پر کون متنبہ کرے گا اور اصلاح کا بیڑا اٹھائے گا۔ بس انہی خیالات میں گم کئی لمحات گزر گئے اورپاس ہونے والے حالات و واقعات کی سدھ بدھ ہی نہ رہی۔

    حافظ صاحب کا تعلق اور رشتہ بلا شبہ ہزاروں افراد سے تھا جن میں ان کے طلبا،اساتذہ کرام، جماعتی احباب، معاصرین بزرگ،رشتہ دارو دیگر افراد شامل ہیں اور ہر کسی کو ان سے جتنی بھی نسبت تھی وہ اس پر نازاں ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان سے کم سےکم قربت بھی بہت بڑے اعزاز والی بات ہے۔ اسی طرح ان کی رحلت کے بعد ہر کوئی چاہے گا کہ اس کے ساتھ جو ان کا حسن سلوک اور ہمدردی تھی اس کا اظہار کیا جائے ۔ ان کا ذکر خیر کرنا اب ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے۔
    یوں تو استاد محترم حضرت حافظ صاحب سب کے ساتھ ہی محبت واپنائیت اور خیر خواہی کا معاملہ کرتے تھے مگر جب ان کو ان کے پرانے شاگرد خصوصا جنہوں نے جامعہ الدعوۃ الاسلامیہ کے ابتدائی بیجز میں فراغت حاصل کی ملتے تو حافظ صاحب کی خوشی دیدنی ہوتی ۔ اپنی مصروفیت ترک کرکے وقت نکالتے ، محبت اور اپنائیت کے ساتھ پاس بٹھاتےاور اپنے ہاتھ سے ضیافت اور مہمان نوازی کرتے اس پر اگر شاگرد از راہ ادب و احترام حائل ہوتے کہ استاد محترم آپ تکلیف نہ کریں ہم خود اشیائے اکل و شرب لے لیتے ہیں تو ایسا جواب دیتے کہ جس کے بعد مزید اسرار کی سکت نہ رہتی ۔

    حافظ صاحب کے ساتھ میری آخری ملاقات پیارے بھائی اور کلاس فیلو حافظ محمد ابراھیم صاحب کے ہمراہ ہوئی۔ حافظ صاحب تب بخاری کی شرح لکھنے میں اپنے ریسرچ روم میں ہوا کرتے تھے اور ملاقات وغیر بھی وہاں ہی ہوتی تھی، جب باہر والے گیٹ سے اندر پیغام پہچایا گیا کہ آپ کے طالب علم اور روحانی بیٹے آپ سے شرف ملاقات چاہتے ہیں تو نہ صرف اجازت دی بلکہ ہمیں لینے کے لیے باہر والے گیٹ پرخود آگئے دور ہی سے بلند آواز سے پکارنے لگے:”السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ۔۔۔ واہ واہ مولانا صاحبان اھلا و سھلا اور ساتھ ہی گلے لگا لیا پر تپاک انداز سے معانقہ کیا۔ ہم نے عرض کی استاد جی آپ نے تکلیف کیوں کی ہم خود حاضر ہو رہے تھے تو کہنے لگے بیٹا ایسی بات مجھے اچھی نہیں لگتی جب میں آپ جیسے اپنے شاگردوں کو دیکھتا ہوں تو میرا خون بڑھ جاتا ہے دین کے طلاب اور علما کے لیے یہ تکریم تو باعث اجر ہے۔

    کمرے میں بیٹھنے کے بعد کمرے میں موجود فریج سے ضیافت کے لیے اشیا دیکھنے لگے تو ہم نے کہا استاد جی آپ تشریف رکھیں ہم خود لے لیتے ہیں۔ آپ بتادیں تو فرمانے لگے ” میری چیزیں کہاں پڑی ہیں آپ زیادہ جانتے ہیں یا میں خود ؟” اس جواب پر ہمیں مبہوت و مسکوت ہونا پڑا۔ پھر فریج میں سے فروٹ نکال کر اپنے ہاتھوں سے پیش کرنے لگے یہ سب مناظر ہمارے لیے ایسے تھے کہ جیسے ہم بے ادبی اور عدم تکریم کے مرتکب ہو رہے ہوں لیکن استاد محترم کا سختی سے حکم تھا کہ مولوی صاحب تشریف رکھیں اٹھنا نہیں ہے۔ ان کی یہ ضیافت کی ادا ہمارے لیے اب حکم استاذ تھی جسے اب حکم عدولی کرنے کی گنجائش نہ تھی ۔اس کے بعد استاد محترم ہم دونوں سے فردا فردا گھر کے افراد کی خیریت پوچھتے رہے جیسے ایک باپ اپنے بچوں کو دیر بعد ملا ہو تو ان سے سب بچوں بارے دریافت کرے ہم حیران تھے کہ فراغت کو دو دھائیاں بیت چکی ہیں۔ استاد محترم ہمارے نجی رشتوں کو اب بھی جانتے ہیں اورخیریت دریافت کر رہے ہیں۔ پھر مصروفیت کا پوچھنے لگے کہ کیا کر رہے ہیں اور ان سب میں سے ان کا اہم سوال تھا کہ جمعہ پڑھا رہے ، درس و تدریس کا کام کر رہے ، دین کے لیے کیا کر رہے ؟ ۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔ یعنی ہمارے جانے کے بعد بھی ان کو ہمارے دین اور آخرت کی اتنی فکر تھی ۔۔ فجزاہ اللہ لذالک

    حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب کی جہاں بہت سی خوبیاں تھی وہاں یہ بھی ایک خوبی تھی کہ وہ خود سے چھوٹے افراد اور اپنے شاگردوں کو بھی ‘آپ، تسیں’ صیغیہ جمع برائے ادب سے مخاطب کرتے تھے ، یا بھائی کہہ کر پکارتے تھے ۔
    حافظ صاحب مجھے فرمانے لگے الیاس بیٹاآپ کا وہ واقعہ میں اپنے درس اور تقاریر میں اکثر و بیشتر بیان کرتا ہوں جب آپ کالج چھوڑ کر گھر سے بھاگ کر مدرسے آئے تھے اور آپ کے والد صاحب جو کہ پولیس میں تھے واپس لینے مدرسے پہنچ گئے تھے ۔پھر آپ ساتھ نہیں گئے بلکہ چھپ گئے ۔ دینی تعلیم مکمل کر کے ہی گئے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے والد صاحب کو بھی اللہ نے سمجھ دے دی۔ وہ کیسے سمجھے اس کے درمیان ایک واقعہ ہے جو مجھے ابھی اچھی طرح مستحضر نہیں ہے اپنا قصہ دوبارہ سنائیں تاکہ میں بہتر انداز سے اس کو بطورتحریض اور موٹیویشن بیان کروں کہ سکول و کالج کے بچوں کے لیے ایک ترغیب ہو۔

    میں نے اختصار سے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے اپنا جامعہ میں آنے تعلیم حاصل کرنے کا واقعہ سنایا، اس میں ٹرننگ پوائنٹ یہ تھا کہ میری تعلیم کے دوران والدہ صاحب رحمہ اللہ کا روڈ ایکسیڈنٹ ہو گیاتھا جس کے بعد اللہ نے انکی خدمت کرنے کا موقع دیا جس میں راتوں کو بھی جاگنا ہوتا تھا۔ اس پر اللہ نے ان کا دل نرم کر دیا اور دین کی محبت دل میں ڈال دی۔
    مجھ سے میری بات سننے کے بعد حافظ صاحب فرمانے لگے میں تو اب سامعین کو کہتا ہوتا ہوں دیکھو اب وہ طالب علم اپنی تحریر و تقریر سے دین کا کام کرتا ہے لاکھوں لوگ اس کی تحریر پڑھتے ہیں، حافظ صاحب کا اشارہ جماعت کے میگزین اور جریدے کی طرف تھا کہ جس کی ادارت ایک عرصہ تک میرے ذمہ رہی۔ میرے جیسے ناچیز کے لیے اس سے بڑھ کر متاع حیات کیا ہوسکتی تھی کہ استاد محترم اپنی تقریر میں مجھے مثال کے طور پر بیان کریں، اس موقع پر دینی و ملکی مسائل بھی زیر بحث رہے جس پر استاد محترم نے ہماری ذہنی سازی کی اور دل میں موجود موہومات کو دور کرنے کا سامان پیدا کیا ، پھر ہم نے جب ان سے رخصت کی اجازت چاہی تو محترم حافظ صاحب علیہ الرحمہ ہمارے روکنے کے باوجود پھر سے ہمیں الوداع کرنے باہر والے گیٹ تک چل کر آئے اور جاتے ہوئے گلے لگا کر ڈھیروں دعائیں دے کر رخصت کیا۔
    آہ ۔۔۔ آج وہ استاذ ، وہ مربی ، وہ خیرخواہ ، وہ ہمدرد ، وہ روحانی باپ ہم میں نہیں ہے۔ ان میں علمی ، تدریسی ، تالیفی ، دعوتی، ابلاغی خوبیاں تو بدرجہ اتم موجود تھیں ۔ وہ کس قدر علم کے سمندر اور حکمت و ادب کے پہاڑ تھے ، وہ اس دور کے ابن حجر تھے ایسی اور دیگر کئی خوبیاں جن کا شائد ہمیں ادراک ہی نہ ہوان سب کا حظ وافر اللہ نے انہیں ودیعت کیا تھا۔ لیکن ایک پہلو جسے میں نے محسوس کیا اور مشاہدے کی بنا پر بیان کیا ایسی خوبیاں سینکڑوں افراد نے حافظ صاحب کی ذات میں نوٹ کی ہوں گی۔ دعا ہے کہ اللہ ان کی بشری لغزشوں سے اعراض فرما کر ان کی اسلام کے لیے کاوشوں کو قبول فرما کر اعلیٰ جنتوں میں جگہ دے ہمیں اپنے استاد محترم کے لیے صدقہ جاریہ بنائے ۔ ان کی دینی وراثت جو ہم تک پہنچی ہے اس کو آگے لے کر چلیں اللہ ان کے مشن پر چلنے کی توفیق دے۔

  • سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز،محمد نورالہدیٰ

    سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز،محمد نورالہدیٰ

    گذشتہ دنوں مجھے سفرِ حجاز کا موقع ملا۔ اس سفر کے دوران بے شمار مشاہدات ہوئے۔ بہت سے زائرین سے ملاقات اور ان کے مسائل سے آگاہی ہوئی۔ زائرین کی پریشانیوں اور ان پریشانیوں کی وجہ بننے والے عناصر کے بارے میں جاننے کا اتفاق ہونے سمیت کافی تلخ حقائق بھی نظر سے گزرے۔

    میرے مشاہدے میں آیا کہ حرمین (مسجد الحرام اور مسجد نبوی) میں نمازیوں کی خدمت پر مامور عملہ صرف پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان سے تعلق رکھتا ہے۔ شاید سعودی نجی ادارہ اس کام کیلئے کسی اور ملک کے لوگ رکھتا ہی نہیں۔ ان لوگوں کی ڈیوٹی حرمین کے عربی ملازمین سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ یہ معمولی تنخواہ کے عوض یہاں کام کر رہے ہیں۔ واٹرز کولرز کی بھرائی، حرمین کی بار بار فرشی اور واش رومز کی صفائی کرتے رہنے سمیت دیگر فرائض ہر گزرتے منٹ مسلسل ادا کرنا ان کی ذمہ داری میں شامل ہیں۔ تمام ڈیوٹی کے دوران مسلسل کھڑے رہنا ان پر جیسے فرض کر دیا گیا ہے۔ سخت دھوپ میں بھی انہیں اپنے امور مسلسل نبھاتے رہنا ہے۔ اس دوران انہیں بیٹھنے کی اجازت ہے اور نہ ہی سستانے کی۔ یہ خادمین بظاہر خوش باش دکھائی دیتے ہیں مگر اندر سے یہ خالی ہیں۔ میں نے ان کے چہروں پر بے بسی کے واضح آثار دیکھے ہیں۔

    حرمین کے واٹر کولرز (زمزم) پر ذمہ داری ادا کرنے والے ایک ہندوستانی خادم سے میں نے کہا کہ تم فارغ ہی کھڑے ہو۔ پانی کا کولر بھی بھرا ہوا ہے اور پینے والوں کا رش بھی نہیں ہے۔ فالتو کھڑے رہنے کی بجائے تھوڑی دیر بیٹھ کیوں نہیں جاتے؟۔ جواب ملا کہ چاہے پانی پینے والا کوئی نہ ہو، واٹر کولر بھی بیشک بھرا ہو، ہمیں اپنی ڈیوٹی کے دوران بیٹھنے، آرام کی اجازت نہیں ہے…… صفائی کے فرائض سر انجام دینے والے ایک بنگلہ دیشی لڑکے نے بتایا کہ تنخواہ محدود ہے اور ڈیوٹی سخت، مگر جو ملتا ہے صبر و شکر کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔

    دورانِ سفر میں نے بارہا ہوٹلوں میں زائرین کو رہائش، آمد و رفت اور ٹریولنگ ایجنسیوں سے متعلقہ دیگر امور پر خوار ہوتے دیکھا۔ انہیں اپنے الاٹ شدہ مقامی ایجنٹوں سے رابطہ میں شدید مشکل اور پریشانی کا سامنے کرتے پایا۔ کیونکہ یہاں آنے کے بعد وہ قدم قدم اُس کمپنی کے ایجنٹ کے محتاج ہوتے ہیں جس کے ذریعے وہ ویزہ لگوا کر یہاں تک پہنچے ہوتے ہیں۔ مگر ایجنٹ حضرات کی جانب سے مناسب رسپانس نہ ملنے پر وہ سخت خاصی کوفت کا شکار رہتے ہیں۔

    میرے پاس قلمبند کرنے کو کئی داستانیں موجود ہیں۔زیادہ تر داستانیں پہلی بار حجاز مقدس جانے والوں کی پریشانیوں پر مشتمل ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ زائرین اس بات سے آگاہ نہیں ہوتے کہ ان کی سہولت کیلئے وزارت حج و عمرہ موجود ہے، جہاں وہ اپنے مسائل و مشکلات کے ازالے کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ایجنٹ حضرات اس لاعلمی کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میں نے مشاہدے کی غرض سے کئی ہوٹل وزٹ کئے۔ مجھے مذکورہ صورتحال سے مختلف دکھائی نہیں دی۔ صرف 3 فیصد لوگ اپنے ایجنٹوں سے مطمئن دکھائی دیئے۔ باقی 97فیصد لوگوں سے مجھے ان ٹریول سروسز اور ایجنٹس کے خلاف بددعائیں ہی سننے کو ملیں۔

    کئی پاکستانی زائرین سے گفتگو کے دوران مجھے ایک اور مشاہدہ بھی ہوا کہ حج، عمرہ کی سروسز فراہم کرنے والی اکثر کمپنیاں (ٹریولنگ ایجنٹ) غلط بیانی کر کے لوگوں کو بھیجتے ہیں۔ جو لوگ گروپ کی صورت میں جانا چاہتے تھے، انہیں یہ کہہ کر بھیجا گیا کہ آپ چلے جائیں، گروپ وہیں جا کر بنے گا۔ وہاں پہنچ کر کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کون کس کمپنی یا ٹریول ایجنٹ کی طرف سے آیا ہے۔ لہذا انفرادی طور پر آنے والے زائرین کو اکیلے ہی اپنی سرگرمیوں کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ آنے والوں کو تیاری کر کے آنے کے باوجود فرائض کی انجام دہی میں قدم قدم مشکل پیش آتی ہے۔

    اس کے برعکس میں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک کے لوگ گروپس کی صورت میں آتے ہیں اور اجتماعی عبادات کرتے ہیں جس سے نہ صرف اک دوسرے کو ترویج و تحریک ملتی ہے بلکہ اس اجتماعی عمل سے دیگر افراد بھی استفادہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر پہلی مرتبہ آنے والوں کو مشترکہ سرگرمیوں کی وجہ سے کافی سہولت رہتی ہے۔ انہیں گائیڈ بھی میسر ہوتا ہے جس کی راہنمائی میں وہ عبادات میں خود کفیل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں سفر کا فائدہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    میں نے یہ عمل ملائیشیا، انڈونیشیا، فلپائن، برما، بنگلہ دیش، انڈیا، عراق، اور چند دیگر ممالک سے آنے والوں میں دیکھا۔ جو ہوٹل سے لے کر تمام عبادات اور واپسی تک اجتماعی عوامل سر انجام دے کر اک دوسرے کی راہنمائی کرتے اور قدم قدم پر مشترکہ عمل کرتے ہیں۔ جبکہ گروپس کی یہ سہولت صرف پاکستان کے چند ہی شہروں سے آنے والے زائرین کی صورت میں دکھائی دی۔ شاید پاکستان کے ٹریولنگ ایجنٹس کو یہی غرض ہوتی ہے کہ وہ سالانہ کتنے زائرین بھجوا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں انہیں کتنی کمائی ہو رہی ہے۔ زائرین کی پریشانیوں سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔

    دوسری جانب حرمین کے انتظامی معاملات کے حوالے سے مجھے بیشتر امور پر رائے دینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ میں سعودی حکام اور بالخصوص وزارت حج و عمرہ کو اس پر چند تجاویز ارسال کرنے کا متمنی ہوں، کیونکہ ان امور پر ہنگامی اقدامات وقت کا تقاضہ ہیں۔ اپنی ارسال کردہ تجاویز اور آراء میں سعودی وزارت حج و عمرہ سے یہ بھی درخواست کروں گاکہ مختلف ممالک کے شہریوں کو ویزہ جاری کرتے ہوئے عدم تعاون کے حامل مقامی ایجنٹوں کی شکایت کیلئے سہولت کا کوئی نمبر بھی جاری کیا جائے …… زائرین کی آسانی کیلئے نہ صرف ہوٹلوں میں شکایت کاؤنٹر بنائے جائیں، بلکہ ایک فعال آن لائن کمپلینٹ پورٹل بھی بنایا جائے تا کہ زائرین اپنی شکایت رجسٹرڈ کروا سکیں اور ان کی مشکل کا فوری ازالہ ممکن ہو سکے …… حج کا سیزن شروع ہو چکا ہے۔ سعودی حکومت کو چاہئے کہ بیان کردہ صورتحال کی مانیٹرنگ اور یقینی ازالے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے، نیز اگر اپنے ویژن 2030ء میں مذکورہ امور بھی شامل کرلے تو زائرین کی سہولت اور آسانی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

  • خطے میں تبدیلیاں،مفادات اورپاکستانی سیاست ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    خطے میں تبدیلیاں،مفادات اورپاکستانی سیاست ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلاشبہ پاک فوج اور جملہ اداروں نے لازوال اوربے مثال قربانیوں بے نظیر جرات ا ور استقلال سے دنیا کی سپُر پاورز کی افواج کو حیران کردیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کے وہ جھنڈے گاڑے عسکری تاریخ میں قابل تقلید باب رقم کردئیے وطن عزیز قائم ودائم ہے بھارت کی جرات نہیں کہ وہ پاکستان کو میلی آنکھ سے بھی دیکھے ۔ تاہم بھارت سمیت کچھ طاقتیں وطن عزیز میں اندرونی انتشار پھیلا کر ملک کو معاشی طورپر کمزورکرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم اپنے سیاسی مستقبل کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ 24 کروڑ عوام بالخصوص نوجوان ان سیاسی جماعتوں اور ان کے بچوں کے مستقبل کے لئے نہیں اپنے آنے والے کل پر توجہ دیں

    وطن عزیز کے بہتر مستبل کے لئے تعلیم پر توجہ دیں ان جماعتوں کی اکثریت نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے انہیں آئین اور قانون کی حکمرانی سے کوئی غرض نہیں یہ عمر کے آخری حصے میں اپنے بچوں کے بہتر سیاسی مستقبل کی فکر لاحق ہے ۔ پی ڈی ایم رہے نہ رہے پی ٹی آئی رہے یا نہ رہے وطن عزیز قائم ہے اور قائم رہے گا۔ امریکہ اور چین کے اپنے مفادات ہیں ۔ روس کے اپنے مفادات ہین ۔ سعودی عرب سمیت دیگر مسلمان ممالک کے اپنے مفادات ہیں خطے میں ہونے والی تبدیلیوں سے آنکھ نہیں چرائی جا سکتی چین خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے امریکہ نہیں چاہتا کہ چین کا اثرورسوخ اس خطے میں ہو۔ چین نے کشمیر میں ہونے والی جی 20 کانفرنس میں جانے سے انکارکردیا ۔ یہ ا س خطے میں سیاسی تبدیلی ہے جو اس خطے میں ظہور پذیر ہو رہی ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کا ثالثی کردا ر ایرانی صدر کا پاکستان کا دورہ ،روس اور یو کرائن کی جنگ کو ختم کرانے کی چین کی کوشش یہ سب تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں

    ذمہ داران ریاست کو چاہیئے کہ وہ وطن عزیز کے اور24 کروڑ عوام کے بہتر مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں ہمیں اپنے مفادات کو دیکھنا ہے ملکی سیاسی جماعتیں جو کھیل کھیلنے میں لگی ہیں اس کھیل میں 24 کروڑ عوام بالخصوص نوجوان نہیں ہیں ان کے اپنے اور اپنی اولادوں کا سیاسی مستقبل ہے۔ نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں،ان سیاسی جماعتوں کی خاطر ملک میں جلاؤ گھیرائو اور ہنگاموں سے دور رہیں

  • سیاسی عدم استحکام  کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان،تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک میں بڑھتی ہوئی بے یقینی سیاسی عدم استحکام معاشی بدحالی انتظامی ،اداروں کے درمیان اور اداروں کے اندر کشمکش حکومتوں کے چل چلاؤ کی بے یقینی جیسے ان گنت مسائل کے گرداب میں عام آدمی کے متعلقہ معاملات دب کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ لیڈرشپ کا فقدان ہے۔ ہر محب وطن غمزہ اور اشکبار ہے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد 24 کروڑ عوام کو بلاشبہ عمران خان اس وقت عوام میں مقبول ہیں لیکن وہ یہ تسلیم کریں ان میں وہ سیاسی تجربہ نہیں جو محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد نواز شریف میں ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے نواز شریف کو ڈان اور سیلسین مافیا قرار دیا گیا کیا یہ کسی قوم یا ملک کی بدنصیبی نہیں کہ قوم کے لیڈروں کو غدار، ور اب موجودہ سرکار دہشت گرد قرار دے رہی ہے ؟ اس سے بڑا اس قوم کے ساتھ ظلم کیا ہو گا؟ نواز شریف کسی ولی یا فرشتے کا نام نہیں آج بھی اگر وہ پاکستان موجود ہوتے توسیاسی انتسار کو روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ملک وقوم کے لیے وہ عمران کو بھی گلے لگاتے اور اس کی مثال موجود ہے ، نواز شریف کو الیکشن مہم کے دوران خبرملی کہ عمران خان لاہور میں جلسہ گاہ سے گر کر شدید زخمی ہو گئے تو نواز شریف نے اپنا جلسہ لیاقت باغ ملتوی کیا اور شہباز شریف اور پرویز رشید کو عمران خان کی عیادت کے لئے ہسپتال بھیجا جبکہ اسلام آباد بنی گالہ بھی چل کر گئے۔ اُس کے بدلے عمران خان کی جماعت نے نواز شریف کو بین الاقوامی چور اورڈاکو کے الفاظ سے یاد کیا۔ آج سیاسی لیڈر شپ نہ ہونے کا خمیازہ ملک اور قوم بھگت رہے ہیں ۔

    اس وقت ضرورت اس امر کی ہے سیاسی معاملات کو سیاسی اور آئینی پیچیدگیوں کو آئین اور قانونی بردباری سے حل کرنا ہوگا۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے مذاکرات کیے جائیں۔ اس ملک و قوم کی خاطر ضد ،انا ،ہٹ دھرمی میں نہ مانوں کا خاتمہ کیا جائے سیاستدان مل کر جمہوریت اور ملک کی بقا اور سلامتی ،عوام کی خاطر جو اس وقت بند گلی میں کھڑی ہے مذاکرات کریں۔

  • گھریلو ناچاقیوں میں زبان کا کردار،تحریر: افضال احمد

    گھریلو ناچاقیوں میں زبان کا کردار،تحریر: افضال احمد

    حکیم لقمان سے ان کے آقا نے کہا ایک بکری ذبح کرکے اس کے بہترین حصے کا گوشت لے آئو‘ وہ ذبح کرکے ’’دل‘‘ اور ’’زبان‘‘ لے آئے۔ پھر کہا ایک اور بکری ذبح کرکے اس کا بدترین گوشت لے آئو وہ دوبارہ ’’دل‘‘ اور ’’زبان‘‘ لے کر آگئے۔ مطلب یہ تھا کہ یہ حصے جتنے اچھے ہیں ہماری لاپروائی سے اتنے ہی بُرے بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ ’’زبان‘‘ جسم کا نازک ترین عضو ہے لیکن گوشت کے اس چھوٹے سے لوتھڑے نے دنیا میں جو قیامتیں ڈھائیں ہیں اور انقلاباتِ زمانہ کو جنم دیا ہے اس کی تاریخ بہت طویل اور حیران کن ہے۔
    زبان قوت گویائی کا وسیلہ ہے اور یہی چیز اسے ایک اشرف عضو کا درجہ دیتی ہے۔ اس کے ذریعہ ہم اپنے خیالات و احساسات دوسروں تک پہنچاتے ہیں‘ ذائقوں کا مزہ اُٹھاتے ہیں‘ یہی زبان ہمیں موت کا پیغام بھی دیتی ہے اور زندگی کی نوید بھی سناتی ہے ہمیں زخمی بھی کرتی ہے اور ہمارے زخموں کا مداوا بھی کرتی ہے۔ زبان سے آپ اچھی باتیں کر کے کسی کا دل جیت سکتے ہیں اور کسی کو گالم گلوچ اور دل دکھانے والی باتیں کرکے دل آزاری بھی کرتے ہیں۔ یہی زبان آپ کو امید دلاتی ہے اور آپ کی امیدوں کو خاک میں بھی ملاتی ہے۔

    زبان کے کرشمے اتنے گونا گوں اور وسیع ہیں کہ انہیں زندگی کے ہر ہر مرحلے پر اور ہر شعبے میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ زبان کے گھائو جو تلوار کے زخم سے بھی زیادہ گہرے ہیں اور جن سے ہمارے معاشرے میں کروڑوں انسان مختلف مسائل کا شکار ہیں آپ بھی اگر کسی ’’زبان‘‘ کے زخم خوردہ ہیں تو کبھی کبھی رات کی تنہائیوں میں اس کا درد ضرور محسوس کرتے ہوں گے‘ ہماری زبان کے یہ وار معاشرے کے کئی دلچسپ پہلوئوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ کہتے ہیں زبان انسان کی بہترین دوست ہے لیکن کبھی کبھی بدترین دشمن ثابت ہوتی ہے۔ بزرگوں کا قول ہے ‘ پرانے وقت کے بزرگوں کا قول ہے :جب تک زبان آپ کے قابو میں ہے یوں سمجھیں کہ تلوار نیام میں ہے‘ جونہی آپ نے کوئی لفظ بولا یہ تلوار دوسرے کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے‘ معذرت سے آج کل کے 90 فیصد بزرگ بھی اپنی زبان کا غلط استعمال کر رہے ہیں‘ چند بزرگ تو اپنے بیٹے‘ بیٹیوں کا گھر برباد کرنے میں بہت معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
    حضرت امام غزالیؒ نے ’’منہاج العابدین‘‘ میں زبان کی آفات کے باب میں ایک حدیث کا خلاصہ نقل کیا ہے ’’جب انسان صبح کرتا ہے تو بدن کے تمام اعضاء (ایک طرح گویا ہاتھ جوڑ کر) زبان سے عرض کرتے ہیں کہ تُو ہمارے معاملے میں خیال رکھیو ہمارا صحیح استعمال تیرے صحیح استعمال پر موقوف ہو گا‘‘۔ میرا علم ناقص ہے لیکن ’’علماء کرام‘‘ بہتر جانتے ہیں۔ میرا تو مقصد صرف معاشرے کی اصلاح کرنا ہے جانے انجانے میں غلط بات بھی لکھ سکتا ہوں اپنے قارئین سے گزارش کرتا ہوں کہ میرے مضامین پر عمل ضرور کیا کریں اور ’’نماز‘‘ کے پابند ہو جائیں میں نہیں چاہتا کہ میرے قارئین دنیا تو سنوار لیں اور آخرت میں پھنس جائیں کیونکہ نماز کی معافی نہیں ہے۔ اس لئے سب بھائی‘ بہنوں اور خاص طور پر بزرگوں سے گزارش ہے کہ نماز کی پابندی کریں اور دل سے میرے لئے دعا کیا کریں‘قارئین سے کہنا چاہوں گا آپ اس اخبار کو باقاعدگی سے خریدا کریں اس اخبار نے مجھے لکھنے کیلئے معقول جگہ دی ہے انشاء اللہ یہ اخبار آپ کی اصلاح کا باعث بنے گا۔

    بات چل رہی تھی زبان کی تو میں یہاں زبان کی طاقت کیا ہے؟ اس کی ایک مثال سے وضاحت کرتا ہوں ’’میاں بیوی کے درمیان نکاح ہوتا ہے ‘میاں بیوی ایک دوسرے کیلئے جائز ہو جاتے ہیں جیسے ہی شوہر اپنی بیوی کو تین دفعہ طلاق‘ طلاق‘ طلاق کہہ دیتا ہے تو یہ میاں بیوی چاہے برسوں سے ساتھ تھے ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں‘‘۔ ہم جانے انجانے میں روزانہ اپنی زبان سے لوگوں کا دل دکھاتے ہیں لوگوں کو گالیاں دیتے ہیں‘ غیبت کرتے ہیں‘ دفاتر میں بیٹھے ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے برائیاں کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ آج کل کی نوجوان نسل شادی کے بے جا رسم و رواج کیلئے پیسہ جمع نہیں کر پاتی تو وہ پھر کیا کرتے ہیں؟ فون کا غلط استعمال کرتے ہیں نوجوان لڑکے لڑکیاں آج کل فون پر جیسی زبان استعمال کر رہے ہیں ایسی زبان تو میاں بیوی کے درمیان کرنا بھی شاید جائز نہیں۔ بات فون سے حقیقت میں ملنے تک بھی آجاتی ہے اور یہ سب زبان کا غلط استعمال ہے جس سے جسم کے دوسرے اعضاء بھی گنہگار ہو جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ زبان کی طاقت صرف ’’طلاق‘‘ تک محدود نہیں باقی سب (جھوٹ ‘ غیبت‘ بات بات پر گالم گلوچ‘ فون پر غلط بات وغیرہ وغیرہ) ان سے بھی روکا گیا ہے اور جو گناہ ان چیزوں کے بارے بتائے گئے ہیں مل کر رہیں گے۔

    آج کے برق رفتار دور میں زبان کا جتنا غلط استعمال ہو رہا ہے شاید ہی کسی اور چیز کا غلط استعمال ہو رہا ہو۔ گھریلو ناچاقیاں کیا ہوتی ہے؟ یہ زبان کی وجہ سے ہی پیدا ہوا کرتی ہیں‘ ساس‘ بہو‘ نند‘ بھابی‘ دیورانی‘ جیٹھانی یا گھر میں جو بھی مرد موجود ہیں آپس میں حالات کب خراب ہوتے ہیں؟ جب انسان اپنے گھر میں غلط بات کرتا ہے یہاں سے گھریلو ناچاقیاں جنم لیتی ہیں اور جن گھروں میں گھریلو ناچاقیاں جنم لیتی ہیں اُن گھروں میں خود کشیاں یا موت کا بازار گرم رہتا ہے ‘ ہاں جب گھریلو ناچاقیوں کے باعث بہت سے لوگ خودکشیاں کر لیتے ہیں تو ان کے پیچھے جو موجود لوگ ہوتے ہیں جن کی ’’زبان‘‘ سے نکلی بات کی وجہ سے یہ خودکشی ہوتی ہے وہ ضرور پچھتاتا ہے اور کہتا ہے ’’کاش میں نے اپنی زبان‘‘ کو کنٹرول میں رکھا ہوتا تو آج یہ زندہ ہوتا۔تو بھئی! کاش کو اپنی زندگیوں سے نکال باہر پھینکوں اپنی زندگیوں کو بدلوں اپنی ’’زبان‘‘ پر کنٹرول رکھو یہ زبان ہی آپ کے گھروں کو تباہ و برباد کر رہی ہے۔

    طلاقوں کی شرح میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہ کیا ہے؟ یہ سب کچھ زبان کے غلط استعمال کی وجہ ہے۔ ساس کو بہو نہیں بھاتی بہو کو ساس نہیں بھاتی‘ دیورانی کو جیٹھانی نہیں بھاتی ’مرد‘‘ بیچارا سارا دن لوگوں کی باتیں سن سن کر برداشت کرکے روزی روٹی کما کر گھر آئے تو آگے گھر کی خواتین اُس مرد کو ایک دوسرے کی شکایتیں لگاتی ہیں‘ ماں بیٹے کو کہتی ہے ’’تیری بیوی تو سارا دن سوتی ہے کوئی کام نہیں کرتی‘ اسے تو تیری بوڑھی ماں کی بھی فکر نہیں‘‘ بیوی شوہر کو الگ سے پورے گھر والوں کی شکایتیں لگاتی ہیں تو ایک مرد کہاں جائے؟ مرد کی کون سنتا ہے؟ عورت کو تو اقوام متحدہ تک سپورٹ حاصل ہے۔ مرد کی جب کوئی سننے والا ہے ہی نہیں نہ کوئی ایسا ادارہ قائم ہے جو اس بے چارے کی سنے آخر کار پھر مرد کے پاس خودکشی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ ان سب فسادات کی جڑ ’’زبان‘‘ ہے اپنے گھروں ‘بازاروں‘ دفاتر میں زبان پر قابو رکھیں کسی کا دل مت دکھائیں۔

  • پاکستان کے مفادات کا تحفظ ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کے مفادات کا تحفظ ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اہل نظر کا چشمہ ملکی سیاست اور جمہوریت کا مستقبل کہاں تک دیکھ رہا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف جس طرح کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں ملک اور24کروڑ عوام اور جمہوریت کا مستقبل روشن نظر نہیں آرہا۔ قومی مفاد کیا ہے قوم کے مسائل کیا ہیں ریاست کو درپیش مسائل سے آنکھیں چرا کر اپنے ذاتی مفادات کی جنگ لڑرہے ہیں۔ ایک بات طے ہے کوئی بھی سیاسی جماعت جمہوریت اور آئین پر عمل نہیں کررہی اور نہ ہی جمہور کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کررہی ہے۔ ملکی سیاست گالی گلوچ تک محدود ہوگئی ہے جس طرح جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر جمہوریت اور آئین کا جنازہ نکالا جارہا ہے جمہوریت بھی ان سے پناہ مانگتی نظر آرہی ہے۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس وطن عزیز کو اپنی سلطنت بنا لیا ہے جمہوریت کی آڑ میں ملک میں انتشار پھیلانا اسلحہ اور ڈنڈا بردار سمیت سڑکوں پر بیٹھ جانا عدلیہ اور پاک فوج اور جملہ اداروں پر لب کشائی کرنا الزامات لگانا یہ انداز جمہوریت نہیں بلکہ انتشار کی آخری حد ہے۔

    عوام کی اکثریت کا سیاسی جماعتوں پر اعتماد اٹھتا جارہا ہے کیا ماضی اور کیا حال ان سیاسی جماعتوں نے ملکی سلامتی اور عدلیہ کو نشانے پر رکھا دنیا کے کسی بھی ملک کے یہ دو انتہائی اہم ادارے ہوتے ہیں جنہوں نے ہر حال میں ملکی سلامتی اور امن کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ افسوس ہمارے سیاسی قائدین نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا تو ان کا مستقبل کیا ہوگا؟ یاد رکھیے چین کے اپنے مفادات ہیں امریکہ کے اپنے مفادات ہیں عرب ممالک کے بھی اپنے مفادات ہیں ہمیں اپنے وطن عزیز کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ملکی مفادات آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔ پاک فوج اور جملہ ادارے ملکی سلامتی اور امن جبکہ اعلیٰ عدلیہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار جاری رکھیں اور عوام اپنے ان اداروں کے ساتھ کھڑے رہیں ان اداروں کے خلاف سازش کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کریں۔

  • لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت

    لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت

    لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کی حقیقت
    تحریر : وحید گل

    پاکستان گزشتہ کچھ برسوں سے لاپتہ افراد سے متعلق خبروں کی وجہ سے شہ سرخیوں کی زینت بنا رہا ہے۔ لوگوں کا لاپتہ ہونا یا اُن کی جبری گمشدگیوں کے کیسز کا سامنے آنا ، پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ برسوں بعد بھی یہ معاملہ آج بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر حل طلب ہی نظر آتا ہے۔ نیشنل کرائم انفارمیشن سنٹر (NCIC) کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق صرف امریکہ میں 2021 میں 521,705 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی اسی طرح دی سنڈے گارڈین کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر گھنٹے میں 88 بچے، خواتین اور مرد لاپتہ ہوتے ہیں ہر روز 2,130 اور ہر ماہ 64,851 بچے، خواتین اور مرد لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ گو کہ یہ تعداد پاکستان میں موجود اعداد و شمار کی نسبت بہت بڑی ہے لیکن ہماری آج کی بحث پاکستان سے متعلق ہے

    2013ء میں ماما قدیر نامی ایک بلوچ نے لاپتہ افراد کے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے چند بلوچوں کے ہمراہ (جن میں عورتیں بھی شامل تھیں) بلوچستان سے اسلام آباد تک 2,000 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کیا۔ علاوہ ازیں آئے دن نیوز چینلز پر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق خبریں گردش میں رہیں۔ کچھ عرصہ بعد جب کھوج لگائی گئی تو حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے۔ پاکستان میں سرگرم کالعدم تنظیموں میں شامل افراد کی ایک بڑی تعداد بھی جبری گمشدگیوں کے کھاتے میں ڈال دی گئی تھی۔ حالانکہ یہ افراد خالصتاً رضاکارانہ جذبے کے تحت غیر قانونی طور پر مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے بلوچستان جا پہنچتے تھے، تاکہ وہاں دشمن ممالک کے قائم کردہ خفیہ کیمپوں میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کر سکیں۔ آفتاب یوسف کی اگر مثال لی جائے جو ماما قدیر کی کے ہر دھرنے میں پایا جاتا تھا اور گمشدہ لوگوں کیلئے آواز بلند کرتا تھا دراصل وہ خود بی ایل اے کیلئے کام کرتا تھا اور سینکڑوں سیکیور اہلکاروں کو شہید کرنے میں ملوث تھا جو جون 2021میں سیکیورٹی فورسز کی کاروائی میں مارا گیا جسکی تصدیق خود دہشتگرد تنظیم بی ایل نے کی۔

    چونکہ پاک افغان سرحد کی مجموعی لمبائی 2611 کلومیٹر ہے(جس میں خیبرپختونخوا کے ساتھ متصل افغان سرحد کی طوالت 1229کلومیٹر ہے) لہٰذا اُس وقت در اندازی کو روکنے والی باڑ نہ ہونے کے باعث لوگوں کا غیر قانونی پر پر آنا جانا کچھ خاص مشکل نہ تھا۔ یوں بھی یہاں سے آنے جانے والےافراد زیادہ تر یا تو جرائم پیشہ ہوتے تھے یا پھر جہالت، ذہنی پسماندگی اور دیگرمحرومیوں کے باعث شرپسند عناصر افراد کا آسان ہدف بن کر کالعدم تنظیموں میں شمولیت اختیار کر لیتے تھے۔ یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر لاپتہ افراد کے معاملے میں ایکٹو اکاؤنٹس کوسپورٹ کہیں اور سے نہیں بلکہ زیادہ تر ہمسایہ ملک ہندوستان سے مل رہی ہوتی ہے۔

    ایک عام آدمی کے پاس بمشکل دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے رقم ہوتی ہے جبکہ لاپتہ افراد کے لیے تگ و دو کرنے والے یہ لوگ شہروں شہروں نہیں بلکہ ملکوں ملکوں سفر کرتے ہیں، وہاں رہائش اختیار کرتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ وہ میڈیا جسے رتی بھر بھی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا میں کیا کچھ رونما ہو رہا ہے، وہ ان افراد کو بنا کچھ لیے دئیے کوریج دے رہا ہے۔ سوالات تو بہت ہیں لیکں جواب ایک بھی نہیں۔۔۔

    پاکستان میں برسوں یہی پراپیگنڈہ کیا جاتا رہا کہ جبری گمشدگی کے باعث لاکھوں افراد غائب ہیں تاہم جب بھی ان کی تفصیلات طلب کی گئیں تو پہلے بہانے سے تفصیلات کی فراہمی سے گریز کیا جاتا رہا۔ بعد ازاں محض چند سو افراد کی لسٹ سامنے لائی گئی جس کے بعد متعدد افراد بازیاب بھی ہوئے لیکن باقی مبینہ گمشدہ افراد کی تفصیلات کہاں ہیں، کچھ معلوم نہیں۔

    آخر لاپتہ افراد سے متعلق آواز اٹھانے والوں سے جب سوالات کیے جاتے ہیں تو وہ جواب دینے سے کنی کیوں کترا جاتے ہیں؟ لاپتہ افراد سے متعلق ایک عالمی رپورٹ (مطبوعہ 31 دسمبر 2021) کے مطابق امریکا میں لاپتہ افراد کے 93718 فعال کیسزرپورٹ ہوئے، برطانیہ میں 241064 کیسز، جرمنی میں 11000 کیسز، ہندوستان میں 347524 کیسزجبکہ نیپال میں 10418 اور پاکستان میں 2210 کیسز تھے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد ایک عالمی مسئلہ (Global Phenomenon) ہے اور پاکستان بھی اس مسئلے سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ تاہم گمشدہ افراد کی تعداد سے متعلق حد درجہ مبالغہ آرائی سے کام لیا جا رہا ہے۔ ColoED کے ساتھ رجسٹرڈ کیسز میں 9035 لاپتہ افراد کے اعداد و شمار ظاہر کیے گئے ہیں، ان میں سے بھی 70 فیصد سے زیادہ کیسز حل ہو چکے ہیں اور 25 فیصد عنقریب نمٹ جانے کو ہیں۔

    یہاں یہ بات قابلِ فہم ہے کہ جو لوگ گھریلو مسائل، ذاتی لڑائیوں یا اپنا کوئی مطالبہ منوانے کی خاطر گھر والوں کو دباؤ میں لانے کو، اپنی مرضی سے گھر سے جاتے ہیں، ان کے لاپتہ ہونے کو جبری گمشدگی سے نتھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی گمشدگی صرف اسی صورت میں "جبری گمشدگی” کہلائے گی جب ریاست نے اِن افراد کو اُٹھایا ہو مگر اُن کی گرفتاری کا اعلان نہ کر کے اسے مخفی رکھا گیا ہو۔

    پاکستان میں توقع سے بڑھ کر پیار ملا، بھارتی برج ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، کھلاڑیوں کا شاہی قلعہ کا دورہ

    برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، بھارتی ٹیم لاہور پہنچ گئی

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

  • پاک فوج کی لازوال قربانیوں کی قدر کریں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاک فوج کی لازوال قربانیوں کی قدر کریں، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزادقریشی)
    ملک کی بقا اور سلامتی کے لئے اپنی جان نثار کرنے والے شہیدوں اور غازیوں کی داستانیں بیان کرناچاہیں تو ان کے لئے سینکڑوں صفحات درکار ہوں گے۔ لیکن یہ کیسی پارلیمانی جمہوریت ہے ۔ یہ کیسے سیاستدان ہیں ملکی تاریخ میں کوئی بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں جس نے فوج پر تنقید نہ کی ہو ، کسی نے اینٹ سے اینٹ بجانے کسی نے حساب دینا پڑے گا صدائیں لگائیں۔ لیکن 9 مئی کے واقعات نے تو ہلا کر رکھ دیا ۔ عدلیہ ، فوج اور پاک فوج کے جملہ اداروں کو عالمی دنیا میں متنازعہ بنا کر رکھ دیا گیا۔میرا اپنا تعلق پوٹھوہار سے ہے ہر دوسرے گھر کاایک نہ ایک سپوت پاک افواج کاحصہ ہوتا ہے ۔ ان دیہی علاقوں میں نیٹ بھی صحیح کام نہیں کرتا جہاں فوجی جوان تعینات ہیں وہاں موبائل کے سگنل بھی ایک مسئلہ ہے۔ میرے علاقے کے سینکڑوں قبرستانوں میں شہداء کے مقبرے بنے ہیں جنہوں نے اپنے وطن کی خاطر قربانیاں دی ہیں۔ آج بھی پاک فوج کے انتہائی اعلیٰ عہدوں پر فائز فوجی افسران خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ فوجی یا تو ڈھول سپاہی ہوتا ہے یا پھر فوجی بھائی ان بے رحم سیاستدانوں کو ان فوجی بھائیوں اور فوجی افسران کا احترام کرنا چاہیئے۔

    زلزلوں ،سیلاب قحط زدہ علاقوں کی مدد کرنا ۔ گرمی میں گرم وردی میں لمبے چمڑے کے بوٹوں میں تپتی بندوقیں ہاتھ میں لئے چوکس کھڑے ہوتے ہیں حالت جنگ میں فوجی جب اگلے مورچوں پر ہوتے ہیں تو ان کے گھروں میں جو بے خواب راتیں گزرتی ہیں ان کے لئے کیا کبھی کسی اہل دل نے سوچا؟ ۔ ان کی شہید میتیں ان کے گھروں میں جب پہنچائی جاتی ہیں ۔ ان کی مائوں ،بہنوں ، بیویوں پر کیا گزرتی ہے کیا کسی نے کبھی سوچا ؟ اس قوم کا پاک فوج سے محبت کاایک کلچر بن چکا ہے اوریہ نہ ختم ہونے والا کلچر ہے یہ فوجی جوان لینڈ سلائیڈ بپھری ہوئی موجوں ، وبائی امراض، حشرات الارض ، خدمت کے لئے فوری پہنچ جاتے ہیں۔ ملکی سیاستدانوں پر لازم ہے کہ وہ پاک فوج کی لازوال قربانیوں اورخدمات کے معترف ہیں اور انہیں اپنے اپنے اقتدار کی سیڑھی نہ بنائیں اور اپنے سیاسی جھگڑے آپس میں بیٹھ کر حل کریں۔