Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    انسان کی زندگی میں کچھ لمحے، کچھ واقعات ایسے یادگار ہوتے ہیں جو اگرچہ لوٹ کر نہیں آتے مگر وہ دل و دماغ پر ایسے نقش ہوجاتے ہیں کہ انسان ان کے سحر میں تادم مرگ جکڑا رہتا ہے۔ آل پاکستان رائٹز ویلفیئرایسوسی ایشن(اپووا) کے بانی وصدر ایم ایم علی نے مجھے دعوت دی کہ اپووا خواتین ونگ کی گورنر ہاوس میں محترم گورنر محمد بلیغ الرحمان صاحب کے ساتھ میٹینگ ہے تو کیا آپ آسکتی ہیں؟ اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں۔ میرے لئے تو بہت اعزاز کی بات تھی۔ میں نے فورا ًاوکے کیا اور دن گننے شروع کردیئے کہ کب وہ دن آئے گا؟ نا سردی کی پرواہ نا ہی بیماری، بچے اور میاں جی ہنس رہے تھے کہ جی اب تو گھٹنے بھی ٹھیک ہو گئے ہیں۔میں ان کی باتوں کو انجوائے کرتی لاہور پہنچ ایک دن پہلے ہی لاہور پہنچ گئی۔ رات خوشی کے مارے نیند ہی نا آئی، صبح سویرے اٹھ گئی ساتھ ہی بیٹے ڈاکٹر محمد عمر کو بھی اٹھا دیا کہ دو بجے سے پہلے پہنچنا ہے گورنر ہاوس۔قصہ مختصر! دوپہر دو بجے سے بھی پہلے میں گورنر ہاوس لاہور کے گیٹ پر تھی دور جو نظر پڑی تو کچھ خواتین مجھ سے بھی پہلے موجود تھیں اس چمکیلی سی دوپہر میں جیسے ہی میں اندر داخل ہوئی تو میری سوچ کی پرواز آج سے 40 سال پہلے پشاور کے گورنر ہاوس میں پہنچ گئی جب میں فرسٹ ایئر کی سٹوڈنٹ تھی میٹرک میں ضلع پشاور میں ٹاپ کیا تھا اور اس وقت کے گورنر جناب فضل حق (مرحوم) صاحب نے پہلی بار تمام ٹاپرز کو بلوایا اور انعامات سے نوازا (ابھی تک اس تقریب کے سحر میں تھی) یہ 1983 کی بات ہے اور اب دسمبر 2023 میں وہ بچی ٹھیک 40 سال بعد گورنر ہاوس لاہور میں کھڑی تھی اور کبھی سوچا ہی نا تھا حد سے زیادہ خوشی تھی۔پورے دو بجے اپووا صدر ایم ایم علی،صدر خواتین ونگ اپووا ثمینہ بٹ،اورایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول کی قیادت میں ہم سب کانفرنس روم میں پہنچے، وہاں چائے کے ساتھ دیگر لوازمات سے تواضع کی گئی،

    punjab

    کچھ دیر بعد محترم جناب گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب تشریف لائے اور تمام شرکاء کو بہت عزت و احترام سے، نہایت خوشدلی سے خوش آمدید کہا۔۔صدر خواتین ونگ ثمینہ طاہر نے تنظیم کی مجموعی کارکردگی پر بریف دیا جبکہ ایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول نے تنظیم کا تفصیلی تعارف پیش کیا اس کے بعد تمام لکھاریوں سے تعارف ہوا جسے بہت دلچسپی سے گورنر صاحب نے سنا اور مجھ ناچیز کو اسپیشل پشاور سے آنے پر بہت سراہا تعارف مکمل ہونے کے بعد انہوں نے ہمیں گورنر ہاوس کی تاریخ کے بارے میں کافی تفصیل سے آگاہ کیا۔ گورنر ہاوس پنجاب کی تاریخ سوا چار سو سال پرانی ہے یہ 700 کنال پر پھیلا ہوا ہے،اکبر بادشاہ نے 1600میں یہاں اپنے کزن (چچا زاد بھائی) قاسم خان کا مقبرہ تعمیر کروایا جو اس کی بیسمینٹ میں آج بھی موجود ہے بعد میں سکھوں اور انگریزوں نے اس پر قبضہ کیا اور انگریزوں کے ہی دور میں اس عمارت کو گورنر ہاوس کا درجہ دیا گیا۔ گورنر پنجاب جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے سیاحت کے عالمی دن کے موقع پر گورنر ہاوس لاہور میں گایئڈڈ ٹور کا افتتاح کیا اور مزید بتایا کہ یہ ایک تاریخی عمارت اور قومی ورثہ ہے اس میں قائداعظم محمدعلی جناح بھی بطور گورنر جنرل ٹھہر چکے ہیں۔اس میں قائد، ملکہ وکٹوریہ اور دیگر شخصیات کے کمرے بھی موجود ہیں جہاں انہوں نے قیام کیا تھا۔سکولوں، کالجوں کے طلباء، عام عوام،ملکی و غیر ملکی سیاح سب گایئڈڈٹورز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ سب عالمی معیار کا ہوگا اور لوگوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔استاد اللہ بخش کی شاہکار پینٹنگز بھی یہاں موجود تھیں جنہیں گورنر صاحب نے اکٹھی کرکے کمروں میں تزیئن و آرائش کے لئے استعمال کیا استاد اللہ بخش کی تصاویر مصوری کا نایاب شاہکار ہیں ان کا استاد کوء نہیں تھا ان کی ایک پینٹینگ 1 ملین میں فروخت ہوئی نامور مصور چغتائی کے بارے میں بھی بتایا۔

    punjab

    گورنر صاحب نے تمام لکھاریوں، صحافیوں، شعراء کی کاوشوں کو سراہا، ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی نسبت لکھاری زیادہ حساس ہوتا ہے اگر وہ حساس نا ہو تو کبھی لکھ نا پائے لیکن جو بھی لکھیں بغیر تحقیق کے نا لکھیں کبھی بھی سنی سنائی بات کو آگے نا پہنچایئں کہ اس سے معاشرے میں بہت خرابی پھیلتی ہے اور کچھ ہی دیر جھوٹی خبر ایسے پھیلتی ہے کہ وہ سچ لگتی ہے خود بھی اس پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس بات کا احساس دلایئں کہ اس سے معاشرے میں خرابی پھیلتی ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق کسی قوم کو ناکام کرنا ہو تو اسے مایوس کردو اور آج کل ہماری نوجوان نسل میں بہت مایوسی پھیلائی جارہی ہے آپ جو بھی لکھیں اس سے صرف مایوسی یا پریشانی نا بتائیں بلکہ اس کے پازیٹیو اور نیگیٹو دونوں پہلو لکھیں صرف نیگیٹیو لکھیں گے تو پڑھنے والا مایوس ہوگا ملکی معشیت کے پہلووں پر بھی روشنی ڈالی گئی نوجوانوں کی تعلیم و تربیت بارے بھی گفتگو ہوئی ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی تعلیم وتربیت ایسی ہو کہ ان کو خرابی کی پہچان ہو تاکہ وہ اپنی اصلاح کر سکیں مایوسی بہت بڑی خرابی ہے اور نوجوانوں کو اس سے باہر نکالنا ہوگا جو اچھائیاں ہیں ان کی قدر کریں ان پر شکر کریں اور مایوس ہونا چھوڑ دیں۔پھر مادری زبان میں تعلیم،عربی اور ناظرہ کی تعلیم پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے حوالے سے بھی تعلیم اور قومی زبان میں تعلیم پر گفتگوہوئی اس گفتگو میں، نوجوانوں کے حوالے میں نے بھی ایک عرض پیش کی کہ نوجوان طبقہ ڈپریسڈ ہے بیروزگار ہے اور میری درخواست ہے کہ خاص کر فارن گریجویئٹیس کے لئے کچھ کریں یہ صرف ایک میری آواز نا سمجھیں یہ ان ہزاروں ماوں کی اور ان نوجوان ڈاکٹرز کی آواز سمجھیں جو باہر سے پڑھ کر آئے ہیں ان کو جابز نہیں تو کم از کم لائسسنس ایشو کر دیئے جائیں تاکہ گھر کے کسی کمرے میں ہی کلینک بنا لیں کچھ تو کرسکیں اس بارے میں بھی گورنر صاحب کی مشکور ہوں کہ انہوں نے توجہ سے سنااور تمام سوالات کے مفصل جوابات بھی دیئے اور تمام مسائل کے تدارک کے لئے اقدامات کرنے کا عہد بھی کیا میٹینگ اور گفتگو اتنی دلچسپ تھی کہ وقت کا پتہ ہی نا چلا اور آدھے گھنٹے کی بجائے دورانیہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک چلا گیا۔

    دل تھا کہ یہ ابھی کچھ دیر اور جاری رہتی کیونکہ ایسے خوبصورت مواقع، یادگاری لمحے زندگی میں قسمت سے کبھی کبھار ہی ملتے ہیں آخر میں گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے وفد کے تمام اراکین کو یادگاری سرٹیفیکیٹس سے اور خوبصورت قلم و تحائف سے نوازا، مصنفین نے اپنی کتابوں اور رسائل کا تحفہ گورنر صاحب کو پیش کیا اختتام پر گروپ فوٹو کے بعد گورنر صاحب کے حکم پر وفد کو تاریخی گورنر ہاوس کا تفصیلی ٹور بھی کروایا گیا جو میں بوجہ اپنی صحت نا کرسکی اور دور کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی اور سوچ میں وہ بچی تھی جس نے 83 میں گورنر ہاوس پشاور کا کونا کوناایسے بھاگ بھاگ کر دیکھا تھا اور آج؟ پھر اللہ پاک ہزاروں بار شکر ادا کیا کہ جس نے آج یہ موقع دیا کہ جس عمارت کے اندر چڑی بھی پر نہیں مار سکتی وہاں آکر بیٹھنا، گفتگو کرنا، اتنی عزت افزائی یہ سب کیا کسی نعمت سے کم ہے۔۔؟ سب دوستوں سے اجازت لی اور بیٹے کے ساتھ گھر کو روانہ ہوء بہت سی حسین اور خوشگوار یادوں کے ہمراہ۔۔ ابھی پشاور کو جاتے ہوئے راستے میں اس خوبصورت اور یادگار دن کو قلمبند کررہی ہوں اور آخر میں گورنر جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب کی بے حد ممنون ومشکور ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت سے ہمیں اتنا وقت، اتنی عزت اتنا مان دیا۔۔ اپووا کی تمام ٹیم کی شکرگزار ہوں۔۔ اللہ پاک ہم سب کو سلامت رکھے صحت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ آمین ثم آمین
    punjab

  • محکمہ بہبود آبادی،عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل،تحریر:صباءفاروق

    محکمہ بہبود آبادی،عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل،تحریر:صباءفاروق

    محکمہ بہبود آبادی،حکومت پنجاب عوام الناس میں خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ، زچہ و بچہ کی صحت،ماں کے دودھ کی اہمیت سمیت دیگر اہم موضوعات پر آگاہی و شعور کے فروغ کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔عوام کو آگاہی اور شعور فراہم کرنے کیلئے روایتی ذرائع ابلاغ جیسا کہ ٹی وی چینلز،ریڈیو اوراخبارات سے استفادہ تو اٹھایا ہی جاتا ہے مگر محکمہ بہبود آبادی کے پیغامات کو گھر گھر پہنچانے اور مزید آسان طریقہ سے عوام کو خوشحالی اور صحت کا پیغام سمجھانے کیلئے متعدد جدیدطریقہ جات بھی زیر استعمال لائے جا رہے ہیں ۔

    ٹیلی ویژن،عوامی آگاہی کا مستند ذریعہ
    ٹیلی ویژن آج پاکستان کے ہر گھر موجود ہے اور ہر انسان دن میں کئی بار معلومات، انٹرٹینمنٹ وغیرہ کے حصول کیلئے ٹیلی ویژن دیکھتا ہے۔ ٹی وی چینلز کو ایک وقت میں لاکھوں لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں پیغامات کی نشریات کیلئے ٹی وی چینلز کو منفرد اور ممتا ز حیثیت حاصل ہے۔ محکمہ بہبود آبادی عوامی سطح پر شعور و آگاہی عام کرنے کیلئے اب تک ہزاروں پیغامات نشر کر چکا ہے اور اس آگاہی مہم کی بدولت نہایت مثبت نتائج موصول ہو رہے ہیں اور محکمہ مزید آگاہی عام کرنے کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔

    معلومات کی فراہمی کیلئے پرنٹ میڈیا کا استعمال
    اخبارات کو چونکہ معلومات کا مستند ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور معاشرے میں اخبار بینی کا رواج آج بھی اتنا ہی ہے جتنا دہائیوں پہلے تھا۔ محکمہ بہبود آبادی گزشتہ دوسالوں سے اخبارات میں سینکڑوں پرنٹ ایڈز شائع کر چکا ہے جہاں عوام الناس کو خاندانی منصوبہ بندی، جدید اور محفوظ طریقہ جات، ماں بچہ کی صحت، پیدائش میں وقفہ مناسب وقفہ، ماں کے دودھ کی اہمیت، جنسی،ذہنی و جسمانی صحت کے حوالے سے معلومات فراہم کی جاتی ہیںاور معاشرے میں محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے دی گئی معلومات کو نا صرف مستند سمجھا جاتا ہے بلکہ ان پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔عوامی سوچ میں تبدیلی لانے اور خوشحال،روشن مستقبل کی جانب قدم بڑھانے کیلئے امیدافزاءنتائج موصول ہوئے ہیں۔

    بذریعہ ریڈیو،عوام تک رسائی
    عوامی سطح پر خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر اہم موضوعات پر آگاہی عام کرنے کیلئے ریڈیو اسٹیشنز کی وسیع تعداد زیر استعمال لائی جا رہی ہے۔ محکمہ بہبود آبادی تمام ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔چونکہ عوام کی ایک کثیر تعداددوران سفر،دفاتر یاگھروں میں ریڈیو سننا پسند کرتے ہیں اور ریڈیوکئی دہائیوں سے معلومات کا مستند ترین ذریعہ سمجھا جارہا ہے اور اسی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ بہبود آبادی اب تک ریڈیو پر سینکڑوں پیغامات نشر کر چکا ہے۔ اور عوامی سطح پر خوب پزیرائی حاصل ہوئی ہے۔

    ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے آگاہی
    چونکہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آگاہی مہم کا اجراءانتہائی مو ¿ثر طریقہ سمجھا جاتا ہے،افادیت کے پیش نظر پنجاب بھر میں تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر محکمہ بہبود آبادی کے سوشل میڈیا گروپس تشکیل دیئے گئے ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی پیشرفت،سرگرمیوں اورپیغامات کی تشہیر کی جاتی ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی کا مقصد زیادہ سے زیادہ عوام تک پیغام پہنچانے کے علاوہ خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق نوجوان طبقہ تک آسان رسائی بھی ممکن بنانا ہے۔ تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر بنائے گئے ان سوشل میڈیا گروپس کے حوصلہ افزاءنتائج موصول ہوئے ہیں اور نوجوان طبقہ سمیت معاشرے کے ہر طبقہ کی جانب سے محکمہ بہبود آبادی کے پیغامات پزیزائی مل رہی ہے۔

    صوبائی،ضلعی،تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر آگاہی
    عوام الناس اوربالخصوص نوجوان طبقہ میں خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر خدمات سے متعلق آگاہی کیلئے قومی سطح پر سیمینارز، صوبائی سطح پر کانفرنسز اورضلعی و تحصیل کی سطح پر میٹنگز کا انعقاد باقاعدگی سے ممکن بنایا جاتا ہے اور ماہرین کے ساتھ طلباءاور دیگر طبقہ جات کی براہ راست گفتگو سے ان کے ذہنوں میں موجودابہام اور روایتی تصورات کا ازالہ سائنسی اورمنطقی دلائل سے ممکن بنایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ یونین کونسل کی سطح پر سکھی گھر اور دیگر چھوٹی کمیٹیوں کے ذریعے خواتین اور مردوں تک خاندانی منصوبہ بندی کے جدید طریقہ جات، فوائد اور خوشحالی کے رہنما اصولوں کے بارے آگاہی عام کی جاتی ہے۔

    مقامی زبانوں میں آسان پیغام
    مقامی لوگوں کوخاندانی منصوبہ بندی کی افادیت کے بارے آگاہی فراہم کرنے کیلئے مقامی زبانوں جیساکہ پنجابی، سرائیکی اور پوٹھوہاری وغیرہ میں پیغامات کی تشہیر ممکن بنائی جاتی ہے جس کیلئے ٹی وی، ریڈیو سمیت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز زیر استعمال لائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی لوگوں کی سچی کہانیاں،انہی کی زبانی،مقامی زبان میں دیگر لوگوں کو بتائی جاتی ہیں تا کہ عوام الناس غلط فہمیوں کی بجائے حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے خوشحال مستقبل کے بارے 100فیصددرست فیصلہ ممکن بنا سکیں۔

    بذریعہ پتلی تماشہ عوامی سطح پر آگاہی
    محکمہ بہبود آبادی، عوام الناس کو شعور فراہم کرنے کیلئے ضلعی سطح پر پتلی تماشوں کا انعقاد ممکن بنا رہا ہے جس میں بچوں کی کم تعداد،ان کی تعلیم تربیت اور ان کے روشن مستقبل کیلئے والدین کو آگاہی فراہم کی جاتی ہے اس کے علاوہ خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ،زچہ و بچہ کی صحت اور دیگر اہم سماجی معاملات سے متعلق کردار ڈرامہ کی صورت میں شعور عام کر رہے ہیں اور عوامی سطح پر پتلی تماشوں کی نمائش کو بھرپور پزیرائی مل رہی ہے اور عوام ان کرداروں سے سیکھ کر عملی زندگی میں متوازن خاندان اور صحت معاشرے کے ساتھ ساتھ خوشحال پاکستان کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔

    اِن ہاو س سٹوڈیو کاآغاز
    محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے اِن ہاوس سٹوڈیو کا بھی آغاز کیا گیا ہے جہاں ماہرین خاندانی منصوبہ بندی، جدید اور محفوظ طریقہ جات، ماں بچہ کی صحت، پیدائش میں وقفہ مناسب وقفہ، ماں کے دودھ کی اہمیت، جنسی،ذہنی و جسمانی صحت کے حوالے سے عوام کو اہم معلومات فراہم کرتے ہیں جس کو بعدازاں ڈیجیٹل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر پوسٹ کیا جاتا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک محکمہ کا پیغام پہنچا کر خوشحال کل اور صحت مند آج کے خواب کو عملی تعبیر فراہم کی جا سکے۔

    ورکرز بھی متوازن سوچ کے فروغ کیلئے مصروف عمل
    محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے خاندانی منصوبہ بندی اپنا کر خوشحال پاکستان کی تشکیل کیلئے ہر میدان میں رائے عامہ ہموارکی جا رہی ہے جہاں محکمہ بہبود آبادی کے ہر ورکرکی تربیت اس انداز میں ممکن بنائی گئی ہے کہ وہ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنے دوست احباب، رشتے داروں اور اپنی کمیونٹی میں خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ کیلئے آگاہی فراہم کر رہا ہے۔ ورکرزخاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے معاشرے میں قائم فرسودہ خیالات اور غلط فہمیوں کا سائنسی اور منطقی انداز میں ازالہ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگوں کو نہ صرف خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے آگاہی فراہم کر رہے ہیں بلکہ وہ خاندانی منصوبہ بندی کے قابل بھروسہ اور جدید طریقہ جات تک بھی عوامی رسائی ممکن بنا رہے ہیں تاکہ معاشرے میں نئی سوچ کے فروغ سے ایک خوشحال پاکستان کی تشکیل ممکن بنائی جا سکے۔یہ ورکرز کی محنت کے ہی نتائج ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی کو اپنانے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عوام الناس زیادہ بچوں، بیٹوں کی خواہش سمیت دیگرفرسودہ خیالات ترک کررہے ہیں۔ آگاہی کے اشتہارات سے محکمہ،لوگوں کی ذہن سازی اس انداز سے کر رہا ہے کہ وہ اب والدین بچوں کی تعداد کا تعین کرتے وقت زیادہ تعداد کی بجائے ان کی بہتر تعلیم تربیت اور اچھی صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔

    عوامی سوچ اور رویوں میں واضح تبدیلی
    محکمہ بہبود آبادی لوگوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔محکمہ،عوام الناس کے سماجی رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے قومی ذرائع ابلاغ جیسا کہ الیکٹرانک،پرنٹ،سوشل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کامیابی سے آگاہی مہم کو فروغ دے رہا ہے۔محکمہ اپنی آگاہی مہم میں بیٹیوں کی تعلیم تربیت اور ان کے مساوی حقوق کے بارے عوام الناس میں شعور اجاگرکر رہا ہے۔ بچوں کی زیادہ تعداد کی بجائے،ان کی بہتر تعلیم و تربیت پر بھی زور دیا جا رہاہے۔ عوامی رویوں میں تبدیلی لانے کیلئے خواتین کی خود مختاری اور انہیں تعلیم تربیت کی فراہمی کو اولین ترجیح بنایا گیا ہے جہاں فرسودہ روایات و پرانی سوچ کی بجائے اپنوں کے روشن کل کی بات عوام تک پہنچائی گئی ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی جدید اور محفوظ سہولیات چھوٹے خاندان کے روشن کل کی مضبوط بنیاد قرار دی گئی ہیں۔ عوامی سطح پر بچوں کی پیدائش میں وقفہ اور بچوں کی کم تعداد یقینی بناکر ان کے روشن مستقبل کی تشکیل کیلئے بھی رائے عامہ بنائی گئی ہے۔آئیں!خاندانی منصوبہ بندی اپنا کر چھوٹے خاندان کو خوشیوں اور صحت کی مضبوط بنیاد فراہم کریں اور خوشحال پاکستان کی تشکیل کیلئے اپنا کردارادا کریں کیونکہ سوچ میں تبدیلی سے ہی ممکن ہے متوازن خاندان، خوشحال پاکستان

    saba

    ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاک پنجاب کیلئے پر عزم
    محکمہ بہبود آبادی،عوام الناس کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کے مضر اثرات سے بچاوءکیلئے بھی آگاہی عام کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں جنگلات کارقبہ تیزی سے کم ہورہاہے، آتش زدگی اوردیگرقدرتی وانسانی عوامل سے جنگلات کیلئے خدشات اورخطرات بڑھ رہے ہیں،اس صورتحال کے تناظرمیں انسانی صحت اورغذائی سلامتی کے تحفظ کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔ ماحولیات اورایکونظام کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے عالمی معاہدوں پرعمل درآمد کیاجائے۔اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں سے دنیا کی 40 فیصدآبادی کو خطرات لاحق ہیں اس تناظرمیں ایکونظام کی بحالی کیلئے تمام ممالک کواپنامشترکہ لائحہ عمل اختیارکرنا پڑے گا۔عالمی ماحولیاتی اداروں کی تحقیق کے مطابق کسی بھی ملک کے خشک رقبے کا 25فیصد جنگلات پہ مشتمل ہونا نہایت مناسب اورانسانی زندگی کیلئے انتہائی ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 3.3فیصد جنگلات موجود ہیں جو کہ تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    متوازن غذا اور نفسیاتی صحت،سب سے پہلے
    محکمہ بہبود آبادی کے زیر نگرانی کوالیفائیڈ نیوٹریشنسٹ اورسائیکالوجسٹ ضلعی سطح پر اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں جو متوازن غذا کی افادیت، غذائی مسائل سے نجات،حاملہ خواتین کیلئے ضروری غذائی اجزاءکے علاوہ ذہنی،جسمانی اور جنسی صحت کے تحفظ کے حوالے سے اہم خدمات سر انجام دہے رہے ہیں۔ عوام الناس بالخصوص خواتین کو نفسیاتی مسائل کے آسان حل بتائے جاتے ہیں،ورزش سمیت دیگر معمولات میں ہم آہنگی اور ذہنی سکون کے حوالے سے اہم نکات پر زور دیا جاتا ہے۔

    عوامی صحت،ہماری اولین ترجیح
    محکمہ بہبود آبادی،صحت عامہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ڈینگی، نمونیا، وبائی امراض سے متعلق ویکسینیشن،متوازن غذا،ماں بچہ کی صحت سے متعلق اہم معلومات اور ماں کے دودھ کی اہمیت سمیت دیگر اہم مسائل سے متعلق بھی معلومات ڈیجیٹل اور قومی میڈیا کے ذریعے آگاہی عام کر رہا ہے۔ جس کا مقصد عوام الناس کو صحت کے حوالے سے نئی معلومات فراہم کر کے نہ صرف خوشحال بلکہ صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن بنانا ہے.

    saba farooq

  • فوج، عدلیہ ریاست کے حتمی ستون،تنقید کیونکر؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    فوج، عدلیہ ریاست کے حتمی ستون،تنقید کیونکر؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    فوج اور عدلیہ ریاست کے حتمی ستون ہوتے ہیں۔ پاکستان کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں ان دونوں اداروں کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا ،ٹاک شوز ،سیاسی پریس کانفرنسوں، سیاسی جلسے جلوسوں، میں ان دو اہم ریاستی اداروں کو موضوع بحث بنا لیا گیا ہے۔ ملکی سلامتی و بقا کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان دو اداروں کو ہر معاملے میں گھسیٹنا کیا سیاسی جماعتوں کی مجبوری بن چکا ہے؟ یہ عمل ملک و قوم کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح ہمارے ملک کی جمہوریت ایک لاغر کا درجہ رکھتی ہے سیاستدان بھی جسمانی ، دماغی اور دیگر معاملات میں لاغر ہی ہو چکے ہیں۔ کوئی ہوشمند اپنے ان دو ادارں پر اس طرح کھلے عام تنقید نہیں کرتا۔ ان دو اہم ریاستی اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر موضوع بحث بنا کر ہم دنیا کو اپنے ملک کا کیسا نقشہ پیش کر رہےہیں۔ اپنی ریٹنگ کے چکر میں سنسنی پھیلانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔

    یاد رکھئے اداروں کو بقا اور شخصیات کو فنا ہے۔ اقتدار، اختیارات، پروٹوکول، ہوس زر نے کیا ہمارا ذہنی توازن اس قدر کر دیا ہے کہ ہم ایسی چنگاریاں پھیلا رہے ہیں جس سے شعلے بھڑک اٹھنے کا اندیشہ ہے۔ جو شعلے بھڑکا رہے ہیں وہ پورے نظام کو راکھ دیں گے۔ پاکستان کی سلامتی مضبوط ہاتھوں میں ہے پاک فوج اور جملہ ادارے اس ملک کی سلامتی و بقا کی خاطر سرحدوں کی حفاظت پر مامور بھی ہیں اور اپنی جانیں بھی قربان کر رہے ہیں۔ ملک میں دہشت گردی جو سر اٹھا رہی ہے اس سازش کو بھی بے نقاب کرنے کے ساتھ دہشت گردوں کا صفایا بھی کر رہے ہیں۔ حیرت ہے ایسے دانشوروں پر جو ہماری سیدھی سادہ عوام کو بنگلہ دیش کیوں علیحدہ ہوا کی مثالیں دے کر ڈرا رہے ہیں۔ بھارت بلوچستان میں اور بلوچستان کے ذریعے دہشت گردی کا ذمہ دار ہے جس کی مثال کلبھوشن ہے افسوس، اقتدار، حوس زر، اختیارات ، لالچ کی ایک اندھی دوڑ لگی ہوئی ہے ہر کوئی دوسرے کو روند کر زچ کر کے آگے بڑھنا چاہتا ہے بلاوجہ ایک کہرام مچا ہے ایک ایسا کہرام جس کا کوئی سر پیر ہی نہیں۔

  • پاکستان کو کیسا وزیراعظم چاہئے؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کو کیسا وزیراعظم چاہئے؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی)
    ملک کی سیاسی جماعتوں کے ووٹرز پرامید ہیں کہ ان کی جماعتوں کے قائد وزیراعظم بنیں گے۔ انتخابات سے قبل بے لگام قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کو صرف وزیراعظم نہیں بلکہ ایسا وزیراعظم اور اس کے ساتھ ایسی ٹیم چاہئے جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور اس کی عوام کی نمائندگی کر سکے۔ جو ملک کو درپیش مسائل کا خاتمہ کر سکے بالخصوص ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کا کردار ادا کر سکے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت تادم تحریر بتانے سے قاصر ہے کہ وہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں بالخصوص آئی ایم ایف سے کیسے نجات دلائے گی۔

    پاکستان بطور ریاست اور عوام معیشت کی وجہ سے مشکلات میں گھری ہے۔ تاہم سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے اندھا دھند بیانات سامنے آرہے ہیں۔ بہت ہو چکا ماضی کی غلطیوں اور غلط پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہم دنیا میں مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ دنیا کا مقابلہ کرنے کےلئے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اسکولوں میں پانچویں جماعت سے ہی طلبا کو کمپیوٹر پر تعلیم دی جائے بچوں کو اسلام کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے زراعت پر بھرپور توجہ دی جائے۔ ملکی وسائل پر صدق دل سے توجہ دی جائے۔ حدیث نبوی ؐ ہے لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔ ہم من حیث القوم اپنے لوگوں کے ساتھ دو نمبری کرتے ہیں دنیا کو کیا فائدہ پہنچائیں گے؟ انسانوں کی جان بچانے والی ادویات میں ملاوٹ، خوراک میں ملاوٹ، جعلی ڈاکٹرز، جعلی حکیم، ملک کے مستقبل بچوں کو جعلی اور ملاوٹ شدہ دودھ، غیب کا علم صرف خدا پاک کو ہے ہمارے معاشرے میں غیب کا علم گلی محلوں اور گلیوں میں بتانے والوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ سامری جادوگر کا قصہ قرآن پاک میں موجود ہے ہمارے ہاں کئی سامری جادوگر پائے جاتے ہیں۔ جو لوگوں کو گمراہ کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

    دنیا میں رہ کر اگر ترقی کرنی ہے تو یہ فطرت کا قانون ہے کوئی بھی فرد، قوم یا ملک جو قانون کی پابندی نہیں کرتا وہ زندگی میں کبھی ترقی نہیں کر سکتا جن کو ہم صبح و شام گالیاں اور بددعائیں دیتے ہیں انہوں نے رب زدنی علما پر عمل کر کے ہمیں موبائل فون، کمپیوٹر، کیمرا، ایٹمی ہتھیار، ادویات، گوگل، فیس بک اور نہ جانے کیا کیا دیا ۔ سوچئے ہم نے رب زدنی علما پر عمل کیا؟ تعلیمی نظام میں انقلاب لانے کے لئے ماہرین تعلیم کو سیکرٹری اور وزیرتعلیم لگانا ہوگا محکمہ صحت کو جدید اور عوام کے درد شناس بنانے کے لئے اعلیٰ کارکردگی کے حامل ماہرین صحت کو وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کی ذمہ داریاں دینا ہوں گی اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ اقوام کی روش پر چلنے کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی ہی کے ماہرین پر محکمانہ قیادت قائم کرنا ہوگی ورنہ ہم ترقی کے سفر میں پے در پے پستی کا شکار ہوتے رہیں گے۔

  • ماضی نہیں، پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ماضی نہیں، پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    2024 انتخابات کا سال ہے۔ انتخابات کی تاریخ نزدیک آرہی ہے سیاسی جماعتیں اور سیاسی قائدین کی شدید دھند اور شدیدسردی میں گرجدار آوازیں سنائی دیر ہی ہیں۔ ا پنے ووٹروں کو شدید سردی کے موسم میں گرمارہی ہیں۔ عوام کے مقدرمیں سردیوں میں گیس نایاب ہے ۔ اس لئے اپنی آوازوں سے ان کو گرما رہے ہیں۔ گونگی اور بہری عوام ان سے سوال کرنے سے قاصر ہے کہ سردی میں گیس اور گرمی میں لوڈ شیڈنگ کیوں ہوتی ہے اور اس کا ذمہ دارن کون ہے ؟ملکی سیاسی جماعتوں میں اضافہ بھی ہوا ہے ۔ نئی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور ہمنوا اقتدار ، اختیارات کے مزے لوٹ چکے ہیں۔ ملک کے طول وعرض میں پھیلے گدی نشین اپنی اپنی پسندیدہ جماعت کے لئے اپنے مریدوں کو ووٹ دینے کی تاکید رہے ہیں۔ ان گدی نشین افراد کو کون سمجھائے کے ان کے آباو اجداد نے خدا اور رسول کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی تبلیغ کی تھی نہ کے سیاسی پنڈتوں کے ساتھ چل کر سیاسی تبلیغ ،

    آج ان گدی نشینوں کے سامنے ملاوٹ شدہ خوراک ۔ ملاوٹ شدہ ادویات جس کے بارے میں آپﷺ کا فرمان ہے جوملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں کاش یہ موجودہ گدی نشین اس ایک حدیث مبارکہ پر عمل کرواتے ۔

    بلاول بھٹو پیپلزپارٹی میں نئی رو ح پھونکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں جبکہ میاں محمد نواز شریف زیرک مدبر اور سیاسی دائو پیچ کے ماہرسیاستدان ہیں۔پی ٹی آئی کے قائد اس وقت جیل میں ہیں وہ کب تک جیل میں رہیں گے یہ قانونی ماہرین ہی بتا سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں ماضی کو یاد کرکے وقت ضائع نہ کریں ۔ پاکستان کے بہتر مستقبل پر توجہ دیں ۔ عوام کو محض الزام تراشیوں کی سیاست اور نرگسی جھانسوں سے تسلی دینے کی بجائے حقیقی تعمیراتی سیاست کریں ۔ ملک بنیادی طورپر ایک مقروض ملک ہے اور معاشی طور پر خود مختار نہیں ہے ایسی پالیسیاں بنائیں ملک معاشی مستحکم ہو۔ بلوچستان کی محرومی کا رونا ہر دور میں رویا گیا ۔ اب ترقی کی جانب بلوچستان گامزن ہے غور طلب بات ہے کہ اس ترقی کو روکنے والے کونسے عناصر ہیں؟ چین اکنامک کو ریڈور کے راستے میں کون رکاوٹ بن رہا ہے یہ بلوچی بھائیوں کے لئے خوشحالی کے دروازے کھولے گا۔ شرپسند عناصر سے ڈرانے کی فرصت نہیں کچھ شرپسند بلوچستان کے سادہ لوح عوام کو گمراہ کررہے ہیں ۔ ہوس زر اور ہو س اقتدار کے سرکش گھوڑے پر سواروں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

  • آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔

    چھبیس نومبر 1994 کی وہ صبح مجھے اور میرے سرکاری معاصرین کو اب بھی یاد ہوگی جب ایک ناقابل یقین اطلاع ملی کہ ہماری بیچ میٹ پروین شاکر ٹریفک کے ایک حادثے میں شدید زخمی ہو گئی ہیں۔ وہ صبح کے وقت دفتر جارہی تھیں۔ گاڑی کے ڈرائیور کے بارے میں بھی اطلاع کچھ اچھی نہیں تھی لیکن پروین کے بارے میں سب لوگ پُرامید تھے کہ اسے کچھ نہیں ہوگا۔ زخم جلد مندمل ہوں گے اور وہ اپنی زندگی میں واپس آ جائے گی۔ اس زمانے میں موبائل فون عام نہیں تھے اس لئے لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ نہیں مل سکتی تھی۔ بہت سے لوگ ہسپتال میں جمع تھے اور کچھ مجھ جیسے کاہل الوجود دفتر میں بیٹھے فون کر کر کے ادھر ادھر سے خبر حاصل کر رہے تھے۔

    بالآخر خبر آ گئی لیکن یہ وہ خبر نہیں جس کے لئے دعائیں کی جارہی تھیں۔ قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ پروین شاکر اپنی بھری جوانی میں اپنے سول سروس کے کیرئر کے آغاز اور شاعرانہ کیرئر کے عروج پر پہنچ کر دنیا سے رخصت ہو گئی۔ اس کی عمر گو کہ صرف بیالیس برس تھی لیکن وہ اتنی کم عمری میں ناصر کاظمی کی طرح شعر و ادب کی دنیا میں ایسا مقام و مرتبہ حاصل کر چکی تھی جو بہت کم شعراء کو نصیب ہوا۔ شاید کاتبِ تقدیر کی مشیت میں اس کی آمد کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔ اس شہرت اور مقام و مرتبے کا لوگ صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ اس زمانے کا اسلام آباد ایک خاموش اور پُرسکون شہر ہوا کرتا تھا۔ اس کی المناک موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگ اس کے جاننے والوں کو پرسہ دینے لگے۔
    parveen

    وہیں دفتر میں بیٹھے بیٹھے مجھے صرف دس دن پہلے کی بات یاد آ رہی تھی۔ مجھے اسلام آباد میں تعینات ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اور مجھے کسٹمز سروس کے کسی صاحب اختیار کا رابطہ نمبر درکار تھا۔ میں نے اپنے رفیقِ کار سرور زیدی سے کہا کہ کسٹم کے کسی بھی دفتر میں فون کر کے متعلقہ افسر کا فون نمبر پوچھ لیں۔ سرور نے تھوڑی دیر بعد ہی گھبرائے ہوئے لہجے میں بتایا کہ فون کسی میڈم نے براہ راست ہی اٹھا لیا جو آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں اور آپ کو پہلے ہی بتا دوں کہ وہ آپ کا نام سننے کے بعد غصے میں لگتی ہیں۔

    "ثاقب!” فون ملتے ہی دوسری طرف سے آواز آئی، "اسلام آباد کب آئے؟” مجھے آواز پہچاننے کے لئے ذرا مہلت چاہئے تھی اس لئے آئیں بائیں شائیں کرنے لگا تو پھر آواز آئی کہ اب کیا مجھے اپنا تعارف کرانا پڑے گا۔ میں نے ڈانٹ ڈپٹ کے ڈر سے فورا” جھوٹ گھڑ کر کہا کہ کچھ ہی ہفتے ہوئے ہیں۔ میں آواز پہچان گیا تھا کیونکہ یہ سگنیچر ڈانٹ ڈپٹ صرف پروین شاکر کی ہی ہو سکتی تھی۔

    "آتے ہی فون کیوں نہیں کیا؟ ملنے کیوں نہیں آئے؟”

    میں نے فوراً وعدہ کیا کہ جلد حاضر ہوں گا۔ ابھی یہ وعدہ پورا کرنے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ یہ دن آن پہنچا۔ صرف دس دن پہلے کی بات تھی کہ وہ زندہ سلامت نہ صرف ہمارے درمیان موجود تھی بلکہ ڈانٹ ڈپٹ اور شکوہ شکایت بھی کر رہی تھی۔

    پروین شاکر سول سروس میں ہماری ہمعصر تھی جسے ہماری زبان میں بیچ میٹ کہتے ہیں۔ اس کا ہمعصر ہونا ایک اعزاز تھا۔۔اگرچہ وہ اپنے منفرد شاعرانہ لب و لہجے اور اپنی ناموری کی وجہ سے ہم میں بہت ممتاز حیثیت رکھتی تھی پھر بھی اس کے ساتھ معاصرانہ چشمک اور یکطرفہ ڈانٹ ڈپٹ بھی چلتی رہتی تھی۔

    انہی دنوں اردو کے صاحب اسلوب شاعر جناب محبوب خزاں کراچی سے اسلام آباد آئے ہوئے تھے۔ وہ اکثر ملاقات کے لئے تشریف لاتے۔ اس دن آئے تو نہایت غمزدہ تھے۔ میں اپنے مربی اور مرشد جناب اطہر زیدی صاحب کی خدمت میں حاضر تھا۔ ان کے ساتھ اس المناک سانحہ پر بات ہو رہی تھی کہ خزاں صاحب تشریف لائے اور کہنے لگے کہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کس کے ساتھ پروین شاکر کی موت کی تعزیت کروں۔ تم مل گئے ہو تو دلی تعزیت قبول کرو۔ آخر بیچ میٹ بھی تو فیملی سے کم نہیں ہوتے۔
    pavren

    اس دن اطہر زیدی صاحب کے دفتر میں بیٹھ کر ہم نے پروین شاکر کے لئے ایک تعزیتی ریفرنس منعقد کیا جس میں ہم تینوں ہی شریک تھے۔ محبوب خزاں صاحب نے پروین کی شاعری پر بڑی خوبصورت گفتگو کی۔ اس نے اپنے شعر کے ذریعے معاشرے کے استحصالی رویوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر رکھا تھا۔ اس کی بغاوت میں بھی حسن تھا، شعریت تھی اور صنف نازک کے ان جذبوں کی ترجمانی تھی جو بوجوہ سامنے نہیں لائے جا سکتے۔ محبوب خزاں صاحب نے ایک شعر سنایا جو پروین کے منفرد نسائی لب و لہجے کا عکاس تھا۔

    تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سنوں
    الجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر

    پروین نے 1981 میں مقابلے کا امتحان دیا۔ ذرا اس کے شاعرانہ مرتبے کا تصور کریں کہ اس امتحان کے اردو کے پرچے میں خود اس کی شاعری کے بارے میں بھی سوال پوچھا گیا تھا۔ اس وقت اس کی عمر صرف انتیس برس تھی۔ اگلے برس جب نتیجہ سامنے آیا تو اس میں پروین شاکر کی پوزیشن دوسری تھی اور اسے فارن سروس کے لئے چنا گیا تھا۔ ہمارا یہ بیچ سول سروس کی عصری ترتیب میں دسواں کامن کہلاتا ہے۔ میرٹ میں اس سے اگلا نمبر ایک اور لائق فائق خاتون رعنا مسعود کا تھا۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ کورس کے اختتام پر پروین کو بہترین پروبیشنر اور رعنا کو بہترین آل راؤنڈر کا اعزاز ملا۔
    parveen

    اکیڈمی میں پروین شاکر کی وجہ سے ادبی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی تھیں۔ وہ خود تو نجی وجوہات کی بناء پر لو پروفائل پر رہنا چاہ رہی تھی لیکن ان سرگرمیوں کے لئے اس کا نام ہی بہت تھا۔ اسی کی وجہ سے ہم نے اکیڈمی میں ایک عظیم الشان مشاعرہ برپا کیا جس کی صدارت احمد ندیم قاسمی صاحب نے کی۔ سید جاوید (شاہ جی) ہمارے بیچ میٹ اور خوبصورت شاعر ہیں۔ وہ اور میں بھاگ دوڑ کرکے شاعروں کو دعوت دینے جاتے۔ پروین کا نام سن کر کسی شاعر نے اپنا روایتی نخرہ نہیں دکھایا اور بغیر کوئی مشکل پیدا کئے مشاعرے میں شرکت کی حامی بھری۔ خیال رہے کہ شعراء کرام کو کسی قسم کا اعزازیہ پیش نہیں کیا گیا تھا۔ صرف لانے لے جانے کی سہولت دی گئی تھی۔ اس کے باوجود ہر شاعر نے مشاعرے میں شرکت کی اور اسے کامیاب بنایا۔ (جاری ہے)

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    hussain saqib

  • آرمی چیف کا دورہ امریکہ انتہائی اہم،تجزیہ، شہزاد قریشی

    آرمی چیف کا دورہ امریکہ انتہائی اہم،تجزیہ، شہزاد قریشی

    امریکہ سمیت چین، عرب ممالک کے اپنے اپنے مفادات ہیں ۔پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت کو حمایت اس وقت حاصل نہیں ہے ۔بالخصوص لاڈلے کا الزام لگانے والوں کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ میاں محمد نوازشریف کو بھی نہ ہی امریکہ اور نہ ہی کسی دوسری عالمی طاقت کی حمایت ہے اس کو سیاسی پروپیگنڈہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ عوام کے لئے عرض ہے کہ دنیا میں اس وقت جنگی بادل چھائے ہیں روس اور یوکرائن کی جنگ اسرائیل اور حماس کی جنگ غزہ جل رہا ہے۔ روس اور یوکرائن جنگ کے اثرات یورپی معیشت پر پڑے ہیں۔ امریکہ اس وقت خود کئی محاذوں پر الجھا ہوا ہے۔

    چین کا بڑھتا اثر و رسوخ روس کے صدر کا عرب ممالک کا دورہ اور دیگر عالمی سیاسی اتار چڑھاؤ۔ اس جنگی ماحول میں عالمی دنیا کی توجہ معیشت پر ہے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے پاک فوج ملکی سلامتی کے ساتھ معیشت کو مستحکم کرنے کا کردار بھی ادا کر رہی ہے۔ ملک کی دو طاقتور شخصیات چیف آف آرمی سٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا دورہ امریکہ انتہائی اہم قرار دیا جاسکتاہے، مسئلہ کشمیر اور غزہ جنگ پر بات چیت سمیت معاشی حالت کو مستحکم کرنے کے لئے دونوں شخصیات نے اہم کردار ادا کیا ہے، اس سے قبل خلیجی ممالک نے بھی آرمی چیف کی اکنامک ڈپلومیسی کی وجہ سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کرنے کا یقین دلایا۔

    امریکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور پھر آئی ایم ایف سے کاروباری تعلقات میں پاکستان کو امریکہ کے تعاون کی ضرورت بھی رہتی ہے تاہم آرمی چیف کی ان کوششوں سے پاکستان معاشی گرداب سے نکلتا نظر آرہا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق پاکستان سے تجارت بڑھانے اور سرمایہ کاری پر بات چیت کی ہے سچ تو یہ ہے اس وقت پاکستان کی عزت پاک فوج نے ہی بچا کر رکھی ہے عالمی دنیا میں پاکستان کے وقار کو بحال کرنے میں پاک فوج کا کردار صاف نظر آتا ہے سیاسی جماعتوں کے کردار صبح شام ایک دوسرے کو غدار، افواہ سازی ، اقتدار اختیارات کے کھیل نے ان کے کردار کو مشکوک بنا دیا ہے۔ جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔
    shehad qureshi

  • آٹھ فروری، پاکستانی قوم کا بھی امتحان، تجزیہ، شہزاد قریشی

    آٹھ فروری، پاکستانی قوم کا بھی امتحان، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    الیکشن سے قبل بہت سی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں ملک کا مسئلہ اس وقت یہ نہیں ہے کہ کون بنے گا وزیراعظم؟ ملک کے بہت سے مسائل میں بڑا مسئلہ معیشت اور خارجہ پالیسی کا ہے۔ معیشت مستحکم ہوگی تو ملک اور عوام کے بنیادی مسائل کا خاتمہ ہوگا۔ معیشت مستحکم ہوگی تو ملک اور عوام کے بنیادی مسائل کا خاتمہ ہوگا۔ سیاست کے شطرنج کی بساط بچھ چکی ہے سیاست کوئی تفریحی کھیل نہیں ہے۔ آج کی دنیا ترقی کی منازل طے کر رہی ہے آج ملک جس دہانے پر آکر کھڑا ہو گیا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ معیشت ہماری مستحکم نہیں خارجہ پالیسی کی کیا سمت ہے اس کی ہمیں خبر نہیں۔ سیاسی اور مذہبی جماعتیں ملک اور عوام کی تقدیر بدلنے کانعرہ لگا رہی ہیں۔
    بقول شاعر
    بدلنا ہے تو رندوں سے کہو اپنا چلن بدلیں
    ساقی بدلا دینے سے میخانہ نہ بدلے گ
    ا
    جمہوریت کے گلیاروں میں جاری ہلڑ بازی اور افراتفری، جاگیرداری ، سرمایہ کاری، گدی نشینوں کی پیداوار، سیاستدانوں کے کردار اور تفسیات کو بے نقاب کر رہی ہے۔ نودولتیوں اور نوزائیدہ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کی حقیقت تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ان کی گفتگو اور حرکات و سکنات سب کچھ عیاں کر رہی ہے بلکہ انسانوں کو تعفن زدہ کر رہی ہے اس ماحول اور اس تعفن زدہ سیاست میں ملک و قوم کیونکر ترقی کرے اور کیسے کرے؟ نوراکشتیوں کا بازار گرم ہے جس ملک کی سیاست فنانسروں کی تابع ہو جائے وہ سیاستدان اپنے آپ کو بھی اور ملک و قوم کو بھی دھوکا دے رہا ہے۔ عوام پر 8 فروری ووٹ کے دن فرض ہے کہ وہ ایسی قیادت اور ایسی سیاسی جماعت کا چنائو کریں جو ملکی اور قومی مفادات کو اولیت دے۔ یاد رکھیئے ! پاکستان کی شناخت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے مزید اس کی گنجائش نہیں ہے۔ عوام ایسی قیادت کا انتخاب کریں جو ملکی اور قومی مفادات کو اولین ترجیح دے۔ نہ لینڈ مافیا سے ،ان کی ہائوسنگ سوسائٹیوں سے اپنے محلات فارم ہائوس تعمیر کروائے اور ٹھیکیداروں سے کمیشن وصول کرے ۔ملک کو اس وقت اپنی معیشت مستحکم اور تعمیر و مضبوطی کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ بیرونی ممالک کی سرمایہ کاری اور دوست ممالک اور دیگر خیرخواہوں کے اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام بخوبی آگاہ ہیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں ترقی کے سفر کو پورا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

  • جذباتی سیاست نہیں معیشت مستحکم چاہیے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    جذباتی سیاست نہیں معیشت مستحکم چاہیے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    دنیا 2023ء کو الوداع کہنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ 2024ء میں دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں صدارتی نظام ہے وہاں بھی الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور ان ممالک میں بھی جہاں پارلیمانی نظام ہے وہاں بھی۔ پاکستان میں 2024ء الیکشن کا سال ہے۔ دنیا کے ممالک کی توجہ معیشت پر ہے امریکہ سمیت دنیا کی توجہ اپنے شہریوں کے بنیادی مسائل کو حل کرنا ہے عوام اور ریاستی مسائل کے خاتمہ پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے

    ملک میں انتخابی شیڈول کے ساتھ ہی سیاسی گہما گہمی عروج پر پہنچتی جا رہی ہے پیپلزپارٹی مسلم لیگ (ن) پی ٹی آئی سمیت مذہبی جماعتیں بھی الیکشن میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں وزارت عظمیٰ کی دعویدار تقریباً تمام سیاسی جماعتیں ہیں۔ اس بار نوزائیدہ سیاسی جماعتیں بھی میدان میں ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی کو خیر آباد کہہ کر اپنی سیاسی جماعتیں بنالی ہیں ان نوزائیدہ سیاسی جماعتوں نے پی ٹی آئی میں رہ کر اقتدار کے مزے لئے اور اب سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نام پر دوبارہ مزے لوٹنے کے لئے پرتول رہی ہیں۔ عوامی خدمت کی دعویدار تمام سیاسی جماعتیں ہیں مگر خدمت کا عالم یہ ہے کہ عوام بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے بیزار ہیں موسم گرما میں بجلی اور موسم سرما میں گیس کی لوڈشیڈنگ یہ عوامی خدمت کا پہلا تحفہ عوام سالوں سے بھگت رہے ہیں یہ بات تو طے ہے کہ کسی سیاست جماعت کے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ہوگی ایک مخلوط حکومت کے لئے عوام تیار رہیں۔ تاہم نوازشریف نے معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے آواز بلند کی ہے نوازشریف معیشت کو ملکی اثاثہ قرار دے رہے ہیں۔ عوام کو الیکشن سے قبل معیشت کو مستحکم کرنے کے اقدامات سے آگاہ کریں کہ وہ معیشت کو کس طرح مستحکم کریں گے کسی بھی ملک کی مضبوط معیشت ملازمتوں کی تخلیق مہنگائی میں کمی کا باعث بنتی ہے بلاول بھٹو نے پشاور میں دوبارہ روٹی کپڑے اور مکان کا نعرہ لگایا ہے ان کے پاس معیشت کو مستحکم کرنے کا کیا پلان ہے ملک میں پڑھے لکھے نوجوان بیروزگار ہیں۔ عوام بنیادی ضروریات زندگی سے کوسوں دور ہیں ملکی معیشت کو اس وقت انقلابی اصلاحات اور قیادت کی ضرورت ہے ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ملکی وسائل پر بھرپور توجہ دے پوری دنیا میں اقتصادی ترقی کی دوڑ لگی ہے جذباتی اور نعرہ بازی کی سیاست سے نکل کر معیشت کے حوالے سے عملی اقدامات کئے جائیں۔

  • تبصرہ کتب: بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

    تبصرہ کتب: بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات
    مولف : عبدالمالک مجاہد
    صفحات : 255۔۔۔4کلر آرٹ پیپر
    قیمت : 3250روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال لاہور
    رسالت ماٰ ب ﷺ بچوں کے بھی رسول ہیں ۔ آپ ﷺ بچوں کے ساتھ بے انتہا محبت فرمایا کرتے تھے ۔ جبکہ بچے بھی نبی رحمت ﷺ سے محبت کرتے اور آپ ﷺ پرجان قربان کرنے کےلئے تیار رہتے تھے ۔ معوذ ومعاذ دو ننھے منے بچوں کی رسالت ماٰ ب کے ساتھ محبت اور جانثاری تاریخ اسلام کاایک روشن باب اور ہمارے بچوں کےلئے مشعل راہ ہے ۔ آج ہم پر بھی بطور والدین فرض ہے کہ اپنے بچوں کے دل ودماغ میں نبی رحمت ،رسول معظم ﷺ کی اس طرح کی محبت وعقیدت راسخ کریں جو محبت معوذ ومعاذ رضی اللہ عنھما کے والدین نے اپنے بچوں کے دلوں میں پیدا کی تھی ۔ اس کےلئے ضروری ہے کہ بچوں کو رسول پاک ﷺ کے واقعات سنائے جائیں اور ایسی کتابیں پڑھنے کےلئے دی جائیں جن میں نبی مکرم رسول رحمت ﷺ کی سیرت بیان کی گئی ہو ۔ زیر نظر کتاب ” بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات “ اسی پس منظر میں لکھی گئی ہے ۔

    کتاب کے مﺅلف عبدالمالک مجاہد ہیں ۔ دارالسلام انٹرنیشنل بچوں کےلئے اسلامی ، اصلاحی ، تربیتی کتابیں شائع کرنے میں عالمی شہرت کاحامل ہے جبکہ عبدالمالک مجاہدسیرت النبی ﷺ پر بہت سی کتابیں لکھ چکے ہیں ان میں بہت سی کتابیں ایسی ہیں جو بطور خاص بچوں کےلئے لکھی گئی ہیں ۔” بچوں کے لیے سنہری سیرت کے منتخب واقعا ت “ میں دلچسپ اور دیدہ زیب پیرائے میں سیرت النبی ﷺ بیان کی گئی ہے تاکہ بچے بچیاں نبی ﷺ کی پاکیزہ سیرت سے آگاہ ہوکر اسلامی اخلاق و کردار اپنا سکیں اور مروجہ لٹریچر کی آلودگی اور قباحتوں سے بچے رہیں جو انھیں افسانوی اور دیومالائی کہانیوں کی لت میں مبتلا کرکے اسلامی اخلاق سے آراستہ نہیں ہونے دیتا ۔ اسی ضرورت کے پیش نظر یہ کتاب شائع کی گئی ہے۔ اس پاکیزہ مجموعے کو شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے چہار رنگ تصویروں اور خاکوں سے مزین کیا گیا ہے تاکہ بچے تصاویر کے ذریعے سے واقعات کو سمجھیں اور اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت سے واقف ہو سکیں ۔تاہم کتاب میں اللہ کے نبی ﷺ یا کسی صحابی کو تصویر یا خاکے میں نہیں دکھایاگیا ۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ خوبصورت اور دیدہ زیب کتاب بچوں بچیوں کو بے حد پسند آئے گی اوراس کے مطالعہ سے ہمارے بچوں کےلئے سیرت مقدسہ کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا بہت آسان ہوجائے گا۔یہ کتاب 81عنوانات پر مشتمل ہے اس کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ آسان فہم کےلئے ہر عنوان کے آخر میں سوال و جواب بھی دیے گیے ہیں تاکہ بچے غور سے پڑھیں اور سوالات کے ذریعے ان واقعات کو یاد رکھ سکیں ۔ آرٹ پیپر پر شائع کردہ یہ کتاب مضمون کے اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے طباعت کے اعتبار سے بھی بہت دلکش اور دیدہ زیب ہے ۔

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز