Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • سول انجنئیر بننا منع ہے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    سول انجنئیر بننا منع ہے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    حج کا دوسرا دن تھا اور ہم منیٰ کی مرکزی شاہراہ پر کھڑے اس ادھیڑ عمر پاکستانی جوڑے کو پریشانی اور خوف کے عالم میں آپس میں جھگڑتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ ہم نے ہمت کرکے ان سے پوچھا کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ پہلے تو وہ ہم سے کچھ گھبرائے لیکن ہمارے اصرار پر خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ کل رات سے راستہ بھولے ہوئے ہیں اور انہیں اپنا خیمہ نہیں مل رہا۔ اگر ہم ان کو ان کے خیمے تک پہنچانے میں کچھ مدد کر دیں تو وہ ہمارے شکر گزار ہوں گے۔

    اس وقت تک گوگل میپ نہیں آیا تھا اور سمارٹ فون بھی اتنا سمارٹ نہیں ہوا تھا۔ہزاروں کی تعداد میں ایک جیسے خیموں میں اپنا خیمہ تلاش کرنا بعض لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی مصیبت تھا۔بہت بڑی تعداد میں پاکستانی حجاج خصوصاْ اپنے گروپ سے بچھڑ جانے والے لوگ اپنے خیمے تک مشکل سے واپس پہنچ پاتے۔

    ہم نے پہلے دن ہی پاکستانی حج مشن کے منیٰ میں کیمپ سے منٰی کے خیموں کا لے آوٹ میپ لے کیا تھا اور اپنی سول انجنئیرنگ کی سمجھ بوجھ کا کام میں لاتے نہ صرف خود اپنے خیمے تک با آسانی پہنچ جاتے بلکہ دوسرے حجاج کی بھی مدد کرتے ۔ ہم اپنے آفس سے تین سال انجنئیر دوست اکٹھے ہی حج کے لئے آئے ہوئے تھے اور منیٰ کے قیام کے دوران فارغ وقت میں راستہ بھولے حجاج کی نقشے کی مدد سے ان کے خیموں تک راہنمائی کرتے رہتے ۔

    بہرحال اس جوڑے کا خیمہ مین روڈ کے پاس ہی تھا اور ہم انہیں دو تین منٹ میں ہی منزلِ مقصود پر لے گئے۔ اپنی رہائش پر پہنچتے ہی رات بھر منیٰ میں بھٹکنے والی خاتون شوہر پر پھٹ پڑی

    “لخ دی لعنت تیری سول انجُئیرنگ تے۔ ساری رات ہم خیمے کے سامنے گزرتے رہے اور خوار ہو گئے مگر اس نالائق انجنئیر کو خیمہ نہ مل سکا جب کہ ان عام سے لڑکوں نے دو منٹ میں تلاش کر لیا ۔میں تو سات پشتوں تک وصیت کر جاؤں گی کہ اپنے بچوں کو سول انجنئیر نہ بنانا۔۔۔۔ پینجاپی سے ترجمہ”

    پتہ چلا کہ حاجی صاحب سول انجنئیر ہیں اور ایل ڈے میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ہم تینوں دوست اب تک اس تبصرے سے محظوظ ہوتے ہیں۔

  • کیٹو ڈائیٹ (keto diet) کیا ہے؟ — عظیم الرحمن عثمانی

    کیٹو ڈائیٹ (keto diet) کیا ہے؟ — عظیم الرحمن عثمانی

    جس طرح آپ کی گاڑی فیول جیسے پیٹرول یا ڈیزل پر چلتی ہے۔ ویسے ہی آپ کا یہ جسم بھی دو طرح کے فیول سے چلتا ہے۔
    ۔
    پہلا ہے شوگر یعنی چینی
    دوسرا ہے فیٹ یعنی چربی
    ۔
    ہمارا جسم صدیوں پر محیط جدید تمدنی ارتقاء سے عادی ہوگیا ہے کہ وہ اپنی توانائی یعنی انرجی انسولین کے ذریعے چینی (شوگر) سے حاصل کرے۔ ہم جو بھی میٹھا کھاتے ہیں وہ تو شوگر بنتا ہی ہے مگر ہمارے بدن میں داخل ہونے والے کاربوہائیڈریٹس جیسے روٹی، چاول وغیرہ بھی شوگر میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
    ۔
    اگر ہم اپنی خوراک میں کاربوہائیڈریٹس اور مٹھاس کو لینا چھوڑ دیں یا بہت کم کردیں تو پھر کیا ہوگا ؟ اب بھی جسم کو چلنے کیلئے فیول تو چاہیئے مگر اب اس کے پاس شوگر یعنی چینی کے ذخائر موجود ہی نہیں ہیں جنہیں وہ توانائی یعنی فیول میں ڈھال سکے۔ مجبوراً اب اسے فیول کیلئے دوسری سورس یعنی ذریعے پر انحصار کرنا ہوگا جو کہ ہے فیٹ یعنی چربی۔ نتیجہ یہ کہ آپ کا جسم اگر بھوکا رہا تو اپنے اندر موجود چربی کے ذخیرے کو کھانا شروع کردے گا۔ یوں آپ کے جسم سے چربی کم ہونے لگے گی۔ گویا آپ کا جسم اپنے آپ میں خود ایک Fat Burning Machine کا روپ دھار لے گا۔ اس حالت کو Ketosis کی اصطلاح سے موسوم کیا جاتا ہے، جس میں Ketone bodies پیدا ہوتی ہیں جو آپ کی چربی کو جلا کر آپ کے جسم کیلئے توانائی پیدا کرتی ہیں۔ آج کی مقبول Keto Diet مختصراً یہی ہے۔
    ۔
    سوال یہ بھی ہے کہ اگر ہم خوراک میں کاربوہائیڈریٹس بشمول روٹی یا چاول استعمال نہیں کررہے تو پھر کھائیں گے کیا ؟ اس کیلئے آپ پروٹین جیسے گوشت، مرغی، مچھلی، انڈے وغیرہ کھاتے ہیں۔ ساتھ ہی مختلف سبزیاں اور چنیدہ فیٹ جیسے پنیر وغیرہ کھائے جاتے ہیں۔ ان میں کیا کھایا جاسکتا ہے اور کیا نہیں؟ اس سب کی تفصیل انٹرنیٹ پر جابجا موجود ہے۔ یاد رکھیں کہ پروٹین کو muscles building block کہا جاتا ہے۔ یعنی وزن کم کرتے ہوئے آپ کے مسلز کو باقی رکھنے کیلئے پروٹین ہی تعمیر سازی کرتے ہیں۔ کیٹو میں یہ کوشش ہوتی ہے کہ صرف اسی وقت آپ کھائیں جب آپ فی الواقع بھوکے ہوں۔ صرف شوقیہ چگتے رہنا یا معمول میں بندھ کر دن میں تین بار لازمی کھانا درست نہیں۔
    ۔
    ہر آنے والی تحقیق کی طرح Keto Diet کے متعلق بھی کئی اختلافات موجود ہیں۔ کچھ کے نزدیک اس کے نقصانات ہیں مگر نوے فیصد سے بھی زیادہ ماہرین اسے ایک بہترین طریق مان رہے ہیں جو بطور لائف اسٹائل اپنایا جاسکتا ہے۔ باقی اسکی اثرانگیزی کے تو سب حامیان و مخالفین قائل ہیں۔ اسے مزید زود اثر بنانے کیلئے intermittent fasting یعنی جزوی روزے اور جسمانی کسرت بشمول weight training اختیار کیئے جاتے ہیں۔

  • ڈیفالٹ اور بینکرپسی کا فرق – پاکستان میں افواہیں اور خدشات!!! — سردار غضنفر خان

    ڈیفالٹ اور بینکرپسی کا فرق – پاکستان میں افواہیں اور خدشات!!! — سردار غضنفر خان

    اکثر لوگ نام ڈیفالٹ کا لیتے ہیں اور معنی بینکرپسی یعنی قرقی کا لیتے ہیں، ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے، پہلے ہم بینکرپسی کو دیکھتے ہیں پھر ڈیفالٹ کا جائزہ لیں گے تاکہ فرق پتا چل جائے۔

    قرقی ہونے کی نوبت اس وقت پیش آتی ہے جب کیپیٹل ایکویٹی سسٹین۔ایبل نہ رہے، اس صورت میں لائبلٹی ناک۔آف کرنے کی وہ صلاحیت جاتی رہتی ہے جو نوٹ کے اوپر لکھی ہوئی ہے کہ حامل ہذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا، بینکرپسی کی صورت میں یہ صلاحیت زیرو ہو جاتی ہے اور اسٹیٹ اس گارینٹی سے ہاتھ اٹھا لیتی ہے، اس کے بعد اسٹیٹ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہتی، یہ امپورٹ بل سے بالکل الگ ایک چیپٹر ہے۔

    اس بات کو مزید باریکی سے سمجھنا چاہیں تو یوں سمجھ لیں کہ ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی دو سو تیس روپے آتے ہیں اور ایرانی ریال کے بیالیس ہزار یونٹ آتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے پاکستانی کرنسی کی سسٹین ابیلٹی ایرانی کرنسی کے مقابلے میں ایک سو بیاسی گنا بہتر ہے۔

    اب سمجھانے کیلئے کہہ رہا ہوں کہ خدانخواستہ ان دونوں کرنسیوں پر دنبدن زوال بڑھتا جائے تو کتنا عرصہ لگے گا کہ ایران کہے جناب میں پچاس لاکھ ریال دے کر ایک ڈالر خریدنے سے قاصر ہوں لہذا ہم باہر کی دنیا سے سب ناطے توڑ رہے ہیں کیونکہ ہم کچھ بھی خریدنے کی سکت کھو چکے ہیں، پھر پاکستان کو کتنا عرصہ لگے کا یہ کہنے میں کہ جناب میں بھی ستائیس ہزار میں ایک ڈالر لینے سے قاصر ہوں۔

    اس کا جواب ایسے نکال لیں کہ روس جیسی بڑی مملکت کی اکانومی نیگیٹیو انویسٹمنٹ گریڈ میں ہے، کچھ عرصہ قبل دیکھی تھی اس وقت مائینس سی سی کرکے کچھ تھی اور پاکستان کی شائد بی پلس میں تھی، عالمی ماہرین روس میں سرمایہ کاری ریکمنڈ نہیں کرتے جبکہ وہی ادارے ایران اور پاکستان پر ایسی کوئی حرف آرائی نہیں کرتے، جس کا سب سے بڑا ثبوت سی۔پیک اور اس جیسے دیگر عالمی معاہدے ہیں۔

    خدانخواستہ ثم خدانخواستہ نااہل حکمرانوں کی وجہ اگر ڈوبیں گے تو پہلے ایران ڈوبے گا پھر دس سال بعد ہم ڈوبیں گے اور ایران اس وقت ڈوبے گا جب مائنس سی گریڈ رکھنے والے روس کو ڈوبے ہوئے دس سال ہو چکے ہوں گے اسلئے خدا کا شکر کریں اور اس نظام کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔

    لوگ جب اس چیز کو امپورٹ بل کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو بڑا سنگین مغالطہ پیدا ہو جاتا ہے جبکہ امپورٹ بل کا رک جانا یا بیلنس آف پیمنٹ کا مینٹین رکھنا جب ممکن نہ ہو تو ڈیفالٹ کہلاتا ہے، یعنی فی الحال ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں جب ہوں گے تو خریداری کر لیں گے۔

    یہ کیفیت ہر تنخواہ دار بندے پر ہر مہینے آتی ہے، جب آخری دنوں میں اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے تو پھر وہ ضروریات زندگی کچھ کم کر لیتا ہے، یا تو خریداریوں کا فلو کم کر لیتا ہے یا پھر کچھ چیزوں کی خریداری نیا کیش انفلو آنے تک مؤخر کر دیتا ہے۔

    بالکل یہی صورتحال کمپنیز اور اداروں کو بھی پیش آتی ہے جب وہ پانچ تاریخ کی بجائے بیس تاریخ کو تنخواہیں ادا کرتے ہیں تو اس دوران وہ بھی ڈیفالٹ کی پوزیشن میں ہی ہوتے ہیں، جن سرکاری و غیرسرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور ٹھیکیداروں کی پیمنٹس لیٹ ہوتی ہیں بعض اوقات دو چار ماہ تک بھی ڈیلے ہو جاتی ہیں اس وقت ان کے ادارے بھی ڈیفالٹ کی پوزیشن میں ہوتے ہیں، آپ پیمنٹ مانگتے ہیں وہ کہتے ہیں فی الحال تو ہے نہیں جب ہو گی تب دے دیں گے۔

    ایسی صورتحال میں جیسے ایمپلائی کے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں ہوتا ایسے دنیا بھی اپنی بنی بنائی منڈی ایک دم سے اویکیوایٹ نہیں کر جاتی، انہیں پتا ہے کہ دیفالٹ ریزوم ہوجاتا ہے مگر منڈی میں دوبارہ جگہ بنانا مشکل ہوجاتا ہے۔

    اب آپ کو سمجھ آگئی ہو گی کہ سری لنکا ڈیفالٹ کرنے کے بعد دوبارہ کیسے چل گیا اور کیسے چل رہا ہے، پھر سری لنکا کے ڈیفالٹ کرنے کے بعد کونسے ملک نے اس پر جزوی یا کلی قبضہ کر لیا ہے؟

    سری لنکا میں جو بھی اودھم مچا اور جلاؤ گھیراؤ ہوا وہ ان کی اپنی قوم نے ہی کیا تھا، باہر سے کسی نے ان پر توپ نہیں چلائی تھی، یہی صورتحال اب یہاں پر ہے، کچھ باؤلے اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کہیں سے ڈیفالٹ ہونے کی آواز آجائے تو ہم بھی آگ لگانے نکلیں، سارا واویلا صرف اس بات کا ہے۔

    خدانخواستہ ڈیفالٹ ہو بھی گیا اور لوگوں نے اشرافیہ کا گھیراؤ جلاؤ کر بھی لیا جیسے سری لنکا میں ہوا تو کچھ دن بعد آؤٹ۔فلو پھر سے ریزوم ہو جائے گا اور صورتحال نارمل ہوجائے گی۔

    ڈیفالٹ کا وقتی نقصان یہ ہوتا ہے کہ بعض اشیاء کی کم یابی سے انفلیشن بڑھتی ہے اور صنعتی و تجارتی پہیہ سلو ہو جاتا ہے یا رک رک کے چلتا ہے اسلئے ڈیفالٹ ہرگز ہرگز نہیں ہونا چاہئے، اس کے کچھ ڈیمیرٹس ضرور ہیں لیکن قرقی جیسی کوئی صورتحال نہیں جیسا کہ خوف مچایا ہوا ہے۔

    خدانخواستہ ایسی کوئی صورتحال پیش آجائے تو اپنی ضروریات کو شرنک کریں اور انارکی پھیلانے یا گھیرا جلاؤ کرنے سے باز رہیں، ایسے موقع پر صبروتحمل اور اتحاد کا مظاہرہ کریں اور ذمہ داروں کو اس مشکل سے نکلنے کیلئے سکون سے راہ ہموار کرنے دیں۔

  • وقت پوری طرح سے بدل گیا ہے!!! — محمود فیاض

    وقت پوری طرح سے بدل گیا ہے!!! — محمود فیاض

    میری بیٹی کتابی ہے، یعنی bookish knowledge پر انحصار کرتی ہے، ریڈنگ سے رغبت ہے، دو تین روز میں کتاب ختم کر دیتی ہے۔ جبکہ بیٹا visual اور auditory ہے، یعنی سمعی اور بصری آلات پر انحصار کرتا ہے، مشاہدہ بہت تیز ہے۔ کتاب سے اُسے چڑ ہے۔ وہ یوٹیوب چینل Zem TV کی ویڈیوز دیکھتا رہتا ہے، نیز فیصل وڑائچ کے تینوں یوٹیوب چینلز اور جانے کیا سے کیا۔

    اگر زیادہ آگاہی اور زیادہ علم کی بات کروں تو بیٹا سبقت لے جاتا ہے۔ تاہم، بیٹی کی اپنی سی دنیا ہے جہاں معتبر اور زیادہ لطف آگیں ذریعہِ علم بہرحال ریڈنگ ہے۔

    اگر آپ ایک کمرہِ جماعت میں موجود 30 عدد بچوں کو بہ نظرِ غائر دیکھیں، اُن کا مزاج جاننا چاہیں تو بمشکل چھ سات بچے کتابی مزاج کے حامل ہوں گے۔دیگر بچے auditory learners اور visual learners ہوں گے، بعض kinesthetic learners ہوں گے جو متحرّک رہ کر عملاً کچھ پرفارم کرتے ہوئے سیکھتے ہیں۔

    بعض بچے ان تینوں اقسام کا مرکّب ہوں گے تو بعض سمعی و بصری یعنی دو قسموں کا مرکّب۔

    یہ تجزیہ کیا جانا بہت ضروری ہے کہ کس بچے کا لرننگ سٹائل کیا ہے۔

    لیکن مروّجہ نظامِ تعلیم اس بات کا اسکوپ نہیں رکھتا کہ ایک استاد ایسی تحقیق میں عملاً دلچسپی لے، اور بچوں کو اُن کے مزاج کے باوصف متعلقہ ذرائع علم تک رسائی کا موقع اور ایکسپوژر دے۔ اس موضوع پر تربیتی ورکشاپس میں بات تو کی جاتی ہے، مگر عملاً اس کا اسکوپ تقریباً ناپید ہے۔

    دیکھا جائے تو وقت پوری طرح سے بدل گیا ہے۔ نئی نسل کا مزاج مختلف ہے، یہ پردہِ سکرین اور کِی بورڈ سے جڑا ہے۔ سکرین اور کِی بورڈ کا استعمال آکسیجن یا ہوا کی طرح ہر سُو محیط ہو چکا۔

    اِس تناظر میں نہ صرف یہ کہ علم کی ڈیجی ٹائیزیشن کا عمل بہت ضروری ہے، بلکہ تحریری امتحان والے ٹرینڈ کو کم کر دینا بھی ضروری ہے۔

    یعنی ایک طرف بیشتر نصابی مواد کوکتاب کے دامن سے کھینچ کر اُسے ویڈیوز شکل میں پیش کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ کمرہِ جماعت میں ویڈیوز چلا کر وقفے وقفے سے بات چیت کرنے اور سوالات پوچھنے والا فارمیٹ اپنا جائے۔ دوسری طرف، بچے کے ہاں مقدارِ علم و ہنر کی جانچ کے پیمانے بھی اب بدل دئیے جائیں۔

    ایک اور اہم مسئلہ سائنسز اور میتھ سے متعلق غیرضروری مواد کی کانٹ چھانٹ کا ہے۔ سیکنڈری سکول سطح پر فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی، اور میتھ کی کتابوں میں غیرضروری مواد بھرا ہے۔ بہت بورنگ ہے یہ!

    اس سطح پر ایک تو یہ مواد کم کیا جائے۔ دوسرے، بیشتر مواد کو ویڈیوز اور کوئزز کی شکل میں پیش کرتے ہوئے سیکھنے کے عمل کو دلچسپ اور آسان بنایا جائے۔

    تیسرے، اس میں سے نصف مواد کو تجربہ کے عمل سے جوڑ دیا جائے۔ بچے نویں اور دسویں جماعت میں ہر سال ایک سو چھوٹے بڑے تجربات کریں۔ اور آٹھ دس عدد پراجیکٹس بھی۔ پراجیکٹس میں بچوں کا تحرّک دیدنی ہوتا ہے۔ اُن کی ذہانت و صلاحیت کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ اُن کی کارکردگی حیران کن ہوا کرتی ہے۔

    مگر بات یہ ہے کہ بات کس سے کی جائے؟

    کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

  • بنا کام کے پیسے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بنا کام کے پیسے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیا آپ تصور کر سکتے ہیں ایک ایسی سوسائٹی کا جہاں آپ کوئی کام نہ کریں اور آپکو ہر ماہ ایک کثیر رقم حکومت کی طرف سے ملے؟ مگر ایسا کیسے؟ اور کیوں؟

    اٹھارویں صدی میں صنعتی انقلاب اور انجن کی ایجاد کے بعد بہت سے ایسے کام جو ماضی کا انسان کرتا تھا اب مشینوں پر ہونے لگے مگر یہ کافی نہیں تھا۔ مشینیں ذہین نہیں تھیں۔ وہ چند مخصوص کام کر سکتی تھیں۔ باقی کا کام انسان کو کرنا پڑتا۔ پھر آہستہ آہستہ سائنسی ترقی ہوئی، ٹیکنالوجی بہتر ہوئی، کمیونیکیشن کے روابط بڑھے اور دنیا سمٹ کر رہ گئی۔ انسانی معاشروں میں خیالات کے تبادلے بہتر ہوئے، علم میں اضافہ ہوا، سوچ وسیع سے وسیع تر ہوتی گئی۔

    بیسویں صدی الیکٹرانکس کا دور تھا۔ کمپیوٹر ایجاد ہوا۔ وہ کام جو انسان کرتے تھے، اب کمپیوٹر کرنے لگے۔ آپکو حساب کرنا ہو کمپیوٹر حاضر ہے، پینٹنگ بنانی ہو، کمپیوٹر حاضر ہے، کاغذ قلم کا دور گیا، اب سافٹ وئیرز کی مدد سے ٹائپ کیا جانے لگا۔ گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہونے لگا۔ پھر انٹرنیٹ کا دور آیا، کمپوٹرز آپس میں باتیں کرنے لگے، کمپیوٹر میں لگے پراسسز کی سپیڈ بڑھنے لگے، پراسسرز چھوٹے مگر مزید طاقتور ہوتے گئے کمپیوٹر میزوں سے نکل کر آپکے ہاتھ میں سمارٹ فون میں صورت آ گئے۔ ڈیٹا کا تبادلہ، روزمرہ کی زندگی کے حالات انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا کی صورت آنے لگا۔ یہ سب کس قدر جلدی ہوا، ٹیکنالوجی کی چھلانگ کس قدر تیز تھی کہ پتہ بھی نہ چلا۔
    پیسے کمانے کے نئے سے نئے ذرائع آن لائن بزنس کی صورت ہونے لگے ۔ اس سب کے ساتھ ساتھ روبوٹس اور پیچیدہ الگورتھمز اور پروگرامز بننے لگے جو ڈیٹا کے اس سمندر کو اپنے اندر سمو سکتے۔ ترقی کا پیہہ انسان کو اس نہج پر لے آیا کہ روبوٹس پیچیدہ سے پیچیدہ انسانی مسائل مصنوعی ذہانت سے حل کرنے لگے۔ اور آج یہ حال ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس آپکے ہر طرف ہے۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ اُٹھا کر دیکھیں آپکو کہیں نہ کہیں یہ خودکار مصنوعی ذہانت پسِ پردہ اور منظرِ عام دونوں میں نظر آئے گی۔

    آج روبوٹس ذہین ہیں۔ یہ ہر وہ کام کر سکتے ہیں جن میں ایک تسلسل ، ایک ترتیب ہو۔ مثال کے طور پر ایک مزدور کس ترتیب سے عمارت بنانے کے لیے اینٹیں لگاتا ہے، یہ سب ایک تھری ڈی پرنٹر روبوٹ بھی کر سکتا ہے۔ ایک کسان کیسے ایک خاص ترتیب میں بیچ بوتا ہے، یہ ایک روبوٹ بھی کر سکتا ہے۔ روبٹس انسانوں کو دیکھ کر خود سے سیکھ رہے ہیں، مشین لرننگ کر رہے ہیں۔ ماحول کا ادراک کر کے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو متوقع نتائج تک لے جائیں۔

    خودکار گاڑیاں بن رہی ہیں جو انسانی ڈرائیوروں سے وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ محفوظ طریقے سے گاڑی چلاتی ہیں۔ کینسر کی تشخیص ایک ڈاکٹر سے بہتر طور پر ایک آرٹفیشل انٹیلیجنس کا پروگرام کر سکتا ہے۔ حال ہی میں گوگل کے ایک مصنوعی ذہانت کے پروگرام نے انسانی ڈاکٹروں سے بہتر پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص کی۔ روبوٹ معاشرتی رویوں کو نقل کر رہے ہیں انسانوں کی طرح چہرے کے تاثرات دکھانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر مصنوعی ذہانت کے پاس ان گنٹ ڈیٹا اور اسے پراسس کرنے کی صلاحیت انسانوں سے بڑھ کر ہے۔ شطرنج جیسے مشکل کھیل کو سمارٹ فون پر محض عام سے ایپ زیادہ بہتر طور پر کھیل سکتی ہے۔

    ایسے میں وہ جو مستقبل کو دیکھ رہے ہیں یہ جانتے ہیں کہ جلد مصنوعی ذہانت کم و بیش تمام انسانی پیشوں کو اور نوکریوں کو ختم کر کے خود اُنکی جگہ لے لی گی۔ روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کھیتوں سے لیکر فیکٹریوں تک ہر جگہ کام کریں گے۔ تو پھر انسان کیا کریں گے؟ وہ کونسی نوکریاں کریں گے؟ جب نوکریاں ہونگی ہی نہیں

    ایسے معاشرے میں انسان ناکارہ ہو جائیں گے۔ تمام پیشوں کے کام مصنوعی ذہانت کے روبوٹس کریں گے۔ اس معاشرے کو پوسٹ ورک سوسائٹی کہتے ہیں جہاں انسانوں کے لیے پیسہ کمانے کے لیے کام ختم ہو جائے گا۔ مگر انسان صارف تو بہرحال رہے گا۔ ایسے میں روبوٹس کی بنائی مصنوعات کو استعمال کرنے کے لیے انسانوں کے پاس پیسے کہاں سے آئیں گے؟ اسکا جواب ہے یونیورسل بیسک اِنکم یعنی بنیادی تنخواہ جو حکومتیں ہر ایک شہری کو دیں گی تاکہ وہ اسے استعمال کر کے زندہ بھی رہیں اور معیشت کا پہیہ بھی چلائیں۔

    اس حوالے سے کئی مغربی ممالک میں کام ہو رہا ہے مثال کے طور پر فن لینڈ اور نیدرلینڈ کے کچھ شہروں میں ابتدائی تجربات کیے گئے ہیں جہاں کچھ شہریوں کو ہر ماہ بنا کسی کام کے ہیسے دیے گئے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اس سے معیشت اور معاشرے پر کیا مثبت یا منفی اثرات پڑتے ہیں۔ اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق درکار ہے مگر ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ دنیا بھر کی بڑی کاروباری شخصیات جن میں بِل گیٹس، ایلان مسک اور مارک زکربرگ شامل ہیں، پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ دنیا آہستہ آہستہ اس ماڈل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مستقبل کی نسلیں گھر بیٹھے بغیر کچھ کیے پیسے کمائیں گی اسے کچھ لوگ لگثری کامونزم کا نام بھی دیتے ہیں۔ مگر اسکے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ گھر بیٹھے معاشروں کو مصروف کیسے رکھا جائے گا؟ شاید ورچوئل رئیلٹی اور ویڈیو گیمز کے ذریعے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

  • ذیابیطس اور کریلے کا جوس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ذیابیطس اور کریلے کا جوس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ذیابیطس جسے عرفِ عام میں شوگر کہتے ہیں دراصل جسم میں گلوکوز کی مقدار کے توازن کے بگڑنے کا نام ہے۔ انسان کے جسم کے لیے گلوکوز توانائی کا کام کرتا ہے۔ جسم میں جانے والی خوراک میں گلوکوز، پروٹین اور چربی شامل ہوتی ہے۔ بہت سی اجناس جیسے گندم، چاول، مکئی وغیرہ میں کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جو ہاضمے کے نظام سے گزر کر گلوکوز میں تبدیل ہوتے ہیں جسے انسانی جسم توانائی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ مگر خون میں متواتر گلوکوز بڑھ جانے سے یہ جسم کے لیے نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے گردے خراب ہو سکتے ہیں، بینائی جا سکتی ہے ہڈیاں کمزور ہو سکتی ہیں، دماغ پر مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، حتی کہ اگر انسانی خون میں گلوکوز کی مقدار بے حد بڑھ جایے تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

    مگر گلوکوز کی یہ مقدار کم یا زیادہ کیسے ہوتی ہے؟ انسانی جسم میں ایک عضو ہوتا ہے جسے لبلبہ کہا جاتا ہے۔ لبلبے میں کچھ مخصوص خلیے ہوتے ہیں جو ایک خاص طرح کا ہارمومن خارج کرتے ہیں۔ اسے اِنسولین کہا جاتا ہے۔اِنسولین کا کام خون میں گلوکوز کی مقدار کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے ۔ اگر کسی وجہ سے جسم انسانی خلیے انسولین کے خلاف مزاحمت شروع کر دیں یا انسولین مقررہ مقدار میں پیدا نہ ہو تو یہ ذیابیطس کی دوسری قسم کہلائی جائےگی جسے ٹائپ ٹو ڈائبیٹز کہتے ہیں۔

    اسی طرح اگر لبلبہ انسولین پیدا کرنے کی صلاحیت ہی کھو دے تو بھی خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جائے گی۔اسے ذیابیطس کی پہلی قسم یعنی ٹائپ ون ڈائبیٹیز کہیں گے۔ پہلی قسم میں مریض کو انسولین کے ٹیکے لگانے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ دوسری قسم میں عموماً بہتر خوراک، احتیاطی تدابیر اور مناسب ورزش سے ذیابیطس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    انٹرنیشنل ڈائبیڑز فیڈریشن کے 2021 کےاعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 537 ملین لوگ ذیابیطس کا شکار ہیں اور یہ تعداد 2030 تک دنیا بھر میں تقریباً 7 ملین کے قریب ہو جائے گی۔اسی طرح 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق
    ذیابیطس سے ہر سال تقریباً 16 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔

    ذیابیطس کے مریضوں کی زیادہ تعداد تیس سال سے زائد افراد کی ہے مگر یہ مرض کچھ تعداد میں نوجوانوں اور بچوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

    پاکستان میں ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ہر چار میں سے ایک آدمی اس بیماری میں مبتلا ہے جن میں سے اکثریت اس بیماری کی علامت لیے اس سے لاعلم ہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ ذیابیطس کے مریض رکھنے والے ممالک میں چین اور بھارت کے بعد پاکستان تیسرے نمبر پر پے۔ جس میں2021 کے اعداو شمار کے مطابق تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد کو تشخیص شدہ ذیابیطس ہے۔

    اسی طرح پاکستان میں 60 سال سے کم عمر میں ہونے والی اموات میں 35 فیصد ذیابیطس کی وجہ سے ہیں۔یہ اعداد و شمار ہمارے معاشرے کے سنگین مسائل کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔جن میں بروقت عالج می سہولیات کا فقدان، آگاہی نہ ہونا اور کھانے پینے میں بداحتیاطی، ورزش نہ کرنے اور دیگر غیر صحتمندانہ عادات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

    اس رپورٹ کے آنے کے بعد ملک بھر کے طبی ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحت کے لیے مختص بجٹ کو بڑھایا جائے۔ تاہم صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال آبادی بڑھنے کی رفتار کے مقابلے میں صحت کا بجٹ کے بڑھنے کی رفتار میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا۔

    بین االاقوامی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایک صحت مند معاشرے کے لیے ہر شہری پر صحت کی مد میں حکومت کو کم سے کم 86 ڈالر سالانہ خرچ کرنا ضروری ہے۔جبکہ پاکستان میں اس وقت ہر شہری پر حکومت محض 14 ڈالر خرچ کر رہی ہے باقی 28 ڈالر وہ اپنی جیب سے ادا کر رہا ہے اور 3 ڈالر دوسرے ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں۔

    صحت کے حوالے سے غیر سنجیدگی اور ذیابیطس کے بڑھتے مرض کے تناظر میں لوگ کریلے کا جوس نہیں پیئیں گے تو اور کیا کریں گے؟

  • سپائنا بیفیڈا  (Spina Bifida) — خطیب احمد

    سپائنا بیفیڈا (Spina Bifida) — خطیب احمد

    فولک ایسڈ کی گولی کبھی کھائی یا نام تو سنا ہوگا؟ آج ہم دیکھیں گے فولک ایسڈ ہر حاملہ ماں کو کیوں دیا جاتا ہے۔ نہ دیا جائے تو کیا ہو سکتا ہے۔

    آپ نے اپنے آس پاس دیکھا یا ایسا سنا ہوگا کہ بچہ پیدا ہوا۔ اسکی کمر میں پھوڑا تھا۔ آپریشن ہوا۔۔اور نیچے والا دھڑ مفلوج ہوگیا۔ پیشاب و پاخانہ پر اب بچے کا کنٹرول نہیں۔ نہ ہی چل سکتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں یہ کونسی بیماری ہے؟ اسکی وجوہات، بچوں کا لائف سٹائل اور علاج کیا ہے؟

    آئیے دیکھتے ہیں یہ کیا ہے ۔

    یہ ایک نیورل ٹیوب ڈیفیکٹ ہے۔
    جسے سپائنا بیفیڈا Spina bifida کہتے ہیں۔

    جو پیدائشی طور پر بچوں میں ہوتا ہے۔ اس میں بچے کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ٹھیک سے جڑ نہیں پاتے۔ اور حرام مغز ایک پھوڑے یا غبارہ کی شکل میں کمر کے نچلے حصے میں جسم سے باہر نکل آتا ہے۔ اس کی وجہ سے جسم کے نچلے حصے کی حرکات متاثر ہوتی ہیں۔

    اس مرض والے بچوں کی دنیا بھر میں ایورج عمر 30 سے 40 سال ہے۔ دنیا بھر کے اعداد و شمار میں یہ بچے ایک ہزار میں 0.5 سے 2 بچے تک ہو سکتے ہیں۔

    ماں حاملہ ہوئی۔ پانی سے خون بنا، خون سے گوشت بنا اور پھر حضرت انسان کی جسمانی نشوونما روح سے پہلے شروع ہوئی۔ جب باری آئی سپائنل کالم میں موجود سپائنل کارڈ کی تو وہ کسی جگہ سے ٹھیک طرح جڑ نہیں سکا۔ ہماری ریڑھ کی ہڈی ایک زپ کی طرح بند ہوتی ہے۔ اور اس بیماری میں کوئی مہرہ Vertebrae ٹھیک سے دوسرے مہرے سے جڑا نہیں ہوتا۔

    پوسٹ کے ساتھ لگی فوٹو دیکھیں۔ اور پڑھنے میں جہاں مشکل پیش آئے پھر فوٹو دیکھ لیں۔

    ایک ریڈیالوجسٹ دو سے تین ماہ کے حمل میں ہی بتا دیتا ہے کہ یہ مسئلہ ہے۔ خیر بچہ پیدا ہوتا ہے۔ کمر پر نچلے حصے میں ایک نیلے یا سرخ سرخ رنگ کا جھلی نما غبارہ سا ہوتا ہے۔ جس میں سیری برو سپائنل فلیوڈ ہوتا ہے۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ نسیں Nerves بھی جو سپائنل کارڈ کے ساتھ نیچے جا رہی ہوتی ہیں۔ جسم سے باہر اس غبارے میں آجاتی ہیں۔

    ایسا ہو تو۔ آپ دیکھیں گے متاثرہ بچے کی ٹانگوں کی حرکت نہیں ہے۔ یا بہت ہی کم ہے۔ فوراً بچے کو کسی نیورولوجسٹ یا نیورو سرجن کے پاس لے کر جائیں۔ وہ دیکھے گا کہ مسئلہ کس حد تک سنگین ہے۔۔آپریشن فوراً کرنا ہوتا ہے۔ نہیں تو انفیکشن جسم میں داخل ہوکر دماغ تک جا سکتا ہے۔۔جس سے بچے کی اسی دن موت واقع ہو سکتی ہے۔ اس غبارے پر عموماً اسکن نہیں ہوتی۔

    آپریشن ہوگیا۔ جو نسیں نیچے والے دھڑ ٹانگوں باؤل اور بلیڈر کو کنٹرول کر رہی تھیں۔ وہ کٹ گئیں یا زخم کو سینے میں دب گئیں۔ اب آپریشن کے بعد بھی ٹانگوں میں حرکت نہیں ہے۔ یہ نارمل ہے۔ آپریشن ہو یا نہ ہو یہ ہونا ہی ہوتا ہے۔ بیماری کی شدت کیسی تھی آپریشن کیسا ہوا یہ تعین کرتا ہے کہ نچلے دھڑ کا نقصان کتنا ہوگا۔

    کچھ بچوں میں یہ پھوڑا یا غبارہ نہیں ہوتا۔ بلکہ کمر کے نچلے حصے پر بالوں کا ایک گچھا ہوتا ہے۔۔یا ایک ابھار ہوتا ہے اور اس کے اوپر اسکن ہوتی ہے۔ یہ سپائنا بیفیڈا کی تین اقسام ہیں۔

    یوں تو اسکی دو بڑی اقسام ہیں۔ سپائنا بیفیڈا اوکلٹا
    Spina bifida occulta
    اور دوسری سپائنا بیفیڈا اوپرٹا
    Spina bifida opera
    اوکلٹا میں کمر پر بالوں کا ایک گچھا سا ہوتا ہے۔ یہ اس بیماری کی معمولی قسم ہے۔۔اس میں کوئی آپریشن نہیں کروانا۔ سپائنل کارڈ نیچے بلکل ٹھیک ہے۔ پوسٹ کے ساتھ لگی فوٹو دیکھیں۔

    دوسری قسم اوپرٹا میں آگے دو مزید اقسام ہیں ایک ہے می ننگو سیل Meningocele جس میں صرف سپائنل کارڈ میں چلنے والا پانی مہروں سے باہر نکل کر جسم سے باہر ابھار کی شکل میں آجاتا ہے۔۔اس پر اسکن ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہو سکتی۔۔مگر اس میں نسیں نہیں ہوتیں جو نچلے دھڑ کو کنٹرول کرتی ہیں۔ اگر پھوڑے پر اسکن ہو تو آپریشن نہ کروائیں۔ آپریشن کروا کر مزید خرابی ہوگی۔

    اوپرٹا کی دوسری اور اس بیماری کی سب سے شدید قسم ہے مائیلو می ننگو سیل Myelo meningocele۔ اس میں حرام مغز بمع ساری نسیں سارا جسم سے باہر آجاتاہے۔ اور آپریشن سے پہلے ہی نچلا دھڑ تقریباً مفلوج ہوتا ہے۔ آپریشن کے بعد کچھ بہتری کی امید ہوتی ہے۔ جو کئیر کرنے سے آ بھی جاتی ہے۔

    اس شدید والی قسم یعنی Myelomeningocele میں تین چیزیں دیکھنے اور سمجھنے کی ہیں۔

    پہلی بات: ٹانگوں میں طاقت نہیں ہوتی۔ یا بہت کم طاقت ہوتی ہے۔۔اپریشن کے بعد بھی وہی حالت رہتی ہے۔ کچھ بچوں کی ٹانگوں میں طاقت ہوتی بھی ہے۔ ایسا نہیں کہ سب ہی مفلوج ہوں گے۔ کتنی نسیں دبی اور کٹی ہیں۔ یہ طے کرے گا کہ ٹانگوں میں حرکت کتنی ہوگی۔ بہت سے بچے آپریشن کے بعد سہارے اور بغیر سہارے کے چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ کئی تو بھاگنا تک شروع کر دیتے۔

    دوسری بات یہ کہ آپریشن کے بعد ان کی ٹانگوں اور کولہوں میں کچھ محسوس کرنے Sensation کی صلاحیت کم یا بلکل بھی نہیں ہوتی۔ پیروں ٹانگوں اور کولہوں پر ایک جگہ پڑا رہنے سے زخم بن جاتے ہیں۔ جو ناسور کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ کئی بچوں کو بائیک پر بٹھایا جاتا پاؤں سائیلنسر پر لگتا۔ کیونکہ محسوس تو کچھ ہوتا نہیں پاؤں جل جاتا اور زخم ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ زخم کو ٹھیک کرنے کا حکم تو دماغ نے بھیجنا ہے۔ اور اس سے رابط ہی منقطع ہوتا۔ زخموں سے حتی الامکان ان بچوں کو بچائیں۔

    تیسری اور اہم بات یورین کا کنٹرول نہیں ہوتا۔ کچھ بچوں کا ہوتا بھی ہے۔ کچھ نالی لگا کر یورین پاس کر لیتے۔۔کچھ نالی لگائے ہی رکھتے۔ نالی لگانا ایک انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ کچھ پیمپر لگائے رکھتے۔ آپریشن کے بعد کسی یورالوجسٹ کو ملیں۔۔وہ ایک ٹیسٹ کرے گا جسکا نام ہے
    Urine dynamic studies
    یہ لازمی کروائیں۔ اس سے گردے مثانہ وغیرہ کی صحت اور فعالیت کا اندازہ ہوگا۔ ایک بات جان لیں یورین کو کنٹرول کرنے کا مسئلہ ساری عمر رہے گا۔ یہ مکمل ٹھیک نہیں ہو سکتا۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    بہت سے کیسز میں اس کی وجوہات نامعلوم ہیں۔ کچھ جنیٹک فیکٹرز ہوتے ہیں۔ اور ایک وجہ وٹامن فولک ایسڈ کی کمی بھی اس کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر فیملی ہسٹری ہے تو زیادہ امکان ہیں خاندان میں کوئی اور بچہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ فیملی ہسٹری ہونے پر کزن میرج بلکل نہ کریں۔

    لڑکی شادی کے فوراً بعد ماں بننا چاہتی ہو تو شادی سے تین ماہ قبل 0.4mg فولک ایسڈ کی گولی روز کھانا شروع کر دے۔ یہ کوئی دو تین روپے کی گولی ہے۔ اگر حمل کی طرف جانے والی کنواری یا ایک دو بچوں کی ماں کو ہائی بلڈ پریشر ہے مرگی ہے شوگر ہے ٹی بی ہے تو فولک ایسڈ کی ڈوز ڈاکٹر سے مشورہ کرکے بڑھا لیں۔ ڈاکٹر سے حمل سے پہلے مشورہ ضرور کریں۔ یہ گولی نو ماہ پورے حمل میں روزانہ کھائیں۔ فولک ایسڈ سبز پتوں والی سبزیوں میں پایا جاتا ہے۔ پالک میتھی ساگ وغیرہ کھائیں۔ مگر گولی ہر لڑکی حمل میں سو فیصد کھائے۔

    سپائنا بیفیڈا کے ساتھ دو کنڈیشنز عموماً جڑی ہوتی ہے۔ ایک ہے کلب فٹ Club foot یعنی پاؤں ٹیڑھا ہونا یا ایڑھی زمین پر نہ لگنا۔ اور دوسرا ہائیڈرو سیفلس Hydrocephalus۔ ہائیڈرو سیفلس میں دماغ کے اندر سیری برو سپائنل فلیوڈ جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور دماغ کا سائز بہت بڑا ہونا شروع جاتا ہے۔ ڈاکٹر ایک نالی جسے شنٹ Shunt کہتے ہیں دماغ سے ڈال کر پیٹ میں اس جگہ جوڑ دیتے جہاں اس پانی نے آکر جذب ہونا ہوتا۔ تو مسئلہ کسی حد تک ٹھیک ہوجاتا ہے۔

    سپائنا بیفیڈا کے ساتھ یہ دونوں کنڈیشنز یا ان میں سے ایک یا کوئی بھی نہیں ہو سکتی۔

    مینجمنٹ کیسے کرنی ہے؟

    جن بچوں کی ٹانگوں میں کوئی جان ہے ہی نہیں۔ ان کو چلانے کی کوشش نہ کریں یہ ان پر زیادتی ہوگی۔ میں نے کئی بچے دیکھے نیم حکیم مالش دیتے۔ اور کئی ڈاکٹر تو آپریشن تک کر دیتے کہ بچہ چلنے لگے گا۔ مگر یہ سب غلط ہے۔ ٹانگ کا آپریشن بلکل نہیں کروانا کسی بھی صورت میں یہ انتہائی سنگین غلطی ہوگی۔ مسئلہ ٹانگوں میں نہیں بلکہ انکو ملنے والے سگنلز میں ہے۔ جب انکو حرکت کرنے کا دماغ سے جاری ہونے والا حکم ہی نہیں ملنا تو وہ کیسے حرکت کریں؟

    جو بچہ نہیں چل سکتا وہیل چیئر دیں۔ چھوٹے بچوں کو پاور وہیل چیئر دیں موٹر والی۔ واکر دیں کرچز دیں۔ ٹانگ میں کچھ جان ہے تو بریس لگا دیں۔۔ بریس کی کئی اقسام ہیں AFO, AKFO, HKAFO جیسی ٹانگ ویسی بریس لگوائیں۔ اب تو دنیا میں چند بچوں کو ربوٹک ایک یا دو ٹانگیں بھی لگائی گئی ہیں۔ بچہ روبوٹ کی طرح چلتا پھرتا ہے۔ یہ ری ہیبلی ٹیشن کے ایکسپرٹ بتاتے ہیں۔ کہ چلانے کی کوشش کریں یا نہیں۔ ان کی بات مانیں۔ اپنے تجربے پلیز نہ کریں۔

    بچے کو جیسا ہے دل سے قبول کریں۔ ٹھیک کرنے کی عقلمندانہ کوشش کریں۔ کسی ان پڑھ جراح و ہڈی جوڑ والے کے پاس جا کر بچے کو تکلیف نہ دیں۔ یہ بچہ ساری عمر ایسے ہی رہنے والا ہے۔ اس کے لیے خود کو تیار کریں۔ اس کے بدلے خدا کی ذات آپکو بہت نوازنے والی ہے۔ یہ ایک دکھ ہے تو کئی سکھ بھی اس کے ساتھ آئیں گے۔ انشاء اللہ

    دنیا میں اب تک اس بیماری والے چار بچوں کے آپریشن پیدائش سے پہلے ہی ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک دو سال قبل امریکہ کی ایک ریاست پین سیل وینیا Pennsylvania کے شہر فیلے ڈیلفیا Philadelphia کے مرکزی سرکاری چلڈرن ہسپتال میں ہوا۔ جو لوگ امریکہ میں رہتے وہ جانتے ہونگے یہ ہسپتال یونیورسٹی آف پین سیل وینیا کے کیمپس کی مغربی دیوار کے بلکل ساتھ واقع ہے۔ یہ ہسپتال امریکہ میں بچوں کے ہسپتالوں میں دوسرے نمبر پر اچھا ہسپتال ہے۔ اور پوری دنیا میں اسکا شمار ٹاپ 10 میں ہوتا احمد

    دنیا کا سب سے بہترین بچوں کا ہسپتال
    Boston Children’s Hospital
    ہے۔ جو امریکہ میں ہی ہے۔ اس ہسپتال کے پاس تین ہزار سائنس دانوں کی ٹیم ہے۔۔جو مسلسل ریسرچ کرکے بچوں کی بیماریوں کی وجوہات اور جدید علاج دریافت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ اس ہسپتال سے آپ اپنا جین اور ڈی این اے ایڈیٹ کروا سکتے ہیں۔ پورے امریکہ میں جنیٹک ٹیسٹنگ اور جنیٹک انجینئرنگ کی سروسز بھی سب سے اچھی اسی ہسپتال کی ہیں۔۔

    خیر ایک حاملہ ماں جس کے پیٹ میں سپائنا بیفیڈا اوپرٹا مائلو می ننگو سیل بچہ تھا کو Philadelphia کے ہسپتال لایا گیا۔ ڈاکٹرز کی ایک پوری ٹیم جس میں کارڈیالوجی کے سرجن، یورالوجی کے سرجن، گیسٹرالوجسٹ، اسکن سرجری کے پروفیسر سرجن، نیورولوجی کے سرجن اور دیگر بھی تقریباً تمام فیلڈز کے سرجنز کو آپریشن کے لیے تیار کیا گیا۔ ہسپتال کی بہترین اور نیشنل ایوارڈ یافتہ نرسیں مددگار عملے میں شامل ہوئیں۔

    یہ حمل کا چوبیسواں 24 ہفتہ تھا۔ آپریشن ہوا۔ بچہ دانی جسم سے باہر نکال کر پیٹ کے نچلے حصے پر رکھ دی گئی۔ مگر بچہ دانی کو جسم سے الگ نہیں کیا گیا۔ وہ ماں کے جسم سے جڑی ہوئی تھی۔ بچے کے گرد موجود جھلی سے لائیکر یعنی پانی ایک انجیکشن کی مدد سے نکالا گیا۔ جھلی کو چھوٹا سا کٹ لگایا گیا۔ بچے کے دل کی دھڑکن کو بڑھ جانے پر ٹھیک کیا گیا۔ پلاسینٹا کو فری رکھا گیا کہ آکسیجن اور خون کی سپلائی کسی لمحے بھی رکنے نہ پائے۔ بچے کو باہر کی آکسیجن نہیں دینی تھی۔ کمر پر موجود غبارے کو انتہائی مہارت سے کاٹ کر سب سے پہلے سپائنل کارڈ کو ٹانکے لگا کر بند کیا گیا۔ پھر مہرے بند کیے گئے۔ پھر اسکن کو سیا گیا۔ پھر جھلی کو جدید ٹیکنالوجی کے تحت بند کر دیا گیا۔ کہ اس میں پانی نیچرل طریقے سے پھر سے بننا شروع ہو جائے۔

    بچہ دانی ماں کے پیٹ میں رکھی گئی۔ اور پیٹ پر ٹانکے لگا دیے گئے۔ الحمدللہ آپریشن کے بعد ماں اور بچہ دونوں بلکل ٹھیک تھے۔ ہسپتال میں جشن کا سا سماں تھا۔ حمل کے سینتسویں 37 ہفتے بچے کو ڈیلیور کرنے کا پلان ہوا۔ آپریشن ہی ہونا تھا۔ آپریشن ہوا۔ بچہ کلب فٹ کے ساتھ پیدا ہوا۔ مگر کمر بلکل ٹھیک ہو چکی تھی۔ ٹانگوں میں حرکت بھی تھی۔ بچہ اب دو سال کا ہے اور سہارے کے ساتھ چل رہا ہے۔۔امید ہے ایک سال تک بغیر کسی بھی سہارے کے چل سکے گا۔ والدین اور اس آپریشن میں شامل ڈاکٹروں کی بنائی گئی ویڈیو یوٹیوب پر رکھی ہے آپ دیکھ سکتے ہیں۔

    سائنس ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ فیٹس سرجریز اب عام ہو رہی ہیں۔ میڈیکل کے عالمی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ سپائنا بیفیڈا کی فیٹس سرجری کو دنیا بھر میں پھیلایا جائے گا۔ پاکستان میں بھی بے شمار ماہر ڈاکٹرز ہیں وہ سٹیپ لیں تو کوئی ایک کیس کرکے مثال بنا سکتے ہیں۔ جس کے بعد راہ کھل جائے گی۔ مگر کوئی اتنا سر درد نہیں لیتا۔ دوسرا اس آپریشن کی کاسٹ کئی ملین ہو سکتی ہے۔

    ابھی یہاں پاکستان میں پیدائش کے بعد ہی آپریشن ہوتے ہیں۔ اور اکثریت میں مس ہینڈلنگ سے بچہ عمر بھر کے لیے معذور ہوجاتا ہے۔ آپریشن کے بعد انتہائی نگہداشت کی ضرورت کئی سال تک ہوتی ہے۔ جو بچے کو نہیں مل پاتی۔ کہیں مالی مشکلات اور کہیں ماہرین کا نہ ہونا ان بچوں کو سماج کا کارآمد حصہ بننے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

    ایسے بچوں کی شادیاں عموماً نہیں کی جاتیں۔ اکثریت میں انکا ری پرو ڈکٹویو Reproductive سسٹم بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں کا ہوتا بھی ہے۔ یہ بچے ڈاکٹر، وکیل، انجینئر، ٹیچر ، سائنسدان ، رائٹر، بلاگر، کالم نگار، فری لانسر اور جو چاہیں بن سکتے ہیں۔ بس جس میں ان کو زیادہ چلنا پھرنا نہ پڑے۔

    ہر حاملہ لڑکی کو فولک ایسڈ ضرور دیں۔ جسے نہیں پتا اسے گائیڈ کریں۔ اور ایک سپائنا بیفیڈا بچے کے بعد دوسرا بچہ پیدا کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔ ایک کے بعد دوسرے بچے میں بھی سپائنا بیفیڈا ہونے کا امکان ہوگا۔ میرے پاس ایک بچہ سکول پڑھنے آیا وہ دو بہن بھائی سپائنا بیفیڈا کا شکار تھے۔ دونوں کو ہم نے سکول سے وہیل چیئرز دیں۔ بہت ہی غریب لوگ تھے۔ لڑکے کا ابو پیسے جوڑ جوڑ کر ٹیکسی کرواتا کبھی سلطان باہو کے دربار اور کبھی کسی پیر کے پاس بچوں کو لے کے جاتا۔ میں اسے منع کرتا، سمجھاتا، کہ یہ میڈیکل کنڈیشن ہے۔ مگر وہ نہ مانتا کہ اللہ کے خزانوں میں کمی نہیں ولی کی دعا ضرور سنے گا۔ ایک سال کے بعد وہ لوگ کہیں دوسرے شہر شفٹ ہو گئے۔

  • اچھے دنوں کی اُمید!!! — ریاض علی خٹک

    اچھے دنوں کی اُمید!!! — ریاض علی خٹک

    زندگی کا موسم ایک سا نہیں رہتا اس میں نشیب و فراز آتے ہیں. جب وقت موافق نہ ہو تو تنہا ایک معصوم سا پودا بھی اسے بھانپ لیتا ہے. وہ ہوا میں قدرت کی مہربان نمی جب کم دیکھتا ہے سورج کو دہکتے اور آسمان کو بادلوں سے صاف دیکھتا ہے. آس پاس خشک ہوتے میدان اور مرجھائے چہروں والے گھاس کی تلاش میں چرتے مویشی دیکھتا ہے تو یہ بھی پریشان ہو جاتا ہے.

    لیکن پودا روتا نہیں ہے. کیونکہ اوپر اللہ اور نیچے اس تنہا کو سننے والا کوئی دستیاب نہیں ہوتا. وہ اپنے پتوں پر بنے چھوٹے چھوٹے سوراخ یعنی stomata بند کر لیتا ہے جیسے طوفان کے آثار دیکھ کر ہم اپنی کھڑکیاں دروازے مضبوطی سے بند کرتے ہیں. وہ اپنی جمع توانائی اپنی جڑوں پر لگا کر ان کو زمین کی مہرباں گود میں پھیلانے لگتا ہے. وہ اپنا اوسموس سسٹم ری ایڈجسٹ کرتا ہے.

    پودا اپنی بقا کی خاموش جنگ لڑنے لگتا ہے. اس کے مرجھائے پتے اُس انتظار پر البتہ گواہ ہوتے ہیں جو آسمان کو دیکھ رہے ہوتے ہیں. یہاں تک کے وقت دوبارہ مہربان ہو جائے آسمان پر کالی گھٹائیں چھا جائیں اور منظر بدل جائے. انسان بھی وقت کے اس نشیب و فراز میں اسی طرح پریشان ہو جاتے ہیں. کچھ مرجھائے ہوئے چہروں کے پیچھے بقا کی یہی جنگ چل رہی ہوتی ہے.

    انسانوں کو البتہ زبان ملی ہوئی ہے. وہ احساس ملا ہے جو دوسرے کی پریشانی نہ صرف محسوس کر سکتا ہے بلکہ اسے بانٹ بھی سکتا ہے. ہم ایک دوسرے کو اچھے دنوں کی اُمید دے سکتے ہیں. ہم کسی کی خزاں میں اپنی بہار کے کچھ رنگ دے کر اس انتظار کو آسان بنا سکتے ہیں. یہی انسانیت کا شرف ہے جو اسے جانوروں اور پودوں سے ممتاز کرتا ہے.

  • خود فریبی ایک روگ ہے!!! — ریاض علی خٹک

    خود فریبی ایک روگ ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ایک پرندہ اپنے انڈوں بچوں کو سانپ سے بچانے کیلئے گھونسلا ایسا بناتا ہے جو سانپ کو فریب دیتا ہو. وہ سامنے کی طرف ایک خانہ بناتا ہے جو خالی ہوتا ہے. اس کے اوپر سے ایک سرنگ گھوم کر پیچھے جاتی ہے جہاں وہ انڈے بچے دیتا ہے. سانپ خالی خانہ میں منہ مار کر مایوس چلا جاتا ہے. اللہ رب العزت نے جانوروں اور پرندوں کو بھی اپنے حصے کی عقل دی ہے.

    پرندہ یہ فریب دوسرے سے کرے تو سمجھ آتا ہے. لیکن کچھ لوگ یہی فریب اپنے ساتھ کرتے ہیں. اسے خود فریبی یا self deception کہتے ہیں. اس میں انسان خود سے جھوٹ بولتا ہے، ایک جھوٹ چھپانے کیلئے پھر دوسرا اور یہ سلسلہ اتنا پھیل جاتا ہے کہ ہماری ذات جھوٹ کے بنے جال میں ایسے چھپ جاتی ہے جیسے مکڑی کا کوئی جال ہو.

    یہ جھوٹ کیا ہوتا ہے.؟ جب ہم سچائی اور حقیقت کا سامنا کرنے سے گریز شروع کر دیں. جب ہم وہ نہ ہوں جو ہم دکھانے کے جتن کر رہے ہوتے ہیں. جب ہم سمجھ لیں ہم نے جو سمجھا جانا یہی اٹل ہے. تب ہم دوسروں سے ڈرتے ہیں کوئی اسے رد نہ کردے. ہم خود سے بھی ڈرتے ہیں اور اپنی ہر کمی کوتاہی کمزوری کیلئے تاویلات ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں.

    شخصیت پھر تعصبات کا شکار بن جاتی ہے. جو بات کام یا فرد آپ کی تائید کرتا ہے آپ اسے پسند کرتے ہیں. جسے آپ ناپسند کریں اس پر بات کرتے اس سے سامنا کرتے گھبراتے ہیں. اپنی کمزوری کو چھپانے کیلئے خود سے اور دوسروں سے جھوٹ بولتے ہیں. شخصیت کے گھونسلے میں سامنے کچھ تو پس پردہ کچھ اور ہوتا ہے. زندگی چوکیداری کرتے بیت رہی ہوتی ہے.

    یہ خود فریبی ایک روگ ہے. جیسے قرآن سورۃ

    البقرة میں منافقین کے بارے کہتا ہے.

    فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ‌ۚ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۙۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ‏ ۞

    "ان کے دلوں میں روگ ہے چنانچہ اللہ نے ان کے روگ میں اور اضافہ کردیا ہے اور ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے، کیونکہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے. ” خود فریبی بھی اپنی ذات اور بندگی سے ایک منافقت ہی ہے.

  • کیا واقعی صرف حکومت کا قصور ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    کیا واقعی صرف حکومت کا قصور ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    ملک میں جاری حالیہ آٹا بحران میں زیادہ تر لوگ حکومت کو کوس رہے ہیں۔ لیکن کیا واقعی صرف حکومت کا قصور ہے؟

    کیا آپ جانتے ہیں کہ جو گندم ہمارے ملک میں پیدا ہوتی ہے اس کا کم سے کم چالیس فیصد ہم سب مل کر ضائع کر دیتے ہیں۔ اور اس ضائع کرنے میں امیر غریب سب شامل ہیں۔ ہر گھر میں روزانہ ایک سے دو روٹی زیادہ بنتی ہے جو ضائع ہو جاتی ہے۔ مختلف تقریبات خاص طور پر شادیوں پر تو بے انتہا کھانا ضائع ہوتا ہے۔ تب زیادہ تر لوگ یہی سوچ رہے ہوتے کہ مفت کا ہے، جیسے مرضی ضائع کرو لیکن وہی ضائع کرنا آج ہمارے سامنے آ رہا ہے۔

    پھر جب ہوٹلوں میں کھاتے ہیں تب بھی ذرا سی روٹی ٹھنڈی ہونے پر نئی منگوا لیتے ہیں کہ پر ہیڈ ہی پیسے دینے ہیں تو کیوں نہ تازہ منگوائی جائے۔

    ہمارے ملک میں گندم کی پیداوارتو ایک خاص حد تک ہے۔ اب اس میں سے جو بھی روٹی ضائع کرتے ہیں تو وہ ہمارے ملک کی گندم ہی ضائع ہوتی ہے۔ اس طرح جو ہم چالیس فیصد ضائع کر دیتے ہیں وہی گندم پھر ہمیں باہر سے منگوانی پڑتی ہے اور باہر سے منگوانے کے لیے ہمیں ڈالر چاہیں جو نہیں ہوتے۔ کیونکہ ڈالر تب آنے ہیں جب ہم ملک میں سے چیزیں باہر بیچیں اور پھر ان کے بدلے دوسری چیزیں منگوائیں۔

    اب یہ تو ہم سب کر سکتے ہیں کہ جو بھی ہمارے بس میں ہو وہ روٹی ضائع نہ کریں بلکہ جو بھی بچے بڑے ، مردو خواتین ضائع کر رہے ہوں انھیں سمجھائیں۔ خواتین گھر میں روٹی بنانے سے پہلے سب گھر کے افراد سے پوچھیں کہ کس کس نے کھانی ہے اور کتنی کھانی ہے تاکہ اتنی بنائیں۔ جس دن بچ جائے اگلے دن اتنی کم بنائیں۔ جو بچ جائے وہ کوشش کریں کہ کسی غریب کو دے دیں تاکہ اس کا پیٹ بھر جائے۔

    اسی کے ساتھ کچن گارڈننگ کو بھی فروغ دینا ہوگا۔ گھر میں جو بھی ممکن ہو لازمی اگائیں۔ جیسے اگر ہم خود اپنا پیاز، لہسن بھی اگا لیں تو ملک کو ان پر جو ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں وہ بچ جائیں گے۔ تو ہم تھوڑا سا بھی حصہ ڈالیں تو تھوڑا تھوڑا کر کے ہی بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

    حکمران نااہل ہیں، اس میں کوئی شک نہیں لیکن ہم اپنے حصے کا کام تو کریں۔ اس سے ہی بہت زیادہ فرق پڑ سکتا ہے۔
    شئیر کریں، اگر ہم صرف پانچ فیصد ضائع ہونے والی روٹی ہی بچا لیں تو ہمارا ملک کبھی گندم کے بحران کا شکار نہ ہو۔