Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ہیومن رائٹس یا انسانی حقوق؟ — ریاض علی خٹک

    ہیومن رائٹس یا انسانی حقوق؟ — ریاض علی خٹک

    یورپ کے کسی قصبے میں بھکاری نے ایک گھر کے دروازے پر آواز لگائی. مالک مکان دروازے پر بچا ہوا کھانا لایا اس کے سامنے رکھا اور بھکاری سے کہا چلو دعا کریں تم میرے پیچھے دہرانا. عیسائیت میں کھانے سے پہلے کی دعا میں مالک مکان نے جب کہا اے جنت میں ہمارے باپ بھکاری نے کہا "اے جنت میں اس کے باپ” . مالک مکان نے کہا نہیں بولو ہمارے باپ بھکاری نے پھر کہا اس کے باپ.

    مالک مکان نے جھنجھلا کر کہا تمہیں دعا نہیں آتی بولو ہمارے باپ گداگر نے کہا دعا تو آتی ہے لیکن اس رشتے میں پھر میں تمہارا بھائی بن جاتا ہوں جسے عزت و احترام سے گھر میں بٹھا کر کھانا کھلایا جاتا ہے نہ کہ باسی کھانا گھر کے دروازے کے فرش پر کھلایا جائے. اس لئے جنت میں تمہارے فادر کو یاد کرتے ہیں جس نے تمہیں گھر دیا اور مجھے بھکاری بنایا.

    کہتے تو ہم بھی یہی ہیں کہ سارے انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں. اس رشتے پر ہم سب ہی بہن بھائی ہیں. اللہ رب العزت کی ایک تقسیم اور ہماری زندگی کا امتحان ہے جو ہمیں مختلف مقامات پر آزمایا جا رہا ہے. البتہ عزت دینا ہم بھولتے جا رہے ہیں. ہم نہیں جانتے کون کس کشمکش زندگی سے دوچار ہے.؟ کیوں دوچار ہے لیکن عزت نفس تو سب کا حق ہے.

    یہی عزت نفس ہیومن رائٹس یا انسانی حقوق کہلاتی ہے. یہ عزت ہو تو مشکل سے مشکل امتحان بندہ آسانی سے سہہ لیتا ہے. بے عزت ہو تو چھوٹی تکلیف بھی پہاڑ لگتی ہے. ایک دوسرے کی عزت کریں زندگی سب پر آسان ہو جاتی ہے.

  • وقت اور صبر!!! — ریاض علی خٹک

    وقت اور صبر!!! — ریاض علی خٹک

    جوئے کیلئے پوری دنیا میں مشہور لاس ویگاس کے کسی جوا خانے میں آپ کو گھڑی نظر نہیں آئے گی. وہ چاہتے ہی نہیں کہ اپنی کمائی کو جوئے کی ٹیبل پر رکھنے والے جواری کو وقت گزرنے کا احساس ہو. آپ کسی بھی بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور میں چلے جائیں اس کی دیواروں پر بھی گھڑی نہیں ہوگی. وہ بھی نہیں چاہتے گاہک کو ہماری اشیاء سے بھری الماریوں کے درمیان وقت کا حساب یاد رہے.

    مشہور زمانہ روسی ادیب لیو ٹالسٹائی نے کہا تھا دنیا کے سب سے بڑے جنگجو وقت اور صبر ہیں. اگر آپ ادب کے میدان سے تعلق نہیں رکھتے تو چلیں دنیا کے کسی بھی امیر ترین انسان سے پوچھیں دولت کی کوئی یک لفظی چابی کیا ہے.؟ وہ بتائے گا "سرمایہ کاری” یعنی انویسٹمنٹ. وقت ہماری سرمایہ کاری ہے.

    ہمارا سرمایہ ہمارا "وقت” ہے. وقت کے اس بازار میں اگر آپ ہیں تو سرمایہ وقت آپ کے پاس ہے . چیلنج ایک ہی ہوگا آپ اپنے اس سرمائے کی سرمایہ کاری کیسے کرتے ہیں.؟ جوا اسی لئے حرام ہے کیونکہ اس سرمایہ کاری میں آپ نہیں ہوتے بلکہ آپ اپنے چانس یا نصیب کو سامنے کردیتے ہیں. بازاروں کو اس لئے پسند نہیں کیا جاتا کیونکہ اس میں آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں. وقت کے اس سرمائے کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے.

    اس سرمایہ وقت کی حفاظت صبر کہلاتا ہے. بے صبر اپنا سرمایہ وقت جواری کی طرح ہار رہا ہوتا ہے. وقت کے بہترین جنگجو پھر صبر سے اپنے وقت کا حساب کرتے ہیں اور بروقت اپنے فیصلے کرتے ہیں.

  • مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ سونے لگے ہیں، اچانک سے آپکو ایک تیز سی آواز کان کے قریب سنائی دیتی ہے۔ آپ ہڑبڑا اُٹھتے ہیں۔ غصے یا جھنجھناہٹ میں فوراً ہوا میں ہاتھ مارتے ہیں جسیے کسی ان دیکھی آفت سے "کنگ فو” کر رہے ہوں۔ آواز غائب ہو جاتی ہے۔ یا تو آپکا وار ٹھیک نشانے پر لگا یا پھر آواز پیدا کرنے والا یہ ناہنجار آپ سے دور چلا گیا۔ یہ آواز کسی اور کی نہیں ایک عدد مادہ مچھر کی تھی۔

    سوال مگر یہ ہے کہ مچھر آواز کیسے نکالتے ہیں؟ کیا ہماری طرح منہ سے؟

    نہیں۔۔ مچھروں کی آواز دراصل اُنکے ننھے سے پروں کے تیزی سے ہلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک مچھر ایک سیکنڈ میں تقریباً 1 ہزار مرتبہ اپنے پر ہلاتا ہے(مادہ عموما 600 مرتبہ). جس سے ایسی بھن بھن کرتی آواز پیدا ہوتی ہے۔ مگر پر ہلانے سے آواز؟ جی۔ کبھی آپ نے گانا بجاتے سپیکر کو غور سے دیکھا ہے۔ اس میں سے جب آواز نکل رہی ہوتی ہے تو اسکی اوپری سطح تیزی سے ہل رہی ہوتی ہے۔ ایک سپیکر کے پردے کا یوں ہلنا اسکے اردگرد موجود ہوا میں دباؤ کو بدلتا ہے اور ایک موج یا لہر پیدا کرتا ہے۔ اس سے ہوا میں موجود ایٹموں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ موج دراصل آواز کہلاتی ہے۔ یہ جب آپکے کان کے پردے پر پڑتی ہے تو کان کا پردہ بھی اسی طرح سے ہلتا ہے جیسے سپیکر کا پردہ ہل رہا ہوتا ہے۔ اس میکانکی موج یا لہر کو کان کے ذریعے برقی سگنل کی صورت دماغ "سنتا” ہے اور یوں آپکو آواز سنائی دیتی ہے۔

    مچھر اپنے پر ہلانے کی رفتار کو بدل سکتا ہے جس سے اسکی اُڑان کے ساتھ ساتھ آواز بھی بدلتی ہے۔ ایک نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹتا۔ یہ "انسان کا بچہ” پودوں اور پھولوں کا رس چوس کر ان سے خوراک حاصل کرتا ہے۔ جبکہ ایک مادہ مچھر انسانوں اور دیگر جانوروں کا خون اس لئے چوستی ہے کیونکہ اس میں ایک خاص طرح کا پروٹین ہوتا ہے جو مادہ مچھر میں موجود انڈوں کی افزائش کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ مچھر انسانوں کے جسم کی بو اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو محسوس کر کے اپنا شکار تلاش کرتا ہے۔ کچھ لوگوں کو مچھر زیادہ کاٹتے ہیں۔ وجہ غالباً اُنکے جسم سے نکلنے والی بو مچھروں کو زیادہ محسوس ہوتی ہو۔ مچھر کس طرح کی جسمانی بو پر زیادہ آتے ہیں، یہ ہمیں معلوم نہیں۔

    دنیا بھر میں مچھروں کی تین ہزار سے زائد اقسام ہیں۔یہ اور دیگر کئی کیڑے مکوڑے گرم اور مرطوب موسم میں زیادہ افزائش کرتے ہیں۔ ایک مادہ مچھر ایک ہفتے میں تین ہزار انڈے دیتی ہے۔ یہ اپنے انڈے پانی میں دیتی ہیں جن سے لاروے بنتے ہیں اور تیرتے ہیں۔ اس لیے اپنے اردگرد کھڑے پانی کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ ان میں مچھر انڈے دیکر بچے پیدا نہ کریں اور ملیریا اور ڈینگی سے بچا جا سکے۔

    2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ڈھائی کروڑ افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں جن سے سوا چھ لاکھ کے قریب اموات واقع ہوتی ہیں۔ اموات کا تناسب ترقی پذیر اور غریب ممالک میں زیادہ ہوتا ہے۔ 2020 میں پاکستان میں پاکستان میں 5 لاکھ ملیریا کے کیسز رپورٹ ہویے اور اموات کی تعداد تقریبا 50 ہزار کے قریب رہی۔ ان میں سے 37 فیصد مریضوں کا تعلق پاکستان کی افغانستان اور ایران کے قریب سرحدی علاقوں سے تھا۔ 2019 کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ملیریا کے علاج کے لیے فی کس تقریباً 3 ہزار روپے سے زائد خرچ اُٹھتا ہے۔ یہ رقم شاید کچھ لوگوں کے لیے معمولی ہو مگر پاکستان کی زیادہ تر آبادی گاؤں اور دیہاتوں میں رہتی ہے جنکی فی کس ماہانہ آمدنی 30 ہزار روپے سے بھی کم ہو(2016 پاکستان شماریاتی ادارے کی رپورٹ)۔ اُنکے لیے یہ رقم خرچ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ملیریا جیسے قابلِ علاج مرض سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

  • لطیفے اور رشتے!!! —- ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

    لطیفے اور رشتے!!! —- ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

    بیوی کے رشتے پر انتہا درجے کے مذاق اور لطائف بنا کر بیوی کو خودسر ،ہڈدھرم، لالچی اور کم عقل ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ۔ بیوی کا برابری کا درجہ ان لطائف کی زد میں آ کے مسلسل کمتر حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔

    پچھلے دنوں احباب نے نوٹس کیا ہو گا کہ میں نے اپنے پیج پر ایک ایکٹیویٹی کی جس میں تمام لطائف شوہر یا مرد کے متعلق شیئر کیے ۔

    چند بار حضرات ہنسے لیکن پھر دبا دبا احتجاج بلند ہونا شروع ہوا کہ اپ تو مردوں کی کلاس لے رہی ہیں ۔ شوہروں پر تو لطیفے لکھتی ہیں بیوی پر بھی لکھیں ۔ ان لطائف میں وقتی ہنسی سے بڑی رمز چھپی ہے ۔ لطیفہ اور ہنسی پیچھے رہ جاتی ہے بیوی یا شوہر سے متعلق ایک منفی نکتہ ذہن میں خفیہ طور پر جڑ پکڑ جاتا ہے ۔

    بعینہ یہی حال پھوپھی ماموں اور سالے کے رشتے پر لطائف بنا کر کیا گیا ۔ یعنی جو بےلوث محبت کے رشتے ہیں ان پر مخفی ،منفی پیغام کے ساتھ بنے لطائف سے ان کی تحقیر کی جائے ۔ اس طرح نئی جنریشن اور پہلے سے موجود بالغ لیکن کم عقل جنریشن کے اذہان میں ان رشتوں کی اہمیت کم کر کے انہیں محض مذاق بنا کر رکھ دیا جائے ۔

    جو شوہر دوستوں میں بیوی کے لطائف سن کر آئے وہ بیوی کو لطیفے سنائے یا نہ سنائے اپنی بیوی کو اسی تناظر میں دیکھے گا ضرور ۔
    بیوی کی بہن کیسی ہی دیندار کیوں نہ ہو اسے بہنوئی دل ہی دل میں سالی (نہایت ذومعنی ) کے رشتے سے یاد کرے گا ۔
    بیوی کا بھائی کیسا ہی معزز کیوں نہ ہو رہے گا وہ سالا ہی، یہ لفظ معاشرے میں کتنا معزز ہے سبھی واقف ہیں ۔

    اچھا دیور بھابی پر روایتی ٹپے موجود ہیں لطائف موجود نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس محترم لیکن نامحرم رشتے کی بنا لطیفے بنائے ہی اسقدر تحقیر کر دی گئی ہے کہ اپ سوشل میڈیا پر لفظ دیور یا بھابی لکھ کے سرچ بھی نہیں کر سکتے ۔ صرف گٹر ابلتا ہے ۔

    بلاشبہ جب حضور اکرم ص نے دیور کو بھابی کے لیے موت قرار دیا تو اس کی وجہ بھی تھی ۔ یہی حد بعینہ بہنوئی اور سالی کے رشتے پر بھی عاید رہنی چاہیے ۔

    بچے کے ماموں کتنے ہی سمجھدار پروقار ہستی کیوں نہ ہوں اس لفظ کو بےوقوف کا مترادف بنا دیا گیا ہے ۔

    پھوپھو، جان نثار ماں جیسی ہستی کیوں نہ ہو اسے صوتی مماثلت اور لطائف کے زور پر پھپھے کٹنی کے مترادف ٹھہرا دیا گیا ۔پھوپھو کو تو باقاعدہ ایک رویہ ڈکلیئر کر دیا گیا ہے ۔ ایسا مخلص رشتہ جو پہلے ہی ازدواجی بندھن کی وجہ سے میکے سے دور رہنے پر مجبور ہو اسے برا بنا کر بالکل ہی میکے سے دور کر دیا گیا ہے۔ بھلا کون سی بیوی اپنی راجدھانی میں پھپھے کٹنی فسادن کی آمد پسند کرے گی ۔ پس بھابی نے نند اور باپ نے پھوپھو کو خود سے دور کر دیا ہے ۔ بھتیجے تو اس رشتے کی مٹھاس سے محروم ہوئے ہی لیکن والدین کے جانے کے بعد بھائی کے گھر سے میکے کی خوشبو تلاش کرنے والی بہن کا میکہ اگر دوسری بہن قائم رکھے تو رکھے بھائی تو لفظ پھوپھو کے خوف سے دور رہنا پسند کرنے لگے ہیں

    ان لطائف نے رفتہ رفتہ سالا سالی گالی ، دیور بھابی گالی ، ماموں احمق کے اور پھوپھو پھپھے کٹنی کے مترادف بنا دیے ہیں ۔ ساس جلاد یا ہٹلر کے اور سسرال، سسرائیل جیل یا قید کے مترادف بنا دیے ہیں ۔ لفظ بیوی لطائف کی روشنی میں کم عقل ،کم فہم ،دکھ درد نہ سمجھنے والی ،خرچیلی جھگڑالو، سکون نہ دے سکنے والی، جلدباز اور پھوہڑ عورت کے کردار کا آفیشل نام بن گیا ہے ۔

    یہ سبھی عزت کے رشتے تھے جنہیں ہنسی مذاق میں بے توقیر کر دیا گیا ہے ۔اب اس کا مداوا محض بہترین گھریلو تربیت سے ہی ممکن ہے جہاں والدین اپنی اولاد کو تمام رشتوں باتوں سے اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے حفظ و مراتب سے کماحقہ متعارف کروائیں۔

    سچ ہے ضرورت سے زیادہ مذاق عزت میں کمی کا باعث بنتا ہے ۔

  • "چغد” اور "چغد گَروں” کی دنیا کے اسرار و رموز!!! — بلال شوکت آزاد

    "چغد” اور "چغد گَروں” کی دنیا کے اسرار و رموز!!! — بلال شوکت آزاد

    2005 سے 2022 تک مختلف النوع تجربات, مشاہدات اور مطالعات کے بعد احقر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ

    1-دعوت و اصلاح کے سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں کو دعوت و اصلاح کی غرض سے جاکر تنگ کرنا معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    2-خدمت خلق, صلہ رحمی اور ایثار و اخوت کے بھی سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں کو خدمت خلق, صلہ رحمی اور ایثار و اخوت کی غرض سے جاکر مدد کرنا معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    3-آزادی, انقلاب, تبدیلی اور ترقی و خوشحالی کے لیے آپ کی جسمانی, روحانی اور نفسانی جد و جہد اور جہاد کے بھی سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں کی آزادی, انقلاب, تبدیلی اور ترقی و خوشحالی کے لیے آپ کا جسمانی, روحانی اور نفسانی جد و جہد اور جہاد کی غرض سے جانا اور مدد کرنا بھی معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    4-آپ کی جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص کے بھی سب سے زیادہ حقدار آپ کے ارد گرد موجود لوگ مطلب رشتے دار اور دوست احباب ہوتے ہیں لہذا لنڈی کوتل وغیرہ یا اس سے بھی آگے تک کسی فلاں ڈھمکاں پر آپ کی جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص خرچ کرنا معیوب نا صحیح لیکن افضل بھی نہیں۔

    اپنی زندگی کے اٹھارہ بیس سال گزار کر جو آپ بھی یہی سبق یہی نتیحہ اخذ کریں گے اس سے بہتر ہے کہ ہم سے ہی عبرت حاصل کرلیں, فی زمانہ اوپر درج معاملات میں حد درجہ دلچسپی اور شمولیت وغیرہ سے بڑا فتنہ مجھے تو نظر نہیں آتا۔۔۔ اور پتہ ہے نا کہ فتنوں سے دور بھاگنے کا حکم ہے کیونکہ فتنوں کی سرکوبی کا خیال دل میں پالنا اور متحرک ہونا بھی ایک فتنہ ہی ہے لہذادور دور بہت دور رہنے میں ہی عافیت ہے۔

    کیونکہ آپ کو کسی کاز, کسی تنظیم, کسی جماعت, کسی انجمن یا کسی ادارے سے منسلکیت کی جو قیمت چکانی پڑتی ہے اس میں آپ کی ذاتی و اجتماعی زندگی کے تار و پود بکھرنا تو سر فہرست ہے لیکن کسی بھی مشکل, مصیبت, تنگدستی اور بیماری میں چراغ تلے اندھیرا کے مصداق تہی داماں رہنا پڑتا ہے, سفید پوشی اور انا کے مارے آپ تو منہ نہیں کھولتے لیکن آپ کو چپکی کسی کاز, کسی تنظیم, کسی جماعت, کسی انجمن یا کسی ادارے کی وظیفہ خور جونکیں المعروف عہدیداران و ذمہ دران جو کہ آپ کی جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص کو آپ سے براہ راست کشید کرکے کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کو فیول مہیا کرکے اپنے نمبر ٹانگتے ہیں وہ یا تو آپ کی مشکل, مصیبت, تنگدستی اور بیماری کے وقت آپ کو کسی جگہ نظر نہیں آئیں گے یا مروتاً نظر بھی آئیں گے تو آپ کو قرآن و حدیث سے صبر شکر کے یہ لمبے لمبے لیکچر سنا کر آپ کو اُن کی عظمت کا قائل کریں گے, ہاں دو تین درجن کیلے اور موسم کی مناسبت سے دو تین کلو دیگر پھل آپ کو میسر آسکتا ہے اگر آپ ان کے سامنے "چغد” بنے بیٹھے رہیں اور بعد میں بھی ان کے احکامات بلکہ اشارہ ابرو پر "چغد” بنے بنے عمل پیرا رہیں تو یہ والی "عیاشی” آپ کو مل سکتی ہے۔۔۔

    یقین مانو نوجوانوں, تمہاری کسی کو نہیں پڑی۔۔۔ تم بجز اپنے یا اپنے ارد گرد موجود رشتہ دار و دوست احباب کے کسی کی فکر میں مت گھلو اور پرائے پھٹے میں کودو کیونکہ ہر کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کو صرف تمہاری جوانی, صحت, دولت, علم اور خلوص چاہیے ہوتا ہے اپنا چورن منجن بیچنے اور ٹیکس فری دولت شہرت اور مزے لوٹنے کے لیے وگرنہ کسی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کے ذمہ داران ان مسٹرز اور صاحبان وغیرہ وغیرہ کی اصلیت جاننی ہو کہ یہ کتنے بڑے خدا ترس, خدمت خلق کے جذبات سے سرشار اور خدائی خدمتگار ہیں ان کے ارد گرد موجود رشتہ دار و دوست احباب اور محلے داروں سے جاکر پوچھو۔۔۔ اصلیت جان کر چھٹی کا دودھ نہ یاد آئے تو کہنا۔۔۔

    کچھ لوگ آپ کو پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اور کالی بھیڑوں اور گندی مچھلی والی مثالیں سناکر رام کرنا چاہیں گے لیکن یاد رکھنا کہ یہ سب ہی وہ کالی بھیڑیں اور گندی مچھلیاں ہونگی جنہوں نے "چغد” بننے کے بجائے "چغد” بنانے میں مہارت حاصل کرکے ہر طرح کے فوائد حاصل کیے ہونگے یا کر رہے ہونگے۔۔۔

    جی ہاں, ہر کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں لیڈرشپ کی لیئر کے بعد۔۔۔ ایک کہلاتے ہیں "چغد”, جوکہ کسی بھی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کا فیول ہوتے ہیں جبکہ دوسرے کہلاتے ہیں "چغد گَر” یعنی "چغد بنانے والے”, جو کہ کسی بھی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے میں لیڈرشپ اور فیول کے درمیان برج کا کردار ادا کرتے اور کسی بھی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے کی نرسری چلانے والے ہوتے ہیں اور ان کا سر اور دس انگلیاں کڑاہی میں ہوتی ہیں اور اوپر سے مستزاد یہ کہ انہیں استثنی حاصل ہوتا ہے خواہ ان کے کھاتوں میں کے ٹو پہاڑ جتنی کرپشن نکل آئے, لیڈرشپ کو آپ اول تو ان کے علم اور دستیابی کے بغیر مل نہیں سکتے اور اگر کسی طرح مل لو تو لیڈرشپ آپ کو اتنی بزدلانہ طریقے سے ملے, سنے اور ڈیل کرے گی کہ آپ حیران اور پریشان رہ جائیں گے کہ کیا یہ وہی صاحبان ہیں جو کشتوں کے پشتے لگانے کی بھڑکیں مار مار کر آدھی دنیا میں مشہور و معروف ہیں جبکہ ان کی اوقات یہ ہے کہ اپنے ماتحت چند "چغد گَروں” کی کرپشن پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے, بے بس اور معذور و مجبور ہیں۔۔۔ تب آپ اپنی تمام ریاضت اور محنت اور کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے اور ان کی لیڈرشپ پر دو حرف بھیج کر آجائیں گے اور روزانہ سوچیں گے کہ

    "کیوں۔۔۔ آخر میں ہی کیوں؟”

    تو اس کا دو ٹوک جواب ہے کہ

    "تم چغد ہو اس لیے تم ہی, ہاں تم ہی”

    دیکھو بھئی بڑا سیدھا فنڈا ہے کسی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے میں رہ کر ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرنا کہ تم جاتے وقت بیشک "چغد” تھے لیکن ساری عمر وہاں "چغد” بنے رہے اور "چغد گَر” نا بنے تو تم ہی قصور وار ہو لہذا اگر تم "چغد گَر” نہیں بن سکتے تو پھر اوپر لکھے چار اصولوں کی روشنی میں اپنے ارد گرد موجود رشتہ دار اور دوست احباب کے ساتھ منسلک رہو بجائے کسی کاز, تنظیم, جماعت, انجمن یا ادارے سے منسلک ہونے کے, کیونکہ یہ دنیا ہی اور ہے, یہ کہلاتی ہے "چغد” اور "چغد گَروں” کی دنیا, جس کے اسرار و رموز ہی اور ہیں جو آپ کو سمجھ آگئے تو آپ "چغد گَر” ورنہ آپ سے بڑا "چغد” نہ کوئی تھا, نہ ہے اور نہ ہوگا!!!

  • جیمز ویب کے بعد نئی ٹیلی سکوپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    جیمز ویب کے بعد نئی ٹیلی سکوپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ملیے ناسا کی مستقبل کی جدید خلائی دوربین سے جسکا نام ہے "نینسی گریس رومن ٹیلیسکوپ” جو ایک خاتون سائنسدان ڈاکٹر نینسی گریسی کے نام سے منسوب کی گئی ہے۔ ڈاکٹر نینسی 60 کی دہائی کے اوائل میں ناسا کی چیف آف ایسٹرانومی (فلکیات) تھیں۔ اور وہ پہلی سائنسدان تھیں جنہوں نے یہ خیال پیش کیا کہ ایک خاص طریقہ کار کے ذریعے جسے کرونوگرافک ماسکنگ کہتے ہیں، ایک خلائی دوربین سے دیگر ستاروں کے گرد گھومتے سیارے جنہیں ہم ایگزوپلینٹس کہتے ہیں، ڈھونڈا یا دیکھا جا سکتا ہے۔ جس طرح آپ تیز سورج میں روشنی میں ماتھے پر ہاتھ کا چبوترہ سا بنا کر آسمان پر کوئی شے دیکھتے ہیں جو اس وجہ سے نظر آتی ہے کہ آپ سورج کی زیادہ روشنی کو ہاتھ سے ایک طرح سے بلاک کر دیتے ہیں سو آپکی انکھ کم روشن شے کو دیکھ سکتی ہے بالکل ویسے ہی ڈاکٹر نینسی نے بتایا کہ ایک کرونوگراف ماسک کو ٹیلیسکوپ سے جوڑ کر ستاروں سے آنے والی روشنی کو بلاک کر کے اسکے گرد ستارے سے کم کم روشن سیارے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی آج ہبل اور جیمز ویب ٹیلیسکوپ دونوں میں استعمال ہو رہی ہے۔

    جیمز ویب ٹیلسکوپ کی طرح یہ نئی ٹیلیسکوپ جسے مئی 2027 میں خلا میں بھیجا جائے گا، انفراریڈ روشنی میں کائنات کا مشاہدہ کرے گی۔ انفراریڈ وہ روشنی ہے جو عام آنکھ سے نظر نہیں آتی۔ اور اسکے لیے مخصوص ڈیٹیکٹرز کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ آپ انفراریڈ کیمروں میں دیکھتے ہیں۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ کی طرح اسے بھی زمین سے کئی لاکھ کلومیٹر دور خلا میں لنگریج پوائنٹ 2 پر مدار میں چھوڑا جائے گا۔ یہ خلا میں وہ جگہ ہے جہاں سورج اور زمین کی کششِ ثقل کے توازن کے باعث اس ٹیلسکوپ کا مدار مستحکم رہے گا۔ اس ٹیلسکوپ کا کائنات کو دیکھنے والا مِرر یعنی آئینہ جیمز ویب کے مِرر سے تقریباً تین گنا چھوٹا یعنی 2.4 میٹر کا ہو گا یعنی کہ اتنا ہی سائز جتنا ہبل ٹیلسکوپ کے مِرر کا ہے۔ مگر یہ ہبل سے زیادہ وسیع علاقے میں ایک وقت میں تصویر کھینچھ سکے گی یعنی اسکا فیلڈ آف ویویو ہبل سے زیادہ ہو گا۔

    اس نئی اور جدید ٹیلیسکوپ میں 300.8 میگا پکسل کا کیمرہ نصب ہو گا جو کہکشاؤں اور ستاروں کی نہایت تفصیلی تصاویر کھینچے گا جبکہ اسکے ساتھ ساتھ کرونگرافر بھی جو ستاروں سے آنے والی روشنی کے زیادہ تر حصے کو بلاک کر کے انکے گرد گھومتے زمین جیسے سیاروں کو ڈھونڈے گا۔ اور اس میں موجود سپیکٹرومیٹر یعنی ایسا سائنسی آلہ جو سیاروں کی فضا سے گزرنے والی مدہم روشنیوں کا جائزہ لیکر یہ بتائے گا کہ دریافت کیے گئے سیاروں میں کن پر زندگی ہو سکتی ہے۔

    اس ٹیلسکوپ کو 2027 میں ایلان مسک کی کمپنی سپیس ایکس اپنے راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجے گی۔ اس ٹیلسکوپ کے دو اہم سائنسی مقاصد میں سے ایک ڈارک انرجی کے متعلق معلومات حاصل کرنا ہے جبکہ دوسرا کائنات میں سیاروں کی تلاش جو زمین جیسے ہوں یا جہاں زندگی کے آثار موجود ہوں۔ یہ ٹیلیسکوپ 2027 سے 2032 یعنی ہانچ سال تک کام کرنے کے لیے بنائی جائے گی۔ اور اس دوران یہ انسانی علم میں اضافے کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں کو کائنات کے کئی اہم راز کھولنے میں مدد دے گی۔

  • موازنہ کرنا چھوڑ دیجئے!!! — محمد فھد حارث

    موازنہ کرنا چھوڑ دیجئے!!! — محمد فھد حارث

    2019ء میں نئی کمپنی نے ہماری کمپنی کو ایکوائر کیا تو مامون اور ریا کو آفر لیٹر میں تنخواہ دس ہزار درہم بڑھادی جبکہ مجھے صرف ڈھائی ہزار درہم بڑھائے۔۔۔ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟

    تصویر کا دوسرا رخ: پروفیشنلی مامون مجھ سے دس سال جبکہ ریا پانچ سال سینئر ہے اور یہ دونوں کمپنی میں مجھ سے گیارہ سال قبل سے کام کررہے ہیں۔ لیکن 2011ء میں جب میں نے کمپنی جوائن کی تو پروفیشنلی ان سے جونیر ہونے کے باوجود 8 سال تک مامون کے برابر اور ریا سے زیاددہ تنخواہ لیتا رہا جبکہ انکا اور میرا گریڈ سیم تھا۔۔۔۔۔ تب مامون اور ریا کو کیسا لگتا ہوگا؟؟؟؟

    ارے یہ کیا تیسرا سال ہے اور میرے ماتحت کام کرنے والے احمد کو اپریزل میں 4 ریٹنگ مل رہی ہے جبکہ کئی اچیومنٹس کے باوجود مجھے پچھلے دو سال سے 3 ریٹنگ مل رہی ہے۔۔۔۔۔ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟

    تصویر کا دوسرا رخ: احمد اور میں پروفیشنل تجربے میں برابر ہیں یعنی پچھلے اٹھارہ سالوں سے ہم ٹیلیکوم انڈسٹری میں کام کررہے ہیں۔ احمد کے پاس انجینیرنگ کے ساتھ ساتھ ایم بی اے کی ڈگری بھی ہے جبکہ میں فقط انجینئر ہی ہوں لیکن اس کے باوجود میں اس سے دو گریڈ سینئر اور اسکا لائن مینجر ہوں۔۔۔۔ احمد کو کیسا لگتا ہوگا؟

    ارے یہ کیا، میرے دوست نے اپنی بیگم کو اس سال شادی کی سالگرہ پر سونے کا سیٹ دیا جبکہ میں تو دوسرے خرچوں کے سبب اس سال بیگم کو کچھ نہ دے سکا۔۔۔۔۔ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟

    تصویر کا دوسرا رخ: سالوں کوشش اور انتھک محنت کرنے کے بعد دوست کو اس سال اچھی جاب آفر ہوئی اور وہ کم تنخواہ سے زہادہ تنخواہ والی نوکری سوئچ کرسکا۔ اسی سبب اتنے سالوں میں پہلی دفعہ اس نے اپنی بیگم کو اتنا مہنگا تحفہ دیا جبکہ میری جاب تو ہمیشہ اچھی رہی اور شادی کے ہر سال ہی میں کچھ نہ کچھ مہنگا تحفہ بیگم کو دیتا رہتا ہوں۔۔۔۔ جب میں تحفہ دیتا ہونگا اور میرا دوست نہ دے سکتا ہوگا تو اسکو کیسا لگتا ہوگا؟؟؟

    پس خود کا دوسروں سے موازنہ کرنا چھوڑ دیجئے۔ دوسرے کے پاس کیا ہے اور وہ وہاں کن مشکلات سے پہنچا ہے، آپکو اسکا ادراک کبھی نہیں ہوسکتا۔ آپ جس جگہ موجود ہیں، وہ آپ کے لیے اللہ کی طرف سے ودیعت بہترین جگہ ہے۔ جو احسان مالک نے آپ پر کر رکھا ہے، دوسرے اسے رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پس جو ہے جیسا ہے اس پر خوش و مطمئن رہنا سیکھیے۔ جو نہیں ہے، اس کی کڑ کڑ میں لگے رہے تو زندگی جہنم بن جائے گی۔ یہ مت دیکھیے کہ آپ کے پاس کیا نہیں ہے؟ بلکہ یہ دیکھیے کہ آپ کے پاس وہ کیا کیا ہے جس سے دوسرے محروم ہیں جبکہ عقل و جسم، پڑھائی و ٹیلنٹ میں وہ آپ سے کسی طور کم نہیں۔

  • مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس پر بچوں کا بھی حق ہے!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس پر بچوں کا بھی حق ہے!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    عشاء کی نماز میں جیسے ہی امام صاحب نے سلام پھیرا، ایک بزرگ میرے ساتھ بیٹھے شخص کے ساتھ شروع ہو گئے کہ چھوٹے بچے کو مسجد میں کیوں لائے ہیں۔ نابالغ بچوں کو مسجد میں نہ لایا کریں۔ وہ شخص تو خاموش رہا لیکن میں نے اس بزرگ سے کہا کہ بقیہ نماز کے بعد اس کا جواب آپ کو میں دیتا ہوں، ابھی آپ خاموش ہو جائیں پلیز۔

    باقی نماز مکمل کرنے کے بعد میں ادھر ہی بیٹھ گیا۔ اس بزرگ نے نماز مکمل کی تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کتنے بیٹے ہیں؟
    انھوں نے جواب دیا ماشاءاللہ تین ہیں اور ادھر ہی سب کے گھر ساتھ ساتھ ہی ہیں۔

    میں نے پھر پوچھا کہ پوتے کتنے ہیں؟

    کہنے لگے، ماشاءاللہ تینوں بیٹے صاحبِ اولاد ہیں۔ تینوں سے پانچ پوتے ہیں۔

    میں نے پوچھا کہ ابھی عشاء کی نماز پر آپ کے بیٹوں اور پوتوں میں سے کوئی آیا تھا؟

    انھوں نے نفی میں سر ہلا دیا۔

    میں نے انھیں کہا کہ بزرگو! اگر بچپن سے ہی بچوں کو مسجد میں ساتھ لانے کی عادت ڈالی ہوتی تو ابھی آپ کے بیٹوں اور پوتوں میں سے بھی یہاں مسجد میں موجود ہوتے۔ جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں تو وہ مسجد آنے کی ضد کرتے ہیں تب ہم انھیں منع کر دیتے ہیں، وہ روتے ہیں، ضد کرتے ہیں لیکن انھیں روتا چھوڑ کر آجاتے ہیں۔ بعد میں بڑے ہو جاتے تو آپ کہتے ہیں تو وہ نہیں آتے۔ بچپن سے ہی عادت بنانی پڑتی ہے۔

    بات تھوڑی سی انھیں سمجھ آئی ، مگر کہنے لگے کہ ٹھیک ہے لیکن نابالغ بچوں کو نہیں لانا چاہیے، وہ دوسروں کی نماز خراب کرتے ہیں۔
    میں نے کہا کہ بزرگو!بچوں کو سات سال میں ہی نماز پڑھانے کا حکم ہے اور دس سال تک نہ پڑھیں تو سختی کا حکم ہے۔ اب سات سال کا کونسا بچہ بالغ ہو جاتا ہے؟

    کیا آپ نے احادیث شریف میں پڑھا ہے کہ سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک پر چڑھ جاتے تھے اور انھیں سجدہ بھی لمبا کرنا پڑ جاتا تھا۔ پھر خطبہ جمعہ کے دوران بھی جب یہ دونوں آتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اٹھا کر پاس ممبر پر بٹھا لیتے تھے۔ اور بھی کئی بچوں کا ذکر ملتا ہے۔ تو کیا یہ بچے چھوٹے نہیں تھے؟

    اور نماز کیسے خراب ہوتی؟بچوں کے شور سے؟ تو باہر گلی سے شور نہیں آ رہا کیا؟

    آگے گزرنے سے؟ تو آگے سے بچے گزر جائیں، انھیں کوئی گناہ نہیں کیونکہ وہ چھوٹے ہیں۔

    کوئی بھی بچہ چند دن بھی مسجد آجائے تو اسے سارے ادب و آداب کو پتہ چل جاتا ہے۔

    پھر میں نے پچھلی صف کی طرف اشارہ کیا کہ وہ دو بچے بیٹھے ہیں، دونوں میرے بیٹے ہیں۔ ایک دس سال کا اور دوسرا چار سال کا۔ بڑا خود شوق سے آیا ہے کہ اسے پتہ ہے اب اس پر نماز فرض ہے اور چھوٹا خود ضد کر کے آیا ہے۔ میں نے کہا بھی تھا کہ ابھی بہت سردی ہے، آج نہ آؤ لیکن اس نے جرسی کوٹ پہنا، بوٹ پہنے اور آگیا۔ ابھی دیکھیں سکون سے بیٹھے ہیں۔ دونوں کو مسجد کے آداب کا پتہ ہے۔
    میرے والد صاحب مجھے چھوٹے ہوتے سے ہی مسجد ساتھ لے کر جاتے تھے۔ اس کے بعد اللہ کے کرم سے ایسی عادت بنی کہ کسی وجہ سے جماعت رہ جائے تو بے چینی لگی رہتی ہے ۔

    فرانس میں دیکھا کہ وہاں بسنے والے عربوں اور ترکوں میں نماز کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ اس کی باقی کے ساتھ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو چھوٹے وقت سے ہی مسجد میں ساتھ لاتے ہیں۔ جبکہ یہاں برصغیر پاک و ہند میں کوئی بچہ مسجد آجائے تو اسے ڈانٹا جاتا ہے، کئی مساجد میں شور کرنے یا شرارتیں کرنے پر مارا جاتا ہے ، اور یوں اسے شروع سے ہی مساجد سے متنفر کر دیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے وہ مسجد جو جمعہ کی نماز پر بھری ہوتی ہے، اسی میں باقی نماز کے اوقات میں پانچ دس فیصد سے زیادہ نمازی نہیں ہوتے۔

    مسجد اللہ کا گھر ہے۔ اس پر بچوں کا بھی اتنا حق ہے جتنا بڑوں کا۔ جو بچے آئیں انھیں پیار دیں اور پیار سے سمجھائیں۔ جو بچوں کا ساتھ لائے اسے ایسے نہ گھوریں کہ جیسے اس نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔ وہ پیار سے سمجھاتا ہے بچوں کا، اسے سمجھانے دیں۔

    میں نے ادب سے انھیں سلام کیا اور آگیا۔

    اگلے دن اس بزرگ کے ساتھ اس کے دو پوتوں کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔

  • ڈالر کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ — عمیر فاروق

    ڈالر کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ — عمیر فاروق

    ہمارے لوگ عام طور پہ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ امریکہ نے اپنی کرنسی کا نام ڈالر رکھا تو امریکہ کی مقبولیت اور طاقت کی وجہ سے یہ نام پھیلا۔

    جبکہ حقیقت اس کے الٹ ہے۔ ڈالر نام کی کرنسی کا امریکہ سے کوئی تعلق نہ تھا اور یہ امریکہ کی دریافت سے قبل ہی مقبول عالمی کرنسی بن چکی تھی۔

    اس کا آغاز قرون وسطی کے اواخر میں یورپ میں موجود ہولی رومن ایمپائر کی ریاست بوہیمیا سے ہوا تھا۔ اس وقت سونے چاندی تانبے کے سکے ہوا کرتے تھے اور انکی قیمت انکے وزن کے حساب سے ہوتی تھی۔ اس دور میں بوہیمیا کی ریاست نے چاندی کا یہ سکہ جاری کیا جس کا نام ٹالر Thaler تھا جو بگڑ کر ڈچ اور انگلش میں ڈالر ہوا اور فرنچ سپینش اٹالین میں دالر( جو اصل مخرج کے قریب ترین تھا)؟

    اس سکے کی کامیابی کی وجہ اس کا وزن اور قیمت تھی جس کی وجہ سے یہ بین الیورپی تجارت کا کامیاب ترین سکہ بن گیا۔ ڈالر بطور سکہ کامیاب کیوں ہوا ؟ اس کی وجہ شائد یہ تھی کہ تب بڑی ریاستوں ، سپین، انگلستان فرانس اور سویڈن کے سکے بڑے تو تھے لیکن ریاستی کنٹرول تھا اور ان ریاستوں کی زیادہ تجارت ملک کے اندر ہی ہوتی تھی جبکہ ہولی رومن ایمپائر ایک ڈھیلا ڈھالا نیم وفاق تھا جس میں بے شمار ریاستیں اندرونی طور پہ آزاد تھیں اٹلی کا بھی یہی معاملہ تھا بے شمار ریاستوں میں بٹا ہوا تھا اور آج کا ہالینڈ تب لو لینڈز یا فلانڈرز تھا ان ریاستوں بشمول لکسمبرگ کی زیادہ تجارت ریاست سے باہر بین ال یورپی تھی تو یہ سکہ ان سب میں بہت کامیاب ہوا۔

    دریں اثنا امریکہ دریافت ہوا تو امریکہ کی یورپ سے تجارت بہت بڑھ گئی اور یہ تجارت بھی ڈالر میں ہونا شروع ہوگئی تو امریکہ کی سپینش کالونیز کے گورنرز نے بھی سپینش پسیتہ کی بجائے ڈالر کے سائز کا سکہ ڈھالنا شروع کیا جو سپینش ڈالر کہلایا۔ تب ارجنٹائن میں چاندی کی پیداوار اتنی زیادہ تھی کہ ملک کا نام ہی ارجنٹینا رکھ دیا گیا جس کا مطلب چاندی تھا۔ یوں چاندی کا ڈالر عالمی کرنسی بن گیا اور امریکہ کی برطانوی نوآبادیوں نے بھی برٹش پاؤنڈ کی بجائے ڈالر کی کرنسی اختیار کی کیونکہ تجارت اسی کرنسی میں ہو رہی تھی۔

    تب ہر ملک کا ڈالر اگرچہ الگ تھا لیکن وزن ایک ہی تھا۔

    یہ اٹھارویں صدی تھی اگرچہ سپین اور برطانیہ کی سلطنت بہت پھیل چکی تھی لیکن دنیا بھر میں پھیلی انکی نوآبادیات برطانوی پاؤنڈ یا سپینش پسیتہ کی بجائے ڈالر کو ہی بطور کرنسی اختیار کرنے پہ مجبور تھیں کیونکہ یہی عالمی تجارت کی کرنسی تھی دریں اثنا یورپ میں ہولی رومن ایمپائر دم توڑ گئی اور اس کی جگہ آسٹرو ہنگیرین ایمپائر نے لی جس کی کرنسی فلورین تھی۔ یوں ڈالر کا اس کی جنم بھومی میں تو خاتمہ ہوگیا لیکن یہ دنیا بھر میں پھیلی مختلف نوآبادیوں کی کرنسی تھی جس میں آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ، ہانگ کانگ ، سنگاپور کے علاوہ افریقہ اور امریکہ کی نوآبادیات شامل تھین۔

    ۱۷۷۴ میں برطانیہ سے آزادی کے بعد امریکہ نے بھی ڈالر کو اپنی قومی کرنسی بنایا۔

    اس طرح دنیا انیسویں صدی میں داخل ہوئی جس میں عالمی تجارت میں اہم تبدیلیاں ہوئیں۔ اور دنیا کا محور برطانیہ بنتا چلا گیا۔ نپولین کی شکست کے بعد برطانیہ کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ رہی وہ پورے انڈیا کا مالک بنا بلکہ ایشیا و افریقہ میں اس کی نوآبادیات کا جال بچھ چکا تھا اب عالمی تجارت کا مرکز لندن بن گیا۔

    دوسرے برطانیہ میں صنعتی انقلاب آیا تو برطانیہ ہی سارئ دنیا کی ورکشاپ بن گیا ساری دنیا برطانیہ سے تجارت پہ مجبور تھی۔ تب برطانوی پاؤنڈ سٹرلنگ عالمی تجارت کا سکہ بن گیا۔ ڈالر کو مزید دھچکا تب لگا جب بینک آف انگلینڈ نے دھاتی سکہ کی بجائے بینک نوٹ شائع کرنا شروع کردیا تو یہ تجارت کا آسان طریقہ تھا۔ یوں ڈالر کی بجائے پاؤنڈ کو اہمیت ملنا شروع ہوگئی۔ اسی دوران جب پیپر کرنسی ہر جگہ رائج ہوئی تو ہر ملک کے ڈالر کی قیمت الگ الگ ہوتی گئی۔ اس طرح ڈالر کی قیمتیں بھی مختلف ہوتی گئیں اور عالمی تجارت کی ترجیحی کرنسی بھی نہ رہا۔

    ڈالر کو دوبارہ عروج دوسری جنگ عظیم کے بعد ملا جب برطانوی ایمپائر بھی ختم ہوگئی اور سونے چاندی کا ذخیرہ بھی لندن سے نیویارک منتقل ہوگیا تو بریٹن وڈ معائدہ کے بعد پاؤنڈ سٹرلنگ کی بجائے امریکی ڈالر پھر سے عالمی تجارت کی کرنسی بن گیا جو اب تک ہے۔

  • اس ساری پریکٹس کو کون بدلے گا؟ — خطیب احمد

    اس ساری پریکٹس کو کون بدلے گا؟ — خطیب احمد

    زیادہ عمر کے لڑکے شادی کے لیے خود سے کم عمر لڑکی کی تلاش میں ہوتے۔ اور دوسری طرف زیادہ عمر کی لڑکیاں کم عمر لڑکوں کے رشتے خود ٹھکرا دیتی ہیں کہ انہیں لگتا خاوند عمر میں بڑا ہی ہونا چاہیے۔

    اور اسی چیز کا رواج بھی ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کئی جگہوں پر دیکھا لڑکے والے ترلے کر رہے ہوتے مگر لڑکی اسی بات پر اڑ جاتی کہ عمر میں چھوٹے لڑکے سے شادی کسی صورت نہیں کروں گی۔

    دونوں پارٹیاں عمر کو میچ کرنے میں کئی قیمتی سال گنوا لیتی ہیں۔ جبکہ عمر میں چار پانچ سال کی اونچ نیچ دونوں طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہاں دونوں پارٹیاں میچور ہوں۔

    اسی طرح ایک ڈس ابیلٹی اپنی ہی ڈس ابیلٹی کو شادی کے لیے سوٹ ایبل گردانتی ہیں۔ جیسے ڈیف کی شادی ڈیف سے بلائنڈ کی شادی بلائنڈ سے اور وہیل چیئر یوزر کی دوسرے وہیل چیئر یوزر سے پولیو افیکٹڈ کے لیے پولیو افیکٹڈ یا کلب فٹ رشتہ تلاش کیا جاتا۔ اسی طرح بونوں کی شادیاں بونوں میں ہی ہوتی ہیں اور یہ پریکٹس بھی بدلنے کا نام تک نہیں لے رہی۔ کہ جو جیسے ہو رہا ہے ہم اسکو اسی روٹین میں کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ اور ایک دائرے کے باہر کچھ بھی دیکھنے یا سوچنے کی صلاحیت جیسے کھو چکے ہیں۔

    ایک طلاق شدہ لڑکی ہو یا لڑکا دونوں کے لیے سیکنڈ آپشن طلاق شدہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ لڑکوں کو تو کنواری لڑکیاں اکثر مل جاتی ہیں۔ مگر کسی طلاق شدہ یا بیوہ لڑکی کو کنوارہ لڑکا ملنا مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ میں نے کئی طلاق شدہ لڑکیوں کو کنوارے لڑکے کی بیوی بنتے دیکھا ہے بس انہوں نے اس معاملے کو زرا سمارٹلی ہینڈل کیا ہوتا۔

    جو ہوتا آرہا ہے ہم بھی ویسا ہی کریں گے۔ ایسا ضروری نہیں ہوتا۔ سب سے پہلا کام جو کرنا ہوتا وہ خود کو ویلیو دینا ہوتی ہے۔ اور پھر آپکو ویلیو دینے والے بھی مل جاتے ہیں۔

    خود کو ویلیو یا اپنی کئیر بس شادی تک ہی نہیں کرنی ہوتی؟ بلکہ شادی کے بیس سال بعد تک تو ہر صورت کرنی ہوتی ہے۔ اور میرا مخاطب لڑکے ہیں۔ آپ جو شادی کے بعد پیٹ بلٹ سے باہر لٹکا کا جھارا پہلوان بن جاتے یہ کیا ہے؟ وزن بڑھنا تو ایک پہلو ہے ہم لڑکے کئی پہلوؤں سے اپنی کئیر کرنا اور آگے بڑھنا شادی کے بعد ختم کر دیتے ہیں۔ دوستیاں ختم ہو جاتیں ٹوور ختم ہو جاتے کئیریر وہیں کا وہیں جام ہو جاتا اور وہی ہوتا جو ہمارے ابا جی کے ساتھ ہوا تھا۔ اس ساری پریکٹس کو کون بدلے گا؟