Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • "بسنت خونی کھیل ” تحریر: عائشہ اسحاق

    "بسنت خونی کھیل ” تحریر: عائشہ اسحاق

    حکومت پنجاب کی طرف سے پتنگ بازی پر عائد پابندی ہٹا کر بسنت منانے کا اعلان نہایت نا معقول فیصلہ ہے۔ بسنت کا اسلامی تہواروں سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا اربوں روپے بسنت جیسے تہوار پر خرچ کرنے کا اعلان نہایت غلط ھے۔ اس کے علاوہ یہ بات کیسے فراموش کی جا سکتی ہے کہ پتنگ بازی جیسا قاتل شوق بہت سے خاندانوں کے چراغ گل کر چکا ہے۔ اتنی جلدی خون میں نہائے بچے اور افراد کو فراموش کر دیا گیا۔ فضول شرائط کے ساتھ ایسے قاتل کھیل کی اجازت دینا سراسر عوام دشمنی ہے۔ کیا آپ اس حقیقت سے نا واقف ہیں کہ پاکستان میں بااثرلوگ کس طرح سے قانون اور قواعدہ شرائط کی خلاف ورزیاں کر کے دندناتے پھرتے ہیں۔

    یہ مت بھولیے کہ ان شرائط کی خلاف ورزی پر جوتے اور جرمانے بھی صرف مڈل کلاس بے وقوف پتنگ باز ؤں کہ حصے میں ہی آئیں گے۔ کیونکہ بااثرلوگ قانون کو اپنے والدین کی میراث سمجھتے ہیں۔جہاں غریب کو روٹی میسر نہیں وہاں ایسے فضول اور خونی شوق پر اربوں روپے لگانا شرمناک ہے ۔افسوس اس بات پر بھی ہے کہ ایسے نامعقول اقدامات میں ہم عوام میں سے کئی پڑھے لکھے لوگ بھی شامل حال دکھائی دیتے ہیں۔

  • منفیّت ترقی کے راستے کی رکاوٹ ،تحریر:پارس کیانی

    منفیّت ترقی کے راستے کی رکاوٹ ،تحریر:پارس کیانی

    انسان کا ذہن، فطرتاً، ایک مقناطیسی نظام کی طرح ہے۔ یہ جس سمت میں سوچتا ہے، توانائی بھی اُسی طرف جذب کرتا ہے۔ مثبت سوچ ذہن کے اندر نئے امکانات کے دروازے کھولتی ہے، جبکہ منفیّت ہر راستے پر اندھیرا بچھا دیتی ہے۔ یہی منفیّت ہے جو ترقی کے سفر کو سست کر دیتی ہے، اور اکثر اوقات انسان کو اپنی ہی ناکامی کا ذمہ دار بنا دیتی ہے۔

    منفیّت دراصل ایک ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان ہر بات کا تاریک پہلو دیکھتا ہے۔ کسی کی کامیابی پر حسد، کسی کی خوشی پر بدگمانی، کسی کی رائے پر اعتراض، یہ سب منفیّت کی شاخیں ہیں۔ ڈاکٹر جوزف مرے کے مطابق، “Negative thinking releases stress hormones that block creative and decision-making parts of the brain.” یعنی منفی سوچ دماغ میں ایسے کیمیائی مادّے پیدا کرتی ہے جو فیصلہ سازی اور تخلیقی عمل کو مفلوج کر دیتے ہیں۔

    سائنس دانوں نے ثابت کیا ہے کہ انسان کے دماغ میں ایک حصہ "Amygdala” کہلاتا ہے، جو خوف اور غصے کے جذبات کو کنٹرول کرتا ہے۔ جب کوئی شخص منفی انداز میں سوچتا ہے تو Amygdala مسلسل متحرک رہتا ہے، جس سے دماغ پر دباؤ بڑھتا ہے، اور انسان بے وجہ بددل، مایوس اور بدگمان ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، مثبت سوچ "Prefrontal Cortex” کو متحرک کرتی ہے، جو منصوبہ بندی، امید اور تخلیق کی صلاحیتوں کو ابھارتی ہے۔ یوں مثبت سوچ دماغ میں روشنی پھیلاتی ہے اور انسان کے عمل میں توانائی پیدا کرتی ہے۔

    لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں منفیّت کو اکثر عقل مندی سمجھ لیا جاتا ہے۔ جو شخص ہر بات پر شک کرے، ہر کام میں نقص نکالے، اسے "حقیقت پسند” کہا جاتا ہے، حالانکہ وہ دراصل زندگی کی خوبصورتی سے کٹ چکا ہوتا ہے۔ اقبال نے کہا تھا:

    "عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے ”

    منفیّت خودی کی دشمن ہے۔ یہ انسان کے اندر سے اعتماد، جرات اور جوش چھین لیتی ہے۔ ایک منفی شخص اپنے لیے خود زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے، کیونکہ وہ ہر کامیابی سے پہلے ناکامی کا تصور کر لیتا ہے۔ وہ دوسروں پر الزام دھر کر خود کو بری سمجھتا ہے، مگر انجام میں تنہائی، مایوسی اور حسرت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
    معاشرتی سطح پر دیکھیں تو منفیّت قوموں کو بھی پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کی کامیابی میں رکاوٹ بننے لگیں، جب ہر نئی سوچ کا مذاق اڑایا جائے، جب ہر اچھے ارادے کو شک کی نظر سے دیکھا جائے تو ترقی رک جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنی فکری توانائی کو حسد، بدگمانی اور نفرت میں ضائع کیا، وہ دنیا کے نقشے پر پیچھے رہ گئیں۔

    منفیّت ایک خاموش زہر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کسی دوسرے کے بارے میں برا سوچ رہے ہیں، لیکن دراصل ہم اپنے اندر زہر گھول رہے ہوتے ہیں۔ روحانی سطح پر بھی یہی حقیقت بیان ہوئی ہے کہ انسان جو توانائی دوسروں کی طرف بھیجتا ہے، وہ کسی نہ کسی صورت میں واپس خود اس کی طرف پلٹتی ہے۔ اس لیے جب ہم نفرت، حسد یا بدگمانی پھیلاتے ہیں تو دراصل اپنی ہی فضا کو آلودہ کر رہے ہوتے ہیں۔منفیّت کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار شکرگزاری اور خوش فہمی ہے۔ جو شخص شکر کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ کبھی اندھیرے میں نہیں رہتا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
    "لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ”
    "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔”
    یعنی مثبت رویّہ نہ صرف روحانی ترقی کا ذریعہ ہے بلکہ عملی کامیابی کا بھی راز ہے۔

    آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ منفیّت ایک ایسا بوجھ ہے جسے کندھوں پر اٹھا کر چلنے والا کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ جو دل میں بدگمانی، حسد یا شک رکھتا ہے، وہ اپنے لیے رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے ذہن کو صاف رکھیں، اپنی سوچ کو روشن بنائیں، اور دوسروں کی کامیابی میں خوشی محسوس کریں تو یقیناً ترقی کا سفر آسان ہو جائے گا۔زندگی کے سفر میں سب سے بڑی جیت یہی ہے کہ ہم منفیّت کو ہرا دیں, کیونکہ منفیّت کو شکست دینا، دراصل خود کو جیتنا ہے۔

  • لا تقولوا راعنا،عمران تنہا کا نعتیہ و منقبتیہ شاعری مجموعہ،تحریر: آمنہ خواجہ

    لا تقولوا راعنا،عمران تنہا کا نعتیہ و منقبتیہ شاعری مجموعہ،تحریر: آمنہ خواجہ

    عصرِ حاضر میں جب شاعری کی دنیا میں موضوعات کی فراوانی کے باوجود روحانی ادب نسبتاً کم ہوتا جا رہا ہے، ایسے میں عمران تنہا کا نعتیہ و منقبتیہ شاعری مجموعہ ایک خوشگوار اور بامعنی اضافہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ مجموعہ محض اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ دل کی زمین پر اگنے والی وہ فصل ہے جو عشقِ رسول ﷺ اور اولیائے کرام و اہلِ بیت اطہار کی عقیدت سے سیراب ہے۔
    عمران تنہا کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی اس کی سچائی اور سادگی ہے۔ ان کے ہاں نہ تصنع ہے، نہ لفظی نمائش، بلکہ ایک دردمند دل کی دھڑکن ہے جو ہر شعر میں سنائی دیتی ہے۔ نعتیہ کلام میں جہاں احترام ادب اور محبت بنیادی شرط ہوتے ہیں، وہاں عمران تنہا اس نازک دائرے کو بڑی مہارت سے نبھاتے نظر آتے ہیں۔ ان کے اشعار میں حضور نبی کریم ﷺ سے والہانہ وابستگی بھی ہے اور عاجزی و انکسار بھی، جو قاری کے دل کو بے اختیار جھکا دیتی ہے۔

    منقبتیہ شاعری میں عمران تنہا نے اہلِ بیت صحابہ کرام اور اولیائے اللہ کی سیرت و کردار کو محض تاریخی حوالوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں موجودہ دور کے انسان سے جوڑ دیا ہے۔ ان کی منقبتیں ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ یہ عظیم ہستیاں صرف ماضی کا روشن باب نہیں بلکہ آج بھی ہمارے فکری اخلاقی اور روحانی رہنما ہیں۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ عقیدت کو جذباتی شور میں بدلنے کے بجائے فہم و شعور کی روشنی میں پیش کرتا ہے۔
    فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو عمران تنہا کی شاعری بحر، وزن اور ردیف و قافیہ کے حسن سے آراستہ ہے۔ ان کی زبان شستہ رواں اور عام فہم ہے، جس کی بدولت یہ کلام خواص کے ساتھ ساتھ عوام کے دلوں تک بھی آسانی سے پہنچتا ہے۔ تشبیہات اور استعارات میں بھی ایک پاکیزگی اور وقار نظر آتا ہے جو نعتیہ و منقبتیہ شاعری کے مزاج کے عین مطابق ہے۔

    اس مجموعے کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ قاری کو صرف پڑھنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ سوچنے، رکنے اور خود احتسابی پر آمادہ کرتا ہے۔ ہر نعت اور ہر منقبت ایک خاموش سوال کی طرح سامنے آتی ہے کہ ہم اپنے قول و فعل میں کس حد تک ان ہستیوں کی تعلیمات کو اپنائے ہوئے ہیں جن سے ہم محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
    اخباری سطح پر اس مجموعے کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ ادب اور عقیدت کے اس حسین امتزاج کی نمائندگی کرتا ہے جس کی ہمارے معاشرے کو آج شدید ضرورت ہے۔ عمران تنہا کا یہ نعتیہ و منقبتیہ مجموعہ نئی نسل کو روحانی شاعری سے جوڑنے کی ایک سنجیدہ اور قابلِ قدر کوشش ہے۔

    بلا شبہ عمران تنہا نے اس مجموعے کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت میں خلوص اور دل میں سچی محبت ہو تو لفظ خود بخود معتبر ہو جاتے ہیں۔ یہ مجموعہ نعت و منقبت کے شائقین کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے اور اردو روحانی شاعری کے سفر میں ایک روشن سنگِ میل کی حیثیت رکھتاہے

  • ایک پھول دو مالی___رقیب سے حبیب تک ،تحریر: ریاض احمد احسان

    ایک پھول دو مالی___رقیب سے حبیب تک ،تحریر: ریاض احمد احسان

    محبت کے لغت نامے میں ایک لفظ "رقیب” ہے جو صدیوں سے غلط فہمی کی گرد میں اٹا پڑا ہے ہم نے اسے دشمن سمجھ لیا، مخالف مان لیا اور بدخواہ قرار دے دیا حالانکہ محبت کے باب میں رقیب دشمن،مخالف یا بدخواہ نہیں ہوتا بلکہ وہ تو محبت کے کمرے میں رکھا وہ آئینہ ہے جس میں حبیب کا چہرہ اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔رقیب وہ نہیں جو بیچ میں آ کر محبت چھین لے،قبضہ جما لے یا کانٹے کی طرح آنکھ میں کھٹکنے لگے-آپ پہلے محبت کے لفظ کو سمجھیں پھر معانی و مفہوم میں اتریں تو آپ پرکُھلے گا کہ محبت کسی ایک دل کی جاگیر نہیں یہ تو وہ روشنی ہے جو ایک سے زیادہ آنکھوں میں بیک وقت اُتر سکتی ہے،ایک سے زیادہ دلوں کا قرار بن سکتی ہے.

    ہم نے محبت کو ملکیت بنا دیا ہے اسی لیے رقیب ہمیں چبھتا بھی ہے اور ڈنک بھی مارتا رہتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ جسے ہم نے چاہ لیا اب اس پر صرف ہمارا حق ہے حالانکہ محبت حق سے زیادہ ذمہ داری ہے، دعویٰ ہی نہیں دعا بھی ہے اگر محبت کو احساس، احترام اور خیرخواہی کا نام دے دیا جائے تو رقیب کا تصور خود بخود تحلیل ہو جاتا ہے۔محبت میں رقیب کا ہونا دراصل محبت کے دلچسب ہونے کی علامت ہے جہاں چاہت نہ ہو وہاں مقابلہ کیسا؟ جہاں دل نہ دھڑکے وہاں حسد کیسا؟ رقیب دراصل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں وہ واقعی چاہے جانے کے لائق ہے،سراہے جانے کے قابل ہے محبت میں فلسفہ ہمیں یہی تو سکھاتا ہے کہ قدر ہمیشہ اشتراک سے جنم لیتی ہے جو چیز صرف ایک آنکھ کو بھائے وہ ذاتی پسند ہو سکتی ہے لیکن جو کئی دلوں کو اپنی طرف کھینچے وہ قدر بن جاتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے ایک خوب صورت نظم اگر صرف ایک ہی شخص کو سمجھ آئے تو وہ ذاتی تجربہ یا ذاتی واردات ہے لیکن وہی نظم اگر کئی دلوں میں اتر جائے تو وہ ادب بن جاتی ہے۔حبیب اگر بیک وقت کئی دلوں میں جگہ بنا لے تو یہ اس کی غلطی نہیں بلکہ حسن ہے اور رقیب؟ وہ تو اسی حسن کا قاری ہے، اسی نظم کا دوسرا سامع ہے،قدردان ہے.

    رقیب ہونا دراصل ہم خیالی کا دوسرا نام ہے دو دل اگر ایک ہی دل سے قرار پائیں تو اس میں دشمنی کہاں سے آ گئی؟ یہ تو ہم ذوق ہونا ہے،ہم آہنگی ہے یہ تو احساس کی یکسانیت ہے۔ رقیب وہ شخص ہے جو آپ ہی کی طرح کسی چہرے میں زندگی تلاش کر رہا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ آپ اسے حبیب کہتے ہیں اور وہ بھی—بس راستے جدا ہیں، نیت نہیں،محبت کی سب سے حسین صفت برداشت ہے وہ محبت جو فوراً غیرت کی تلوار اٹھا لے وہ محبت تو نہیں ہوسکتی محبت کے باب میں سچا عاشق وہ ہے جو یہ جانتا ہو کہ اگر اس کا محبوب واقعی قیمتی ہے تو اس کی قدر صرف اسے ہی کیوں محسوس ہو؟

    محبت میں حبیب وہ نہیں ہوتا جو مل جائے،میسر آجائے یا دسترس میں ہی رہے بلکہ حبیب وہ ہوتا ہے جو دل کا حال بہتر بنا دے جو آپ کو ظرف سکھا دے، برداشت سکھا دے،ایثار کرنے کا جذبہ آپکے اندر پیدا کردے اور یہ شعور دے کہ چاہنا قربانی کا نام ہے قبضے کا نہیں کئی بار زندگی میں ایسا ہوتا ہے کہ محبوب کسی اور کے حصے میں چلا جاتا ہے لیکن اس کے جانے کے بعد جو ٹھہراؤ، جو دانائی، جو وسعت آپ کے قلب و نگاہ میں آتی ہے وہی تو اصل ثمر ہوتا ہے یوں کوئی ایک انسان نہیں بلکہ ایک تجربہ حبیب بن جاتا ہے،ہم نے کہانیوں میں،واقعات میں اور ادب میں ہمیشہ رقیب کو ولن بنا کر پیش کیا دراصل رقیب محبت کا کمرہ امتحان ہوتا ہےرقیب کے احسانات میں ایک احسان یہ بھی ہے کہ رقیب ہمیں یہ غور و فکر کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے کہ ہماری چاہت انا پر کھڑی ہے یا خلوص پر اگر انا ہو تو حسد جنم لیتا ہے اگر خلوص ہو تو وجود دعا میں ڈھل جاتا ہے بھلا جو شخص آپ کے محبوب کی خوشی چاہے، وہ آپکا دشمن کیسے ہو سکتا ہے،اسورج ایک ہے لیکن اس کی روشنی ہزاروں کھڑکیوں سے اندر آتی ہے کیا ایک کھڑکی دوسری کی دشمن ہے؟ نہیں، سب روشنی کے استقبال میں برابر رہا سرشار ہوتی ہیں محبوب اگر سورج ہے تو چاہنے والی کھڑکیاں ہیں۔ رقیب کوئی اور نہیں بس ایک اور کھڑکی ہے روشنی اس کی بھی وہی ہے اور آپ کی بھی.

    محبت کا اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ آپ حبیب کو آزاد چھوڑ دیں۔اس کی مسکراہٹ پر پہرا نہ بٹھائیں،اس کے انتخاب کو قید نہ کریں۔محبت اگر سمندر ہے تو رقیب ایک دریا ہے جو اسی میں آن ملتا ہے سمندر چھوٹا نہیں ہوتا،آپ دریا گناہ گار نہ ٹھہرائیں
    جس لمحے آپ یہ سوچنے لگیں کہ
    “اگر وہ میرا نہ ہوا تو کسی اور کا بھی نہ ہو”
    اسی لمحے محبت کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ آپ بس اتنا سمجھ لیں کہ محبت زندگی بانٹتی ہے، موت نہیں اگر آپ واقعی کسی کو چاہتے ہیں تو یہ بھی قبول کریں کہ شاید اس کی خوشی کسی اور راستے پر لکھی ہو یہی محبت میں ایثار ہے
    رقیب کو دشمن سمجھنے والے دراصل محبت کو کم سمجھتے ہیں۔محبت اتنی ناتواں نہیں کہ ایک تیسرے کی آمد سے بکھر جائے اگر بکھر جائے تو مان لیجیے وہ محبت نہیں تھی وہ تو فقط عادتوں کی ورزش تھی یا خود پسندی کی ایک مصنوعی شکل و صورت محبت تو وہ ہے جو رقیب کے وجود میں بھی اپنی شرافت برقرار رکھے،اپنی زبان میں تلخی نہ آنے دے اور اپنے رویّے میں وقار قائم رکھے

    یہ سب لفظوں کی قلعی نہیں نہ کسی منطق کا کرتب ہے یہ میری زندگی کی کمائی ہے، میرے زخموں کی روشنائی ہے، میرے ٹوٹنے سے جنم لینے والی دانائی ہے میں نے رقیب کو کتابوں میں نہیں اپنے دل کے آئینے میں پڑھا ہے۔میں نے اپنے نصیب کے رقیب کو پہچانا اور تسلیم کیا،اُس کے روبرو میری انا ہمیشہ خاموش رہی اور خیر خواہی بولتی چلی گئی.

    دوستو!میرا رقیب میرا حبیب ہے،میرا طبیب ہے، میرا معلّم ہے، میرا مُصلِح ہے، میرا مربّی ہے، میرا ہم ذوق ہے، میرا مرشد ہے، میرا مونس ہے، میرا محرم ہے، میرا معتبر ہے، میرا منصف ہے، میرا مفسّر ہے، میرا محافظِ وقار ہے، میرا مظہرِ برداشت ہے، میری میزانِ محبت ہے،میرا رقیب میرے مقام و مرتبے کو گھٹاتا نہیں، بڑھاتا ہے وہ میری محبت کو کمزور نہیں کامل بناتا ہے .میرا رقیب کل بھی میرا حبیب تھا،آج بھی میرا حبیب ہے اور آئندہ بھی میرا حبیب ہی رہے گا کہ ہم دونوں ایک ہی پھول کے دو مالی ہیں

    ہماری باہمی محبت کا یہ عالم ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے حق میں ہزاروں بار دستبردار ہو سکتے ہیں
    وہ شہرِ خموشاں میں جا بسا اور میں اُس کی نشانیوں کو گلے سے لگائے محبت کے مزار سے کیا عہد نبھا رہا ہوں

  • باغی ٹی وی،مبشر لقمان اور سچ کی قیمت،تحریر:رقیہ غزل

    باغی ٹی وی،مبشر لقمان اور سچ کی قیمت،تحریر:رقیہ غزل

    جناب مبشر لقمان پاکستانی صحافت کا وہ چہرہ ہیں جنہوں نے ہمیشہ سچائی کو اپنا شعار بنایا اور ہر حال میں حق کا ساتھ دیا۔ ان کی سب سے بڑی پہچان ان کی بے باکی ہے اور ان کا ادارہ "باغی ٹی وی” (Baaghi TV) اسی سوچ کا عملی نمونہ ہے۔ وہ حقائق کو بغیر کسی لچک کے عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ اسی کڑوی سچائی کی وجہ سے ایک طبقہ انہیں ناپسند بھی کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوگ ان کی اسی حق گوئی کی وجہ سے ان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ وہ سچ بولتے ہیں اور اسی سچ کی خاطر انہیں کئی بار بڑے نقصانات بھی اٹھانے پڑے مگر انہوں نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

    ​باغی ٹی وی کے ساتھ میرا تعلق اور واسطہ خالصتاً ممتاز اعوان صاحب کی مرہونِ منت ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ ممتاز اعوان صاحب اس ادارے کی ترقی کے لیے کس قدر محنت اور لگن سے کام کر رہے ہیں۔ مبشر لقمان صاحب کی جرات اور باغی ٹی وی کا منفرد انداز ہی وہ بنیادی وجہ تھی جس نے مجھے اس چینل کی طرف راغب کیا اور ممتاز اعوان صاحب نے اس تعلق کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔

    ​آج باغی ٹی وی کو 14 سال مکمل ہونے پر میں مبشر لقمان صاحب، ممتاز اعوان صاحب اور پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ میری دعا ہے کہ حق اور سچ کا یہ سفر اسی طرح کامیابی سے جاری رہے۔
    ​میں مبشر لقمان صاحب اور ممتاز اعوان صاحب کی تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے میری صحافتی خدمات کو سراہا ۔۔میرے لیے یہ محض کوئی معمولی سند نہیں بلکہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو مجھے مبشر لقمان صاحب جیسے نڈر انسان اور باغی ٹی وی جیسے معتبر ادارے کی طرف سے ملا ہے۔ میں ممتاز اعوان صاحب کا بھی خاص طور پر شکریہ ادا کرتی ہوں جن کی وجہ سے مجھے اس وقار اور سچ کا ساتھ دینے والی ٹیم کا حصہ بننے کا موقع ملا۔

  • باغی ٹی وی،امید کی کرن،تحریر:حافظ حمزہ سلمانی

    باغی ٹی وی،امید کی کرن،تحریر:حافظ حمزہ سلمانی

    12 جنوری وہ دن ہے جب پاکستانی میڈیا کے افق پر ایک ایسے چینل نے آنکھ کھولی، جس نے صحافت کو کاروبار نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا۔ باغی ٹی وی آج اپنی صحافتی جدوجہد کے 14 برس مکمل کر رہا ہے، اور یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ سچ، حوصلے اور استقامت کی ایک طویل داستان ہے۔

    ایسے دور میں جب صحافت اکثر مفادات، اشتہارات اور دباؤ کے آگے جھکتی نظر آتی ہے، باغی ٹی وی نے ابتدا ہی سے ایک باغیانہ مگر اصولی راستہ اختیار کیا۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جس نے سوال اٹھانے کی جرأت کی، طاقتور حلقوں کے سامنے سچ رکھا، اور عوام کی آواز بننے کا حق ادا کیا۔سینئر صحافی اور نڈر اینکر پرسن مبشر لقمان کی قیادت میں باغی ٹی وی نے خبر کو سنسنی نہیں بلکہ سچائی کے آئینے میں پیش کیا۔ ان کی صحافتی بصیرت اور بے لاگ انداز نے باغی ٹی وی کو محض ایک چینل نہیں بلکہ ایک فکری مزاحمت بنا دیا۔اسی طرح ممتاز اعوان جیسے باصلاحیت اور ذمہ دار ایڈیٹر کی موجودگی نے ادارتی سطح پر باغی ٹی وی کو مضبوط، متوازن اور باوقار رکھا۔

    باغی ٹی وی کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں خبر طاقت کے کہنے پر نہیں، ضمیر کے مطابق چلتی ہے۔ یہاں اختلافِ رائے کو دبایا نہیں جاتا بلکہ اسے جگہ دی جاتی ہے۔ یہاں صحافی کو ڈرایا نہیں جاتا بلکہ سچ بولنے کا حوصلہ دیا جاتا ہے۔یہ چینل اُن بے شمار نوجوان صحافیوں کے لیے امید کی کرن ہے جو اب بھی صحافت کو عبادت سمجھتے ہیں، نہ کہ سیڑھی۔ باغی ٹی وی نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی بڑی بات کہی جا سکتی ہے۔

    14 برس مکمل ہونے پر باغی ٹی وی کی پوری ٹیم، قیادت، کارکنان اور ناظرین کو مبارکباد۔ دعا ہے کہ یہ پلیٹ فارم اسی طرح سچ بولتا رہے، سوال اٹھاتا رہے اور ہر دور کے فرعونوں کے سامنے کلمۂ حق کہتا رہے۔
    باغی ٹی وی زندہ رہے — کیونکہ سچ کو زندہ رہنا چاہیے۔

  • باغی ٹی وی کی 14 برس کی بہترین صحافتی خدمات،تحریر:رفعت شوکت کھرل

    باغی ٹی وی کی 14 برس کی بہترین صحافتی خدمات،تحریر:رفعت شوکت کھرل

    باغی ٹی وی کو صحافتی و سماجی کردار ادا کرنے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔باغی ٹی وی کو صحافتی خدمات سر انجام دیتے ہوئے 14 برس ہو گئے ہیں۔ اس چینل کو فروغ دینے میں اہم شخصیات محترم مبشر لقمان صاحب اور ممتاز اعوان ایڈیٹر صاحب ہیں۔
    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان جو کہ باغی ٹی وی کے سی۔ای۔او ہیں، انہوں نے ذہنی و فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے میں اہم خدمات سر انجام دی ہیں۔ انہوں نے معاشرے میں ہونے والے حالات و واقعات کو اپنے قلم و فکری سوچ کے زریعے قلمبند کیا ہے۔ معاشرے میں انقلاب برپا کرنے کے لیے ذہنی مہارتوں کو نہایت خوش اسلوبی سے استعمال کیا ہے اور لکھاریوں کے لیے متحرک ثابت رہے ہیں۔ دوسری اہم شخصیت محترم ممتاز اعوان صاحب جو کہ اس چینل کے ایڈیٹر ہیں، وہ اس چینل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کے طور پر مصروف رہے ہیں۔ وہ قدم بہ قدم عقلی و شعوری صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے تمام لکھاریوں کے لیے آسانی کا باعث بنے ہیں۔ ان کی ادبی و علمی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ باغی ٹی وی چینل ایک کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔

    میں باغی ٹی وی کی پوری تنظیم کو ادبی و ثقافتی اور مثبت خدمات سر انجام دینے پر مبارک باد پیش کرتی ہوں۔
    دعا ہے کہ یہ تنظیم یوں ہی کامیابی کی راہ پر گامزن رہے۔

  • باغی ٹی وی اور آزادیِ صحافت،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    باغی ٹی وی اور آزادیِ صحافت،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    صحافت آزادیِ رائے کا نام ہے۔ ایک صحافی اپنے قلم کے ذریعے اپنے باضمیر ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ اور ایک باضمیر صحافی کو ایک آزاد پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اس کی صدائے حق کو بلند کرنے میں معاون ثابت ہو سکے ۔ باغی ٹی وی عرصہ 14 سال سے یہ فریضہ بدرجہ ء اتم پورا کر رہا ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں ، ہوائیں کسی سمت بھی محو ء پرواز ہوں۔ باغی ٹی وی نے اپنی آزادی پہ حرف نہیں آنے دیا۔ بلکہ صحافت کو ایک نئی جہت دی ۔ اسی پلیٹ فارم سے کئی معروف قلم کار نکلے ۔ سوچ کے نئے زاویے پروان چڑھے، اور عوام تک سچائی کو پہنچایا گیا۔ آج کے دور میں جب میڈیا بہت آگے جا چکا ہے۔ کئی پلیٹ فارمز بن چکے ہیں۔ مگر باغی ٹی وی نے اپنے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے سچائی اور آزادیِ رائے میں باہمی توازن کو ہمیشہ فروغ دیا ہے۔ اس پلیٹ فارم نے ناصرف ملکی سطح بلکہ عالمی حالات پہ بھی کالمز اور معلومات کی فراہمی سے صحافت کے دائرے کو وسعت دی ۔

    آج باغی ٹی وی کو اپنی صحافتی خدمات جاری رکھے ہوئے 14 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اس کامیاب سفر پہ باغی ٹی وی کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ دعا ہے۔ کہ رب کریم اسے مزید کامیابیوں سے نوازے۔ اور حق کی آواز بلند ہوتی رہے۔
    آمین

  • سالگِرہ مبارک،باغی ٹی وی،تحریر:  تابندہ طارق عکس

    سالگِرہ مبارک،باغی ٹی وی،تحریر: تابندہ طارق عکس

    باغی ٹی وی کا ایک اور نیا سال،نئی امیدوں کے ساتھ ابھرتی ہوئی لو کی طرح ایک اور سالگِرہ کے ساتھ آگے بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔کچھ ادارے وقت کے ساتھ صرف آگے بڑھتے ہوئے نظر نہیں آتے بلکہ
    وہ وقت کا ضمیر بن جاتے ہیں۔باغی ٹی وی بھی ایک ایسا ہی نام ہے۔یہ صرف ایک میڈیا پلیٹ فارم نہیں ہے،یہ اُس سوال کی طرح ہے جو خاموشی سے انکار کرتا ہے اور شور کے ساتھ اقرار کرتا ہے ایک جوش اور ولولے کا یہ اُس آواز کا نام ہے جو دبائی نہیں جاسکتی نہ ہی مٹائی جاسکتی۔باغی ٹی وی کی سالگِرہ دراصل سچ کے ساتھ ایک اور سال مکمل ہونے کا اعلان ہے۔ایسے وقت میں، جب خبر سے پہلے مفاد بولتا ہو،سچ سے پہلے جھوٹ چیختا ہوا سنائی دیتا ہو،جب سچ کو ریٹنگ اور خاموشی کے درمیان چُننا پڑتا ہو،وہاں باغی ٹی وی نے سچ بولنے کا انتخاب کیا۔یہ پلیٹ فارم ان لوگوں کا حوصلہ ہےجن کی آوازیں کمرۂ اقتدار تک نہیں پہنچ پاتیں۔یہ ان سوالوں کی نمائندگی ہےجو اکثر فائلوں میں دفن کر دی جاتی ہیں۔یہ اس صحافت کی یاد دہانی کرواتی ہےجو طاقت کے سامنے نہیں جھکنے یا ڈرنے والوں میں سے نہیں بلکہ طاقت سے سوال کرتی ہے۔

    باغی ٹی وی نے سب کو بتایا ہےکہ باغی ہونا انتشار نہیں،بلکہ ناانصافی کے سامنے خاموش نہیں رہنا ہے۔یہ اختلاف یا بدتمیزی نہیں،بلکہ شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔ہر سالگِرہ ایک سنگِ میل ہوتی ہے،ایک نیا قدم ایک نئی جدوجہد کے سنگ آگے بڑھنے کا نام ہوتا ہے نہ کے پیچھے مڑ کر دیکھنے کا نام ہے کے آپ نے کن مشکلات،کن مسائل کا سامنا اکیلے کیا تھا۔باغی ٹی وی کے لیے یہ دن اس عہد کی تجدید ہےکہ سچ مشکل ضرور ہو سکتا ہے مگر ترک نہیں کیا جا سکتا۔اس سے منہ نہیں موڑا جا سکتا ہے۔یہ سالگِرہ کا دن صرف ایک باغی ٹی وی کے لیے خاص دن نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ہر اس انسان کے لیے آج سالگِرہ کا دن ہے جس نے باغی ٹی وی کے لیے دن رات محنت کی ہے ان تمام قلمکاروں، رپورٹرز، اینکرزاور پسِ منظر کام کرنے والی ٹیم کو سلام جنہوں نے باغی ٹی وی کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا قیمتی وقت اور خون پسینہ بہایا ہے جس کی وجہ سے آج باغی ٹی کا ایک نام ہے ایک پہچان ہے ایک عزم ہے ایک ہمت ہے ایک کاوش ہے ایک بھروسہ ہے۔ان سب لوگوں کا جنہوں نے دباؤ کے باوجود قلم کو جھکنے نہیں دیا،لفظوں کو مرنے نیا دیا قرطاس کو بنجر ہونے نہیں دیا اور جنہوں نے خبر کو خبر رہنے دیا،تماشا نہیں بننے دیا۔باغی ٹی وی کی سالگِرہ پرہم یہ نہیں کہتے کہ راستہ آسان تھا،ہم یہ کہتے ہیں کہ منزل دور تھی۔اس منزل کو پانے کے لیے مسافت طے نہیں کرنی پڑی۔بے شک مشکل کے بعد آسانی ہے اور آسانی کے بعد اور بھی آسانی ہے۔اللّٰہ پاک سے
    دعا ہے کہ یہ چراغ یوں ہی جلتا رہے،یوں ہی روشنی بانٹتا رہے،اور ہر آنے والا سال سچ کہنے،بولنے اور سننے کی مزید طاقت عطا فرمائے۔ (آمین یارب العالمین)۔

    سالگِرہ مبارک ہو باغی ٹی وی اور اس سے وابستہ تمام لوگوں کو نیک خواہشات ڈھیروں دعائیں آپ کے لیے شاد رہیں آباد رہیں۔

  • صحافتِ صدق کے چودہ سال.تحریر : ثناءسجاد

    صحافتِ صدق کے چودہ سال.تحریر : ثناءسجاد

    ہر عہد اپنے ساتھ کچھ سوالات لاتا ہے اور ہر نسل ان سوالات کے جواب اپنی جدوجہد سے دیتی ہے۔ آج سے چودہ برس قبل، جب ڈیجیٹل افق پر امکانات کی کہکشاں تو روشن تھی مگر سمتیں دھندلی تھیں، صحافت کے مروجہ ڈھانچے کو چیلنج کرنے کے لیے ایک "باغی” آواز نے جنم لیا۔ یہ باغی ٹی وی تھا، جس کا نام فقط ایک شناخت نہیں، بلکہ ایک مکمل منشور تھا ایک ایسا عہد جو طاقت کے مراکز میں گونجنے والے شور کے برعکس، بےآوازوں کی آواز بننے کے لیے باندھا گیا تھا…

    چودہ سال کا عرصہ کسی ادارے کی زندگی میں ایک اہم سنگِ میل ہوتا ہے، لیکن باغی ٹی وی کے لیے یہ محض گنتی کے سال نہیں، بلکہ جبر کے سامنے حرفِ انکار بلند کرنے اور سچائی کو ہر مصلحت پر مقدم رکھنے کی ایک مسلسل داستان ہے.. سینئر صحافی مبشر لقمان کی قیادت میں اس ادارے نے جس راستے کا انتخاب کیا، وہ پھولوں کی سیج نہیں تھی۔ یہ وہ خارزار وادی تھی جہاں ہر قدم پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، دھمکیاں دی جاتی ہیں، اور کردار کشی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن باغی ٹی وی نے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے، ہر دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ اس کا سفر اس نظریے کا عملی ثبوت ہے کہ صحافت محض خبر رسانی کا نام نہیں، بلکہ معاشرتی شعور کو بیدار کرنے اور ظلم کے خلاف فکری مزاحمت کا ایک مقدس فریضہ ہے..

    باغی ٹی وی کا فلسفہ اس یقین پر قائم ہے کہ حقیقی صحافت وہ ہے جو ریاست کے نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہو… اس کا مقصد صرف سیاسی اتار چڑھاؤ کا احاطہ کرنا نہیں، بلکہ ان ثقافتی، سماجی اور اخلاقی اقدار کا دفاع کرنا بھی ہے جو کسی قوم کی شناخت ہوتی ہیں۔ اردو، انگریزی، پشتو جیسی زبانوں میں نشریات کا آغاز صرف ایک کاروباری توسیع نہیں، بلکہ ایک گہری فکری سوچ کا نتیجہ ہے ایک ایسی کوشش جس کا مقصد پاکستان کا مقدمہ عالمی ضمیر کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنا اور دنیا کو یہ بتانا ہے کہ ہم صرف خبروں کا موضوع نہیں، بلکہ ایک زندہ اور توانا تہذیب کے امین ہیں۔

    مبشر لقمان اور ان کی ٹیم نے باغی ٹی وی کوایک تحریک بنا دیا۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں ان موضوعات پر بھی بات ہوئی جنہیں روایتی میڈیا میں ممنوع سمجھا جاتا تھا۔ یہ ادارہ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ جب ارادے نیک اور عزم پختہ ہو تو وسائل کی کمی اور حالات کی سختی راستہ نہیں روک سکتی۔ یہ امید کی وہ کرن ہے جو بتاتی ہے کہ مایوسی کے اندھیروں میں بھی سچ کا چراغ روشن رکھا جا سکتا ہے۔آج، جب باغی ٹی وی اپنی چودھویں سالگرہ منا رہا ہے، تو یہ جشن صرف ایک ادارے کی کامیابی کا نہیں، بلکہ اس نظریے کی فتح کا ہے کہ حرف کی حرمت ہر دور میں قائم رہتی ہے۔ یہ ان تمام گمنام صحافیوں، نمائندوں اور کارکنوں کی محنت کو خراجِ تحسین ہے جو اس قافلے کا حصہ بنے اور مشکلات کے باوجود اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔

    ہماری دعا ہے کہ باغی ٹی وی کا یہ سفر اسی جرأت اور استقامت کے ساتھ جاری رہے۔ یہ ادارہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال بن کر ابھرے اور ثابت کرے کہ جب ایک قوم اپنے نظریات کے ساتھ کھڑی ہو جائے، تو کوئی طوفان اس کے چراغ بجھا نہیں سکتا۔.