Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ہمارا معاشرہ .تحریر:فرح  خان

    ہمارا معاشرہ .تحریر:فرح خان

    ہمارا ملک بہت سے مسائل میں گھرا ہوا ہے جن میں ناقص نظام تعلیم، بیروزگاری اور غربت جیسے مسائل سر فہرست ہیں۔ تعلیم وہ واحد مسئلہ ہے جس کے زریعے ہم معاشرے میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو درست کرسکتے ہیں۔

    اگر ہم نے اپنے معاشرے کو درست سمت میں لانا ہے تو ہمیں نظام تعلیم کو بہتر کرنا ہوگا غربت اور بیروزگاری پر قابو پانا ہوگا کیونکہ غربت اور بیروزگاری ایسے مسائل ہیں جن سے مزید بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔

    بیروزگاری کی وجہ سے بہت سے نوجوان منشیات کی فروخت، چوری اور ڈکیتی جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں جس سے معاشرہ خراب ہوتا ہے۔

    اگر آپ اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لینے کے لیے گھر سے باہر نکلیں تو اندازہ ہوتا ہے ہماری نوجوان نسل کتنے گندے گندے الفاظ اپنی گفتگو میں استعمال کرتی ہے جسے سن کر شرم آتی ہے لیکن وہ لوگ ایسے لفظ کہتے ہوئے زرا بھی نہیں شرماتے جیسے انہوں نے کچھ کہا ہی نہ ہو لیکن جانے انجانے میں وہ لوگ اپنے گناہوں کی گٹھری کو بھاری کر رہے ہوتے ہیں۔

    منشیات کا استعمال نوجوان نسل میں ایک معمول بن گیا ہے چرس اور شراب ہر جگہ فروخت ہورہی ہوتی ہے لیکن اس منشیات مافیا کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی جاتی یہ مافیا ہماری جوانوں کی رگوں میں زہر گھول رہی ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ نشے کے عادی لوگوں کو جب اپنا مطلوبہ نشہ چاہیے ہوتا ہے اور انکے پاس منشیات خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے تو وہ لوگ چوری ڈکیتی کرنے لگتے ہیں یا اپنے گھروں سے سامان چوری کرکے باہر بیچ کر اپنے لیے منشیات خریدتے ہیں۔

    والدین اپنی اولاد کے سب سے بڑے زمہ دار ہیں اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کریں تاکہ وہ معاشرے میں اچھے فرد کی طرح جانے جائیں تاکہ وہ اپنے ساتھ اپنے ملک کا نام روشن کر سکیں کیونکہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں انہیں ضائع نہ ہونے دیں۔

  • دیامر میں خواتین کی تعلیمی پسماندگی کی وجوہات ۔تحریر: روشن دین دیامری

    دیامر میں خواتین کی تعلیمی پسماندگی کی وجوہات ۔تحریر: روشن دین دیامری

    کہتے ہیں اگرایک مرد پڑھا لکھا ہوتو ایک فرد پڑھا لکھا مانا جاتا لیکن جب ایک عورت پڑھی لکھی ہوتو ایک معاشرہ پڑھا لکھا بنا دیتے ہے ۔گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں خواتین کے تعلیم پہ ایک عرصہ تک پابندی لگائی گی تھی جب کوئی سکول بنایا جاتا تو شر پسند عناصر اس کو بارود سے اڑادیتےتھے اکثر بیشتر والدین اپنے بچوں کو تعلیم دینا پسند ہی نہیں کرتے تھے اس کے وجہ یا تو مجبوری تھی حالت سے تنگ اکے یا قبائلی ذہنیت تھی۔ ہمارا ہاں اکثر جن کو پڑھایا جاتا تھا بھی تو ساتویں یا اٹھاوی پاس کرلیتے تو شادی کروادی جاتی تھی۔یہ صورتحال چند علاقوں کے علاوہ اج بھی جاری و ساری ہے۔ دیامر کے شہر چلاس میں تو خواتین کو تعلیمی سہولیات ہیں اس کے علاوہ دیامر کی تقریبا دو تحصیلوں داریل تانگیر اور تحصیل چلاس کے سات نالہ جات میں اج بھی وہی پرانا رواج جاری ہے۔

    خواتین کو تعلیم دینے سے مراد ان کے ہاں بے دینی پھیلانے کی لی جاتی ہے ۔اکثر رشتہ دار جب کسی ایسی گھر ائیں جہاں کوئی بچی سکول جاتی ہوتو انہیں نصیحت کی جاتی ہے اس کو مذید نا پڑھائیں ۔اس کی شادی کی عمر ہوگی شادی کروا دیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ میرے پاس ایسے سیکڑوں واقعات ہیں جن کو لکھنے بیٹھ جاو تو بیسوں کالم لکھے جا سکتے ہیں۔(ایک واقع ابھی کے دو ہزار اکیس کا بتاتا چلو میں گاوں سے اسلام اباد ارہا تھا تو میرے اگلی سیٹ پہ ایک ہمارے جاننے والی اپنے بچی کے ساتھ سفر کر رہے تھے ۔چونکہ ان علاقوں میں خواتین کے تعلیم نہی تو میں نے سلام دعا کے بعد پوچھا پوچھا انکل سس (بہن) بیمار ہے کیا ۔ہمارے لوگ خواتین کو شہروں میں صرف انتہائی بیماری کی صورت میں لے کر اتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا نہی بیٹھا یہ مدرسہ پڑھتی یے۔ اس کو مدرسہ چھوڑنے ایا ہوں خیر ہمارے گاوں سے اسلام اباد کا سفر تقریبا تیرا چودہ گھنٹوں کا ہے تو میرے ان سے باتیں چلتی رہی مجھے جب بھی کوئی ملتا ہے تو میں خواتین کے تعلیم کی ترغیب دیتا ہوں ۔خیر ہم لوگ اسلام انے تک شاہد اس نے مجھے سمجھ گیا ہوگا انہوں نے کہاکسی کو بتانا نہیں یہ کالج میں پڑھتی ہے اس کو پڑھنے کا شوق ہے اس نے مجھ سے واعدہ کیا اگر یہ ایف ایس سی کے بعد ڈاکٹر نہ بن سکی تو اگے پڑھنے کی ضد نہی کرے گی اس کے خواہش کے لے میں نے یہ بہانہ بنایا ہے ۔)

    اس لے میں کوشش کرونگا اس کو مختصر کر کے لکھوں۔ اس ساری صورت حال میں ریاست کا بھی بڑھا رول رہا ریاست نے ان علاقوں کو جان بجھ کے ان پڑھ رکھا اور ان کو شعور نہیں دیا گیا ۔ایک طرف گلگت بلتستان کا لٹریسی ریٹ پاکستان میں سب سے ذیادہ اور دوسرے طرف ایک ضلع ایسا جہاں خواتین کی تعلیم با مشکل چھے فیصد ہے ۔تعلیم کا فقدان کی وجہ سے ان علاقوں میں قتل غارت عام رہا ہے لوگوں میں دشمنی اس قدر بڑھ گی تھی کے مجھے یاد جب ہم سکول میں تھے تو ہم اس بات بہث کرتے تھے کس کس خاندان میں دشمنیاں نہیں ہیں تو ہمیں کوئی ایسی فیملی نہیں ملتی جو دشمن داری سے خالی ہوتی ۔ہمارے ہاں اسلحہ کا اس قدر رواج تھا کے ہم بندوقیں گن گن کے ایک دوسرے کو نیچے دیکھاتے تھے۔ باوجود اس کے کبھی حکومت کے طرف سے کوئی پالیسی واضع نہیں رہی ۔ہمارے ان علاقوں سے افغانستان کشمیر میں بیسیوں جوان شہید ہوگے ہیں۔ اور گذشتہ دو دہائی سے کچھ پالیسیاں بدل گے جسے مشرف کے دور میں ان علاقوں کے طرف توجہ دی گی کچھ کالج سکول بنائے گئے۔
    جاری ہے۔

  • ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات، بلوچستان میں قیام امن کے لئے اہم پیشرفت .تحریر: خدیجہ رفیع

    ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات، بلوچستان میں قیام امن کے لئے اہم پیشرفت .تحریر: خدیجہ رفیع

    وزیراعظم عمران خان نے حالیہ دورہ بلوچستان میں واضح اعلان کیا کہ ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے گا اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان نے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی کو معاون خصوصی مقرر کر دیا ہے۔اور وہ وزیراعظم کے بلوچستان کے لئے مفاہمت و ہم آہنگی کے امور پر معاون خصوصی مقرر کئے گئے ہیں۔
    جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت کی طرف سے سید ظہور احمد آغا کو بلوچستان کا گورنر مقرر کیا گیا ہے، نئے گورنر آغا ظہور نے بھی ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ناراض بلوچوں کو مذاکرات کا حصہ بننا چاہئے۔ شاہ زین بگٹی کی اہم عہدے پر تعیناتی وزیر اعظم عمران خان کے ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات کے بیان کے بعد ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے جس کے مطابق حکومتی اتحادی جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی وفاقی کابینہ کا حصہ بنے ہیں۔ شاہ زین بگٹی ناراض بلوچوں سے رابطہ کریں گے۔ شاہ زین بگٹی کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہوگا۔ دو روزقبل وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ میں طلبا اور بلوچ عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ناراض بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں غورو خوض کر رہے ہیں۔ ناراض ہونے والوں کو شاید دوسرے رنج ہوں اور وہ دوسرے ملکوں کے لئے استعمال بھی ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں بلوچستان کی طرف وہ توجہ نہیں دی گئی جو بلوچستان کے مسائل اور محرومیوں کے ازالہ کی متقاضی تھی۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ انمول اور قیمتی معدنیات کے ساتھ بلوچستان میں سونے تک کی کانیں ہیں۔ بلوچستان سے نکلنے والی گیس دیگر صوبوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ پٹرول کے ذخائر بھی زیر زمین موجود ہیں اور پھر وفاق کی طرف سے بھی ہر دور میں بلوچستان کی ترقی کے لئے وسیع القلبی کا مظاہرہ دیکھا گیاہے مگر بلوچستان پسماندگی، غربت، مسائل اور مشکلات سے نہ نکل سکا۔ ماضی میں آغاز حقوق بلوچستان پیکج دیا گیا۔ پر امن مفاہمتی پالیسی کا اجرا ہوا۔ پاک فوج کی طرف کیڈٹ کالجز اور تعلیم و روزگار کے منصوبے شروع کئے گئے۔ بلوچستان کے لئے جس قدر بڑے بڑے مالی پیکجز سامنے آئے ان پر ان کی روح کے مطابق عمل ہو جاتا تو بلوچستان کی محرومیاں اور پسماندگی مکمل نہیں تو کافی حد تک ختم ہو جاتی۔ سارے پیکجز اور مراعات صوبے کے منتخب عوامی نمائندوں ، وڈیروں اور افسر شاہی کے توسط سے دی گئی تھیں۔ آج آمدن سے زائد اثاثوں میں لوگ ملوث و ماخوذ پائے جا رہے ہیں تو سمجھ آتی ہے کہ بلوچستان کا حق کس نے مارا۔

    کسی صوبے کے لوگ جتنی بھی مشکلات و مصائب سے دو چار کیوں نہ ہوں اس کا مطلب ہتھیار اٹھا کر ریاست کو چیلنج کرنا نہیں ہے۔ بلوچستان میں محرومیوں کے نام پر علیحدگی پسند گروپ وجود میں آئے۔ ان کے پاس بھاری اسلحہ و بارود بھی ہے، ناموں سے بھی ان کے کردار اور عزائم کی بو آتی ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچ ری پبلکن آرمی ۔ ان گروپوں کی قیادت ملک سے باہر پاکستان دشمن قوتوں کے وسائل پر پل رہی ہے۔ محرومی و پسماندگی کا شکوہ کرنیوالا ہر بلوچ ہتھیار بند نہیں ہے لیکن مذکورہ تنظیموں کے شدت پسندوں کے بہکاوے میں آنے والے کچھ لوگ ضرور ہو سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ بات چیت میں تاخیر اور دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والوں کی معافی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے لئے اسی صورت گنجائش نکل سکتی ہے کہ وہ پاکستان واپس آئیں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کریں ماضی میں بھی دہشت گرد اور کالعدم گروپوں کے لئے کام کرنے والوں کو معافی دی گئی تھی۔ سینکڑوں افراد سرنڈر کر کے قومی دھارے میں آئے۔ایک دور میں وزیراعلی بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے جلاوطن رہنمائوں سے مذاکرات کے لئے بیرون ملک دورے بھی کئے تھے۔ پاکستان کو مطلوب علیحدگی و شدت پسندوں کے سرغنہ بھارت ، اسرائیل اور یورپ میں بیٹھے ہوئے ہیں ان سب کو ایک بار وسیع تر مفاہمت کے جذبے کے تحت قومی دھارے میں آنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے شاہ زین بگٹی بہترین انتخاب ہیں۔

    بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے بگٹی خاندان کا مجموعی طور پر اہم کردار رہا ہے۔ شاہ زین بگٹی اور ان کے والد طلال بگٹی نے ہمیشہ ہم آہنگی اور یگانگت کی بات کی۔ لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچستان کی محرومیوں پر شاہ زین کھل کر بات کرتے رہے ہیں مگر کبھی ہتھیار اٹھانے کی بات کی نہ ایسے لوگوں کے پلڑے میں وزن ڈالا۔ بلوچ ہونے کے ناطے ان کے بڑے قبائل کے ساتھ مراسم کا ہونا قدرتی بات ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے ان کو جو مشن سونپا گیا ہے وہ اپنے تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اس میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

    آج کل علاقائی حالات بھی موافق ہیں۔ امریکہ افغانستان سے انخلا کر رہا ہے اور بھارت دم دبا کر افغانستان سے بھاگ رہا ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کے لئے افغانستان میں موجود نیٹ ورک کمزور پڑ گیا ہے۔ بھارت کو پاکستان میں دہشتگردی کے لئے دیگر ذرائع کی تلاش ہو گی۔ اس وقت تک پاکستان کو امن کی بحالی کے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی۔ افغانستان سے باڑ کی تنصیب سے دہشتگردی کے داخلے راستے مسدود ہو چکے ہیں۔ بلوچستان میں بھارت کے لئے کام کونیوالوں کو قومی دھارے میں لانا آسان ہے جو بھارت کی نمک خواری پر بضد رہیں۔ ان کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اب جبکہ ان کی کمک منقطع ہو چکی ہیں مزید آسان ہے۔

  • وزیراعظم عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ،تحریر:عامر بیگ

    وزیراعظم عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ،تحریر:عامر بیگ

    ایک وقت تھا جب پاکستانی حکمرانوں کو امریکی صدر ائیرپورٹ پر استقبال کے لیے آتے تھے۔ جی بالکل ، صدر پاکستان ایوب خان کو امریکی صدر ایئرپورٹ پر ویلکم کرنے آئے تھے۔ پاکستان ساٹھ کی دہائی میں تیزی سے ترقی کررہا تھا۔
    مگر پھر ریاست میں کچھ ایسے واقعات ہوئے۔ جس سے ملک دو لخت ہو گیا۔
    اور بات ضیاء الحق کے مارشل لا تک آن پہنچی۔ اس وقت سوویت یونین افغانستان تک پہنچ چکا تھا۔ اور امریکہ بہادر کو اسے روکنا تھا۔ لہذا حسب ضرورت پاکستان کی یاد آ گئی۔ قصہ مختصر پاکستان کی مدد سے افغانستان میں سوویت یونین کو توڑ دیا گیا۔ اور امریکہ بہادر نے پاکستان کو چھوڑ کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے واپس اپنے ملک چلا گیا۔ اس کے بعد ہمیں کرپٹ اور نااہل حکمران ملے۔ جن کی دن رات کرپشن اور نااہلی کے میدان میں کی گئی محنت کیوجہ سے پاکستان ستر سال پیچھے چلا گیا۔ یہ کرپٹ حکمران آپس میں گٹھ جوڑ کر کے ملک لوٹتے رہے۔ اور عوام کو چند دکھاوے کے منصوبے دکھا کر بے وقوف بھی بناتے رہے۔ دو سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتی تھیں۔ مگر شام کو سب نام نہاد ملکی مفاد میں چپ ہو جاتی تھی۔ ایسے ہی چلتا رہا۔ پھر اکیسویں صدی کا آغاز تھا۔ اور موبائل انٹرنیٹ عام ہونا شروع ہوا۔ تو عمران خان نے سیاست میں آنے سے پہلے ہی پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقبول تھا۔ برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ دوستی کیوجہ سے فلاحی کاموں میں کافی مقبولیت مل چکی تھی۔ اور عمران خان کی دیانتداری اور ایمانداری کے چرچے پاکستان کے ساتھ ساتھ یورپ تک پہنچ گئے۔ جس کیوجہ سے نوازشریف نے عمران خان کی مقبولیت دیکھتے ہوئے اپنی جماعت جوائن کرنے کی آفر بھی کردی۔ جس کی ویڈیو یوٹیوب پر بھی موجود ہے۔

    ایسے میں الیکشن دو ہزار اٹھارہ آ گیا۔ اور عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں پہلے نمبر پر آئی۔ اور عمران خان وزارت عظمیٰ کے منصب پر بیٹھ گئے۔ اب حالات یہ تھے کہ وزیراعظم عمران خان کو جب ملکی خزانوں کا بتایا گیا تو ہوشربا انکشافات سامنے آگئے۔ ملکی خزانہ خالی ہے۔ گردشی قرضے کا انبار سر پر ہے۔ اور ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ کی تلوار پاکستان کے سر پر لٹک رہی تھی۔ ایسے کڑے وقت میں اقتدار پھولوں کی سیج کی بجائے گرم گرم آلو کی مانند لگنے لگا۔ مگر عمران خان ہمیشہ سے ایک بات کرتے ہیں ۔ سے اللہ تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران کو ہمت اور استقامت کا دامن پکڑنے کی تلقین کرتے ہوئی ساری صورتحال بتادی۔ پھر وزیراعظم عمران خان نے اخراجات کم سے کم کرنے کا آغاز اپنی ذات سے کیا۔ اور وزیراعظم ہاؤس کا خرچے میں کروڑوں روپے کا کٹ لگا کر خاتم النبیین جناب رسول محترم کی سنت پر عمل کیا۔

    اس کے بعد دوست ممالک پاکستان کی مدد کو آئے۔ اور پاکستان کی تاریخ میں کافی دیر کے بعد حکومت اور فوج ایک پیج پر آگئے۔ پاکستانی قوم کے ہمت اور حوصلے اور وزیر اعظم عمران خان کی محنت شاقہ کی بدولت پاکستان کی معیشت رفتہ رفتہ ٹریک پر آگئی۔ اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی مقبولیت یہ ہے کہ دنیا کے کافی حکمران وزیراعظم عمران خان کی دیانتداری سے متاثر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو نہ صرف ملک اور خطے میں بلکہ اب عالمی لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ دورہ ازبکستان کے موقع پر بین الاقوامی لیڈرز کے فوٹو سیشن میں مرکزی اور نمایاں جگہ وزیراعظم عمران خان کو ملتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے ماحول دوست اقدامات کو پوری دنیا میں مقبولیت مل رہی ہے۔ کرونا عالمی وبا کے دوران وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر ترقی پزیر ممالک کا قرضہ تک فریز کردیا جاتا ہے۔ روسی صدر کے دورہ پاکستان کی خبریں آج کل زیر گردش ہیں۔ امید ہے اسی سال روسی صدر پاکستان تشریف لائیں گے۔ اسکے بعد چینی صدر کی آمد کا بھی روشن امکان موجود ہے۔ پاکستان کو خطے میں اہم پوزیشن حاصل ہوچکی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان سے پوری دنیا کے لیڈرز روابط بنانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نہ صرف پاکستان کی معیشت کو بہتر کررہے ہیں۔ بلکہ یورپ پر جناب خاتم النبیین رسول محترم کی عزت و احترام بھی باور کروا رہے ہیں۔ کئی ممالک کو یہ بات بتادی ہے۔ کہ پیارے نبی کی توہین کر کے آپ مسلمانوں کی سب سے محبوب چیز پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی کشمیر پر جارحانہ پالیسی انڈیا کو بیک فٹ پر لے آئی ہے۔ انڈیا اب کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کرنے کی کوششوں میں مگن ہے۔
    وزیراعظم عمران خان نے کمال مہارت سے خارجہ ، داخلہ ، سیاحت اور دیگر میدانوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی آدھی آبادی صوبہ پنجاب ، صوبہ خیبرپختونخوا کے تمام شہریوں کو سو فیصد صحت کارڈ اس سال کے آخر تک مل جائیں گے۔ جس کی وجہ سے ساڑھے سات لاکھ روپے تک سالانہ ہیلتھ انشورنس ملنے سے عوام کو بھرپور فائیدہ ملے گا۔ زراعت کے شعبے میں زبردست کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ بہت عرصے بعد گندم ، چاول ، مکئی اور گنے کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کو مہنگائی کا چیلنج ابھی بھی درپیش ہے۔ مگر جس چیز کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مافیا مل کر چیزیں مہنگی کر کے حکومتی کوششوں کو ناکام کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے۔ مگر آہستہ آہستہ چیزیں درست ٹریک پر آ رہی ہیں۔ دس سال کے بعد پہلی دفعہ کرنٹ اکاونٹ سرپلس میں آ چکا ہے۔ سی پیک فیز ٹو برق رفتاری حاصل کر چکا ہے۔ کم و بیش تیس سال کے بعد بڑے ڈیمز وزیراعظم عمران خان کی ذاتی محنت اور توجہ سے ہی بن رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے 2018-2028 کو ڈیمز کی دہائی قرار دیا ہے۔ ڈیمز بننے کے بعد پاکستان میں سستی اور وافر بجلی مہیا ہوگی۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے اقدامات وزیراعظم عمران خان کی حکومت کررہی ہے۔ جس کے لیے پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ مگر فی الوقت اتنا ہی کافی ہے۔ اس کے بعد مزید باتیں آپ کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

  • میری گپ میری مرضی اور سوشل میڈیا: تحریر عینی سحر

    میری گپ میری مرضی اور سوشل میڈیا: تحریر عینی سحر

    آجکل کے اس سوشل میڈیا کے دورمیں تقریبا” ہر کوئی سرگرم ہوئے بنا نہیں رہ سکتا _ نئے دور کے نئے تقاضے،ہم بھی اٹھتے بیٹھتے سوشل میڈیا پر جھانک کر دیکھ لیتے ہیں کے کیا ہورہا ہے _ یونہی ٹہلتے ہوۓ ایک ایسی گردش کرتی ٹویٹ نظر آئ جسمیں کسی صاحب نے ایک خوبصورت بچے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوۓ لکھا کے انکے ہاں اللہ نے بیٹا دیا ہے کوئی اچھا سا نام تجویز کریں _ اب اس بچے کی معصومیت اور اس صاحب کی خوش قسمتی پر ہر کوئی خوشی سے بیتاب ری ٹویٹ کیساتھ پوسٹ کو پسند کررہا تھا یہی نہیں ٹویٹ کے نیچے بھی مبارکباد کے کمنٹس کیساتھ کچھ فراخ دل لوگوں نے مٹھائی کی تصویر بھی پوسٹ کرکے اس موصوف کی خوشی کو دوبالا کرنے میں کسر نہ چھوڑی _ ایسے میں میرا دل بھی اس بچے کو دیکھ کر پگھلا تو جھٹ سے لائیک دے کر مبارک باد دے دی _ ٹویٹ تھی کے تھمتی نہ تھی اور ٹویٹر پر خوب گردش کئے جارہی تھی

    لیکن جب ٹویٹر پر مزید چکر لگاۓ تو کرشمہ دیکھنے کو ملا کے وہی بچہ انہی کپڑوں میں تین چار اور لوگوں کے گھر بھی پیدا ہوا ہے اور وہ بھی اسی رفتار سے بیٹا ہونے کا اعلان کرکے مبارکبادیں اور لائیک ری ٹویٹ سمیٹ رہے ہیں _
    بات یہی رکتی تو صبر آجاتا لیکن فیس بک پر جھانکا تو اس بچے کو مزید چند لوگوں کی پوسٹ میں پیدا ہوکر مشہور ہوتے دیکھا اسکو اپنا بیٹا کہہ کر لایکس کمنٹس وہ لے رہے تھے جنہوں نے خود ابھی دسویں کلاس میں امتحان دینا تھا _ یہ ہی تو سوشل میڈیا کا لطف ہے
    یہاں ایک سے بڑھ کر ایک گپ مل سکتی ہے

    ابھی اس جھٹکے سے سنبھلے نہ تھے کے کسی دوشیزہ کی غمناک پوسٹ نے ٹویٹری آبادی کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا کے محترمہ نے اپنے ہاتھ کی فوٹو شئر کی جس پر ڈرپ لگی تھی کے وہ بیمار ہیں اور دعا کریں _ وللہ ٹویٹری شہزادے اسطرح پریشانی سے مرے جارہے تھے جیسے اسے کچھ ہوا تو وہ مر جائیں گے _ ایک سے بڑھ کر ایک بازو لمبی کرکرے دعا دے رہا تھا _ کچھ نے تو آگے بڑھ کر کمانڈ سنبھال لی اور اضافی ٹویٹ کرکرکے اعلان کرنے لگے کے فلاں کی طبیعت خراب ہے دعا کریں _ یہ وہ ہمدرد نونہال ہیں جنکی اپنی اماں جان بیمار ہوں تو انہیں پرواہ نہ ہو لیکن کسی متوقع حسینہ کیلئے یوں فرمانبردار بن کر دعائیں دیتے اور آسمان سے تارے توڑ لانے کے دعوے کرتے ہیں جیسے ان سے بڑا ہمدرد کوئی نہ ہو _ آخر کو یہ سوشل میڈیا کے ہیرو ہیں

    اب چونکے بقر عید کی آمد آمد ہے لہٰذا ایک دوشیزہ نے بکرے کیساتھ اپنی آدھی تصویر پوسٹ کرکے پوچھا بکرا کیسا ہے ؟بکرے کے نام پر سب اس دوشیزہ کی آدھی تصویر پر مرے جارہے تھے اور واہ واہ کرتے نہ تھکتے تھے ایسے میں ایک صاحب نے جھنجھلاتے ہوۓ کمنٹ کرکے پوچھا یہی بکرا اور یہ تصویر گزشتہ دو سال سے سوشل میڈیا پر کئی پوسٹوں میں گھمائ جارہی ہے آخر لوگ باز کیوں نہیں آتے ؟

    ایک صاحب نے فادر ڈے پر پوسٹ کرتے ہوۓ لکھا شکریہ ڈیڈی آپ نے مجھے سب کچھ دیا گھر میں پیسے کی چہل پہل بیرون ملک کی سیریں بنگلے ، بینک پلنس اور گھر میں دو تین گاڑیاں ہر وقت کھڑی رہتیں _ اصل میں اس پوسٹ میں شاعر کی مراد یہ تھی کے وہ تگڑی اسامی ہے اگر کوئی حسینہ متاثر ہوکر اس پر نظر کرم کر دے تو مہربانی ہوگی

    اللہ اللہ سوشل میڈیا پر جو لطیفےاور کامیڈی دیکھنے کو ملتی ہے اسکا بدل ڈراموں میں بھی نہیں _
    اس کامیڈی میں سیاستدان بھی حصہ ڈالتے ہیں جیسا کے نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے والد کی فوٹو لندن سے اٹھا کر کشمیر کے پل پر لگا کر خوب شغل لگایا

    یہ اسی سوشل میڈیا کا کمال ہے یہاں ایک سے بڑھ کر ایک گپ پڑھنے کو ملے گی کیوں نہ ہو یہاں اکثر جوروش دیکھنے کو ملتی ہے وہ یہی ہے میری گپ میری مرضی

  • حب الوطنی. تحریر: فرمان اللہ

    حب الوطنی. تحریر: فرمان اللہ

    وطن سے محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو کبھی کم نہیں ہوتا بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اِس محبت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے لیکن حقیقی معنوں میں حب الوطنی ہے کیا؟

    وطن ماں دھرتی ہے جس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے اور اِس پر جان قربان کرنا شہادت کا ردجہ رکھتا ہے لیکن اِس کے ساتھ ساتھ وطن کے بیان کردہ اصولوں پر عمل کرنا بھی حب الوطنی ہے۔ قانون کی پاسداری کرنا اور اِس کی بہتری اور ترقی کے لیے عملی طور پر اپنا کردار ادا کرنا بھی حب الوطنی کی اعلی مثال ہے۔

    میں اس بات کو شامل کرتا چلوں کہ اوورسیز پاکستانیوں میں سب سے زیادہ حب الوطنی پائی جاتی ہے جس کا شاہد میں خود ہوں۔ سارا دن محنت مزدوری کر کے جب واپس گھر پہنچتے ہیں تو سب سے پہلے ٹی وی لگا کر وطن کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور اِس کے ساتھ ساتھ اوورسیز پاکستانیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بینکنگ چینل کے زریعے پیسہ بھیج کر پاکستانی معیشت کو بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور یہی ان کی حب الوطنی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

    ایسی کئی مثالیں دے کر میں حب الوطنی کو تفصیل میں بیان کر سکتا ہے لیکن شاید میری تحریر بہت لمبی ہو جائے اسی لیے آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ اگر عوام ملکر حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایماندار سیاست دانوں کا انتخاب کرے اور قانون پر پورا پورا عمل کرے تو یقیناً اُن کی یہ حب الوطنی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے

  • پاکستانیت۔۔۔۔۔۔تحریر:محمد ثقلین

    پاکستانیت۔۔۔۔۔۔تحریر:محمد ثقلین

    پاکستان سے محبت،اس کی زبان و ثقافت اوراقدار کو اپنانا،اور اس کی تعمیرو ترقی میں عملی طور پر اپنا کردار ادا کرنا پاکستانیت ھے پاکستان ہمارا وطن ہے
    وطن ایک گھر کی مانند ہوتا ہے جس میں ہر شخص اپنے گھر اپنے خاندان اپنے دوست و احباب کے ساتھ خوشی سے زندگی گزارتا ہے ایک انسان کے لیے اس کے وطن کی اہمیت ماں باپ ،بھائی بہن سے بڑھ کر ہوتی ہے جس کا نظارہ سرحدوں پران جاں بازجوانوں کی شکل پرکیا جاسکتا ہے جو ملک کی حفاظت وصیانت کے لیے اپنے گھر بار کی پرواہ کیے بغیر پوری مستعدی کے ساتھ رات ودن ایک کیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں ہمارے شہیدوں نے ہمیں ایک ہی درس دیا ہے کہ اپنے گھر اپنی اولاد اپنی دولت سے بڑھ کر اس ملک کی حفاظت کرنی ہے اپنے کلچر کو فروغ دینا ہے اپنی زبان کو فروغ دینا ہے آج تک پاکستان میں انگلش کلچر کو فروغ دیا گیا یہاں پر انگلش لباس کو اہمیت دی گئی جس شخص کو انگریزی بولنا آتی ہے وہی پڑھا لکھا ہے اس بات کو فروغ دیا گیا ہماری زبان ہمارے لباس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی یہاں تک ہمارے وزراء اعظم بھی انگلش لباس پہنا کرتے ہیں اپنی ساری تقاریر انگریزی میں کرتے ہیں اگر ہمیں اپنا سافٹ امیج بہتر بنانا ہے تو ہمیں پاکستانیت کو فروغ دینا ہو گا اپنی ثقافت اپنے کلچر اپنی روایات کو فروغ دینا ہو گا

    وزیر اعظم عمران خان صاحب جو کہ رہے بھی انگلش ممالک میں لیکن انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم بننے کے بعد پاکستانی کلچر کو فروغ دیا پاکستانی لباس کو فروغ دیا اگر وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کے باہر کے سارے دورے دیکھے جائے تو ہمیں ہمارا قومی لباس دیکھائی دے گا وزیراعظم کا قومی لباس اور زبان اردو میں تقاریر کرنا خوش آئند ھے۔مگر پاکستانیت کے فروغ کے لئے محض اتنا کافی نہیں ھے ہمارے سلیبس میں اردو کو فروغ دینا ہو گا ہمارے تعلیمی نظام میں انگلش تاریخ دانوں کی جگہ اسلامی تاریخ دانوں کی تاریخ ڈالنی ہو گی ہمیں ہماری قوم کے بچے بچے کو اپنی تاریخ سے آگاہ کرنا ہو گا بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے ملک میں بچہ بچہ
    ” Jafri chosr ”
    کو جانتا ہے لیکن مولوی عبد الحق اور سرسید احمد خان کو نہیں جانتے کیونکہ ہماری رگوں میں انگلش کلچر کو بھر دیا گیا ہے کہا جاتا ہے جو قوم اپنی تاریخ کو بھول جائیں وہ قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے ہمارے ٹی وی ڈراموں کو بدل دیا گیا ہمارے فنکاروں نے قوم کو ہمارے کلچر سے ہٹا کر فحاشی پر لگا دیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جہاں صبح کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہونا چاہیے تھا وہاں صبح ڈانس موسیقی شوز دیکھائیں جا رہے ہیں ہماری اداکارہ کے لباس انتہائی نازیبا ہوتے ہیں جو ہمارے معاشرے پر اثرات چھوڑتے ہیں ہمارے کالجوں ہماری یونیورسٹیوں میں انگلش بولنے پر زور دیا جا رہا ہے ہمیں انگریزی کلچر کا عادی بنایا جا رہا ہے ہمیں ہماری زبان کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کرنا ہو گا عدالت عظمی کے فیصلوں کی رو سے اردو کو قومی کے ساتھ دفتری زبان کے طور پر رائج کرنا ھوگا۔علاقائی زبانوں کو بھی ترقی اور فروغ دینا ھو گا۔دفاتر اور عدالتوں کی دستاویز عام آدمی کے لئے ھوتی ہیں مگر انگریزی زبان میں۔جس سے اس کا دور سے بھی واسطہ نہیں۔کیا ملکی نظام عام آدمی کے لئے نہیں ھوتا؟انگریزی علمی ترقی کے لئے بلا شبہ ضروری ھے ۔مگر مخصوص اشرافیہ نے اسی کے سہارے بیوروکریسی اور اہم اداروں پر قبضہ کر رکھا ھےاور ایک طبقاتی تضاد سو سائٹی میں بڑھتا جا رھا ھے۔اس کا سد باب بھی بہت ضروری ھے۔قومی زبان بولنے سے زیادہ حقیقی معنوں میں اداروں میں رائج کرنے سے پاکستانیت فروغ پائے گی۔

  • قربانی کی فضیلت و اہمیت.تحریر  چوہدری عطا محمد

    قربانی کی فضیلت و اہمیت.تحریر چوہدری عطا محمد

    تاریخ ِاور مذاہب کے مطالعے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ جتنی قدیم ہے، قربانی کی تاریخ بھی تقریباً اتنی ہی قدیم ہے،

    ہم جو ہر عیدقرباں پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں، یہ حضرت ابراہیم و اسمٰعیل علیہما السلام کی قربانی کی یاد گار ہے۔ اسی قربانی کی یادگار میں اہلِ ایمان ہر سال جانوروں کے قربانی کرتے ہیں

    قربانی کی فضیلت و اہمیت

    حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ رسول اکر م ﷺ نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور ہر سال پابندی سے قربانی فرماتے تھے۔(مشکوٰۃ)

    حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے
    حضور اقدسﷺ نے فرمایا: بقرعید کے دن قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر کوئی عمل اللہ کے نزدیک محبوب نہیں ہے اور بلاشبہ قربانی کرنے ولا قیامت کے دن اپنی قربانی کے سینگوں، بالوں اور کھروں کو لے کر آئے گا (یعنی یہ حقیر اشیاء بھی اپنے وزن اور تعداد کے اعتبار سے ثواب میں اضافہ ور اضافہ کا سبب بنیں گی اور (یہ بھی) فرمایا کہ بلاشبہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک درجہ قبولیت حاصل کرلیتا ہے ،لہٰذا خوب خوش دلی سے قربانی کرو۔ (مشکوٰۃ)

    حضرت زیدبن ارقمؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسولﷺ یہ قربانیاں کیا ہیں؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، صحابہؓ نے عرض کیا، ہمارے لیے اس میں کیا ثواب اور اجر ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا، اگر اون والا جانور ہو (یعنی دنبہ ہو جس کے بال بہت ہوتے ہیں) اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اس کے بھی ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ (مشکوٰۃ)مذکورہ احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا

    عیدالاضحی کے دن قربانی کرنا، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل ہے، پس جو عمل محبوب حقیقی کو محبوب ہو، اسے کس قدر محبت اور اہتمام سے کرنا چاہیے، اس دن قربانی کرنا ہمیں اللہ سے کتنا قریب لے جائے گا اور ہم پر سے کتنی مصیبتیں ٹل جائیں گی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے،
    اگر حالات حاضرہ کا زکر کیا جاۓ یعنی موجودہ دور کی بات کی جاۓ تو اس کے بالکل بر خلاف کہنے والے یہ کہہ رہے ہیں کہ ! قربانی کیا ہے یہ قربانی (معاذ اللہ) خوا مخواہ رکھ دی گی ہے، لاکھوں روپیہ جانوروں کے خون بہانے کی شکل میں لگا دیا جاتا ہے اور بڑے بڑے جانور اونٹ بیل اور بچھڑے گھر کے دروازے کے باہر نمائش کے لئے باندھ دئیے جاتے ہیں یہ عمل معاشی اعتبار سے نقصان دہ ہے، جانوروں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے لہٰذا قربانی کرنے کے بجائے یہ کرنا چاہیے کہ جو لوگ غربت کے ہاتھوں بھوک اور افلاس کی زندگی بسر کر رہے ہیں ہیں، قربانی کے گوشت تقسیم کرنےکے بجائے وہ روپیہ پیسہ غریب کو دیا جائے، تاکہ اس کی ضروریات پوری ہوجائیں۔ یہ پروپیگنڈا اتنی کثرت اور اس۔ طرح کی مثالیں دے کر کیا جاتا ہے کہہ کچھ لوگ اس پر سوچنے اور عمل کرنے کے لئے بھی تیار ہوجاتے ہیں اب عید قربان کے نزدیک لوگ علماء حضرات سے پوچھتے نظر آتے ہیں کہ اگر ہم قربانی نہ کریں اور وہ رقم غریبوں میں تقسیم کردیں تو اس میں کیا حرج ہے؟یہ خودساختہ فلسفہ قرآن و سنت اور اسلامی تعلیمات کے صریح خلاف ہے۔اسلامی شریعت کے مطابق جیسا کہہ اوپر حدیث مبارکہ کا بھی زکر کیا ہے کہہ قربانی کے تین دنوں میں قربانی سے بڑھ کر اللہ کے نزدیک کوئی عمل محبوب اور پسندیدہ نہیں۔

    قربانی سے ہمیں کیا درس ملتا ہے

    قربانی ہمیں صبر وتحمل، برداشت اور ایثار کا سبق دیتی ہے، ہمیں ایک دوسرے سے محبتوں کو بڑھانا چاہیے اور صبرو استقامت کے جذبے کو عام کرنا چاہیے۔ اور اپنے ہمسایوں عزیزو اقارب اور آس پاس رئنے والوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے اور ان کے حقوق کا خیال رکھنے کا درس دیتی ہے ۔

    جو لوگ بھی صاحب استطاعت ہیں وہ اس کا خیال کریں کہ گائے اور اونٹ میں سات حصے جبکہ بکرا، دنبہ وغیرہ ایک حصہ ہے۔

    قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں، ایک اپنا، ایک رشتہ داروں کا اور تیسرا غرباء اور مساکین میں تقسیم کردیں۔اور اس بات کا خوب خیال رکھا جاۓ کہہ زیادہ سے زیادہ گوشت ان گھروں تک پہنچے جن کے گھر سارا سال بہت کم گوشت پکتا ہے یا جو لوگ اپنی غربت اور مفلسی کے ہاتھوں گوشت جیسی نعمت سے اکثر اوقات محروم رئیتے ہیں۔
    قربانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہہ سال کے ایک دن نہیں ہر روز ہمیں اپنی کمائی میں سے اپنی حیثیت کے مطابق کسی مستحق کی کسی نہ کسی ضرورت کو پورا کو پورا کرتے رہنا چائیے۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو قربانی کے عمل سے سنت طریقہ سے گزرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • قربانی کے احکام و مسائل.تحریر: قاری محمد صدیق الازھری

    قربانی کے احکام و مسائل.تحریر: قاری محمد صدیق الازھری

    الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على اشرف المرسلين وخاتم النبيين ورحمه الله للعالمين سيدنا محمد وعلى اله وصحبه اجمعين . اما بعد : فان الله تبارك وتعالى امر عباده بعبادته وحده لا شريك له قال الله في كتابه : اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ(۱)فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲)اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠(۳)

    اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی سورة الفجر آیت نمبر ۲ میں ذی الحجہ کی دس راتوں کی قسم کھائی ہے (وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ) جس سے معلوم ہوا کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ حج کا اہم رکن: وقوفِ عرفہ اسی عشرہ میں ادا کیا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم کو حاصل کرنے کا دن ہے۔ غرض رمضان کے بعد ان ایام میں اخروی کامیابی حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ لہٰذا ان میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کریں، اللہ کا ذکر کریں، روزہ رکھیں، قربانی کریں۔ اس ماہ مقدس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو۔ (صحیح بخاری ) اس ماہ مقدس میں مسلمان حج بیت الله ادا کرنے کے ساتھ ساتھ قربانی جیسے عظیم فریضے سے بھی فیضیاب ہوتے ہیں جس کے متعلق الله تعالٰی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَلِکِلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسِکًا لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَی مَا رَزَقَہُمْ مِنْ بَہِیْمَةِ الْاَنْعَامِ (سورة الحج ۳۴) ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی؛ تاکہ وہ چوپایوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے۔ ایک اور آیت میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ ” قربانى ابراہیم عليہ السلام اور محمد ﷺ دونوں كى سنت ہے اور اللہ تعالىٰ نے قرآن ميں ان دونوں انبيا كى سنت اپنانے اور اتباع كرنے كى تلقين فرمائى ہے-(آلِ عمران:31) "۔ قربانی کا ثواب بہت بڑا ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اﷲ تعالیٰ کو پسند نہیں، ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اﷲ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ)

    آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’ قربانی کے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ، ہر ہر بال کے بدلے ایک ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔‘‘

    آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ قربانی تمہارے باپ ( ابراہیمؑ) کی سنت ہے۔ صحابیؓ نے پوچھا: ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ ایک بال کے عوض ایک نیکی ہے۔ ‘‘ اُون کے متعلق فرمایا: ’’ اس کے ایک بال کے عوض بھی ایک نیکی ہے۔‘‘

    شریعت كے وہ چند مسائل جو ہمارى توجہ كسى نہ كسى تاريخى واقعہ كى طرف مبذول كرواتے ہيں ان ميں سے ايک قربانى بھى ہے- ايسے مسائل سے مقصود محض انہيں مقررہ وقت پر كر لينا ہى كافى نہيں ہے بلكہ ان تاريخى واقعات پر گہرى نگاہ ڈالتے ہوئے اس جذبہ عبادت اور قربانى كى ناقابل فراموش حقيقت كو سمجھ كر اپنانے كى كوشش كرنا بھى ضرورى ہے جس كے باعث يہ مسائل ہمارى اسلامى روايات ميں اہم حيثيت اختيار كر گئے ہیں۔ جيسا كہ حاجيوں كے ليے صفا مروہ كى سعى كرنا محض ايک دوڑ نہيں ہے بلكہ يہ اس تاريخى واقعہ كى غماز ہے جس ميں ايک طرف ننھا سا بچہ شدتِ پياس كے باعث زمين پر ايڑياں مارتا نظر آتا ہے اور دوسرى طرف حضرت ہاجِرَ عليها السلام پانى كى تلاش ميں صفا مروہ كى پہاڑيوں كے چكر لگاتى نظر آتى ہيں كہ جنہيں ابراہیم عليہ السلام اللہ تعالىٰ كے حكم پر اپنى تمام تر محبتيں قربان كر كے مكہ كى بے آب وگياہ زمين ميں تنہا چھوڑ گئے تھے۔ قربانى كا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ عيد ِقربان كے دن جانور ذبح كرنا، كچھ گوشت تقسيم كر دينا،كچھ كھا لينا اور پھر خود كو شريعت كے ہر حكم سے آزاد تصور كرنا اور قربانى كے مقصد يا غرض وغايت پر سنجيدگى سے غوروفكر نہ كرنا، كسى طور كافى نہيں ہے بلكہ يہ بھى ضرورى ہے كہ جانور قربان كرنے كے ساتھ ساتھ ابراہیم علیہ السلام كى مثالى اطاعت وفرمانبردارى اور اثر آفريں عقیدت واِردات كو بهى پيش نظر ركها جائے كہ جس كى وجہ سے انہوں نے اللہ تعالى كے حكم پر اپنا كم سن خوبصورت بيٹا بھى قربان كرنے سے دريغ نہ كيا-

    اگرچہ چھرى ذبح نہ كرسكى اور پھر حكم الٰہى كے مطابق مينڈها ذبح كر ديا گيا ليكن وہ اللہ تعالى سے كيسى محبت ہوگى اور اللہ تعالى كے ليے ہر چيز قربان كر دينے كا كيسا جذبہ ہوگا كہ جس كى بدولت وہ اس مشكل ترين عمل سے بھى پیچھے نہ ہٹے، پهر اللہ تعالى نے بهى اس محبت واطاعت كا صلہ يوں ديا كہ اس عمل كو تمام مسلمانوں كے ليے مسنون قرار دے كر قيامت تک كے ليے ابراہیم علیہ السلام كى سنت كو جارى وسارى كر ديا۔ ہم سے بھى اسلام صرف جانوروں كى قربانى نہيں چاہتا بلكہ اس جذبہ اطاعت اور خشيت ِالٰہى كو بھى اُجاگر كرنا چاہتا ہے جس كے ذريعے ہم اپنى ہر چيز بوقت ِضرورت اللہ تعالى كى خاطر قربان كردينے كے ليے تيار ہوجائيں۔ اور يقينا آج اسلام كو جانوروں كى قربانيوں سے كہيں زيادہ ہمارى محبوب ترين اشيا يعنى مال، اولاد اور جان كى قربانيوں كى ضرورت ہے۔ لہٰذا ہميں چاہيے كہ اس عمل كو محض ايک تہوار ورسم سمجهتے ہوئے تفاخر اور رياء ونمود كا ذريعہ ہى نہ بنا ڈاليں كہ جس كے باعث ہميں دنيا ميں تو اسلامى شعائر و روايات اپنانے كا اعزاز مل جائے ليكن ہمارى عقبىٰ تباہ وبرباد ہو كر رہ جائے بلكہ ہميں چاہيے كہ اس عمل كے پيچهے چھپى اُس عظيم قربانى كو مدنظر ركهتے ہوئے اپنے ايمانوں كو اس قابل بنائيں جو ہميں دنياوى لہو ولعب اور مصنوعى عيش ونشاط سے نكال كر اپنى زندگى كا ہر لمحہ اور ہر گوشہ رضاے الٰہى كى خاطر قربان كر دينے كے ليے تيار كر دے۔
    سورۂ کوثر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا کہ جس طرح نماز اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوسکتی اسی طرح قربانی بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوسکتی ۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:’’ آپ کہہ دیجئے! کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔‘‘(سورۂ انعام) ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم نے ارشاد فرمایا : ’’بنی آدم کا کوئی عمل بقر عید کے دن اللہ تعالیٰ کو (قربانی کا) خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ، اور بے شک (قربانی کا) خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہو جاتا ہے ۔ تو تم اپنا دل اس کے ذریعہ سے خوش کیا کرو!۔ (ترمذی و ابن ماجہ)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : ’’یا رسول اللہؐ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ‘’ اور فرمایا: ’’استطاعت کے باوجود جو شخص قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کا رُخ بھی نہ کرے ! ان تین دنوں میں قربانی سے بڑھ کر کوئی دوسرا نیک عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ نہیں ہے‘‘۔(مسند احمد ، ابن ماجہ، الترغیب والترہیب)ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس شخص نے دل کی خوشی اور ثواب طلب کرنے کے لئے قربانی کی تو وہ قربانی اس شخص کے واسطے دوزخ کی آگ سے آڑ ہو جائے گی‘‘۔(الترغیب والترہیب)
    قربانی کے متعلق چند احکامات جو احادیث مبارکہ میں قابل ذکر ہیں وہ درج ذیل ہیں:
    ۱-جس شخص کے پاس رہائشی مکان، کھانے پینے کا سامان، استعمال کے کپڑوں، اور روز مرہ استعمال کی دوسری چیزوں کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا نقد روپیہ ، مالِ تجارت یا دیگر سامان ہو ، اس پر قربانی کرنا واجب ہے۔(فتاویٰ شامی: ۶/۳۱)
    ۳-جس شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے۔ (فتاوی عالمگیری: ۵/۲۹۲)
    ۴-اگر کسی شخص نے مرنے سے پہلے قربانی کرنے کی وصیت کی ہو اور اتنا مال چھوڑا ہو کہ اس کے تہائی مال سے قربانی کی جاسکے تو اس کی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری: ۵/ ۲۰۶)
    جس شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے اُس پر بقرۂ عید کے دنوں میں قربانی بھی واجب ہے۔(در مختار:۵؍۳۰۴) فقیر اورمسافر پر قربانی واجب نہیں۔(شرح البدایہ: ۴؍۴۴۳)
    قربانی کے لئے بہیمۃ الانعام یعنی اونٹ،گائے، بھیڑ، وبکری کا ہونا شرط ہے۔ قربانی کے جانوروں کے متعلق آپ مزید (سورۃالانعام:آیات:۱۴۲،۱۴۳،۱۴۴) کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح قربانی کے جانوروں کا مسنہ(یعنی دوندا) ہونا شرط ہے۔ مسنہ جانور اس کو کہتے ہیں جس کے اگلے دو (دودھ کے) دانت گرگئے ہوں اور اگر دوندے جانور دستیاب ہوں تو قربانی کیلئے دو دانتیں جانور کا انتخاب لازم ہے۔ ہاں مجبوری کی حالت میں (یعنی مسنہ جانور مارکیٹ میں نہ مل سکے یا اس کی استطاعت نہیں ہے تو) ایک سالہ دنبہ یا مینڈھا ذبح کیا جاسکتا ہے۔لیکن یاد رہے یہ صرف مجبوری کی حالت میں ہے اور اس میں بھی صرف بھیڑ کی جنس کا جزعہ قربانی میں کفایت کریگا، بکری وغیرہ کی جنس کا جزعہ کفایت نہیں کریگا۔(صحیح مسلم)

    قربانی ایک اہم عبادت اور اسلام کا شعار ہے اور یہ وہ عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔اسی لیے صحت مند اور بے عیب جانور کی قربانی دینی چاہیے۔اور ان عیوب کو جاننا ہمارے لیے ضروری ہے جن سے قربانی نہیں ہوتی۔
    جس طرح تقویٰ اور خالص رضائے الٰہی قربانی کی قبولیت کی اہم شرط ہے، اسی طرح جانور کا ان عیوب سے پاک ہونا بھی ضروری ہے جسے نبی کریم ﷺ نے قربانی کی قبولیت میں مانع قرار دیا ہے۔

    1) ان عیوب کی تفصیل جن کی وجہ سے قربانی درست نہیں ہوتی درج ذیل ہے:
    سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أربع لا تجوز في الأضاحي:العوراء بين عورها، والمريضة بين مرضها، والعرجاء بين ظلعها، والكسير التي لا تنقى.»
    ‘‘چار قسم کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے:
    1.ایسا کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو ۔
    2.ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو ۔
    3.ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑاپن ظاہر ہو۔
    4.انتہائی کمزور اور لاغر جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔’’
    5. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کی قربانی کرنے سے منع فرمایا جن کے سینگ ٹوٹے اور کان پھٹے ہوئے ہوں۔
    6. جس کا کان نصف یا نصف سے زیادہ کٹا ہوا ہو۔
    7. اندھا اور ٹانگ کٹا جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔

    ان تمام مسائل کا خاص خیال رکھیں اور اپنی عید کی خوشیوں میں غرباء و مساکین کو بھی شامل کریں۔ بارگاہ ایزدی میں دعا ہے کہ خدا تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قربانی کی عبادت صحیح اصولوں کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

  • پھر کہتے ہیں تبدیلی کہاں سے؟تحریر: راجہ ارشد

    پھر کہتے ہیں تبدیلی کہاں سے؟تحریر: راجہ ارشد

    اے پاک وطن تیری کہانی سب سے اونچی، اونچی تیری شان
    ‎ تیرے آگے ہم سر جھکا کر اور بڑھائیں ہم تیری شان
    ‎ تیری حفاظت مقصد ہمارا
    ‎ ہمارا ایمان صرف پاکستان

    ‏اشرف غنی جو ہمیشہ بھارت کے ایجنڈے پہ چلتے ہوئے پاکستان پہ جھوٹے الزام لگاتا تھا۔
    لیکن! اس بار وزیر اعظم عمران خان نے ساری دنیا کے سامنے اسے چپیڑیں مار دیں۔

    بلاشبہ! ایسے کھل کر جواب صرف وزیراعظم عمران خان ہی دے سکتا تھا۔
    پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور بلاشبہ اللہ نے اسے بلندوبالا ہی رکھنا ہے ۔اللہ نے ہماری قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے ایک رہنما اتارا جو صرف اور صرف اس ملک کی بقا کا جذبہ رکھتا ہے ۔ وہ انقلابی بھی ہے اور ایک لشکر کا سپاہ سالار بھی ہے جس کا نعرہ ہے تبدیلی جو اپنی انتھک محنت کے باوجود بھی تنقید برائے تنقید کا شکار ہے ۔ سازشوں کا جال ان کے قدموں میں بچھایا جا رہا ہے لیکن خدا سلامت رکھے ان کی استقامت کو کہ ان کا حوصلہ بلند ہے اور وہ ملک کی تقدیر بدلنے کیلئے کوشاں ہیں ۔
     
     یہ تبدیلی مخالف شور ، میرا تبدیلی پہ ایمان کو مزید مضبوط کر رہا ہے ۔ جب کوئی اچھا اور نیک کام ہونے جا رہا ہو اور باطل قوتیں اس سے ٹکرائیں تو سمجھ لیں کہ کامیابی بہت قریب ہے لہٰذا تبدیلی آچکی ہے ، تبدیلی آ بھی رہی ہے اور تبدیلی مزید بھی آتی رہے گی ، کوئی روک سکتا ہے تو روکے ۔

     ایک سوال جو بارہا میری سماعتوں سے ٹکرایا ہے کہ تبدیلی سرکار نے کیا کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب تو بہت سی صورتوں میں موجود ہے لیکن وہی شور و غل برپا کرنے والی مفاد پرست قوتیں اس جواب کو چھپانے کی سازش میں محوِ عمل ہیں، لیکن ہمیشہ یاد رکھیں کے باطل کے سمندر میں حق اکیلا بھی ہو تو ابھر کر نکلتا ہے ، اسے جتنا بھی دبانے کی کوشش کی جائے اتنا ہی وہ سامنے آ کر للکارتا ہے ۔

    تبدیلی کے متعلق سوالات کے جوابات چاہیے تو پچھلی دہائیوں اور دورِ حاضر کا غیر جانبدارانہ موازنہ کریں ، حقیقت آشکار ہو جائے گی بس اپنی نظر کا زاویہ بدل کر دیکھیں ۔

    جو مضبوط خارجہ پالیسی پاکستان کی آج ہے وہ ماضی میں کبھی نہ تھی ۔ بین الاقوامی سطح پر ایک ملک کی عزت اس کی خارجہ پالیسی پر انحصار کرتی ہے ۔ صد شکر خدا جس نے پاکستان کو ایک غیور اور نڈر وزیرِ خارجہ سے نوازا ، جن کی یو این یو میں پہلی تقریر نے اقوامِ عالم کو جگایا کہ ہم پاکستانی دہشتگرد نہیں ہیں ، ہم تو امن کے سفیر ہیں ۔ حقیقی دہشتگرد تو بھارت  ہے جو نہتے کشمیریوں کے خون کا دشمن بن چکا ہے ۔ اس سے پہلے یو این او میں بھارت کا بے رحم چہرہ کسی نے بے نقاب نہیں کیا ۔ اس تقریر کا نتیجہ یہ ہوا کہ اقوامِ عالم حرکت میں آیا اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی اداروں نے بھارت مخالف رپورٹس پیش کی۔ ابھی حال میں ہی برطانیہ کے ہاوس آف کامنز میں ہونے والی کشمیر کانفرنس اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ آج پاکستان کو امریکہ جیسے مغرور ملک نے امن کا سفیر مانتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کرنے کیلئے مدد مانگی جبکہ پچھلی حکومتوں کے دور میں امریکہ کی طرف سے صرف ڈرون حملے ہوتے تھے یا پھر ڈو مور کا مطالبہ ۔

    کرتارپور رہداری کی تعمیر نے پاکستان کو دنيا کے سامنے ایک پرامن قوم کے طور پر پہچان دی ۔ یاد رکھیں کہ ایک انسان بھوک سے مر جاتا ہے لیکن عزت کے بغیر جیتے جی مر جاتا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عزت کی بحالی نے ہمیں نئی زندگی بخشی ہے جو ایک غیور قوم کا اثاثہ ہوتی ہے ۔

    دھرتی اگر ماں ہوتی ہے تو وہ اپنے بچوں کو بے سروسامانی کی حالت میں سڑک کنارے پڑا نہیں دیکھ سکتی ۔ آج تحریکِ انصاف کی حکومت نے پناہ گاہوں کے قیام کو یقینی بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دھرتی واقعی ہی ماں ہوتی ہے ۔

    تاریخ گواہ ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے جب بھی اقتدار سنبھالا ، بےدردی سے اس ملک کو لوٹا، لیکن موجودہ حکومت کرپشن کے خاتمے کی جنگ لڑ رہی ہے جس کی وجہ سے اس حکومت کا سکون غارت کیا جا رہا ہے ۔ لیکن یہ پھر بھی پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنے کے عزم پہ قائم و دائم ہیں ۔ آج کے پاکستان میں حکمران احتساب کے عمل سے آذاد نہیں ہیں ، اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہوسکتی ہے ؟

    کلین گرین پاکستان ، پاکستان سٹیزن پورٹل ، پاکستان بناو سرٹیفکیٹ سکیم، اسلامی ممالک سے بردارانہ تعلقات ، آئی ایم ایف کی سخت شرائط ماننے سے انکار ، سیاست سے پاک آذاد ادارے ، یورپی یونین کے پاکستان کے قوانین میں ردوبدل سے متعلق مطالبات ماننے سے انکار ، یہ سب وہ کام ہیں جو تحریک انصاف کی حکومت نے اس مختصر سے عرصے میں سرانجام دئيے جو ماضی کی تجربہ کار حکومتیں نہ کرسکی تھیں ۔ واقعتاً قیادت دیانتدار ہو تو عزت اور کامیابی قوم کا مقدر بن جایا کرتی ہیں ۔

    میرا قلم آج تحریک انصاف کی کارکردگی پہ رطب السان اس لیے ہو رہا ہے کہ میرے مستقبل کی آنکھیں کھلی ہیں ۔ میرا  لاشعور گواہی دیتا ہے کہ اس قوم کی تقدیر میں ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ باطل کے تمام قلم ٹوٹ جائیں گے اور ہر طرف حق حق کی پکار ہوگی ، بین الاقوامی سطح پر ہم ایک خود مختار اور باعزت قوم کے طور پر جانے جائیں گے ، معاشیات بھی عروج پہ ہو گی اور پاکستان سے مہنگائی کا خاتمہ بھی ہو گا ، امیر ، امیر تر اور غریب مزید غریب نہیں ہوگا ، حکمران عوام کو اپنے اثاثہ جات کے جوابدہ ہوں گے  ۔ علم کا بول بالا ہوگا اور ادب ہمارا پیرہن ہوگا (انشاءاللہ )۔
                                                    تبدیلی کی چنگاری اب آلاو بن چکی ہے ، جسے کوئی نہیں بجھا سکتا ، جو چاہے سازش کرے ، یہ ملک تبدیل ہو کر رہے گا ، کوئی روکنا چاہے تو روکے ، لیکن تبدیلی کا یہ طوفان اب نہیں رکنے والا ۔ ہم نے طے کرلیا ہے کہ اپنے خون کا نذرانہ بھی دینا پڑا تو ہم اس نئے پاکستان کی بنیاد کو ہلنے نہيں دیں گے ۔

    جو سازشی عناصر سادہ لوح پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے میں محوِ عمل ہیں وہ خبردار ہو جائیں کہ یہ محب الوطن قوم ہے یہ ذیادہ دیر تک غفلت کی نیند نہیں سو سکتی اور جس دن یہ قوم مکمل طور پر جاگ اٹھے گی ، باطل کو دنیا بھر میں کوئی پناہ نہیں ملے گی ۔
                                      خراجِ تحسین ہے تبدیلی کے اس پورے لشکر کیلئے جو کہ پاکستان کو مستحکم دیکھنے کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے ۔ اللہ آپ کی کاوشوں کو کبھی رائیگاں نہیں کرے گا۔ دعاگو ہوں کہ اللہ ہماری قیادت کو خلفائے راشدین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے (آمین )