ظاہر ہے کہ زبان کی کوئی ہڈی نہیں ہوتی، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اس پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔یہ کہاوت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہماری زبان ایک طاقتور ہتھیار ہے اور اسے غلط استعمال کرکے ہم کسی کو بہت تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔سیاست میں اس وقت تکلیف نہیں بلکہ مخالفین سیاسی قتل کی سازشوں میں مصروف ہیں، آج 26 دسمبر 2025 ہے جب سہیل آفریدی کی لاہور آمد اور دن ہے ، ایک جانب تحریک انصاف کی سٹریٹ موومنٹ کی تیاری تو دوسری جانب مذاکرات کی خواہش اپنی قیادت کو بھی پریشان کیے ہوئے ہیں۔۔ اطلاعات کے مطابق رات کو لاہور سے پولیس نے پی ٹی آئی کے 600 سے زائد سرگرم کارکنان کو حراست میں لیا ،پولیس نے سٹی کینٹ صدر اور ماڈل ٹاون ڈویژن سے متعدد افراد کو حراست میں لیا، وجہ یہ کہ تحریک انصاف کی ریلی تھی، ۔ آخر سہیل آفریدی کے پنجاب یا لاہور آنے پر پابندی کیوں ، رکاوٹیں کیوں ہیں؟ مستقبل میں یہ معاملہ بہت آگے تک جائے گا۔
مریم نواز نے 2019 میں ایک مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک یہ اعتراف کر رہے تھے کہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا مگر دباؤ میں فیصلہ سنایا گیا، اس ویڈیو کو جاری کرنے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ نواز شریف کا کیس سیاسی بنیادوں پر تھا، حالانکہ اس کی صداقت پر بہت سوال اٹھائے گئے تھے اور جج نے بعد میں اس ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا، تب مریم نواز نے سب سے بڑی اور اہم پریس کانفرنس کر کے مکا لہرا کر دعوہ کیا تھا کہ اور بھی بہت ساری وڈیوز موجود ہیں اگر کسی نے ہوشیاری کی کوشش کی تو بہت ساری چیزیں سامنے لاؤں گی، اسی طرح مریم نواز پر نیب دفتر پر حملے کا الزام بھی تھا۔نواز شریف پر گوجرانوالہ جلسہ میں آرمی کے خلاف تنقید کا تذکرہ بھی قابل ذکر ہے۔
یہ سب چیزیں شاید ملکی سیاست یا کسی بھی پارٹی کے سیاسی سٹرکچر کیلئے فائدہ مند نہیں تھیں، پھر ایک معاملہ عسکری اداروں پر سیاسی الزامات کا بھی تھا، ملک میں تین سیاسی جماعتیں سب سے زیادہ وقت مختلف ادوار میں مختلف صوبوں میں رہی، سب ہی ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر آئے اور انہی کو بدنام کیا، کبھی ووٹ کو عزت دو کا نعرہ تو کبھی انصاف کی دعویدار سیاسی جماعت نے ٹویٹر ٹرینڈز چلائے، معاملہ کہیں کا بھی سیاسی لوگوں نے اسٹیبلشمنٹ سے جوڑ دیا، پہلے آرمی کو اپنی ذاتی مفاد کیلئے سیاست میں شامل کیا، سب سیاسی جماعتوں نے مداخلت کی اجازت دی پھر ملکی مفاد تک جانا پڑا تو سیاسی لوگ ذاتی دشمنی میں اداروں کو روندتے چلے گئے۔
مریم نواز نے اداروں کو دھمکیاں دیں کہ مجھے انصاف چاہیے، پھر انہی نے حکومت میں آ کر قانون میں بھی تبدیلیاں کیں،شہباز شریف کی پہلی حکومت ، پی ڈی ایم دور میں چھبیسویں آئینی ترمیم تو پھر 2025 میں 27ویں آئینی ترمیم، کیا ہوا کیسے ہوا ؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں سب جانتے ہیں، عمران خان جنرل باجوہ کی وہ تعریفیں کی کہ لگنے لگا تھا کہ جنرل باجوہ ہی دنیا میں عقل ودانش کے مالک ہیں، پھر وہ وقت بھی آیا کہ جنرل باجوہ جو عمران خان کی نظر میں سب سے بڑا محب وطن تھا کپتان نے اس کو میر جعفر اور میر صادق کی صفوں میں کھڑا کر دیا، آخر وہ زہر جو سوشل میڈیا کے ذریعے سے جینزی یا سوشل میڈیا تک پہنچا وہ ہر طالب علم اور عمران خان کے شیدائی کے ذہن میں زہر بن کر پھیل چکا ہے۔اگر عمران خان کہے کہ مجھے باجوہ کا آئیڈیا نہیں تھا تو نوجوان نسل جو آج باشعور بنی ہوئی ہیں ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ عمران خان جب اقتدار میں آیا تو 26 سال سیاسی تجربہ کا دعوی کرتا تھا، اہم سوال یہ ہے کہ اگر آج نوجوان یہ سمجھتا ہے کہ اداروں کی مداخلت ہے تو عمران خان جو سیاست میں رِہ چکا تھا، مشرف کے خلاف تحریک چلا چکا تھا، جیل جا چکا تھا، اس کو علم کیوں نہیں تھا، اگر اسکو 26 سال میں پتہ نہیں چلا تھا تو پھر خود جس میں شعور کی کمی تھی وہ کیا شعور دے سکتا تھا، عمران خان کا ساتھ دینے والے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی اصلیت کا ہمیں علم نہیں تھا تو پھر وہ کتنے باخبر ہو سکتے ہیں؟
آج پی ٹی آئی ورکر کو لیگی کارکن قبول نہیں، پی ٹی آئی ، پیپلز پارٹی اور لیگی قیادت ذاتی محفلوں میں بہترین تعلقات رکھتے ہیں وہ زندگی کو لطف اندوز بناتے ہیں مگر عوام کو بیوہ قوف بنایا جاتا ہے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ عمران خان نے جو زہر مقتدر حلقوں کے خلاف عوام تک پہنچایا وہ ایسے سرایت کر چکا ہے کہ اب اس کو توڑ نظر نہیں ا ٓ رہا، ظاہر ہے کہ اس کو خود آج پی ٹی آئی اور عمران خان بھی افورڈ نہیں کر سکتے ، سیاست میں تشدد ا ٓ چکا ہے، وہ زہر جو سب سیاستدانوں نے تقسیم کیا آج اس زہر کا اثر تمام کی جان لے چکا ہے، نظام کو بوسیدہ کرتے کرتے نظام دین نے سب سیاسی جماعتوں کی جمہوری سوچ کا خاتمہ کر دیا ہے، اپنی سیاست کے لیے ملکی معیشت کو تباہ کیا، عمران خان نے وہ وہ زبان استعمال کی کہ آج زبان بندی ہو چکی ہے،عمران خان جانتے تھے کہ کبھی کبھی، سخت الفاظ کسی جسمانی چوٹ سے زیادہ تکلیف پہنچا سکتے ہیں، لیکن مزاہمت سے ہیرو بننے سے قاصر رہے، جھوٹ کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کیا، کبھی امریکی سازش تو کبھی سائفر کا لہرانا، کبھی جنرل باجوہ پر ایکسٹینشن کا الزام تو کبھی امریکی غلامی نا منظور کا دعوی، قطع نظر کہ باجوہ ایکسٹینشن چاہتا ہو گا، لیکن غلامی خود بھی کرتے رہے ، امریکہ سے امیدیں لگائیں، ٹرینڈز چلائے گئے، اس جھوٹی سیاست نے ملک پر گہڑا اثر ڈالا، ن لیگ میں بھی ذاتی انا اچھے سیاستدان کھا گئی، لہذا جھوٹ بولنے سے ہم نہ صرف دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اپنی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہماری زبان ایک قیمتی تحفہ ہے اور اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ جو زہر عمران خان نے پھیلایا تھا آج اس کی زد میں خود بھی آ چکے ہیں، جو مزاہمت کو سیاست کا اصل چہرہ سمجھ بیٹھے ہیں وہ ملک کو پیچھے لے جا چکے ہیں لیکن آج بھی یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آ رہی، سب سیاسی جماعتیں اگر اپنے گریبان میں نظر جھکائیں تو شاید سیاست سے تشدد کا خاتمہ ممکن ہو جائے ، جو زہر پی ٹی آئی سوشل میڈیا اور چند ڈالر خور یوٹیوبرز نے دوسروں کی جان لینے کیلئے پھیلایا تھا آج وہ ان کو سانسیں بھی بند کر چکا ہے، کہتے ہیں کہ پاپولیرٹی انسان کو پاگل کر دیتی ہے ، کون پاپولیرٹی کے چکر میں پاگل ہوا یہ سب جانتے ہیں۔اب سیاسی ورکرز جان لیں کہ ماضی میں نہ عمران خان کا پھیلایا ہوا زہر کام آیا اور نہ مریم نواز کا لہرایا ہوا مُکا کام آیا۔لہذا ملک میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کو دیکھتے ہوئے مذاہمت نہیں بلکہ مفاہمت کو اپنا شعار بنا لینا چاہیے کیونکہ اب سب لالچی سیاست دان جمہوری روایات، عقل و فہم، فکری سوچ، اخلاقیات، اور نوجوانوں کا مستقبل کھا گئے ہیں ۔
نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں





