Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • شیریں مزاری کی اختیارت کے ناجائز استعمال کی داستان

    شیریں مزاری کی اختیارت کے ناجائز استعمال کی داستان

    خواجہ آصف سے پوچھا گیا کہ آپ نے شریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کیوں کہا؟ تو خواجہ آصف نے جواب دیا کہ جس طرح تالاب کا ڈو ڈو شور کر تا ہے اُسی طرح شیریں مزاری کی ٹَر ٹَر ٹریکٹر ٹرالی کے شور کا سَماں پیش کرتی ہے۔
    اِقتدار کے آخری دنوں میں جب خان کو اپنی ناؤ ڈوبتی نظر آئی تو شیریں مزاری کی لاٹری نکل آئی۔
    خان نے مخالفین پر حملوں کیلئے شیریں مزاری کا انتخاب کیا۔ جس کی اپنی بیٹی ایمان مزاری بھی اُس کے کنٹرول میں نہیں۔
    اپنے مذہبی پسِ منظر کی وجہ سے شیریں مزاری مغرب اور بالخصوص امریکہ کے خلاف جارحانہ رویہ اپنائے رکھی ہیں۔
    شیریں مہر النساء مزاری کی اختیارت کے ناجائز استعمال کی ایک الگ داستان ہے۔
    نیب ملتان شیریں مزاری کے خلاف زمین کی جعلی کمپنیوں کو دینے کے خلاف انکوائری کر رہا ہے۔
    راجن پور میں شیریں مزاری نے129ایکڑ سرکاری اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔
    وِراثتی جائیداد میں بھی غلط حصے کیلئے شیریں مختلف اِداروں پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔
    راجن پُور میں ہی شیریں مزاری نے 35138 کنال زمین کے الاٹیز پر زمین کی الاٹمنٹ سے دَست بردار ہونے کیلئے جھُوٹی FIRsکاٹی گئیں۔حتیٰ کہ الاٹیز سے بھتہ بھی وَصول کیا جاتا رہا۔
    اِس رویے کے خلاف شیر محمد، میر محمد، حبیب اللہ وغیرہ نے مزاری خاندان کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائرکر رکھا ہے۔
    الاٹیز 1997سے انصاف کے حصول کیلئے دَر بدر پھر رہے ہیں۔
    شیریں مزاری اپنے بھائی جو کہ مُشرف دُور میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی تھے، سے مل کر مخالفین کو پولیس اور دیگر اداروں سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان بھر میں تنقید در تنقید کا ایک نہ رکنے والے سلسلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ سیاسی وابستگی ایک طرف مگر عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کے کرتا دھرتا ہر شے پر بے جا تنقید اور سازش کے بیانیے کو یوں فروغ دینے میں مصروف ہیں کہ عوام میں غیر ضروری بے قراری ابھاری جا سکے۔ دراصل یہی وہ منطق ہے جس کے مسلسل پرچار سے خان اور اس کے ساتھی عوام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد عوام کو حکومت اور اداروں کے خلاف کھڑا کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو تباہ و برباد کرنا ہے۔ جس کے ذریعے وہ اپنے ذاتی ایجنڈے کی پیروی چاہتے ہیں ۔ اس عمل میں کچھ میڈیا کے عناصر کو بھی اپنے گھناؤنے عزائم میں شامل کررکھا ہے ۔ عمران خان، فواد چوہدری، شیریں مزاری اور شہباز گل تو گویا ایسے چشمے سے پاکستان کے حالات کو دیکھتے ہیں کہ جیسے آج کے سیاسی و اقتصادی حالات کے لیے سابقہ چار سالوں سے پی ٹی آئی نہیں بلکہ یا تو موجودہ حکومت، ادارے یا امریکا ذمہ دار ہیں۔

    اپنے سازشی بیانیے کی پیروی ایک طرف پھر اپنے ہی بیانات میں افواج پاکستان کو ذاتی سیاسی مقاصد کے حصول کی کوشش کے اعتراف سے اپنے ہی بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔ یہ تمام حکومتی سرگرمیوں کے ناقد ہیں اور نہیں چاہتے کہ کسی صورت بھی موجودہ حکومت انہی کی خراب کردہ معیشت کو ایک بہتر ڈگر پر چلا سکے۔ ایک طرف تو یہ نسرین جلیل کے بطور گورنر سندھ تعیناتی کی تجویز پر تنقید کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف اس بات سے لاعلم ہیں کہ شیریں مزاری کا یونائیٹڈ نیشنز کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی دعوت دینا انہی کے بیرونی سازش کے بیانیے کی نفی کرتا ہے۔

    کیا یہ یونائیٹڈ نیشنز میں امریکی اثر و رسوخ سے انجان ہیں؟ کیا یہ اس بات سے لاتعلق ہیں کہ جس توہین رسالت کے قانون کا یہ دفاع کرتے آئے ہیں، شیریں مزاری کے خط سے اسی کی تنقید کا سامان کر رہے ہیں؟ یو ٹرن ماسٹر تو یہ شروع سے ہی رہے ہیں مگر کیا آج اقتدار کی بھوک نے ان کو اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ یہ ایک جھوٹا اعلامیہ جاری کر کے خود ہی اس کی انجانے میں نفی بھی کرتے ہیں اوراس احساس سے عاری بھی ہیں۔ کیا یہ خود داری کی بات کرنے والے منافقت تو نہیں کر رہے اور پاکستان اور اس کی عوام کو اپنے اقتدار کی ہوس سے نیچا سمجھتے ہیں کہ ان کا استعمال کر رہے ہیں؟ آج یہ نسرین جلیل کو بھارت کو خط لکھنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کو کوئی عہدہ نہیں دیا جانا چاہئیے تو شیریں مزاری کا خط بھی ایسی ہی کارگزاری ہے۔ کیا یہ اپنے گریبان میں جھانکیں گے؟ اگر وہ غلط ہے تو پھر یہ بھی غلط ہے ۔ اور شیریں مزاری کو بھی مستقبل میں کسی بھی عہدے کے لیے ناموزوں سمجھا جائے ۔

  • عید سب منائیں گے ،تحریر:محمد معاذ حیدر

    عید سب منائیں گے ،تحریر:محمد معاذ حیدر

    ہم میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ کے میرے بچے کی ہر خواہش پوری ہو۔ باپ جیسی عظیم ہستی دن رات ایک کر کے اپنے بچوں کی خواہشات پوری کرتا ہے۔ بہت سے بچے ایسے ہیں جو اس سایے سے محروم ہیں اور بعض نچے ایسے ہیں جن کے سر پہ باپ کا سایہ تو موجود ہے لیکن غربت نے انہیں گھیر رکھا ہے۔ عید بچوں کا تہوار ہے ہم لوگ عید پہ اپنے بچوں کی تو ساری خواہشات پوری کرتے ہیں، لیکن مسکین، غریب، یتیم بچوں کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی اپنوں کے سنگھ عید منائیں ۔ ہمارا مال ہمارے لیے آزمائش ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں مال دے کہ آزماتا ہے کہ کیا ہم یہ مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں غریبوں، مسکینوں اور یتیموں کی مدد کے لیے خرچ کرتے ہیں یا نہیں۔ ہمیں غور و فکر کرنی چاہیے کیا ہم مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں یا نہیں کیا ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے احکامات پر عمل پیرا ہو رہے ہیں یا نہیں ۔ کیا ہم ضرورت مندوں کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں یا نہیں کیا ہم یتیم بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کر رہے ہیں انہیں خوشیاں دے رہے ہیں یا نہیں ۔ دیکھا جائے تو ہم بہت سی جگہوں پر فضول خرچ کرتے ہیں ایک کی بجائے پانچ پانچ اشیاء لیتے ہیں ہمیں اپنی فضولیات کو کم کر کے ک بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کرنی چاہیے تاکہ دل کو سکون نصیب ہو اور ہم اپنے رب کو بھی راضی رکھ سکیں ۔ لکھوں بچے ایسے ہیں جو عید نہیں مناتے اپنی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں وہ بےبس ہوتے ہیں چاہ کہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک نہیں ہو سکتے۔

    ذرا خود پہ غور کی جیے کیا ہم ان یتیم اور ضرورت مند بچوں کے لیے چھوٹے چھوٹے تحفے تحائف لے کہ انہیں اپنے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک نہیں کرسکتے؟ ہمیں ان ننھے پھولوں کی اپنی خوشیوں میں شریک کرنا چاہیے تاکہ یہ بھی کھل کا مسکرا سکیں۔ یہ سب ہمیں دلی سکون مہیا کرےگا اور ہم روز آخرت اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہوں گے ۔
    وقت بدلتے دیر نہیں لگتی آج کسی اور پر ہے کل یہ وقت ہم پہ بھی آ سکتا ہے خدارا اپنے اردگرد غریبوں.،بے سہارا، یتیموں کی مدد کریں ان کی زندگیوں میں خوشیاں لائیں اور انہیں کبھی اکیلا اور بے سہارا نہ چھوڑیں ۔
    عید آنے والی ہے ہمیں چاہیے کہ اس عید اور آگے آنے والی عیدوں میں ہم اپنے اردگرد لوگوں کی مدد کریں اور عید کی خوشیوں میں انھیں اپنے ساتھ شریک کریں.
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔
    ” عید ان کی تھی عباس حسرتیں جو اپنی قربان کر گئے فقط رسمیں نبھانے سے خدا راضی کب ہوا کس سے ہوا”

  • عمران خان کے زوال کے پیچھے تکبراور نااہلی

    عمران خان کے زوال کے پیچھے تکبراور نااہلی

    عمران خان کے زوال کے پیچھے تکبراور نااہلی

    لندن میں مقیم سینئر صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے اپنی تحریر میں کہا ہے کہ عمران خان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ وہ اتحادیوں کی جانب سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نامی اپوزیشن اتحاد کی حمایت کرنے کے بعد وہ پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کھو بیٹھے۔ اب انہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے استعفیٰ دینے یا معزول کرنے کے مطالبات کا سامنا تھا، تا ہم اب عمران خان نے اسمبلی تحلیل کر دی ہے

    دونوں سابق کرکٹ اسٹار اور مشہور شخصیت کے لیے ذلت آمیز منظرنامے ہیں جنہوں نے اقتدار میں رہنے کی شدت سے کوشش کی ہے۔انہوں نے تمام اصولوں ،دعووں وعدوں کو ماننے سے انکار کیا ، دو الفاظ ہی اب انکی تعریف بیان کرنے کو رہ گئے ہیں تکبر اور نااہلی

    ایسا نہیں تھا جب عمران خان 2018 میں اقتدار میں آئے۔ وہ مقبول تھے اور پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کا خیال تھا کہ وہ ملک کو کرپشن اور غلط طرز حکمرانی سے نجات دلائیں گے انہیں موقع ملا ہے،انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ 90 دنوں میں پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے۔ بے مثال سرمایہ کاری کو راغب کریں گے دس ملین ملازمتیں دیں گے اور کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کے علاوہ ملک سے لوٹے گئے اربوں روپے واپس لائیں گے۔

    تقریباً چار سال گزرنے کے باوجود وہ ایک بھی وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اور، کچھ عرصہ پہلے تک، عمران خان کو ہر ممکن طریقے سے پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل رہی۔ درحقیقت، خان کے سب سے اہم اتحادی، پرویز الٰہی نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ساڑھے تین سال تک کسی اور نے ان کی نیپی بدلی اور اس طرح انہیں سیکھنے نہیں دیا

    عمران خان کو مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے میں اپنا وقت صرف کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ درجنوں صحافیوں کو قید کر دیا گیا۔ پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جنگ گروپ کے چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمٰن کو ایک ایسے کیس میں بند کر دیا گیا جس کی ہیومن رائٹس واچ نے مذمت کرتے ہوئے اسے "سیاسی محرک” قرار دیا۔ بعد میں اسے عدالت نے بری کر دیا تھا۔

    یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ عمران خان کے پاس معاشی ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ اس نے ایک کے بعد ایک وزیر خزانہ تبدیل کیا لیکن معیشت گرتی رہی اور ملازمتوں کی تعداد کم ہوتی رہی۔ آج پاکستان میں مہنگائی جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ عام لوگوں کے لیے جینا اور جینا بہت مشکل ہو گیا ہے۔

    آخر کار اس کی مقبولیت اس کے درمیانی طبقے میں کم ہوگئی۔ تین ماہ قبل معاملات نے ایک مختلف رخ اختیار کیا جب جنرل ندیم احمد انجم کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ ایک مکمل پیشہ ور جس نے لندن میں تین سال تعلیم حاصل کی، جنرل ندیم نے ایجنسی کو حکم دیا کہ وہ سیاست میں مداخلت نہ کرے، غیر جانبدار رہے اور سیاستدانوں کو اپنے معاملات آپس میں طے کرنے دیں۔ اس سے ان کے اتحادیوں کے لیے حزب اختلاف کی اہم جماعتوں سے بات کرنا اور اپنے آزاد مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرنا آسان ہو گیا۔

    اس کے بعد سے بہت سارے الزامات سامنے آئے ہیں کہ وہ امریکہ کی طرف سے تیار کی گئی بین الاقوامی سازش کا شکار ہے کیونکہ وہ روس کے ساتھ ایک آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا تھا۔ ان کے ایک معاون نے دعویٰ کیا کہ انھیں انہی مغربی قوتوں کی جانب سے قتل کے خطرے کا سامنا ہے جنہوں نے انھیں اقتدار سے بے دخل کرنے کی سازش رچی تھی۔ اس کے بعد پتہ چلا کہ امریکہ کی طرف سے کوئی دھمکی آمیز خط نہیں لکھا گیا،

    میرا احساس یہ ہے کہ عمران خان جانتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی سازش نہیں ہو رہی اور کوئی مغربی طاقت انہیں باہر پھینکنا نہیں چاہتی۔ لیکن اسے اس بات پر یقین کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑتا کہ وہ سازش کی وجہ سے باہر ہو گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسے اپنی پارٹی اور اپنے اتحادیوں سے خطرہ ہے کیونکہ اس نے چاند کا وعدہ کیا تھا لیکن کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ اس کے تکبر اور غلط حکمرانی سے سراسر مایوسی ہے جو اس کے اتحاد کو توڑ رہی ہے۔

    نوٹ، یہ تحریر عدم اعتماد مسترد ہونے سے قبل کی ہے

  • میری روز کی سُرخ تحریر،تحریر:زکیہ نیر ذکّی

    میری روز کی سُرخ تحریر،تحریر:زکیہ نیر ذکّی

    میری بیٹیوں کی شادی کسی انسان سے کرنا ” رحیم یار خان میں تعینات سب انسپکٹر میری روز نے زندگی سے ناطہ توڑنے سے چند لمحات پہلے ان لفظوں میں لپٹی التجا کر کے معاشرے میں موجود عورت کی اصل حیثیت کی پوری داستان سنا ڈالی۔۔اس نے خود تو جیسے تیسے زندگی گزار دی مگر جاتے جاتے بیٹیوں کے مستقبل کے بارے دل میں موجود خوف کو عیاں کر گئی اس ایک جملے میں شکوہ بھی ہے اور وہ درد بھی جس نے اسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔وہ عورت جس نے تعلیم حاصل کی ایک ایسے شعبے کو چنا جس میں مضبوط اعصاب کا ہونا پہلی شرط مانی جاتی ہے مگر نہ جانے ان اعصاب پر کیا کچھ بیتا تھا جس نے برداشت کی ہر حد کو کرچی کرچی کر کہ رکھ دیا جس نے اس سوچ کو ہی اعصاب سے کھینچ اتارا کہ معصوم بیٹیاں ماں بن ادھوری رہ جائیں گی بس سسکتی زندگی کے اس درد سے فرار کی جو راہ چُنی تو وہ محض جیتا جاگتا جہاں ہی چھوڑ جانا ٹھہرا۔۔

    معاملات کی چھان بین ہوگی میرا نہیں خیال کہ ہمارے قوانین میں کوئی ایسا قانون بھی ہے جو خود کشی کے پیچھے کار فرما عوامل اور عناصر تک ہاتھ ڈال سکے۔۔کچھ خبریں یہ بھی ہیں کہ روز میری ڈی پی او رحیم یار خان سے چھٹی کے معاملات پر دل برداشتہ تھیں جبکہ شوہر نے اسی شعبے سے وابستہ ہونے کے باوجود بیوی کے ذہنی تناؤ میں کمی کرنے کے بجائے اس قدر اضافہ کیا کہ اسے چاروں طرف کے در بند دکھائی دینے لگے۔بیوی کے لیے شوہر ہی وہ واحد سہارا ہوتا ہے جس سے دکھ درد میں امیدوں کا ہر دھاگہ بلا تکلف باندھ دیتی ہے جب حالات اس نہج پر لے آئے کہ خوشیوں میں ساتھ نبھانے والے سے اب الجھنوں میں بھی ساتھ مانگا جائے تو سوائے بے رخی اور اجنبیت کے کچھ دکھائی نہ دیا۔۔نہ جانے کتنی راتیں اس امید میں بتا دی گئیں ہونگی کہ صبح ہوتے میرا ہمسفر میری راہیں آسان کرنے کے لیے میرا ہاتھ تھام لے گا مگر دن گزرتے گئے بڑی بیٹی چار سال کی ہوگئی زندگی کھلکھلانے کے بجائے سسکنے لگی تو سب انسپکٹر روز میری نے آزمائش میں مایوسی دینے والے اس رشتے کو الوداع کہہ ڈالا۔۔اور راہ یہ ڈھونڈی کہ شوہر سے علیحدگی لینے کے بجائے اپنے وجود کو اس دنیا سے ہی الگ کر دیا جائے۔۔

    سوچتی ہوں کہ وہ سرخی جس سے الوداعی پیغام لکھ کر چلی گئی وہی لال شوخ رنگ کی سرخی جسکے کھلے رنگ میں نہ جانے کتنے خواب ہونگے کتنی حسیں خواہشات ہونگی ایک ہنستی بستی ازدواجی زندگی جسکی چاہ ہر عورت کے دل پر سجی تحریر ہوتی ہے پھر ان خوابوں کو روندتے مسلتے اور بے توقیر ہوتے دیکھ کر وہ کس قدر ٹوٹی ہوگی۔۔

    ہم جیسے ترقی پذیر ممالک میں بڑھ چڑھ کر خواتین کے حقوق کی بات کی جاتی ہے پلے کارڈز اٹھائے جاتے ہیں اعدادوشمار کا ایک چارٹ ہر سال پیش کیا جاتا ہے جس میں ان پر تشدد زیادتی انکے حقوق کی سلبی کے کئی واقعات شامل کیے جاتے ہیں ہم اکیسویں صدی میں ہوتے ہوئے بھی چار سال کی اس بچی کا جنازہ اٹھاتے ہیں جس سے چالیس سال کے مرد نے زیادتی کی ہوتی ہے اور پھر اسکی سانسیں روک دینے پر بھی وہ با اختیار نظر آتا ہے ونی، وٹہ سٹہ اور قرآن سے شادیاں یہ وہ پست رسمیں ہیں جو آج بھی ہمارے دیہی علاقوں میں بلا خوف و خطر وڈیروں اور جاگیر داروں کا پسندیدہ کھیل سمجھا جاتا ہے۔۔
    ملک کی آبادی کا اکاون فی صد حصہ خواتین پر مشتمل ہے ملک کی مجموعی ترقی اور مہنگائی کے اس دور میں اگر پڑھی لکھی عورت شادی کے بعد اپنا کرئیر جاری رکھنا چاہتی ہے تو اکثریت کے لیے یہ جان جوکھوں کا کام بن جاتا ہے بچوں اور سسرال کی زمہ داری شوہر کے فرائض گھر کے کام کاج جیسی رکاوٹوں کو وہ خوشی خوشی عبور کر بھی لے تو اسکے لیے نوکری جاری رکھنا مشکل سے مشکل بنا دیاجاتا ہے۔۔میں کئی ایسی خواتین کو جانتی ہوں جو ہر رات شوہر سے جنسی اور جسمانی تشدد بطور سزا اسلیے سہتیں کہ وہ صبح دفتر جاتے ہوئے خود کو مرد سے زیادہ با اختیار اور لائق فائق نہ سمجھ بیٹھیں۔انکے اعتماد کو روندنے کے لیے ہمسفر کہلانے والا مرد ہر حد تک جاکر اسے ذہن نشین کراتا ہے کہ عورت ہو لاکھ پیسہ کما لو یا نام بنا لو مرد کے درجے تک نہیں پہنچ سکتی مرد طاقتور ہے۔۔یہ وہ پست سوچ ہے جسکا سامنا اس دور میں بھی کئی کام کرنے والی خواتین کرتیں ہیں اولاد در بدر نہ ہوجائے،باپ بھائی کی عزت پر آنچ نہ آجائے،اگر پولیس میں شکایت کی تو شوہر جان سے ہی نہ مار دے اور سب سے بڑھ کر طلاق کا خوف کیونکہ ہمارا معاشرہ موت کو طلاق پر ترجیح دیتا ہے یہ وہ خدشات ہیں جن کی وجہ سے وہ تشدد تو برداشت کرتی رہتی ہیں مگر زبان نہیں کھول پاتیں کئی تو ایسی ہیں جو شوہروں کی جانب سے موٹی موٹی گالیاں اور کردار کشی پر بھی خاموش ہوجاتی ہیں۔۔ جو سب سے اہم نقطہ ہے اسے ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے اور وہ ہی کمزور خاندانی نظام میں گھسیٹے جانے والے ازدواجی رشتے۔۔رشتے کی نوعیت تو ایک جیسی ہوتی ہے مگر اپنی بیٹی اور دوسرے کی بیٹی کے متعلق ہماری سوچ تقسیم ہوجاتی ہے۔۔ہم اپنی بیٹی کے سکون کے لیے ہر ایک قدم اٹھانے کو تیار ہوتے ہیں داماد سے ہر ایک توقع پر پورا اترنے کا تقاضا کرتے ہیں۔۔بیٹی کے ہنستے بستے گھر کی تمنا ترجیح ہوتی ہے مجال ہے داماد کی جو بیٹی کی آنکھ میں ایک آنسو بھی لانے کا گناہ گار ہو۔۔مگر بہو جو آپکے خاندان کا فرد بننے کے لیے اپنا گھر چھوڑ آئی اپنی عادتیں اپنی خواہشیں اپنے سارے ارمان بابل کے آنگن کو سونپ آئی۔۔اب یہ ذمہ داری اسکے شوہر سمیت سسرال کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اسے تحفظ فراہم کریں اسکی آسانی کے لیے اسکا ساتھ دیں اسکی مشکلات کو حل کرنے کے لیے ساتھ کھڑا ہوا جائے۔۔مگر جب اسے نئے گھر میں اپنائیت کے بجائے اجنبیت، سکون کے بجائے ناچاقی،ساتھ کے بجائے تنہائی اور لاڈ کے بجائے تشدد ملے گا تو وہ ٹوٹے گی بھی اور بکھرے گی بھی۔۔قران بھی شوہر کو عورت کو قوام قرار دیتا ہے مگر جب محافظ اور رکھوالا ہے آپ کو غیر محفوظ ہونے کا احساس دلانے لگے تو پھر وہ عورت کہاں جائے۔۔گھر سے نکلتے سمے اسے کہا جاتا ہے سسرال میں نبھا کرنا اب وہی تمہارا گھر ہے۔۔کتنی عجیب سی بات ہے ناں کہ سرخ آنچل اوڑھ لینے کے بعد وہ بابل کے گھر سے تو عورت پرائی ہوئی تھی مگر پیا گھر میں بھی اسے اپنا نہیں سمجھاجاتا۔۔ تبھی روز میری نے سوچا ہوگا کہ شاید قبر ہی واحد جگہ ہے جو کم از کم اسکی اپنی تو ہوگی۔۔۔۔

    zakiya
    :زکیہ نیر ذکّی

    @NayyarZakia

  • سب کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں ،محرر: لعل ڈنو شنبانی

    سب کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں ،محرر: لعل ڈنو شنبانی

    دنیا میں عجیب و غریب سیاسی صورت حال ہے۔یوکرین اور روس معاملات کے بعد تو سیاسی دنیا میں مزید ایک گفتگو کی فزا بن رہی ہے اور چائنہ میں کورونا پھر سے نمودار ہو رہا ہےاور صیہونی سربراہ نے طیب اردوگان سے ملاقات کی ہے۔ دوسری طرف ہمارا پڑوسی بھارت غلطی سے میزائیلیں بھیج رہا ہے دنیا میں تقریباً ہر دوسرے سیاست دان اور حکمران کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔

    اب آتے ہیں وطن عزیز پاکستان کی سیاست میں۔تحریک انصاف اقتدار والی جماعت ہے،پیپلزپارٹی موجودہ وقت میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارٹی اور جمیعت علماء اسلام سب سے زیادہ سرگرم ہے۔منہگائی اور غربت نے لوگوں کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے جب بھی مہنگائی ہوتی ہے اس کا ذمہ دار حکمراں جماعت کو ٹھرایا جاتا ہے سو اسی طرح تحریک انصاف مہنگائی کی ذمہ دار ہے اس کے علاوہ تحریک انصاف میں گروپس کی موجودگی نے جماعت کو کھوکھلا کر دیا۔یوں کہنا غلط نہ ہوگا کہ تحریک انصاف کو اپنے آپ سے خطرہ ہے۔

    اب ایک نظر اپوزیشن پر تحریک لبیک صوبہ پنجاب کی بڑی دینی جماعت کے طور پر ابھر رہی ہے جس کی اتحادی بننے کے لیے تحریک انصاف اور ق لیگ بے تاب ہیں پر یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ق لیگ کو ترجیح دیں گے جب یہ بن جائے گی تو وہ یقیناً ن لیگ،پیپلزپارٹی کے خلاف ہی بنے گی کیوں کہ تحریک انصاف پہلے ہی گھر جانے کے موڈ میں ہے۔

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مولانا فضل الرحمان ایک جمے ہوئے سیاستدان ہیں۔وہ اس وقت ڈبل گیم کھیل رہے ہیں۔جمیعت وفاق میں پیپلزپارٹی کی اتحادی ہے تو صوبے میں ان کی مخالف۔ کافی لوگوں کا یہ خیال تھا کہ سابق وزیراعلی سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم،پیر سائیں پاگارا،فہمیدہ مرزا اور جی ڈی اے کے دوسرے اتحادی دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی کے اقتدار کا صفایا کریں گی مگر ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ دیہی سندھ میں وفاقی اتحادی پیپلزپارٹی اور جمیعت آمنے سامنے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ہر بیان پر ردعمل کوئی دے رہا ہے تو وہ جمیعت والے ہیں۔پیپلزپارٹی کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اسے جمیعت سے خطرہ ہے اس لیے مفاہمت کے بادشاہ آصف زرداری نے اسیمبلیوں میں استعفے دینے سے گریز بھی کیا۔پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت قائم رکھنا چاہتی ہے وفاقی اقتدار کے لیے اسے ایک صوبے کی مزید ضرورت ہے شاید اس کی نظریں بلوچستان پر ہیں کیوں کہ پنجاب میں پہلے ہی ق لیگ،ن لیگ اور لبیک کے نام ہو چکی ہے۔ایم کیو ایم کا سندھ کی وزارت اعلی کی کرسی حاصل کرنے کا خواب شاید 2023 میں پورا ہوتا ہوا دور دور تک نہیں دکھائی دے رہا۔

    خیبر پختونخواہ اوربلوچستان میں بھی سیاسی سرگرمیان تیز ہیں۔بلوچستان کے دارالحکومت میں پشتون سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا پے جمال کمال خان کی وزارت کو چھیننے میں بھی پشتون سیاست کا حصہ تھا،بلوچ قوم پرست پارٹیوں کی منزل بھی غیر واضح ہے۔خیبر پختونخواہ میں جمیعت کی بلدیاتی الیکشن میں کامیابی کے بعد جمیعت کو ایک مزید صوبے کی تلاش ہے شاید ان کی نظریں سندھ پر ہیں۔پر زیادہ خوش ہونے کی بھی ضرورت نہیں کیوں کہ ابھی یہاں بھٹو زندہ اور پائندہ ہے۔

    سیاست کی جنگ میں کوئی کسی کے ساتھ مخلص نہیں سب کی کانپیں اپنی اپنی جگہ ٹانگ رہیں ہے

  • خود د ار پاکستان ،تحریرانعم راجپوت

    خود د ار پاکستان ،تحریرانعم راجپوت

    ملک میں ان دنوں انتشار اور غیر یقینی کی جو صورت حال چل رھی ھے وہ یقینن تکلیف دے ھے جب بھی کوئی حکمران غیرت کا مظاھرہ کرتا ھے تو چند مہرے دشمن کے اشارے پر اچھلنا کیوں شروع کر دیتے ھیں کیا انھیں ملک کی خوداری عزیز نہیں ؟؟ اگر وہ عوام کے درد میں بے حال ھو رھے ھیں تو پہلے اس سب کا حساب دیں جو وہ اپنے دور حکومت میں کر چکے ھیں پھر عمران خان سے حساب مانگیں ۔

    ایسا کیوں ھے کہ عمران خان اورسیز کو بغیر وطن واپس آئے ووٹ دینے کا حق دے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان الیکشن میں شفافیت کے لیے ای وی ایم کے زریعے الیکشن کروانےکا اعلان کرے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان گزشتہ حکومتوں کے پروجیکٹ مکمل کرے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان پٹرول سستا کرے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان ھیلتھ کارڈ جاری کرے تو اپوزیشن کو تکلیف اور عمران خان امریکہ اور یورپ کے ڈو مور کے جواب میں ابسولیٹلی ناٹ کہے تو اوزیشن کو تکلیف ۔پاکستانیوں کیا تمھیں سمجھ نھی آ رھی کہ اپوزیشن کس کے اشارے پر بندر کی طرح اچھل رھی ھے؟

    اسلام دشمن قوتوں نے بلحاظ ایک اسلامی ملک کے پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا توبرداشت کر لیا ھے مگر وہ پاکستان کو آگے بڑھتا ھواپھلتا پھولتا برداشت نھی کرسکتے۔ وہ جانتے ھیں پاکستان معاشی طور پر مضبوط ھو گا تو ایشیا ھی نھی دنیا بھر کے مسلم ممالک یہودی اور عیسائی طاقتوں کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ھوں گے تیسری نشاط اسلامیہ جنم لے گی اور سودی نظام اپنے بنانےوالوں سمیت اپنے بل میں پناہ لینے ہر مجبور ھو جاےت گا اور یہودی و عیسائی یہ سب نھی چاھتے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک بار کہا تھا پاکستان کی بقا ھی خطے کے مسلمانوں کی بقاء ھے ۔ پاکستان کی جو جغرافیائی حیثیت ھے اس لحاظ سے تو عمران خان ھی بطور حکمران جچتے ھیں_

    پاکستان کی اس حیثیت سے خود پاکستان کو اتنا فاٸدہ نھی ھوا جتنا نقصان ھوا ھے۔ نواز شریف یا آصف علی زرداری کی اتنی اوقات ھے نہ ھی ان میں جرات کہ وہ امریکہ اور یورپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں یہ کام عمران خان اچھے سے کر سکتے ھیں اور کر بھی رھے ھیں ۔ میں یہ نھی کہتی کہ وہ قاٸد اعظم ثانی ھیں ھاں لیکن ان میں قاٸداعظم جیسی جرات بے باکی دو ٹوک انداز ضرور پایا جاتا ھے ۔ عمران خان نے بطور حکمران کچھ غلطیاں بھی کی ھوں گی بطور انسان ان میں خامیاں بھی ھوں گی کیونکہ وہ فرشتہ تو نھی ھیں انسان ھیں لیکن وطن اور قوم کے لیے ان کے اخلاص پر کوئی دو رائے نھی ھے۔

    اگر آپ مہنگائی سے نالاں ھیں تو وہ دنیا کے ھرملک میں ھے اور آپکو میں بتاتی چلوں کہ ایوب خان کے دور میں جب امن و امان مثالی تھا جب پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار پر دنیا حیران تھی اور پاکستان ایشین ٹاٸیگر بننے جا رھا تو نام نہاد جمھوریت پسندوں اور سویلین بالادستی کے شوقین سیاستدانوں نے مہنگاٸ کے نام پر یہ افراتفری تب بھی مچاٸ تھی۔ آپ اگرواقعی مہنگاٸ سے نالاں ھیں تو عمران خان پر تنقید کریں کوٸ آپکو نھی روکے گا مگر ان لوگوں کی حمایت نہ کریں جو اپنی خوداری تو بیچ ھی چکے ھیں اب وطن کی خود داری بھی بیچنا چاھتے ھیں ۔وقت آ گیا ھے سندھی بلوچی پنجابی کشمیری بننے کے بجاۓ اور پی پی , پی ایم ال این یا پی ٹی آئی کے فالور بننے کے بجائے اورموجودہ صورت حال پر ٹھٹھے اڑانے یا قہقہ لگانے کے بجائے اپنے وزیراعظم کے پیچھے دیوار بن کر کھڑے ھوں اور ایک لفظ "پاکستانی,, پر متحد ھو جاٸیں ۔ اور دشمن کو بتاٸیں کہ ھم پاکستانی ھیں اورھم بلحاظ قوم اپنے وطن کی خوداری پر سمجوتا نھی کریں گے آزاد ملک کا قیام 1947 میں ھوا تھا اور ان شاء اللہ خودار پاکستان کا قیام 2022 میں عمل میں آئے گا ۔ داٸیں یا باٸیں ھونے سے پہلے یاد رکھیں عالم اسلام کے قلب میں واقع آپ کا یہ نیو کلیر ملک صرف آپ کا نھی دنیا بھر کے مسلمانوں کا محافظ ھے۔

    جو جنگ لڑی جاری رھی ھے اسے آپ اسلام اور کفار کی جنگ بھی کہہ سکتے ھیں اور ان شاء اللہ ھم نے یہ جنگ ھر صورت جیتنی ھے ۔ اللہ پاک وزیراعظم پاکستان , وطن عزیز اور ھم وطنوں کا حامی و ناصر ھو آمین

  • عدم اعتماد ! اور پاکستان ،تحریر : تابش عباسی

    عدم اعتماد ! اور پاکستان ،تحریر : تابش عباسی

    وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آج کل وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے حوالے سے ہر روز کوئی نہ کوئی خبر سامنے آتی ہی رہتی ہے ۔ اس عدم اعتماد نے شاید عمران خان صاحب کو اپنے کچھ خاص لوگوں کے اصلی رنگ بھی دکھائے ۔ اس پورے عدم اعتماد کی تحریک کو بریک آ کر ان ہی کچھ ممبرانِ اسمبلی کی ہاں یا ناں پر لگی ہے جو میرے خیال سے جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں ۔ یہ وہی چند لوگ ہیں جو مشرف صاحب کے بعد ، پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ ن اور اب موجودہ حکومت میں پاکستان تحریک انصاف کے وفادار بنے تھے ۔ تازہ ترین مثال ندیم افضل چن صاحب کی ہے جو پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی برائیاں کی اور اب معاون حکومت کا عہدہ واپس لیے جانے کے بعد دوبارہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تو ان کو پاکستان تحریک انصاف میں برائیاں نظر آنے لگی ۔ چن صاحب اور ان جیسے اور موسمی پرندے جمہوریت کے نام پر بدنما داغ ہیں ۔ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان بھی جمہوری لوگوں نے ہی پہنچایا ہے ۔

    عمران خان صاحب کی ایک بہت بڑی ناکامی یہ ہے کہ موجودہ حکومت عام لوگوں کی نظر میں صرف اس لیے ناکام ہے کیونکہ مہنگائی کا جن اس حکومت سے آج تک قابو نہ ہو سکا ۔ شاید جو اقدامات اس حکومت نے کیے ان کا ثمر آمدہ چند سالوں میں نظر آئے مگر "مہنگائی” نے حکومت کے سب اچھے اقدامات پر بھی پردہ ڈال رکھا ہے ۔ دوسری بڑی غلطی اس حکومت میں شاید نااہل لوگوں کو ملنے والے اعلی عہدے تھے ، حکومتی وزراء میں سے چند ایک کے سوا اپنا کام اس طرح نہ کر پائے جس کے دعوے کیے گئے تھے ۔ معاونین کے نام پر غیر منتخب نمائندوں کی ایک ایسی فوج وزیر اعظم کے ارد گرد بھارتی کی گئی جس نے وزیر اعظم اور ان کے منتخب نمائندوں میں نفرت کا نہ صرف بیج بویا بلکہ پروان بھی چڑھایا ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے جہانگیر ترین اور علیم خان صاحب ، اعظم خان کا رونا روتے نظر آئے ۔ شاید عمران خان صاحب کو اب یہ سمجھ آ گئی ہو گی اور ان کو مان بھی لینی چاہیے کہ اپنی حکومتی ٹیم بناتے وقت ان سے غلطیاں ہوئی ہیں ۔ تیسرا بڑا مسئلہ وزراء حکومت کی جانب سے غیر ضروری بیان بازی بھی رہی جس نے اپوزیشن کے تمام دھڑوں کو اکھٹے لا کھڑا کیا ۔

    اپوزیشن اس وقت اس بات پر متفق ہے کہ عمران خان صاحب کو وزیر اعظم نہیں رہنا چاہیے – پر سوال یہ ہے کہ نیا وزیراعظم ہو گا کون ؟ اس کے پاس اختیارات کیا ہونگے ؟ ملک جس نہج پر ہے یا جو حالات اس وقت بین الاقوامی سطح پر ہیں ان میں کیا عدم اعتماد درست اقدام ہو گا ؟ 24 سال بعد آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد کے موقع پر یہ سیاسی لڑائی کہیں وطن عزیز کو 2009 والی پوزیشن میں نہ لے جائے ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اگر کوئی حقیقی معنوں میں جمہوری جماعت ہوتی تو شاید یہ دن دیکھنا ہی نہ پڑتا ۔ جب تک وارثتی سیاست ہو گی تو پھر ذاتی لڑائیاں بھی جمہوریت و جمہور کے نام پر لڑی جائیں گی ۔

    رہی سہی کسر انصار السلام کے رضاکاروں کی پارلیمنٹ لاجز میں موجودگی نے پوری کر دی ۔ پوری دنیا میں شاید ایسی مثال کہیں نہ ملے کہ منتخب نمائندوں کی حفاظت کے لیے ایک مذہبی و سیاسی جماعت کی عسکری ونگ میدان عمل میں آ جائے ۔ شاید یہ تحریک عدم اعتماد کو پرتشدد بنانے کی کوشش ہے ۔عمران خان صاحب اور ان کی پوری ٹیم کو یہ بات سمجھنا ہو گی اب ان کو ہر بات ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے ۔ خود وزیر اعظم صاحب کو اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ وزیر اعظم ریاست کا سربراہ ہوتا ہے ۔ باقی وزیر اعظم کوئی بھی ہو ، پاکستان زندہ باد رہنا چاہیے کیونکہ لوگ آتے جاتے رئیں گے پر ملک قائم رہے گا انشاء اللہ ۔

  • آسٹریلیا اور پاکستان کی باہمی کرکٹنگ ہسٹری، تحریر: زین العابدین شاہ

    آسٹریلیا اور پاکستان کی باہمی کرکٹنگ ہسٹری، تحریر: زین العابدین شاہ

    ڈیجیٹل باونڈریاں، رنگ برنگی کرسیاں ، سو فیصد شائقین ۔
    کرکٹ آسٹریلیا 24 سال بعد راولپنڈی ٹیسٹ سے تاریخی سیریز کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔

    ایک طرف ٹی ٹونٹی اور ون ڈے کے نمبر ون بیٹسمین بابر اعظم ٹیسٹ کے نمبر ون بالر پیٹ کمنز کا سامنا کریں گے تو دوسری جانب ٹیسٹ کے نمبر ون بلے باز مارنوس لبوشین کرکٹر آف دی ایئر "شاہین شاہ آفریدی” کے مدمقابل کھڑے ہوں گے۔
    کرونا کے باعث حارث رؤف پہلے میچ میں شرکت نہیں کر پائیں گے ان کی جگہ اسی سٹیڈیم میں دنیا کے کم عمر ترین ٹیسٹ ہیٹرک کرنے والے نسیم شاہ جلوہ گر ہوں گے جبکہ وکٹوں کے پیچھے ٹی ٹونٹی کرکٹر آف دی ایئر محمد رضوان کھڑے ملیں گے۔

    ماضی میں ایک نظر دیکھیں تو پاکستان اور آسٹریلیا کے ایک دوسرے کیلئے کبھی بھی آسان حریف ثابت نہیں ہوئے۔
    آسٹریلیا نے بہت سے اہم مواقعوں پر پاکستان کو شکست دی 1999 ورلڈکپ فائنل میں پاکستان کو بدترین شکست ہوئی اور 2010 ورلڈکپ سیمی فائنل میں جب پاکستان جیت کے انتہائی قریب تھا تو سعید اجمل کی پٹائی کر کے مائیک ہسی نے پاکستانی شائقین کی ہنسی رنج میں بدل دی۔ 2021 ورلڈکپ سیمی فائنل میں جب پاکستان پیچھلے بدلے لینے کے قریب تھا کے حسن علی نے کیچ چھوڑا اور پاکستان نے میچ۔لیکن اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو 1999 کے ورلڈکپ سے 2011 ورلڈکپ تک مسلسل 34 میچوں میں ناقابلِ شکست رہنے والی آسٹریلیا کو آخری دفعہ 1999 ورلڈکپ میں پاکستانی شاہینوں نے شکست دی تھی جبکہ 2011 میں 34 میچوں کے بعد پاکستان نے ہی شکست دے کر یہ سٹریک توڑی۔ اگر پاکستان اور آسٹریلیا کی باہمی کرکٹنگ ہسٹری کو دیکھا جائے تو پاکستان اور آسٹریلیا پہلی دفعہ 1956 میں نیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں مدمقابل آئے اور پاکستان نے وہ میچ 9 وکٹوں سے باآسانی جیت لیا۔

    یہاں پے آپ کو ایک انٹرسٹنگ بات بتاتے ہیں پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین دوسرا میچ 1959 میں ڈھاکا میں کھیلا گیا لیکن ڈھاکا تب پاکستان کا حصہ تھا اور اسٹیڈیم میں پاکستان ذندہ باد کے نعرے گونجتے رہے۔ پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین آج تک 66 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے کینگروز نے 33 اور شاہینوں نے 15 میچز جیتے جبکہ 18 مقابلے برابر قرار پائے۔

    104 ایک روزہ مقابلوں ہوئے 68 میں آسٹریلیا نے کامیابی حاصل کی جبکہ 32 مقابلوں میں پاکستانی سرخرو ہوئے 4 مقابلے بلا نتیجہ ختم ہوئے۔ 24 ٹی ٹونٹی میں 13 کامیابیوں کے ساتھ شاہینوں کا پلڑا بھاری رہا جبکہ 10 مقابلوں میں شکست اور برابر رہا۔ کرکٹ آسٹریلیا اور پاکستان نے دو لیگ سپنرز "ریچی بینو” اور "عبدالقادر” کی یاد میں اس ٹرافی کا نام ‘بینو قادر ٹرافی” رکھا ہے۔ اور انٹرسٹنگلی پاکستانی پلینگ سکواڈ میں اس دفعہ کوئی لیگ سپنر نہیں کیونکہ "یاسر شاہ” ریزروز میں ہیں جبکہ آسٹریلین سکواڈ میں موجود لیگ سپنر ” میچل سویپسن "ابھی تک ٹیسٹ ڈیبیو کے منتظر ہیں۔ کرکٹ ایکسپرٹس کے مطابق اس سیریز میں فاسٹ باؤلرز کا رول زیادہ اہم ہوگا۔

  • کرپشن اور پاکستان، تحریر:عبدالوحید

    کرپشن اور پاکستان، تحریر:عبدالوحید

    کسی بھی ترقی یافتہ ممالک میں سیاستدانوں پر جب معمولی کرپشن کے الزامات لگتے ہیں تو فوری مستعفی ہو جاتے ہیں
    مگر یہاں کے سیاست دانوں کی بات ہی کچھ اور ہے ۔اس ملک کے سیاست دان اپنی کرپشن کا کھل کر دفاع کرتے ہیں اور خود کو بہت بڑا فاتح سمجھنے لگ جاتے ہیں جیسے انہوں نے کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہوا ۔ کرسٹیان وولف جرمنی کے صدر تھے ۔اور وہ اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے ۔اور یہ انکشاف ہوا کہ نجی سفر کے دوران ان کے ہوٹل کا کرایہ ان کے کسی دوست نے ادا کیا تھا جو کہ کرپشن کے زمرے میں آتا ہے ۔اور ساتھ ہی کرسٹیان وولف نے اپنے مکان کے لیے رعایتی شرائط پر قرض لینے کا بھی الزام تھا ۔ ان الزامات کی بنیاد پر اپوزیشن جماعتوں نے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور ان پر دباؤ ڈالا ۔ کرسٹیان وولف نے سبکی سے بچنے کے لیے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور صدر نے اپنے بیان میں کہا ان واقعات کی وجہ سے مجھ پر عدم اعتماد کا دھچکا لگا ہے اس لیے میں صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں ۔

    ایسے کئی واقعات ہیں جو ترقی یافتہ ممالک کے سربراہان پر لگے اور انہوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ۔ لیکن پاکستان میں جس طرح کی لوٹ مار ہورہی ہے اس پر کسی کو شرمندگی تک محسوس نہیں ہوتی ۔ موجودہ دور کی بات کی جائے تو اپوزیشن جماعتوں کے تمام تر بڑے لوگوں پر کرپشن کے الزامات ہیں اور بہت سے لوگوں پر کرپشن ثابت بھی ہوچکی ہے اور اس بنیاد پر انہیں جیل بھی ہو چکی ہے لیکن وہ کسی قسم کی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی اور اپنے کرپشن کا بڑھ چڑھ کر دفاع کرتے ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں ۔

    کرپشن کسی بھی ملک کے لیے ناسور ہوتا ہے جس سے ملک ترقی کی بجائے تنزلی کی جانب جاتا ہے ۔کرپشن چاہے مالی ہو اخلاقی ہو اس حقیقت سے کون منکر ہوسکتا ہے کہ قومی خزانے کی چوری ملک کی مالی وسائل کی لوٹ مار ایسا ناسور ہے جو ہمارے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سمیت پورے معاشرے میں ایک خطر ناک حد تک ناسور سرائیت حاصل کر چکی ہے ۔ پوری قوم رشوت اور مالی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاج کرتی نظر آتی ہے کرپشن ایک ہمہ جہت سماجی برائی ہے ۔ جب طبقات میں سماجی توازن برقرار نا رہے اور معاشی ناہمواری بڑھتی چلی جائے ۔ تو اعلیٰ اقدار ، سماعت ، مساوات انصاف ،احترام ، آدمیت ،اور انسان دوستی کا فروغ ملنا بند ہو جاتا ہے ۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافے سے چوری ، قتل ،ڈاکے ،دہشت گردی کے جارحانہ رویوں اور اخلاق سوز سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ کرپشن کی وجہ سے عام آدمی کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے۔معاشرے میں صحت مند مقابلہ کا رحجان کم ہو جاتا ہے ۔ نااہل اور بد دیانت افراد اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں اور موجودہ حالات میں مصائب کاٹھیں مارتا ہوا سمندر ملک کو چاروں طرف سے گھیرے ہوا ہے ۔ ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی مسائل کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ جن کا شمار ناممکن کے قریب ہے ۔ جناح کے اس پاک سرزمین کو بد دیانت ، چور ، نااہل اور کرپٹ سیاست دانوں نے گھیر رکھا ہے ۔ ملک کو آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی جانب دھکیل رہے ہیں ۔ اس کرپشن کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہی ہے اس ملک میں نئے قوانین متعارف کراۓ جائیں جوکہ انتہائی سخت ہوں اور کرپٹ سیاست دانوں ، بیوروکریسی کو سخت سے سخت سزا دی جائیں تاکہ یہ دوسروں کو معلوم ہوسکے ۔ کرپشن کی سزا موت ہے ۔اس طریقے کرپشن ختم ہوسکتی ہے ۔ اگر اس کرپشن کا کوئی ادراک نہیں کیا گیا تو آئندہ آنے
    والی نسل ان لوگوں کو کھبی معاف نہیں کرے گا ۔
    جو حکمرانی کے تخت پر فائز ہیں اور جو فائز رہے ہوں۔

  • صدیوں پرانا کھیل کبڈی ،تحریر: عدیل الر حمان الہ آبادی

    صدیوں پرانا کھیل کبڈی ،تحریر: عدیل الر حمان الہ آبادی

    کبڈی صدیوں پرانا کھیل ہے جو جنوبی ایشیاء کے ہر ملک میں کھیلا جاتا ہے ربع صدی پہلے تک پاکستان اور خاص طور پر یہ جنوبی پنجاب میں یہ کھیل مقبول تھااور شہہ زور اپنے فن اور قوت کے اظہار کیلئے اس کھیل کو اولین ترجیح قرار دیتے تھے۔یہ کھیل کھلے میدان میں کھیلا جاتا ہے کبڈی کے میدان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے درمیان میں ایک حد فاصل قائم کی جاتی ہے میدان کا ایک حصہ ایک ٹیم کو جبکہ دوسرا حصہ ڈوسری ٹیم کیلئے مختص کیا جاتا ہے ہر ٹیم کے دو کھلاڑی مد مقا بل ہوتے ہیں جن میں پکڑنے والے کھلاڑی کو جاپھی اور دوسرے کو ساہی کہا جاتا ہے اس کبڈی کے میچ میں صرف دو کھلاڑی مد مقابل ہوتے ہیں۔

    کبڈی واقعی ایک دلچسپ کھیل ہے۔اس کے کھلاڑی کو ہر وقت چوکنا رہنا پڑتا ہے اپنے بچاؤ کے لیے بھی خود ہی فکر مند رہ کر بچاؤ کا طریقہ سوچنا پڑتاہے۔ یہ کھیل ہر موسم میں کھیلا جاتا ہے۔ گرمی اور برسا ت کے موسم میں شام کے وقت یہ کھیل بہت لطف دیتا ہے۔ جب دوڑتے ہوئے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بدن کولگتی ہے تو طبیعت میں فرحت پیدا ہوتی ہے۔کبڈی کے کھیل کے لیے کسی خاص سازوسامان یا اہتمام کی ضرورنہیں ہوتی۔ دیہاتی بچے اور نوجوان پچھلے پہر کسی کھلے میدان میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ کھیل میں حصہ لینے والے برابر کھلاڑیوں کی دو ٹولیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ درمیان میں ایک ایک لکیر کھینچی جاتی ہے اسے ”پالا” کہا جاتا ہے۔ اس لکیر کے دونوں سروں پر اینٹیں یا کچھ نشان رکھ دیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ کھیل شروع ہو جاتا ہے۔دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اس درمیانی لکیر کے دونوں طرف دائرہ بناتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ٹیم کا ایک کھلاڑی لکیر سے اندر آکر کبڈی کبڈی کہتا ہوا مخالف ٹیم کی طرف جاتا ہے اور کوشش کرتاہے کہ کسی کھلاڑی کو چھو کر ایک سانس ہی میں واپس آجائے۔ راستہ میں کہیں دم نہ ٹوٹے۔ اس طرف کے کھلاڑی یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک اسے پکڑ لے اور ایک ہی سانس میں اسے واپس جانے نہ دے۔جب سانس ٹو ٹ جاتا ہے تو کھلاڑی ہار جاتا ہے۔ کھیل کی زبان میں کہاجاتا ہے کہ یہ کھلاڑی مر گیا ہے۔ اگر وہ واپس آجائے تو پھر جس کھلاڑی کو اس نے چھوا تھا، مرا ہوا کھلاڑی کہتے ہیں۔ جس ٹیم کے سارے کھلاڑی پہلے مر جائیں وہ ٹیم ہار جاتی ہے۔ مرا ہوا کھلاڑی کھیل میں واپس حصہ نہیں لے سکتا جب تک مخالف ٹیم کا کوئی کھلاڑی مر نہ جائے۔آج کل اس کھیل کے میں کافی اصلاح کردی گئی ہے۔ ا ب اس میں کھلاڑی مرتے نہیں بلکہ ہار جیت کا فیصلہ پوائنٹس کے ذریعے کرتے ہیں۔ جس ٹیم کے پوائنٹس زیادہ ہوتے ہیں وہ ٹیم جیت جاتی ہے۔ اسکے علاوہ کچھ لوگ لمبی کبڈی بھی کھیلتے ہیں۔ اس میں کھلاڑی مخالف ٹیم کے کھلاڑی کو چھو کر ایک ہی سانس میں واپس آجاتا ہے۔ مخالف ٹیم اسے پکڑنے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ اس سے دور بھاگتی ہے تاکہ وہ انہیں چھو نہ لے۔شہری نوجوان کافی مد ت تک اس کھیل کا مذاق اڑاتے رہے۔ اسے گنواروں کا کھیل کہتے رہے لیکن جب تک محکمہ تعلیم نے اس کھیل کواپنایا اور اسکول کے دوسرے کھیلوں کے ساتھ اس کے بھی باقاعدہ مقابلے شروع ہوئے تو شہری نوجوانوں نے بھی اس میں حصہ لینا شروع کردیا۔ ا ب یہ کھیل دیہا ت اور شہر میں یکساں دلچسپی سے کھیلا جاتاہے۔کبڈی کا کھیل پرانے زمانے کی لڑائیوں کا سماں پیش کرتا ہے۔ اس دورمیں جنگ لڑنے کا یہی انداز تھا۔ ایک جواں مرد میدان میں اترتا تھا اوراپنے حریف کو للکارتا تھا۔ دس ت بدس ت لڑائی شروع ہو جاتی۔ کبڈی کے کھیل میں جسمانی طاقت کو بہت دخل ہے۔ مضبوط ہاتھ پاؤں، چوڑا چکلا سینا، ورزشی جسم، تیز دوڑنا، سانس روکنے کی مشق اور ہارجیت کا فیصلہ،یہ سب کبڈی کے اچھے کھلاڑیوں کی خصوصیا ت ہیں۔اس کھیل سے مقابلہ کرنے کی مشق ہوتی ہے۔ سینہ اور پھیپھڑوں کو تقویت ملتی ہے۔ پسینہ آنے سے بدن کھل جاتا ہے۔ پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔انہی خصوصیا ت کو مدنظر رکھتے ہوئے کبڈی کا کھیل انسانی جسم کے لیے بہت ہی فائدہ مند ہے۔

    کھیل کے آغاز پر ایک ٹیم کا ساہی حد فاصل سے بھاگتا ہوا دوسری ٹیم کے جاپھی کھلاڑی کی طرف لپکتا ہے جاپھی اسے پکڑتا ہے اگر ساہی جاپھی کی گرفت سے نکل کر واپس حد فاصل کو عبور کر لے تو ساہی ٹیم کو ایک پوائنٹ دیا جاتا ہے اگر ساہی اپنے آپ کو جاپھی کی گرفت سے نہ چھڑاسکے تو جاپھی ٹیم پوائنٹ حاصل کر لیتی ہے دونوں ٹیموں کے کھلاڑی باری باری ایک دوسرے کے مقابل آتے رہتے ہیں آخری کھلاڑی تک جوٹیم زیادہ نمبر لے وہ کامیاب قرار دی جاتی ہے۔اس بین الاقوامی کھیل کو وہ سہولیات میسر نہیں جو کرکٹ اور ہاکی کے کھلاڑیوں کو حکومت کی طرف سے دی جاتی ہیں حالانکہ یہ کھیل اتنی مقبولیت حاصل کرچکاہے کہ اب اس میں خواتین کی ٹیمیں بھی شامل ہو کر مردوں کے شانہ با شانہ حصہ لے رہی ہیں عوامی شخصیات اور حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث یہ کھیل روبہ انحطاط ہے۔

    جنوبی پنجاب میں ثقافتی میلے جو میں گندم کی فصل کی کٹائ کے بعد منعقد ہوتے ہیں ان میلوں پر بھی کبڈی کے شور سے میدان سجایا جاتا ہے ان میں دنیا بھر کے کبڈی کے پلیئرز حصہ لیتے ہیں انکی بھر پھور حوصلہ افزائ کی جاتی ہے۔
    اس زوال پذیر کھیل کے فروغ اور اس کو زندہ رکھنے کیلئے میلسی کے نواحی گاؤں الہ آباد میں آج سے بیس سال قبل کبڈی میچ کا آغاز ہوا جو تاحال جاری ہے پورے پنجاب میں الہ آباد واحد گاؤں ہے یہاں کبڈی کلب کا قیام عمل میں لایا گیاجس کے تحت ہر جمعہ کو میچ کا انعقاد ہوتا ہے اس کے منتظمین جو اپنے دور کے کبڈی کے مشہور کھلاڑی تھے ان میں حافظ عبدالرحمن،ماسٹر حفیظ احمد،سابق کونسلر غلام شبیر اور ملک محمد صادق ٹھوٹھہ شامل ہیں جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس سلسے کو جاری رکھا ہوا ہے کلب کے منتظمین کھلاڑیوں کے انعامات اور دیگر اخراجات اپنی جیب سے پورا کرتے ہیں ان مقابلوں میں بین الاضلاعی کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔کبڈی گراؤنڈ نہر فدہ اور کرم پور وہاڑی روڈ کے درمیان واقع ہے نہر کا کنارہ اسٹیڈیم کا کام دیتا ہے ہر جمعہ کو قرب و جوار اور دور دراز کے شائقین جمع ہوتے ہیں اور میلے کا سماں ہوتا ہے قابل افسوس بات یہ ہے کہ یہ تفریحی پروگرام صرف دیہی سطح پر محدود ہے اگر حکومتی ادارے اور محکمہ سپورٹس اسکی سر پرستی کرے تو اچھی کار کردگی کے حامل کھلاڑی ملکی سطح پر اپنا نام پیدا کر سکتے ہیں یہ حقیقت ہے کہ ہمارے دیہاتی کھلاڑی بہتر آب و ہوا میں پروان چڑھنے کے باعث زیادہ تنومند اور طاقت ور ہوتے ہیں اگر انکی صحیح خطوط پر تربیت ہو تو وہ کھیل کے میدان میں بہت آگے جا سکتے ہیں۔