Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آنجہانی عمر شریف ایک بار لطیفہ سنا رہے تھے کہ پاکستان میں کہیں گلی میں کتا نظر آ جائے لوگ اُسے پتھر مارنے لگ جاتے ہیں۔ کتا بھی سوچتا ہو گا کہ کتا میں ہوں اور کتے والی حرکتیں یہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں جانوروں پر ظلم کوئی نئی بات نہیں۔ہمارے ہاں ہر وہ جانور جسے کھایا نہ جا سکے اُس پر ظلم کرنا ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ اس ضمن میں کیا امیر اور کیا غریب۔ امیروں کے ہاں بچوں کی برتھ ڈے پارٹیوں پر کھچوے، مچھلیاں، چوزے اور نہ جانے کیا کیا تحفے میں دیا جاتا ہے۔ اور نا سمجھ بچے جنکو انکی حفاظت کی نہ تو تربیت ہوتی ہے نہ شعور۔ کچھ دن انکے ساتھ کھلونوں کیطرح کھیل کر دلچسپی ختم ہونے پر انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ننھے جانور بھوک یا غفلت کے باعث تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں۔

    اسی طرح آج کل کچھ نو دولتیوں کو شیروں، چیتوں اور ایسے جانوروں کو اپنے گھروں میں رکھنے کا شوق در آیا ہے جو دراصل بنے ہی جنگل کے ماحول کے لیے ہوتے ہیں۔ باہر کی دنیا کے امیر اور ہمارے ہاں کے امیروں میں جانوروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے زمین اسمان کا فرق ہے۔ یہاں جانوروں کو پالنے کا کلچر کم اور فیشن زیادہ ہے۔ تبھی جانور کچھ عرصہ انکے "تہذیب یافتہ” ہونے کی نمائش بن کر مر جاتے ہیں۔

    یہی حال غریبوں کا ہے۔ گدھوں پر اُنکے وزن سے کئی گنا زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ سخت سے سخت کام جانوروں کی بساط سے بڑھ کر لیتے ہیں۔ لاٹھیوں ڈنڈوں سے اُنکا بھرکس بنا دیتے ہیں اور چارہ ضرورت سے کم کھلاتے ہیں۔ ایسے ہی متوسط طبقے کے لوگوں کو کتوں سے خوف آتا ہے۔ گلی کے کتے دیکھ کر انہیں مارنے کو دوڑتے ہیں۔

    ٹی وی ٹاک شوز کے علاوہ مرغوں، کتوں، ریچھ وغیرہ کی لڑائی پر بھی کوئی پابندی نہیں ۔ ایسے ہی گلی گلی تماشا کرنے والے جانوروں کا بھی کوئی پرسانِ حال نہیں۔

    کراچی میں ہر سال کئی ہزار کتوں کو بے رحمی سے مار دیا جاتا ہے۔ یہی حال دوسرے شہروں کا ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ مارنا حل ہے اُنکی سوچ سے کیا لڑنا کہ ان میں ایک بڑا پڑھا لکھا طبقہ بھی شامل ہے۔

    یہی رویہ پاکستان میں غیر قانونی شکار کا ہے۔ پرندوں کے جھنڈ سائبیریا سے اتنا سفر طے کر کے آتے ہیں اُنہیں کچھ نہیں ہوتا مگر یہاں کچھ لوگ بندوقیں تانے قطاروں کی قطار میں اُن معصوموں می لاشیں گراتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جیپوں کے سامنے اُنکے مردہ جسموں کی نمائش کرتے ہیں اور پھر معاشرے میں فخر سے سر اونچا کر کے چلتے ہیں۔ کہاں سے رونا شروع کیا جائے؟

    کیا آپ جانتے ہیں کہ آج ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے انسان ہی نہیں چرند پرند سب متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی جانوروں کی نسلیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں کئی جانور جن میں چیتا، دریائی کچھوے، تیتر، عقاب یہ سب معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ۔

    ماحولیات کی سائنس یہ کہتی ہے کہ انسان بقا کئی پیچیدہ عوامل کے تحت ایک کڑی میں تمام جانداروں کی بقا سے جُڑی ہے۔ اگر زمین سے شہد کی مکھیاں ختم ہو جائیں تو دنیا میں کئی سبزیاں اور پھل ختم ہو جائیں گے۔ انسان غزائی قلت کا شکار اور دنیا کی معیشت اربوں ڈالر کے نقصان سے دوچار ہو گی۔ کھانے ہینے کی اشیا غریب ہی نہیں امیروں کی پہنچ سے بھی دور ہو جائیں گی۔

    پاکستان میں جانوروں ہر ظلم کے حوالے سے قانون انگریزوں کے زمانے کا ہے یعنی 1890 کا جسے Prevention of Cruelty to Animal Act کہا جاتا ہے۔ یہ قانون پرانا اور غیر موٹر ہے۔ مثال کے طور ہر اس میں جانوروں پر ظلم کی صورت عائد جرمانے کی رقم پرانے دور کے حساب سے ہے۔ اسی طرح اس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جانوروں پر ظلم روکنے کے حوالے سے کوئی پہلو موجود نہیں۔

    ایک خاطر خواہ پیش رفت جو ماضی میں کی گئی وہ حلال اتھارٹی ایکٹ کی تھی جس میں ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح کرنے کی ممانعت کی گئی مگر اس ہر بھی کون عمل کرتا ہے۔ اسی طرح محکمہ جنگلات اور تحفظِ وائلڈ لائف بھی اس قدر فعال نہیں اور آئے روز غیر قانونی شکار ہوتا رہتا ہے۔

    اس تناظر میں سب سے پہلے تو ہمیں جانوروں نے ساتھ اپنے انفرادی رویے اور سوچ کو درست کرنا ہے۔ اس میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں، کیا بوڑھے ،کیا جوان اور کیا بچے۔ بحیثیت قوم ہم سب ہی کا رویہ جانوروں کے ساتھ شرمناک ہے۔ کسی معاشرے میں اخلاق کا معیار جانچنا ہو تو یہ دیکھنا کافی ہوتا ہے کہ وہ معاشرے اپنے جانوورں کے ساتھ کیسا سلوک برتتا ہے۔ اگر ہم بے زبان جانوروں کے ساتھ اچھا رویہ رکھ سکتے ہیں تو انسانوں کے ساتھ بھی لازماً رکھیں گے۔

    حکومتی سطح پر اس حوالے سے نہ صرف بہتر قانون سازی کی ضرورت ہے بلکہ اسکے عملدرآمد کی بھی۔ اس حوالے سے عام شہری کا بھی فرض بنتا کے کہ وہ جہاں جہاں جانوروں پر ظلم ہوتا دیکھے نہ صرف اسکے خلاف آواز اُٹھائے بلکہ اسے سوشل میڈیا پر اور اداروں کو رپوٹ بھی کرے۔

    اگر ہم جانوروں کے حق کے لیے آواز نہیں اُٹھا سکتے تو انسانوں کے لئے کیا اُٹھائیں گے؟ پہلے جانوروں کے لیے آواز اُٹھانا سیکھیں، انسانوں کے لئے آواز اُٹھانے کی جرات خود ہی آ جائے گی۔

  • کوہِ نور!! وہ ہیرا جو سب کو چاہیے — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کوہِ نور!! وہ ہیرا جو سب کو چاہیے — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کچھ دن قبل برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر یہ مہم زور پکڑ رہی ہے کہ برطانیہ کو کوہِ نور ہیرا برصغیر کو واپس کرنا چاہئے۔

    کوہِ نور کا ہیرا دنیا کے مہنگے ترین ہیروں میں شمار ہوتا ہے۔ اسکی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کچھ ہیرا شناس اسے انمول کہتے ہیں۔ مگر بعض اندازوں کے مطابق اسکی قیمت تقریباً 400 ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ یعنی آئی ایم ایف کی پاکستان کو موجودہ قسط کا تقریباً آدھا حصہ۔

    کوہِ نورفارسی کا لفظ ہے جسکے معنی ہیں روشنی کا پہاڑ۔ اس ہیرے کو کب دریافت کیا گیا۔ اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس حوالے سے کئی مفروضے قائم ہیں۔مگر غالباً اسے بارویں یا تیرویں صدی میں بھارت کی دکن کے قریب کانوں سے دریافت کیا گیا۔

    یہ ہیرا موجودہ حالت میں تقریباً 105.6 کیرٹ ہے مگر اس سے پہلے یہ 186 کیرٹ تھا۔ اسے بیسویں صدی میں تراش کر اسکی خوبصورتی میں اضافہ کیا گیا۔ اسکا وزن اس وقت تقریبا 21.2 گرام ہے۔

    یہ ہیرا مغلوں کے پاس بھی تھا کیونکہ اسکا ذکر 1526 میں بابر کی لکھی گئی سوانح حیات تزکِ بابری میں بھی ہے۔مگر بعض محقیقین کا خیال ہے کہ تزک بابری میں اس ہیرے کا ذکر نہیں کسی اور پتھر کا ذکر ہے۔ اور یہ ہیرو دراصل بابر کے بیٹے ہمایوں کو گوالیارہ کے گورنر نے پہلی پانی پت کی لڑائی کی جیت کی خوشی میں تحفتاً دیا۔

    1739 میں جب ایران سے آئے حملہ آوار نادر شاہ نے دیلی پر قبضہ کیا تو اسکے سامنے یہ ہیرا لایا گیا جس نے اسے کوہِ نور کا نام دیا۔ نادر شاہ کی وفات کے بعد اُسکے افغانستان سے آئے جرنیل احمد شاہ درانی نے دہلی پر سلطنت قائم کی اور ہیرا درانی سلطنت میں رہا۔ 1813 میں سکھوں کے درانی سلطنت کے خاتمے پر آخری درانی بادشاہ شاہ شجا کو بھارت سے بھاگنا پڑا اور یہ ہیرا بطور تحفہ راجہ رنجیت سنگھ کو دینا پڑا۔ یہ ہیرا رنجیت سنگھ سے مہاراجہ دلیپ سنگھ کو ملا۔

    جب انگریزوں نے 1849 میں سکھ انگریز جنگ کے اختتام پر پنجاب ہر قبضہ کیا تو یہ ہیرا اُنکے ہاتھ لگا اور اسے ممبئی سے جہاز پر انگلیڈ بھیج دیا گیا جہاں اسے 1850 میں ملکہ برطانیہ کو پیش کیا گیا۔ یوں یہ ہیرا کئی ہاتھ بدلتے بلآخر برطانوی شاہی خاندان کے قبضے میں چلا گیا۔

    وہاں اسکو ماہر ڈچ جوہریوں نے تراش خراش سے مزید نکھارا اور موجودہ شکل میں لے آئے۔

    آج کوہ نور کو تاجِ برطانیہ کا تاج کہا جاتا ہے۔ مگر اسکی ملکیت پر بھارت اور پاکستان کے علاوہ افغانستان اور ایران بھی دعوی کرتے ہیں۔ ماضی میں اسے بھارت لانے کے لیے کئی کوششیں کی گئی۔ 1976 میں اُس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو نے بھی اسے پاکستان کو واپس کرنے کی درخواست کی۔ آج بھارت میں اسے واپس بھارت لانے کے لیے کئی سماجی اور حکومتی شخصیات قانونی چارہ جوئی کر رہی ہیں مگر فی الحال برطانوی حکومت یا پرطاموی شاہی خاندان اسے دینے سے انکاری ہے۔

  • "پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ” — شہنیلہ بیلگم والا

    "پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ” — شہنیلہ بیلگم والا

    کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کو اپنی بہن سے شادی کرنی تھی. یہ وہ فعل ہے جس کی اجازت کسی بھی مذہب میں نہیں. بادشاہ نے اپنے مصاحبوں سے مشورہ کیا. ایک شیطان صفت مصاحب نے مشورہ دیا کہ کوئی بھی بڑا دھماکہ فوری طور پر نہیں کیا جاتا. پہلے اس کے لیے زمین نرم کی جاتی ہے. عوام کو پہلے ہلکی پھلکی بے غیرتی کا عادی بنایا جاتا ہے. پھر جب رب کے قانون کے صریحاً خلاف ورزی کی جاتی ہے تو عوامی ردعمل انتہائی معمولی ہوتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو ہوتا بھی نہیں.

    اس کی مثال آج کل کے دور میں یہ ہے کہ پہلے میڈیا کے زریعے ہمیں مزاح کے نام پہ ایک مرد کو ساڑھی پہنا کر سج سنوار کر بٹھایا گیا ( بیگم نوازش علی). پھر اس کے بعد آہستہ آہستہ ہر دوسرے ڈرامے میں ایک مرد لہرا کر بل کھاتا ہوا نظر آیا. عوام نے اسے مزاح کا ایک انداز سمجھا. اب اگر روزمرہ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا کرتا نظر آتا ہے تو ہم اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے ہیں. پھر پچھلے دنوں ایک مرد جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے ( ڈاکٹر)، لیکن کھلے عام سیکس چینج کو اپنا حق مانتا ہے. خود کو عورت کی طرح پیش کرتا ہے اور ہم جنس پرست ہونے پہ فخر کرتا ہے، اسے ایک اسکول میں بطور رول ماڈل مدعو کیا گیا. جس پہ کچھ والدین نے اعتراض کیا. باقی والدین اس کی انگریزی سے مرعوب ہوتے رہے.

    اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام میں ایسے لوگوں کا کیا مقام ہے. یہ مکمل مرد اور عورت اپنی جنس سے مطمئن نہیں، اسی لیے وہ خواجہ سراؤں کی آڑ لے کر پاکستان میں ایک ایسا قانون پاس کروانا چاہتے ہیں جس سے ان کو اپنا گھناؤنا فعل کرنے کی مکمل آزادی مل جائے.

    کم علمی کے باعث بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اسلام میں خواجہ سراؤں کے وہی حقوق ہیں جو ایک مرد یا عورت کے ہیں. یہاں تک کہ وراثت میں بھی اگر ایک خواجہ سرا عورت کے نزدیک تر ہے تو ترکے میں عورت کے برابر اور اگر ایک مرد کے نزدیک تر ہے تو مرد کے برابر حصہ ملے گا. یہ باتیں ہم سے چھپائی جاتی ہیں. انسانیت کے نام پہ اپنی فحاشی کی آزادی درکار ہے. یہ قوم لوط کا فعل ہے جس پہ اللہ کا غضب ایسے بھڑکا تھا کہ توبہ کرنے کے لیے تین دن کا وقت بھی نہیں دیا گیا جو اس سے پہلے تمام گمراہ قوموں کو دیا گیا تھا.

    اکتوبر میں اس بل پر پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرے گی. ہم سب کی زمہ داری ہے کہ ہم بھرپور احتجاج کر کے اس بل کو رکوائیں. ہمیں یہ کام ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے اٹھ کر کرنا ہے. یاد رہے کہ اللہ کا عذاب اور غضب صرف ان پہ نہیں آتا جو اس فعل میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ ان پہ بھی آتا ہے جو اس کو قبیح فعل سمجھتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کرتے ہیں.

    اللہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

  • آج کے مبصر بھی کبھی کھلاڑی تھے — سیدرا صدف

    آج کے مبصر بھی کبھی کھلاڑی تھے — سیدرا صدف

    سابق کھلاڑیوں نے بھی میدان پر برا دن گزارا ہے۔۔۔ وسیم, وقار,شعیب, انضمام اور حفیظ وغیرہ کی پرفارمنسزز بھی پاکستان کی شکست کا باعث بنتی رہی ہیں۔۔۔

    ریٹائرڈ ہونے کے بعد کھلاڑی بھول جاتا ہے کہ میدان میں برا دن اس پر بھی آیا تھا۔۔۔۔۔تنقید کوئی عام انسان کرے تو سمجھ آتا ہے لیکن کچھ سابق کھلاڑیوں کی اپنے خراب دن بھلا کر موجودہ کھلاڑیوں پر ضرورت سے زیادہ تنقید افسوسناک ہے۔۔۔۔

    چند میچز یاد کریں تو پاک بھارت ٹی ٹوئینٹی میچ 2012 اور 2014 میں محمد حفیظ نے بطور کپتان بالترتیب 53 اور 68 کے اسٹرائیک ریٹ سے دونوں مقابلوں میں 15 اسکور کیا تھا۔۔۔۔دونوں میچز میں ٹیم پاکستان کو انتہائی شرمناک یکطرفہ شکست ہوئی تھی۔۔۔

    1996 اور 1999 ورلڈکپ میں سپر اسٹار کھلاڑیوں سے بھری ٹیم ناک آؤٹ مقابلے ہار گئی تھی۔۔بھارت سے شکست ہوئی تھی۔۔۔ورلڈکپ 2003 میں ٹورنمنٹ کا بہترین باؤلنگ یونٹ خراب باؤلنگ اور فیلڈنگ سے بھارت کے خلاف 273 کا دفاع نہ کر سکا تھا۔۔۔بہترین پاکستان ٹیم ورلڈکپ مقابلوں میں بنگلہ دیش اور ائرلینڈ سے ہاری ہے۔۔

    پاکستان بھارت سے پچاس اوور ورلڈکپ کے سات جبکہ 20 اوورز ورلڈکپ کے ایک ٹائی سمیت چار مقابلے ہارا ہے۔۔ورلڈکپ مقابلوں کی مجموعی پرفارمنس دیکھیں تو پاکستان ایک بار چمپیئن جبکہ سات بار ناک آؤٹ مقابلے میں باہر ہوا۔۔۔۔

    ایشیا کپ ٹورنمنٹ میں صرف 2010 سے 2018 تک پاکستان بھارت سے پانچ مقابلے ہارا جبکہ ایک فتح آفریدی کے یادگار چھکوں نے ہماری جھولی میں ڈالی۔۔ ایشیا کپ ہم صرف دو بار ہی جیت سکے جبکہ ہمارے ٹیم میں نامی گرامی کھلاڑی ہوتے تھے۔۔۔

    موجودی کھلاڑیوں نے ایک سال میں بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تین مقابلے کیے اور دو جیتے ہیں۔۔۔بابراعظم وہ پہلے پاکستانی کپتان جنکی قیادت میں ٹیم نے بھارت کو ٹی ٹوئینٹی ورلڈکپ مقابلے میں شکست دی۔۔۔۔۔ایشیا کپ کے دونوں میچز لڑ کر کھیلے۔۔۔۔۔

    پاکستان نے 2017 میں بھارت کو ہرا کر چمپئنز ٹرافی ضرور جیتی تھی لیکن اسکے بعد پاکستان بھارت سے ایشیا اور ورلڈکپ کے تین مقابلے یکطرفہ ہار گیا تھا۔۔۔فائیٹ ہی نظر نہیں آئی۔۔۔

    بابر اور اس ٹیم نے بہت کچھ سیکھنا ہے۔۔۔غلطیوں سے سبق حاصل کرنا ہے۔۔۔۔ٹیم سلیکشن میں میرٹ کی بالادستی قائم کرنی ہے۔۔۔
    لیکن ہم تجربہ کار کھلاڑیوں اور کپتانوں کے ہوتے بھی شکست دیکھ چکے ہیں۔۔حالانکہ تب شکست کی وجوہات زیادہ سنگین تھیں۔۔۔میچ فکسنگ, گروپنگ, کپتانی کے جھگڑے وغیرہ۔۔۔یہ ٹیم خراب کھیل کر ہاری ہے۔۔۔۔غلط سلیکشن کا نتیجہ بھگتا ہے۔۔۔کپتان,کوچ اور کھلاڑیوں کو بھی پتہ ہے۔۔۔تھوڑا وقت دینا چاہیے۔۔۔اگر غلطیاں دہرائی جاتی ہیں تو تنقید جائز ہو گی۔۔۔باقی پسندیدگی پر مبنی سلیکشن بھی سابق کھلاڑیوں کا دیا ہوا کلچر ہے۔۔مجھے امید ہے جلد ختم ہو جائے گا۔۔۔

  • اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) — ضیغم قدیر

    اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) — ضیغم قدیر

    اگر مجھے یہ پوچھا جائے کہ ضیغم قرآن پاک میں سے تمہاری پسندیدہ آیت کونسی ہے تو میں لا محالہ آنکھیں بند کئے پڑھ دونگا کہ

    اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)

    کیونکہ قرآن پاک میں میری موسٹ فیورٹ آیت یہی ہے۔ میرے نزدیک یہ آیت آیت نہیں ایک فلسفہ حیات ہے۔

    وہ فلسفہ حیات جسے سمجھتے ہوئے ہم اکثر عمریں بیتا دیتے ہیں۔ لیکن ہم وہ باتیں سمجھ نہیں پاتیں۔ لیکن اکثر لوگوں کیساتھ یہ ہوتا ہے کہ ان کو کچھ بتانے والے بتا جاتے ہیں اور وہ جہاں عمر بھر کی محنت کرنے سے بچ کر ایک چیز سیکھ جاتے ہیں تو وہیں ان کو بہت سی ایسی غلطیوں سے بچنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔

    یہ آیت کیا ہے؟

    یہ آیت دراصل ایک درس ہے۔ زندگی جینے کا درس، اس کا سادہ ترجمہ یہی ہے کہ انہیں نا خوف ہوتا ہے نا وہ غمگین ہوتے ہیں مطلب انہیں کوئی غم یا اندیشہ نہیں ہوتا ہے۔

    لیکن یہاں خوف کس کا ہوتا ہے اور اندیشہ کیونکر لاحق ہو جاتا ہے یہ جاننا بہتر ہے اور یہ دو سال پہلے ایک کال ڈسکشن پہ جاننے کی کوشش ہوئی۔

    بتانے والے نے بتایا کہ غم ہمیشہ ماضی کا ہوتا ہے۔ وہ غم جو ہمیں ڈراتا ہے، ماضی کی باتوں سے، ان لمحوں سے جو ناپسندیدہ ہوں، جو ہماری چاہ سے ہٹ کر گزرے ہوں یا وہ امکانات جو ہماری دسترس میں نا آسکے ان کا پچھتاوا ہوتا ہے۔ یہ غم ہمیں ساری زندگی ایک پنجرے میں مقید کئے رکھتا ہے۔

    بہتے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ماضی سے نہیں نکل سکتے ان کو انکا ماضی اپنے سحر میں جکڑے ڈستا ہے بالکل ویسے ہی جیسے کہانیوں میں آپ نے سنا ہوگا کہ کوبرا آپ کو ہپناٹائز کرکے ڈستا ہے۔ یہ ماضی بھی آپ کو ہپناٹائز کرتا ہے اور پھر تب تک ڈستا ہے جب تک موت نہیں آ جاتی۔ آپ کا ہر لمحہ تکلیف میں گزرتا ہے ہر سیکنڈ کرب میں گزرا سیکنڈ ہوتا ہے۔

    وہیں جن میں یہ غم نہیں ہوتا ان میں خوف ہوتا ہے۔ خوف کس چیز کا ہو سکتا ہے؟ اور مستقبل ہی کیوں اس خوف کی بہترین تفسیر ہو سکتا ہے؟ اس لئے کہ یہ بھی ساحر ہے، غم سے بڑا ساحر، جو آپ کو مقید کئے رکھتا ہے ان اندیشوں میں جو نا ہوئے واقعات کو اپنی لپیٹ میں لیکر آپ کی سانس تنگ کر رہے ہوتے ہیں ان لمحات کے اندیشے جو کبھی ہو ہی نہیں سکتے، یہ اگر مگر کیسے کی سوچ ہے جو ان اندیشوں کی بنیاد رکھتی ہے۔

    اب یہاں وہ لوگ کون ہیں جو یہ خوف نہیں رکھتے، یہ غم نہیں رکھتے؟ یہ لوگ دراصل خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ وہ لوگ جنہیں قرب خداوندی حاصل ہے وہ ماضی کے خوف سے مبرا اور مستقبل کے اندیشوں سے خالی ہو کر جیتے ہیں۔

    انہیں غم نہیں ہوتا کہ ماضی کیا گزرا ہے اور خوف نہیں ہوتا کہ مستقبل کیسا ہووے گا۔ وہ اس غم سے نکل چکتے ہیں کہ کاش ایسا کیا ہوتا تو ایسا ہو جاتا اور وہ اس اندیشے سے چھٹکارہ پا چکے ہوتے ہیں کہ اگر یوں ہو جائے تو۔ وہ بس حال میں جیتے ہیں وہ حال جو ماضی کے پچھتاوں اور مستقبل کے اندیشوں سے پاک ہو۔ وہ ایک پرسکون حال میں جیتے ہیں جس میں مستقبل کی تیاری تو ہوتی ہے مگر خوف نہیں ہوتا۔ وہ ایک پرسکون زندگی جی رہے ہوتے ہیں۔

    مجھے نہیں معلوم کون کتنا خدا کے قریب ہے اور کون نہیں نا ہی مجھے یہ جاننے کی تمنا ہے مگر مجھے اتنا علم ضرور ہے کہ یہ آیت ایک گتھی سلجھا چکی تھی وہ گتھی جو زندگی کی ڈوروں نے الجھا کے رکھی ہوئی تھی۔ مستقبل یا ماضی کے اندیشوں اور خوف سے آزاد ہو کر جینا ہی اصل جینا ہے۔

  • لوسڈ ڈریم اور سلیپ پیرالسز — ستونت کور

    لوسڈ ڈریم اور سلیپ پیرالسز — ستونت کور

    لوسڈ ڈریم اور سلیپ پیرالسز کا تجربہ دنیا میں ہر انسان کو کبھی نہ کبھی ، یا اکثر ہوتا ہے ۔

    لوسڈ ڈریم سے مراد ایسا خواب ہے کہ جس میں انسان کو علم ہو کہ یہ حقیقت نہیں بلکہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔اور سلیپ پیرالسز سے مراد وہ کیفیت ہے جب انسان نیند یا خواب کی کیفیت میں ایسا منجمد ہو جائے کہ نہ تو خواب ٹوٹ رہا ہو اور نہ ہی آنکھ کھل رہی ہو ۔

    ۔۔۔۔۔حیرت انگیز طور پر ابھی چند منٹ قبل میرے ساتھ یہ دونوں واقعات بیک وقت رونما ہوگئے۔۔۔۔

    ہوا کچھ یوں کہ حسبِ معمول میں آج صبح بھی جلدی جاگ گئی مگر الرجی کی وجہ سے طبعیت سخت ناساز تھی (اور اب بھی ہے ) چنانچہ جاگنے کے ایک گھنٹہ بعد پھر سے سونے کے لیے لیٹ گئی۔ سونے سے قبل میں نے اپنا موبائل چارجنگ لگا دیا ۔۔۔۔ اور جب آنکھ لگی تو انتہائی پیچیدہ قسم کا تہہ در تہہ کا ایک لوسڈ ڈریم درپیش تھا ، اور وہ کچھ یوں کہ اس خواب میں میں اسی کمرے میں اسی جگہ سورہی اور مجھے اس بات کا ہلکا سا شک ہورہا کہ میں خواب کی کیفیت میں ہوں ۔۔۔۔اب۔۔۔۔۔۔ماہرین کے مطابق چند ایسے طریقے ہیں کہ جن سے ہم پتا چلا سکتے ہیں کہ ہم خواب میں ہیں یا حقیقت کی دنیا میں ۔۔ مثلاً اپنے ہاتھ کو دیکھیں اور اپنی انگلیاں گننے کی کوشش کریں ۔۔۔ اگر آپ خواب دیکھ رہے ہیں تو کبھی انگلیاں گن نہیں پائیں گے ۔

    اسی طرح گھڑی پر نظر دوڑائیں۔۔۔۔ اگر خواب میں ہے تو کبھی بھی گھڑی سے وقت نہیں دیکھ پائیں گے ۔

    کوئی کتاب یا اخبار پڑھنے کی کوشش کریں ۔۔۔ اگر خواب کی کیفیت میں ہیں تو نہیں پڑھ سکیں گے ۔

    اور مجھے یہ سب یاد تھا چنانچہ میں نے پہلے رئیلٹی چیک یعنی ہاتھ کی انگلیاں گننے کی کوشش کی اور میں نہیں گن پائی ۔۔۔ اب مجھے یقین ہوگیا کہ میں لوسڈ ڈریم کی کیفیت میں ہوں اور یہ کہ اب مجھے جاگ جانا چاہیے (لوسڈ ڈریم جتنا مختصر رہے اتنا ہی بہتر ہے طویل لوسڈ ڈریم آگے چل کر سلیپ پیرالسز کی کیفیت پیدا کر سکتا ہے ۔ اکثر و بیشتر ۔)

    چنانچہ میں نے ہمت کی اور جاگ اٹھی ۔۔۔۔ اب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ میں پوری طرح سے بیدار ہوں ، میں نے کمرے میں وال کلاک نہ ہونے کی وجہ سے موبائل پر ٹائم دیکھنے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے فیسبک نوٹیفیکیشنز پر نظر پڑ گئی اور اس میں کھو گئی۔۔۔۔ 5,7 منٹ تک فیسبک پر کھوئے رہنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ” باجی موبائل تو تم نے چارجنگ پر لگا رکھا تھا۔”

    اسی لمحے مجھے اندازہ ہوا کہ میرا لوسڈ ڈریم ٹوٹا نہیں بلکہ اس کے میرے ساتھ ” پرینک” کردیا ہے ۔۔۔ چنانچہ سب کی بار میں اٹھی ، اور موبائل کو چارجنگ پہ لگا دیکھ کر یقینی بنایا اس بات کو کہ اب دوبارہ میرے ساتھ پرینک نہ ہو جائے ۔۔۔ پھر میں بستر سے اٹھی اور باہر لاونج کی طرف بڑھ گئی ، لاونج میں میرا بھائی بیٹھ کر ٹی-وی دیکھنے میں مگن تھا ۔۔۔

    اب آپ کو لگے لگا کہ شاید میں مبالغہ آرائی سے کام لے رہی لیکن خدا کو گواہ بنا کے کہہ رہی کہ جب میں نے بھائی کی طرف نظر ڈالی تو ان کا چہرہ بدل گیا ، جیسے کوئی شخص بیٹھا ہو پھر اگلے چند سیکنڈ میں بار بار ان کا چہرہ تبدیل ہونے لگا اور یہ پراسیس اتنا تیز تھا کہ آخر میں ایک چہرے پر چار مختلف نقوش تھے مثلاً ایک گال مختلف شخص کا دوسرا کسی اور شخص کا پیشانی اور بال الگ الگ اشخاص کے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ "باجی جی آپ کا سرے سے کوئی بھائی ہے ہی نہیں۔”

    اور میں فوراً واپس پلٹی کمرے کی طرف ۔۔۔۔۔ اس کے بعد کم از کم۔۔۔۔ کم ازکم پندرہ سے بیس الگ الگ خواب اسی طرح تہہ در تہہ پیاز کی پرتوں کی طرح ایک دوسرے سے اترتے رہے ۔۔۔۔ ہر مرتبہ مجھے یہ ادراک ہوتا تھا کہ میں خواب دیکھ رہی ہوں اور ہر مرتبہ میں جاگنے کی کوشش کرتی لیکن جاگنے کے بجائے اگلے خواب میں دھکیلی جاتی تھی ۔

    ان میں سے کچھ خواب تو بےانتہا مضحکہ خیز تھے ۔

    اب میں جاگ چکی ہوں اور اطمینان سے اپنی انگلیاں دوبار مرتبہ گن کر دیکھ چکی اور اپنے جاگنے کو یقینی بنانے کے بعد یہ تحریر لکھ رہی ہوں ۔۔۔ لیکن پھر بھی لاشعوری طور پر مجھے یہ خدشہ ستا رہا ہے کہ یہ نہ ہو کہ جب میں پھر سے جاگوں تو فیسبک پر یہ پوسٹ موجود نہ ہو گویا یہ بھی ایک اور لوسڈ ڈریم ہو۔

  • شریکا 2030!!! — عارف انیس

    شریکا 2030!!! — عارف انیس

    پچھلے دنوں پڑوسیوں نے چپکے چپکے ایک کام کیا. میچ تو وہ ہار گئے. لیکن دوسری طرف بڑی چھلانگ مار دی.

    حال ہی میں، انڈیا نے برطانیہ کو دنیا کی پانچویں بڑی مالی طاقت کے رتبے سے ہٹا کر، یہ پوزیشن خود سنبھال لی ہے. اب تو لگتا ہے شاید ملکہ جی نے اسی بات کو دل سے نہ لگا لیا ہو. ہندوستان کی جی ڈی پی 3.535 ٹرلین ڈالرز تک پہنچ چکی ہے. اس کوارٹر میں اقتصادی گروتھ کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ 13.5 فیصد ہے.

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 2030 تک ہندوستان، جرمنی اور یورپ کو بھی پچھاڑ چکا ہوگا، اور امریکہ اور چین کے بعد تیسری مالی عالمی طاقت کی پوزیشن پر براجمان ہوگا.

    یاد رہے کہ اس فروری میں گوتم اڈانی 143 ارب ڈالر کی دولت کے ساتھ ایشیا کا تیسرا امیر ترین شخص بن چکا ہے اور امیزان کے جیف بیزوس کو دوسرے نمبر سے پھسلوانے ہی لگا ہے.

    یارو، جب میزائل اور بم وغیرہ مقابلے کے بنا لیے تو مالی مسل بنانے میں کیا حرج ہے؟ میں انتظار کرتا رہا کہ شاید اس بڑی خبر پر کوئی لکھے گا، مگر لگتا ہے اپن کا انٹیلی جنشیا، ایشیا کپ دیکھنے میں مصروف تھا.

    ہندوستان میں ابھی بھی جہالت، بھوک اور غربت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، جن سے چالیس کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہیں. مگر نظر آ رہا ہے کہ اگلے بیس برس میں وہ خط غربت سے اوپر آ چکے ہوں گے. اور یہ سب "معجزہ” پچھلے تیس برس کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے.

    مسئلہ تو یہ ہے کہ آج ہم سمت بدلتے ہیں تو تیس برس بس پکڑنے میں لگ جائیں گے. مگر تیس برس بھی ٹھیک ہیں، چالیس برس ہوگئے تو پھر کیا ہوگا؟

    کرکٹ کے علاوہ، ہم کیوں کھیل سے باہر ہوتے جا رہے ہیں؟ منگتے ہونا یا دھمکی دینے کے علاوہ اپن کے پاس اور کیا کچھ ہے؟

    کیا وجہ ہے کہ ملتی جلتی مذہبی شدت، ایسی ہی فرسودہ بیوروکریسی، کٹا پھٹاانفراسٹرکچر اور بھرپور کرپٹ لیڈرشپ کے ساتھ، پڑوسی لوگ کدھر جا رہے ہیں اور ہم کدھر جارہے ہیں؟

    کدھر جارہے ہو، کدھر کا خیال ہے؟

    آپ کیا کہتے ہیں؟ اصل مسئلہ کیا ہے؟ ہم مالی سپر پاور بننے کی، ایشین بلی یا لگڑ بگڑ بننے کی بس کیسے پکڑ سکتے ہیں؟ ابھی، اسی وقت کیا، کرنا ضروری ہے؟

    صبح صبح مورال ڈاؤن کرنے اور مشکل سوال پوچھنے پر معافی!

  • انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    گوادر چائنہ کے “ون روڈ ۔ ون بیلٹ” جیسے جدید عالمی تجارتی راستے کا وہ صدر دروازہ ہے جس کے تالے کی کنجی گوادر سے چارسو کلومیٹر مشرق میں ہنگول نیشنل پارک کے قریب ہنگلاچ ماتا کے مندر میں پڑی ہوئی ہے۔ اس چابی سے وہ انقلابی واٹر وے کھلے گا جو ساحل مکران کی تمام بندرگاہوں اورماڑہ، پسنی ، گوادر اور جیونی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پینے کے صاف پانی کی قلت سے آزاد کرسکتا ہے۔

    سی پیک کے منصوبہ سازوں کو پنجاب اور سندھ میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ بنانا تو یاد رہے لیکن سی پیک کی روح گوادر شہر کے باسیوں کے لئے پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت کی فراہمی بھول گئی کہ جس کے بغیر کوئی شہر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ سی پیک منصوبہ ساز اتنی اہم جگہ کو نظرانداز کر گئے جس کا کھوج واپڈا کے انجنئیرز نے پچاس سال قبل لگا لیا تھا۔

    گوادر میں اب مولانا ہدایت الرحمن کی “حقوق دو” تحریک اقتدار میں آچکی ہے جس کا ایک بنیادی مطالبہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی تھا لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔گوادر کی صاف پانی کی ضرورت کا تخمینہ 7MGD لگایا گیا ہے جو کہ اگلے چند برسوں میں دوگنا ہونے جا رہا ہے ۔مغرب کی مدد سے لگایا جانے والا سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے والا ڈی سیلی نیشن پلانٹ بھی ناکارہ پڑا ہے۔

    گوادر شہر کو مستقل بنیادوں پر لمبے عرصے کے لئے اگر کہیں سے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاسکتا ہے تو وہ صرف مجوزہ ہنگول ڈیم ہی ہے جو کہ گوادر کے مشرق میں تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ جگہ کراچی سے 250 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور کوسٹل ہائی وے پر اگھور نامی جگہ سے دریا کے پل سے تقریباً 16 کلومیٹر شمال میں ہنگول نیشنل پارک سے بھی آگے واقع ہے۔

    ہنگول ڈیم پہلے پہل ضلع آواران کی تحصیل جھل جاؤ میں چند ہزار ایکڑ رقبے کو سیراب کرنے کے لئے سوچا گیا منصوبہ جس میں بعد ازاں بجلی بنانے کی صلاحیت بھی نظر آئی۔ اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہاں سے سب سے بڑے شہر کراچی اور حتی کہ خلیجی ریاستوں کو پانی کی فراہمی کا بھی سوچا گیا لیکن یہ منصوبہ بوجوہ آگے نہ بڑھ سکا۔

    ہنگول ڈیم کے موجودہ مجوزہ ڈیزائن میں اس سے 65 ہزار ایکڑ سیراب کرنے کا پلان ہے۔ تاہم دس لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈیم کے پانی کا سب سے قیمتی استعمال زراعت کی بجائے مکران کے تمام ساحلی علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہونا چاہئے۔

    مجوزہ ہنگول ڈیم سے ساحل مکران کے اورماڑہ، پسنی، گوادر اور جیونی بندرگاہ کو ایک عام چھوٹی سی نہر سے قدرتی طور پر بنا بغیر کسی پمپنگ سے پانی پہنچانا ممکن ہے۔ یہ کام زمین کے اوپر یا زیر سمندر پائپ لائن بچھا کر بھی کیا جاسکتا ہے جس کی فزیبیلٹی چیک کرنا ہوگی۔

    یہ ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جس کو اگر مناسب طریقے سے پیش کیا جائے تو بیرون ملک پاکستانیوں کا کنسورشئئم یا کوئی بھی ملٹی نیشنل کمپنی PPP موڈ پر ایک دوسرے سے آگے بڑھ چڑھ کر کرنے کے لئے تیار ہوگی۔ حکومت وقت کا خرچہ بہت کم ہوگا اور فوائد سدا بہار ہوںگے۔

    ذیل کے نقشے میں ہنگول ڈیم سے ساحل مکران خصوصا گوادر تک صاف پانی پہنچانے کے آسان ترین روٹ لگا دئے گئے ہیں۔

    روٹ- 1 : عام سی چھوٹی نہر

    یہ روٹ پیلی لائن سے ظاہر کیا گیا ہے مجوزہ گریویٹی نہر کو دکھا رہا ہے۔ یہ نہرسادہ ترین طریقے سے ملکی وسائل، مقامی میٹیرئیل اور لیبر سے بنائی جا سکتی ہے۔ یہ زیادہ تر راستے میں کوسٹل ہائی وے کے ساتھ ساتھ چلے گی سوائے کنڈ ملیر سے آگے تھوڑے پہاڑی علاقے میں ایک چھوٹی ٹنل بنانی پڑے گی یا پھر اس پہاڑی کا بائی پاس کرنے کے لئے سمندرکے نیچے پائپ لائن کا سٹنٹ ڈالنا پڑے گا جو کہ سبز رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔اس روٹ پر نہر کی بجائے زیر زمین پائپ بھی بچھایا جا سکتا ہے۔

    روٹ۔ 2: سمندر کی تہہ میں پائپ لائن

    یہ پائپ لائن کنڈ ملیر تک 20 کلومیٹر نہر والے روٹ پر چلے گی اور اس سے آگے سمندر کی تہہ میں پائپ لائن بچھائی جائے (جسے سبز اور سرخ کلر کی لائن سے دکھایا گیا ہے)۔ کراچی کو پانی کی فراہمی کے لئے ایک کمزور سی نیلی لائن بھی لگا دی ہے۔

    ان راستوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ اپنے روٹ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کو پانی دیتے آگے بڑھیں گے۔ اورماڑہ کے پاس حال ہی میں مکمل ہونے والے بسول ڈیم کی جھیل کو بھی اس خوابی واٹر وے سے منسلک کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ساحلی پہاڑیوں سے سمندر میں بہنے والے پہاڑی نالوں کے پانی کو بھی رام کرکے اس واٹر وے سے منسلک کرنے کی کوئی ترتیب بنائی جاسکتی ہے۔

    اس واٹر وے کی صلاحیت صرف 45 کیوسک (30MGD) تک ہوگئی جسے فیز 2 میں بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہنگول ڈیم اس سے دس گنا زیادہ پانی بلا روک ٹوک فراہم کرسکے گا جب کہ گوادر کی موجودہ پانی کی ڈیمانڈ 10MGD بھی نہیں۔

    بعض لوگ اس واٹر وے کی 400 کلومیٹر لمبائی پر اعتراض کریں گے تو عرض ہے کہ کچھی کینال تونسہ بیراج سے 500 کلومیٹر دور ڈیرہ بگٹی اور کچھی کے میدانوں تک 6000 کیوسک پانی لانے کے لئے تعمیر ہوچکی ہے اور یہ سارا کام ہمارے مقامی انجنئیرز نے کیا ہے۔ اور اس کا روٹ کوسٹل واٹر وے سے کہیں زیادہ مشکل تھا جس میں تمام راستے میں دائیں طرف کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی نالوں کو کراس کرنا تھا۔

    تربت میں تعمیر شدہ میرانی ڈیم گوادر سے صرف 150 کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ تاہم اس ڈیم سے گوادر کو پانی کی فراہمی کا روٹ بہت مشکل ہے جس میں بہت زیادہ لمبی ٹنل یا سرنگیں تعمیر کرنا پڑتی ہیں۔ دوسرے میرانی ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہنگول ڈیم سے کہیں کم ہے جس کہ وجہ سے یہ ہنگول ڈیم سے زیادہ توجہ حاصل نہیں کر پاتا اور مہنگا منصوبہ لگتا ہے۔

    ہنگول ڈیم کی تعمیر پر ہنگول نیشنل پارک اور ہنگلاچ ماتا کے مندر کے حوالے سے تحفظ ماحول تنظمیوں اور مقامی آبادی کو کچھ اعتراض تھے جنہیں دور کرنے کے لئے ہنگول ڈیم کو اپنی اصل جگہ سے 16 کلومیٹر شمال میں لے جایا گیا ہے تاکہ تمام لوگ مطمئن ہوں۔ تاہم اس عمل میں ہنگول ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت آدھی (دس لاکھ ایکڑ فٹ) رہ گئی ہے جو کہ پھر بھی ایک بہترین کیپیسٹی ہے۔

    امید ہے فیصلہ ساز بلوچستان کے ساحل مکران کی پینے کے صاف پانی کی ترجیحات کو سمجھتے ہوئے ان خطوط پر ضرور سوچیں گے اورگوادر کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی ضرور ملے گا۔

  • جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دنیا کے کسی بھی علاقےمیں کسی بھی وقت کوئی قدرتی آفت آسکتی ہے لیکن دیگر قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا کو ویڈ وغیرہ کے برعکس سیلاب ایسی آفت ہے جسکی اس کے آنے کے وقت سے بہت پہلے بہت واضح انداز میں اور بڑی صحیح صحیح نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

    دنیا میں سائنسی ترقی کی وجہ سے ایسے زبردست کمپیوٹر پروگرام بن چکے ہیں کہ جو مستقبل کے بارش اور اس سے آنے والے سیلاب کے زیر آنے والے علاقوں کی بہت ٹھیک ٹھیک نشاندھی کر سکتے ہیں اور یہ ماڈل اس وقت بھی پاکستان کے قومی اور نجی اداروں کے زیر استعمال بھی ہیں۔

    اس سال محکمہ موسمیات پاکستان نے مئی کے شروع میں ہی تباہ کن بارشوں کی پیش گوئی کر دی تھی۔ تحفظ ماحولیات کی وزیر شیریں رحمان نے بھی 19 جون کی پریس کانفرنس میں بالکل واضح انداز میں اس سال غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے 2010 کے سیلاب سے بھی بڑا سیلاب آنے کی بات کردی تھی لیکن متعلقہ اداروں کی طرف سے اس آفت سے بچاو کے لئے کوئی خاص عملی اقدامات نہ کئے گئے۔

    مئی سے جولائی تک کے دو مہینے ضائع کر دئے گئے۔ یہ شائد ہماری اس ذہنیت کا شاخسانہ ہے کہ جب سر سے پانی گزرتا ہے تو ہم بیدار ہوتے ہیں اور پھر اگلے پانی تک سو جاتے ہیں۔ غلطی سے سبق نہیں سیکھتے اور ایڈوانس پلاننگ یا وقت سے پہلے تدبیر نہیں کرتے۔

    اور کچھ نہیں تو کچھ سادہ سے طریقوں سے لوگوں کے جانی اور مالی نقصان کو ضرور کم کیا جا سکتا تھا۔ مثلاً

    ۱- مئی میں ہی محکمئہ موسمیات کی وارننگ کے بعد 2010 کے سیلاب زدہ علاقوں کے نقشے کے اندر موجود تمام آبادیوں کے لوگوں کو پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے محفوظ مقامات پر رضاکارانہ طور پر چلے جانے کے پیغامات نشر کئے جاتے۔ اس طرح کے آگاہی پیغامات کوویڈ کے دنوں میں بہت موثر ثابت ہو چکے ہیں۔

    ۲- نشیبی سیلابی علاقوں میں موجود اونچی محفوظ جگہوں یا آبادیوں کی نشاندہی کرکے وہاں پناہ گاہیں بنانے کی ایسی منصوبہ بندی ہوتی کہ بارش سے سیلاب کی صورت میں چند گھنٹوں میں وہ اپنا کام شروع کر دیتیں اوروہاں انسانوں اور جانوروں کی رسائی آسانی سےممکن ہوتی۔ اس سلسلے میں این ایچ کے روڈ اور سرکاری عمارات کا انتخاب کیا جاسکتا تھا۔

    ۳- ریسکیو آپریشن کے تمام لوازمات مکمل ہوتے ۔ مٹی اور پتھرکی کھدائی کا کام کرنے والی مشینری ان علاقوں میں موجود ہوتی۔ مناسب تعداد میں کشتیاں ، پاور بوٹس اور ہیلی کاپٹر ز کا بندوبست ہوتا۔

    ۴- موبائل فیلڈ ہسپتال اور ڈسپنسریاں کشتیوں پر قائم کر دی جاتیں۔ ویٹنری ڈاکٹر اور موبائل فیلڈ ہسپتال ہوتے۔

    ۵- صاف پانی کے ذرائع کو سیلابی پانیوں سے بچانے کا خصوصی بندوبست ہوتا تاکہ سیلاب کی صورت میں بھی مقامی طور پر پینے کے پانی کا بندوبست ہوتا۔ خشک خوراک کے واٹر پروف پیکٹ تیار ہوتے۔

    ۶۔ سیٹلائٹ ڈیٹا اور پچھلے سیلابوں کے پانی کے راستوں کو دیکھتے ہوئے پانی کے راستوں کی صفائی کر دی جاتی اور تمام پکی رکاوٹوں جیسے سڑک یا غیر قانونی تعمیرات کو کاٹ دیا جاتا۔

    ۷۔ آج بھی متعلقہ محکمے ایک ایپ بنا کر اس پر آج تک کے تمام سیلابی پانیوں کے راستے اور اونچی جگہوں جہاں پر پناہ لی جا سکے ان کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ اسی ایپ میں اوبر کریم طرز پر قریب ترین موجود موبائل ریسکیو یونٹ، فیلڈ ہسپتال، موبائل راشن اور لنگر سپلائی اور ان علاقوں میں کام کرنے والے رضاکارانہ تنظیموں کی لوکیشن ڈال کر بہت سا کام آسان کرسکتے ہیں تاکہ موجودہ آفت کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لئے بھی کارآمد رہے۔

    پاکستان میں تمام متعلقہ محکمے روٹین میں ہر سال مون سون کی آمد سے پہلے اپریل یا مئی میں ہی اپنے اپنے مون سون سے نپٹنے کے مقامی پروگرام بنا کر حکومت کو جمع کرواتے ہیں لیکن لگتا ہے اس سال ملک میں اسی دوران جاری سیاسی سرکس کی کی وجہ سے اس روٹین کے کام کو بھی شائد اس کی روح کے مطابق نہیں کیا گیا حالانکہ اس دفعہ روٹین سے ہٹ کر ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہئے تھا۔

    بہرحال آفت آچکی ہے اور پانی سر سے گزر چکا ہے۔ عوام جانی اور مالی نقصانات اٹھا چکی ہے اور عمر بھر کے جذباتی صدمات اٹھا رہی ہے۔

    دنیا پاکستان سے افسوس کر رہی ہے اور پاکستانی عوام کی مدد کرنے کو تیار ہے۔

    کیا ہم اگلے سال کی مون سون کے لئے تیار ہوں گے یا حسب عادت سب کچھ بھول کر ایک اور آفت کےآنے تک بے فکر رہیں گے۔

  • ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    سگریٹ کیا ہے؟

    سگریٹ ایک بیلن کی شکل میں خصوصی کاغذ کو گویا لحاف کی طرح بناکر اور اس کے اندر تمباکو بھر دیا جاتا ہے۔

    سگریٹ صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے اور ماحولیاتی آلودگی اور عوامی صحت کی تباہی کا اہم سبب ہے. اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کرنے والے یاد رکھیں کہ سگریٹ نوشی سے منہ کا کینسر بھی بنتا ہے۔

    امریکا کے سائنسدانوں کی ایک 2010ء کی تحقیق کے مطابق کسی بھی انسان کے جسم میں پہلی مرتبہ پیے جانے والے سگریٹ کے پہلے اولین کش ہی لمحوں میں ایسے جینیاتی نقصانات کی وجہ بن سکتے ہیں، جن کا تعلق سرطان سے ہوتا ہے۔اس کا مستقل استعمال صحت پر کئی مضر اثرات کا باعث ہوتا ہے۔

    تمباکو نوشی نہ صرف اُس شخص کے لیے جو اِس عادت کا شکار ہے بلکہ اُن افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو اُس کے آس پاس رہتے ہیں، جسے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کہتے ہیں۔ یعنی، آپ خود تو سگریٹ نہیں پی رہے ہوتے لیکن دوسروں کی سگریٹ کا دھواں آپ کے پھیپھڑوں کو اور آپ کے نظامِ صحت کو بھی انتہائی نقصان پہنچاتا ہے جتنا خود سگریٹ پینے والوں کو۔

    طبی ماہرین ایک طویل عرصہ سے لوگوں کو تمباکو نوشی ترک کرنے کے بارے میں بتا رہے ہیں، لیکن اگر امریکا کی طرح دنیا بھر میں سماجی طور پر بھی سگریٹ نوشی کو روکا جائے تو یقینی طور پر سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوگی۔ عالمی ادارہٴ صحت کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے چھ میں سب سے زیادہ خطرے کی وجہ سمجھی جاتی ہے۔

    عالمی ادارہٴ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے کم از کم 50لاکھ افراد پھیپھڑوں کے سرطان، دل کے امراض اور دوسری وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو سنہ 2030 میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

    ہم میں سے کوئی بھی اِن اعداد و شمار کا حصہ ہو سکتا ہے،اس لئے احتیاط بہت ضروری ہے اپنے گھر سے آغاز کیا جائے۔ اپنے بچوں کو شروع سے ہی تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں بتایا جائے اور اس بات کی خبر رکھیئے کہ کہیں وہ چوری چھپے سگریٹ تو نہیں پیتے۔ بچوں کو روکنے کا سب سے بڑا طریقہ یہ ہے کہ بڑے اُن کے سامنے سگریٹ نہ پئیں۔