Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • سگریٹ  کا دھواں قریبی افراد کے لئے موت کا سایہ،تحریر:- محمد دانش

    سگریٹ کا دھواں قریبی افراد کے لئے موت کا سایہ،تحریر:- محمد دانش

    خبردار تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے
    یہ سلوگن ہر سگریٹ کی ڈبی پہ لکھا ہوتا ہے اور ہم میں سے ہر کوئی اس کا مطلب جانتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ سگریٹ سے انسان کی صحت متاثر ہوتی ہے اور بہت سی بیماریوں کا سبب بنتی ہے کیونکہ سگریٹ میں تقریبا سات سو سے زائد کیمیکلز موجود ہوتے ہیں ان میں سے ایک اندازے کے مطابق 70 کیمیکلز کینسر کی وجہ بنتے ہیں اور کچھ کیمیکلز جیسا کہ امونیا فارم ایلڈی ہائڈ وغیرہ جو کہ پھیپھڑوں کی بہت سی بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں اور وہ لوگ جو سگریٹ نوشی زیادہ کرتے ہیں ان میں کورونا وائرس اور اس طرح کی بڑی مہلک بیماریوں کا اثر بھی زیادہ ہوتا ہے کیونکہ سگریٹ کا دھواں انکے جسم کے مدافعتی نظام کو پہلے ہی کمزور کرچکا ہوتا ہے جسکی وجہ سے وہ لوگ کورونا وائرس کا حملہ برداشت نہیں کر پاتے اور اس کے بچنے کے چانسز بہت کم ہو جاتے ہیں

    جو انسان سگریٹ نوشی کرتا ہے وہ خود تو ان بیماریوں کا سامنا کرتا ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ وہ شخص ارد گرد کے ماحول کو بھی آلودہ کر رہا ہوتا ہے جسکی وجہ سے وہ لوگ جو خود تو سگریٹ نوشی نہی کرتے لیکن اسکے گرد موجود ہونے کی وجہ سے ان کو بھی بالواسطہ ان سب بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آج کل لوگ اس سے بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور مختلف بیماریاں خاص طور پہ کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں اور یہ سب اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ ہمارے ارگرد ہمارے بہت قریبی رشتے دار یا گھر کا کوئی فرد جب گھر میں سگریٹ نوشی کرتا ہے وہ اپنے ساتھ باقی سب کو بھی اس آلودگی کا حصہ بنا رہا ہوتا ہے اور اسی طرح کے مثائل سے ہمارے تعلیمی ادارے، مارکیٹیں،گاڑیوں میں موجود افراد بھی دوچار ہیں خاص طوران میں بالواسطہ سگریٹ نوشی بہت عام ہے
    میری آپ سب لوگوں سے گزارش ہے کہ سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں خود کو اور اپنے قریبی عزیزوں کو اس مہلک دھوئیں سے بچائیں تاکہ ہم بہتر صحت مند زندگی گزار سکیں اور اپنے ماحول کو آلودہ ہونے سے بچا سکیں
    میں حکومت پاکستان سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ بالواسطہ سموکنگ سے بچنے کے لئے وہ جگائیں جہاں آمدورفت زیادہ ہو اور لوگوں کا میل جول زیادہ ہو وہاں پہ یا تو سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کی جائےاور سگریٹ نوشی کرنے والے پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے خاص طور تعلیمی اداروں میں بھی سگریٹ نوشی بین ہونی چاہئے
    تاکہ ہم اس زہریلے دھوئیں سے چھٹکارا پا سکیں اور اپنے وطن عزیز کو اس طرح کی آلودگی سے پاک کر سکیں
    صاف صاف پاکستان
    پاک پاک پاکستان
    تحریر:- محمد دانش
    ‏@iEngrDani

  • “زندگی کا ایک اور سال بیت گیا “ تحریر:جواد خان یوسفزئی

    “زندگی کا ایک اور سال بیت گیا “ تحریر:جواد خان یوسفزئی

    کبھی نرمی، کبھی سختی، کبھی الجھن، کبھی ڈر
    وقت اے دوست ! بہرحال گزر جاتا ہے
    لمحہ لمحہ نظر آتا ہے کبھی اک اک سال
    ایک لمحے میں کبھی سال گزر جاتا ہے

    دوستوں نے یاد دلایا آج میراجنم دن ہے ۔ یوم پیدائش سے زیادہ اہم دن اور کون سا ہو سکتا ہے ۔ یہ دن باربار آتا ہے اور انسان کو خوشی اور دکھ سے ملے جلے جذبات سے بھر جاتا ہے ۔ ہر سال لوٹ کر آنے والی سالگرہ زندگی کے گزرنے اور موت سے قریب ہونے کے احساس کو بھی شدید کرتی ہے اور زندگی کے نئے پڑاؤ کی طرف بڑھنے کی خوشی کو بھی ۔
    زندگی کا (۲۳) واں سال ختم ہونے کو ہے۔ آج یونہی بیٹھے بیٹھے بات چھڑی کہ سال کیسا گزرا تو حسابِ سودوزیاں کرنے بیٹھی۔۔معلوم ہوا کہ۔۔
    وہی حالات، وہی رویے، وہی باتیں، وہی مخفل ۔۔کچھ خاص تبدیلی تو نہیں آئی۔۔سوائے کورونہ کی ایک لہر سے تیسری تک میں تبدیلی۔۔۔
    اس سال بھی سارے موسم ویسے ہی تھے۔۔ بے بسی اور کم مائیگی کے کہرے میں لپٹے ہوئے۔۔اس سال بھی اپنی اور دوسروں کی مجبوریوں پرجی بھر کے رونا آیا۔۔
    اس سال بھی لوگ امن و سکون کو ترستے رہے ۔
    ذاتی سطح پر دیکھوں تو بھی سب کچھ ویسا ہی ہے۔۔ذاتی کمزوریوں کی فہرست میں اضافہ ہوتادکھائی دیتا ہے۔
    آغاز سے اختتام تک یہ سال مجموعی طور پر ہم پاکستانیوں کے لئے بہت مشکل رہا۔ لیکن پھر بھی ہم رحمتِ خداوندی سے مایوس نہیں ہیں ۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے لئے سب کچھ اچھا ثابت فرمائے اور انفرادی اور اجتماعی ہر دو سطح پر خوشیاں، سکون، امن و سلامتی اور کامیابیاں سب کا مقدر ہوں۔آخر میں اُن تمام دوستوں کا بہت بہت شکریہ جنہوں نے اس دن پر نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلیں آسان فرمائے۔۔(آمین)
    جواد خان یوسفزئی
    ٹویئٹر : Jawad_Yusufzai@

  • دانت اوورل کویٹی اور اسکی حفاظت(1) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    دانت اوورل کویٹی اور اسکی حفاظت(1) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹویٹر ھینڈل : @nabthedentist

    اللہ نے انسان کو اسکے جسم کو اسکی ھر ایک سانس کو قیمتی بنایا ھے اسکی حفاظت کرنا اسکا خیال رکھنا انسان پر ویسے ھی فرض ھے جیسے انسان کے لئے اعمال صالحہ کرنا انسان کا جسم اللہ کی امانت ھے اللہ خوبصورتی جمال اور طہارت کو پسند کرتا ھے اور صفائ رکھنے والے انسانوں کو اپنا محبوب رکھتا
    جسم کے تمام حصوں کی اپنی اہمیت ایسے ھی دانتوں کی بھی اہمیت ھے انکو روزانہ کم از کم دو بار صاف رکھنا ایک صبح ناشتے کیبعد ایک رات سونے سے پہلے انتہائ ضروری ھے انسان کے منہ میں زندگی میں دو بار دانت آتے پہلی بار 20 اور اگلی بار 32 پہلی بار جب دانت نکلتے تو ھم انکو دودھ کے دانت کہتے یہ چھوٹے جبڑے کے عین مطابق چھوٹے ھوتے اور پھر ابھی یہ موجود ھی ھوتے تو پیچھے پکی ڈارھیں نکلنا شروع ھوجاتی 13 سال کی عمر میں قریبی سارے پکے دانت نکل آتے سب سے آخری ڈارھ جسکو ھم عقل ڈارھ بھی کہتے وہ عموما جوانی میں نکلتی کئیوں کی یہ نکلتی بھی نھیں اور کئ کی خراب نکلتی اور پھر سرجری کرکے نکلوانی پڑھتی

    بطور ڈینٹل سرجن اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں پیدائش سے لیکر دانتوں کی مکمل عمر پہنچ جانے کے مراحل انکے مسائل اور ان سے جڑے مسئلوں کے حل پر ایک سیرپا گفتگو کرونگا جسکا مقصد لوگوں میں علم شعور پہنچانے کی اپنے تئیں کوشش ھوسکے کہ دانتوں کی کونسی بیماریاں ھیں انکا حل کیا ھے کب مریض کو ڈینٹسٹ پاس جانا چاہئے اور گھر پر ایسا کیا کریں کہ یہ مسئلے دوبارہ سر نا اٹھا پائیں
    بچوں میں جیسا کہ میں نے بتایا بچپن میں 20 دانت نکلتے دس اوپر والے جبڑے اور دس نیچے والوں میں تو 5 سال کی عمر سے لیکر 12 سال کی عمر ایسی ھوتی ھے جس میں زیادہ تر بچے دانتوں میں کیڑا لگنے کی شکایت کیساتھ ڈینٹسٹ کے پاس جاتے ھیں درحقیقت دانت بچپن سے خراب جورے تھے اثرات اس عمر میں آتے بچوں کے دانتوں کا سب سے بڑا دشمن فیڈر ھے اگر میرا بس چلے تو مارکیٹ میں جتنی کمپنیز ھیں انکے فیڈرز کو آگ سے جلادوں یہی بچوں میں rampant caries نامی بیماری پیدا کرتے یہی دانت ٹیرے کرنے میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتے بچوں کونتکالیف درد جن کیسز میں آتا ان میں 90 فیصد فیدر استعمال کرتے بچے ھی ھوتے دوسری غلطی بچوں کے مناسب دانت صفائ نا کرنا انکو دانت صاف کرنے کا سلیقہ طریقہ نا سکھانا ھے اور جو دانت صاف کر رھے ھوں بچے انکو ھائ فلورایئڈ والے ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف کروانا ھے

    بچوں کا بچوں والا ٹوتھ پیسٹ دیں ٹوتھ برش دیں اور دانت دو بار صاف نھین کروانے بلکہ ھر بار جب وہ کچھ میٹھا کھائیں یا باھر کا۔کچھ کھائیں تب صاف کروانے ھیں
    بچہ 11 سال کا جب ھوجاتا یا اسکے canine جو نوکیلے دانت ھوتے وہ نکل آئیں تو اسوقت اگر آپکو لگے کے بچے کے دانت ٹیڑھے ھیں تو آپ ڈینٹل سرجن پاس جائیں ایک اچھا ڈینٹسٹ ایک اچھا صاف ستھرا کلینک اور ایک اچھی ٹریٹمنٹ بچوں کیلئے ھمیشہ ترجیحی بنیاد پر ھونے چاہئے

  • باغی ٹی وی کو اپنی تحریریں بھیجنے سے پہلے یہ ضرور پڑھیں

    باغی ٹی وی کو اپنی تحریریں بھیجنے سے پہلے یہ ضرور پڑھیں

    باغی ٹی وی کو اپنی تحریریں بھیجنے سے پہلے یہ ضرور پڑھیں

    باغی ٹی وی بلاگز میں کیسے لکھا جائے؟
    اگر آپ باغی ٹی وی کے بلاگز میں اپنے مضامین، بلاگز اور کالمز بھیجنے کے خواہش مند ہیں تو آپ کو مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا پڑے

    بلاگ آپ کی ذاتی تخلیق ہونہ کہ کسی کا نقل شدہ ہو.وہی بلاگ شائع ہوسکے گا جو صرف باغی ٹی وی کو ہی ارسال کیا گیا ہو، اگر آپ کی تحریر پہلے کہیں اور شائع ہو چکی ہے تو وہ باغی ٹی وی پر شائع نہیں کیا جائے گی

    بلاگ کے متن میں انگریزی الفاظ استعمال کرنے سے گریز کیا جائے. بلاگ کی زبان عام فہم اور سلیس ہونی چاہیے بلاگ لکھنے کے بعد اس کو ایک یا دو دفعہ خود پڑھ لیں تاکہ ممکنہ غلطیوں کو دور کیا جاسکے. اسلام، نظریہ پاکستان، افواج پاکستان، اقلیتیوں کے خلاف اور فرقہ وارانہ مواد نہیں ہونا چاہیے

    بلاگ کی طوالت 600 سے 1200 الفاظ کے درمیان ہونی چاہیے. مدیر کسی بھی بلاگ میں سے غیراخلاقی مواد کو حذف کرنے، ٹائٹل تبدیل کرنے اور متن میں تبدیلی کرنے کا اختیار رکھتا ہے.

    باغی ٹی وی بلاگز آپ کو موقع دیتا ہے کہ آپ اپنے بلاگز، مضامین اور کالمز باغی ٹی وی بلاگز کو بھیجیں. باغی ٹی وی بلاگز ان کو اپنی ویب سائٹ پر نمایاں جگہ دے گا اور آپ کے بلاگز کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر بھی کرے گا

    نوٹ، سب سے اہم، بلاگ بھیجنے کے بعد شائع ہونے کے لئے باری کا انتظار کریں، سب شائع ہوں گے،بلاگ ای میل کریں

    mumtaz@baaghitv.com

    بلاگ کا ٹائٹل بھی لکھیں، اپنا نام اور ٹویٹر آئی ڈی آخر میں لکھیں،

    اگر تین روز میں تحریر شائع نہ ہو تو واٹس اایپ پر میسج کر کے پوچھ سکتے ہیں، بار بار میسج کرنیوالوں کو کوئی جواب نہیں دیا جائے گا واٹس ایپ نمبر 03349755107

    کاپی پیسٹ تحریریں کسی صورت شائع نہیں کی جائیں گی،تحریر بھیجنے کے بعد اپنی باری کا انتظار کریں،اہم نوٹ، اگر کسی کی مسلسل تین تحریروں میں سے کاپی پیسٹ نکلا تو اسکو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا

    اوتھر پروفائل .. نہیں بنا ئی جا رہی اور جن کی بنی ہوئی ہے ان میں سے کسی نے مستقل ایک ماہ تک کوئی تحریر نہ بھیجی تو اسکی پروفائل ختم کر دی جائے گی

    تحریر کی اشاعت کے لئے شناختی کارڈ کی کاپی فرنٹ اور بیک لازمی ہمراہ بھیجیں، بغیر شناختی کارڈ کے کوئی تحریر شائع نہیں کی جائے گی

    ممتاز اعوان
    ایڈیٹر باغی ٹی وی اردو
    03349755107 واٹس ایپ نمبر

  • حیوان کو انسان سے خطرہ: تحریر:عمران اے راجہ

    حیوان کو انسان سے خطرہ: تحریر:عمران اے راجہ

    اللہ نے بنی نوع انسان کے ساتھ کروڑوں چرند پرند بھی پیدا کیے جن کی حیات و افزائش، نسل انسانی کے ساتھ چلتی اور معدوم ہوتی رہی۔
    جب میں ساؤتھ افریقہ شفٹ ہوا تو خاصی حیرانگی ہوئی کہ یہاں چند جانور ایسے ہیں جن کی حفاظت ہمارے وی آئی پیز کی طرح کی جاتی ہے اور انتہا تب ہوئی جب اس جانور کا شکار کرنے والے شکاری جنہیں رینجرز کی زبان میں “پوچرز” کہا جاتا ہے مقابلے کے بعد شدید زخمی اور کچھ کو ہلاک کر دیا گیا۔ جی ہاں جان سے مار دیا گیا۔
    یہ حفاظتی اقدامات تھے “گینڈے” کو شکار سے بچانے کے لیے۔ ڈائنوسارز کے زمانے سے چل رہے چند جانوروں میں اب صرف ہاتھی اور گینڈا ہی باقی رہے اور گینڈا کی نسل اس کے دانت کی وجہ سے انتہائی شدید خطرات سے دوچار ہے۔
    کچھ بعید نہیں اگر جانور زبان رکھتے تو ضرور کہتے کہ “انسان کس قدر حیوان اور وحشی ہے”۔ جانور کا بھی کرۂ ارض پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ عام انسان کا مگر کیا کیجیے۔
    گینڈے بارے تھوڑی تحقیق اور معلومات آپ سے شیئر کرتا ہوں جو کم ہی لوگوں کو معلوم ہیں اور کیسے ساؤتھ افریقن حکومت انہیں بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔۔
    آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں جنگلات کا خاتمہ ہوتا جارہا ہے۔ اس سے نہ صرف گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ جنگلی حیات کو بھی خطرات لاحق ہیں ۔ زیادہ تر جنگلات میں جنگلی جانور نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جنوبی افریقہ کے جنگلات ان چند جنگلات میں سے ایک ہیں جہاں اب بھی مختلف اقسام کے جنگلی جانور موجود ہیں۔اس لیے یہ تمام دنیا میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں بہت سے ایسے جانور پائے جاتے ہیں جو اب باقی دنیا میں ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ انھی جانوروں میں سفید اور سیاہ گینڈے بھی شامل ہیں۔ گینڈوں کی نسل گزشتہ کئی دہائیوں سے معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ مختلف جرائم پیشہ افراد ان کے سینگ کے حصول کے لیے ان کا شکار کرتے ہیں اور ان کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ جسامت کے لحاظ سے یہ ایک بکتر بند ٹینک کی طرح ہے۔ یہ لاکھوں سال سے ہمارے ساتھ اس دنیا میں موجود ہے، لیکن اب اس کو ہماری مدد کی ضرورت ہے ۔ 1970 تک گینڈوں کی تعداد 70،000 تھی جو اب 27،000 کے قریب ہے۔

    جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے سفید اور سیاہ گینڈے میں اگرچہ رنگت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ دونوں ہی سرمئی رنگت کے ہوتے ہیں لیکن ان کو ان کی مختلف خصوصیات کی وجہ سے یہ نام دیے گئے ہیں۔
    سفید گینڈا ہاتھی کے بعد زمین پر پایا جانے والا دوسرا بڑا ممالیہ جانور ہے۔ سفید گینڈا 1900 کی دہائی کے اوائل میں 100 سے بھی کم رہ گئے تھے۔ لیکن عالمی محکمہ تحفظ جنگلی حیات اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں سے اب ان کی تعداد بڑھ کر 17،212 اور 18،915 کے درمیان ہوگئی ہے۔
    سیاہ گینڈے کا سائنسی نام ڈیسورس بائی کارنس ہے۔ یہ سفید گینڈے کے مقابلے میں چھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ پودے اور جڑی بوٹیاں کھاتے ہیں۔ خاص طور پر ببول ان کی پسندیدہ غذا ہے۔ سیاہ گینڈوں کی آبادی 1970 میں 70،000 سے کم ہو کر 1995 میں صرف 2،410 رہ گئی تھی۔ لیکن افریقی محکمہ تحفظ جنگلی حیات کی مسلسل کوششوں کی بدولت اس وقت ان کی تعداد 5،366 اور 5،627 کے درمیان موجود ہے۔

    معاشی ترقی اور آبادی کے پھیلاؤ کی وجہ سے جنگلات کو کاٹ کر نئے شہر اور کالونیاں قائم کی جانے لگیں۔ اس عمل سے جنگلی حیات کوناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ کیونکہ ان کے قدرتی گھر ختم ہونا شروع ہو گئے، جہاں یہ مل جل کو گروہوں کی شکل میں رہتے تھے۔ اب یہ الگ تھلگ علاقوں میں تقسیم ہو گئے، جہاں ان کی افزائش کو خطرہ ہے۔ بہت کم گینڈے قومی پارکوں اور مصنوعی جنگلوں میں زندہ رہ پاتے ہیں۔

    جنگلی جانوروں خاص طور پر گینڈوں کو بہت سے لوگ غیر قانونی طور پر شکار کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ شوقیہ طور پر بے رحمانہ طریقے سے جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔ جس سے ان کی نسل تیزی سے معدوم ہوتی جا رہی ہے۔

    شوقیہ شکار کرنے والوں کے ساتھ ساتھ زیادہ تعداد ان افراد کی بھی ہے جو ان کا سینگ حاصل کرنے کے لیے ان کا شکار کرتے ہیں۔ ایشیاء اور باقی دنیا میں پائے جانے والے گینڈوں کا ایک سینگ ہوتا ہے۔ لیکن جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے گینڈوں کے دو سینگ ہوتے ہیں۔ اسی لیے انھیں زیادہ شکار کیا جاتا ہے۔ لوگ یہ سینگ روایتی دوائیوں کے استعمال یا بیش قیمت تحفے کے طور پر دینے کے لیے بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ چین اور ویتنام کی منڈیاں ان کے سینگ کی بڑی خریدار ہیں۔ چین کی ایک اہم مارکیٹ میں اس کے سینگ سے بنے نوادرات فروخت کیے جاتے ہیں۔ ویتنام میں اس کو کینسر کے علاج کے لئے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا سینگ جسم سے زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے، اس لیے سنگین سے سنگین بیماری میں بھی شفا دیتا ہے۔
    دنیا بھر میں گینڈوں کی آبادی کا تقریبا 80 فیصد جنوبی افریقہ کے کروگر نیشنل پارک میں موجود ہیں ۔گذشتہ پانچ سالوں میں 5100 سے زائد گینڈے غیر قانونی طور پر شکار ہوئے جن میں سے 50 فیصد صرف کروگر نیشنل پارک میں شکار ہوئے۔ لیکن افریقہ کے جنگلات میں اب ان کی حفاظت کے لیے رینجرز، ڈرون کیمروں اور جہاں ضرورت ہو تو مسلح افواج کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔

    اگرچہ غیر قانونی شکار پر پابندی اور مصنوعی طریقوں سے افزائش نسل کر کے ان کی آبادی کو بڑھانے کی کوشش بہت حد تک کامیاب ہے۔ لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ ہمیں اپنے قدرتی ماحول کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی۔ اس کا شکار زیادہ تر سینگ کے حصول کے لئے کیا جاتا ہے، اس لیے صارفین کی مانگ ختم ہو جائے تو شکاریوں اور سمگلروں کی اس میں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہے گی۔ اس کے علاوہ قدرتی وسائل کے استعمال میں احتیاط سے کام لینا چاہیے تاکہ کم سے کم جنگلات کی کٹائی ہو۔ اور یہ قدرتی ماحول میں نسل برقرار رکھ سکیں۔

    ‏Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • ‎بلاک چین کیا ہے؟ تحریر: محمد محسن خان

    ‎بلاک چین کیا ہے؟ تحریر: محمد محسن خان

    ‎بلاک چین ٹیکنالوجی پیچیدہ لگتی ہے ، اور یہ یقینی طور پر ہے ، لیکن اس کا بنیادی تصور واقعی بہت آسان ہے۔ بلاک چین ایک قسم کا ڈیٹا بیس ہے۔ بلاک چین ٹیکنالوجی کو سمجھنے کے لئے، اس سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اصل میں ڈیٹا بیس کیا ہے۔

    ‎ڈیٹا بیس معلومات کا ایک مجموعہ ہے جو الیکٹرانک طور پر کمپیوٹر سسٹم میں اسٹور کیا جاتا ہے۔ ڈیٹا بیس میں موجود معلومات ، یا ڈیٹا کو عام طور پر ٹیبل فارمیٹ میں تشکیل دیا جاتا ہے تاکہ مخصوص معلومات کے لئے easier آسان تلاش اور فلٹرنگ کی سہولت ہو۔ کسی میں ڈیٹا بیس کے بجائے معلومات کو ذخیرہ کرنے کے لئے اسپریڈشیٹ استعمال کرنے میں کیا فرق ہے؟

    ‎اسپریڈشیٹ ایک شخص ، یا لوگوں کے ایک چھوٹے سے گروپ کے لئے ، محدود مقدار میں معلومات کو اسٹور کرنے اور ان تک رسائی کے لئے تیار کی گئی ہیں۔ اس کے برعکس ، ایک ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ہے جس میں بڑی تعداد میں معلومات رکھی جاسکتی ہیں ، جس کو ایک ہی بار میں کسی بھی تعداد میں صارفین کے ذریعہ تیزی سے اور آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ، فلٹر کیا جاسکتا ہے۔

    ‎بڑے ڈیٹا بیس اس سرور پر ہاؤسنگ ڈیٹا کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں جو طاقتور کمپیوٹرز سے بنے ہیں۔ یہ سرور بعض اوقات سیکڑوں یا ہزاروں کمپیوٹرز کا استعمال کرتے ہوئے بنایا جاسکتا ہے تاکہ متعدد صارفین کو بیک وقت ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کرنے کے لئے کمپیوٹیشنل پاور اور اسٹوریج کی گنجائش ضروری ہو۔ اگرچہ کسی اسپریڈشیٹ یا ڈیٹا بیس پر کسی بھی تعداد میں لوگوں تک رسائی ہوسکتی ہے ، لیکن یہ اکثر ایک کاروبار کی ملکیت ہوتی ہے اور ایک مقررہ فرد کے ذریعہ اس کا انتظام ہوتا ہے جس میں اس کے کام کرنے اور اس کے اندر موجود ڈیٹا پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔

    ‎تو بلاک چین کس طرح ایک ڈیٹا بیس سے مختلف ہے؟

    ‎اسٹوریج ڈھانچہ
    ‎عام ڈیٹا بیس اور بلاک چین کے درمیان ایک اہم فرق یہ ہے کہ جس طرح سے ڈیٹا تشکیل دیا جاتا ہے۔ بلاک چین گروپوں میں ایک ساتھ معلومات اکٹھا کرتا ہے ، جسے بلاکس بھی کہا جاتا ہے ، جس میں معلومات کے سیٹ ہوتے ہیں۔ بلاکس میں کچھ ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوتی ہے اور جب بھری جاتی ہے تو ، پہلے سے بھرے ہوئے بلاک پر جکڑے جاتے ہیں ، جس کو "بلاک چین” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تمام نئی معلومات جو اس کے بعد تازہ اضافی بلاک کو ایک نو تشکیل شدہ بلاک میں مرتب کیا گیا ہے جو اس کے بعد ایک بار بھرا ہوا سلسلہ میں بھی شامل ہوجائے گا۔

    ‎ایک ڈیٹا بیس اپنے ڈیٹا کو ٹیبلز میں تشکیل دیتا ہے جبکہ ایک بلاک چین، جیسے اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے ، اپنے اعداد و شمار کو ٹکڑوں (بلاکس) میں تشکیل دیتا ہے جو ایک ساتھ جکڑے ہوئے ہیں۔ اس سے ایسا ہوتا ہے کہ تمام بلاک چین ڈیٹا بیس ہیں لیکن تمام ڈیٹا بیس بلاک چین نہیں ہیں۔ یہ نظام غیر فطری طور پر اعداد و شمار کی ایک ناقابل واپسی ٹائم لائن بھی بناتا ہے جب ایک غیر منطقی نوعیت میں نافذ کیا جاتا ہے۔ جب بلاک بھر جاتا ہے تو یہ پتھر میں سیٹ ہوتا ہے اور اس ٹائم لائن کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔ جب سلسلہ میں شامل کیا جاتا ہے تو سلسلہ میں ہر بلاک کو ایک عین ٹائم اسٹیمپ دیا جاتا ہے۔
    غیر مرکزی ہونا
    ‎بلاک چین کو سمجھنے کے مقصد کے لئے ، اسے اس تناظر میں دیکھنا زیادہ معاملہ فہم ہے کہ بٹ کوائن نے اسے کس طرح نافذ کیا ہے۔ ڈیٹا بیس کی طرح ، بٹ کوائن کو اپنے بلاک چین کو ذخیرہ کرنے کے لئے کمپیوٹروں کا ایک مجموعہ کی ضرورت ہے۔ بٹ کوائن کے لئے ، یہ بلاک چین صرف ایک مخصوص قسم کا ڈیٹا بیس ہے جو اب تک کی گئی ہر بٹ کوائن لین دین کو محفوظ کرتا ہے۔ ویکیپیڈیا کے معاملے میں ، اور بیشتر ڈیٹا بیس کے برعکس ، یہ کمپیوٹر سبھی ایک ہی چھت کے نیچے نہیں ہوتے ہیں ، اور ہر کمپیوٹر یا کمپیوٹرز کا گروپ ایک انفرادی فرد یا افراد کے گروپ کے ذریعہ چلتا ہے

    ‎ذرا تصور کیجیے کہ ایک کمپنی کے پاس ایک سرور ہے جس میں 10،000 کمپیوٹرز شامل ہیں اور اس کے پاس اپنے مؤکل کے اکاؤنٹ کی تمام معلومات موجود ڈیٹا بیس ہیں۔ اس کمپنی کے پاس ایک گودام ہے جس میں یہ تمام کمپیوٹرز ایک ہی چھت کے نیچے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کمپیوٹر اور اس کے اندر موجود تمام معلومات کا مکمل کنٹرول ہے۔ اسی طرح ، بٹ کوائن ہزاروں کمپیوٹرز پر مشتمل ہوتا ہے ، لیکن ہر کمپیوٹر یا کمپیوٹر کا ایک گروپ جس میں اس کا بلاک چین ہوتا ہے وہ مختلف جغرافیائی مقام پر ہوتا ہے اور یہ سب الگ الگ افراد یا لوگوں کے گروپوں کے ذریعہ چلتے ہیں۔ یہ کمپیوٹرز جو بٹ کوائن کے نیٹ ورک کو میک اپ کرتے ہیں انہیں نوڈز کہتے ہیں۔

    ‎اس ماڈل میں ، ویکیپیڈیا کے راستے میں بٹ کوائن کا بلاک چین استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ، نجی ، سنٹرلائزڈ بلاک چین ، جہاں کمپیوٹر اس کے نیٹ ورک کو تشکیل دیتے ہیں ، وہ ایک ہی ملکیت کے زیر ملکیت اور چل رہے ہیں۔

    ‎بلاک چین میں ، ہر نوڈ میں اس ڈیٹا کا مکمل ریکارڈ موجود ہے جو اپنے آغاز سے ہی بلاک چین پر محفوظ ہے۔ ویکیپیڈیا کے لئے ، اعداد و شمار تمام ویکیپیڈیا لین دین کی پوری تاریخ ہے۔ اگر کسی ڈیڈ میں کسی نوڈ میں خرابی ہوتی ہے تو وہ خود کو درست کرنے کے لئے ہزاروں دوسرے نوڈس کو ریفرنس پوائنٹ کے طور پر استعمال کرسکتی ہے۔ اس طرح ، نیٹ ورک کے اندر کوئی بھی نوڈ اس کے اندر موجود معلومات کو تبدیل نہیں کرسکتا ہے۔ اس کی وجہ سے ، ہر بلاک میں لین دین کی تاریخ جو بٹ کوائن کا بلاک چین بناتے ہیں ناقابل واپسی ہے۔

    ‎اگر کوئی صارف بٹ کوائن کے لین دین کے ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو ، دوسرے تمام نوڈس ایک دوسرے کو عبور کرتے ہیں اور غلط معلومات کے ساتھ نوڈ کو آسانی سے نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ نظام واقعات کا درست اور شفاف نظم قائم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ بٹ کوائن ، یہ معلومات لین دین کی ایک فہرست ہے ، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ بلاک چین کے لئے مختلف قسم کی معلومات رکھنا ، جیسے قانونی معاہدوں ، ریاست کی شناخت ، یا کسی کمپنی کی مصنوع کی فہرست کو رکھنا۔

    ‎یہ نظام کس طرح کام کرتا ہے ، یا اس میں موجود معلومات کو تبدیل کرنے کے لئے ، وکندریقرت نیٹ ورک کی کمپیوٹنگ طاقت کی اکثریت کو ان تبدیلیوں پر اتفاق کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس سے یہ یقینی بنتا ہے کہ جو بھی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں وہ اکثریت کے مفاد میں ہیں۔

    ‎شفافیت
    ‎ویکیپیڈیا کی نوعیت کی وجہ سے بٹ کوائن کے بلاک چین ، تمام لین دین کو شفاف طور پر یا تو ذاتی نوڈ رکھنے یا بلاک چین ایکسپلورر کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے جو کسی کو بھی براہ راست واقع ہونے والے لین دین کو دیکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہر نوڈ کی زنجیر کی اپنی ایک کاپی ہوتی ہے جس میں تازہ کاری ہوتی ہے کیونکہ تازہ بلاکس کی تصدیق اور شامل ہوجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ چاہتے تو ، آپ جہاں کہیں بھی جاتے ہیں بٹ کوائن کو ٹریک کرسکتے ہیں۔

    ‎مثال کے طور پر ، ماضی میں تبادلے ہیک کیے گئے تھے جہاں تبادلے پر بٹ کوائن رکھنے والوں نے سب کچھ کھو دیا۔ اگرچہ ہیکر مکمل طور پر گمنام ہوسکتا ہے ، لیکن انہوں نے جو بٹ کوائن نکالا اسے آسانی سے سراغ لگایا جاسکتا ہے۔ اگر ان میں سے کچھ ہیکوں میں چوری کی گئی بٹ کوائنز کو کہیں منتقل کیا جاتا یا خرچ کیا جاتا تو یہ معلوم ہوجائے گا۔

    ‎کیا بلاک چین محفوظ ہے؟
    ‎بلاک چین ٹیکنالوجی سیکیورٹی اور اعتماد کے معاملات کو کئی طریقوں سے محو کرتی ہے۔ پہلے ، نئے بلاکس ہمیشہ خطوط اور تاریخی اعتبار سے محفوظ کیے جاتے ہیں۔ یعنی ، انہیں ہمیشہ بلاکچین کے "آخر” میں شامل کیا جاتا ہے۔ اگر آپ بٹ کوائن کے بلاکچین پر ایک نگاہ ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہر بلاک کی زنجیر پر ایک پوزیشن ہوتی ہے ، جسے "اونچائی” کہا جاتا ہے۔

    ‎بلاک چین کے اختتام پر بلاک کا اضافہ ہونے کے بعد ، اس بلاک کے مندرجات میں تبدیلی کرنا بہت مشکل ہے جب تک کہ اکثریت اس پر اتفاق رائے نہیں کر پائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر بلاک کی اپنی ہیش ہوتی ہے ، اس کے ساتھ ہی اس سے پہلے اس بلاک کی ہیش کے ساتھ ساتھ پہلے بیان کردہ ٹائم اسٹیمپ بھی۔ ہیش کوڈز ایک ریاضی فنکشن کے ذریعہ تخلیق کیا گیا ہے جو ڈیجیٹل معلومات کو اعداد اور حروف کی تار میں بدل دیتا ہے۔ اگر اس معلومات میں کسی بھی طرح ترمیم کی گئی ہے تو ، ہیش کوڈ میں بھی تبدیلی آتی ہے۔

    ‎سیکیورٹی کے لئے یہ کیوں اہم ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ایک ہیکر بلاک چین کو تبدیل کرنا چاہتا ہے اور ہر کسی سے ویکیپیڈیا چوری کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ اپنی واحد کاپی کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو ، یہ اب باقی سب کی کاپی کے ساتھ سیدھ میں نہیں ہوگا۔ جب باقی ہر شخص اپنی کاپیاں ایک دوسرے کے خلاف کراس کا حوالہ دیتے ہیں تو ، وہ دیکھیں گے کہ اس کی ایک کاپی کھڑی ہوجائے گی اور اس سلسلہ کا ہیکر کا نسخہ ناجائز قرار دے دیا جائے گا۔

    ‎اس طرح کے ہیک کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے کا تقاضا ہوگا کہ ہیکر نے بیک وقت بلاک چین کی کاپیاں کو کنٹرول اور تبدیل کردے تاکہ ان کی نئی کاپی اکثریت کی کاپی بن جائے اور اس طرح اتفاق رائے سے زنجیر بن جائے۔ اس طرح کے حملے کے لئے بے تحاشا رقم اور وسائل کی بھی ضرورت ہوگی کیونکہ انہیں ان تمام بلاکس کو دوبارہ کرنا ہوگا کیونکہ اب ان کے پاس مختلف ٹائم اسٹیمپ اور ہیش کوڈ ہوں گے

    ‎بٹ کوائن کے نیٹ ورک کی جسامت اور اس میں کتنی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اس کی وجہ سے ، اس طرح کے کارنامے کو دور کرنے کی قیمت شاید ناقابل تلافی ہوگی۔ نہ صرف یہ انتہائی مہنگا ہوگا ، بلکہ یہ بے نتیجہ بھی ہوگا۔ ایسا کام کرنے سے کسی کا دھیان نہیں جائے گا ، کیونکہ نیٹ ورک کے ممبران بلاک چین پر اس طرح کے سخت رخ دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد نیٹ ورک کے ممبران اس سلسلہ کا ایک نیا ورژن تشکیل دے دیں گے جو متاثر نہیں ہوا ہے۔

    ‎اس سے بٹ کوائن کے حملہ شدہ ورژن کی قیمت کم ہوجائے گی ، اور یہ حملہ حتمی طور پر بے معنی ہوجائے گا کیونکہ خراب اداکار کے پاس بیکار اثاثہ ہے۔ خرابی اداکار بٹ کوائن کے نئے کانٹے پر حملہ کرنے کی صورت میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح بنایا گیا ہے تاکہ نیٹ ورک میں حصہ لینا اس پر حملہ کرنے سے کہیں زیادہ معاشی طور پر حوصلہ افزائی کر سکے۔

    ‎بلاک چین کس طرح استعمال کیا جاتا ہے؟
    ‎جیسا کہ اب ہم جانتے ہیں کے blockchain مالیاتی لین دین کے بارے میں ڈیٹا اسٹور ہوتا ہے۔ لیکن یہ پتہ چلتا ہے کہ بلاک چین دراصل دیگر قسم کے لین دین کے بارے میں بھی ڈیٹا کو محفوظ کرنے کا ایک قابل اعتماد طریقہ ہے۔

    ‎کچھ کمپنیاں جو پہلے ہی بلاک چین کو شامل کر چکی ہیں ان میں والمارٹ ، فائزر ، اے آئی جی ، سیمنز ، یونی لیور ، اور بہت سے دیگر شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ، آئی بی ایم نے اس فوڈ ٹرسٹ کا بلاک چین تیار کیا ہے جس کا پتہ لگانے کے لئے فوڈ پروڈکٹ اپنے مقامات تک جانے کے لئے لے جاتی ہے۔

    ‎ایسا کیوں کرتے ہو؟ فوڈ انڈسٹری نے ای کولئی ، سالمونیلا ، لیٹیریا کے بے شمار وبا پھیلائے ہیں ، اور ساتھ ہی حادثاتی طور پر کھانے پینے میں مضر مواد متعارف کروائے ہیں۔ ماضی میں ، لوگوں کو جو کھا رہے ہیں اس سے ان وباء کا سبب یا بیماری کی وجہ معلوم کرنے میں ہفتوں کا عرصہ لگا ہے۔

    ‎بلاکچین استعمال کرنے سے برانڈز کو فوڈ پروڈکٹ کے راستے کو اپنی اصل میں سے ہر ایک اسٹاپ کے ذریعہ ، اور آخر میں اس کی ترسیل سے باخبر رکھنے کی صلاحیت ملتی ہے۔ اگر کوئی کھانا آلودہ پایا جاتا ہے تو پھر اسے ہر راستے سے اس کی اصل تک جانے والے راستے کا سراغ لگایا جاسکتا ہے۔ نہ صرف یہ ، بلکہ یہ کمپنیاں اب باقی سب کچھ بھی دیکھ سکتی ہیں جو اس کے ساتھ رابطے میں ہوسکتی ہیں ، جس سے ممکنہ طور پر جانوں کی بچت سے اس مسئلے کی شناخت جلد ہونے کی اجازت مل جاتی ہے۔ یہ عملی طور پر بلاک چین کی ایک مثال ہے ، لیکن بلاک چین پر عمل درآمد کی بہت سی دوسری شکلیں ہیں۔

    ‎بینکنگ اور فنانس
    ‎شاید کوئی صنعت بلاک چین کو بینکاری سے زیادہ اپنے کاروباری کاموں میں ضم کرنے سے فائدہ اٹھا سکے گی۔ مالیاتی ادارے صرف کاروباری اوقات کے دوران ، ہفتے میں پانچ دن کام کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ جمعہ کے روز شام 6 بجے چیک جمع کروانے کی کوشش کرتے ہیں تو ، آپ کو اپنے اکاؤنٹ میں پیسہ دیکھنے کے لئے پیر کی صبح تک انتظار کرنا پڑے گا۔ یہاں تک کہ اگر آپ کاروباری اوقات میں اپنی جمع رقم کرتے ہیں تو ، اس لین دین کی تصدیق کے لئے ابھی بھی ایک سے تین دن لگ سکتے ہیں جن کی بینکوں کو آباد ہونا ضروری ہے۔ دوسری طرف ، بلاک چین کبھی چھٹی نہیں کرتا۔

    ‎بینکوں میں بلاک چین کو مربوط کرکے ، صارفین ان کے لین دین کو 10 منٹ سے بھی کم وقت میں دیکھ سکتے ہیں ، بنیادی طور پر اس وقت بلاک چین میں کسی بلاک کو شامل کرنے میں ، چاہے تعطیلات ہوں یا دن یا ہفتے کا وقت۔ بلاک چین کے ساتھ ، بینکوں کو بھی موقع ملتا ہے کہ وہ زیادہ تیزی اور محفوظ طریقے سے اداروں کے مابین فنڈز کا تبادلہ کریں۔ اسٹاک ٹریڈنگ کے کاروبار میں ، مثال کے طور پر ، تصفیہ کرنے اور صاف کرنے کے عمل میں تین دن (یا اس سے زیادہ وقت ، اگر بین الاقوامی سطح پر تجارت ہوسکتے ہیں) لگ سکتے ہیں ، اس کا مطلب ہے کہ اس مدت کے لئے رقم اور حصص کو منجمد کردیا جاتا ہے۔

    ‎اس میں شامل رقوم کی جسامت کو دیکھتے ہوئے ، یہاں تک کہ چند دن کہ رقم ٹرانزٹ میں ہے ، بینکوں کے لئے اہم اخراجات اور خطرات اٹھاسکتی ہے۔ یورپی بینک سینٹینڈر اور اس کے تحقیقی شراکت داروں نے ایک فرانسیسی کنسلٹنسی کے مطابق سالانہ 15 بلین ڈالر سے 20 ارب ڈالر تک کی بچت رکھی ہے۔ تخمینہ ہے کہ صارفین بلاک چین پر مبنی درخواستوں کے ذریعے ہر سال بینکنگ اور انشورنس فیسوں میں 16 بلین ڈالر کی بچت کرسکتے ہیں

    کرنسی
    ‎بلاک چین بٹ کوائن جیسی ہزاروں کرپٹو کرنسیوں کے لئے بیڈروک تشکیل دیتا ہے۔ امریکی ڈالر فیڈرل ریزرو کے زیر کنٹرول ہے۔ اس مرکزی اتھارٹی سسٹم کے تحت ، صارف کا ڈیٹا اور کرنسی تکنیکی طور پر ان کے بینک یا حکومت کی طرح ہوتی ہے۔ اگر صارف کا بینک ہیک ہوجاتا ہے تو ، مؤکل کی نجی معلومات کو خطرہ ہوتا ہے۔ اگر موکل کا بینک گر جاتا ہے یا وہ غیر مستحکم حکومت والے ملک میں رہتے ہیں تو ، ان کی کرنسی کی قیمت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ 2008 میں ، کچھ بینکوں میں جو پیسہ ختم ہوچکے تھے ان کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو جزوی طور پر خارج کردیا گیا تھا۔ یہ وہ پریشانی ہیں جن میں سے سب سے پہلے بٹ کوائن ایجاد ہوا تھا ۔

    ‎کمپیوٹروں کے نیٹ ورک میں اپنی کاروائیوں کو پھیلاتے ہوئے ، بلاک چین بٹ کوائن اور دیگر کریپٹو کرنسیوں کو مرکزی اتھارٹی کی ضرورت کے بغیر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ پروسیسنگ اور لین دین کی بہت ساری فیسیں بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ یہ غیر مستحکم کرنسیوں یا مالی انفراسٹرکچر والے ممالک میں زیادہ مستحکم کرنسی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ درخواستوں اور افراد اور اداروں کے وسیع نیٹ ورک کو بھی دے سکتا ہے جو وہ گھریلو اور بین الاقوامی سطح پر کاروبار کرسکتے ہیں۔

    ‎بچت کھاتوں کے لئے یا ادائیگی کے ذرائع کے طور پر کریپٹورکرنسی والیٹ کا استعمال خاص طور پر ان لوگوں کے لئے گہرا ہے جن کی ریاست کی شناخت نہیں ہے۔ کچھ ممالک جنگ زدہ ہوسکتے ہیں یا ان کی حکومتیں ہیں جن کے پاس شناخت فراہم کرنے کے لئے حقیقی ڈھانچے کی کمی ہے۔ ایسے ممالک کے شہریوں کو بچت یا بروکریج اکاؤنٹس تک رسائی حاصل نہیں ہوسکتی ہے اور اس وجہ سے ، دولت کو محفوظ طریقے سے محفوظ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

    ‎صحت کی دیکھ بھال
    ‎صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اپنے مریضوں کے طبی ریکارڈ کو محفوظ طریقے سے محفوظ کرنے کے لئے بلاک چین ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ جب میڈیکل ریکارڈ تیار اور دستخط ہوتا ہے تو ، اسے بلاک چین میں لکھا جاسکتا ہے ، جو مریضوں کو اس بات کا ثبوت اور اعتماد فراہم کرتا ہے کہ ریکارڈ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ صحت کے ان ذاتی ریکارڈوں کو انکوڈ کرکے نجی کلید کے ساتھ بلاک چین پر محفوظ کیا جاسکتا ہے ، تاکہ وہ صرف کچھ افراد ہی قابل رسائی ہوں ، اس طرح رازداری کو یقینی بنایا جاسکے۔

    ‎پراپرٹی کے ریکارڈ
    ‎اگر آپ نے کبھی بھی اپنے مقامی ریکارڈر کے دفتر میں وقت گزارا ہے تو ، آپ کو معلوم ہوگا کہ جائیداد کے حقوق کی ریکارڈنگ کا عمل دونوں ہی بوجھ اور ناکارہ ہے۔ آج ، مقامی ریکارڈنگ آفس میں کسی سرکاری ملازم کے پاس جسمانی عمل کرنا لازمی ہے ، جہاں اسے دستی طور پر کاؤنٹی کے مرکزی ڈیٹا بیس اور عوامی اشاریہ میں داخل کیا جاتا ہے۔ جائیداد کے تنازعہ کی صورت میں ، جائیداد کے دعوے کو عوامی اشاریہ کے ساتھ صلح کرنا ضروری ہے۔

    ‎یہ عمل محض مہنگا اور وقت طلب نہیں ہے – بلکہ یہ انسانی غلطی سے بھی چھلنی ہے ، جہاں ہر غلطی جائداد کی ملکیت سے باخبر رہنا کم موثر بنا دیتی ہے۔ بلاکچین مقامی ریکارڈنگ آفس میں دستاویزات کو اسکین کرنے اور جسمانی فائلوں کو ٹریک کرنے کی ضرورت کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر بلاک چین پر جائیداد کی ملکیت کو ذخیرہ کرکے اس کی تصدیق کی گئی ہے ، تو مالکان اعتماد کرسکتے ہیں کہ ان کا عمل درست اور مستقل طور پر ریکارڈ ہے۔

    ‎جنگ زدہ ممالک یا ان علاقوں میں جن کا سرکاری یا مالی انفراسٹرکچر بہت کم ہے ، اور یقینی طور پر کوئی "ریکارڈر آفس نہیں ہے” ، جائیداد کی ملکیت ثابت کرنا تقریبا ناممکن ہوسکتا ہے۔ اگر اس طرح کے علاقے میں رہنے والے لوگوں کا ایک گروہ بلاک چین کا فائدہ اٹھانے کے قابل ہو تو ، جائیداد کی ملکیت کی شفاف اور واضح ٹائم لائنز قائم کی جاسکتی ہیں

    ‎سپلائی چین
    ‎جیسا کہ آئی بی ایم فوڈ ٹرسٹ کی مثال میں ہے ، سپلائی کرنے والے اپنے خریداری کردہ مال کی اصلیت کو ریکارڈ کرنے کے لئے بلاک چین استعمال کرسکتے ہیں۔ اس سے کمپنیوں کو "نامیاتی” ، "مقامی” ، اور "منصفانہ تجارت” جیسے عام لیبلوں کے ساتھ ، ان کی مصنوعات کی صداقت کی تصدیق ہوگی۔

    ‎جیسا کہ فوربس کے ذریعہ اطلاع دی گئی ہے ، کھیت تا صارف کے سفر میں کھانے کی صنعت تیزی سے راستے اور خوراک کی حفاظت کے لئے بلاک چین کے استعمال کو اپنارہی ہے۔

    ‎ووٹنگ
    ‎جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے ، جدید ووٹنگ کے نظام کی سہولت کے لئے بلاک چین استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بلاک چین کے ساتھ ووٹ ڈالنے سے انتخابی دھوکہ دہی کے خاتمے اور ووٹرز میں اضافے کو بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے ، جیسا کہ مغربی ورجینیا میں نومبر 2018 کے وسط مدتی انتخابات میں جانچا گیا تھا۔ بلاک چین پروٹوکول انتخابی عمل میں شفافیت کو بھی برقرار رکھے گا ، جس سے انتخاب کرانے کے لئے ضروری اہلکاروں کو کم کیا جائے گا اور اہلکاروں کو فوری طور پر فوری نتائج فراہم کیے جائیں گے۔ اس سے دوبارہ گنتی کی ضرورت یا کسی ایسی حقیقی تشویش کا خاتمہ ہوگا جو دھاندلی سے الیکشن کو خطرہ بن سکتا ہے۔

    ‎بلاک چین ٹیکنالوجی کے بعد کیا ہے؟
    ‎سب سے پہلے 1991،97 میں ایک تحقیقی منصوبے کے طور پر تجویز کردہ بلاک چین بیس کی دہائی کے آخر میں آرام سے ترقی کررہاہے۔ اس کی عمر کے ہزاروں سالوں کی طرح ، بلاک چین نے پچھلے دو دہائیوں کے دوران عوامی سطح پر جانچ پڑتال میں اپنا منصفانہ حصہ دیکھا ہے ، جس میں دنیا بھر کے کاروباری افراد قیاس آرائیاں کرتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کے قابل کیا ہے اور آنے والے سالوں میں اس کا رخ کس طرف ہے۔

    ‎اس ٹیکنالوجی کے لئے بہت سے عملی ایپلی کیشنز کو جو پہلے ہی بلاک چین پر بنایا جا چکا ہے اور بنائی جا رہی ہیں ، بلاک چین آخرکار ستائیس سال کی عمر میں اپنے لئے ایک نام بنا رہا ہے ، بٹ کوائن اور کریپٹوکرنسی کی وجہ سے اس کا کوئی چھوٹا حصہ نہیں۔ قوم میں ہر سرمایہ کار کی زبان پر ایک بزور لفظ کے طور پر ، بلاک چین کاروبار اور سرکاری کاموں کو اوسط درجے کاروباری لوگوں کے ساتھ زیادہ درست ، موثر ، محفوظ ، اور سستا بنانے کے لئے تیار کھڑا ہے۔

    ‎جیسا کہ ہم بلاک چین کے تیسرے عشرے میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں ، اب یہ "اگر” بڑی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی پر عمل پیرا ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھائیں گی تو سوچنا ہوگا کہ ہم سوال کب ‎کریں گے- ؟
    Twitter : MMKUK1

  • جنت کا ٹکٹ ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ تحریر ؛فرزانہ شریف

    جنت کا ٹکٹ ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ تحریر ؛فرزانہ شریف

    دین کو لے کر اسلام کے نام پر کسى کا بھى مزاح اڑانا” کسى کلمه گو مسلمان کو کمتر سمجھنا” کمنٹس ميں پوسٹس میں فخر محسوس کرنے سے پہلے ہم اعمال اپنى زندگى کو هى دیکھ لیں’ کیا ہم جانتے ہمارى زندگى کب کس مقام پر اور کس حال میں اختتام پذیر ہو”
    کیا ہم جانتے ہیں ہمارى نماز ہمارے اعمال قبولیت کا شرف پا رہے ہیں” اپنے فرقے کو بہترین سمجھنا اور دوسرے کسى بھى فرقے کے مسلمانوں کو کمتر سمجھنا گالى گلوچ طنزو مزاح کى محفلیں سجانا کم سے کم ہم امتى۔۔۔۔۔۔؟!
    شیوه نهيں دیتا اس فانى زندگى ميں نصیحت کرنا تنقید کرنا بہت آسان ہے مگر اس پر عمل کرنا مشکل ہے”
    برداشت نہیں کسى ميں نفسا نفسى کے دور میں ہر انسان کا خود کو بہترین نیک ایمان دار سمجھنا دوسروں کو کمتر سمجھنا بہت عام بہت آسان بہت قابل فخر بات بن چکى اب ۔۔۔! آج تک ميں نے کوئی فرقہ واریت ٹویٹ یا پوسٹ نہیں کی اچھى بات جو بولے سن بھى لیتى عمل کى کوشش بھى’ اور کبھى کوئی بول دے پوسٹس کمنٹ ڈیلیٹ کرنے کو تو بنا بحث کے کر بھى دیتى’ کبھى کبھار پوچھتى ضرور ہوں’ کیا غلط کا برا هے اس ميں کچھ تفصیل یا تھوڑا سا هى بتا دیں” بات ختم ادھر هى۔۔۔

    ہم نہی جانتے ہم زندگی کے کس موڑ پر ہمارے کس قول فعل عمل سے کسی کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں کبھی کبھار غیر ارادی طور پر بھی ہوجاتا ہے ایسا۔۔
    دعا کریں ہمیں کبھی کسی کی بددعا نہ لگے
    انسان کی زندگى ميں اپنے اتنے معاملات پریشانیاں در پیش لاحق ہوتى ہیں اپنے گناه اپنى نافرمانیاں بجائے اس کے ہم اپنے ایمان کى اپنے اعمال کی فکر کریں مگر نہ جى ہمیں تو یہ ثابت کرنا فلاں جہنمى هے فلاں ایسا ہے صرف
    ہم”اللہ سبحانه وتعالیٰ کے لاڈلے ہیں اور جنت کا ٹکٹ ہمارے ہاتھوں میں ہے انا للہ وانا الیہ راجعون💔
    استغفراللہ ربى من کل ذنب واتوب الیه”
    اللہ الرحمن الرحیم الغفور القدوس السلام المومن العزیز الجبار القہار الرزاق الفتاح العظیم پاک پروردگار ہمیں هدايت کامل ایمان نصیب فرمائے آمین یارب العالمین

  • "سی پیک اور پاک چین دوستی ” تحریر:لاریب اطہر

    "سی پیک اور پاک چین دوستی ” تحریر:لاریب اطہر

    پاکستان اور چین بیسیوں صدی کے درمیان وجود میں آئے اور تب سے ہی ان دونوں میں آپسی تعلقات استوار ہوئے جو کہ مختلف ادوار کے داؤ پیچ دیکھتے دکھاتے آج اپنے عروج کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ پاکستان اور چین میں ڈپلومیٹک تعلقات تو انیس سو اکاون میں ہی قائم ہو گئے تھے لیکن تب دونوں ممالک اک دوسرے کے ساتھ اتنا ہم آہنگ نہ تھے جس کی وجہ سے ابتدائی سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی خاص پیش رفت نہ ہوئی۔ دوسری جانب اک بڑی وجہ پاکستان کے مغرب کے ساتھ تعلقات بھی تھے جن کی وجہ سے چین کے ساتھ ابتدائی اک دو عشروں میں بہترین تعلقات استوار نہ ہو سکے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ دونوں ممالک نے اک دوسرے کو مکمل نظرانداز کیا
    کیونکہ انیس سو چھپن میں حسین شہید سہروردی نے پاکستان کا وزیر اعظم ہونے کے ناطے چین کا دورہ کیا اور اسی سال چین کے وزیر اعظم بھی پاکستان کے دورے پر آئے۔ امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کی وجہ سے پاکستان اور چین میں سرد مہری تھی لیکن پھرایوب خان نے بھی صدر پاکستان کی حثیت سے چین کا دورہ کیا۔
    انیس سو باسٹھ کی انڈیااور چین کے درمیان جنگ کے بعد پاکستان اور چین میں نزدیکیاں بڑھنے لگیں اور اس سے اگلے سال انیس سو تریسٹھ میں دونوں ممالک کے درمیان باؤنڈری ایگریمنٹ ہوا اور مشترکہ بارڈر کی نشاندھی کی گئی۔ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات میں اصل موڑ تب آیا جب پاکستان نے انڈیا کے ساتھ 1965 اور 1971 کی جنگیں لڑیں اور ہمارے نام نہاد حواری نے چالبازی کے ساتھ دھوکہ دیا اور چین نے ہماری مدد کی اور اس کے ساتھ ہی سرد مہری والے تعلقات گرمجوشی میں تبدیل ہوتے گئے۔
    اگر پاکستانی حکمرانوں کے حوالے سے بات کی جائے تو شاید ذوالفقار علی بھٹو پہلا پاکستانی حکمران تھا جس نے چین کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی داغ بیل ڈالی۔ بھٹو نے اپنے دور حکومت میں تین چار بار چین کا دورہ کیا بدلے میں چین نے بھی گرمجوشی دکھائی تو دن بدن تعلقات گہرے ہوتے چلے گئے کہ پھر چاہے سیاسی تعلقات ہوں ،ثقافتی، معاشی ہوں معاشرتی تعلقات، فوجی تعلقات ہوں یا ایٹمی پروگرام سب میں پاکستان اور چین ایسے جڑے جیسے اک ہی سکے کے دو رخ ہوں۔ جہاں پاکستان نے چین کی سلامتی کونسل کی سیٹ پر سپورٹ کیا تو بدلے میں چین نے بھی کشمیر کاز پر پاکستان کا ساتھ دیا۔

    ضیاء الحق بھی ایوب خان کی طرح امریکی پلڑے میں تھے لیکن اس دوران بھی پاکستان اور چین کے تعلقات معمول پر رہے۔ چین نے اپنی معاشی ترقی کا سفر جاری رکھا اور اکیسویں صدی میں اک بڑی معیشت بن کر ابھرا۔ اسی بڑی معیشت کی بنا پر ماضی قریب میں چین نے OBOR ون بیلٹ ون روڈ کے نام سے اک منصوبہ شروع کیا جس کے تحت چین جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے دنیا کو روڈ کے زریعے اک دوسرے سے ملانا چاہتا ہے۔ CPEC بھی اسی منصوبہ کی ایک کڑی ہے یا یوں کہہ لیا جائے کہ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ اسی سی پیک کی بدولت جہاں چین ایک طرف روس سے ہوتا ہوا منگولیا، پاکستان سے گزر کر بحیرہ عرب تک جا پہنچے گا اور وہاں سے آگے مشرق وسطی اور پھر افریقہ کی جانب۔ دوسری جانب چین اسی OBOR کے تحت سنٹرل ایشیاء اور آگے ایورپ تک زمینی راستوں کو وسعت دینا چاہتا۔ اس سارے منصوبے میں سب سے اہم منصوبہ سی پیک کا ہے کیونکہ اسی کی بدولت چین کو جنوب کی طرف پانیوں تک رسائی ہو گی اسی لیے انڈیا اور امریکہ ہر صورت میں سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف عمل ہیں۔
    یہ سی پیک منصوبہ ہے کیا آئیے ذرا اک نظر اس پہ ڈالی جائے۔ ویسے تو سی پیک کا کریڈٹ مشرف بھی لیتا تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی لیتی ہے لیکن اصل میں رسمی طور پر 2013 میں ن لیگ کے دور میں پاکستان اور چین کے درمیان 51 ایم او یوز سائن ہوئے جس کی بدولت چین پاکستان میں چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے نام سے ایک ترقیاتی منصوبہ شروع کرنے جا رہا ہے جس پر بنیادی طور پر 46 ارب امریکی ڈالرز کی لاگت آئے گی۔ یہ منصوبہ اصل میں ایک انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کا منصوبہ ہے جس میں چین کے جنوبی علاقے کاشغر کو پاکستان کے جنوبی علاقے گوادر سے ملایا جا رہا ہے۔ ان 46 ارب ڈالرز میں سے تقریباً 12 ارب ڈالر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ جس میں ہائی ویز، ریلوے لائنز، گوادر پورٹ ڈیویلپمنٹ اور گوادر شہر کی ترقی پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب تقریبا 34 ارب امریکی ڈالر انرجی منصوبے پر خرچ ہوں گے۔ ہائی ویز میں اسلام آباد سے لیکر گوادر تک مختلف نئے روڈز بنائے جائیں گے جو پاکستان کے تمام صوبوں میں سے ہو کر گوادر تک پہنچیں گے۔ جہاں سی پیک کے پاکستان کے لیے بہت فوائد ہیں وہیں یہ منصوبہ چین کے لیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ چین تقریباً اپنا 80 فیصد تیل مڈل ایسٹ سے منگواتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خام مال بھی افریقی ممالک سے حاصل کرتا ہے جس کے لیے اسے یہ مال لے کر انڈین اوشن میں سے گز کر آبنائے ملاکہ میں سے ہوتے ہوئے آگے ساؤتھ چائنہ سی میں سے گزرتے ہوئے اپنے ملک پہنچتا ہے۔ اس سارے پراسیس میں اسے 15 ہزار سے 16 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور ساتھ میں ان ممالک کی حدود میں سے بھی گزرنا پڑتا ہے جس کے ساتھ چین کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ جبکہ دوسری جانب سی پیک کی بدولت چین کو 10سے 11 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ کم ہو کر 5 سے 6 ہزار کلومیٹر تک پڑتا ہے اور جو مال آبنائے ملاکہ سے چین تین ماہ میں پہنچتا تھا وہ اسے ایک ماہ میں مل جائے گا اور اس میں چین کو صرف ایک ملک پاکستان کی حدود میں سے گزرنا پڑے گا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات اس کے پہلے سے ہی اچھے ہیں۔

    سی پیک کو اگر ریجنل ویو کے مطابق دیکھا جائے تو جنوبی ایشیاء میں اس وقت دو متحارب بلاک ہیں جس میں ایک پاکستان-چین جبکہ دوسرا انڈیا-امریکہ۔ ان دونوں گروہوں میں ایک جنوبی ایشیائی ملک ہے جبکہ دوسرا غیر جنوبی ایشیائی۔ چین تو خیر پھر بھی ان دونوں بڑے جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنی سرحد شیر کرتا ہے جبکہ امریکہ تو سات سمندر پار ہے۔ امریکہ اور انڈیا دونوں ممالک چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے پریشان ہیں امریکہ چین کو عالمی پس منظر میں دیکھتا ہے جبکہ انڈیا جنوبی ایشیاء کے حوالے سے۔ پاکستان اور چین کا سی پیک جیسا گیم چینجر منصوبہ شروع کرنا ان دونوں کے لیے جلتی پر تیل کے مانند ہے
    ۔ امریکہ اور اس کے حواری بالخصوص یورپ، اور انڈیا اس منصوبے کو ہر حال میں سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس اکنامک کوریڈور کو اک عسکری کوریڈور بنا کر دنیا میں پیش کر رہے ہیں۔ حالیہ جی سیون کے اجلاس کا مین مدعا بھی چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا تھا۔

    امریکہ ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ کم از کم پاکستان کو ہی سی پیک سے باز رکھا جائے جس کے لیے وہ ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن جب کسی جانب دال نہ گلی تو دونوں ممالک میں نفرت کا بیج پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عمران خان کے امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں جب امریکہ کو نہ کہی تو اینکر پرسن نے پینترا بدلتے ہوئے چین میں موجود ایگور مسلمانوں کا ایشو اٹھا لیا جس کو عمران خان نے عمدہ طریقے سے ہینڈل کیا جیسے لمحہ موجود میں کرنا چاہیے تھا۔
    قصہ مختصر یہ کہ پاکستان چین کی جو دوستی 1951 میں شروع ہوئی تھی ٹھیک ستر سال بعد اپنے نقطہء عروج پر پہنچ چکی ہے اور جیسے اک شہر یا گاؤں میں دشمنوں کو ایسی دوستی ایک آنکھ نہیں بھاتی بالکل اسی طرح امریکہ انڈیا اور ان کی حواریوں کو بھی پاکستان اور چین کی یہ دوستی بہت کھنکتی ہے۔ اب دشمن آئے روز کوئی نہ کوئی چال چل رہا ہے کہ کسی طرح پاکستان اور چین میں چپقلش پیدا کی جائے۔ وہ ہر بار منہ کی کھاتا ہے اور ہر بار ایک نئے منصوبے کے ساتھ آتا ہے۔
    داسو ڈیم کے قریب چینی عملے پر ہونے والا حملہ بھی اسی چال کی اک کڑی ہے۔ اب پاکستان اور چین پر منحصر ہے کہ وہ کیسے ان سب چالوں کو ناکام کرتے ہوئے سی پیک کو مکمل کرتے ہیں۔

  • “ جادو ٹونے اور دم دعا “تحریر۔ جواد خان یوسفزئی

    “ جادو ٹونے اور دم دعا “تحریر۔ جواد خان یوسفزئی

    جادو کی حرمت قران و حدیث سے ثابت ہے۔لیکن کیا عمل جادو ہے اور کیا نہیں، یہ چیز ہمیشہ موضوع بحث رہی ہے۔ کچھ لوگ سفلی اور علوی اعمال کے نام سے اس کو حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    جادو جیسے اعمال تقریباً ہر معاشرے میں موجود رہے ہیں اور بیشتر مذاہب میں اسے نا پسندیدہ سمجھا گیا ہے۔لیکن جادو کو مذہب سے الگ کرنا بھی ایک مشکل عمل رہا ہے کیونکہ بہت سے مذاہب میں جادو جیسے اعمال شامل ہیں۔مذہب اور جادو کی ایک تعریف ماہرین بشریات کچھ یوں کرتے ہیں:
    "مذہب اپنے آپ کو کسی مافوق الفطرت طاقت کے تابع بنانے کا نام ہے جب کہ جادو کسی ما فوق الفطرت طاقت کو قابو میں لا کر اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کا”۔
    اسلام بطور مذہب اس تعریف پر بالکل پورا اترتا ہے کیونکہ اسلام کے معنی ہی اطاعت تسلیم کرنے کے ہیں۔ جادو کی مذکورہ تعریف بھی اسلام کے نقطہ نظر سے زیادہ مختلف نہیں۔خود جادو کے اعمال کرنے والے بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جن بھوت، ہمزاد اور شیاطین وغیرہ کو قابو کرکے ان سے مادی فوائد حاصل کرتے ہیں۔
    جب کوئی اس قسم کی کوشش کرتا ہے تو وہ اسلام کے نزدیک مبعوض ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے کس قسم کے یا کس زبان کے کلمات استعمال کرتا ہے۔ قران مجید میں جادو ٹونے اور فال گیری وغیرہ کو بلا استثنیٰ حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کی کسی حلال قسم کا ذکر نہیں۔

    قران مجید میں جادو کا ذکر ایک تو سورہ بقرہ میں ہے جہاں اس گمراہ کن خیال کی تردید کی گئی ہے کہ حضرت سلیمان کا جادو ٹونے سے کوئی تعلق تھا۔واضح کیا گیا ہے کہ جادو کفر اور شیاطین کا کام ہے، خدا کا پیعمبر کفریہ کام کیسے کر سکتے تھے۔ اور جو دو فرشتے کچھ ایسے اعمال لوگوں کو بتاتے تھے تو وہ واضح کرتے تھے کہ یہ غلط کام ہے اور تمہاری آزمائش کے لیے ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ قران کی اس قدر وضاحت کے باوجود اب بھی جادو ٹونا کرنے والے سلیمانؑ کا نام کسی نہ کسی طریقے سے اس معاملے سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اس کے علاوہ قران مجید کی آخری دو سورتوں میں جادو کرنے والوں کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔سورہ فلق میں جھاڑ پھونک کرنے والوں اور سورہ الناس میں وسوسہ ڈالنے والے جنی اور انسی شیاطین کے شر سے بناہ مانگنے کا حکم ہے۔
    سورہ بقرہ کی آیات کو معوذتین سے ملا کر پڑھنے سے جادو ٹونے کے بارے میں کچھ یوں صورت حال سامنے آتی ہے:

    جادو ٹونا ایک شیطانی عمل ہے جس کا کام انسانوں کو خدا سے دور کرنا ہے۔ کوئی پیعمبر(اور اس کا ماننے والا) ایسا کوئی کام نہیں کرسکتا۔ جنی اور انسی شیاطین یہ کام انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ جنی شیاطین انسانوں میں سے اپنے ایجنٹ بھرتی کرتے ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو جادو ٹونے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جادو ٹونا اور دم دعا کرنے والے یہی ایجنٹ ہیں۔ جنی شیاطین اپنے ایجنٹوں کو چھوٹی موٹی اطلاعات پہنچاتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً آپ کسی عامل کے پاس جائیں گے تو وہ آپ کو کچھ ایسی باتیں بتائے گا جو آپ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں۔ یہ باتیں جنی شیطان اسے پہنچاتا ہے۔ ان شیاطین کا ایک وسیع نیٹ ورک ہوتا ہے جو دور دراز تک کام کرتے ہیں۔ لیکن ان کا دائرہ کار بہت محدود ہوتا ہے۔ وہ کسی کو نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔
    بس وسوسہ ڈال کر گمراہ کر سکتے ہیں۔

  • عمران خان کا دورہ ازبکستان .تحریر : ارشد محمود

    عمران خان کا دورہ ازبکستان .تحریر : ارشد محمود

    پاکستان جس طرح کے بڑے بڑے مسائل سے نبرد آزما ہے شاید امریکا جیسے بڑے اور ترقی یافتہ ملک کو بھی نہ ہو ۔ پاکستان کو جہاں اندرونی مسائل کا سامنا ہے وہی پڑوس ممالک میں ہورہی تبدیلیوں کا بھی سامنا ہے کہ ان میں کوئی بھی تبدیلی پاکستان پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان جس طرح سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ شاید بھٹو مرحوم کے بعد انہی کا خاصا ہے ۔ سازشوں کے جمگھٹے سے اپنے آپ کو نکالنا ہمارے لیے ہمیشہ سے ہی ناممکن حد تک مشکل رہا ہے ۔ افغانستان میں ہورہی جنگ کو آپ کوئی بھی نام دے لیجیے پاکستان ماضی میں بھی متاثر رہا ہے اور شاید مستقبل میں بھی متاثرین میں سرفہرست رہے ۔ ازبکستان کے دورہ میں جس طرح سے پاکستان نے افغانستان کا مقدمہ پیش کرکے اشرف غنی کو آئینہ دکھایا ہے وہ بھی قابل غور ہے ۔ افغانستان میں ہر روز طالبان فاتح کے طور پر نہ صرف ابھر رہے ہیں بلکہ اپنا آپ منوا بھی رہے ہیں۔ ازبکستان کے شہر تاشقند میں وسطی جنوبی ایشیائی رابطہ کانفرنس میں افغانی صدر اشرف غنی نے پاکستانی قیادت کے سامنے بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی تو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کے سامنے افغانی صدر کے الزامات کو جہاں بے بنیاد قرار دیا وہی بتلایا کہ افغانستان میں امن کی سب سے زیادہ کوشش پاکستان کررہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث ہوگی کہ بھارتی چینل نے پاکستانی وزیراعظم سے پاک بھارت تعلقات بارے من چاہا سوال کیا تو اس کے جواب میں ہندو توا قیادت کا آئینہ دکھا کر بے پروا ہو کر پاکستانی قیادت آگے کو بڑھ گئی اس نے ظاہر کردیا کہ پاکستان اس وقت کس قدر پراعتماد ہوکر اپنے مسائل سے نمٹ رہا ہے ۔

    افغانی نائب صدر اور افغانی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ نے پاکستان پر الزام لگایا کہ پاک فضائیہ نے کہ اگر چمن بارڈر کے قریب أفغانستان کی حدود میں ان طالبان کے خلاف کارروائی کی گئی جنہوں نے سپین بولدک پر قبضہ کیا ہے تو اس کا پاکستان کی جانب سے جواب دیا جائے گا۔’تاہم پاکستان کی دفتر خارجہ نے جمعے کو ہی ایک بیان میں ایسے کسی پیغام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان کے بعض حکام دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کے لیے جھوٹ پر مبنی بیانات جاری کر رہے ہیں حالانکہ پاکستان نے کل ہی سپین بولدک پر طالبان کے حملے کے دوران وہاں سے فرار ہو کر پاکستان پہنچنے والے چالیس افسروں اور اہلکاروں کو واپس افغانستان پہنچایا ہے۔’ اس طرح کے بیانات سے پاک افغان تعلقات میں جو کشیدگی آئے گی اس کا سب سے زیادہ نقصان افغانستان کو ہوگا ۔ پاکستان کسی بھی طرح سے نہیں چاہے گا افغانستان میں امن کا مسئلہ قائم رہے۔ پرامن افغانستان ہی پاکستان کے حق میں ہے ۔ ماضی میں افغانستان سے جس طرح سے دراندازی ہوتی رہی ہے وہ ظاہر کرتی ہے افغان صدر اور ان کے لوگ بالواسطہ یا بلا واسطہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں ۔ افغان قیادت کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے تاکہ پاکستان بغیر کسی حیل و حجت کے ان کے ساتھ کھڑا رہے ورنہ تو پاکستان کے پاس آپشن موجود ہے۔