Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    گو کہ یہ عنوان بھی آپکو پہلی نظر میں بکواس لگا ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت حکیمانہ مقولہ ہے۔ کیونکہ آپ لاکھ خود کو پڑھے لکھے، مہذب اور سمجھدار سمجھتے ہوں، لیکن اگر آپ بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں تو آپ بہرحال بکواس ہی فرمارہے ہیں۔

    آپ زبان سے وہی بات کہیں جس کے بارے میں آپکو یقین ہو کہ یہ بات سچی ہے،جھوٹ نہیں ہے۔ اچھی ہے، بری نہیں۔ مفید ہے، غیر مفید نہیں ہے۔ کسی کا دل خوش کرنے کیلئے ہے، کسی کی دل آزاری کیلئے نہیں ہے۔اگر آپ ہر دفعہ بولنے سے پہلے ان باتوں کو سوچ کر اچھی گفتگو کرتے ہیں تو مبارک ہو۔

    آپ مہذب، سلجھے ہوئے، بہترین انسان ہیں، بشرطیکہ آپ نہ صرف گفتار کے، کردار کے بھی غازی ہوں۔ یعنی نہ صرف آپ اچھا بولتے ہوں، اس پر عمل بھی کرتے ہوں، یا کم از کم عمل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ کیونکہ

    عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ نوری

    بہرحال کچھ بھی بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ کل کسی عدالت میں مجھ سے میرے کہے ہوئے ایک ایک لفظ کا حساب لیا جائیگا۔ اگر بات اچھی ہوئ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    وَالْـکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ صَدَقَۃٌ ’’

    اوراچھی بات بھی صدقہ ہے‘‘ (صحیح بخاری)

    اور صدقہ بڑی عظیم عبادت ہے۔ اور اگر خدانخوستہ آپکی کہی ہوئ بات بری ہوئ تو یہ بڑے خطرے کی بات ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    ما يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    ( پارہ:26،سورۃ:ق، آیات:17،18)
    ترجمہ: ۔ تم جو بات بھی نکالتے ہو، اس پر نگران موجود ہے

    لہذا آپ کی ایک ہی بری،جھوٹی، غیبت، چغلی یا طنز پر مبنی بات اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔ حدیث مبارک پڑھیئے:
    حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، وہ ارشاد فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور ارشاد فرمایا:

    ’’کُفَّ عَلَیْکَ ہٰذَا‘‘۔۔۔۔۔ ’’اس کو روکو۔‘‘ یعنی زبان کو قابو میں رکھو، یہ چلنے میں بے احتیاط اور بے باک نہ ہو۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ’’وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ‘‘۔۔۔۔۔’’ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان پر بھی ہم سے مواخذہ ہوگا؟‘‘ باز پُرس کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا مُعَاذُ!‘‘ ۔۔۔۔۔’’اے معاذ!تجھے تیری ماں روئے۔‘‘(عربی زبان کے محاورہ میں یہ کلمہ یہاں پیار ومحبت کے لیے ہے) ’’وَہَلْ یَکُبُّ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِہِمْ‘‘ لوگوں کو دوزخ میں ان کے منہ کے بل زیادہ تر ان کی زبانوں کی بے باکانہ باتیں ہی ڈلوائیں گی،یعنی آدمی جہنم میں اوندھے منہ زیادہ تر زبان کی بے احتیاطیوں کی وجہ سے ہی ڈالے جائیں گے۔( ترمذی)

    زبان کی لغزشوں سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان خاموشی کی عادت اپنالے۔ دیکھئے حدیث
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( مَنْ صَمَتَ نَجَا ) .روى الترمذي (2501)

    ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا (ترمذی)
    پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ بھی یہی تھی کہ آپ بکثرت خاموش رہا کرتے تھے۔سماک کہتے ہیں: میں سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے(مسند احمد)

    لہذا اگر ہم اس نیت سے خاموش اختیار کریں کہ یہ میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے تو دو فائدے ہونگے۔ ایک تو فضول گوئی سے بچیں گے۔ دوسرا یہ کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے وجہ سے ہماری ساری خاموشی عبادت میں لکھی جائیگی۔

    مگر اس تمام مضمون سے یہ نتیجہ نکالنا بھی ہرگز درست نہیں کہ ہم "صم بکم” ( گونگے بہرے) رہیں۔ دین بہرحال اعتدال کا نام ہے۔ اور اس باب میں اعتدال یہ ہے کہ ہم فضول گوئی سے اجتناب کرتے ہوئے خاموش تو رہیں۔ مگر جب بولنے کا موقعہ ہوتو ضرور بولیں۔ اچھا بولیں۔

    صاف بولیں ۔ برمحل بولیں۔ خاموشی اور کلام میں اعتدال لانے کیلئے بشر بن حارث رحمہ اللہ کا یہ قول مفید ثابت ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں
    إِذَا أَعْجَبَكَ الْكَلَامُ فَاصْمُتْ وَإِذَا أَعْجَبَكَ الصَّمْتُ فَتَكَلَّمْ

    "اگر تمہیں بولنا پسند ہو تو خاموش رہا کرو اور اگر تمہیں خاموش رہنا پسند ہو تو بولا کرو۔”
    [حلية الأولياء وطبقات الأصفياء – ط السعادة، جلد ۸، صفحہ نمبر ۳۴۷]

  • آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھتے ہیں — نعمان علی ہاشم

    آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھتے ہیں — نعمان علی ہاشم

    فضائل اور مناقب بیان کرنا بہت اچھی بات ہے. مگر کسی ہستی کے فضائل اور مناقب کے بیان پر ہی اکتفا کر جانا ہرگز کافی نہیں.
    کسی ہستی کے فضائل اور مناقب کا بیان کار ثواب بھی ہو سکتا ہے. مگر آپ اس ہستی کی سیرت سے کچھ سیکھنے سے عاری ہیں تو یقیناً آپ اچھے کردار کے حامل نہیں ہو سکتے.

    ہمارے ہاں سیرت النبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا بیان تو ہوتا ہے مگر عمومی رویوں سے اس کا اظہار کرنے سے ہم بطور معاشرہ قاصر ہیں.
    وہ تمام شخصیات جن کو اللہ تعالی نے دنیا میں کوئی نہ کوئی مقام عطا کیا، جن کے فضائل ومناقب آج ہم بیان کرتے ہیں، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ مقام و مرتبہ کیسے عطا کیا؟
    .
    یکم محرم الحرام قریب ہے اور ہر طرف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل و مناقب کا تذکرہ ہے. بلاشبہ ان کا ذکر کرنا اور اچھی نیت کے ساتھ اچھے انداز کے ساتھ ان کا ذکر کرنا باعث اجر و تسکین ہے.

    مگر سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عمر کیسے بنتے ہیں؟

    آج ہم اخلاق و کردار یا اوصاف کے اندر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے مگر ان کی تقلید ضرور کر سکتے.
    .
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف و کردار میں جو سب سے بنیادی چیز ہے وہ ڈٹ جانا ہے. آپ کے کردار کے اندر جھول یا نرمی کا کوئی عنصر نہیں. اسلام سے قبل اپنے قبیلے اور علاقے کے تمام تر مفادات کا تحفظ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے علم، حکمت کے ساتھ ساتھ اپنی تلوار کے ذریعے کیا.
    .
    دین اسلام کی حقانیت آشکار ہونے کے بعد سیدنا عمر فاروق نے اسی جاہ و جلال، بہادری و استقلال کے ساتھ اسلام اور اہل اسلام کے تمام تر حقوق کا تحفظ کیا.

    اسلام تو دنیا میں غالب ہونے کے لیے آیا ہے مگر کردار عمر سے یہ بات عیاں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام کو غالب کرنے کے لیے آئے تھے.
    .
    آپ اسلام کے آنے سے پہلے بھی اپنے قول و اقرار پر پہرہ دیتے تھے. اور اسلام لانے کے بعد بھی آپ کبھی اپنی بات سے منحرف نہیں ہوئے. دنیا کا مفاد لالچ اور خوف آپ کو کبھی زیر نہیں کر سکا.
    .
    آپ نے اللہ کی عطا کردہ فطرت سلیم کی حفاظت اس قدر عمدہ انداز سے کی کہ آپ کے دماغ کے اندر پیدا ہونے والے خیالات اللہ تعالی نے قرآن بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیے.
    .
    جدید فلسفہ میں اقبال جس خودی کی بات کرتے ہیں سیدناعمرفاروق میں وہ خودی بدرجہ اتم موجود تھی.
    .
    تاریخ کا مطالعہ کرنے والے احباب یہ بات جانتے ہیں کہ اقتدار میں آنے سے قبل اور اقتدار میں آنے کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے طرز زندگی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی.
    .
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ کی برکت ہے کہ آج عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو انصاف کا معیار مقرر کیا گیا ہے.
    .
    تاریخ انسانی میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے قبل کوئی ایسا حکمران نہیں تھا جس کی سلطنت کے اندر تعلیم، صحت تعمیرات، افوج اور انصاف کے باقاعدہ فعال شعبے موجود ہوں.
    .
    یہ آپ کے کردار کا ہی خاصہ تھا کہ نئے آنے والے مذہب اور تہذیب کو 22 سے 25 سال کے اندر 22 لاکھ مربع میل سے بھی زائد رقبے پر متعارف کروایا.
    .
    سچائی، دیانت، جرات، انصاف، تقویٰ، دردانسانیت اور محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم و دین محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت جیسے اوصاف کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تھا.

    ہمیں مناقب بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان تمام چیزوں پر غور کرنا چاہیے جو عمر ابن خطاب کو عظیم مصلح و حکمران عمر فاروق اعظم بناتی ہیں.

    محض قصے بیان کرنے سے بات نہیں بنے گی. وہ تمام اوصاف جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت میں موجود تھے ان کی تقلید سے ہی بات بنے گی.

    محض غلبے کی باتیں اسلام کو دنیا میں غالب نہیں کریں گی. اسے غالب کرنے کے لیے عمر فاروق کے نقش قدم پر چلنا ہوگا.

    اگر سیرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو عملی شکل دینے کے بجائے محض ثواب کی نیت سے بیان کرتے رہیں گے تو یقین کیجئے حالات نہیں بدلیں گے.

  • وہ تو امیر عمر تھے. رضی اللہ عنہ — عاشق علی بخاری

    وہ تو امیر عمر تھے. رضی اللہ عنہ — عاشق علی بخاری

    دنیا عظیم لوگوں سے بھری ہوئی ہے. اور کچھ شخصیات ایسی تھی جو منفی کاموں کی وجہ سے مشہور ہوئیں، ظلم و جبر، فساد فی الارض کی جو نشانی تھیں، وہ صفحہ دنیا پہ آئے لیکن اس زمین پر ایک کلنک کی نشانی بن کر رہ گئے. البتہ بہت ساری شخصیات دنیا اور لوگوں کے لیے سراپا خیر تھے اور دنیا کے نظام کے آئیڈیل کی حیثیت بن گئے. لوگ ان کے دشمن ہونے کے باوجود ان کے دیے ہوئے نظام کے معترف ہی نہیں بلکہ اپنے ملک میں اس کا نفاذ بھی کرتے ہیں.

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ مبارکہ بھی ہے. جو زمانہ جاہلیت میں اچھا تھا وہ اسلام میں بھی اچھا ہوگا. (الحدیث)

    دیکھیے تو کون آرہا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مکمل تیاری حالت میں آجاتے ہیں کہ کہہں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان نہ پہنچا دیں. فرمایا آنے دو.

    اور پھر ان کا آنا مظلوموں کے لیے سہارا بنے، اسلام کے لیے قوت اور ظالموں کے سامنے مضبوط قلعہ بن گئے. یہ تو وہی عمر ہیں جن کے لیے دعائیں مانگی جارہی تھیں.

    اللھم اھد عمرین، اے اللہ ان دونوں (ابوجہل و عمر رضی اللہ عنہ) میں سے جو محبوب ہے اس کے ذریعے عزت عطا فرما.

    اور پھر جب آئے تو کیا ہی کمال شخصیت بنے. رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھتے ہیں: فرمایا عمر کی قمیض اتنی لمبی ہے کہ وہ کھینچ رہے ہیں. تعبیر یہ کی کہ یہ دین میں زیادہ ہونگے.

    رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم دوسرا خواب دیکھتے ہیں: فرمایا میں دودھ پیتا ہوں اور دودھ کی تری مجھے ناخنوں میں نظر آنے لگتی اور پھر عمر کو دیتا ہوں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تعبیر پوچھتے ہیں فرمایا اس سے مراد علم ہے.

    ان کا آنا یقیناً خیر ہی تھا کیونکہ وہ دین کا قلعہ تھے، وہ علم کے مینار تھے. وہ ایمان و اسلام کے لیے عزت کا سبب تھے اور ہیں. یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہترین کارنامے سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائی.

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ بہترین مشیر ثابت ہوئے. حتی کہ آپ کے ذہن کی باتیں یا مشورے قرآن بن کر نازل ہوئے. آپ اپنی جان مال کے ذریعے سے دین کے لیے قوت بنے. اس کے بعد خلیفہ اول کے دور میں بھی آپ ان کی ہر طرح مدد و تعاون کرتے رہے. صفاتِ باکمال کا نتیجہ ہی تھا کہ آپ خلافتِ راشدہ کے دورے امیر کے طور پر منتخب کیے گئے.

    یہیں سے آپ کا جوہر کمال کی حد کو پہنچنے لگا، اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے کارنامے سرانجام دلوائے کہ دنیا میں آنے والے بے شمار بادشاہ آپ کے عشرِ عشیر کو بھی نہیں پہنچتے.

    آپ کے کارناموں کی فہرست خاصی دلچسپ اور دنیا کے ٹھیکیداروں کو چونکا دینے والی بھی ہے.

    آپ نے وہ کام اس وقت سرانجام دیے جب اس کا بڑی بڑی سلطنتوں میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا. آپ نے فوجی و پولیس کا نظام دیا، مجاہدین کے وظائف مقرر کیے، دودھ پیتے بچوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا. اسلامی سرحدات کو توسیع دی. احتساب کا کڑا نظام قائم کیا. اہم چیزوں میں سے ایک "انصاف کی فراہمی” کو یقینی بنایا. چاہے وہ کسی سرکاری شخص سے ہی متعلق کیوں نہ ہو.

    آپ رضی اللہ عنہ گو نا گو خصوصیات کی حامل شخصیت تھیں، جن سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے دین متین کا کام لیا اور پھر ان کی وہ دعا بھی قبول ہوئی.

    اے اللہ مجھے شہرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں شہادت عطا کرنا.

    اللّھم إني أسألك شھادة في سبيلك. آمين

  • پاکستان براستہ سری لنکا  — محمد خضر بھٹہ

    پاکستان براستہ سری لنکا — محمد خضر بھٹہ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک آزاد ریاست 14 اگست 1947 پوری قوم شکرانے کے نفل ادا کر رہی تو کوئی اپنے بچھڑے والے پیاروں کو یاد کر کے زاروقطار رو رہے اور یہ آزادی ایک عظیم لیڈر کی دن رات محنت سے ملی ایک دن بعد بھارت آزاد ہوا اور دل میں پاکستانی کی قیامت تک دشمن رہنے کی قسم کھائی.

    پاکستان کا سفر شروع ہوا تو اس وقت ہر کسی نے فرض سمجھ کہ پاکستان کو دنیا کا ترقیافتہ ملک بنانے کے لیے محنت شروع کر دی 1971 سے پہلے نشیب و فراز اس کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں پاکستان کو شروع دن سے اقتدار کی حوس کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اس اقتدار کی جنگ نے 1971 کو دو حصوں میں بدل دیا اور اس وقت کے دو کردار آج ذولفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے نام سے تاریخ کے لیڈر ثابت ہوے دور بدلتے رہے اور پاکستان بھی حالات کی کشمکش میں رہا.

    اللہ نے اس ملک کو بہت نعمتوں سے نوازا ہے جس کے کسان ایک ریڑھ کی ہڈی ہیں مزدور اس کا حسن ہیں پہاڑ،دریا،ندی نالے جھیل اس کا سنگھار ہیں جنگل سکون ہے اس ملک میں رہنے والا ہر وہ شخص اپنے پاکستان کی ترقی میں لگا ہے جو آج کا غریب ہے جس کو کرسی کی حوس نہیں اقتدار نے اسے ظالم نہیں بنایا اور اس کا دوسرا رخ بہت افسوس زدہ ہے کہ ہمارے ملک کے سیاست دان سے لیکر جرنیلوں تک جرنیلوں سے لےکر کلرک تک جس کو دیکھو اپنی جیب بھر رہا ہے آج ہر نوجوان اپنی پسند کی جماعت کے نعروں میں مصروف ہے اور ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں کیا یہ آزاد ریاست ہے کہ موروثی سیاست کی غلامی کرو اور نعرہ لگاتے ہو پاکستان زندہ باد.

    آج کسی کو یاد نہیں جس پاکستان کی ترقی کے لیے دن رات محنت کی خون بہا آج اس ہی پاکستان کی عزت لوٹ کہ دنیا کو بتا رہے ہو کہ ہم مفاد پرست غلام ابن غلام قوم ہیں آج میں اور آپ نہیں پاکستان بھیک مانگنے پہ آچکا ہے اور اس کے ذمے دار جتنے سیاست دان ہیں اتنا آپ اور میں ہیں آج کسی کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہم دیوالیہ ہونے جا رہے ہیں؟ نہیں ہمیں بس عمران خان زندہ باد،نواز شریف زندہ باد،زرداری زندہ باد کا پتہ ہے.

    ہم اپنی اس عقل سے آنے والی نسلوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں یہ وہی پاکستان ہے جو گندم دوسرے ممالک کو دیتاہ تھا آج لینے پہ مجبور ہے کیوں؟گھی،دال،چینی آئل نہانے کا صابن تک باہر سے آتا ہے ہم ایک سوئی تک باہر سے لیتے ہیں اور بولتے ہیں کہ ہم غریب ملک ہیں خدا کا خوف کرو ہم غریب نہیں ہمارے حکمران چور ہیں.

    آج سری لنکا ہر ملک کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے کہ ہمیں بچا لو ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں سری لنکا کی سوئی ہوئی عوام جو نعروں کے مزے لے رہی تھی آج انہیں نعرے لگوانے والوں کے ایوانوں صدارتی محل میں گھس کہ ازالہ کر رہے ہیں چین سری لنکا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے جیسے کہ پاکستان میں کر رہا ہے آج سری لنکا اگر بھیک مانگنے پہ مجبور ہے تو اس کی وجہ موروثی سیاست اور غلام ذہنوں کی وجہ ہے یہی لوگ کل ان کو کاندھوں پہ اٹھاتے تھے اور آج گریبان پر پڑتے ہیں سری لنکا کی حکومت نے اپنے رشتہ داروں کو وزارتیں دی کہ اقتدار کے مزے لو بندر کے ہاتھ میں ماچس آنے والا کام ہوا اور پورے رشتہ داروں نے سری لنکا کو دیوالیہ کر دیا.

    اب پاکستان بھی نا چاہتے ہوئے اسی ہی راستے پر ہے اقتدار دیکھو تو بس مفاد کے لیے سیاست دیکھو تو خاندانی اعلی افسران دیکھو تو کرپشن اور غریب دیکھو تو ہسپتال میں ہے آج پاکستان کا کسان بھی پورا سال بچوں کی طرح فصل تیار کرتا ہے فرٹیلائزر استعمال کرتاہے تو گھر کے زیور بیچ کہ اور جب منڈی پہنچتا ہے تو ٹکے کے حساب سے دے کہ آتا ہے آج نوجوان بھی لکیر کا فقیر ہو چکا ہے اگر اس پاکستان کو سری لنکا نہیں بنانا تو پھر نعرے چھوڑ کہ حق کی آواز لگانی پڑے گی خاندانی سیاست کو دفن کرنا پڑے گا کرپشن کرنے والوں کو اس ملک سے نکالنا پڑے گا اعلی اداروں کو اپنا فرض جہاد سمجھ کہ ایمانداری سے چلنا پڑے گا اور غریب کا احساس اور خدا کا ڈر پیدا کرنا پڑے گا اپنے ذہن سے غلامی کا پردہ ہٹانا پڑے گا، پھر جا کہ قائم رہے گا پاکستان زندہ باد پاکستان پایندہ باد.

    اس ملک کو نوجوان نسل کی ضرورت ہے ہمیں جسمانی آزادی تو ہے مگر ذہنی نہیں ہمیں اپنا ایک مقصد لے کے چلنا پڑے گا حق کے ساتھ کھڑے ہونگے تو ہمارا مستقبل اور آنے والی نسلوں کا مستقبل سنبھل جائے گا خدا کے لیے اس عظیم وطن عزیز کو اس موڑ نا جانے دیں جہاں سے واپس آنا نا ممکن ہو یہ ملک ایک امانت ہے ان شہیدوں کی جنہوں نے اپنا خون دے کر اس کو پاکستان کا نام دیا چلیں ایک قوم بن کر ۔۔۔پاکستان کی خاطر!

  • مقصد کامیابی کی ضمانت — ام عفاف

    مقصد کامیابی کی ضمانت — ام عفاف

    زندگی ایک رفتار کے ساتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے، وہ بچے جو ابھی چھوٹے ہیں ان کے لیے یہ دنیا بالکل نئی ہے ان کی آنکھوں میں تجسس ہوتا ہے اور جو لوگ جوانی کے جوبن پر ہیں ان کے لیے کچھ نیا ہے تو کچھ پرانا. اور وہ لوگ جو اپنی زندگی گزار چکے ہیں ان کے لیے یہ سب کچھ پرانا ہے.

    لیکن اصل بات یہ ہے کہ انسان نے اس دنیا میں کیا پایا ہے اور کیا کھویا ہے کچھ لوگ بغیر مقصد کے زندگی گزارتے ہیں.

    زندگی بہت خوبصورت ہے اگر اس کے اندر کچھ ترتیب لائ جائے کوئی مقصد طے کیا جائے. ہر انسان کی زندگی اس کے ساتھ ہی شروع ہو کر اس کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے. لوگ ہمارے کاموں میں، خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں کیونکہ ہم ان کے درمیان موجود ہیں.

    جیسے ہی زندگی ختم ہوگی سارے کام ختم ہو جائیں گے اور لوگ کچھ دیر سوگ منا کر اپنے کام پر لگ جائیں گے. زندگی کی ڈور کٹنے کے ساتھ ہی ہمارا نام بھی ختم ہو جاتا ہے.

    اور پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہو جائیں تو صدیوں تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں. سو بار بھلانے پر بھی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر یاد آجاتے ہیں. یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک مقصد کے تحت زندگی گزارتے ہیں.

    اور مقصد ہی وہ بنیاد ہے جو انسان کو مکمل زندگی کا لائحہ عمل دیتا ہے. ایسے لوگ زندگی ایک ترتیب سے گزراتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مرحلے کو کامیابی سے طے کرتے ہیں اور کامیابی بھی ان کے قدم چومتی ہے.

    آپ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہی مثال لے لیں ان کی مکمل زندگی انتھک محنت سے عبارت ہے. انہوں نے مکمل زندگی میں کام کیا اور لوگوں کو کام کام اور بس کام کا سبق دیا.

    وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنا ایک مقصد چنا اور اسے لیکر وہ آگے بڑھے. جب انہوں نے یہ مسلمانوں کی آزادی و خود مختاری کو اپنا مقصد بنایا تو وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے نجات دہندہ بنے اور قوم نے انہیں بابائے قوم کا درجہ دیا.

    دیکھیں اگر آپ کے پاس کوئی مقصد ہوگا تو ہی آپ کی زندگی میں کوئی کارآمد کام ہوگا. اسی وقت آپ اپنی قوم اور ملک کے لیے کچھ کر سکتے ہیں. اس لیے آپ اپنی زندگی میں مقصد اور ترتیب کو لازم سمجھیں.

    یاد رکھیں ہمیشہ کام کرنے والے لوگوں کو ہی یاد رکھا جاتا ہے اور وہ کام زیادہ بہتر ہوتا ہے جو ایک مقصد کے ساتھ ہو اسی لیے اپنی زندگی کا ایک مقصد بنائیں پھر دیکھیں کامیابیاں کیسے آپ کے قدم چومتی ہیں.

  • یادوں کے سپنے — اسامہ منور

    یادوں کے سپنے — اسامہ منور

    بعض اوقات زندگی اتنی تلخ ہو جاتی ہے کہ شیریں چیزیں بھی کڑوی لگنے لگتی ہیں اور دھیرے دھیرے حیات اپنی معنویت کھو دیتی ہے. ہم دن رات انھیں دکھوں اور تکلیفوں میں گزار کر ذہنی و جسمانی طور پر ڈھیٹ ہو جاتے ہیں اور پھر ہمیں ان کی عادت پڑھ جاتی ہے. ہم درد سہتے ہوئے ہس بھی لیتے ہیں اور رو بھی لیتے ہیں. کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اپنا دُکھڑا کسی کو سنا لیتے ہیں لیکن اکثر اوقات اپنی بپتا اپنی یادوں میں دفن کرتے جاتے ہیں. خوشی اور غمی، شاید اسی کا نام حیاتی ہے.

    اگرچہ زندگی کی تلخیوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں مگر ان کو ساتھ لے کر جینا بھی ناممکن ہے. قدم قدم پر غم بکھرے پڑے ہیں تو کونوں کُھدروں میں کرب رینگ رہے ہیں. خوشیاں کہیں اوٹ میں چھپی کن اکھیوں سے دیکھ رہی ہیں کہ کب درد موقع دیں اور ہم اگرچہ کچھ لمحوں کے لیے ہی مگر بشر کو راحت و سکون مہیا کر سکیں.

    ماضی ہمیں جینے نہیں دیتا، حال ہمیں ہنسنے نہیں دیتا اور مستقبل کی لامحدود خواہشات ہمیں مرنے نہیں دیتیں. ہم اسی کشمکش میں زندگی کی گاڑی کو آس و یاس کے دھکے لگا کر آگے کو دھکیلتے رہتے ہیں اور ہر دن اسی امید کے ساتھ دل کو دیمک زدہ لکڑی کی طرح کھوکھلی تسلیاں دیتے رہتے ہیں کہ

    "کوئی بات نہیں، پریشان نہیں ہونا، دل چھوٹا نہیں کرنا، اداس نہیں ہونا، مایوس نہیں ہونا، اچھا وقت بس قریب ہے”.

    اور پھر ہم انہی ٹمٹماتی امیدوں پر اپنی پوری حیاتی گزار کر گزر جاتے ہیں. ہمارے بعد ہمارے بچے اور پھر ان کے بعد ان کے بچے یہی سب کچھ دہراتے ہیں، اسی کیفیات سے گزرتے ہیں.

    ہم زندگی کی تلخیوں کو نظر انداز کرنا چاہتے ہیں مگر کر نہیں پاتے، ہم خوش رہنا چاہتے ہیں مگر نہیں رہ سکتے کیونکہ ہم دوسروں سے بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں.

    ہمارے پاس ہماری زندگی میں اگر کوئی اثاثہ ہے تو وہ ہماری گزری ہوئی یادیں ہیں، پھر چاہے وہ اچھی ہوں یا بری. ہم ایک ایک یاد کو بیسیوں بار یاد کرتے ہیں اور ہمارے سپنے بھی ہماری یادوں سے بھرے پڑے ہیں. ہم اپنی پوری زندگی تعلق بناتے اور نبھاتے مر جاتے ہیں. پھر ان تعلقات کو اپنی یادوں کی لڑی میں پرو کر یا تو کھل کر ہنس لیتے ہیں یا پھر بلک بلک کر رو دیتے ہیں. یادیں ایک ہی وقت میں ہمیں نئے زخم دیتی ہیں، پرانے زخموں کو تازہ کرتی ہیں اور پھر ان زخموں پر لگانے کے لیے مرہم بھی فراہم کرتی ہیں.

    سچ تو یہ ہے کہ یادیں بعض اوقات ہمیں ماضی کے ان جھروکوں میں لے جاتے ہیں جہاں کچھ پل کے لیے ہی سہی مگر ہمیں سکون میسر آ جاتا ہے. یہ یادیں ہی ہوتی ہیں جو ہمہ وقت ماضی اور حال کو جوڑے رکھتی ہیں. جوانی میں بچپن کے قصے کہانیاں، شرارتیں اور پھر بزرگوں کی جھڑکیاں، بڑھاپے میں جوانی کی پرجوش زندگی اور بعض الٹی حرکتیں اور قباحتیں،اپنی مرضی کے فیصلے لینا اور خود کو سب سے بڑا توپ مار سمجھنا، ہماری یادوں کے وہ سنہری ابواب ہیں جو ہماری حیاتی کو آگے دھکیلنے میں مد و معاون ثابت ہوتے ہیں.

    جو بھی ہے ہم زندگی کو امید اور آس سے زیادہ یادوں کے سہارے جیتے ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی بے وقوفی ہے کیونکہ یادیں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتیں بلکہ اپاہج بنا کر رکھ دیتی ہیں جبکہ آس اور امید ہمیں ہر ہر موڑ پر ایک اندرونی تقویت مہیا کرتی ہیں جو ہمارے لیے بہت ضروری ہے. زندگی کو حقیقت سمجھ کر گزاریں. سپنوں اور یادوں کو اتنی ہی جگہ دیں جتنی کے وہ قابل ہیں تبھی عمر کٹ پائے گی.

  • اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    ہم پاکستانی بھی عجیب لوگ ہیں. رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے فیوض و برکات سمیٹنے کے لئے ماہ مقدس میں پکے مسلمان بن جاتے ہیں اور رب کو عبادات کے ذریعے منانے کی اور اپنے گناہ بخشوانے کی کوشش کرتے ہیں. ربیع الاول میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اتنا ڈوب جاتے ہیں کہ در و دیوار، گلی محلوں بازاروں کو سجا کر اور ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلیں سجا اور لوگوں میں نیاز تقسیم کر کے اپنی عقیدت و محبت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں.

    محرم میں غم حسین رضی اللہ عنہ میں اتنے سوگوار ہوتے ہیں کہ ان دنوں میں خوشیوں کی تقریبات کو ملتوی کر دیتے ہیں لوگ محبت حسین رضی اللہ عنہ میں اور قاتلین کربلا سے نفرت میں مجالس منعقد کرتے ہیں نوحے و مرثیے پڑھے جاتے ہیں.ماتمی جلوس نکال کر اور سینہ کوبی کر کے یزیدی لشکر کی مذمت کی جاتی ہے مظلوم کربلا کے سوگ میں کالے کپڑے پہن کر اپنے غم کا اظہار کیا جاتا ہے.

    محرم میں پانی کی سبیلیں لگا کر اور لنگر حسینی رضی اللہ عنہ تقسیم کر کے قاتلین کربلا کے اس عمل سے اپنی نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے جب انہوں نے کربلا کے مسافروں پر کھانا اور پانی بند کیا.

    اسی طرح اگست کے مہینے میں قومی یکجہتی کے اظہار کے لئے اور ایک الگ وطن حاصل کرنے کی خوشی میں گھروں پر اور عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں. گلی محلوں میں ملی نغموں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں گھروں کو جھنڈیوں سے سجایا جاتا ہے عمارتوں پر لائٹنگ کی جاتی ہیں اور ریلیاں نکال کر اپنی خوشی کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے.

    لیکن ہوتا کیا ہے ہماری عبادات صرف رمضان المبارک، عشق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح اظہار صرف ربیع الاول میں، مظلوم کربلا سے اظہار یکجہتی صرف محرم میں اور حب الوطنی کے جذبات صرف اگست میں بیدار ہوتے ہیں. کیا ان مہینوں کے علاوہ ہم مسلمان، عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عاشق حسین رضی اللہ عنہ اور محب وطن نہیں ہیں.

    آئیں ہم آج کے بعد مخصوص مہینے کے لئے نہیں بلکہ پوری زندگی کے لئے مسلمان اور محب وطن بن جائیں اگست کا مہینہ ہے تو ہم اپنی ابتدا اسی مہینے سے کرتے ہیں ہم اپنی خود احتسابی کرتے ہیں کیا یہ ملک کسی مخصوص فرقے کے لئے حاصل کیا گیا یا مسلمانوں کے لئے، اگر مسلمانوں کے لئے حاصل کیا گیا تو ہم نے دیگر فرقوں کے مسلمانوں کے لئے اس ملک کو جہنم کیوں بنا دیا.

    قائد اعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم مسلمانوں کے لئے اس علیحدہ خطے کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنے مذہب کے مطابق آزادی سےزندگی گزار سکیں لیکن افسوس آج ہم اپنے قائد کے فرمان کو بھول کر سیاسی، نسلی، لسانی تعصبات کا شکار ہو گئے فرقہ بندیوں میں پڑ گئے جس قوم نے مضبوط ہو کر دیگر مظلوم مسلمان اقوام کی مدد کرنی تھی وہ آج خود مدد کے لئے غیر مسلم حکومتوں کی طرف دیکھ رہی ہے.

    اس سب کی وجہ صرف فرقہ واریت اور عدم برداشت ہے ہم جب تک فرقہ واریت سے پاک رہے ہماری ترقی کی رفتار قابل رشک تھی دنیا کی دیگر اقوام ہمیں رشک سے دیکھتی تھیں لیکن پھر ہم نے آپس کی محبت ختم کر دی اور اپنا اتحاد ختم کر کے ٹکڑوں میں بٹ گئے آج یہ حالت ہے کہ ہم نے جن سے آزادی حاصل کی اب انہی کے ملک میں جانا اور وہاں اپنے خاندان سمیت مستقل رہائش اختیار کرنا ہماری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے.

    ہم زبان سے تو کہتے ہیں کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ایک ہیں لیکن ہم عملی طور پر اس پرچم کے سائے تلے ایک نہیں ہیں. ہمیں ایک ہونے کے لئے اپنے دلوں میں سے ہر قسم کے تعصبات کو ختم کرنا ہوگا. ہمیں ایک دوسرے کی نیک نیتی پر یقین کرنا ہو گا ہمیں اس طرح آپس میں متحد ہونا پڑے گا جیسے 1947 میں تمام مسلمان قائد اعظم کی قیادت میں فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر متحد تھے.

    بڑے بڑے علماء کرام نے اس حقیقت کو تسلیم کر کے کہ حقیقی آزادی قائد اعظم کی قیادت میں ملے گی آپ کو اپنا راہنما تسلیم کیا اور مساجد اور ممبر رسول سے لوگوں کو آپ کی قیادت پر متفق کیا. اسی جذبے کی ہمیں آج ضرورت ہے تاکہ ہم دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکیں کہ "اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں”

  • بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں  مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں جہاں ایک طرف ہندتوا نظریات کا پرچار زد عام ہے وہیں دوسری طرف اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر بھی تشویش ناک ہے- بھارت میں مقدس گائے،حجاب، لو جہاد اور گھر واپسی کے نام پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے-

    موجودہ بھارت میں عوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پر مبنی گفتگو کو فروغ دیا جا رہا ہے- مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا، غلط معلومات اور فیک نیوز کی بنیاد پر ہتھیاروں سے لیس جتھوں کو مسلمانوں پر تشدد اور قتل عام کیلئے اکسایا جاتا ہے- عام سیاسی اور مذہبی اجتماعات کے علاوہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسا کہ وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ پر ویڈیوز اور میسیجز کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی بھر مار ہے-

    نفرت انگیز تقاریر اور گفتگو کی سب سے بڑی حالیہ مثال 17 تا 19 دسمبر 2021ء کو ہونے والے ہری دوار شہر میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک اجتماع دھرم سنسد میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارنے کی ہے-

    بلکہ ایک انتہا پسند ہندو خاتون رہنما نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم دشمنی اور مذہبی منافرت و تعصب کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

    ’’چندسو ہندو اگر مذہب کے سپاہی بن کر 20 کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں تو وہ فاتح بن کر ابھریں گے- اس خاتون رہنما نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ ایسا کرنے سے ہندو مت کی اصل شکل ’’سناتن دھرم‘‘ کو تحفظ حاصل ہو گا‘‘-

    مزید تقاریر میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر 20لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کردیا جائے تو بقیہ مسلمان بے چوں و چرا ’ہندو راشٹر‘ تسلیم کر لیں گے- مسلسل 3 دن اس اجتماع میں کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کیلئے تقاریر کی جاتی رہیں لیکن کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہندتوا سرکار کی مرضی سے ہورہا تھا-

    ان اعلانات کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد اور انتہا پسندی نے مزید شدت اختیار کی جس کی سب سے خوفناک مثال جہانگیرپوری میں ہنومان جینتی کے دن پرتشدد ہجوم کو ان جگہوں سے گزرنے دیا گیا جہاں زیادہ تر مسلمان رہتے ہیں- ہاتھوں میں تلوار، دیگر تیز دھار دار ہتھیاروں، پستول لہراتے ہوئے اور مسلمانوں کو گالی دیتے ہوئے اس پرتشدد ہجوم نے نماز کے وقت مسجد کے سامنے ہنگامہ برپا کیا-

    یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ 2014 ءکے بعد جب سے بی جے پی برسرِ اقتدار آئی ہے تب سے مسلم مخالف جذبات میں بھی شدت دیکھنے کو ملی ہے-

    2014ء کے بعد 2019ء میں دوبارہ نریندر مودی کا وزیر اعظم منتخب ہونا اور اسی طرح 2017ء کے بعد 2022ء میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسند اور کٹر مسلم مخالف یوگی آدتیہ ناتھ

    (جس کو مرکز میں مودی کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے)

    کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے سے واضح ہوتا ہے بھارت مکمل طور ہندو راشٹر بننے کی جانب گامزن ہے- حالیہ 5 میں سے 4 ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں واپس آگئی ہے- عام طور پر یہی تاثر اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس فتح سے مسلمانوں کے حالات مزید بدتر ہونگے-

    بھارت میں ریاستی انتخابات سے قبل یہ تاثر زد عام تھا کہ اگر مخصوص قسم کا زعفرانی رنگ کا لباس پہننے والے یوگی آدتیہ ناتھ خصوصاً اتر پردیش میں دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ ظلم و تشدد کا سلسلہ تیز ہو جائے گا- اگر ان کے پچھلے پانچ سالہ مسلم مخالف اقدامات کا ذکر کریں تو ان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی، لو جہاد، گھر واپسی اور بین المذاہب شادیوں پر پابندی نمایاں ہے- ان کے 5 سالہ دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور ان کے خلاف نفرت بھری تقاریر سر عام ہوتی رہی ہیں- مغل دور کا تعمیر شدہ تاج محل اور بابری مسجد سے نفرت یوگی آدتیہ ناتھ کی مسلم مخالف جذبات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے-

    نریندرا مودی کی مرکزی حکومت کے مسلم مخالف سینکڑوں واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو چکے ہیں- جن میں نمایاں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد غیر قانونی اور غیر انسانی کرفیو کا نفاذ اور شہریت ترمیمی قانون کے تحت 30 لاکھ مسلمانوں کی بے دخلی کی راہیں ہموار کرنا شامل ہیں-

    یہ حقیقت ہے کہ آج نفرت اور انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے بھارتی معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے- سخت گیر ہندو آئے روز عوامی جلسوں میں مسلمانوں کا سیاسی، سماجی، معاشرتی اور معاشی سطح پر بائیکاٹ کا اعلان کر رہے ہیں-سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ ایک مجمع عام سے عہد لیا جا رہا ہے کہ :

    ’’ہم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی دکانوں سے کسی قسم کا کپڑا، جوتا اور دیگر سامان نہیں خریدیں گے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا سامان فروخت کریں گے‘‘-

    بھارت میں سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک بیانیہ ’’ہندو خطرے میں ہیں‘‘ کو فروغ دے کر مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے- اس بیانیے پر کئی سوالات اٹھتے ہیں جن میں ایک سوال یہ قابل غور ہے کہ 15 فیصد والی اقلیت سے اکثریت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ اسی بیانیہ کو فروغ دے کر بھارت میں اسلاموفوبیا کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں- حالیہ دنوں میں بھارت کی 9 ریاستوں میں مسلم مخالف تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے-یہ ریاستیں مدھیہ پردیش، گجرات، نئی دہلی، گوا، راجستھان، جھارکھنڈ، کرناٹک، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور بہار ہیں- حال ہی میں ریاست کرناٹک کے سکولوں میں حجاب پہننے کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر سامنے لایا گیا ہے-سکولوں میں حجاب کے مد مقابل ہندو طلبہ نے گلے میں کیسرانی رومال ڈالے ہوئے تھے-

    ان واقعات کا مقصد مذہبی منافرت کو فروغ دینا تھا جو اسلاموفوبیا کا منہ بولتا ثبوت ہے-اس کے علاوہ بی بی سی کی ایک ویڈیو رپورٹ میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس مسلمانوں کی حفاظت کی بجائے انتہا پسندوں کا ساتھ دیتے ہوئے حملے کر رہی ہے-

    بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور شعائر کی سرِ عام بے حرمتی کی جاتی ہے-اس کے علاوہ بھارت میں مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی اسلاموفوبیا کے مکروہ رجحان کی عکاسی کرتا ہے-بھارت میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی مسلمانوں کی نسل کشی کی مترادف ہے- پاکستان نے ہمیشہ اس بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے- حالیہ اسلام آباد اعلامیہ میں او آئی سی نے بھی بھارت کے ان اسلامو فوبک اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

    ’’ہم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور عدم برداشت کی منظم اور وسیع پالیسی کی مذمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سیاسی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا شکار ہوئے ہیں- ہم حجاب کو نشانہ بنانے والے امتیازی قوانین اور پالیسیوں سے ظاہر ہونے والے ہندوستان میں مسلم تشخص پر سب سے زیادہ نقصان دہ حملوں سے بہت پریشان ہیں-ہم ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے امتیازی قوانین کو فوری طور پر منسوخ کرے، ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کو یقینی بنائے اور ان کی مذہبی آزادیوں کا تحفظ کرے‘‘-

    حالیہ کچھ دنوں میں سیکولر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے- مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور آثارِ قدیمہ کو گرانے کے بعد ان کے کاروباروں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے نام پر بلڈوزر سیاست کے ذریعے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے-

    یہ بات عیاں ہے کہ متنازع شہریت کے ان قوانین سے نہ صرف مسلمانوں میں خوف بڑھا ہے بلکہ اس کے عملی اقدامات بھی سامنے آئے ہیں- مثلاً سرکاری حکام کا شہریت ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کو تنگ کرنا، غیر قانونی گرفتاریاں، پر تشدد واقعات میں اضافہ اور گھروں کو مسمار کرنا شامل ہے-

    5 اگست 2019ء کو ظالم بھارتی سرکار نے عالمی قوانین، دو طرفہ معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس غیر قانونی اقدامات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ساتھ کشمیریوں پر غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے شدید لاک ڈاؤن لگا کر انہیں کھلی جیل میں بند کر دیا-اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے 30 سے 40 لاکھ غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل جاری کردیا گیا – اس دوران کرونا وائرس کی عالمی وبا کی مشکلات میں بھی بھارت نے کشمیریوں کو جیلوں میں بند کرنے، انٹرنیٹ بند کرنا، جعلی اِنکاونٹر، عورتوں اور بچوں پر ظلم و تشدد ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہوا ہے- 10 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں کشمیریوں پریہ غیر انسانی محاصرہ 1000 دنوں سے تجاوز کر چکا ہے-

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سال 2021ء میں قابض بھارتی فوج نے 210 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 65 افراد کو جعلی ان کاؤنٹر میں شہید کیا گیا- اس دوران 44 معصوم بچے یتیم اور 16 خواتین بیوہ ہوئیں اور بھارتی فوج نے 67 عمارتوں کو مسمار بھی کیا- اس عرصے میں بھارتی فوج نے 2716 کشمیریوں کو گرفتار اور 487 افراد کو زخمی کیا- رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے صرف دسمبر 2021ء میں 31 افراد کو شہید کیا-

    کچھ عرصہ قبل کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کی وفات پر بھارت نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کی تدفین سخت سیکورٹی حصار میں کی گئی اور اہل خانہ کو جنازے میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا- ماہِ رمضان المبارک میں بھی بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم جاری رہے حتیٰ کہ عید الفطر کے موقع پر مسلمانوں کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی-

    بی جے پی اور آر ایس ایس کے اقتدار میں آئے روز مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کو لکھنے کیلئے الفاظ کم پڑ جائیں، اس تحریر میں اس بات کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح بھارت میں مختلف غیر انسانی اقدامات سے 220 ملین مسلم آبادی کا نسلی صفایا اور قتلِ عام کیا جارہا ہے-یہ عمل صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہندو راشٹر کے قیام کےلئے دیگر اقلیتیں بھی ہندتوا سوچ اور مذموم عزائم کے نشانے پر ہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ بھارت تاریخ میں انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر یادرکھا جائے گا-

    پوری دنیا خاص کر بھارت میں اسلاموفوبیا خوفناک شکل اختیار کرچکا ہے جس کی ہر قیمت پر روک تھام کیلئے عالمی برادری کو اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے- ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خصوصاً اقوام متحدہ اور انصاف کے عالمی اداروں نے اگر بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات سے مزید غفلت برتی اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات کا ایکشن نہ لیا تو اس ظلم کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے-

  • انگور — حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    انگور — حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں کیا جاتا ہے ۔

    شائد اسی لیے قرآن مجید میں اسے عنب کے نام سے گیارہ مختلف آیات میں ذکر کیا گیا ہے ۔

    انگور کی درجنوں جنگلی قسمیں دنیا کے مختلف خطوں میں پائی جاتی ہیں ۔

    اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا کہ انگور کا اصلی وطن کون سا ہے ممکن نہیں ۔

    اس کے باوجود سائنس دانوں کا خیال ہے کہ انگور کا اصلی وطن آرمینیا اور آذربائجان کا پہاڑی علاقہ ہو سکتا ہے ۔

    اس علاقہ کی آب وہوا بہت اچھی ہے اور غالباً یہیں سے انگور کی کاشت کا فن عام ہو کر ایران مصر اور عرب تک پھیل گیا ۔

    یہ قیاس آرائیاں تین ہزار سال قبل مسیح سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ روایات کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کے دور میں کاشت کیا گیا انگور دریافت ہو چکا تھا ۔

    اس طرح کھجور کے بعد انگور کی تاریخ ہی پھلوں میں سب سے قدیم مانی جاتی ہے ۔

    آج انگور کی آٹھ ہزار قسمیں تیار کی جا چکی ہیں
    ۔
    ان میں سے چند عمدہ اور اچھی قسموں کی کاشت اٹلی فراس روس اسپین ترکی ایران افغانستان جاپان شام الجیریا مراکش اور امریکہ میں کی جا رہی ہیں ۔

    انگور کی عالمی پیداوار کا تقریباً نصف حصہ پورپی ممالک پیدا کر رہے ہیں ۔

    انگور کا شمار اہم پھلوں میں ہوتا ہے ۔

    انسانی صحت کی بحالی کے لیے انگور قدرت کا انمول تحفہ ہے ۔

    انگور کے دانے مٹر سے لے کر آلو بخارے تک جسامت رکھتے ہیں ۔

    انگور زرد کالے سرخ سبز اور نیلے رنگ کے ہوتے ہیں ۔

    انگور اپنے قیمتی غذائی اجزاء کی بدولت زبردست غذائی اہمیت رکھتا ہے ۔

    اس میں پائی جانے والی وفر مقدار میں شکر زیادہ تر گلوکوز پر مشتمل ہوتی ہے ۔

    انگور میں پایا جانے والا گلوکوز مختلف اقسام میں شرح یعنی 15 سے 25 فیصد تک موجود ہوتا ہے ۔

    انگور فوری طور پر جسم کو حرارت اور توانائی مہیا کرتا ہے ۔

    گلوکوز پہلے سے ہضم شدہ غذا ہے جو معدے میں پہنچنے کے فوراً بعد خون میں جذب ہو جاتی ہے ۔

    غذائی صلاحیت:
    انگور کے 100 گرام میں 92 فیصد رطوبت 0.7 فیصد پروٹین 0.1 فیصد چکنائی 0.2 فیصد معدنی اجزاء اور 7 فیصد کاربوہائیڈریٹ پائے جاتے ہیں ۔

    جبکہ انگور میں پائے جانے والے معدنی اور حیاتین اجزاء کا تناسب اس طرح ہوتا ہے ۔

    کیلشیم 20 ملی گرام فاسفورس 20 ملی گرام آئرن 0.25 ملی گرام وٹامن سی 31 ملی گرام اور وٹامن بی کمپلیکس وٹامن اے اور وٹامن بی کی بھی کچھ مقدار پائی جاتی ہے ۔

    100 گرام انگور میں 32 کیلوریز ہوتی ہیں ۔

    شفاء بخش قوت اور طبی خواص:
    انگور کی شفاء بخش طبی افادیت کا تعلق اس میں پائی جانے والی گلوکوز کی فراوانی ہے ۔

    انگور بحالی صحت کو بڑی تیزی سے ممکن بناتا ہے ۔

    عام کمزوری بخار اور ضعف ہضم کے مریضوں کے لیے انگور بہت اچھی غذا ہے ۔

    قبض سے چھٹکارا پانے کے لیے روازنہ 350 گرام گرام انگور کھانا ضروری ہے ۔

    اگر تازہ انگور دستیاب نہ ہوں تو کشمش کو کچھ دیر پانی میں بھگو رکھنے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

    انگور بد ہضمی کا خاتمہ کرتے ہیں اور بہت کم وقت میں معدے کی خراش اور گرمی دور کرتے ہیں ۔

    دل کی بیماری میں انگور کامیاب علاج ہے ۔

    انگور دل کو تقویت دیتے ہیں دل کے درد اور تیز دھڑکن کا خاتمہ کرتے ہیں ۔

    اگر انگور کو مریض کچھ دن اکلوتی غذا بنائے رکھے تو مرض پر بہت تیزی سے قابو پایا جاسکتا ہے ۔

    دل کے دورے کے بعد مریض کو انگور کا رس پلانا بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔

    یہ مریض کو دل کی تیز دھڑکن اور سنگین نتائج سے محفوظ رکھتا ہے ۔

    خوب پکے ہوئے انگوروں کا رس درد شقیقہ آدھے سر کا درد میں تسکین بخش ہے ۔

    انگور میں پانی اور پوٹاشیم کی کافی مقدار پائی جاتی ہے ۔

    اسی وجہ سے یہ منفرد قسم کی پیشاب آور صلاحیت رکھتے ہیں ۔

    مثانے اور گردوں کی پتھری کا خاتمہ کرتے ہیں اور گردوں کی سوزش دور کرتے ہیں۔

  • سراپا عدل رضی اللہ عنہ (حیات، فضائل اور شہادت) — حافظ گلزارعالم

    سراپا عدل رضی اللہ عنہ (حیات، فضائل اور شہادت) — حافظ گلزارعالم

    کیا آپ کو معلوم ہے؟

    وہ کون شخصیت ہیں جو انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں۔ جن کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا۔ جنھیں سروردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے مانگا تھا۔ جو اپنی رائے دیتے اور اللہ اسی رائے کے موافق قرآن کی آیات نازل فرماتے۔ جو محبوب رب العالمین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سسر ہیں ، جو ہجری تقویم کے بانی ہیں۔جن کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔ جن کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔ جنھوں نےاپنی مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کمال خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا، جو خلیفہ وقت ہونے کے باوجود روکھی سوکھی کھایا کرتے، کپڑوں پر پیوند لگے ہوتے، زمین پر استراحت فرماتے مگر رعب و دبدبہ اتنا کہ قیصر و کسری پر آپ کا نام سن کر ہی کپکپی طاری ہوجاتی، جو جس راستے سے جاتے شیطان اس رستے کے قریب بھی نہ پھٹکتا ۔ جن کے بارے میں خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرے بعد اگر کوئ نبی ہوتا تو یہ ہوہوتے۔ یہ ہیں سیدنا ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی رضی اللہ عنہ۔

    آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں، عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، آپ کا شمار علماء و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ آپ کا عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔

    آپ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ آپکی ہر صفت بے مثال تھی۔ اسلام لانے سے قبل پڑھے لکھے عظیم سرداروں میں اور بہادر ترین افراد میں آپکا شمار ہوتا تھا۔ اور اسلام لانے کے بعد اپنی ساری سرداری، بہادری، عدالت، ذکاوت ، سخاوت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قدموں پر قرباں کردی۔

    نام و نسب
    سلسلہ نسب یہ ہے: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن زراع بن عدی بن کعب بن لوی بن فہر بن مالک آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے

    پیدائش
    امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ آپ کی ولادت شریف عام الفیل کے تیرہ سال بعد ہوئی ۔ (تاریخ الخلفاء :ج1،ص43)
    مشہور روایت کے مطابق آپ ہجرت سے چالیس برس قبل پیدا ہوئے۔ آپ کے بچپن کے حالات نا معلوم ہیں۔ کسے معلوم تھا کہ آج کا یہ بچہ کل بائیس لاکھ مربع میل پر حاکم ہوگا، اور شرق و غرب میں اسکے نام کا ڈنکا بجے گا۔

    تعلیم
    عرب میں نسب دانی،سپہ گری،پہلوانی اور مقرری کا نہ صرف رواج تھا بلکہ یہ امور باعث شرافت سمجھےجاتے تھے۔ چنانچہ آپ کے باپ دادا نامور نساب تھے، آپ نے اپنے والد سے نسب دانی سیکھی۔ پہلوانی اور کشتی میں بھی کمال حاصل کیا، یہانتک کہ عکاظ کے دنگل میں آپ اپنی پہلوانی کے جوہر دکھاتے۔ عکاظ جبل عرفات کے قریب ایک مقام تھا جہاں ہر سال اہل فن اپنے کمالات کا اظہار کرتے تھے۔ آپ بہترین مقرر اور اعلی شاعر بھی تھے۔ اور آپ کا شمار ان سترہ افراد میں ہوتا ہے جو بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔

    قبول اسلام
    ابتداء اسلام میں آپ اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید ترین مخالفین میں سے تھے۔ یہانتک کہ اپنی کنیز لبینہ کے اسلام لانے پر انکو سخت ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ مگر

    اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
    اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤگے

    مشرکین مکہ نے اسلام کو روکنے کی جتنی تدبیریں اختیار کیں، اسلام اتنا ہی پھیلنے لگا ۔ یہ صورتحال دیکھ کر مکہ کے مشرک سرداروں نے فیصلہ کیا کہ کہ معاذاللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا جائے،جسکے لئے کوئ تیار نہ ہوا۔ مگر عمر رضی اللہ عنہ اس پر آمادہ ہوئے، اور تلوار لے کر نکل پڑے۔ رستے میں آپ کے بدلے تیور دیکھ کر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہاں جارہے ہیں، آپ نے کہا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قتل کرنے( معاذاللہ)،یہ سن کر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لیجئے آپکی بہن فاطمہ اور بہنوئ سعید بن زید رضی اللہ عنھما بھی اسلام قبول کرچکے ہیں۔ یہ سن کر آپ کے غصے کی انتہا نہ رہی، شدید غصے کی حالت میں گھر گئے، دیکھا کہ آپکی بہن قرآن کریم کے اجزاء لیکر تلاوت کرہی ہیں۔ انہوں نے آپکو دیکھتے ہی وہ اجزاء چھپائے،مگر آپ نے آواز سن لی تھی، آپ نے کہا مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم دونوں مرتد ہوگئے ہو، یہ کہہ کر اپنے بہنوئ سعید سے دست وگریباں ہوئے،بہن فاطمہ رضی اللہ عنھا بچانے آئ تو انہیں بھی اتنا مارا کہ لہولہان کردیا۔ بہن نے کہا جو کرسکتے ہو کرلو،ہم دین اسلام نہیں چھوڑ سکتے۔ ان الفاظ نے آپ کے دل پر گہرا اثر کیا۔ اور بہن کا خون آلود بدن دیکھ کر مزید دل نرم ہوا۔ فرمایا: لاؤ، مجھے دکھاؤ تم کیا پڑھ رہے تھے۔ فاطمہ رضی اللہ عنھا نے قرآن کریم کے اجزاء سامنے رکھے، جن پر یہ آیات تھیں:

    سبح لله ما فی السموت والأرض وھو العزیز الحکیم
    ( جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے)
    ایک ایک لفظ پر ان کا دل اسلام کی طرف مائل ہوتا گیا۔ اور جب اس آیت پر پہنچے:
    آمنوا باللہ ورسولہ
    ( اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ)
    تو بے اختیار زبان پر کلمہ جاری ہوا:
    اشھد أن لا الہ الا اللہ وأشھد أن محمداً رسول اللہ
    آپ کے اسلام کا سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نعرۂ تکبیر بلند کیا، آپ کے ساتھ سب صحابہ نے بھی خوشی سے اللہ اکبر کہا۔
    آپ کے اسلام لانے سے تاریخ اسلام کا نیا دور شروع ہوا،مسلمانوں کو حوصلہ ملا، اسلام کو قوت ملی۔ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں
    "فلما أسلم عمر قاتل قریشا حتی صلی عند الکعبۃ وصلینا معہ”
    ” جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لاۓ تو قریش کا مقابلہ کیا یہانتک کہ ببانگ دہل کعبۃ اللہ میں نماز پڑھی، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔

    سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام لا نے کے بعد6 نبوی میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کیا ،اس وقت آپ کی عمر مبارک ستائیس 27 سال تھی ۔ (تاریخ الخلفاء :ج1،ص:43۔ الاکمال فی اسماء الرجال)

    فضائل
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر آپکے وہ فضائل بیان فرماۓ،جو آپ ہی کا خاصہ ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

    1-میرے بعد جو دو(خلفاء )ہیں، ان کی اقتداء کرو یعنی ابوبکر اورعمر رضی اللہ عنہما ۔ (جامع الترمذی)
    2-بے شک اللہ تعالی نے عمررضی اللہ عنہ کی زبان اور قلب پر حق کو جاری فرمادیا ہے ۔ (جامع الترمذی)
    3-عمر! شیطان تم کو دیکھتے ہی راستہ کاٹ جاتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح المسلم)
    4-میری امت میں اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر ہیں۔( جامع الترمذی )
    5-حضرت علی رضی الللہ عنہ سے روایت ہے ، فرمایا:” بے شک عمر فاروق جب کوئی بات کہتے یں تو قرآن اُن کی بات کی تصدیق کے لیے نازل ہوتا ہے ۔”
    6-حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ’’ یا رب ! اسلام کو خاص عمر بن خطاب ؓ کے ذریعے غلبہ وقوت عطا فرما۔‘‘ (المستدرک حاکم)

    شہادت
    مدینہ منورہ میں ایک پارسی غلام تھا،جس کا نام ابو لؤلؤ فیروز تھا۔ اس نے آپ سے شکایت کی کہ میرے آقا مغیرہ بن شعبہ نے مجھ پر بڑا بھاری محصول مقرر کیا ہے۔ آپ نے پوچھا کتنا؟ اس نے کہا روزانہ دو درہم۔ آپ نے کہا کیا کام کرتے ہو؟ اس نے کہا بڑھئ، رنگسازی اور لوہار کا کام۔ آپ نے کہا تین پیشوں کے حساب سے یہ محصول تو مناسب ہے۔ وہ غلام آپکے اس فیصلے پر سخت ناراض ہوا۔

    ایک دن فجر کی نماز کی امامت کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑھے، جونہی نماز شروع کی۔ فیروزنے اچانک گھات سے نکل کر آپ پر چھ وار کئے، ایک وار آپکےناف کے نیچے لگا۔ حضرت عمر نے فورا حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کو ہاتھ سے پکڑ کر آگے کیا، انہوں نے نماز مکمل کی۔ اور آپ اس دوران لہولہان حالت میں تڑپتے رہے۔

    فیروز کو اس دوران پکڑنے کی کوشش کی، مگر اس نےاس خنجر سے اور افراد کو بھی زخمی کیا، اور جب پکڑا گیا تو اس نے خودکشی کی اور جہنم واصل ہوا۔
    سب سے پہلے آپنے پوچھا کہ میرا قاتل کون ہے؟ آپکو بتایا گیا کہ فیروز نظامی پارسی غلام۔ آپ نے الحمدللہ کہا، کہ شکر ہے کوئ اسلام کا دعویدار میرا قاتل نہیں۔

    ایک طبیب بلایا گیا جس نے آپکو نبیذ اور دودھ دیا، دونوں چیزیں زخم کی راہ سے باہر نکل آئیں۔ آپ کو یقین ہوگیا کہ اب آپ جانبر نہیں ہوسکتے، لہذاحضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے اجازت چاہی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جگہ عنایت کردیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے روتے ہوۓ کہا کہ یہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی تھی۔ مگر میں آج آپکو خود پر ترجیح دیتی ہوں۔

    آپ نے فرمایا: "یہی میری سب سے بڑی آرزو تھی”

    تین دن بعد آپکا انتقال ہوا۔
    انا لله وانا الیہ راجعون

    مشہور تاریخی روایات سے یہی بات ثابت ہے کہ 23 ہجری 26 یا27 ذوالحجہ کو نماز فجر میں سیدنا فاروق اعظمؓ پر ابولؤلؤ فیرزو مجوسی ملعون نے حملہ کیا اور تین دن کے بعد یکم محرم الحرام کو امیرالمومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا۔صحیح قول کے مطابق بوقت شھادت انکی عمر مبارک 63 سال تھی ۔ آپؓ کی مدتِ خلافت دس سال،چھ ماہ تین دن پر محیط ہےیکم محرم الحرام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کئے گئے۔

    حضرت علی رضی اللہ عنہ آپکے جنازے پر آئے اور فرمایا: دنیا میں مجھے سب سے محبوب وہ شخص تھا جو اس کپڑے میں لپٹا ہوا ہے۔

    حضرت ام ایمن رضی اللہ عنھا نے کہا: اب اسلام کمزور ہوگیا۔

    سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اب میں اسلام پرروتا ہوں۔ آپکی موت سے اسلام میں وہ دراڑ آئ جو کبھی بھری نہیں جاسکتی۔
    اللہ ہمیں آپکے نقش قدم پر چلائے۔ آمین

    آپ کی مرقد پر بے شمار رحمتیں ہوں ۔ آمین