Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • مسلم لیگ قاف کی سیاسی خودکشی — نعمان سلطان

    مسلم لیگ قاف کی سیاسی خودکشی — نعمان سلطان

    سیاست میں کوئی بات بھی حرف آخر نہیں کل کے دشمن آج کے دوست بن جاتے ہیں اور حریف مخالفت پر اتر آتے ہیں.

    کل کے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں یہ بات کھل کر سامنے آئی.. آصف علی زرداری ایک مرتبہ پھر بادشاہ گر بن کر سرخ رو ہو گئے.

    مسلم لیگ کو وقتی سہی لیکن دوبارہ وزیر اعلیٰ کی سیٹ مل گئی. پی ٹی آئی کو بھی عدالت کے ذریعے انصاف ملنے کی امید ہے.اس سارے معاملے میں اگر کوئی جماعت خسارے میں رہی تو وہ مسلم لیگ قاف ہے.

    چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے آپس کے اتحاد اور سیاسی فراست کی وجہ سے وہ ہر حکومت کے لئے لازم و ملزوم تھے. پیپلزپارٹی نے ان کو قاتل لیگ کہا اور انہیں نائب وزیراعظم کا عہدہ دیا.. پی ٹی آئی نے انہیں پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا اور پہلے سپیکر اور اب وزیراعلیٰ کے لئے اپنا امیدوار منتخب کیا.

    مسلم لیگ ان کو پرویز مشرف کے سہولت کار اور مسلم لیگ کی تقسیم کے ذمہ دار قرار دیتے رہے اور ابھی مخلوط حکومت میں دو وزارتیں اور اگر پرویز الٰہی مان جاتے تو انہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کی آفر بھی تھی.

    اس سب کی وجہ صرف چوہدریوں کا آپس میں اتفاق تھا جو کہ آصف علی زرداری نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اس نااتفاقی کی اصل وجہ سیاسی اختیار نوجوان نسل کے ہاتھ دینا ہے.

    چوہدری سالک کا جھکاؤ ن لیگ کی طرف ہے جبکہ چوہدری مونس الٰہی کا جھکاؤ پی ٹی آئی کی طرف ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جیسے بڑے چوہدری معاملات کو آپس میں افہام تفہیم سے حل کرتے تھے ایسے ہی یہ بھی کرتے لیکن خون گرم ہونے کی وجہ سے دونوں اپنی انا کے اسیر رہے اور آخر ان کی ضد خاندان کی تقسیم کا باعث بنی.

    عہدے وقتی ہوتے ہیں جبکہ خون کے رشتے ازلی ہوتے ہیں. نوجوان نسل نے رشتوں پر عہدوں کو فوقیت دے کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ بزرگوں کی سیاسی میراث کے اہل نہیں.

    ان حالات میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ چوہدریوں نے اپنی سیاسی زندگی میں پہلا غلط فیصلہ کیا اور اگر انہوں نے اپنی غلطی کو بروقت نہ سدھارا تو مسلم لیگ قاف کا شیرازہ بکھر جائے گا.

  • وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی

    وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی

    ملک میں سیاسی جماعتیں و مذہبی جماعتیں جمہوریت، آئین، قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ بلند کرتی ہیں تاہم جمہوریت کا قتل سالوں پہلے ہوا اور اس قتل کو رات کے اندھیرے میں دفن کر دیا گیا جس کا خمیازہ ملک عوام اور خود سیاسی جماعتیں تادم تحریر بھگت رہی ہیں۔ میری مراد بھٹو کی ہے۔ پھر بھی ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے سبق حاصل نہیں کیا اور جمہوریت کے قاتلوں کے ساتھ مل کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔ آج اگر تحریک انصاف سینہ کوبی کر رہی ہے اور جمہوریت کا نعرہ بلند کر رہی ہے تو تحریک انصاف بھی نوازشریف کی حکومت کے خاتمے پر جشن اور بھنگڑے ڈال رہی تھی آج چوہدری ظہور الٰہی مرحوم کا خاندان بکھر گیا ہے تو اس خاندان نے بھی آمریت کا ساتھ دے کر نوازشریف کے ساتھ بے وفاقی کی تاریخ رقم کی تھی۔ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں نے جمہوریت کو مستحکم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اقتدار کی رسہ کشی میں آمریت کا ساتھ دیا۔ سیاسی جماعتیں و جماعتوں نے گرینڈ الائنس تو بنائے مگر وہ سب ذاتی مفادات اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے بنائے گئے۔ آج ملک میں ایک طرف اگر سیاسی انتشار ہے تو دوسری طرف معاشی زوال جس کا خمیازہ ملک اور عوام دونوں بھگت رہے ہیں۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے پرویز مشرف کے جمہوری عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا

    مسلم لیگ (ن) بھی 2002ء کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونیوالی اس پارلیمنٹ کا حصہ تھی جس نے مشرف سے حلف لیا۔ آج آئین کے تقدس کا درس دینے والی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے آئین کی پامالی پر جشن منائے ایک نہیں کئی بار آئین کی پامالی پر نہ صرف جشن منائے بلکہ آئین کی پامالی کرنیوالوں کا ساتھ بھی دیا اور قصیدے لکھنے والوں نے قصیدے لکھے۔ آج بھی وقت ہے ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتیں جمہوریت اور پارلیمنٹ کو بچا لیں ملک میں جمہوریت کی نفی تخلیق پاکستان کی نفی ہے ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرنا بند کر دیں ملک میں غیر جانبدار الیکشن کے ذریعے ہی تبدیلی ہو سکتی ہے عوام کو ہی اس کا اختیار دیا جائے کہ وہ ووٹ کے ذریعے حکومتیں بنائیں۔ ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرنے آئین اور قانون کی حکمرانی کا واحد راستہ انتخابات ہیں ۔ایک دوسرے کی حکومت کو سازش کے ذریعے گرانے سے باز رہیں عوام کی منتخب حکومتوں کو گرانا بھی آمریت کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ ہائوس میں تحریک انصاف سمیت بھٹو اور نوازشریف کی منتخب حکومت گرانے میں کردار ادا کرنے والے معافی مانگیں۔

  • ضمنی انتخابات گنتی شروع،نتائج آنے لگ گئے

    ضمنی انتخابات گنتی شروع،نتائج آنے لگ گئے

    ضمنی انتخابات میں 20 نشستوں پر پولنگ کا وقت ختم،گنتی شروع،اطلاعات کے مطابق پنجاب اسمبلی کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات کیلئے آج بروز اتوار 17 جولائی کو ہونے والے پولنگ وقت ختم ہوگیا اور گنتی جاری ہے

    پی پی 288 پہلا غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ پولنگ اسٹیشن نمبر 117 گرلز پرائمری سکول بستی میرن موضع لاڈن
    1۔سردارسیف الدین کھوسہ پاکستان تحریک انصاف انتخابی نشان بلا حاصل کردہ ووٹ 488
    2۔سردار عبدالقادر کھوسہ پاکستان مسلم لیگ ن انتخابی نشان شیر حاصل کردہ ووٹ 147
    3۔عرفان اللہ تحریک لبیک پاکستان انتخابی نشان کرین حاصل کردہ ووٹ 10
    4۔اللہ ڈتہ آزاد حاصل کردہ ووٹ 10
    مسترد ووٹ:09
    کل ووٹ؛1110
    کاسٹ ووٹ:669
    60٪کاسٹنگ ایوریج

    بہاولنگر،حلقہ پی پی 237 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کا سلسلہ جاری پولنگ اسٹیشن نمبر 2سے ن لیگ کے فدا حسین وٹو320ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ،تحریک انصاف کے سید آفتاب رضا 157ووٹ لے کر دوسرے نمبرپر،تحریک لبیک پاکستان کے میاں راشد محمود وٹو نے72ووٹ حاصل کیے

    پی پی 217 پولنگ اسٹیشن نمبر 26سے پی ٹی آئی کےزین قریشی461ووٹ لیکر پہلے نمبر پر، ن لیگ کےسلمان نعیم 424 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر

    جھنگ، پی پی 127 پولنگ اسٹیشن نمبر ایک سے پی ٹی آئی کے مہر نواز 180ووٹ لیکر پہلے نمبر پر،پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار مہر اسلم بھروانہ 79 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر

    علی پور، حلقہ پی پی273 پولنگ اسٹیشن44 سے ن لیگ کے سبطین رضا 92ووٹ لیکر پہلے نمبر پر،علی پور، حلقہ پی پی273 پولنگ اسٹیشن44 سے پی ٹی آئی کے یاسر عرفات کو108ووٹ ملے ،پی پی 273پولنگ اسٹیشن نمبر 11سے ن لیگ کے سبطین رضا424ووٹ لیکر پہلے نمبر پر،تحریک انصاف کے امیدوار سردار یاسر عرفات جتوئی نے 213 ووٹ حاصل کئے

    پی پی 83خوشاب ضمنی الیکشن
    16پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی نتائج
    مسلم لیگ ن کے امیر حیدر سنگھا2932ووٹ لے کر آگے
    ،آزاد امیدوار آصف بھا 2232ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

    ،
    پی ٹی آئی کے حسن اسلم 1934ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر
    ضمنی انتخابات میں ان 20 نشستوں پر 175 امیدوار میدان میں اترے ہیں، 45 لاکھ 80 ہزار ووٹرزمیں سے ووٹ کاسٹ کرنے والوں کی شرح بہت کم رہی ہے

  • جوبائیڈن کا دورہ مشرق وسطیٰ ایک سعی لاحاصل،تجزیہ: شہزاد قریشی

    جوبائیڈن کا دورہ مشرق وسطیٰ ایک سعی لاحاصل،تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی صدر جوبائیڈن ان دنوں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ مگر بہت دیر کی مہرباں آتے آتے کے مصداق ہے۔ روس یوکرین جنگ، امریکی معیشت پر اس کے اثرات۔ امریکہ میں اس وقت مہنگائی 40 سال کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر ہے۔ خارجہ محاذ پر یکسر ناکام جوبائیڈن داخلی محاذ پر بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں جو بائیڈن کا گراف تیزی سے گر رہا ہے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی کو شکست یقینی نظر آرہی ہے جو ڈیموکریٹک کے لئے انتہائی شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔

    مہنگائی اور تیل کی قیمتوں کے اندرون ملک اور عالمی سطح پر کم کرنے کے لئے امریکہ کو سعودی عرب کی مدد ناگزیر ہے۔ امریکی صدر نے انتخابی مہم میں سعودی عرب کو ترک صحافی جمال خشوگی قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اچھوت ملک قرار دیا تھا لیکن روس یوکرین جنگ اور امریکی معیشت تیل کی قیمتوں کے اضافے نے امریکی صدر کو سعودی عرب کے دورے پر مجبور کر دیا۔

    عالمی سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے اور عالمی صورتحال کے تناظر میں جو بائیڈن کا دورہ سعودی عرب دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوگا مگر یہ بھی سچ ہے کہ بائیڈن اپنے دیرینہ عرب حلقوں کو منانے میں بہت دیر کر دی ہے جواب امریکہ کی بہ نسبت روس اور چین پر اعتماد کرنے لگے ہیں۔

    روس اور یوکرین کے تناظر میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں روس کے خلاف ہر اقدام پر خلیجی ملکوں نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اب خلیجی ملکوں کو امریکہ پر اعتبار نہیں رہا کیونکہ یوکرین جنگ کے بعد امریکی ساکھ میں گراوٹ اور روس کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے ایسے میں جوبائیڈن کا دورہ مشرق وسطیٰ انتہائی تاخیر سے کی گئی ایک سعی لاحاصل کے سوا کچھ نہیں ہے۔

  • بشریٰ بی بی اور ڈاکٹر ارسلان کی خفیہ گفتگو،کیا کال ریکارڈ کرنا درست ہے؟

    بشریٰ بی بی اور ڈاکٹر ارسلان کی خفیہ گفتگو،کیا کال ریکارڈ کرنا درست ہے؟

    بشریٰ بی بی اور ڈاکٹر ارسلان کی خفیہ گفتگو،کیا کال ریکارڈ کرنا درست ہے؟

  • مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ؟؟؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ؟؟؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ؟؟؟ تجزیہ :شہزاد قریشی
    سابق وزیراعظم عمران خان کا نعرہ ’’ہم کوئی غلام ہیں ‘‘پر غور و فکر کیا اور اس کے بعد اپنے اوپر اور قوم پر مسلط جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں، نام نہاد قومی رہنمائوں پر تو غور کرنے کے بعد یہ خیال آیا کہ ہم بحیثیت قوم آزاد کب تھے؟ جس قوم پر غیر ملکی آقائوں کی جگہ ان کے اپنے آقا مسلط ہو جائیں اس قوم کی آزادی ختم ہو جاتی ہے ۔سالوں سے اس ملک کے آقا اس ملک کو اپنی میراث اور اس قوم کو اپنی رعایا سمجھتے ہیں۔ کراچی جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا رہا وہاں پر مسلط پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی شاندار کارکردگی کا نظارہ نجی ٹی وی چینلز نے دکھایا کیا ہی منظر تھا ۔دل ہلا دینے والے واقعات ،پورا شہر پانی میں ڈوبا تھا اور رعایا پانی میں بہہ رہی تھی ۔عوام صبر کریں ،پیپلزپارٹی آمدہ قومی انتخابات میں وزارت عظمیٰ کی بھی امیدوار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ناکام پاکستان بطور ریاست نہیں اور نہ ہی یہ قوم ہے ناکام ہمارے نام نہاد سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے اس کامیاب ملک اور قوم دونوں کو ناکام بنا دیا۔

    مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہو چکا ہے وزیر خزانہ کسی بھی ملک کے لئے بڑا اہم عہدہ ہوتا ہے پٹرول ڈیزل اور بجلی گیس وغیرہ کے نرخوں میں جو اضٗافہ ہوا ہے اس نے تو مہنگائی میں مزید اضافہ کر دیا ہے وزیر خزانہ نے پٹرول ڈیزل میں اضافہ کر کے عوام پر جو حملہ کیا ہے ایسا تو کوئی دشمن بھی نہیں کرتا انہوں نے مار کر دھوپ میں ڈال دیا ہے عمران خان کے دور حکومت میں مہنگائی تھی موجودہ وزیر خزانہ نے تو حد عبور کر دی ہے یہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے موجودہ وزیر خزانہ وزارت خزانہ کے منصب پر نہ ہوتے تو اچھا تھا۔

    اس وقت قوم جن اداروں پر فخر کرتی ہے وہ عدلیہ، میڈیا، ملکی بقا اور سلامتی کے ادارے ہیں انتظامیہ کا حال تو یوں ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ جانبداری میڈیا کے لئے زہر قاتل ہے میڈیا جب جانبدار ہوتا ہے تو وہ ختم ہو جاتا ہے پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا عوام الفاظ کو دیکھتے اور انہی الفاظ سے اس کی قدر و قیمت کا فیصلہ کرتے ہیں موجودہ حالات میں میڈیا کو قومی فریضہ ادا کرنا ہوگا۔ ہمارے سیاستدانوں نے ملک و قوم کو گوناگوں مسائل کے طوفان میں غرق کر دیا ہے اسے پانی اور سائے سے محروم کسی ریگستان میں پھینک دیا ہے عمران حکومت آج کے بڑھتے ہوئے مسائل کی بھی ذمہ دار ہے اور آج کے حکمران بھی ۔ سیاستدان عیش کر رہا ہے اور قوم سسک رہی ہے ۔ موجودہ مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ؟؟؟

  • سیاست میں نظریات دفن ہو چکے،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست میں نظریات دفن ہو چکے،تجزیہ، شہزاد قریشی

    گزشتہ روز سابق وزیراعظم عمران خان نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مجھے پتہ ہے کس طرح یہ سازش ہوئی کون کون سازش میں ملوث ہے ۔ مجھے کچھ ہوا تو ویڈیو سب کو بے نقاب کر دے گی۔ دیوار سے لگایا تو سب بتا دوں گا۔ خان صاحب شاید کسی آنے والے انقلاب کی باتیں کر رہے ہیں تادم تحریر وہ ڈراتے ہیں لیکن وہ کس کو ڈرا رہے ہیں یہ پتہ نہیں چل سکا۔ ہر سمت پھیلی ہوئی اخلاقی تباہی کو دیکھ کر کوئی انقلابی دور دور تک نظر نہیں آتا خان صاحب کے ارد گرد بھی ایسے ہی لوگ دکھائی دے رہے ہیں جو انقلابی نہیں۔ عمران خان ملک کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں بھٹو کے عدالتی قتل سے لے کر نوازشریف کی وزارت عظمیٰ تک سفرنامے کا مطالعہ کریں ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں غور و فکر کریں اپنی سیاسی جماعت کی سربراہی کریں۔ باقی سیاسی جماعتوں کی طرح پارلیمنٹ کی بالادستی، قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگاتے رہیں۔ صاف و شفاف الیکشن کی صدائیں لگاتے رہیں۔ عوام کے دکھوں کا ذکر کرتے رہا کریں ہر الیکشن میں یہی عوام لائنوں میں کھڑے ہو کر ووٹ کا استعمال کرتی ہے۔ ملکی سیاست میں نظریات دفن ہو چکے نظریاتی سیاست کرنے والے سیاستدان فانی دنیا سے رخصت ہو گئے یقین نہیں آتا تو بھٹو کا عدالتی قتل جو ایک زخم، خلش اور درد بن کر عوام کے دلوں اور دماغوں میں اتر گیا تھا

    پیپلزپارٹی کی رگوں میں طویل عرصے تک دوڑتا رہا آج بھٹو کی میراث پر قابض پارٹی کی قیادت اس سے کسی خاندانی رشتے کی دعویدار تو ہو سکتی ہے بھٹو کی تصویر چھاپ کر اور بھٹو خاندان کی قربانی کے مرثیے پڑھ کر مفادات دولت و طاقت کی اندھی ہوس کے بازار میں بھٹو کے نام کو نیلام کیا جا رہا ہے۔ بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بدترین دشمنوں نے بھی کرپشن کا الزام لگانے کی کبھی جرات نہیں ہوئی۔ نوازشریف کو تین بار اقتدار سے الگ کر دیا گیا خاندان کو جلاوطن کر دیا گیا طیارہ اغوا اور نہ جانے کون کون سے مقدمات بنائے گئے۔ نوازشریف کی آنکھوں کے سامنے بیٹی کو پکڑ کر جیلوں میں بند کر دیا گیا۔ نوازشریف اور ان کی بیٹی کو نااہل کر دیا گیا آج بھی نوازشریف لندن میں اپنے بیٹوں کے پاس ہیں جس طرح بھٹو پر جب زوال آیا تو بڑے بڑے نامور سیاستدانوں نے پذیری ٹولے کی طرح آنکھیں پھیر لیں بھٹو کو اکیلا چھوڑ دیا اسی طرح نوازشریف کی جماعت میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں۔ عمران خان ملکی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں پارلیمنٹ ہائوس کا رخ کریں اپوزیشن کریں اقتدار کے مزے وہ لوٹ چکے اب اپوزیشن کا کردار ادا کریں کے پی کے آزاد کشمیر کے دورے کریں۔ ملک میں معاشی بحران ہے قرضوں پر چل رہا ہے کبھی کبھی آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے خلاف بیان دیا کریں۔

  • بھارتی سازشیں

    بھارتی سازشیں

    خطے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت سے علاقائی استحکام داؤ پر لگا ہوا ہے۔ بھارت چین اور پاکستان پر قابو پانے کے لیے اپنی فوجی طاقت کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔سٹریٹجک مقاصد کی تکمیل کے لیے سری لنکا اور بھوٹان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے بعد، ہندوستان اب مالدیپ کی اسٹریٹجک حمایت کے لیے کوشش کر رہا ہے۔چھوٹا جزیرہ ملک مالدیپ چین اور بھارت دونوں کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس کے پاس کچھ اسٹریٹجک راستے ہیں۔خطے میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک مقابلے کے بدلے، ہندوستان نے اپنی زمینی افواج کو نیپال میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مالدیپ کی موجودہ بھارت نواز حکومت وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا نے بھارتی تجویز کو گرین سگنل دے دیا ہے۔ اگر یہ بھارتی تجویز عملی شکل اختیار کر لیتی ہے تو اس سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ اور سٹریٹجک مقابلہ شروع ہو جائے گا۔ اس کے علاقائی امن پر بھی شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر دیکھا جائے، تو کسی اور خودمختار ملک میں زمینی افواج کی تعیناتی بین الاقوامی معاہدوں، کنونشنز اور علاقائی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    بدقسمتی سے بھارت سٹریٹجک مقابلے کے لیے کھلے عام ایسا کر رہا ہے جس سے علاقائی امن خطرے میں پڑ رہا ہے۔ مالدیپ کی حکومت میں صرف چند لوگ ہی اس قدم کی حمایت کر رہے ہیں۔دوسری جانب قانون سازوں اور عوام کی اکثریت نے بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ یہاں تک کہ مالدیپ کے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے حال ہی میں بھوٹان حکومت کے ہندوستانی فوج کو فری ہینڈ دینے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔اس کے علاوہ مالدیپ کے سابق صدر عبداللہ یامین نے بھی اپنی سیاسی واپسی اور ہندوستان کی جانب سے دھمکیوں کے خلاف ناراضگی کا اعلان کیا ہے۔ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملک میں بڑھتے ہوئے ہندوستانی اثر کو کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ملکی سیاست میں دو سابق اعلیٰ سیاست دانوں کی سرگرمی اور بھارتی جارحانہ انداز کے خلاف بیانات نے بھی بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں افراتفری پیدا کر دی ہے۔مالدیپ کے سیاست دانوں کی جانب سے بھارتی اقدام کی مزاحمت کے اعلان نے بھارتی پالیسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جو پہلے ہی بحر ہند میں چین سے مقابلے کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

    مودی-شاہ-دوول کی تینوں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے دیگر آپشنز بھی تلاش کر رہے ہیں ۔اسی طرح یہ بھی واضح رہے کہ کئی دہائیوں کے قریبی تعلقات کے باوجود مالدیپ کے سابق صدر عبداللہ یامین بھارت کے ساتھ تمام دفاعی معاہدوں کو ختم کرنے کے حق میں ہیں۔انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ہندوستان نے اپنے جزیرے والے ملک میں اپنے فوجی انفراسٹرکچر میں بہت اضافہ کیا ہے جس کی موجودہ حکومت تردید کرتی ہے۔ بدعنوانی کے الزام میں عہدے سے ہٹائے جانے والے اور زیر حراست رہنے والے سابق صدر کے مطالبات کو مالدیپ کے عوام نے سراہا ۔ان کی ترقی پسند پارٹی کے اجلاسوں میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت ان کی بیانات کی تائید بھی کی۔ لوگ ان کی پارٹی پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ممکنہ بھارتی قبضے کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کرے۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی نہ صرف اس کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ مالدیپ کی ترقی میں بھی رکاوٹ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بھارتی فوج کو اس سال کے آخر تک یہاں سے واپس بلا لیا جائے۔ مالدیپ میں ہندوستانی فوج کی موجودگی دیگر طاقتوں کو خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی ترغیب دے گی۔اسی طرح مالدیپ بحر ہند میں اپنے اہداف کے حصول میں ہندوستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بڑھتے ہوئے بھارت مخالف جذبات، جنہیں اب ایک مضبوط سیاسی آواز مل چکی ہے، اس کے مقاصد کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ اگر سابق صدر کو اگلے عام انتخابات میں سیاسی کامیابی ملتی ہے تو یہ بھارتی پالیسی سازوں کے لیے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔اب وہ سازگار پالیسیوں اور اس کے اسٹریٹجک مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مالدیپ کے بھارت نواز سیاست دانوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔اپنے پڑوسیوں جیسے نیپال، بھوٹان اور سری لنکا تک پہنچ کر، بھارت کے اقدامات خطے میں اپنے اسٹریٹجک محور کو بڑھانے کے لیے چین کی نام نہاد سٹرنگ آف پرل حکمت عملی کے مترادف ہیں۔ لیکن بھارت کے ارادے گھناؤنے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کسی دوسرے آزاد/خودمختار ملک میں اپنی فوج پر حملہ یا تعینات نہیں کر سکتا۔ جہاں تک چائنیز سٹرنگ آف پرلز کی حکمت عملی کا تعلق ہے، بیجنگ چھوٹی قوموں کو ان کے اقتصادی ماڈل اور ریاستی انفراسٹرکچر کی ترقی میں مدد کر رہا ہے۔ اس نے انہیں معاشی ترقی کے حصول میں مدد فراہم کی اور انہیں معاشی مدد فراہم کی۔حال ہی میں چین نے سری لنکا، بنگلہ دیش، مالدیپ اور نیپال کی مدد کی۔

    اسی طرح وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے وسیع تر علاقائی تعاون کا خواہاں ہے۔ چین اور پاکستان دونوں نے خطے کی اقتصادی ترقی کے لیے علاقائی اور غیر علاقائی طاقتوں کو سی پیک کا حصہ بننے کی پیشکش کی ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ CPEC کا واحد مقصد وسیع تر اقتصادی انضمام اور علاقائی تعاون ہے۔ہندوستانی معاملے میں چیزیں مختلف ہیں اور چینی ماڈل کے برعکس ہیں۔ ہندوستان چھوٹی قوموں کی اقتصادی ترقی کے خواہاں نہیں ہے۔ وہ خطے میں مواقع کی تلاش میں ہے جو خالصتاً اس کے سٹریٹجک حریف چین اور پاکستان کو روکنے سے متعلق ہیں۔ لہٰذا، بھارتی عزائم پورے علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں اور بین الاقوامی توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر امریکہ اور مغرب روس کو پیشہ ورانہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں تو انہیں بھارتی جارحانہ اسٹریٹجک ڈیزائن کی مذمت بھی کرنی چاہیے۔ بھارتی جارحانہ اقدامات نیپال کی خودمختاری کے لیے بھی براہ راست خطرہ ہیں۔ عالمی برادری کو اس بار آگے آنا چاہیے

    تحریر: ملک ابرار

  • امن مذاکرات کے سامنے ہی آ سکتا ہے

    امن مذاکرات کے سامنے ہی آ سکتا ہے

    جنوبی ایشیا آٹھ ریاستوں پر مشتمل ہے جن میں دو جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستیں اور بڑے فریق بھارت اور پاکستان شامل ہیں۔ دو پڑوسی ریاستوں کے درمیان بہت سے مسائل اور وجوہات کی بنا پر کبھی بھی خوشگوار تعلقات نہیں رہے اور تنازعہ کشمیر ان میں سے ایک ہے۔یہ تنازعہ جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تین میں سے دو بڑی جنگوں اور متعدد جھڑپوں کا سبب بنا ہے۔

    خشکی سے گھرا ہوا کشمیر کا علاقہ برصغیر پاک و ہند کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے۔ کشمیر کو دنیا کی سب سے خوبصورت جگہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ شمال مشرق میں (چین کے دونوں حصے) سنکیانگ اور تبت کے اویگور خود مختار علاقے سے گھرا ہوا ہے، جنوب میں ہندوستان کی ریاستوں ہماچل پردیش اور پنجاب سے متصل ہے۔ شمال مغرب میں افغانستان اور مغرب میں پاکستان ہے۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان متنازعہ علاقہ بن گیا۔کشمیر کو اپنی بے مثال خوبصورتی کی وجہ سے زمین پر جنت سمجھا جاتا ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد سے، یہ علاقہ ہندوستان کی ظالم حکمرانی میں جنت کا درجہ کھو چکا ہے۔

    تاریخی طور پر، 27 اکتوبر 1947 کو، ہندوستانی حکومت نے برصغیر کی تقسیم کے فارمولے کو عملی طور پر مسترد کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو ضم کر دیا۔ تقسیم کے فارمولے میں ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ یا تو پاکستان، ہندوستان میں شامل ہو جائیں یا آزاد رہیں۔کشمیری آبادی اور ان کی حقیقی قیادت، مثال کے طور پر سردار محمد ابراہیم خان، موجودہ مذہبی، ثقافتی، اقتصادی اور جغرافیائی لحاظ کے پیش نظر پاکستان سے الحاق کرنا چاہتے تھے۔ تاہم بھارت نے ہندو مہاراجہ ہری سنگھ کے دستخط شدہ الحاق کے کے بہانے جموں و کشمیر پر زبردستی قبضہ کر لیا۔لہٰذا، ہندوستانی فوج کی غیر قانونی مداخلت اور پیش قدمی کو روکنے کے لیے، پاکستان نے بھی کشمیر میں فوجیں بھیجیں اور وسیع علاقے کو آزاد کرایا جسے اب آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 1948/1949 میں قراردادیں منظور کیں، جن میں کہا گیا کہ اس کی نگرانی میں آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کا انعقاد کیا جائے تاکہ جموں و کشمیر کے لوگ حق خود ارادیت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔لیکن بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے جو انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مطابق دیا گیا تھا۔ بنیادی طور پر بھارت کی کشمیر پالیسی پوری تاریخ میں یکساں رہی۔ تاہم، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بینر تلے ہندو قوم پرستوں نے زیادہ بے رحمانہ قتل و غارت کی اور منظم نسل کشی میں ملوث رہے۔تاہم، 5 اگست 2019 کو، مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نہ صرف آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا، جس کے تحت مقامی مقننہ مالیات، دفاع، خارجہ امور، اور مواصلات کے علاوہ اپنے قوانین بنا سکتی ہے، بلکہ اس نے آرٹیکل 35A کو بھی منسوخ کر دیا۔ ، جس نے قانون ساز اسمبلی کو مستقل رہائشیوں کی تعریف کرنے اور انہیں خصوصی مراعات پیش کرنے کا اختیار دیا جیسے زمین کے خصوصی حقوق۔مودی نے سابقہ ​​ریاست جموں، کشمیر اور لداخ کے تین مختلف ڈویژنوں کو بھی دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیا۔اس کے بعد، ان تبدیلیوں کا ہندوستانیوں نے خیرمقدم کیا جنہوں نے کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ کے طور پر دیکھا اور محسوس کیا کہ اس کے ساتھ خصوصی نہیں بلکہ مساوی سلوک ہونا چاہیے۔ تاہم کشمیریوں نے اسے وادی کی آبادی کو مسلم اکثریت سے غیر کشمیری اور غیر مسلم میں تبدیل کرنے کے خطرے کے طور محسوس کیا۔بی جے پی وہیں نہیں رکی۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ فیصلہ کشمیری عوام کی طرف سے شدید ردعمل کا باعث بنے گا، مودی حکومت نے 180,000 تازہ فوجیوں کو کشمیر روانہ کیا۔ یہ فوجی وہاں پہلے سے تعینات 700,000 فوجیوں کے علاوہ تھے۔ کرفیو نافذ کر دیا گیا اور ہر قسم کے مواصلات کا مکمل بلیک آؤٹ نافذ کر دیا گیا جو 6 ماہ کے وقفے کے بعد جاری رہا اور بعد میں کوویڈ 19 کا بہانہ بنا کر جاری رہا

    مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔ اس لیے جنوبی ایشیا کے خطے میں امن و سکون کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ہونا چاہیے۔ ہندوستان اور پاکستان کشمیر پر تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور اس سے دونوں ریاستوں کے درمیان عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان نے جوہری ہتھیار حاصل کیے تھے۔ غیر ریاستی عناصر بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور دونوں ریاستوں کے درمیان انتشار اور عدم اعتماد کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ وہاں کے باشندوں کے درمیان انسانیت سوز مصائب ایک الگ بحث ہے جس کی وجہ سے ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور لاکھوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔

    تنازعہ نے دونوں ریاستوں کے معاشی وسائل کو ضائع کر دیا ہے جسے غربت کے خاتمے، تعلیم کی بہتری اور افراد کی سماجی بہتری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔پاکستان اپنے ہمسایوں سمیت تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، پاکستان تمام مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل چاہتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں رہے گا۔ 2 اپریل 2022 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسلام آباد سیکیورٹی ڈائیلاگ میں خطاب کرتے ہوئے خطے میں امن پر زور دیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ ماضی کو دفن کرکے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے لیکن پاکستان کے قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ تمام مسائل کے حل کے لیے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعمیری بات چیت اور ترقی پسند مذاکرات خوش آئند اقدامات ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کے ساتھ تمام تنازعات بشمول کشمیر کو بات چیت اور سفارت کاری سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ ہمارے خطے سے آگ کے شعلے دور رہیں‘۔

  • کب تک عوام کو فریب دیا جاتا رہے گا ,تجزیہ ,شہزاد قریشی

    کب تک عوام کو فریب دیا جاتا رہے گا ,تجزیہ ,شہزاد قریشی

    آج سیاست میں ایسے لوگ آگئے ہیں جو بے باک نہیں مُنہ پھٹ ہیں اور سیاسی بدتمیز ہیں جس سے سیاسی زندگی بدصورت ہو گئی ہے۔ ملکی سیاست نظریاتی لوگوں میں رائج رہی جو اپنے نظریات کے فروغ کے لیے سیاست کرتے رہے جس طرح روز مرہ کھانے پینے کی چیزوں ادویات میں ملاوٹ ہو چکی ہے اسی طرح آج کی سیاست مین بھی ملاوٹ نمایاں نظر آتی ہے اور سیاست میں ملاوٹ جمہوریت کے لیے خطرہ ثابت ہوتی ہے ۔ اور پھر جس ملک میں اقتدار کا نشہ سر چل کر بولے وہاں جمہوریت کیسی پارلیمنٹ کی بالادستی ،قانون اور آئین کی بالادستی کیسی ۔ قانون کی حکمرانی صر ف نعروں تک محدود ہو کر رہ جائے ۔ وہاں لینڈ مافیا ۔ قبضہ مافیا کاراج ہوتا ہے جس ملک میں بڑے بڑے پراپرٹی ٹائیکتوں حکومتوں کی تبدیلی کے فیصلے کریں سیاسی جماعتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں وہاں جمہوریت کیسی پارلیمنٹ کی بالا دستی کیسی ؟ پھر ایسے میں عوام کی اکثریت صدا بلند کرتی ہے کہ ہمارا قصور کیا ہے ؟ کاروباری فریاد کرتا نظر آتا ہے کہ وہ تباہ ہو رہا ہے ۔ وہاں کاروبار بند ک ارخانے بند ہوتے ہیں دکانوں کے سامنے عوام سینہ کوبی کرتے نظر آتے ہیں ۔

    ملک عالمی مالیاتی اداروں کا محتاج بناد یا گیا مزدور بھوکے مررہے ہیں ۔ بجلی نایاب۔ بجلی ،گیس ،پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ۔ تخت نشین عوام کا خون چو رہے ہیں آخر یہ ملک میں کیا ہورہا ہے عوام کے ساتھ کیا ہو رہا ہے حکومت کس کی ہے کون چلا رہا ہے کہاں سے فیصلے ہورہے ہیں۔ آج جو کچھ ملک اور عوام کے ساتھ ہو رہا ہے کیا یہ جمہوریت ہے؟ کیا یہ جمہوریت کے ثمرات ہیں؟ جس ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے سودے بازیاں ہوں وہاں جمہوریت کیسی ؟اقتدار کے سوداگروں نے ملک اور عوام دونوں کو عالمی دنیا میں بدنام کرکے رکھ دیا آج عالمی دنیا میں ہمارے ملک اور ہماری جمہوریت کا مذا ق اڑایا جارہا ہے ۔ صوبہ سندھ مین توبلدیاتی انتخابات نے ہلا کر رکھ دیا ہے اور الیکشن کمیشن پر سوالیہ نشان ہے جو کچھ بلدیاتی انتخابات میں اور جو نجی ٹیلی ویژن پر دکھایا کیا آمدہ قومی انتخابات بھی ایسے ہی ہوں گے کیا الیکشن کمیشن لااینڈر آرڈر کے ادارے اسی طرح بے بس ہوں گے۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟معیشت کا بحران سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔ عوام پر ہر روز مہنگائی کے حملے ہو رہے ہیں۔ سیاستدانوں کی آپس کی لڑائیاں ایک بہت بڑا فریب ہے ۔ آخر کب تک عوام کو فریب دیا جاتا رہے گا۔ کوئی مظلوم بن کر عوامی حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے تو کوئی نجات دہندہا ور ہیرو بن کر مقبول ہونا چاہتا ہے ۔ انہیں عوام کے دکھوں سے کوئی غرض نہیں۔