Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • وہی خدا ہے .تحریر۔۔ محمد کامران

    وہی خدا ہے .تحریر۔۔ محمد کامران

    ذرے زرے میں اس کے جلوے جو ہر قدم پر عیاں ہوتے ہیں، مگر افسوس دنیا کی لذت نے ہمیں سب بھلا دیا کہ سرسوں کے دانے کی بساط ہی کیا ! مگر تم دیکھتے نہیں کیا؟

    کہ وہ زمین کے سخت پردوں کو چیرتے ہوئے نرم و نازک سبز پتی کی شکل میں اپنا جلوہ بکھیرتے اور اپنے وجود کے زریعے اس کی وحدانیت کا یقین دلاتے ہیں۔ شبنم کی بوندیں جو تمہاری نظر میں کچھ نہیں انکی قدر نوزائیدہ نونہالوں سے پوچھو جنکی پیاس بجھا کر انہیں جوان اور تندرست کر دیتی ہیں۔سورج کی روشن چمکتی کرنیں جو صرف تم اپنی خوشی کا زریعہ سمجھتے ہوئے بے دردی سے ہر روز پاوں تلے کچلتے ہو وہ اپنی تیز و گرم مگر مہربان گود میں لے کر پرورش کرتیں ہیں اور ہر روز ایک نئی زندگی عطا کرتی ہیں۔ دیکھو ! ہوا کے شگفتہ جھونکے اس نازک ترین پودے کو جھولا جھلاتے جیسے ایک ماں انہیں اپنی گود میں لیے تحفظ کا احساس دلاتے ہوئے جوان کر رہی ہو۔

    کبھی غور کیا ؟ کہ وہ نازک پودے کس سلیقے، ترتیب اور نظم و ضبط کے ساتھ پرورش کرتے ہوئے تمہاری ہی نظروں کے سامنے تندو مند اور مظبوط پودے بن جاتے ہیں۔
    اتنے بہت سے اسباب جنکو کسی طرح بھی ہم اتفاق نہیں کہ سکتے اس معمولی بے ضرر اور باریک دانے کو مظبوط پودہ بنانے میں کار فرما رہتے اور وہ ماحول فراہم کیا جو آپ اور میں نہیں دے سکتے۔
    ہاں تو کہو ! کوئی تو ہے جسکے حکم سے سب ہوا۔۔۔
    مزہب کی اصطلاح میں اس قوت کا نام "خدا ” ہے۔ وہی خدا ہے ” وہی خدا ہے”
    جسکا وجود وحدانیت زرے زرے سے عیاں ہے، جسے دل سے تسلیم کرنے میں ہی ہم سب کی بقا ، کامیابی اور بخشش ہے۔

    تحریر۔۔ محمد کامران
    @kaamm_ii

  • حضرت عمرؓ .تحریر مدثر محمود

    حضرت عمرؓ .تحریر مدثر محمود

    مرادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تاریخِ اسلام کی وہ نامور شخصیت ہیں جو جرأت و بہادری کی وجہ سے قبولِ اسلام سے قبل ہی شہرت کے حامل تھے۔ امام ترمذی نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی اسی جرأت کی وجہ سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بحضورِ الہٰ التجاء کی: اے اللہ! عمر بن خطاب اور عمرو بن ہشام (ابوجہل) میں سے اپنے پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا فرما۔ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کی دعا قبول کرتے ہوئے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعہ اسلام کو عزت دی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام سے قبل مسلمان مشرکینِ قریش سے چھپ کر عبادات کیا کرتے تھے لیکن جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ آج سے مسلمان عبادات چھپ کر نہیں بلکہ علی الاعلان کیا کریں گے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:

    ’’بے شک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام ہمارے لیے فتح تھی۔ خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے ہم نے مشرکین کا مقابلہ کیا اور خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھنا شروع کیں۔‘‘

    (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم: 8820)

    اُس دن سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا لقب فاروق رکھ دیا گیا۔ یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا-

  • بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں باپ کا کردار! .تحریر: فیضان علی

    بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں باپ کا کردار! .تحریر: فیضان علی

    بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں باپ کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے جو کے پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے
    ابتدائی عمر سے لے کر اسے شعور آجانے تک یہ والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسے کیسا ماحول فراہم کر رہے ہیں کیونکہ وہ جس ماحول میں رہے گا اور وہاں کے لوگوں کے درمیان رہے گا جو انہیں کرتا دیکھے گا وہی اس کورے کاغذ یا سلیٹ جیسے دماغ میں نقش ہوجائے گا

    (ماں کی گود بچے کی پہلی درست گاہ ہوتی ہے)

    تعلیم و تربیت انسانی روح کی بہت اہم غذا ہیں
    جب بچہ دنیا میں آ کر اپنی آنکھیں کھولتا ہے تو اس کے کانوں میں اذان دی جاتی ہے گویا اسی وقت اس کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہو جاتا ہے ماہرین کا کہنا ہے بچے کا دماغ کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے بچہ جس ماحول میں پیدا ہوتا ہے بہت جلد وہ اسی ماحول کا اثر پکڑ لیتا ہے
    اپ جیسا ماحول بچوں کو مہیا کریں گے وہ اسی ماحول کی تعلیم حاصل کریں گا اور اسی رنگ میں ڈھل جائیں گے یہ بات ہم پر لازم ہے کے ہم اپنے بچوں کو کس قسم کا ماحول اور کس قسم کی تعلیم اپنے بچوں کو دیتے ہیں
    ابتدائی عمر سے لے کر انہیں شعور آجانے تک یہ والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ بچوں کو ایک اچھا ماحول دیں اور ان کی اچھی تربیت کریں بچے اپنے ماحول میں اردگرد کے لوگوں کو جو کرتا دیکھیں گے جن کے ساتھ نشت و برخاست ہوں گا انہی چیزوں کو انہی کے آداب طور طریقے اپنے دماغ میں نقوش کرتے جائیں گے اور یہ ماحول کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے
    سب سے بڑھ کر ماں باپ کی محبت بچوں کے لیے، بچوں کی تعلیم و تربیت میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے آپ اپنے بچوں کے ساتھ جس شفقت اور محبت کے ساتھ پیش آئیں گے اپ کے بچے بھی اسی طرح ایک میٹھی تربیت حاصل کریں گے دنیا میں محبت اور شفقت سے بڑھ کر کچھ نہیں یہی شفقت بچوں کو ایک اچھا انسان بھی بناتی ہے

    اب جب بچہ اسکول جانے لائق ہوجاتا ہے تو لازماً اسے ادب و آداب و اخلاقیات اور حسنِ عمل کی بنیادی تربیت فراہم کی جائے والدین کو اپنے گھروں میں مذہبی اور روحانی ماحول تشکیل دینے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے انہیں جھوٹ، بدزبانی اور لڑائی جھگڑے سے کنارہ کشی اختیار کرلینی چاہیے بچوں کو کھیلنے کے لیے کون سا کھلونا دینا ہے یہ فیصلہ کرتے ہوئے والدین کو بہت بڑی احتیاط برتنی چاہیے
    گھر کا ماحول سب سے اہم ترین عنصر ہے جو بچے کی زندگی پر گہرا اثر مرتب کرتا ہے ایک بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی لمحات سے ہی اپنے والدین پر منحصر ہوتا ہے جو اس کی تمام ضروریات کو پورا کرتے ہیں والدین بچوں کے پہلے معلمین ہوتے ہیں اور ان کے لیے رول ماڈل کا کردار ادا کرتے ہیں
    بہت سارے بچے خوش قسمت ہوتے ہیں کے جن کو گھر کا ماحول والدین کی محبت اور شفقت سے بھرپور ایک اعلیٰ سازگار ماحول ملتا ہے اور یہ بچوں کی کامیابی کا بہت اہم ضامن ہے
    اگر والدین یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں کتنے کامیاب ہیں تو اس کا اندازہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کو دیکھ کر لگا سکتے ہیں اگرچہ بچے اخلاقی طور پر اچھے ہیں تو یہ والدین کی اعلیٰ کامیابی ہے یوں بچے کامیابی اور ناکامی پرکھنے کا حقیقی پیمانہ ہیں

    بچوں کو چند احتیاطی تدابیر کے ساتھ والدین کے زیرِنگرانی سوشل میڈیا کا استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
    جب بچہ 10، 12 سال کا ہو جاتا ہے تو والدین کی ذمہ داریوں میں بھی تبدیلی آ جانی چاہیے اس عمر میں بچہ اسکول میں محلے میں اور معاشرے میں دوستیاں قائم کرنے لگتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اس عمر میں بچوں کے دوست بن جائیں اور ان کے لیے صحیح راستے کی رہنمائی کریں۔
    بچوں کی یہ عمر ہر لحاظ سے خوب پھلنے پھولنے کی ہوتی ہے اس عمر میں بچوں کی نقل و حرکات پہ کڑھی نظر رکھنی چاہیے بچوں کو گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے ساتھ اپنے ساتھ نماز ادا کرنے کا پابند بھی بنائیں اور معاشرے میں بڑھتے کچھ جرائم اور تشدد کے واقعات کے بارے میں بڑی احتیاط کے ساتھ بچوں کو انکے بارے میں آگاہ کیا جائے،
    ایک سنہری کہاوت ہے کے گھر میں بچوں کے اچھے دوست بن جائیں تو بچے باہر کی بری دوستی سے بچ جاتے ہیں سادہ الفاظ میں یہ کہوں گا کے بچوں کو گھر میں اچھا دوستانہ ماحول مہیا کریں تاکے اپ کے بچے بُری صحبت سے بیچیں
    اولاد ﷲ تعالٰی کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس کا تحفظ کرنا والدین کی زمہ داری ہے
    اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ، ‘اے ایمان والو تم اپنے آپ کو اور اپنے گهر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندهن آدمی اور پتهر ہیں۔‘ (66:6)

  • پاکستان اور اس کا مستقبل،تحریر: اسعد گل اعوان

    پاکستان اور اس کا مستقبل،تحریر: اسعد گل اعوان

    پاکستان کا مستقبل سیاسی، مزہبی اور دفاعی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان دنیا میں ایٹمی قوت سے جانا جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت عالمی طاقتوں کیلئے بہت اہم ہے چاہے وہ روس ہو، چائنا ہو، امریکہ ہو یا پھر عرب ممالک۔ پاکستان کئی سالوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے جس کے نتیجہ میں ستر ہزار سے زائد عام شہری اور افواج پاکستان کے جوان اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کر چکے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ جیسے کہ پہلے کہہ چکا پاکستان کا مستقبل سیاسی،مزہبی اور دفاعی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے تو آئیں ان تینوں پہلوؤں کا الگ سے جائزہ لیتے ہیں۔
    1- سیاسی پہلو:
    پاکستان نے مارشل لاء میں کافی وقت سامنا کیا کیونکہ ہم پر ہمیشہ سے نا اہل حکمران مسلط رہےجنھوں نے صرف اپنے زاتی کاروبار کو آگے بڑھایا۔ مارشل لاء کی وجہ سے پاکستان کو کافی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود پاکستان معاشی طور پر مستحکم رہا۔ پہلے مارشل لاء میں بھی پاکستان معاشی طور پر اتنا مضبوط تھا کہ دوسرے ملکوں کو قرضے فراہم کرتا تھا۔ لیکن مفاد پرست ٹولے کے آنے کے بعد پاکستان کو کشکول اٹھانا پڑا۔ اور پھر اس کرپٹ ٹولی کی آپس کی باریوں کی بدولت پاکستان قرضوں میں ڈوب گیا۔پاکستان کو بہت عرصے بعد ایک ایسی قیادت نصیب ہوئی جس نے اپنے زاتی کاروبار کے بجائے پاکستان کو اہمیت دی اور مزید دیوالیہ ہونے سے بچایا جو اس کرپٹ ٹولے کو ہضم نہ ہوا۔ پاکستان اس وقت عمران خان کی قیادت میں مسحکم کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ اور انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب ٹیکسٹائل سے لے کر آئی ٹی تک پاکستان دنیا میں اپنا نام بنائے گا۔
    2-مزہبی پہلو:
    پاکستان کے وجود میں دین اسلام خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا 27 رمضان کو وجود میں آنا پھر کلمے کی بنیاد پر نام رکھا جانا اللہ کی طرف سے خاص تحفہ ہے۔ ماضی میں پاکستان نے فرقہ ورانہ دہشت گردی کا بھی سامنا کیا۔ حکومت وقت کی پابندیوں اور اقدام کی وجہ سے پاکستان کافی حد تک فرقہ ورانہ دہشت گردی کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ دین اسلام کی سر بلندی اور حضور پاک ﷺ کی ناموس کیلئے جس قدر مضبوط آواز عمران خان نے اٹھائی اس پر عمران خان کی تعریف نہ کرنا نا انصافی ہو گی۔سیاسی پہلو کے ساتھ مزہبی پہلو سے بھی عمران خان پاکستان کے امیج کو بہتر کی طرف لے جا رہے۔

    3- دفاعی پہلو:
    پاکستان دفاعی لحاظ سے کافی مضبوط ملک ہے۔ جس کے پاس جدید ترین ہتھیار، بہترین صلاحیت کی حامل افواج اور دنیا کی اعلی ترین انٹیلیجنس ایجنسی ہے۔ پاکستان کافی عرصے سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے چاہے وہ ٹی ٹی پی ہو، مشرکی اور مغربی بارڈر ہو، بھارتی ایجنسی را کے دہشت گرد ہوں یا بھارت کی حمایت یافتہ بی ایل اے کے دہشت گرد ہوں۔ افواج پاکستان بہت سے عالمی ساشوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ معرض وجود سے لے کر آج تک پاکستان بہت سے ملکوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے لیکن با صلاحیت اور جنگی حالات گزری ہوئی تجربہ کار فوج کے بدولت پاکستان آج بھی قائم ہے اور انشاءاللہ پاکستان کو ختم کرنے کا خواب دشمنان پاکستان کیلئے شرمندہ تعبیر ہوگا ۔

  • جذبہِ ایثار، تحریر:بشارت محمود رانا

    جذبہِ ایثار، تحریر:بشارت محمود رانا

    ہر سال ۱۰ ذوالحج کو تمام دنیا کے مسلمان حضرت ابراہیم (ع) کی اللہ تعالی کے حکم پہ عمل کرتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کی اُس عظیم قربانی کی سُنت پہ عمل کرتے ہوئے جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔

    ہزاروں سال پہلے پیش آنے والا یہ واقعہ اللہ تعالی نے ہمیں قرآنِ مجید میں ہو بہو بیان کر کے ہم مسلمانوں تک پہنچایا ہے۔ تاکہ ہم بھی اِس سے سبق سیکھ سکیں۔

    جِس طرح حضرت ابراہیم (ع) نے اپنے اکلوتے بیٹے جو کہ انہیں اور حضرت حاجرہ (ع) کو اللہ تعالی نے تب عطا کیا جب کہ یہ دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ تو عُمر کے اس آخری حصے میں اللہ تعالی کی طرف سے ملی ہوئی اس اولاد کو اللہ تعالی کے حکم کے مطابق جب حضرت ابراہیم (ع) کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم ملا، تو حضرت ابراہیم (ع) نے تب نہ تو کوئی حیلا اور نہ کوئی بہانہ گھڑنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس بارے میں کسی قسم کی اللہ تعالی سے کوئی شکایت کی۔

    اور دوسری جانب حضرت اسماعیل (ع) جو تب تک ایک چھوٹے سے بچے تھے، انھوں نے بھی اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے اس حکم کو سن کے لمحہ بھر کے لئے بھی نہ ڈرے، نہ ہچکچائے اور نہ کسی قسم کی کمزوری دکھائی۔

    اور یہاں تک کہ کبھی حضرت ابراہیم (ع) کو اور کبھی اُن کے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو بار بار شیطان مردود بھی آ کے ورغلاتا و پھسلاتا رہا کہ کہیں کسی طرح کوئی کمزوری دِکھا کے اللہ تعالی کے حکم کی نافرمانی کر سکیں، لیکن وہ مردود ناکام ہی رہا۔

    پھر جب حضرت ابراہیم (ع) اللہ تعالی کے اس حکم کے سامنے سر تسلیمِ خم کرتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو قربان کرنے کے دوران چھری کو چلا رہے تھے، تب پھر اللہ تعالی نے چھری کو کاٹنے سے منع فرما دیا اور حضرت ابراہیم (ع) کی اس عظیم قربانی کو قبول کرتے ہوئے ایک دُنبہ بھیجا اور حضرت ابراہیم (ع) کو اس دُنبے کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔

    اسی عظیم قربانی کے بدلے میں حضرت ابراہیم کو اللہ تعالی کی طرف سے خلیل اللہ (جس کے معنی اللہ کا دوست کے ہیں) کا لقب دیا گیا اور اُن کے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو اللہ تعالی کی طرف سے ذبیح اللہ (جس کے معنی ﷲ کی راہ میں قربان ہونے والا کے ہیں) کا لقب دیا گیا۔

    تو اس عظیم اور بے مثال قربانی کو سنت کے طور پر نبھاتے ہوئے تمام دنیا کے مسلمان۱۰ ذوالحج کو عید الاضحی کے موقع پر جسے عید ایثار یا پھر قربانی کی عید بھی کہا جاتا ہے، اس پہ تمام صاحبِ استطاعت لوگ جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کر کے مناتے ہیں

    اور اس قربانی کے گوشت کو ہم اللہ تعالی اور اپنے پیارے نبی و رسول جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دیے گئے احکامات کے مطابق اپنے عزیز و اقارب، رشتے داروں، محلے داروں، اپنے ارد گرد موجود غریب و غرباء اور اُن لوگوں میں بانٹتے ہیں جو قربانی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔

    اگر دیکھا جائے تو اس قربانی کے دن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، جیساکہ اللہ تعالی کے احکامات کو ہمیں ہر صورت ماننا چاہیے اور شیطان مردود کے ہاتھوں کھلونا نہیں بننا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے یا جن سے منع فرمایا ہے اُن میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔

    اور دوسرا یہ کہ شیطان مردود جو کہ انسان کا کُھلا دشمن ہے، وہ طرح طرح کے طریقوں سے ہمیں ورغلا اور پِھسلا کر گناہوں کی طرف دھکیلنے اور اللہ تعالی کے احکامات سے رو گردانی کروانے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمیں کبھی بھی اُس شیطان مردود کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہیے اور اللہ تعالی کے احکامات کو اپنی اپنی زندگیوں میں لازم و ملزوم سمجھ کر شامل کرنا چاہیے

    اور تیسرا یہ کہ ہمیں نہ صرف اس عید ایثار کے موقعے پہ ہمارے ارد گرد موجود غریب و غربا، محلہ داروں، رشتہ داروں اور اُن لوگوں کو جو سفید پوش ہیں، کبھی نہیں بھولنا چاہیے اور اپنی استطاعت میں رہتے ہوئے ان کی ہر قسم کی مدد کو تیار رہنا چاہیے جس سے ایک بہترین اور ہمدرد معاشرہ بھی قائم ہو سکتا ہے جو ایک دوسرے کا ہر اچھے و برے وقت میں خیال رکھتا ہو۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو اس عید ایثار کی عظیم قربانی سے سبق سیکھنے، اس پہ عمل کرنے اور اس کی برکات کو سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

    واخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

  • "پانی کی قدر و قیمت” .تحریر:نـــازش احمــــد

    "پانی کی قدر و قیمت” .تحریر:نـــازش احمــــد

    پانی کی قدر و قمیت پانی اللہ
    ﷻکی بہت بڑی نعمت ہے، انسان کے بےشمار معاملات پانی سے حل ہوتے ہیں انسان کو قدم قدم پر پانی کی ضرورت پڑتی ہے،پانی کے بغیر انسان کے لئے شاید زندہ رہنا بھی ناممکن ہوجائے ،اور زندگی کے معاملات حل کرنا دشوار ہوجائیں ،تومعلوم ہوا کہ پانی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور وطن عزیز پاکستان کو اللہ ﷻنے اس نعمت سے خوب نوازا ہے ،پانی وافر مقدار میں موجود ہے لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم اس پانی کی حفاظت کریں  پانی کو ضائع نہ کریں، جتنی بڑی یہ نعمت ہے وہی حیثیت اس پانی کو دی جائے اور اس پانی کی حفاظت کی جائے اور اسے احتیاط سے استعمال کیا جائے مگر بدقسمتی کے ساتھ قدرت کے اس حسین تحفے کاضیاع بیدردی سے جاری ہے،چھوٹی چھوٹی احتیاطوں سے اس انمول تحفے کی بچت کی جا سکتی ہے۔ہم اپنے روزمرہ کے کاموں میں بہت سا پانی ضائع کردیتے ہیں۔جس کا ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا۔ اپنے روزمرہ کے کاموں میں اگرہم تھوڑی سی احتیاط کرلیں توبڑی مقدارمیں پانی بچاسکتے ہیں۔ ٹوتھ برش کرنے کے دوران اگرکھلا نل ہم بندکردیں ،تواس سے ہم 1 منٹ میں کئی لٹرتک پانی کی بچت کرسکتے ہیں۔ نہاتے وقت اگرآپ صابن لگانے کے دوران نل یا شاوربندکردیں، توپانی کی بڑی مقدارضائع ہونے سے بچ سکتی ہے ،

    اس کے علاوہ اگر ممکن ھو تو نہاتے وقت شاور کی بجائے، بالٹی کا استعمال کیا جائے۔صابن لگاتے اوربال شیمپوکرتے وقت شاوربند کرنے کی صورت میں کافی پانی بچایا جا سکتا ہے ۔اگر اپنی گاڑی کوپانی کے پائپ کی بجائے، پانی بھری بالٹی سے دھوئیں ،تونہ صرف بہت زیادہ پانی کی بچت ہوگی، بلکہ آپ کاگیراج بھی کم گندہ ہوگا۔ پانی میں دھونے کے بجائے، اپنی سبزیاں کٹورے میں دھوئیں۔پانی اورتوانائی دونوں بچاتے ہوئے، سبزیاں کم سے کم پانی میں پکائیں۔ دھونے والے برتنوں پر،پہلے سے پانی بہاناضروری نہیں۔اگربرتنوں پرسے بچے ہوئے کھانے کوہاتھ سے کھرچ دیں گے توکافی پانی بچ سکتاہے۔ واشنگ مشین کوکپڑوں سے بھرکردھونا زیادہ بہترہے۔کیوں کہ اگرمشین کوکم کپڑوں کیساتھ دھویا جائیگا توپانی کیساتھ ساتھ توانائی بھی زیادہ خرچ ہوگی۔ ان سب کے علاوہ گھرمیں ٹپکتے، نلوں اورپانی رستے دیگرآلات کی مرمت سے پانی کی بڑی مقداربچائی جاسکتی ہے۔جبکہ بارش کاپانی محفوظ کرکے بھی کئی طرح سے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی کے مسائل کے بارے میں عوام میں شعور پیدا کیا جائے! اللہ ﷻہم سب کو اپنی نعمتوں کی قدر کرنے کی توفیق دے اور نعمتوں کی ناقدری کرنے اور اس کو ضائع کرنے سے بچائے۔ آمین ثم آمین!
    @itx_Nazish
    نـــازش احمــــد

  • زندگی کا راز اور قانون کشش ،تحریر: آمنہ بخاری

    زندگی کا راز اور قانون کشش ،تحریر: آمنہ بخاری

    لوگ جو چاہتے ہیں وہ ان کے پاس نہیں ہے اور اس کی وجہ صرف ایک ہے کیونکہ وہ زیادہ تر اس بارے میں سوچتے ہیں جو وہ نہیں چاہتے بجائے اس کے جو وہ چاہتے ہیں زندگی کا عظیم راز "قانون کشش” میں رکھا گیا ہے اس قانون کے تحت جو کچھ آپ سوچتے ہیں آپ اس چیز کو اپنی طرف کھینچتے ہیں قانون کشش در حقیقت آپکے خیالات کا ردِ عمل ہے اور یہ قانون بالکل قانون ثقل کی طرح کام کرتا ہے یہ غیر جانبدار اور بے لاگ ہے اور یہ فطرت کا قانون ہے یہ آپکو وہ کچھ دیتا ہے جس کے بارے میں آپ سوچتے ہیں ایک انسان کی حقیقت اسکی سوچ میں موجود ہوتی ہے آپ اگر لگاتار سوچتے ہیں کہ میں بحث نہیں کرنا چاہتا تو قانون کشش کے مطابق آپ زیادہ بحث کرنا چاہتے ہیں

    یہ ساری کائنات خیالات کی آماجگاہ ہے ہر انسان اپنی زندگی قانون کشش و خیالات کے ذریعے تخلیق کر رہا ہے یہ قانون ہر شخص کی زندگی میں ہمیشہ سے کام کر رہا ہے جب کوئی انسان اس قانون سے باخبر ہو جاتا ہے تو اس بات سے بھی باخبر ہو جاتا ہے کہ آپ ناقابل یقین قوت کے مالک ہیں جو آپ کو آپکی زندگی کے وجود کے بارے میں سوچنے کے قابل بناتی ہے آپ جو سوچ رہے ہیں وہ آپ کے مستقبل کی تخلیق کر رہا ہے آپ کو زندگی میں جو کچھ چاہیے آپ کو اپنی ذات کو صرف اس بات کا یقین دلانا ہے کہ وہ چیز آپکی ہو چکی ہے پھر فطرت کا قانون دیکھیں وہ کیسے راستے بنا کر اس چیز کو آپ تک پہنچائے گی آپ کی زندگی تب بدلتی ہے جب آپ اپنی سوچ کا دائرہ کار بدل لیتے ہیں

    "رونڈ ابرن” کی ایک کتاب "دی سیکرٹ” کے مطابق خیالات مقناطیسی ہیں اور خیالات کی ایک فریکوئنسی ہے جیسے ہی آپ اپنے خیالات سوچتے ہیں یہ کائنات میں بھیجے جاتے ہیں اور یہ ایک ہی فریکوئنسی کی مشابہت والی چیزوں کو اپنی طرف کشش کرتے ہیں ہر بھیجی گئی چیز اپنے منبع کی طرف واپس لوٹتی ہےخیالات مثبت اور منفی ہوتے ہیں کوئی دوسرا آپکو نہیں بتا سکتا کہ آپ اچھا محسوس کر رہے ہیں یا برا آپ کے خیالات ہی آپ کے احساسات(جذبات) کا باعث بنتے ہیں اگر آپ برا محسوس کر رہے ہیں تو یہ آپ کے خیالات ہیں جو آپ کو برا محسوس کروا رہے ہیں جب کبھی آپ کو برے احساسات محسوس ہوں تو فوراً اپنی فریکوئنسی کو بدلیں اور اس کے لیے مسلمان ہونے کے ناطے آپ اللّہ کا ذکر کرنا شروع کر دیں اپنی خوشگوار یادوں کی طرف خود کو راغب کریں اور ایسا کرنے کے لیے آپکو صرف دو سے تین منٹ درکار ہیں۔

    پاکستان جیسے ممالک پر کئی دہائیوں سےمنفی سوچ کے بادل چھائے ہوئے ہیں جب پاکستانی ناامیدی کا کفر ترک کر دیں گے اچھی سوچ اور امید سے سر اٹھا کر جینا سیکھیں گے مثبت رویوں کو اپنائیں گےتو یہ مایوسی کے بادل ایسے چھٹ جائیں گےجیسے کبھی تھےہی نہیں "ڈاکٹر جان ہیلگن کے مطابق اندرونی خوشیاں در حقیقت کامیابی کا راز ہیں”
    خوشیاں آپکی سوچ کے تابع ہیں سوچ بدلیں اور دیکھیں آپ کی زندگی کیسے بدلتی ہے۔
    قلمکار: آمنہ بخاری

  • آنلائن بزنس میں خواتین کا کردار،تحریر:طاہرہ عتیق

    آنلائن بزنس میں خواتین کا کردار،تحریر:طاہرہ عتیق

    آنلائن بزنس میں خواتین کا کردار،تحریر:طاہرہ عتیق

    آج کل کے حالات اور مہنگائی کو مد نظر رکھتے ہوئے خواتین کو چاہیے کہ وہ بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے گھر میں آمدنی میں اضافے کا سبب بنیں ،یہ کوئی اتنی انہونی بات نہیں. ہم خواتین اگر کہیں جاب کرنا چاہیں تو انکو اسکول جوائن کرنے ٹیوشن پڑھانے یا بینکنگ میں سیکٹر میں جاب حاصل کرنے کیلئے مشورہ دیا جاتا ہے جس سے خواتین ایک محدود آمدنی کما سکتی ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسکول جاب میں ٹائم تو کم ہے مگر تنخواہ کے نام پر چند ہزار پکڑا دئیے جاتے ہیں جبکہ بینکنگ سیکٹر میں کام تو خوب لیا جاتا ہے مگر ترقی کی راہ میں روذے اٹکانا معمول ہے
    وہ کیا ایسے کام ہیں جو خواتین اپنی مرضی سے اپنی آسانی کےساتھ کرسکتی ہیں

    دیکھا جائے تو آجکل کا سوشل میڈیا بہت طاقتور حیثیت رکھتا ہے. فیس بک انسٹا گرام ٹویٹر پر خواتین کی بڑی تعداد نظر آتی ہے فیس بک اور انسٹا گرام پر تو باقاعدہ پیجز بنا کر خواتین چھوٹے پیمانے پر بزنس چلا رہی ہیں کپڑوں جوتوں جیولری میک اپ کھلونے اور بہت سی ایسی اشیاء ہیں جو یہ خواتین نہایت مناسب دام پر فروخت کر کے اپنا خرچہ پورا کررہی ہیں.یہ خواتین یہ کام گھر سے کرتی ہیں جس سے یہ اپنے گھر کی زمہ داری پوری کرنے کے ساتھ اپنے فری ٹائم. کو استعمال کر کے آمدنی بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں اس مد میں وہ ایک اچھا پرافٹ کما لیتی ہیں یہ ایک آسان زریعہ آمدنی ہے جس کے زریعے آپ کو گھر بیٹھے معیاری اشیاء فراہم کردی جاتی اور بازاروں کی خواری سے بھی بچا جاسکتا ہے
    مگر افسوس کا مقام ہے کہ ان خواتین کیلئے حکومت کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھا سکی جس طرح آنلائن خرید و فروخت میں اضافہ ہوا ہے حکومت کو چاہیے کہ ان خواتین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو باقاعدہ ایک پلیٹ فارم منظم کر کے دے جس میں ایسی خواتین کے مسائل کا تدراک کیا جائے بلکہ انکی حوصلہ افزائی بھی کی جائے.

  • ‏جھوٹ بولنا کتنا بڑا گناہ ؟تحریر یاسمین ارشد

    ‏جھوٹ بولنا کتنا بڑا گناہ ؟تحریر یاسمین ارشد

    خود اعتمادی کی زبردست کمی کا شکار رھنا ہر وقت محسوس ھوتی ھوئی دل کی بے سکونی جھوٹ کے نتیجے پہ ملنے والی قدرت کی طرف سے خود کار سسٹم کے تحت روحانی جسمانی ذہنی بیماریاں اگر جھوٹ پکڑا جائے تو دوسروں کا ہمیشہ کیلئے آپکی ذات پر سے اعتبار ختم ہو جاتا ہے جھوٹ بولنے والا ہمیشہ کم ظرفی کا شکار رھتا ھے کیونکہ اسکی سوچ مثبت سوچ سوچنے کی اہلیت سے خالی ھو جاتی ھے جھوٹ بولنے والے کی سوچ ایک کے بعد دوسرا فراڈ کرنے کا موقع ڈھونڈتی ھے یعنی ایسا انسان چاہ کر بھی کسی کے ساتھ بھی مخلص نہیں بن سکتا جھوٹ آپ سے اپکے مخلص سچے محبت کرنے والے دوستوں رشتوں کو چھین لیتا ھے کیونکہ مخلص لوگ جب آپکے لفظوں اور عمل میں جھوٹ اور دغا بازی دیکھتے ہیں تو نفرت کرنے لگتے ہیں کیونکہ انکا مان ٹوٹ جاتا ھے جھوٹ کی عادت بڑھتی بڑھتی ہر صورت منافقت تک پہنچ جاتی ھے یعنی یہ چھوٹی سی معصوم سی عادت سمجھی جانے والی گندی عادت بڑے بڑے گناہوں کو مقناطیس کی طاقت کے برابر اپنی طرف کھینچتی ھے سائنس کے پجاری بھی ذرا کان کھولیں سائنسی مشین کے مطابق جھوٹ ایسے ہارمونز اور کیمیکل جنریٹ کرتا ھے جو کینسر ، موٹاپے ، ڈپریشن ، مستقبل کا خوف ، نشے کی عادت ، جوا کھیلنے کی عادت ، بدکرداری ، اپنے روز مرہ کے کسی بھی کام میں پوری توجہ کا فقدان ، ماضی کے غم میں مستقل رھنے والے پیٹرن بنا دیتا ھے ایسا اس لئے ھوتا ھے کہ جب ہم جھوٹ بولتے ہیں اس وقت ہمارے نیورانز مطلب ذہنی مشینری قدرتی طریقہ کار سے ہٹ کر غلط رستے پر سوار ھو جاتی ھے جبکہ انسانی ذہن اور جسم قدرتی خودکار بنیادوں پہ چلنے والی مشین ھے

    قدرت نے دماغی سسٹم کی سیٹنگ اپنے معیار پہ رکھی ھے لیکن جب انسان اس معیاری سسٹم کو اپنے بے حودہ معیار پہ سیٹ کرتا ھے اس وقت نیورانز کی آمد و رفت میں اچانک ایکسیڈنٹ ھونا شروع ھو جاتے ہیں آگے آپ خود سمجھدار ہیں سسٹم کے اشاروں پہ چلنے والی ٹریفک پرسکون چلتی رھتی ھے جبکہ اپنی مرضی سے چلنے والی اشارہ توڑنے والی بے ہنگم گاڑیوں کی ٹکر کس انداز میں ھو سکتی ھے جسم کا کتنا نقصان ھو سکتا ھے اسکا اندازہ اپ لگا سکتے ہیں یقینا آپ جان چکے کہ گھر بیٹھے روحانی ، جسمانی اور ذہنی صحت کا اتنا بڑا نقصان کوئی جاہل گوار ہی کرے گا لیکن یقینا آپکی ذات اور جہالت میں زمین آسمان کا فاصلہ موجود ھے یہ میں جانتی ھوں جھوٹ چھوٹی موٹی بیماری نہیں ھے جھوٹ وہاں ملتا ھے جہاں انسان اندر سے کمزور ھو اپنے خیالات ، احساسات ، جزبات اپنی خوشیوں اپنے دکھوں کو بیان کرنے کی ہمت نہ رکھتا ھو ڈرا ھوا ھو جھوٹا انسان جھوٹ کی مدد سے رشتہ تو بنا لیتا ھے مگر اسے نبھانے کی اہلیت نہیں رکھتا کیونکہ جھوٹ اپنے ساتھ 10 اخلاقی بیماریاں بھی اسی سوچ میں پیدا کر دیتا ھے جو کسی رشتے کو مسمار کرنے کیلئے کافی ھوتی ہیں

    چنانچہ قرآن کریم میں ایک جگہ ہےکہ”تم بت پرستی کی گندگی اورجھوٹی بات کہنے سے بچو”(حج)اور رسول اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ’تین چیزیں منافق کی نشانیوں میں سے ہے، جب بات کرے توجھوٹ بولے،کسی سے کوئی وعدہ کرے تو اسکی خلاف ورزی کرے،اورامانت میں خیانت کرے'(بخاری)اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ اگرچہ وہ روزہ رکھے،نماز پڑھے اور لوگ اسکو مسلمان سمجھیں مگر پھر بھی وہ منافق ہے،غور کرنے کی بات ہے کہ جھوٹے لوگوں کے لئے کتنی سخت وعیدیں آئی ہوئی ہیں،کیا ہمارا کوئی بھی کام آج جھوٹ سے خالی ہوتا ہے؟ہرگھنٹہ اور ہر منٹ بلکہ ہرہر سکنڈ پر آج لوگ جھوٹ بول رہے ہیں،پھر کیا اس جھوٹ میں ہم شامل نہیں؟کیا ہمیں اسکا محاسبہ نہیں کرناچاہئے؟ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’اگر کوئی مذاق کے طور پر بھی جھوٹ بولے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے”ایک اور حدیث میں ہے کہ’ایسے جھوٹ بولنے والوں کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کو ہنسانےکے لئے جھوٹ بولتا ہے،اسکے لئے ہلاکت ہے اسکے لئے تباہی ہے'(ترمذی)ان احادیث کی روشنی میں ہمیں غور کرنا چاہئے کہ کیا ہماری مجلسیں، محفلیں،ہوٹلیں، بازار،دکان اور ہمارے گھر وغیرہ اس سے محفوظ ہیں؟نہیں تو آخر اسکی وجہ کیا ہے؟جھوٹ بولنا بہت بڑاگناہ ہے مگر دو متحارب فریقوں یا دو لوگوں کےدرمیان مصالحت کرا دینا اور اسکے لئے محض صلح جوئی، فتنہ و فساد کے خاتمے کی نیت سے کچھ جھوٹی باتیں کہہ دینا جائز ہے اور اسکی اجازت دی گئی ہے،ایسا شخص جھوٹا اور گناہ گار نہیں کہلائے گا،مگر یہ ضروری ہے کہ وہ باتیں خیرو بھلائی کی ہی ہوں،جو ایک دوسرے کی طرف منسوب کرکے پہنچائی جائیں،ان میں فسق وشرک نہ ہو،بخاری کی حدیث میں ہے”وہ آدمی جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے پھر خیر کی باتیں پہنچاتا ہے یا اچھی باتیں کہتا ہے”اور مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ صرف تین مواقع ایسے ہیں جہاں جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئ ہے،ایک شوہر بیوی میں اختلاف کو دورکرنے کے لئے،دوسرے مسلمانوں میں باہمی تعلقات کی اصلاح کے لئے اور تیسرا میدان جنگ میں،

    علماء نے لکھا ہے کہ ان کے علاوہ اور کسی جگہ یاکسی مو قع پر کذب بیانی اورجھوٹ بولنا ہرگز درست نہیں،لیکن ہاں مجبوری کی حالت اس سے مستثنی ہے،اگر انسان کو مجبور کردیا جائے اور اسے اپنی جان کا خدشہ لاحق ہو تو ایسی صورت میں جھوٹ بولکر جان بچانے کی رخصت دی گئی ہے،اس صورت میں وہ گنہگار نہیں ہوگا،جھوٹ ایسی منحوس چیز ہے کہ اسکے بولنے والے کے پاس سے فرشتے بھی دور ہٹ جاتےہیں،ایک حدیث میں ہے کہ”جب بندہ جھوٹ بولتاہے تو فرشتے اسکی بدبو کی وجہ سے ایک میل دور چلے جاتےہیں”(ترمذی)ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ سے پوچھا گیا،کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں،پھرسوال کیا گیا کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے؟فرمایا ہاں،پھر پوچھا گیا کیامومن جھوٹا ہوسکتا ہے؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں،دیکھا آپ نے اس حدیث میں مسلمان بزدل بھی ہوسکتا ہے،بخیل بھی ہوسکتا ہے لیکن جھوٹا نہیں ہوسکتا،ہمارا حال یہ ہے کہ کوئی بھی کام ہمارے پاس جھوٹ کے بغیر نہیں ہوتا،پھر ہمارے حالات کیسے درست ہوں؟ایک دوسری حدیث میں آپ نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ’تم جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لےجاتا ہے اورگناہ جہنم کی طرف لےجاتا ہے،آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اورجھوٹ کے پھیرنے میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی کے نزدیک کذاب لکھ دیاجاتا ہے،دراصل جھوٹ ایسی بری صفت ہے جو کسی مسلمان کے شایان شان نہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جھوٹ بولنے سے احتیاط کریں اورہمیشہ سچ بات کہنے کی عادت ڈالیں،اپنے بچوں کے دلوں میں جھوٹ سے نفرت پیدا کریں،سچائی کی اہمیت اورمحبت اپنے بچوں کے دلوں میں ڈالیں اور یہ بتائیں کہ سچائی ہمیشہ نجات دلاتی ہے اور جھوٹ انسان کو ہلاک وبرباد کر دیتا ہے،بلکہ ایک حدیث میں ہےکہ آپ ﷺ نے فرمایا’جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دے،اگرچہ وہ باطل ہے تواللہ تعالی اسکے لئے جنت کے صحن میں گھر تعمیر فرمائیں گے'(ترمذی)لہذاٰ کوشش کریں کہ ہم ہرجگہ سچی بات کریں اورسچ کواپنی زندگی میں داخل کریں،تب ہی ایک صالح اورپاکیزہ معاشرہ وجود میں آسکتا ہے جو وقت کی بھی اہم ضرورت اور انسانی تقاضا بھی ہے اللہ تعالیٰ ہم سبکو جھوٹ سے بچائے اورہمیشہ سچ بولنے، سچی بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بھائیو اور بہنو یاد رکھنا ایک سچ سو سکھ لاتا ھے جبکہ ایک جھوٹ آپکی ذات میں ہزار کھوٹ پیدا کرتا چلا جاتا ھے کیا فائدہ جھوٹ کا ، ، ، اور ، ، ، جھوٹے کے ساتھ کا ۔۔۔

    تحریر یاسمین ارشد
    twitter.com/IamYasminArshad
    @IamYasminArshad

  • ریڑھ کی ہڈی میں موجود ڈسک سے جڑے مسائل .تحریر: حسن قدرت

    ریڑھ کی ہڈی میں موجود ڈسک سے جڑے مسائل .تحریر: حسن قدرت

    ڈسک کیا ہے اور کیسے بنتی ہے؟ ریڑھ کی ہڈی میں چھوٹے چھوٹے جوڑ موجود ہوتے ہیں جنہیں ہم ورٹیبری کہتے ہیں کچھ جوڑ آپس میں جڑے ہیں کچھ میں اور کچھ میں سپیس ہے جنکے درمیان ایک لچکیلا مادہ ہوتا ہے جسے ہم ڈسک کہتے ہیں ہماری ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹل33 جوڑ ہیں جن میں 23 انٹرورٹیبرل ڈسک موجود ہیں جتنا انسان صحت مند ہوگا اس میں ڈسک اتنی زیادہ ہوگی اور اسی تناسب سے اسکی لمبائی ہوگی

    ڈسک کے اجزاء: ڈسک میں بنیادی طور پر کولیجن ہوتا ہے اور پروٹیوگلائیکینز (جو پانی کو اپنی طرف اٹریکٹ کرتے ہیں) یہی وجہ ہے کہ ایک صحت مند ڈسک کے نیوکلیس میں 90 فیصد پانی موجود ہوتا ہے

    ڈسک کیسے کام کرتی ہے : ڈسک ہمارے جوڑوں کو رگڑ سے بچاتی ہے ڈسک پانی جذب کرتی ہے اور فاسد مادے خارج کرتی ہے یعنی یہ ایک پراسس ہے جس میں انجذاب اور اخراج ایک ساتھ ایک ہی وقت میں ہوتا ہے یعنی پانی کا انجذاب اور فاسد مادوں کا اخراج اور اگر ایسا نہیں ہوتا ، ڈسک کو صحیح مقدار میں پانی نہیں ملتا تو ڈسک الٹا کام کرنے لگتی ہے یعنی پانی کو خارج کر کے فاسد مادے اکھٹے کرنے لگتی ہے

    ڈسک کیسے متاثر ہوتی ہے:ہماری روزمرہ کی سرگرمیوں کے دوران ڈسک بہت زیادہ کمپرس ہو جاتی ہے جب اس پہ دباؤ پڑتا ہے تو یہ پانی خارج کرتی ہے اور پوٹاشیئم اور سوڈیم کو جذب کرتی ہے (فاسد مادے) جسکی وجہ سے بیلنس خراب ہوتا ہے اور پانی کی کمی کی وجہ سے یہ کم ہو جاتی ہے ( اگر وقت پہ اسکا تدارک نہ کیا جائے تو یہ سپائنل کروز کو متاثر کرتی ہے جس سے پوسچر خطرناک حد تک خراب ہوجاتا ہے )

    وجوہات: اسکی وجوہات عمر کا بڑھنا ،پراپر نیوٹریشن کا نہ ہونا ،ڈایابٹیز،سموکنگ،اوورلوڈنگ،کوئی ماضی کی ڈسک انجری یا ایسا کام جس سے ڈسک بہت زیادہ موبائل ہو یا وائبریٹ ہو ہوسکتی ہیں (اگر آپ کو ڈسک کا کوئی مسئلہ ہے تو کوشش کریں کہ ایسا کام نہ کریں جس سے ڈسک پہ زور آئے یا شاک لگے)

    صبح اٹھ کر ریڑھ کی ہڈی کے سارے جوڑوں میں درد کیوں محسوس ہوتا ہے؟ ایک نارمل بندہ جب صبح اٹھتا ہے تو سپائن کی جو ہائٹ ہے سارا دن وہی رہتی ہے مگر وہ بندہ جسکی ڈسک کا مسئلہ ہے اس میں سپائن کی ہائٹ سارا دن گزرنے کے بعد 2 سینٹی میٹر تک کم ہو جاتی ہے اور عموماً صبح اٹھنے کے 30 منٹ بعد ہی ریڑھ کی ہڈی میں سے 54 فیصد پانی خارج ہو جاتا ہے اسلیے بہت ممکن ہے کہ اسے اٹھتے ساتھ ہی ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف ہو جسکی وجہ یہ ہے اٹھتے ساتھ ہی پانی کا اخراج ڈسک سے شروع ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ڈسک انجری کے چانسز صبح کے وقت زیادہ ہوتے ہیں

    جب ہم رات کو ریلکس ہو کر سوتے ہیں ،ڈسک سے پریشر ختم ہوتا ہے وہ پانی کو جلدی سے جذب کرتی ہے اسلیے جب ہم رات کو نیند سے اٹھ کر پانی پیتے ہیں تو اس سے ڈسک کی لمبائی بڑھتی ہے (ڈسک ایک لچکیلا مادہ ہے جو جوڑوں کو آپس میں رگڑ سے بچاتا ہے )

    ڈسک کی صحت اور علاج:ڈسک کی صحت کے ضروری ہے کہ آپ اپنی خوراک کا خیال رکھیں پراپر جوسز لیں (کوشش کریں گھر پہ بنائیں)،فروٹس،کچی سبزیاں، دودھ کی مناسب مقدار اور ایسی غذائیں جن میں آئرن شامل ہو زیادہ پانی پئیں اسکا علاج مخصوص پوسچرل پوزیشنز سے کیا جاتا ہے جوگنگ سے بھی اور رننگ سے بھی اسکے ساتھ مخصوص ورزش بتائی جاتی ہے جس سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے کسی اچھے فزیو تھراپسٹ کو اپنی مکمل ہسڑی دیں اور پھر ان سے مشورہ کریں

    @HusnHere