Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • ‏نظریہ پاکستان – لا الہ الا اللہ . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ‏نظریہ پاکستان – لا الہ الا اللہ . تحریر : سید غازی علی زیدی

    برصغیر پرپہلے مسلمان کے قدم رکھتے ہی نظریہ پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔ مسلم و ہندو ایک نہیں دو الگ الگ اقوام؛ یہ تفریق جنس، رنگ یا نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس نظریہ کی بنیاد پر ہے جس سے زیادہ مضبوط بنیاد روئے زمیں پر کوئی اور ہو نہیں سکتی اور وہ ہے لا الہ الا اللہ۔ یہی کلمہ نظریہ پاکستان کی روح ہے اور مسلمانان عالم کا ایمان بھی۔ اسی نظریہ کی بنیاد پر مملکت پاکستان معرض وجود میں آئی اور اسی عقیدہ پر تاقیامت قائم دائم رہے گی ان شاءاللہ۔

    تقسیم ہند سے پہلے برصغیر میں مختلف قومیتیں آباد تھیں جن میں ہندوؤں کی غالب اکثریت تھی۔ جب تک ہندوستان پر مسلمانوں کی حکمرانی رہی کبھی کوئی مسئلہ نہ ہوا کیونکہ دین اسلام رعایا کو مکمل مذہبی و معاشرتی آزادی دیتا۔ مسلم بادشاہت کے مختلف ادوار میں ہندو وزیروں مشیروں تک کے عہدے پر فائز تھے۔ انہیں مذہب و سماج کے معاملات میں پوری آزادی و خودمختاری حاصل تھی۔ لیکن انگریزوں کے برصغیر پر قبضہ کرتے ساتھ ہی ہندوؤں کی صدیوں پرانی چھپی مسلم دشمنی کھل کر سامنے آ گئی۔ ہندو بنیے کی ازلی فطرت "بغل میں چھری منہ میں رام رام” پورے طور پر آشکار ہو گئی۔ تہذیب، طرز بودو باش، نظریاتی فکر، کردار و عبادات‘ طرز معاشرت و معیشت غرض ہر شعبہ میں اختلاف کھل کر سامنے آ گئے۔ صدیوں سے ایک ساتھ رہتی دو الگ قومیتوں میں کوئی ایک چیز بھی مشترک نہ رہی۔
     اس نازک صورتحال میں کچھ مسلم اکابر و رہبران نے مسلمانوں کے حقوق حاصل کرنے کی ٹھانی کیونکہ صاف نظر آ رہا تھا کہ ہندو بنیا نے اپنی مکاری و عیاری کے زریعے انگریز سرکار کو شیشے میں اتار لیا ہے اور تاج برطانیہ ہندو کو برصغیر کا اگلا حاکم تصور کر چکا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی مربوط و منظم لائحہ عمل نہ اپنایا گیا تو مسلمانان برصغیر ہندوؤں کے غلام بن کر رہ جائیں گے۔ اس لئے عافیت اسی میں ہے کہ مسلمانوں کا علیحدہ وطن ہو جہاں پر وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق آزادی سے زندگی بسرکرسکیں۔ مفکر پاکستان علامہ اقبال کے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے مسلمانان ہند نے قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر سرکردہ رہنماؤں کی زیر قیادت انتھک جدوجہد کی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لیکن یہ تقسیم ہندوؤں نے کبھی دل سے قبول نہیں کی۔

    قائد اعظم کی بہترین حکمت عملی کی بدولت انگریز اور ہندو نے مسلمانوں کے الگ ملک کے مطالبے کو تسلیم تو کر لیا لیکن ساتھ ہی تقسیم کے دوران منافرت، منافقت، اور تشدد آمیز رویے سے وہ بیج بویا جس کا زہریلا پھل آج بھی بھارتی مسلمان کھانے پر مجبور ہیں۔ کئی بتوں کے پجاری منہ میں کئی زبانیں اور سینے میں بغض و نفرت بھرا دل رکھتے ہیں۔ وہ متعصب قوم جس کی بنیاد ہی چھوت چھات اور ذات پات پر رکھی گئی ہو وہ بھلا کیسے ایک خدا کو ماننے والوں کو برداشت کر سکتے؟ مکاری میں ید طولیٰ رکھنے والے، جن کی پوری سیاست جھوٹ ‘ فراڈ‘ وعدہ خلافی اور دھوکا دہی کی بنیاد پر قائم ہے وہ بے غرض کیسے کسی اور قوم کے ہمدرد ہو سکتے؟

     قائداعظم ؒ، ڈاکٹر علامہ اقبالؒ، نوابزادہ لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر، سرسید احمد خاں، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی جوہر اور دیگر رہنما و رہبر اگر اپنی دور اندیشی اور بصیرت افروزی کی بدولت آج کے ہندوتوا نظریے کو نہ جانچتے تو ہمارا حال بھی بھارتی و کشمیری مسلمانوں سے مختلف نہ ہوتا۔ جن کی نہ تو عزتیں محفوظ ہیں نہ جان۔ نہ مذہبی آزادی ہے اور نہ ہی کوئی معاشرتی مقام۔ گنتی کے چند مسلمان فنکار ہیں جن کو بھارت سیکولرازم کا جھوٹا چہرہ دنیا کو دکھانے کیلئے عزت دیتا اور وہ فنکار بھی ہندو سرکار کو خوش کرنے چکر میں آدھے تیتر اور آدھے بٹیر بن چکے ہیں۔ کبھی ہندو عورتوں سے شادی کرتے تو کبھی بتوں کو سجدہ کرتے۔ اس کے باوجود انتہا پسند ہندوؤں سے ان کو مسلسل خطرہ رہتا۔

    آئیے مل کر سجدہ شکر ادا کریں اور جدوجہد آزادی کے علمبرداروں کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کریں جن کی بدولت ہم آزاد مملکت کی آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔

    بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
    جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا

    @once_says

  • ایثار ایک نایاب صفت :تحریر  عینی سحر

    ایثار ایک نایاب صفت :تحریر عینی سحر

    اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا بھی ہے محنت و مشقت اور اپنے سکون آسائشوں اور خواہشوں کیلئے جدوجہد کرتا ہے لیکن ایثار اپنی ذات کی پس پشت ڈالتے ہوۓ دوسروں کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کا نام ہے ایک ایسی قربانی جو بے لوث ہوکر صرف کسی کی مدد کرنے کیلئے دی جاۓ

    معروف دانشور مرحوم اشفاق احمد فرماتے تھے ایثار یہ نہیں کے تم کسی کو کھانا کھلا دو بلکے ایثار یہ ہے کے جب تم کو خود بھی بہت بھوک لگی ہو اور تم وہ کھانا کسی ضرورتمند کو کھلا دو
    بقول انکے بابا جی فرماتے ہیں درد وہ ہوتا ہے جو ہمیں دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر ہو ورنہ اپنا درد تو جانوروں کو بھی محسوس ہوتا ہے
    ایثار میں قربانی پنہاں ہے کے انسان اپنی ضرورتوں کو فراموش کرکے دوسروں کی ضرورت کوپورا کرنے کو ترجیح دے تاکے مخلوق خدا کا بھلا ہوسکے
    ہمارے لیے ایثار کی سب سے بڑی مثال تو ہمارے والدین ہیں جو خود تکلیفیں اٹھا کر اپنی اولاد کو پالتے ہیں جنھیں یہ خواہش ہوتی ہے کے انکے بچوں کو کوئی کمی نہ ہو اچھا کھانا کھلانے سے لیکر کھلونوں تک اولاد کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں آجکل کے مہنگے تعلیمی نظام میں والدین خود کو محنت و مشقت میں ڈال کر اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو اچھے اور مہنگے سکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں ، کتابوں ، یونیفارم اور ٹیوشن تک ہر قسم کے اخراجات پورے کرنے کیلئے کمر بستہ رہتے ہیں
    والدین کے ایثار ہی کی یہ ایک مثال ہے کے عید پر اگر ماں باپ خود نئے کپڑے سلوا نہ سکیں پھر بھی وہ اپنے بچوں کیلئے ہر طرح کے جدید کپڑے اور جوتے خرید کر انھیں خوشیاں دینے کی کوشش کرتے ہیں

    دوسری جانب ہم فرمانبردار اولاد کے ایثار کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے جو جوان ہوکر اپنے والدین کاسہارا بنتے ہیں اور اپنی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر والدین کی خدمت میں کوتاہی نہیں کرتے

    ہماری اسلامی تاریخ ایثار کی مثالوں سے بھری پڑی ہے ، جن میں سے ایک مشہور جنگ کا واقعہ ہے جب کئی صحابی میدان جنگ میں زخمی تھے اور پانی مانگ رہے تھے ایسے میں ایک شخص پانی کی چھاگل لیے ایک زخمی کے پاس پہنچتا ہے تو قریب ہی ایک اور زخمی بھی کراہتے ہوۓ پانی مانگتا ہے پہلے صحابی نے کہا کے جاکر پہلے اسکوپانی دے دو ، وہ شخص اس کے پاس پہنچتا ہے تو اسکے پہلو میں بھی ایک زخمی پانی پانی پکارتا ہے تو وہ بھی کہتا ہے جاکر اسے پہلے پانی پلا دو ، جب وہ شخص اس آدمی کے پاس پہنچتا ہے تو وہ شہید ہو چکا ہوتا ہے وہ واپس پہلے والے کے پاس آتا ہے لیکن وہ بھی اللہ کو پیارے ہو چکے ہوتے ہیں ایسے میں وہ پہلے زخمی کے پاس پہنچتا ہے تو دیکھتا ہے وہ بھی شہید ہو چکے ہوتے ہیں

    ایثار و قربانی کی یہ ایک عظیم مثال ہے کے جان کنی کے عالم میں بھی ان عظیم ہستیوں نے اپنی ذات سے بڑھ کر دوسرے کی مدد کرنا چاہی ، ایسا حوصلہ ہمت اور رب کی خوشنودی کا جذبہ انتہائی عظیم ہے جو ہمارے لیے مشعل راہ ہے

    سورۃ الحشر ،آیت نمبر 9میں اللہ نے فرمایا ہے: ’’ وہ دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ خود فاقہ سے ہوں اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘
    بے شک ایسی قربانی سب سے بڑھ کر ہے جس میں انسان اپنی ذات کی بجاۓ دوسروں کی مدد کرنے کو ترجیج دے

    ہمارے معاشرے میں بے حسی کے ڈیرے ہیں جہاں جائیداد , مال و دولت کیلئے بھائی بھائی کی جان کا دشمن بنا بیٹھا ہے بہنوں کوانکے جائز ورثے سے محروم رکھا جارہا ہے ، پڑوسیوں کی خبر نہیں کے انکے گھر میں کھانا ہے یا فاقہ ہے ، دکھلاوے کی دوڑ میں ہم ایثار و قربانی کی روایتوں کو بھول چکے ہیں

    اس معاشرے کو مجموعی طور پر تنزلی سے نکالنے کیلئے ضروری ہے کے ہم اپنی اصلاح کریں ، خودغرضی لالچ جیسی مہلک اخلاقی بیماریوں سے نجات حاصل کر کے مخلوق خدا کی خدمت کرکے ہی ہم عظیم ہستیوں کی عظیم مثالوں کی پیروی کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں
    ایثار و قربانی مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں

  • اسلام آباد دریا جیسا: کیسے؟ تحریر:صوفیہ صدیقی

    اسلام آباد دریا جیسا: کیسے؟ تحریر:صوفیہ صدیقی

    پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہلے بھی ساون کی بارشوں میں بھگتا تھا، یہاں چھوٹے موٹے سیلاب تقریبا ہر سال ہی آتے ہیں۔ لیکن یہ سال تھوڑا مختلف ہے۔ اس سال اسلام آباد کے نشیبی اور ریہہ علاقوں میں نہیں بلکہ سیلابی پانی، شہر کے نئے بننے والے سیکٹرز میں آرہا ہے۔ اوپر سے غصب یہ کہ گزشتہ دس دونوں میں یہ دوسری بار ہوا ہے کہ اسلام آباد کا ایک نجی تعمیراتی سیکٹر ای گیارہ اور فیڈرل گورنمنٹ ھاوسئنگ سوسائٹی اور سی ڈی اے کے زیر انتظام بننے والا سیکٹر ڈی بارہ، میں سیلابی ریلہ آیا ہے۔ جس سے قیمتی جانوں اور لوگوں کے اثاثوں کو شدید پہنچا ہے۔

    مون سون کی بارشوں سے بہتا شہر اقتدار، یقینا بنانے والوں نے ایسا نہیں بنایا ہو گا نہ سوچا ہوگا۔ یہ شہر میں گزشتہ کئی سالوں سے اکثر بارش کی لپیٹ میں آتا ہے لیکن اس بار شاید انتظامیہ کی غفلت زیادہ ہے ۔

    ای 11 اور ڈی 12 کے علاقوں سے آج سوشل میڈیا کے ذریعے بے شمار ایسی ویڈیوز دیکھنے کو ملیں جو بتا رہی تھی کہ یہ اسلام آباد بہیں بلکہ کوئی بہتا ہوا دریا ہے۔
    سیلاب کا پانی بہہ رہا ہے اور گاڑیوں کو اپنے ساتھ لیے جا رہا ہے۔ ایسے لگتا ہے اگر اس شہر کا ایسے ہی رکھا جاتا رہا تو کہیں کوئی نیا دریا یہاں ہی نہ بن جائیں۔ ویسے انگریزی زبان میں شہری علاقوں میں آنے والے ایسے سیلابوں کے لیے” اربن فلڈنگ” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

    راولپنڈی کے رہنے والے اس سیلابی صورتحال سے اچھی طرح واقف ہیں۔ جبکہ اسلام آباد کے باسیوں کے لیے یہ ایک نئی نئی زحمت ہے۔ اور یقینا اس کی کچھ وجوہات ہیں۔
    ان کتابی باتوں میں ایک نظر ڈالتے ہیں جو شہر اقتدار میں بڑھنے کے ساتھ ساتھ نظر انداز کی جارہی ہیں۔

    گزشتہ کئی دہائیوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ، سیلاب خطے کے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ نقصان دہ خطرہ ہے ، جو کہ بارشوں کے ساتھ قدرتی توانائیوں کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں 1950 سے 2010 19 بڑے سیلابوں نے بہت زیادہ تباہی مچائی ہے ۔
    ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ، اس عرصے میں قریب 8،887 اموات کی اطلاع ہے۔ جبکہ حالیہ کچھ برسوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ ملک کے بہت سے شہروں میں شہری سیلاب ایک عام واقعہ بن گیا ہے۔ صرف یہ ہیں نہیں کہا جاتا ہے کہ 2010 کے میگا سیلاب نے تقریبا 20 ملین افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ اس سیلاب سے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر ، زراعت اور ماحولیاتی نظام اورزمین کی پیداواری صلاحیت کو 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

    2010 کے بعد تقریباً ہر سال سیلاب کا ایک بڑا واقعہ م پیش آیا ، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔
    اب شہری سیلابوں میں دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے سب سے بڑے شہری مراکز خصوصا کراچی اور لاہور بار بار شہری سیلاب کا شکار ہو رہےہیں۔ اور اب یہ دائرہ پاکستان کے دارالحکومت تک بھی پہنچ گیا ہے۔ ان شہری سیلابوں کو روکنے کے لیے حکومت پاکستان کو موجودہ انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کے لئے بہت ذیادہ وسائل خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن شاید ہماری حکومتیں اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یا انھیں لوگوں کی جان و مال اور املاک کی فکر نہیں ہے۔

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔

    اربن فلڈنگ کے وجوہات میں سب سے موسمیاتی تبدیلی ہے لیکن پاکستان میں فلڈ مینجمنٹ اور دیگر اداروں کی اس معاملے پر نظر پوشی بھی اسے بڑھا رہی ہے۔

    پاکستان میں شہری سیلاب کا سبب بننے والی کچھ کلیدی وجوہات یہ ہیں:
    شہری سیلاب کی صورت میں کم وقت میں پانی کا زیادہ بہاؤ اور بارش شامل ہے۔ اسے سائنس زبان میں ہائیڈرو سسٹم کہا جاتا ہے۔
    بڑے شہروں میں غیر منصوبہ بند مقامات زیادہ تر آبی گزرگاہوں اور قدرتی نکاسی آب کے ارد گرد تعمیر کیے جاتے ہیں جو کہ شہر ی سیلاب کی اہم ترین وجہ ہے۔ یعنی شہری انتظامیہ کو کچی آبادیوں کی بھی نگرانی کی ضرورت ہے جو بیشتر نالوں کے کنارے پر بنائی جاتی ہیں۔
    کچی آبادیوں کی وجہ سے ، نالوں کو تجاوزات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ قدرتی نکاسی آب کے راستوں کو روکتا ہے۔
    اب تو انتہا وہ کوڑا کرکٹ ہے جو نکاسی آب والے نالوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے ۔
    بلدیہ کا ایک اہم کردار ہے جو مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے ۔
    شہر کے اصل نقشے کو نظر انداز کرنا بھی شہری سیلاب میں اضافے کا سبب ہے۔
    آبادی میں اضافہ اور شہروں کا پھیلاؤ بھی دیکھنا ہوگا۔
    ان تمام وجوہات کے بعد اسلام آباد کو دریا بنانے والی انتظامیہ کی بات کرتے ہیں۔
    سی ڈی اے سمیت ہر بڑے ادارے کو جو اسلام آباد کی خوبصورتی کا کریڈٹ لیتے ہیں، دیکھنے کی ضرورت ہے کہ شہر میں بننے والی غیر سرکاری اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں کو کب تک لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے دیا جائے گا۔
    اربن فلڈنگ مینجمنٹ والے لوگوں کو کہاں استعمال کیا جائے گا؟
    غیر قانونی تجاوزات اور تعمیرات کو کون دیکھے گا؟ سب سے آخر میں شہریوں کو اربن فلڈنگ کی صورت میں رسک مینجمنٹ کی تربیت کون دے گا؟.
    صرف یہ ہی نہیں عید الاضحی کے دن ہونے والی بارش ایک اشارہ تھی جس کے بعد نالوں کی صفائی انتظامیہ اور میونسپل کی ذمہ داری تھی۔جیسے نہیں دیکھا گیا۔
    اسلام آباد کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اس شہر میں ایسی تمام تعمیرات کا خاتمہ ہو جو کہ پانی کی گزر گاہوں پر تعمیر ہوئیں ہیں اور ان تمام افسران کی سرزنش ہو جو اس اہم معاملے میں آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں اور شہر اقتدار کو دریا بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔۔۔کہیں یہ دریا ہم سب کو اپنے ساتھ بہا کے نا لے جائے۔
    ورنہ شہر دریا بن رہا ہے اور ہماری انتظامیہ آئندہ آنے والے سیلابوں سے بچنے کے لیے لوگوں کو لائف جیکٹ دے ہی رہی ہیں۔ یعنی دریا کے کنارے رہنے والوں کو اب تیراکی سیکھ لینی چاہیے

  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اور بھارت . تحریر : ارشد محمود

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اور بھارت . تحریر : ارشد محمود

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے حصے میں ایک ماہ کے لیے آچکی ہے ۔ بھارت جو تقسیم برصغیر کے وقت سے ہی غاصبانہ و جارحانہ رویہ اپناے ہوے ہے اسے اس قدر حساس ادارے کی سربراہی ملنا پاکستان و دیگر ممالک کے لیے تشویش ناک ہے ۔ پاکستان اس وقت افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے ۔ اور بھارت امن کو سبوتاژ کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے ۔ ذرائع کے مطابق افغان فضائیہ کے زیراستعمال طیارے بھارتی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے پائلٹ بھی بھارتی ہی ہوں۔ اور پھر مقبوضہ کشمیر میں جو خون کی ہولی وہ کھیل رہا ہے وہ اپنی جگہ سوالیہ نشان ہے ۔ سلامتی کونسل کی ہی منظور کردہ قراددیں بھارت نے ردی کی ٹوکری میں پھینک رکھی ہیں ۔ سلامتی کونسل کی سربراہی ملنے کا معاملہ یہ ہے کہ انگریزی حروف تہجی کے لحاظ سے ہر رکن ملک ایک ماہ کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالتا ہے ۔ بھارت کی سربراہی کے موقع پر خارجہ پاکستان کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ ’’امید ہے بھارت سلامتی کونسل کی صدارت کی اقدار کی پاسداری اور قواعد کا احترام کرے گا۔ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی ذمہ داری یاد کرائیں گے۔‘‘ دوسری طرف بھارتی مستقل مندوب تیرومورتی نے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے لیکن ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مسائل کو حل کرنے ے لیے بات کرنے کو تیار ہے ۔ ہم دنیا کو بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے ، لہذا بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم آئین کی دیگر شقوں کی طرح بھارتی پارلیمنٹ کا واحد اختیار ہے ۔ بھارتی مندوب شاید بھول رہے ہیں کہ جس فورم کی صدارت ان کے حصے میں آئی ہے اسی کی قراردادیں کشمیر کے متعلق بڑی واضح الفاظ میں موجود ہیں ۔ پاکستان نے مذکورہ بالا بیان کو مسترد کرتے ہوے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی سفیر کے بیان کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا ہے ، بھارت حقائق کو مسخ کر کے اقوام متحدہ کی قرادادوں کو جھٹلا نہیں سکتا، پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت اسی وقت ہو سکتی ہے جب وہ 5 اگست 2019ء کے اقدام کو واپس نہیں لیتا۔ جموں و کشمیر بھارت کا لازمی حصہ نہیں۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں جن میں رائے شماری کا مطالبہ کیا گیا ہے نافذ العمل ہیں اور اسے صرف سلامتی کونسل ہی منسوخ کر سکتی ہے ۔ 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 91 اور نمبر 122 کی کھلم کھلا خلاف ورزی اوربھارت کا یہ اقدام کالعدم ہے ۔

    اقوام متحدہ کی قراردادوں کا جس طرح سے بھارت نے مذاق اڑایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے بدترین کرفیو نافذ کررکھا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں آبادی سے زائد بھارت نے فوج تعینات کررکھی ہے اور اسے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کیا ہوا ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقوام کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ گاؤماتا کی حرمت کے نام پر کہیں مسلمانوں کو تختہ دار پر لٹکایا جا رہا ہے تو کہیں مسلمان عورتوں کو سرعام جنسی تشدد کے ساتھ سسکتے ہوے مرنے کو پھینکا جارہا ہے ۔ کہیں عیسائیوں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے تو کہیں کسانوں پر نام نہاد قوانین کا نفاذ کرکے انھیں بغاوت پر ابھارا جارہا ہے ۔ اس سارے ظلم و تشدد کے بعد اگر کوئی بھارتی مسلمان ، عیسائی ، سکھ یا پھر کوئی اور جدوجہد کا آغاز کرتا ہے یا پھر مسلح جتھا بنالیتا ہے تو اسے پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر دہشت گردی کا راگ الاپنا شروع ہوجاتا ہے ۔ ان حالات میں جب بھارت کے اپنے ملک کی حالت خانہ جنگی کی سی ہے تو سلامتی کونسل کی سربراہی دینا "بندر کے ہاتھ ماچس” دینے کے مترادف ہے ۔ لکھ رکھیے کہ بھارت کوشش کرے گا کہ وہ ایک ماہ میں پاکستان کے لیے مزید مشکلات کھڑی کرے ۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو پیروں تلے روند کر کشمیریوں کی نسل کشی کرنے والا صدر کی کرسی پر براجمان ہوچکا ہے

  • افغانستان خانہ جنگی کا شکار کیوں؟ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    افغانستان خانہ جنگی کا شکار کیوں؟ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    اس وقت افغانستان کے حالات کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ کھچڑی پکی ہوئی ہے اور معاملات اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ جیسے ایک ڈور کے بڑے گنجل کو سلجھانا۔ہر ملک اپنا کھیل کھیل رہا ہے اور ہر ایک کے مفادات دوسرے سے متصادم ہیں۔
    آج کی اس تحریرمیں ہم آپ پوری کوشش کریں گے کہ آپ کے ذہن میں افغانستان کے معاملے سے متعلق کئی سوالات کا جواب دے دیں۔ کیا افغانستان میں امن ممکن ہے اور اگر نہیں تو اس کی وجوہات کیا ہیں معاملات کتنے سنگیں ہیں اور کیا ماضی میں ان کے سلجھنے کے کوئی امکانات ہیں۔ امریکہ، چین، روس، بھارت اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کیوں افغانستان میں بر سر پیکار ہیں۔ ان کے کیا خدشات ہیں اور وہ انہیں کیسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان آج خانہ جنگی کا شکار ہے۔

    طالب حکومت پر امریکہ کے حملہ کرنے سے پہلے افغانستان میں چیچن مجاہدین، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، سنکیانک صوبے کی علیحدگی پسند تنظیم، القاہدہ سمیت دیگر تنظیموں کے لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔ جبکہ بھارت مولانا مسعود اظہر کی رہائی کے لیے جہاز کے ہائی جیک ہونے اور افغانستان میں قندھار ائیر پورٹ پر اترنے کے بعددنیا بھر میں یہ ڈھنڈورا پیٹ رہا تھا کہ بھارت میں بد امنی پھیلانے والی تنظیموں کی پرورش افغانستان میں ہو رہی ہے ۔
    جسے امریکہ کے افغانسان میں آنے کے بعد بھارت نے اپنے حق میں کر لیا۔ لیکن اب جہاں بھارت کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں وہیں روس چین، ایران، سینٹرل ایشین ممالک سمیت پاکستان بھی پریشان ہے۔ اسے پتا ہے کہ اب پاکستان میں طالبانائزیشن زور پکڑے گی۔ ۔ چین الگ سے سنکیانک کے لیے پریشان ہے تو روس اپنے سینٹرل ایشین اتحادیوں کے لئے پریشان ہے جبکہ ایران بھی طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت سے الجھن کا شکار ہے اور اس نے پاکستان کی طرح ایران بارڈر پر فوج تعینات کر دی ہے۔
    چاہے پاکستان ہو یا ایران روس اور چین۔۔ طالبان کسی کی بھی من و عن بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں اور اگر اس سوال کا تسلی بخش جواب نہ ہو اور جس میں انہیں اپنا مفاد نظر نہ آئے تو وہ نہیں مانتے ۔ کہنے کو تو امریکہ افغانستان سے زلت آمیز شکست کھا کر جا رہا ہے یہاں ڈھائی ہزار فوجی مروانے اور ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود انہیں طالبان سے معاہدہ کرنا پڑا ۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی فوجی جا رہے ہیں لیکن امریکہ افغانستان میں موجود ہے۔ امریکی پیسے سے ہی افغانستان چلے گا اور افغانستان کو چلانے کے لیے طالبان کو بھی پیسے کی ضرورت ہے۔ اس کے افغانستان کے اردگرد
    دو درجن فوجی اڈے ہیں اور ان کی کٹ پتلی حکومت ابھی تک کابل میں براجماں ہے تو ایسی صورتحال میں پریشان دوسری پارٹیوں کو ہونے کی ضرورت ہے جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔
    روس کی پریشانی کا یہ عالم ہے کہ پیوٹن جنیوا میں بائیڈن سے ملاقات میں امریکہ کو یہ آفر کر چکا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک تاجکستان اور کرغستان میں اس کے فوجی اڈوں کو امریکہ ڈرون سے جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن امریکہ نے روس کی اس پیشکش کا جواب دینا بھی گوارا نہیں سمجھا۔
    امریکہ نے افغانستان کی حکومت اور طالبان کے مزاکرات کروانے کی بجائے خود مذاکرات کیے۔ جس کے بعد طالبان غیر ملکی فوج کو نکالنے کا کریڈٹ لینے کے قابل ہو گئے۔ امریکہ کے طالبان سے مذاکرات میں طالبان کے وقار میں اضافہ ہوا۔
    افغان حکومت کا سب سے بڑا دشمن اس وقت طالبان ہیں جن سے ان کی جنگ جاری ہیں اور طالبان سے شکست کے بعد افغان ھکومت نے اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کر دیا ہے۔ اس وقت افغان حکومت پر قوم پرست لیڈروں کا قبضہ ہے اور ان سے پاکستان کی کم ہی بنتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا اس بات سے پریشان ہے کہ کہیں افغانستان دنیا بھر کے دہشت گردوں کا ہیڈ کوارٹر نہ بن جائے۔ اس لیے پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ وہ افغانستان میں صرف ایسی حکومت کو تسلیم کرے گی جو افغانستان کی تمام عوام کی ترجمانی کرتی ہو صورف ایک یا دو طبقوں کو طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
    پاکستان پر طالبان کی سپورٹ کا الزام کیوں لگتا ہے پاکستان افغانستان میں گریٹ گیم کا حصہ کیوں بنا۔ افغانستان میں اثرورسوخ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ کیوں ہے۔ یہ انتہائی اہم سوالات ہیں۔
    افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو آج تک افغانستان کی حکومت نے تسلیم نہیں کیا یہاں تک کہ جب طالبان کی کابل پر حکومت تھی تو انہوں نے بھی پاکستان سے ڈیورنڈ لائن کے پرماننٹ معاہدے سے انکار کر دیا تھا۔ کیونکہ یہ معاملہ افغانستان میں بڑا ا حساس ہے۔ افغانستان پاکستان کی پوری پشتون بیلٹ کو اپنا حصہ کلیم کرتا ہے جو May 1879 میںTreaty of Gandamak کے زریعےافغان بادشاہ یعقوب خان نے انگریزوں کو لکھ کر دے دی تھی۔ اس کے بعد نئے بادشاہ عبدالرحمان خان نے اس معاہدےکی تصدیق بھی کی۔افغانستان کے قوم پرست لیڈروں نے پاکستان کے قیام سے لے کرستر کی دہائی تک اس کے خلاف ہر سازش کی اور اس کے دشمنوں کی مدد سے ان علاقوں میں شورش پیدا کر نے کی کوشش کی۔ پاکستان کے قوم پرست لیڈروں کو بھڑکایا گیا اور پاکستان کی سالمیت کو خطرات لاحق کئے گئے جو آج بھی جاری ہیں، پھر بھٹو کے دور میں افغانستان میں مذہبی طاقتوں کو سپورٹ کر کےپاکستان نے وہاں اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ اور اس کے بعد طالبان کے دور میں پاکستان کو کافی سکون رہا۔ پاکستان نے امریکہ کے پریشر میں افغانستان پر حملے کا ساتھ تو دے دیا لیکن پھر بعد میں پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کی ہے اس نے طالبان کو بچنے میں مدد دی اور انہیں پناہ بھی دی گئی۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں قدم جمانے اور پاکستان کے ساتھ کھل کر ہاتھ صاف کرنے اور یہاں دہشت گردوں کو ٹریننگ دینے اور علیحدگی پسندوں کو پیسہ دے کر پاکستان میں بد امنی کروانے کی کھلی چھٹی دے دی جس کی پاکستان نے بھاری قیمت چکائی جو آپ سب کے سامنے ہے۔اب بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی لاٹری نکل آئی ہے پاکستان طالبان کی صورت میں افغانستان میں کھوئی ہوئی طاقت حاصل کر رہا ہے۔ اوربھارت اپنے دشمن کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کی پوری کوشش کر رہا ہے خواہ اس کے لیئے اسے افغان حکومت پر قابض دھڑوں کو فنڈنگ کرنا ہو یا اسلحہ سمیت کوئی بھی چیز دینا ہو وہ انہیں دے رہا ہے۔ساتھ میں پاکستان کے امیج کو تناہ کرنے کے لیے مکروہ کھیل بھی کھیل جا رہے ہیں۔ لیکن طالبان اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔ طالبان کے بڑھتے ہوئے غلبے سے نہ صرف افغان لبرلز کو ڈرایا جا رہا ہے بلکہ دنیا کو بھی یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر طالبان آگئے تو ان کے ساتھ دنیا کا چلنا ممکن نہیں اور افغانستان کی تباہی کا سفر یہاں سے شروع ہو جائے گا اور یہ وہی لوگ کر رہے ہیں جو طالبان کو کسی صورت افغانستان پر قابض نہیں دیکھنا چاہتے۔

    انڈیا 2002 سے اب تک افغانستان میں تین بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور اس کے مفادات سلامتی اور معیشت دونوں سے وابستہ ہیں۔انڈیا کویہ بھی خدشہ ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان کا اثر و رسوخ بڑھتا ہے تو کشمیر کی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔ بھارت نے ایران کے راستے افغانستان اور پھر سینٹرل ایشین ممالک تک پہنچنے کے لیے بھی بہت سرمایہ کاری کی ہے۔7200 کلومیٹر شمال جنوبی راہداری میں سرمایہ کاری کی ہے جو ایران سے روس تک چلے گی۔ مگر یہ سب امریکی سپاہیوں اور افغانستان میں جمہوری حکومت کی موجودگی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔ طالبان سے بھارت کی محبت سب کے سامنے ہے۔ایسی صورتحال میں طالبان کی افغانستان میں آمد انڈیا کے لیے دھچکے سے کم نہیں ہےماضی میں انڈیا امریکہ کے ساتھ افغانستان میں سرگرم تھا لیکن ایران اور روس کے ساتھ ایسا کوئی اتحاد نہیں تھا۔ لیکن اب بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے تہران پہنچنے سے پہلے ایک طالبان کا وفد وہاں موجود تھا۔ جب وہ روس پہنچے تو وہاں بھی طالبان موجود تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ انڈیا اس وقت ایران اور روس دونوں کے ساتھ افغانستان پر کام کر رہا ہے۔شیو سینا کی راجیہ سبھا رکن پریانکا چترویدی اپنی ٹویٹ میں افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں کہتی ہیں کہ
    افغانستان میں طالبان کے جمتے ہوئے قدم، ان کا پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی گرم جوشی صرف انڈیا کے لیے نہیں بلکہ تمام ممالک کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے کیونکہ اس ابھرتے ہوئے بنیاد پرست اتحاد کی وجہ سے خطے میں تمام کامیابیاں ضائع ہو جائیں گی۔انڈیا کو خدشہ ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف سٹریٹیجگ سبقت کھو دے گا۔ پاکستان پر نفسیاتی اور سٹریٹیجنگ دباؤ ہے کہ افغانستان میں انڈیا مضبوط ہو رہا ہے۔ انڈیا کے کمزور ہونے سے پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔جبکہ چین کا وسائل سے مالا مال صوبہ سنکیانگ اور افغانستان کے بیچ آٹھ کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ افغان صورتحال کے پیش نظر چین کو خدشہ ہے کہ اگر طالبان اقتدار میں آئے تو اس سے سنکیانگ میں علیحدگی پسند ایسٹ ترکستان اسلامی تحریک کو پناہ اور مدد مل سکتی ہے۔یہ ایک چھوٹا علیحدگی پسند گروہ ہے جو مغربی چین کے سنکیانگ صوبے میں متحرک ہے۔ یہ ایک آزاد مشرقی ترکستان قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سنکیانگ صوبے میں چین کی ایک نسلی مسلم اقلیت اویغور آباد ہے۔

    کچھ عرصے سے چین افغانستان کے صوبے بدخشاں میں اپنے تاجکستان کے ملٹری بیس سے ایکٹیو ہوا ہوا ہے۔چین افغانستان کو بھی اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل کرنا چاہتا ہے اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے امکانات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔طالبان نے چین کویقین دلایا ہے کہ وہ آئندہ سنکیانگ سے علیحدگی پسند اویغور جنجگوؤں کو افغانستان داخل نہیں ہونے دیں گے۔روس کو خدشہ ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان سخت گیر اسلام کا گڑھ نہ بن جائے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان میں اسلام کی بنیاد پر انتہا پسندی بڑھتی ہے تو اس سے پورے وسطی ایشیا کو خطرہ ہو گا۔ یعنی اگر خون بہے گا تو اس کے قطرے ماسکو پر بھی پڑیں گے۔روسی اثر و رسوخ میں رہنے والے ملک جیسے تاجکستان اور ازبکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحدیں ہیں۔ روس کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں افغان سرحدوں پر انسانی اور سکیورٹی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔Islamic Movement of Uzbekistanاور
    and Eastern Turkistan Islamic Movement سے ان ممالک کو خطرہ ہے ان دونوں تحریکوں کے طالبان،القائدہ اور داعش سے تعلقات ہیں اسی لیے افغانستان کی سرحد پر سینٹرل ایشن ممالک اور روس نے پچاس ہزار فوجی اور سات سو ٹینک تعینات کر رکھے ہیں۔طالبان کے ایک وفد نے روس کے دورے پر یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان میں کسی پیشرفت سے وسطی ایشیا کے علاقوں کو خطرہ نہیں ہو گا۔اورافغان سرزمین کو کسی ہمسایے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔ترکمانستان کو بھی اسی طرح کے خدشات ہیں جہاں یہ افغانستان کے ساتھ 804 کلو میٹر طویل سرحد رکھتا ہے۔ چین اور روس کی طرح قازقستان اور کرغزستان کو بھی افغانستان میں سخت گیر اسلام کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ان کی سرحدیں افغانستان سے نہیں ملتیں مگر انھوں نے اپنے ملکوں میں ایسے حملے دیکھے ہیں جن کا تعلق افغانستان سے قائم کیا جاتا ہے۔ سیکیورٹی کے علاوہ افغانستان میں امن قائم کرنے سے وسطی ایشیا کے ملک تیل، گیس یا کوئلے جیسے قدرتی وسائل انڈیا اور پاکستان سمیت دیگر جنوبی ایشیا کے ملکوں میں بھیج سکیں گے۔ اس لیے بھی ان ممالک کی نظریں افغان صورتحال پر جمی ہوئی ہیں۔

  • پرانے  اور  نئے  طالبان  میں  کیا  فرق. تحریر:راؤ اویس مہتاب

    پرانے اور نئے طالبان میں کیا فرق. تحریر:راؤ اویس مہتاب

    دشمن انتہائی گندی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ اور پاکستان پر گھٹیا اٹیک کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کیا سوچ رہا ہے اور پاکستان کے لیے طالبان کو کنٹرول کرنا کتنا آسان اور کتنا مشکل ہے جبکہ پرانے اور نئے طالبان میں کیا فرق ہے اس پر بھی بات کریں گے۔ اور سب سے بڑھ کر کیا دنیا جس طرح شور مچا رہی ہے کیا واقعی پاکستان افغانستان میں تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اگر ہے تو کیسے۔۔
    امریکہ نے نعرہ لگایا کہ اس کی افغانستان میں نہ ختم ہونے والی جنگوں کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں پیچیدہ مسائل پر دھیان نہیں دے پا رہا جو اسے دینا چاہیے۔ اور بہانہ بناتے ہوئے امریکہ باہر نکل گیا لیکن اس کے جھٹکے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں بڑی شدت سے محسوس ہونے لگے ہیں۔
    جہاں یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ طالبان اقتدار پر دوبارہ دعوی کرنے کے لیے تیار ہیں وہیں بائیڈن یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ افغانستان کا پروسی اسلامی ایٹمی ملک پاکستان کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان امریکہ کا افغان جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی رہا ہے لیکن امریکہ پاکستان پر یہ سوچتے ہوئے اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے طالبان اور القائدہ سے تعلقات ہیں۔ جب اسامہ بن لادن کے خلاف اآپریشن کیا گیا تو بائیڈن اس وقت اوبامہ کے نائب صدر تھے اور اس اآپریشن کو سکرین پر مانیٹر کرتے رہے۔ لیکن اس اآپریشن کے بارے میں پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا کیونکہ خدشہ تھا کہ اطلاع پہلے ہی لیک ہو جائے گی۔ کیونکہ پاکستان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ طالبان اور ایسے عناصر کو اپنے اسٹریٹیجک اثاثوں کے طور پر دیکھتا ہے تاکہ ان کے زریعے پاکستان افغان حکومت کو کمزور کرے جو پاکستان کے نمبر ون دشمن بھارت کی نمبر ون اتحادی ہے۔ جبکہ پاکستان کا یہ کہنا ہے کہ وہ اور وقت تھا جب پاکستان طالبان کو کنٹرول کرتا تھا۔ لیکن اب یہ طالبان پاکستان کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ پاکستان ا س سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے لاکھوں لوگ یہاں پر پناہ لے چکے ہیں جس کی وجہ سے اس کی سرحدیں دہشت گردی کا شکار ہوئی ہیں۔ یہ تشدد پاکستان کے لیے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے پاکستان کی طرف بھی دہشت گرد عناصر سر اٹھاتے ہیں۔

    امریکہ کی افغانستان میں جنگ میں اگر ایک لاکھ دس ہزار افغانی شہید ہوئے ہیں تو پاکستان نے چھیاسی ہزار لوگوں کی قربانی دی ہے۔ پاکستان کو ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ جبکہ ہمارے دشمنوں کو افغانستان میں کھلے عام ہم پر حملہ کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے،ابھی تک بائیڈن کی عمران خان سے کوششوں کے باوجود فون پر بات نہ کرنا یہ ظاہر کرتی ہے کہ بائیڈن پاکستان پر ابھی بھی اڈے حاصل کرنے کے لیے پریشر ڈالنا چاہتے ہیں جس کا پاکستان نے صاف انکار کر دیا ہے۔ امریکہ کی سرپرستی اور برطانیہ، سعودی عرب، عرب امارات کی مدد سے پاکستان اور بھارت کی صلح کی بات کی گئی جس میں ماضی کی تلخیوں کو دفنانے کی بھی بات ہو چکی ہے۔ کیونکہ عالمی طاقتوں کو پتا ہے کہ ان دونوں کی دوستی کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں ۔طالبان کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ اس کے ہمسایہ ممالک اور بڑی طاقتوں کے لیے چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک ابھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ طالبان کے ذریعے افغانستان پر قبضہ کر کے اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے تاکہ افغانستان میں بھارت کے اثرو رسوخ کو چیلنج کیا جا سکے۔ جہاں چین پاکستان کے قریب آرہا ہے وہیں چین بھارت سے دور جا رہا ہے۔ ساری دنیا کو پتا ہے کہ افغانستان سپر پاورز کا قبرستان ہے تو یقینا بائیڈن بھی اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے۔ امریکہ نے یہ کہتے ہوئے افغانستان سے ٹرن لے لیا ہے کہ اسے ماضی کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ ٹرن اسی وقت درست ثابت ہوتے ہیں جب کسی کو پتا ہو کہ کہاں ٹرن لینا ہے۔ امریکہ ایک غلط ٹرن لے چکا ہے۔ جسے امریکی ، افغانی، روسی سب ہی غلط قرار دے رہے ہیں۔ اور اب اس غلطی کا الزام پاکستان پر دھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستان میں دشمن نے گندا کھیل شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کبھی افغانی سفیر کی بیٹی پر تشدد کا ڈرامہ کروایا جا رہا ہے۔
    کبھی ائر فورس پر الزام لگایا جا رہا ہے تو کبھی اشرف غنی پاکستان سے دس ہزار جنگجو جانے کی باتیں کر رہا ہے۔ شکست کو حقائق سے تسلیم کرنے کی بجائے ایک جھوٹ کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔افغانستان ایک سرد ماحول والا ملک ہے۔ جہاں اکثر صوبوں میں سردیوں میں برف باری اور ٹمپریچر مائنس ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ اور ملک کے بیشتر حصے برف سے ڈھکے رہتے ہیں جو نقل و حرکت اور روزمرہ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو متاثر کرتا ہےبحثیت انسان جس کی وجہ سے زندگی کے دوسرے معمولات کی طرح ، مجاہدین کی سرگرمیاں بھی ہر سال اس سیزن کے دوران سست روی کا شکار ہوتی ہیں۔لیکن گزشتہ چند سال میں جو غیر معمولی واقعات ہوئے اس میں طالبان نے پورے سال کابل کی کٹ پتلی حکومت کو ناچ نچوایا۔ اشرف غنی کو ہر جگہ کہتے پھر رہے ہیں کہ تین ماہ میں حالات ٹھیک ہو جائیں گے وہ سردیوں کا ہی انتظار کر رہے ہیں۔ امریکہ بھی نکلنے کے باوجود ستمبر کی تاریخ اس لیے دے کر بیٹھا ہے کہ اس کے آفیشلی نکلنے اور سردیاں آنے میں وقفہ بہت کم رہ جائے۔اشرف غنی جو پاکستان کا دشمن ہے اور کبھی بھی پاکستان کے خلاف دراندازی سے باز نہیں آتا اب نئے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ اور اب تمام مختلف محکموں اور ترجمانوں نے مبالغہ آرائی شروع کردی ہے اور ان ساری غیر متوقع ترقی اور پیشرفت کے بارے میں جھوٹ بولنا شروع کر دیا ہے۔۔

    نائب افغان صدرامراللہ صالح جیسے لوگ جو پاکستان میں روس کے خلاف جہاد کی ٹریننگ لے چکے ہیں اور اس کے بعد نہ صرف طالبان کے خلاف جنگ لڑ چکے ہیں بلکے افغان خوفیہ ایجنسی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں۔ اشرف غنی نے وہی پرانے ناکام لوگوں کو اب کام کرنے کی بجائے پروپیگنڈے کی تدبیر کے طور پر مقرر کیا ہے یہ ناکام عہدے دار بے مثال جھوٹ ، جعلسازی اور پروپیگنڈے کا چکر شروع کر چکے ہیں تاکہ دنیا اور اپنے معصوم شہریوں کو گمراہ کر سکیں اور اب ان طالبان کو ختم کرنے کے دعوی کر رہے ہیں جنہیں بیس سال تک 48 ممالک کی افواج کے ہاتھوں شکست نہیں دی جاسکی۔ لیکن یہ بات اشرف غنی کو جان لینی چاہیے کہ جھوٹ ، مبالغہ آرائی اور پروپیگنڈہ کے ذریعہ طالبان کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی پاکستان کے پیچھے چھپا جا سکتا۔اسلامک امارات وسائل پر پابند باغی گروپ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی جہادی انتظامیہ کی صورتحال ایسی ہے کہ آپریشنوں ، چھاپوں اور بم دھماکوں کے ذریعہ اس کو ختم کیا جا سکےاور اس کا جنگی مشن روک دیا جائے طالبان افغان سوسائٹی کا حصہ ہیں، امریکہ سمیت پوری دنیا ان سے معاہدے اور مذاکرات کر رہی ہے، وہ اپنے سیاہ اور سفید کے مالک ہیں۔یہ افغان قوم کی وسیع بغاوت ہے جس کی جڑیں اور بنیادیں گہری ہیں۔
    اگر طالبان کو فتح کرنا اتنا آسان ہوتا تو پورے نیٹو ممالک جو اپنی کتابوں میں موجود تمام بہترین حکمت عملیاں جن میں ملٹری آپریشنز سمیت کارپٹ بمبنگ بھی شامل تھی افغانستان مین ازما چکے ہیں ۔لیکن ختم ہونے کے بجائے ، اس جہادی تحریک نے صرف مضبوط اور مزید علاقوں میں توسیع کی۔بے شک ملا عمر کے صف اول کے ساتھی دارالعلوم اکوڑہ خٹک یا جامعہ بنوریہ ٹاؤن کراچی کے فارغ التحصیل تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے گوتم بدھ کے مجسموں کو اڑا دیا، انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو پر ماننٹ لائن ماننے کے سمجھوتے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے سینٹرل ایشیا سے گیس پائپ لائن سے انکار کیا اور پھر پاکستان کے لاکھ سمجھانے کے باوجود اسامہ بن لادن کی مہمان نوازی چھوڑنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ جبکہ موجودہ طالبان وہ طالبان نہیں ہیں، وہ اپنے بزرگوں کی طرح تصویر گھنچنے کے خلاف نہیں ہیں، نہ ہی وہ پاکستان کے مدرسوں کے تعلیم یافتہ ہیں، انہوں نے بیس سال جنگ میں رگڑا کھایا ہے اور ان کی تربیت میدان جنگ میں ہوئی ہے۔ انہوں نے دنیا کی سپر پاور کو شکست دی ہے۔ یہ سفارت کے آ داب بھی جانتے ہیں اور جنگ کی سٹریٹیجی بھی۔پہلی نسل کی قیادت سو فیصد پشتون اور وہ بھی جنوبی افغانستان کے پشتونوں کے ہاتھ میں تھی۔ دوسری نسل میں آپ کو پشتونوں کے ساتھ ساتھ ازبک، تاجک، ہزارہ حتی کہ بلوچ نژاد طالبان کمانڈر بھی مل جائیں گے۔طالبان کی موجودہ نسل ان تمام علاقوں پر تقریبا قبضہ کر چکی ہے جہاں ان کے بزرگ کابل پر قبضہ کرنے کے باوجود کنٹرول نہیں کر پائے تھے۔ یہ نسل سینٹرل ایشیا اور ایران سے متصل صوبوں پر قبضہ مکمل کرنے کے قریب ہے۔ پہلی نسل اگر پاکستان کے مشوروں کی محتاج تھی تو آج کی طالبان نسل قطر، ایران، ترک، روس، چین اور سینٹرل ایشیا میں مزاکرات کر رہی ہے۔

    طالبان کی پرانی نسل کے مقابلے میں موجودہ نسل نہ صرف اپنے آپ کو پوری دنیا سے منوانا چاہتی ہے بلکہ اسے یہ بھی پتا ہے کہ معیشت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ اور افغانستان کا ستر فیصد بجٹ بیرونی طاقتوں کا محتاج ہے۔ طالبان امریکہ کو تعمیر کے لیے کردار ادا کرنے کی دعوت دے چکا ہے۔ طالبان کی اس نسل کو پتا ہے کہ قبضہ کرنا اآسان اور پھر اسے جاری رکھنا مشکل ہے۔تو پوری دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ اگر پاکستان کی بہت سی باتیں پرانے طالبان نے ماننے سے انکار کر دی تھی تو نئے طالبان تو بڑے کاریگر ہیں انہیں اپنی بات پر لانا اور وہ بھی امریکہ اور اشرف غنی کے لیے کتنا مشکل ہے جن سے وہ بیس سال سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے منہ پر کہتے ہیں کہ ہم نے عصر تک روزہ رکھ لیا ہے اب ہمیں مغرب سے پہلے روزہ توڑنے کا مت کہو۔۔ وہ افغانستان کے معاملات اپنی سوچ کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔اس لیے اشرف غنی میرے تمھیں ایک نصحیت ہے کہ اپنے اقتدار کی بجائے اپنے ملک اور لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں سوچو۔ سچ بولو اور زمینی حقائق کو تسلیم کرو۔ ورنہ تمھارا انجام بہت بھیانک ہو گا۔

  • اخلاقیات کا مآخذ   تحریر:سید غازی علی زیدی

    اخلاقیات کا مآخذ تحریر:سید غازی علی زیدی

    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

    اخلاقیات کا مآخذ کیا ہے؟ اصول و اقدار کی پاسداری، حق وباطل کے تصور سے مکمل آگاہی ، شر سے مستقل لڑائی، فلسفیانہ تحقیق اور مسلسل جستجو۔ مختصراً جو علم انسان پر بھلائی اور برائی کی پہچان واضح کر دے، اچھائی برائی کا شعور دے، باہمی تعلق داری کو فروغ دے یہی علم اخلاق کی اصل روح ہے۔ خود احتسابی ایک مستقل جنگ ہے اصول و اقدار کی، تصورات و نظریات کی۔ ناقدانہ انداز میں خود کو سچ و جھوٹ کی کسوٹی پر وقتاً فوقتاً پرکھنے کی تاکہ اپنے اعمال و افعال کی واضح نیت آشکار ہو۔ یاد رکھیے بلاشبہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ جتنی نیت نیک ہو گی اتنا ہی انسان خود اعتماد اور ذہنی طور پر پرسکون ہو گا۔
    اخلاقیات کسی ایک امر تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار نہایت وسیع ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر و جامع موضوع ہے جس کی حدود ذات سے شروع ہو کر کائنات پر ختم ہوتی ہیں۔ انفرادی ہو یا اجتماعی، سماجی ہو یا مذہبی، عائلی ہوں یا قانونی غرض ہر شعبہ زندگی کے اعمال سے لیکر امور تک اخلاقیات کی پاسداری لازمی ہے۔ سیدھی راہ پر چلنے والے ہر حال میں اخلاقیات کا دامن تھامے رکھتے ہیں۔ فکری و عملی طور پر بہترین اخلاقیات کا تعین کرنا ہی اشرف المخلوقات ہونے کی اصل پہچان ہے۔
    محبت، شفقت، مدد، ایفائے عہد، حق گوئی و صداقت اعلی ترین اخلاقی اقدار کے زمرے میں آتے ہیں لیکن یہ نہ تو نفسیات ہے نا انسانی فطرت بلکہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اس کے بالکل برعکس نفرت، جھوٹ، ایذارسانی، وعدہ خلافی ایسی علتیں ہیں جو انسانی شخصیت کو تباہ و برباد کر دیتی ہیں۔
    اخلاقیات کو اپنانے والا انسان نہ صرف خود کیلئے بلکہ پورے معاشرے کیلئے خیر و برکت کا باعث بن جاتا ہے۔ شعور و آگاہی سے بہرہ مند افراد ایک متوازن معاشرے کی بنیاد رکھتے۔ لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہمارے معاشرے میں سوچنا اور سمجھنا ایک غیر ضروری و قبیح فعل سمجھا جانے لگا ہے۔ عقل و شعور سے عاری لوگ نفسانفسی کی بھینٹ چڑھ کر اخلاقی طور پر مردہ لاش بن چکے ہیں۔ اصل اخلاقیات کا ادراک ختم ہو چکا۔ صرف پیسہ و اختیارات ہی کسی انسان کی عزت کا معیار بن چکے ہیں۔ بنیادی اخلاقی اقدار کی گراوٹ کا شکار معاشرہ فکری بانجھ پن کا شکار ہے لیکن باشعور و سنجیدہ افراد بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشائی بنے بیٹھے۔جب تک ہم رجعت پسندی کو خیرباد کہہ کر درایت کو فروغ نہیں دیں گے تب تک ہم پسماندگی و تنزلی کا شکار رہیں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے دانشور و اساتذہ بجائے متوازن تنقید اور اخلاقی اقدار کو رائج کرنے کے صرف پند و نصائح تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں انسانیت کی جگہ حیوانیت جڑ پکڑ چکی ہے جو کہ بگڑتے بگڑتے اس نہج پر پہنچ چکی کہ اب اخلاقیات بالکل مفقود ہو کر رہ گئی ہے۔
    مثل حیواں، خوردن، آسودن چہ سود
    گر بخود محکم نہ بودن چہ سود
    Twitter: ‎@once_says

  • خواتین پر تشدد کے واقعات  میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟  تحریر  صائمہ رحمان

    خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ تحریر صائمہ رحمان

    عورت پر تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہی عورت کو عزت کے نام پر تشدد کیا جاتا ہے یا ان کو زندگی سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ ایسے واقعات تط ہی روح نما ہوتے ہیں جب عورت اپنے آپ کو کمزور اور بے بس سمجھتی ہے مظلوم کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے اس ظلوم کو برداشت کرتی رہتی ہے اور ایک دن یہ برداشت جان لیوا ثابت ہوتی ہے اور زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے ۔ عورتوں کے ساتھ ہونے والی بہت سی زیادتیوں کی طرح گھریلو تشدد بھی ایک طرح کا عزت کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے جسے دوسروں خاندان والوں سے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گھریلو تشدد یا رشتہ داروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے بیشتر واقعات منظر عام پر ہی نہیں آتے۔ یہ تشدد کے واقعات زیادہ تر پسماندہ علاقوں میں زیادہ رپورٹ کئے گئے ہیں۔ کیونکہ ایسی خواتین کو نا صرف تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے بلکے عورتوں کے بنیادی حقوق سے بھی آگاہ نہیں کیا جاتا۔
    پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرویڈیوز یا ایسی خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں جس میں ایک شوہر نے اپنی اہلیہ کو بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ اپنی جان کی بازی ہار گئی یا ہسپتال پہنچ گئی
    لیکن سوال یہ ہے کہ عورت یہ ظلم برداشت کیوں کرتی ہے؟ کون سے ایسے عوامل ہے جو اس اذیت کو برداشت کرنے پر مجور کر دیتی ہے مجبور عورتیں اپنے گھر کو بچانے کےلئے اپنے بچوں کی خاطر یہ تشدد برداشت کرتی ہے نا ان کو اپنے میکے سے سپورٹ ملتی اور معاشرے میں طاق یافتہ کہلانے کا ڈر ایک مجبور عورت کو یہ گھریلو ظلم سہنے پر مجبور کرتا ہے۔گھریلو تشدد کا موضوع ایسا ہے جس پر بات کرنا آسان نہیں ہے۔ جب بھی گھر کی چاردیواری کے اندر جب بھی خواتین پر تشدد کی جاتی ہے تو معاشرے میں ہاہا کار مچ جاتی ہے۔ عورت سے طرح طرح کے سوال پوچھے جاتے ہیں؟ کبھی اُس سے پوچھا جاتا ہے جب تھمارا شوہر مارتا تھا تب کیوں نہیں آئی؟ تب آواز کیوں نہیں اٹھائی کہ تم نے یہ پہلے رپورٹ کیوں نہیں کیا؟ کبھی اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ ثبوت دکھاؤ کہ کیا تم پر واقعی تشدد ہوا ہے یا نہیں؟
    ایسے سوالات ایک کمزور عورت کو یہ سب تشدد برداشت کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ایک بے سہارا عورت آخر اپنے شوہر کا ہاتھ چھوڑ کر جائے گی کہاں؟ اس کو اپنے بچوں کو بھی چھوڑنا پر سکتا ہے۔
    اگر ایک عورت اپنے ماں باپ کے گھر جانا چاہے تو اُس کو بھی ایک یہ بھی مسئلہ بنایا جاتا ہے۔ اگر ایک عورت ملازمت کرنا چاہے اور اپنے بچوں کی اچھی پرورش کرنا چاہئے تو تب بھی کہرام مچا دیا جاتا ہے اگر وہ اپنے میکےاپنے ماں باپ کو بتانا چاہتی ہے تو اس پر بھی اس کو روکا جاتا ہے یا وہ خود روک جاتی ہے گھر بتایا تو وہ پریشان ہونگے۔
    عورت کو یہ سمجھا کر چپ کروا دیا جاتا ہے کہ شوہر ہے چار دیواری کے اندر مسئلے کو حل کرو اپنے بچوں کی خاطر برداشت کرو اچھے دن بھی آئیں گے اگر گھر چھوڑ دیا یا طاق ہو گئی تو ان بچوں کا کیا ہوگا کہاں جاو گی؟
    اورعمومی طورپر یہ بھی سمجھایا جاتا ہے کہ یہ ایک روزہ مرہ کی بات ہے اور آپ اس چیز کو دبا دیں اور آپ اپنے گھر کو بچا نے کی کوشش کروں ان بچوں کا کیا ہوگا اگر آپ پولیس میں جانے کی کوشش کریں تو وہاں پر بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک گھریلو معاملہ ہے ہم اس میں کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر آپ سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں آواز اُٹھائیں تو آپ کو طرح طرح کی ’بتاتے سننے کو ملی گئی جس سے خاندان کا نام خراب ہوگااور آپ پر طرح طرح کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ اپنے گھر کی عزت خراب کرنے کے جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    ایک مجبور عورت اس امید پر سب برداشت کرتی ہے کہ اچھے دن بھی آئیں گے ابھی سہتی ہوں بعد میں سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن ایسا اکژ ایسا ہوتا نہیں
    ’مجبور عورتیں اسی لیے اس چیز کو رپورٹ نہیں کرتی کیونکہ کہ ہم نے کبھی اُن کو اس طرح کے ساز گار مواقع ہی فراہم نہیں کیے کہ وہ آرام سے آسانی سے اپنے اس مسئلے کو بیان کر سکیں اور پھر ان کو تحفظ بھی دیا جائے یہ ہمارے معاشرے کی ذمہداری ہے ایسی عورتیں میں خوداعتمادی پیدا کرے کہ وہ اپنے حق کے لئے کھڑی ہو سکتی۔
    خواتین کے خلاف تشدد اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے ملک میں کئی قوانین تو بنائے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود تشدد کے واقعات کا مسلسل بڑھنا تشویش کا سبب بن رہا ہے اصل مقصد ان قوانین پر عمل درآمد کروانا ہے یہ قوانین صرف کتابوں میں یا صرف آرڈر میں ہی نظر نہیں آنے چاہیئے، اس معاملے میں میڈیا کا کردار بھی قابل فخر ہے یہ واحد پلیٹ فارم ہے ایسے واقعات کو نا صرف اجاگر کرتا ہے بلکے قصور وار کو بے نقاب بھی کرتا
    پاکستان میں پنجاب اسمبلی نے خواتین کو گھریلو تشدد، نفسیاتی اور جذباتی دباؤ، معاشی استحصال اور سائبر کرائمز سے تحفظ دینے کا قانون متفقہ طور پر منظور کیا ہے خواتین ہراساں کرنے والوں یا پھر جسمانی تشدد کرنے والوں کے خلاف عدالت سے پروٹیکشن آرڈر لے سکیں گی پروٹیکشن آرڈر کے ذریعے عدالت ان افراد جن سے خواتین کو تشدد کا خطرہ ہو، پابند کرے گی کہ وہ خاتون سے ایک خاص فاصلے پر رہیں۔
    ریزیڈینس آرڈ کے تحت خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر گھر سے بے دخل نہیں کیا جاسکتا اگر کوئی بھی خاتون جان کا خطرہ ہویا گھر چھوڑنے پر مجبور کیا جائے یا اسے خاندان کے افراد اس خاتون کو گھر سے نکال دیں تو ایسی صورت میں عدالت خاندان کو پابند کرسکے گی کہ خاتون کی رہائش کا متبادل بندوبست کرے یااسے دوبارہ گھر میں جگہ دی جائے۔
    گھریلو تشدد کو صرف کسی قانون سے ختم نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے ہمیں اپنے معاشرے کے اندر ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے جس میں آگاہی دی جائے کہ ہماری بیٹیوں ،بہنوں کو بتایا جائے کہ آپ کے کیا حقوق ہیں؟ آپ اگر کسی جگہ شادی کر کے جا رہی ہیں تو آپ نے کن چیزوں کو مدّنظر رکھنا ہے اگر ہم ان چیزوں کے اُوپر عملدآمد کریں گے تو ہم اس گھریلو تشدد جیسے عفریت پر قابو پا سکیں گے۔ ورنہ یہ چیزیں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہیں گی اور اگر پاکستان کو آگے لے کر چلنا ہے تو ہمیں ابھی ان چیزوں کے اوپر قابو پانا ہوگا۔
    خواتین کو ان قوانین استعمال کےلئے جو ان کو تحفظ دے گا شعور اجاگر کیا جائے اور ایک مضبوط عورت اس تشدد کے واقعات پر خود ہی قابو پا سکتی ہیں اگر وہ یہ عزم کر لے کہ ظلم کو سہنا نہیں اپنے حق کے لئے لڑنا ہے تو ان واقعات پر قابو پایاجا سکتا ہے۔

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • کمشنر کا کتا گم گیا. تحریر ارشد محمود

    کمشنر کا کتا گم گیا. تحریر ارشد محمود

    ” حضرات ایک ضروری اعلان سنیں ، محترم جناب کمشنر صاحب کا کتا گم گیا ہے جس صاحب کو ملے وہ کمشنر آفس پہنچا دے ۔ اگر ہماری کارروائی کے دوران وہ کتا کسی سے برآمد ہوا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاے گی” یہ اعلان کل گوجرانوالہ کی سماعتوں سے ہوتا ہوا سوشل میڈیا پر پہنچا اور پھر ٹویٹر پر #کمشنرکاکتا گم گیا ہیش ٹیگ کے ساتھ چند ایک ٹویٹس نظر آئیں ۔ جانوروں سے محبت کرنا اچھی بات ہے اور پالتو جانوروں سے محبت تو کچھ زیادہ ہی ہوجاتی ہے ۔ ابھی چند دن قبل عید قرباں پر چند ایک مناظر نظروں سے گزرے تھے جن میں قربانی کے جانوروں کو پالنے والے یا پھر انھیں خرید کر قربان کرنے والے رو رہے تھے ، مضطرب تھے لیکن زبان پر شکر کے کلمات تھے ۔ خیر یہ تو ایک الگ معاملہ ہے ۔ اصل بات پر واپس آتا ہوں ۔ کمشنر انگریزی باقیات میں سے وہ چیز ہے جو ابھی بھی اپنے آپ کو ضلع کا مالک کل سمجھتا ہے۔ کچھ لوگ خدا ترس ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اہل ضلع پرسکون رہتے ہیں وہ درویش صفت لوگوں کو تنگ کرنا گوارا نہیں کرتے اور مجرموں اور قانون شکنوں کے خلاف زمین تنگ کیے رکھتے ہیں ۔

    اب ہمیں یہ تو بات معلوم نہیں کہ کمشنر صاحب نے اعلانات کروانے کا خرچہ بذمہ سرکار کیا ہے یا پھر اپنی جیب سے ادا کیا ہے ۔ یہاں تو سرکاری مال کو اس طرح سے خرچ کیا جاتا ہے جیسے وہ حرام کا مال ہو۔ سرکاری گاڑیوں میں سبزی لانے ، بچوں کو سکول چھوڑنے ، ماسی و پھوپھی کو لانے، سسرال کے کام کرنے اور گھر کا دیگر سودا سلف لانے کا کام بھی کیا جاتا ہے اور سرکاری ڈرائیور کو نجی ڈرائیور سمجھ کر خاتون خانہ کی چاکری پر لگا دیا جاتا ہے ۔ سرکاری مالیوں کو گھر کے لان کی صفائی ستھرائی کے لیے بلایا جاتا ہے ۔ خیر یہ تو ضمنی باتیں آگئی ہیں ۔ جناب کمشنر کے کتے کی بات ہورہی تھی ۔ گوجرانوالہ میں روز کسی نہ کسی تھانے میں کسی کی گم شدگی کی درخواست آتی ہوگی ۔ روز کوئی نہ کوئی لاش سرراہ ملتی ہوگی جسے سردخانے پہنچا دیا جاتا ہوگا کہ ورثا کے ملنے تک محفوظ رہ سکے ۔ کمشنر گوجرانوالہ نے اس طرح کے معاملات میں کتنے اعلانات کروانے کا تردد کیا ہوگا ۔انسان کو تو درخواست نمبر سے زیادہ وقعت ہی نہ ملی کیوں کہ دل میں درد ہو تو صاحب بہادر رات کی نیند سے محروم ہو جائیں ۔ رات کمشنر صاحب امید واثق ہے کہ کتے کے نہ ملنے کی وجہ سے نیند سے محروم ہوں گے ۔ اس سے پہلے کسی غریب ، اجڈ ، گنوار ، جاہل ، لاچار و معذور کی فریاد پر شاید ہی اس طرح سے مضطرب ہوے ہوں کہ سرکاری سرپرستی میں سرکاری اہلکاروں کو کتا ڈھونڈنے پر لگا دیا ۔ کمشنر صاحب کو ہم یہ تو کہہ نہیں سکتے کہ کچھ شرم ہوتی ہے ، کچھ حیا ہوتی ہے کیوں کہ ہم ٹھہرے عام شہری جن کی اوقات کمشنر کے کتے سے بھی کم ہے ۔

  • بتیسی فکس کراون یا ڈینٹل ایمپلانٹ (3) ،تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    بتیسی فکس کراون یا ڈینٹل ایمپلانٹ (3) ،تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹویٹر : @nabthedentist

    جوان انسان کہ منہ میں 32 دانت ھوتے جن میں چار عقل ڈارھیں ضروری نھیں سبکو آئیں اس حساب سے کم از کم ایک نارمل انسان کے منہ میں 28 دانت تو آنا لازم ھے
    جسم کے مضبوط ترین حصوں میں سب سے مضبوط ھڈی ھے اور ھڈیوں میں دانت سب سے مضبوط ترین مانے جاتے ظاہر ھے اگر یہ اتنے مضبوط ھیں تو اللہ نے ان سے کوی سخت قسم کا کام بھی لینا ھوگا اور جب یہ سارے یا ایک یا ایک سے زیادہ دانت نکل جاتے تو ان کے نیچے موجود مسوڑھے جو جسم کے کمزور حصوں میں سے ایک ھیں ان کو وہ سخت کام کرنا پڑجاتا جو وہ کر نھین پاتے جس سے مسوڑوں میں انفیکشن زخم ساتھ والے دانتوں میں مسئلے ٹوٹ پھوٹ کیڑا لگنا ٹیڑھا ھوکر اس خالی جگہ میں گرنا اوپر والے دانتوں کا قد نکال لینا یہ سب کچھ ھونا شروع ھوجاتا جسکے نتیجے میں مزید دانتوں کے نکلنے کا خطرہ درد تکلیف کا دائمی ھوجانا تکلیف والے سایئڈ سے کھانا نا کھاکر اس سایئڈ کا ناکارہ ھوجانا شامل ھے وہ ھوسکتا
    اسلئے جب کبھی کسی کا دانت کسی بھی وجہ سے نکل جائے یا نکلوانا پڑ جائے تو وہ ایک ماہ سے لیکر 6 ماہ کے اندر نئے دانت لگوا لے
    نئے دانت کبھی بھی اصل کے متبادل نھیں ھوسکتے مگر وہ کسی بھی طور نا لگوانے سے ھزار گنا بہتر ھے
    آپکا کھانا پینا شروع ھوجاتا زندگی میں سکون آجاتا ساتھ والے دانت یا پھر مسوڑوں کے مسئلے ختم ھوجاتے
    نئے دانت لگوانے میں آپکے پاس درج ذیل آپشن موجود ھیں

    1۔ اتارنے لگانے والے دانت
    Removable Denture

    مشہور زمانہ بتیسی اسی کٹیگری میں آتی یہ ایک دانت سے لیکر پوری بتیسی یعنی 32 دانت تک حسب ضرورت لگوائے جاسکتے یہ باقی آپشن کی نسبت سستے ساتھ والے دانتوں کو نقصان دیئے بغیر لگ جاتے انکا نقصان یہ اتارنے لگانے والے ھوتے خیال کم رکھا جانے کی وجہ سے خراب ھوجاتے منہ میں ایڈجسٹ نسبت مشکل سے ھوتے وقت کیساتھ ڈینٹل کلینک چکر لگتے ھی رھتے جسکے منہ میں کوی دانت نا ھو اسکے لئے یہ آپشن سب سے بہتر ھے

    2۔ فکس دانت کراون یا بیریج
    Crowns and Bridge

    جب کوی دانت کی دیوار ٹوٹ جائے یا اسکا روٹ کینال ٹریٹمنٹ ھوا ھو تو ایسے دانت کو مضبوطی دینے لئے فلنگ کیساتھ اس پر فکس کراون لگایا جاتا ھے جب دانت موجود نا ھو تو ساتھ والے دانتوں کو کٹنگ کرکے انکا ناپ لیکر خالی جگہ میں دانت لگایا جاتا اسکو bridge کہا جاتا ھے
    یہ فکس ھوتے اسلئے یہ اتارنے والوں سے بہتر رھتے یہ ان سے نسبتا زیادہ قیمت کے ھوتے ھیں اسوقت دنیا میں سب سے زیادہ یہی لگائے جاتے

    3.ایمپلانٹ Implant

    فکس برج میں جہاں ایک دانت لگانے لئے ساتھ والے دو دانتوں کی کتنگ کی جاتی وہ ایک لحاظ سے دو دانتوں کا نقصان بھی ھے جو اور 5 سال بعد خراب ھونے کی صلاحیت رکھتے جس سے برج کو اتار کر ساتھ والے مزید دانتوں کو لینا پڑ سکتا ایسے میں فکس دانت لگانے لئے ایک اور آپشن ھے وہ ھے ایمپلانٹ اس میں ساتھ والے دانتوں کو چھیڑا نھیں جاتا جو ایک دانت نکلا اسکی جگہ ایمپلانٹ screw کردیا جاتا اوپر کراون لگایا جاتا یہ سب سے بہترین آپشن ھے مگر کافی مہنگا ھوتا ھے اسلئے پاکستان میں بہت کم لوگ اس جانب راغب ھوتے

    دانت فکس ھوں یا اتارنے لگانے والے لیکن اگر انکی صفائ نا رکھی گئی خیال نا رکھا گیا تو لیبارٹری کے بنے ھوئے یہ دانت بہت جلد خراب ھوجاتے اسلئے اصل دانتوں کی حفاظت سے زیادہ انکی حفاظت ضروری ھے