Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • آج کل کے نوجوانوں میں باغی پن کیوں؟ تحریر:صائمہ رحمان

    آج کل کے نوجوانوں میں باغی پن کیوں؟ تحریر:صائمہ رحمان

    جب انسان جوان ہوتا ہے تو اس وقت نوجوانوں میں قویٰ مضبوط، اور حوصلے بُلند ہوتے ہیں، ان کو سب کچھ اچھا نظر آتا ہے ان کےاندر اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی وہ دماغ سے کم اور دل سے کام لیتے ہیں ۔ وہ پہاڑوں سے ٹکرانے کے لئے پرعزم ہوتا ہے اپنی من مانی کرتے ہیں لیکن جب ان کے راستے تبدیل کیے جاتے ہیں تو ہجانی کفیت کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھراس کا رَدِعمل نظر آنے لگتا ہے جو ان کے لئے اور والدین کے لئے مسئلے کا باعث بنتا ہے نوعمروں میں ذہنی صحت کے مسائل عام سوچنے سے کہیں زیادہ عام ہیں آج کا نوجوان باغی ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں دو قسم کے نوجوان موجود ہیں ایک وہ جو امیر ہیں جواپنی موج مستی میں مست، اپنی مرضی کرتے من پسند کام کوئی روکے ٹوکنے والا نہیں دُوسرا طبقہ متوسط اور غریب نوجوانوں کا ہے جو محنت سے پڑھتے ہیں اور ایک میانہ روی اختیار کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں متوازن رکھتے لیکن کبھی ان نوجوان کے اندر باغیانہ رویّہ اُبھارنے لگتا ہے ۔ نوجوان من چاہی خواہشات ابھرنے لگتی ہیں

    برہم ہوتے غصہ کرتے غلط قدم اٹھاتے ہیں اور اس کے بعد شدید اضطرابی کیفیت کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں جو ان کی زندگی میں بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں اور پھر بغاوت کی طرف چل بڑھتے ہیں اپنی کچھ ماہرِ نفسیات، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والےماہر سے پوچھا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ آج کا نوجوان باغی اس لئے اس کے پیچھے بہت سے بہت سے عوامل کار فرما ہیں اور ایسے حالات ہیں جو ان کو باغی بننے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
    آج کے نوجوانوں یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو لگتا ہے کہ ان کو کوئی سمجھتا نہیں، نا کوئی سنتا ہے وہ سمجھتے ہیں جو وہ کہے رہے ہیں وہ ٹھیک ہے باقی جو ان کوسمجھا رہے ہیں ان کو برا سمجھنے لگتے ہیں جسے کہ وہ ان کے دشمن ہوں۔ پھران کے اندر غصّے کے جذبات اُبھارنے لگتے ہیں، بالآخر وہ بغاوت پر اُتر ہی آتے ہیں۔ اور اپنے جذباتی قدم سے اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔

    نوجوان نسل معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں جو آںے والے یہ نوجوانوں ملک کامستقبل بننے ہیں نوجوان کسی بھی ملک کی معاشی، اقتصادی اور سماجی فلاح و بہبود و ترقّی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ جب نوجوان پڑھ لکھ کر نکلتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں کئی خواب ہوتے ہیں ہم یہ کرے گئے وہ کریں گے پہلا خواب تو اچھی ملازمت حاصل کرنے کا ہوتا ہے جس کے لیے وہ جگہ جگہ انٹرویو دیتے ہیں، کچھ جگہوں پر ناکامی دیکھنی پڑتی ہے جس کے باعث وہ فرسٹریشن اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر یہ کیفیت ان کو غلط صیحح کا فیصلہ نہیں کر پاتے اور باغی پن کا شکار ہوتے ہیں۔ نوجوانوں کی تربیت میں والدین کے ساتھ ساتھ استاتذہ بہت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ اس عمر کے نوجوان والدین سے زیادہ اپنے استاتذہ کی سنتے اور کچھ تو اپنے استاتذہ کی عادتوں کو اپناتے ہیں اور ان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں ۔

    والدین کو چاہییے ایسے نوجوانوں پر خاص توجہ دیں ایک طریقے سے ان ہو ہیڈل کرے جتنا ہو سکے ان عمر کے نوجوانوں کے ساتھ ٹایم گذارے تاکہ ان کو ان سیکورٹی محسوس نا ہو اور اپنی بتاوں کو شئیر کرے ان کو اپنا دوست بنائے ۔

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • افغانستان، عالمی طاقتیں اور نیا اکھاڑہ .تحریر: ارشد محمود

    افغانستان میں آخر کار وہ کام شروع ہوچکا ہے جس کا اندیشہ تھا اور میرے جیسے کچھ لوگ اس کا دبے لفظوں میں اظہار بھی کرچکے تھے ۔ آسان فتح اپنے پیچھے ہولناکی بھی لاتی ہے ۔ امریکا و دیگر عالمی طاقتوں نے جب دیکھا کہ ان کی تربیت یافتہ افغان فوج مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور پنج شیر میں بھی دوسرا گروپ حاوی ہوچکا ہے تو انھوں نے مبینہ طور پر اپنا وہ گروپ میدان میں اتار دیا ہے جس نے شام میں بالکل اس وقت اپنا آپ دکھا کر پانسہ پلٹ کر رکھ دیا تھا جب اسلام قوتیں کام یاب ہورہی تھیں ۔ وہاں پر بھی جب یہ طاقتیں ناکام ہوئیں تو انھوں نے داعش نامی بدنام زمانہ دہشت گرد جماعت کو میدان میں اتار کر مسلمانوں کے خون کو مزید ارزاں کردیا ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ داعش تو اپنے آپ کو اسلامی جماعت گردانتے ہیں اور علی الاعلان دعویٰ بھی یہی ہوتا ہے تو عرض صرف اتنی ہے کہ آپ کا مطالعہ جہاں کم ہے وہی آپ کی غور وخوض کرنے کی قابلیت بھی قدرے کم ہی ہے ۔ بہرحال اس وقت افغانستان سے عالمی طاقتیں اپنے افراد بڑی تیزی سے نکال کر افغانستان کو ایک نیا اکھاڑہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہوچکی ہیں ۔

    خبروں کے مطابق کابل ائیرپورٹ پر 2 خودکش دھماکوں میں بچوں ، خواتیں اور 13 امریکی فوجیوں سمیت 60 کے قریب افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے ۔ معلومات کے مطابق ایک دھماکہ ایئرپورٹ کے سامنے ہوٹل کے قریب ہوا۔ ہوٹل میں زیادہ تر برطانوی اہلکار ٹھہرے ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ دوسرا دھماکہ ایئرپورٹ گیٹ کے سامنے ہوا۔ ہدف کابل ایئرپورٹ کے باہر جمع لوگ تھے۔ عرب میڈیا کے مطابق طالبان نے ایئرپورٹ کے اطراف میں سکیورٹی سخت کردی اور لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ ائیر پورٹ پر دھماکے کے بعد زخمیوں کو ریڑھیوں پر ہسپتال لے جایا گیا۔ ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ امارت اسلامیہ کابل ایئرپورٹ پر شہریوں پر بمباری کی مذمت کرتی ہے۔ دھماکے کے مقام کی سکیورٹی امریکی افواج کے ہاتھ میں تھی۔ شرپسند حلقوں کو سختی سے روکا جائے گا۔ ترجمان طالبان نے کہا کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ کابل دھماکوں کی تحقیقات کا حکم اور خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔ کابل ہسپتال ایمرجنسی کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ دھماکوں کے 60 کے قریب زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی حکام کو یقین ہے کہ ایئرپورٹ حملے میں داعش خراسان گروپ کا ہاتھ ہے۔ امریکی سینٹ حکام کمانڈر جنرل میکنزی نے کہا ہے کہ کابل دھماکوں میں 12 امریکی اہلکار ہلاک اور 15زخمی ہو گئے۔ کابل ائرپورٹ پر حملے کے باوجود انخلاء آپریشن جاری رہے گا۔ حملے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ترجمان پینٹاگون جان کربی کے مطابق کابل ایئرپورٹ کے باہر دو دھماکے ہوئے۔ کابل ائرپورٹ کے ایبے گیٹ پر دھماکہ کمپلکس اٹیک کا نتیجہ تھا۔ دھماکے میں امریکی فوجی اور عام شہری دونوں ہلاک ہوئے ہیں۔ کابل ائرپورٹ سے اڑنے والے اطالوی فوجی طیارے پر فائرنگ کی گئی۔ کوئی نقصان نہیں ہوا۔ سربراہ نیٹو نے کہا ہے کہ اتحادی افواج ترجیحی بنیادوں پر کابل سے انخلاء کا عمل جاری رکھیں۔ پاکستان نے کل ایئرپورٹ دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے۔ متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔ بچوں سمیت قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی اطلاع ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا کابل دھماکوں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار بچوں سمیت دیگر افراد کی جان لئے جانے کے دلخراش واقعہ پر بے حد افسوس ہے۔ قائد حزب اختلاف کا متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ طالبان حکام نے داعش کی طرف سے ایئرپورٹ کے علاقے میں خودکش حملوں کا خطرہ ظاہر کیا تھا۔ علاوہ ازیں ڈیڈ لائن ختم ہونے میں 5 روز باقی، افغانستان سے امریکی انخلا میں تیزی آگئی، 24 گھنٹے کے دوران 19 ہزار افراد کو نکال لیا گیا۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے افغانستان میں موجود اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ کابل کے ہوائی اڈے پر دہشت گرد حملے کے خطرے کے پیش نظر وہاں جانے سے گریز کریں۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ طالبان نے 31 اگست کو انخلا کی آخری تاریخ کے بعد بھی امریکی شہریوں اور خطرے سے دوچار افغانوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ترک فضائیہ نے اپنے 345 فوجیوں کو اسلام آباد منتقل کیا۔ قندھار ایئرپورٹ بین الاقوامی پروازوں کیلئے کھول دیا گیا۔ غیرملکی پاسپورٹوں پر طالبان نے اسلامی امارات کی مہر لگائی۔ فرانس اور نیدرلینڈز کابل ایئرپورٹ سے اپنے شہریوں کے انخلاء کا آپریشن آج بند کردیں گے۔ بیلجیم نے اپنے تمام شہریوں کو افغانستان سے نکال لیا۔ حکومت بیلجیم نے کہا ہے کہ بدھ کو آخری 5 فلائٹس کابل اور اسلام آباد کے درمیان چلائی گئیں۔ یورپین کمشن نے کہا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو مہاجرین کیلئے سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ پاکستان سے بات چیت مہاجرین کی ممکنہ آمد کی تیاری کیلئے ہے۔رات گئے امریکی کماندر نے تصدیق کی ایئرپورٹ پر ہونے والے دونوں دھماکے خودکش تھے۔

    یہ ایک پہلا قدم ہے جو داعش کے نام پر اٹھایا گیا ہے ۔ اس کے بعد تسلسل سے یہ کام ہوتا رہے گا ۔ عالمی طاقتیں اس وقت کوشش میں ہیں کہ ان کے افراد زیادہ سے زیادہ افغانستان سے نکل سکیں ۔ یاد رہے کہ مکمل نہیں نکالے جائیں گے بلکہ چند ایک گم نام و غیر معروف افراد کو رہنے دیا جائے گا اور پھر آنے والے دنوں میں اسی طرح کے خود کش دھماکے ہوں گے اور طالبان کی شکل و صورت اختیار کرکے گھناؤنا کھیل کھیل کر انھیں بدنام کیا جاے گا۔ یہ ان کا پرانا وتیرہ ہے ۔ پاکستان پر پھر سے ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوچکی ہے ۔ اسے جہاں پاکستانی سرحدوں کو محفوظ رکھنا ہے وہی پر افغانستان میں داعش کو پاوں جمانے نہ دینا بھی اس کا سردرد ہوگا ۔ افغانستان میں داعش کا مطلب ہے کہ بھارت اسرائیل و امریکا ہمیں پھر سے گھیر کر بیٹھ جائیں ۔ کشمیر میں بھی تحریک آزادی کو اس سے دھچکا لگ سکتا ہے ۔ یہ میرا اپنا تجزیہ اور خیالات ہیں جو میں اپنی معلومات کے سہارے الفاظ میں ڈھال رہا ہوں ۔ داعش اور دیگر گروہوں کو طالبان کی حکومت کے خلاف استعمال کیا جاے گا اور ایک لمبی پراکسی وار کا کام شروع ہوگا ۔ طاقتوں کا پلڑا بے شک طالبان کا بھاری ہوگا لیکن اندرون خانہ حمایت دیگر گروہوں کی بھی ہوگی ۔ اس سب میں طالبان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ انھیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا اور احتیاط سے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اپنے پتے واضح کرنے ہوں گے۔ ایک بڑی اور لمبی جنگ پھر سے افغانستان کے دروازے پر کھڑی ہے جس میں افغانیوں کو ہی افغانیوں سے لڑوا کر اپنے مفادات کو سمیٹا جاے گا اور مزید ہولناکی کے لیے داعش کو بھی داخل کردیا گیا ہے ۔

  • ہماری قومی زبان اردو ہماری پہچان ،صائمہ رحمان

    زبان اظہار رائے کا سب سے حسین اور بہترین ذریعہ ہے کسی بھی ملک کی قومی زبان نا صرف اس کی شناخت ہوتی ہے بلکہ اتحاد و ترقی کی ضامن بھی ہوتی ہے زبان اس ملک کی معاشرت اور تہذیب اور تمدن کی بنیاد ہوتی ہے کسی بھی قوم کی ترقی قومی زبان پر منحصر ہے ہوتی ہے امریکہ جرمنی جاپان اور فرانس ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے وہ اس لئے انھوں نے اپنی اپنی زبانوں کو بہت فوقیت دی اور قومی زبان کو ذریعہ تعلیم اور سرکاری زبان زبان کے طور پر فروغ دیا۔ دوسری طرف ایک عظیم مثال ہمارے چینی بھائیوں نے قائم کی انھوں نے اپنی چینی زبان کو فروغ دیا۔

    خود دار اور با وقار ملک ہمیشہ اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنی زبان کی قدر کرتی ہیںجو ان کی پہچان کا ذریعہ بنتی ہیں قدر اور فخر محسوس کرتی ہیں۔ اپنی زبان کی اہمپت اندازہ تبھی ہوتا ہے جب کسی بیرون ملک میں جا کر اپنی زبان کے علاوہ دوسری زبان کو فوقیت دی جانا مجوری بن جاتی ہے اردو زبان واحد زبان ہے جس میں تازگی اپنا پن محسوس ہوتا ہے اردو زبان بول کر ہم باآسانی اپنی بات اپنے پیغام کو پہنچا سکتے ہیں جواثر بھی کرتی ہے دنیا میں جن قوموں نے ترقی کے مراحل تیزی سے طے کئے ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ اپنی ثقافت اوراپنی قومی زبان کو اہمیت دی ہے زبان کسی بھی ملک شناخت ہوتی ہے۔

    اس اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انگریزی زبان اور دوسری زبانیں بیرونی دنیا سے رابطے کا ذریعہ بنتی ہےباقی زبانوں کی اپنی جگہ اہمیت افادیت اپنی جگہ موجود ہے۔ انگریزی زبان کوبین الاقوامی معاملات زیر بحث لائیں ہم اپنے مقصد کو پورا نہیں کر سکتے۔ لیکن ہماری قومی زبان اردو کی اہمیت اپنی ہی جگہ ہے ترقی یافتہ ممالک اپنی قومی زبان کو ہمیشہ ہر معاملے میں اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
    قومی زبان کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتی ہے جو قومیں اپنی زبان، تہذیب و ثقافت اور ورثے کا خیال رکھتی ہیں وہی دنیا میں ترقی کرتی ہیں اردو پاکستان کی قومی زبان اور دنیا میں بولی جانے والی پہلی پانچ زبانوں میں سے ایک ہے،

    اردو کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہندوستان پر برطانوی راج کے دور میں شمالی ہندوستان میں اردو رابطے کی سب سے موثر زبان کے طور پر تسلیم کی گئی تھی اور یوں سرکاری طور پر اردو نے فارسی کی جگہ لے لی۔

    1837 میں اردو کو انگریزی کے ساتھ سرکاری درجہ حاصل ہوا۔ یہ زبان مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان بھی موثر ترین پل کے طور پر استعمال ہوتی تھی اس موقع تک ہندوستانی زبان نستعلیق رسم الخط ہی میں لکھی جا رہی تھی اور اس وقت اردو اور ہندی کو دو الگ الگ زبانوں کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا۔ ایسے میں آریا سمائی احتجاج شروع ہوا، ہندوستانی کے لیے مقامی دیوناگری رسم الخط پر زور دیا گیا۔ اسی تناظر میں ہندوستانی زبان کو دو الگ الگ رسم الخط میں لکھا جانے لگا اور یہیں سے اردو اور ہندی کی راہیں جدا ہوئیں۔
    اس دور میں اردو بولنے والے معاشرے کے سامنے ایک بہت ہی اہم مسئلہ اپنی زبان ، اپنی ثفاقت اور تشخص کا تحفظ کا ہے زبان کا لکھنا پڑھنا اور اس کی نظم ونثر کا تعارف ، حساب، ماحول کی سمجھ اور مل جل کر رہنے کی صلاحیت شامل ہے پرائمری تعلیم کے بنیادی مقاصد میں زبان اور کلچر کا تحفظ اور آگے منتقلی ہے اردو زبان کے سکھنے کے لئے پانچ سال بہت ہوتے ہیں ۔ اسے اورمنظم مربوط اور موثر بنائیں اس کی جدید کاری پر توجہ دی جائے

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • فری لانسنگ کیا ہے؟  تحریر:اقصٰی یونس

    فری لانسنگ کیا ہے؟ تحریر:اقصٰی یونس


    ‎فری لانسنگ ایک ایسا لفظ ہے جس کو سنتے ہی ہر شخص شیخ چلی کی طرح خیالات کی دوڑ میں دوڑتا چلا جاتا ہے اور اسے دوڑ میں وہ ڈالروں کی بارش میں خود کو مکمل طور پر ڈوبا ہوا محسوس کرتا ہے ۔ اور سوچتا ہے کہ بس اب تو راوی چین ہی چین لکھے گا اور زندگی بڑی پرسکون گزر جائے۔اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو مبارک ہو، آپ کے خیالات بھی باقی نئے فری لانسز جیسے ہی ہیں

    تو اصل میں فری لانسر دو الفاظ کا مجموعہ ہے یعنی فری اور لانسر ۔ مگر ان کے اصطلاحی معنی قدرے مختلف ہیں
    ‎۔ free مطلب مفت نہیں، یہاں free
    ‎اور lancer انگریزی میں اس فوجی کو کہتے ہیں جو ایک لمبا نیزہ لیے جنگ کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔۔
    ‎اس لحاظ سے فری لانسنگ کا مطلب ہوا، آزاد فوجی۔
    جی بالکل ایک آزاد فوجی جو اپنے کام میں مکمل آزاد ہو ۔یعنی
    ‎آپ فری لانسر نہیں ہیں آپ ایک آزاد فوجی ہیں جس نے ایک جنگ پر جانا ہے۔
    مگر اپنی رضامندی اور پوری مرضی کے ساتھ ۔

    ‎ایک عام فوجی اپنے ہتھیار لیے ، اپنے افسر کے حکم کا تابع ہو تا ہے، یہاں افسر نے جنگ کا حکم آنے سے لے کر جنگ لڑنے تک اور اسکے بعد کے تمام احکامات میں آپ افسر بالا کے پابند ہیں ۔ اسکی مثال آفس کی نوکری سے لی جا سکتی ہے یعنی آپ کام کرتے ہوئے اپنے سے اعلی افسر کے پابند ہوتے ہیں
    ‎جس میں روزانہ آپ کو روزانہ حکم بجا لاتے ہوئے ہدایت کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے اور مہینے کے اختتام پر آپ کو اپنی تنخواہ مل جاتی ہے

    اس طرح آزاد فوجی وہ ہوا جسے اپنی جنگ کیلئے نہ تو کسی کا حکم کا انتظار ہے اور نہ وہ کسی کے حکم کا پابند ۔ اسے اس جنگ کی تیاری بھی خود کرنی ہے اپنی کمر کو کس کر میدان میں بھی خودی اترنا ہے اور آخر میں جنگ لڑنی بھی خود ہی ہے۔ تو آپکا جو بھی کام ہے وہ جنگ ہی ہوا نہ ۔

    فائیور پہ اکائنٹ بنانے سے لے کر اپنا پہلا آدڑد مکمل کر لینے تک آپ کے کئے گئے سارے کام جنگ کے زمرے میں ہی آتے ہیں ۔ اتنے سارے فری لانسرز کی دوڑ میں آرڑد لینا بھی تو کسی جنگ سے کم نہیں مگر آپ اس جنگ میں کسی کے پابند نہیں آپ اپنا آرڈر دن کو مکمل کریں یا رات کے وقت ۔ آپ اسے اپنے بیڈ روم میں بیٹھ کر کریں یا ڈرائنگ روم میں آپ آزاد ہیں ۔

    اس جنگ میں آپ اپنے ہتھیار یعنی سکلز بھی اپنی مرضی سے چنتے ہیں ۔ آپ چاہے ڈیزائینر بننا چاہیں چاہیے ایک کنٹینٹ رائیٹر ۔ یہ تمام باتیں بھی مکمل طور پہ آپ کی مرضی پہ منحصر ہیں ۔

    بس اس جنگ میں آپ کو محنت لگن اور جذبے کی ضرورت ہے اپنے آپ کو اور اپنے ہتھیاروں کو زنگ لگنے سے بچانا ہے اور اس جنگ میں محنت لگن ایمانداری سے اپنی فتح کے جھنڈے گاڑنے ہیں ۔
    <Writer Aqsa Younas


     Aqsa Younas

    Aqsa Younas is a Freelance Journalist Content Writer, Blogger/Columnist and Social Media Activist. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes columns on political, international as well as social issues. To find out more about her work on her Twitter account

      

     


    https://twitter.com/AqsaRana890

  • ناکامیوں کے بعد ملتی ہیں کامیابیاں   صائمہ رحمان

    ناکامیوں کے بعد ملتی ہیں کامیابیاں صائمہ رحمان

    ناکامی کامیابی کی کنجی ہے کچھ لوگ ناکامی کو اپنی جیت تصور کر کے آگےبڑھتے ہیں اور آخری کوشش تک اپنا مقصد حاصل کرنے کی بھرپور محنت کرتے ہیں اس مقصد کو حاصل کر کے ہی سکون لیتے ہیں ایسے لوگ اپنی زندگی میں کبھی ناکام نہیں ہوتے کیونکہ وہ اپنا پختہ ادارہ ان کو کمزور نہیں ہونے دیتا زندگی میں ہار جیت زندگی کے ساتھی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کو جیت تھوڑی محنت کر کے جلدی مل جاتی ہے کسی کو بہت محنت اور آزمائشوں کے بعد نصیب ہوتی ہے آزمائشوں میں کامیابیوں کا راز پوشیدہ ہے۔
    کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جلد ہی ہار مان لیتے ہیں اور تھوڑی سی ناکامی کے بعد ہی اپنے اس مقصد کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ اور پھر اپنے مقصد سے دور ہو جاتے ہیں کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جان توڑمحنت کرنی پڑھتی ہے پھر ہی اپنا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ وہی لوگ کامیاب ہیں جو ہار کر بھی ہاتے نہیں اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔
    کامیابی ہمیشہ ان کو حاصل ہوتی ہے جو اپنے ارادوں پر یقین کے ساتھ ڈٹے رہتے ہیں کہ ہم نے کرنا سو کرنا ہی ہے اور مسلسل محنت کرتے ہیں، کامیابی ایک دن میں حاصل نہیں ہوتی، اس کے پیچھے سالوں کی محنت اور پختہ اعتماد اور یقین شامل ہوتا ہے
    کامیابی حاصل کرنے کے کچھ اصول بھی ہیں ہمیشہ مثبت سوچ رکھی جائیں آپ زندگی میں جو کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں آپ کی سوچ سے اس کا براہ راست تعلق ہوتا اپنے خیالات اور سوچ کو بڑا رکھنا چاہئیے اچھا مثبت سوچیں، منفی خیالات اور ہار جانے کے ڈر کو ذہن سے نکال دیں، اسی لیے مشہور کہاوت ہے کہ اچھا سو چو گے تو اچھا ہی ہوگا۔ مثبت رویہ زندگی میں آپ کو وہ سب کچھ حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے جو کچھ آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں، مثبت انداز اور تحمل مزاجی سے کام لیا جائے ۔
    اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو اعتدال کے ساتھ چلیں زندگی میں اعتدال کا ہونا بہت لازمی ہے، ایک چھوٹا سا غلط یا جذباتی فیصلہ آپ کی محنت پر پانی پھیر سکتا ہے، ہر کام سوچ سمجھ کر کیا جائے اور اصولوں کے مطابق کریں، زندگی میں پختہ ارادے اور اعتدال ہر مقصد میں آپ کو کامیاب کر سکتا ہے۔
    اپنی ناکامی کو تسلیم کریں زندگی میں کوئی بھی انسان پہلی دفعہ ہی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو جاتا، ہر کامیاب انسان کے پیچھے کئی ناکامیاں، غلطیاں ہوتی ہے اور بہت سی کہانیاں بھی اپنی ناکامی کو تسلیم کریں اور اس پر پچھتا کر وقت ضائع کرنےسے اس سے بہترہے کہ اس بات کا اندازہ لگائیں کہ جو غلطی ہم نے کی ہے وہ دوبارہ ہم سے نا ہو۔
    جیسے کہا جاتا ہے کہ خاموشی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے، اسی طرح کہا جاسکتا ہے کہ انسان کی ہر ناکامی، اس کی آنے والا قوت کامیابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے فلسفیوں کا کہنا ہے کہ زندگی کامیابی اور ناکامی سے متصل ہے اس لئے مثبت مزاج میں کامیابی اور ناکامی دونوں کو سنبھالنے کی صلاحیت ہونا چاہئے. زندگی میں اگر کامیابی چاہتے ہیں تو زندگی میں ہار نا مانی جائے ہار کر بھی جیت کی تلاش کی جائے ہمت حوصلہ بڑھائے رکھے پھر کامیابی آپ کے قدم چھومے گی۔
    سیکھتے رہیں اور آ گے بڑھتے جائیں زندگی اسی کا نام ہے خود کو آزمایا جائے اور نئے تجربات کریں، اگر زندگی میں کوئی مقصد نہیں زندگی بے سود تبدیلی سے گھبرائیں نہیں بلکہ اسے خوش آمدید کہیں، خود کو ہمیشہ متحرک اور مثبت رکھیں اور آگے بڑھتے جائیں، خود کو ہر وقت سیکھنے کے مراحل میں رکھیں۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • اللہ کی خاطر محبت، فوائد و نشانیاں تحریر: رمیز راجہ

    "ایمان کی سر بلندی یہ ہے کہ الله کے لئے دوستی ہو اور الله کے لئے دشمنی ہو، الله کے لئے محبت اور الله کے لئے نفرت ہو۔”
    سب سے پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی خاطر یا اس کی رضا کے لیے محبت کرنے سے کیا مراد ہے، اُس کی صِفات کیا ہیں ؟ جن کی موجودگی میں اُس کی پہچان ہو تی ہے ؟ اِن شاء اللہ آج ہم اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم مُحمدؐ کے فرامین مُبارکہ میں اِن سوالات کے جوابات کا مطالعہ کریں گے ۔
    اجمالی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کی خاطر مُحبت وہ ہے جِس میں کوئی مُحب کسی کو صِرف اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اپنا مَحبُوب رکھے اور پھر وہ مُحب اپنے مَحبُوب کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کی طرف بلاتا رہے اور اس میں اس کا مددگار رہے ، اور نافرمانی سے روکتا رہے اور نافرمانی سے رُکے رہنے میں اُس کا مددگار رہے ، اُسے کفار و مشرکین اور اہل بدعت سے محفوظ رہنے میں اُس کا مددگار رہے ۔ عموما ً لفظ مُحبت سن کر اُن جذبات کا خیال آتا جو دو متضاد جنسوں میں ایک دوسرے کے لیےپائی جانے والی رغبت کی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں ، جبکہ مُحبت صِرف اُنہی جذبات کا نام نہیں بلکہ مُحبت انسانوں میں تو کیا بعض جانوروں کے درمیان پائے جانے والے رشتوں اور تعلقات میں تقریباً ہر رشتے اور تعلق میں موجود ہوسکتی ہے ۔ مُحبت انسانی جذبات میں سے سب سے زیادہ نازک ، لیکن مضبوط اور تُند و تیز جذبہ ہے ، اور اگر یہ جذبہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دِیا جائے تو اِس جذبے کی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔
    اللہ کی خاطر مُحبت کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب رسول کریمؐ کی اُمت کو جو نعمتیں عطاء فرماتا ہے، اور اس مُحبت کے جو عظیم فوائد ہیں اُن سب کی بہت سی خبریں ہمیں دی گئی ہیں ، اور انہی خبروں میں اللہ کی خاطر ایک دوسرےسے مُحبت کرنے والوں کی ، اور محبت کی نشانیاں بھی بتائی گئی ہیں ، ان خبروں کا بغور مطالعہ ہمارے لیے اُن سوالات کے جوابات مہیا کرنے والا ہے جو میں نے اپنی بات کے آغاز میں پیش کیے تھے، آئیے اُن خبروں میں سے کچھ کا مطالعہ کرتے ہیں۔
    اللہ کی خاطر محبت کرنے کےفوائد:
    1۔ تکمیل اِیمان کے اسباب میں سے ہے۔
    ابی اُمامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے اِرشاد فرمایا،” جِس نے اللہ کی خاطر مُحبت کی ، اور اللہ کی خاطر نفرت کی، اور اللہ کی خاطرہی (کسی کو کچھ) دِیا ، اور اللہ ہی کی خاطر(کسی کو کچھ)دینے سے رُکا رہا ، تو یقیناً اُس نے اپنا اِیمان مکمل کر لیا” (سنن ابو داؤد)
    2۔ ایمان کی مضبوطی کے اسباب میں سے ہے۔
    رسول اللہ ؐ نے ابو ذر الغِفاری سے فرمایا، ” اے ابو ذر کیا تُم جانتے ہو کہ اِیمان کی سب سے زیادہ مضبوط گرہ کونسی ہے؟”۔ ابو ذر نے عرض کیا، ” اللہ اور اس کے رسول ہی سب سے زیادہ عِلم رکھتے ہیں”۔ تو رسول اللہ ؐ نے اِرشاد فرمایا، ” اللہ کے لیے دوستی رکھنا ، اور اللہ کے لیے دُشمنی رکھنا ، اور اللہ کے لیے مُحبت کرنا ، اور اللہ کے لیے نفرت کرنا”۔
    3۔ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی مُحبت پانے کے اسباب میں سے ہے۔
    مُعاذ ابن جبل کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہؐ کو اِرشاد فرماتے ہوئے سُنا کہ، "اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمانا ہے کہ میرے لیے آپس میں مُحبت کرنے والوں، ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے والوں ، اور ایک دوسرے کو جا کر ملنے والوں ، اور (ایک دوسرے کی خیر کے لیے) اپنی قوتیں صرف کرنے والوں کے لیے میری مُحبت واجب ہوگئی”۔
    4۔ قیامت والے دِن بھی یہ مُحبتیں قائم رہیں گی۔
    "اُس دِن سب ہی دوست دُشمن بن جائیں گے سوائے تقویٰ والوں کے "۔سُورت الزُخرف (43)/آیت67
    5۔ انبیاء اور شہداء کے لیے بھی پسندیدہ درجہ حاصل ہونےکے اسباب میں سے ہے۔
    رسول اللہ ؐکے دوسرے بلا فصل خلیفہ امیر المؤمنین عُمر الفارق کا فرمان ہے کہ رسول اللہ ؐنے اِرشاد فرمایا، "بے شک اللہ کے بندوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے،جو انبیاء میں سے نہیں اور نہ ہی شہیدوں میں سے ہوں گےلیکن قیامت والے دِن اللہ کے پاس اُن کی رتبے کی انبیاء اور شہید بھی تعریف کریں گے "۔ صحابہ نے عرض کیا، ” اے اللہ کے رسول ہمیں بتایے کہ وہ لوگ کون ہیں ؟ "۔ تو اِرشاد فرمایا، ” وہ(صِرف )اللہ کی خاطر مُحبت کرنے والے لوگ ہوں گے ، (کیونکہ ) اُن کے درمیان نہ تو (اِیمان کے عِلاوہ)کوئی رشتہ داری ہو گی اور نہ ہی کوئی مال لینے دینے کا معاملہ ، پس اللہ کی قَسم اُن کے چہرے روشنی ہی روشنی ہوں گے اور وہ روشنی پر ہوں گے ، جب (قیامت والے دِن) لوگ ڈر رہے ہوں گے اور غم زدہ ہوں گے تو وہ نہیں ڈریں گے ، اور نہ ہی غم زدہ ہوں گے "۔

    اللہ کی خاطر مُحبت کرنے والوں کی نشانیاں:
    1۔ ایک دوسرے کو نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے باز رہنے کی تلقین کرنا اور ان دونوں ہی کاموں کی تکمیل میں ایک دوسرے کی مدد کرنا۔
    2۔ ایک دوسرے کے دُکھ درد کو بالکل اپنے دُکھ درد کی طرح محسوس کرنا ، اور ایک دوسرے پر رحم و شفقت کرنا اور مددگار رہنا۔
    3۔ ایک دوسرے کو برائی سے روکنا اور ظلم سے بچانا۔
    اللہ تبارک و تعالی ٰ ہم سب کو اور ہر ایک کلمہ گو ایک دوسرے سے صرف اور صرف اللہ کے لیے مُحبت کی توفیق عطاء فرمائے اور ہمارے اختلافات کو ہماری مُحبت کے خاتمےکا سبب نہ بننے دے ، بلکہ اُسی مُحبت میں ایک دوسرے کی اصلاح کی نیک کوششوں کی ہمت دے ۔ آمین!

  • سوشل میڈیا اور ہم تحریر: صائمہ رحمان

    سوشل میڈیا اور ہم تحریر: صائمہ رحمان

    اکیسوی صدی میں دنیا نے تیزی سے کی ترقی پہلے فاصلے طے کرنے کے لئے پہلے دنوں اور مہینوں کا سفر کرتے تھے لیکن اب جدید ٹیکنالوجی نے یہ فاصلے سکینڈ کے کر دئیے ہیں پہلے رابطوں کا سلسلہ خط و کتابت سے ہوتا تھا پھر اس کی جگہ ٹیلی فون نے لے لی مواصلاتی سروس کا آغاز کیا گیا جس میں چند لفظوں پر مشتمل مختصر پیغام بھیجا جا سکتا ہے جدید ٹیکنالوجی کی بدولت انسان نے اپنی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کیا پہلے حساب کتاب تحریری طور پر رکھا جاتا تھا پھر اس کی جگہ کمپیوٹر نے لے لی جس میں تمام ڈیٹا محفوظ کیا جانے لگا۔
    انٹرنیٹ کے آغاز سے دنیا سمٹ گئی فاصلے مٹ گئے اور اب انٹرنیٹ کے ذریعے ہم مختلف ایپلیکشنز کے ذریعے ویڈیو کالز سے ہم اپنے عزیز و اقارب سے گفتگو کر سکتے ہیں۔
    گذشتہ پچاس سال ٹیکنالوجی کے عروج کے سال مانے جاتے ہیں ہماری نسل اس دور سے تعلق رکھتی جس نے جدید ٹیکنالوجی کا ہر دور اور اس میں آنے والااتار چڑھاﺅ بڑے قریب سے دیکھا ۔
    ٹیلی ٹیکس نیٹ ورک ایک ٹیلیفون نیٹ ورک کی طرح ٹیلی پرنٹ کرنے والا عوامی سوئچ شدہ نیٹ ورک تھا ، جو متن پر مبنی پیغامات بھیجنے کے مقاصد کے لئے تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور میں کاروبار کے مابین الیکٹرانک طور پر تحریری پیغامات بھیجنے کا ایک بڑا طریقہ ٹیلی کام تھا۔ اس کا استعمال زوال پذیر ہوا کیونکہ 1980 کی دہائی میں فیکس مشین کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔
    ٹیلی پرنٹر سے G 5 تک کا سفر کوئی بہت طویل نہیں یہ صرف گذشتہ پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے اخبارات میں ٹیلی پرنٹر پر نیوز ایجنسیوں کی خبریں اور ٹیلیکس پر پیغامات اس کے بعد فیکس مشین کی آمد کو جدید ترین تصور کیا گیا لیکن 2 G سے 3 G کی سیریز نے دنیا کو یکسر تبدیل کر کے رکھا دیا ہے اب سماجی رابطوں ویب سائٹس یا سوشل میڈیا کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے ۔
    سوشل میڈیا وہ ڈیجیٹل ٹول ہے سوشل میڈیا سستا اور آسان رابطے کا ذریعہ ہے جو صارفین کو عوام کے ساتھ جلدی سے مواد تیار کرنے اور ان کا اشتراک کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ اور ایپس کی ایک وسیع رینج رکھتا ہے کچھ ، جیسے ٹویٹر ، روابط اور مختصر تحریری پیغامات کو بانٹنے میں مہارت رکھتے اس وقت دنیا میں بے شمار سائٹس موجود ہیں جن کے ذریعہ سوشل میڈیا یا نیٹورکنگ کا حصول ممکن ہے۔تاہم چند ایک سوشل میڈیا کمپنیاں ہیں جن کو اس سلسلہ میں خاص مقام حاصل ہے مثلا فیس بک، ٹویٹر، سنیپ چیٹ، انسٹا گرام، پن ٹرسٹ وغیرہ۔ یہ تقریبا ناممکن ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگوں کو ان سے واقفیت نہ ہو۔ اب ہم ان کے مقاصد پر مختصر بات کرے گے تاکہ صارفین کو ان سے متعلق آگائی میںآسانی ہو کہ وہ کس سائٹ کو کس مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
    فیس بک سوشل نیٹورکنگ کے حوالے سے سرفہرست ہے بنیادی طور پر اس کا مقصد آپ کو اپنے دوست احباب سے رابطے میں مدد دینا ہے آپ اپنے روز مرہ کے معمولات یا خاص مواقع ان کے ساتھ شئیر کر سکتے ہیں چونکہ اس کے صارفین کی تعداد بہت بڑی ہے اور اس کے ذریعہ خبر بہت جلدی پھیلتی ہے لہذا اس میں آپ کسی قسم کے کاروبار کی تشہیر بھی کر سکتے ہیں۔ چند بنیادی فیچرز میں ٹیکسٹ، تصاویر، ویڈیوز، ٹیگ، آڈیو/ویڈیو چیٹ، گروپ چیٹ وغیرہ شامل ہیں۔
    اگرچہ کوئی بھی فرد سوشل میڈیا کے لئے سائن اپ ہوسکتا ہے ، لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہر قسم کے کاروبار کے مارکیٹنگ کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔ کامیاب سوشل میڈیا ورکزبنے کی کلید یہ ہے کہ اس کو کسی اضافی ضمیمہ کی طرح نہ سمجھا جائے بلکہ اس کی خاص خیال احترام اور توجہ کے ساتھ استعمال کیا جائےجس کی آپ اپنی ساری مارکیٹنگ کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ کاروباری اداروں کو سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ذہن میں رکھنا چاہئے۔
    ٹویٹر فیس بک سے قدرے مختلف ہے کیونکہ ایک تو اس میں پیغام کی ایک حد مقرر ہے جو کہ تقریبا 165 حروف پر مشتمل ہے دوسرا اس میں آپ کاسوشل سرکل فرینڈس تک محدود نہیں ہوتا بلکہ آپ کسی کو بھی فالو کر سکتے ہیں۔ آپ مختصر پیغام ،تصاویر، متحرک تصاویر اور ویڈیوز شامل کر کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن ان دنوں ٹویٹر کا استعمال ہمارے سب نیوز چینلز سیاست دانوں اور مشہورشخصیات میں ہونے لگا ہے یہ ابلاغ کا مو ¿ثر و مقبول ذریعہ بن چکا ہے۔ آپ کسی بھی شخصیت کو فالو کر کے اس کے پیغامات کی اپ ڈیٹ حاصل کر سکتے ہیں اور ری-ٹویٹ کے ذریعہ آگے پہنچا سکتے ہیں۔ ٹویٹر کو کسی حد تک خبروں کا آفیشل ذریعہ مانا جاتا ہے۔انسٹا گرام تصاویر اور ویڈیوز کا تیز ترین سوشل نیٹورک ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ استعمال میں سہولت، فوٹو فلٹرز مہیا کرنا اور دیگر سوشل نیٹورکس پر آسان شئیرنگ ہے۔
    ایک سروے رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا سے براہ راست ا?ن لائن کاروبار کی نمائش سے آمدنی میں 70 سے 80 فیصد تک اضافہ ممکن ہے کیونکہ بذریعہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا ایک محدود پیمانے پر اشیاءکو پیش کیا جا سکتا ہے۔ مگر سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پروڈکٹ متعارف ہو جاتی ہے۔ گوگل کی پیش کردہ اشتہاری مہم نے ان لائن کمائی اوراشتہارات کا کافی فروغ دیا ہے۔
    انٹرنیٹ انقلاب کا ایسا دور ہے جس نے سوچ اوراظہار ران کا عالمی منظر نامہ بدل دیا۔انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے اعدادو شمار کے مطابق دنیا کی نصف سے زائد آبادی 56.1 فیصد انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے۔ جبکہ گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا کے صارفین کی تعداد 37تقریباملین ہے جو کل آبادی کا تقریبا اٹھارہ فیصد ہے۔
    ترقی یافتہ اور ترقی پذیر مما لک میں انٹرنیٹ کے صارفین کی شرح میں کافی فرق ہے۔ترقی یافتہ ملکوں میں انٹرنیٹ صارفین کی شرح 81فیصد ہے۔ دو ہزار ا ٹھا رہ کے اعدادو شمار کی مطابق دنیا میں 100ملین سے زائد افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا تقریبا اکیس فیصد موبائل انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے۔موبائل سبسکرپشن 150 ملین سے زائد ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ سے دو ہزار انیس تک موبائل سبسکرپشن میں آٹھ ملین کا اضافہ ہوا۔دنیا میں کتنے لوگ آن لائن ہیں ؟ کیا مرد اور عورتیں یکساں تناسب سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرتی ہیں ؟۔ خواتین انٹرنیٹ صارفین کی تعداد مردوں کی نسبت تقریبا250ملین کم ہے۔خواتین کی ایک بڑی تعداد گھر بیٹھے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی کمائی کے ذرائع بھی بڑھا رہی ہیں۔ بالخصوص فیس بک پیجز اور انسٹا گرام کے ذریعے مختلف بزنس کر رہی ہیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین کی موجودگی معاشرے میں خواتین کی حیثیت میں مثبت تبدیلی کے لئے بہت اہم ہے۔
    خواتین آرٹ کلچر سے لے کر سرمایہ کاری اور انجینرنگ جیسے شعبوں میں آگے بڑھنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں۔ وہ ادارے جو خواتین کی معاشرے میں حیثیت منوانے کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں ان کو سوشل میڈیا پر خواتین کی براہ راست شمولیت کو بڑھانے پر توجہ دینی ہو گی سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے تحقیق سے پہلے ہی خبر پوری دنیا میں پہنچ جاتی ہے جالی اکاونٹس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے لیکن جہاں سوشل میڈیا نیٹ ورک کو مثبت مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہاں اس کا غیر ضروری استعمال بھی کیا جا رہا ہے سنسنی خیزی بھی پھلانے کی بھی کوشش کی جاری ہے بے معنی عام اظہار ،ناشائستہ زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

    اس کے بہت سے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں اس لئے ہمیں اپنے آپ کو ایسے لوگوں سے خبر دار رکھنا ضروری ہے جو سوشل میڈیا پر فساد،بدعمنی،لڑائی جھگڑے اور غلط خبریں پھیلاتے ہیں کوئی بھی بات بغیر تحقیق کے شیئر نہ کریں ہمیشہ سماجی و یب سائٹس پر اچھی اور حق و صداقت پر مبنی خبریں شیئر کریں جو آپ کے لئے صدقہ جاریہ بھی ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر جعلی اکانٹس رکھنے والوں کو کڑی سزا دے، لہذا ہمیں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کرنے چاہیے تاکہ ہمارے معاشرے میں مثبت سوچ پروان چڑھ سکے۔
    وفاقی حکومت نے ٹوئٹر، فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی ہے پاکستان کے سائبر قوانین کے مطابق عمل کرنا ہو گا، بصورت دیگر انہیں بلاک کر دیا جائے گا اور تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتاکہ فیس بک یا یوٹیوب جیسی بڑی کمپنیاں پاکستانی قانون کی وجسے یہاں اپنے دفاتر کھولیں اور سٹاف رکھیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے حکومت سوشل میڈیا نیٹ ورک پر پابندی لگاتی رہی ہیں۔نئے رولز کا مقصد ’سکیورٹی ادروں اور ملکی سلامتی کے خلاف اور مذہبی منافرت پھیلانے والے مواد کو بھی کنٹرول کرنا ہے۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • اصل قصوروار .تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    اصل قصوروار .تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    مینار پاکستان پر جو بھی واقعہ پیش آیا یقیناً افسوس ناک تھا اور اسکی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے
    لیکن یہ میڈیا اور پاکستان کے خلاف بغض رکھنے والے لبرل ٹولے نے یہ کیا تماشا شروع کر رکھا ہے کہ
    ایک بیچاری لڑکی کو چارسو بغیرت مردوں نے نوچ لیا کوئی بھی غیرت مند نہ نکلا؟
    ان کے پاس لوگوں کی غیرت ناپنے کا کیا پیمانہ ہے؟
    کیا ثبوت ہے کہ اس عورت کو ڈالا جانے والا ہر ہاتھ اسے رسوا کرنے کیلئے تھا؟
    وہ ہاتھ اس کی حفاظت کے لیے اور بچاو کے لیے بھی توہو سکتا ہے نا؟
    کیسے دی جاسکتی ہے یہ سٹیٹمنٹ کہ سب مرد بھیڑیے تھے؟

    اگر واقع ہی وہاں موجود سب مرد عورت کی بے حرمتی کے لیے اکھٹے ہوئے ہوتے تو آج محترمہ کی بوٹیاں بھی نہ ملتیں معذرت کے ساتھ!!!!!
    اگر دس بارہ آوارہ لڑکوں کے ساتھ اس کی لڑائی ہوگئی تھی تو یقیناً باقی ویلی عوام اس تماشے کو دیکھنے کیلئے اکٹھی ہوئی ہوگی۔اور باقی کچھ عورت کے بچاو کے لیے۔
    ویسے جب مرد اور عورت برابر ہیں تو وہ ہاتھا پائی بھی تو سکتی ہے نا واویلا کیسا؟

    لڑکے لڑکے بھی تو لڑتے ہی ہیں لڑکی لڑکا لڑ پڑے تو اب عورت کو عورت کارڈ کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟ ہمارے ملک کو تباہ ہی یہ لبرل اور ان کی گندی سوچ نے کیا ہے۔ یہ گندے لوگ آپس میں ہی لڑ مر کر معاشرے کی بربادی اور بدمامی کا سبب بن رہے ہیں ۔کبھی آزاد خیال نور مقدم اپنے ہی بوائے فرینڈ کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہے تو کبھی عائشہ آوارہ لونڈوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتی ہے

    لیکن بدنام کون ہوتا ہے؟
    ہم سب عورتیں
    ہم سب مرد
    سب پاکستانی
    نور مقدم کو بھی بے دردی سے قتل کر کے اس کا سر تن سے جدا کر دیاگیا پھر لبرل قاتل اس کے سر کے ساتھ کھیلتا رہا یقیناً ظلم ہوا۔نور کے ماں باپ کو زندگی بھر کا روگ لگ گیا لیکن کیا اس سب میں قصوروار صرف قاتل اور اسکی ذہنی گندگی تھی؟؟ کیا پورا لبرل ٹولا قصوروار نہیں تھا جس نے ماڈرن بننے کے لیے بے حیا بننے کو لازم قرار دے دیا ہے؟
    تو اب ہم مقتولہ کے غم میں کیوں نڈھال ہوتے رہیں؟اللہ اسکی مغفرت فرمائے بس۔

    جب ان عورتوں کو گھر پہ ٹکنے اور باہر نکلتے ہوئے مناسب لباس پہننے اور پردہ کرنے کا کہا جاتا ہے تو یہ خواتین اسے اپنی توہین سمجھتی ہیں قید سمجھتی ہیں آزادی چاہتی ہیں تو لے لیں آزادی کے مزے اب رونا پٹنا کیوں ڈال رہی ہیں؟
    ابھی تو شروعات ہے اگر ہمارا میڈیا اور لبرل ٹولا مل کر ایسے ہی نوجوان نسل کے دماغوں میں گند بھرتے رہے تو ایسے اور بھی واقعات پیش آئیں گے
    تواتر سے پیش آئیں گے
    اور ہماری یہ مزمت ان واقعات کو بالکل کنٹرول نہیں کرسکے گی۔
    اس لیے ابھی بھی ہوش کے ناخن لیں اور لوٹ آئیں اپنے دین کی طرف۔چھوڑ دیں بے حیائیاں اور اور الله کی حدود کو پامال کرنا خدارہ چھوڑ دیں
    چھوڑ دیں وہ تمام حرکتیں جن کا انجام اتنا بھیانک نکلتا ہے کہ انسانیت کیا حیوانیت بھی شرما جائے

  • افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال، افغان سیاسی وفد کا پاکستان دورہ ،تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال، افغان سیاسی وفد کا پاکستان دورہ ،تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان میں20 سال بعد ایک بار پھر طالبان کے قبضے نے افغان شہریوں اور عالمی برادری کے ذہنوں میں نئے سوالات جنم رہے ہیں کہ کیا طالبان پہلے کی طرح سخت پابندیاں عائد کریں گے یا اس دفعہ حکمت عملی تبدیل کرے گئے افغان طالبان کی جانب سے افغان عوام اور عالمی برادری سےجووعدےکیےگئے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ انہیں کس طرح پورا کرتے ہیں۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کافاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ افغانستان میں فوج بھیجنا ملک کی تاریخ کا سب سے ‏غلط فیصلہ تھا۔انہوں نے کہا کہ جوبائیڈن کو نہیں پتہ صدر کا منصب کتنا اہم ہے جلد بازی میں انخلا کا فیصلہ اور ‏بداتنظامی امریکا کیلئے باعث شرم ہے اتنے سالوں میں امریکا کی اتنی بے عزت نہیں ہوئی ‏جتنی اب ہورہی ہے۔ٹرمپ نے اشرف غنی کو بدمعاش قرار دیا اور کہا کہ شروع سے اشرف غنی پر بھروسہ نہیں تھا اور ‏نہ ہی وہ پسند تھے البتہ طالبان سربراہ سے ہمیشہ اچھی بات ہوئی۔ ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اسلامک امارات تما م ممالک سےاچھےتعلقات چاہتی ہے تمام ممالک سےاچھے سفارتی اور تجارتی تعلقات چاہتے ہیں کسی بھی ملک کیساتھ تجارت معطل نہیں ت کر رہے کسی بھی ملک کیساتھ تجارت معطل رکھنے کی افواہیں بھی بےبنیاد قرار دی ہیں ۔ امریکی صدرجوبائیڈن کہنا ہے کہ ہم 31 اگست تک افغانستان سےمکمل انخلا کرنا چاہتے ہیں ہم نےاسامہ کو مارا،افغانستان میں القاعدہ کوختم کیا ہمارے پاس دہشت گردی سےلڑنےکی صلاحیت رکھتے ہیں ہمیں انتہائی سنگین خطرات سےنمٹنےپرتوجہ دیناہوگی طالبان ایک وجودی بحران سے گزررہے ہیں طالبان جائزحکومت کےطور پر خودکو تسلیم کرانا چاہتے ہیں مجھےنہیں لگتا کہ طالبان تبدیل ہوئے ہیں طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا جس سےعالمی برادری انہیں تسلیم کرے۔

    افغانستان میں بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظرافغان سیاسی وفد کا کل پاکستان کا دورہ کیا جس میں افغان اولسی جرگہ کے اسپیکر میر رحمان رحمانی بھی شامل ہیں۔ افغان سیاسی وفد میں محمد یونس قانونی، استاد محمد کریم، احمد ضیا مسعود، احمد ولی مسعود، عبدالطیف پیدرام اور خالد نور شامل تھےافغان سیاسی وفد کی وزیراعظم عمران خان ،آرمی چیف ،ڈی جی آئی ایس آئی سے بھی ملاقات ہوئی افغان اولسی جرگہ کے اسپیکر میر رحمان رحمانی کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان تشریف لائیں اسپیکر افغان اولسی جرگہ رحمان رحمانی کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل کو ختم کردیا گیا جو افسوسناک ہے اور ہمارے دورے کا مقصد مفاہمت ،خون ریزی کا خاتمہ کرنا ہے اس ملاقاتوں میں تمام ایشوز پر بات چیت کی گئی اب آئندہ مرحلہ افغانستان میں حکومت سازی ہے اور تمام فریقین کو حکومت میں شامل کرنےسے ہی کامیابی ملے گی ہم افغان عوام کی آزادی اظہاررائے،قانون کے نفاذ پریقین رکھتے ہیں۔

    اولسی جرگہ میر رحمان رحمانی کا یہ بھی کہنا تھا اگر طالبان ناکام ہوگئے تو پھر 1996 والی صورت حال ہوگی اورحکومت ایسی ہونی چاہیے جوافغان عوام کیلئے قابل قبول ہو۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • "عورت ایک سربستہ راز” .تحریر: فرزانہ شریف

    "عورت ایک سربستہ راز” .تحریر: فرزانہ شریف

    کہتے ہیں عورت راز نہیں رکھ سکتی بلکہ اس پر لطیفے بنے ہوئے ہیں کہ کوئی بات پورے محلے میں پھیلانی ہوتو کسی عورت کو وہ بات بتا دو آپ کو اعلان کروانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور بعض اوقات ہم خود بھی ان لطیفوں سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے سچ تو یہ ہے کہ عورت "سربستہ” راز ہوتی ہے اگر ماں ہے تو اپنے بچوں کے عیب لوگوں سے ایسے چھپا کر رکھتی ہے جیسے اس کے اپنے عیب ہوں کہ لوگ یہ عیب جاننے کے بعد آپکو عجیب نظروں سے دیکھیں گے اپنے بچوں کی کامیابیاں خوشیاں ہر بندے سے شئیر کرے گی لیکن کبھی اپنی اولاد کا

    "ویک پوائنٹ "کسی کو نہیں پتہ چلنے دے گی حتی کہ اگر بچہ کسی بات پر نافرمانی بھی کرے گا تو بھی اس کو اپنے اور بچے کے درمیان رکھے گی ۔۔اور اسی طرح ایک بہین اپنے بھائی کا کوئی راز کبھی مرکر بھی کسی اور کو نہیں بتایے گی چاہے کوئی اس کی کتنی قریبی دوست ہی کیوں نہ ہو ۔۔بھائی اپنی بہنوں سے اپنے دل کی ہر بات شئیر کرکے خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں انھیں اپنی بہین پر یقین ہوتا ہے یہ راز بہین اپنے تک محدود رکھے گی ۔۔۔!!!

    ایسی طرح بیوی اپنے شوہر کے ہر راز کی آمین ہوتی ہے اس کے دکھ تکلیف کی ساتھی اگر وہ مالی طور پر کمزور بھی ہے تو بیوی اپنے شوہر کا تماشا غیر لوگوں میں تو کیا بلکہ اپنے سگے رشتہ داروں میں بھی نہیں لگائے گی بلکہ بعض اوقات تو اس کی بےوفائی تک جیسے جرم کو بھی اکیلے اذیت کا گھونٹ پی جائے گی لیکن کسی کو اس راز کی ہوا بھی نہیں لگنے دے گی ۔۔۔!!!
    یہ تو بات تھی ایک وفاشعار مشرقی عورت کی۔۔!!

    نہ سب عورتیں مکمل ہوتی ہیں نہ سب مرد مکمل ۔۔بےعیب صرف اللہ سبحان تعالی کی پاک ذات ہے ہر انسان خطا کا پتلا ہے چاہے وہ مرد ہے یا عورت ۔۔میرا کبھی دل نہیں چاہتا کہ میں بنا وجہ کے مردوں پر یا صرف عورتوں پر تنقید کروں ۔دونوں اپنی جگہ ٹھیک ہوتے ہیں بس ماحول کا فرق ہوتا ہے جس وجہ سے ہر انسان کے رویے میں فرق ہوتا ہے کچھ حالات انسان کو اتنا مجبور کردیتے ہیں کہ وہ اچھا کرنے کی کوشش میں بھی بعض اوقات وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکتے جو ان کا حق ہوتی ہے ان میں ذیادہ تر وہ طبقہ پیسا ہوتا ہے جو مالی طور پر کمزور ہوتا ہے مالی حالت ۔ ڈیپریشن میں مسلسل اضافے کا باعث بنتے ہیں جس وجہ سے وہ چاہ کر بھی خوش اخلاقی جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہےمسلسل خراب حالات اور ناکامیوں کی وجہ سے چڑچڑاپن اس کی طبعیت میں شامل ہوجاتا ہے ایسے لوگوں کی صاحب حثیت لوگوں کی طرف سے تھوڑی سی حوصلہ افزائی ان کی ویران مایوس ۔اندھیر ذندگی میں روشنی کی کرن ثابت ہوسکتی ہے مشکل وقت کسی پر ۔کسی وقت بھی آسکتا ہے حالات کا پہیہ چکر میں ۔کون جانے اگلا شکار کون ۔۔۔!!!

    میری ذندگی میں اتنے عظیم رشتے ہیں کہ ان کے تقدس کا سوچتی ہوں تو فخر محسوس ہوتا ہے شائد اس معاملے میں اللہ نے مجھے بےحد بے حساب نوازا ہے میرے عزیز الجان دو ماموں جی میرے آئیڈیل میرے چچا جی بہت معتبر انسان ان کا ایک معاشرے میں ایک مقام ۔میرے بھائی جان ایک آئیڈیل انسان بہت بہت عزت دار ۔کہ عام انسان بھی ان کو دیکھے تو احترام سے کھڑا ہوجائے اللہ سب کو ایسے پیارے رشتوں سے نوازے آمین ۔

    تو بات کررہی تھی کہ راز نہ رکھنے والی بات ہنسی مذاق کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے توعام طور پر یہ انسانی کمزوری ہے چاہے عورت ہو یا مرد کسی بات کا پتہ چلنے کی دیر ہے جب تک سب جاننے والوں کو وہ بات بتا نہ دی جائے تب تک سکون والی بات نہیں ۔۔بشری کمزوریاں ہر انسان میں ہوتی ہیں یہ تاثر غلط ہے کہ ہر غلط کام کسی ایک جنس پر لاگو کردیا جائے اور خود برالذمہ ہوجائیں ہمیں سوچنا ہوگا ہماری وجہ سے کوئی بےسکون نہ ہو اگر کسی کو خوشی نہیں دے سکتے اس کے دکھ کی وجہ بھی نہ بنیں ۔اگر انجانے میں کسی کو ہرٹ کر بھی دیا ہوتو خلوص نیت سے ہلکی سی معذرت اگلے کے دل سے بوجھ اتار دے گی اور آپکو پرسکون کردے گی کیونکہ ایک مومن انسان کا دل کبھی اس بات پہ خوشی یا سکون محسوس کر ہی نہیں سکتا کہ اس کی وجہ سے کوئی دکھی ہوا یاہرٹ ہوا یا کسی کا سکون ختم ہوا ہو یا کسی کی نیندیں ڈسٹرب ہوئیں ہوں ۔۔۔!! کوشش کریں اپنی ذندگی کی غلطیاں دنیا میں ہی سدھار لیں آگے حساب بہت سخت ہے دنیا میں ہی اپنے معملات نمٹا کر جائیں کہ کل کو اپنی نیکیاں دے کر حساب نہ چکانا پڑے ۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے حقوق معاف کرسکتا ہوں حقوق العباد معاف نہیں کروں گا تو اس کے بندوں سے پیار کریں اپنے سے وابستہ رشتوں کا احترام کریں اپنی طرف سے ہر ایک کے جذبات کا خیال رکھیں ۔جن رشتہ داروں کو منہ لگانے کو بھی دل نہ کرے ان سے بھی حسن اتفاق سے بات کرنا آپ کی اعلی ظرفی اور اچھی ماں کی تربیت کی نشانی ہے
    کہتے ہیں
    ‏انسان کے پورے جسم
    میں صرف ایک دل ہی ہوتا ہے
    جو پیدائش سے لے کر موت تک
    بِنا ریسٹ کیے کام کیے جاتا رہتا ہے
    اسے ہمیشہ خوش رکھیں
    چاہے یہ آپ کا اپنا ہو
    یا پھر اپکے پیاروں کا ۔۔
    ۔ہمیشہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھیں کہ ان کا بھی وہی اللہ ہے جو اپ کا ہے آپ میں ایسا کیا تھا جو اللہ نے آپکو اتنا بےحد بے حساب نوازا اور آپکو لوگ رشک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں آپ جیسی ذندگی آپ جیسا لائف سٹائل میں جینا چاہتے ہیں شائد آپ کے ساتھ کسی کی دعائیں ہیں جو اللہ آپکو نوازتا ہی جارہا ہے تو اس میں بھی اللہ کا بہت گہرا راز پوشیدہ ہے ہر سانس کے ساتھ اس کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپکے تمام عیب جاننے کے باوجود آپکو بےحد بے حساب عزت دولت سے نوازا ہوا ہے۔وہ اگر ہمیں ایک جھونپڑی میں پیدا کردیتا تو ہم خدانخواستہ اللہ کا کیا بگاڑ سکتے تھے وہ واحد لا شریک ہے وہ دے کر بھی ازماتا ہے اور نہ دے کر بھی پھر غرور کس بات کا۔۔شیطان تو چاہتا ہی یہی ہے کہ انسان اللہ کی نافرمانی کرے جیسے اس نے کی ۔۔اور قیامت تک اپنے لیے لعنتیں خرید لیں رہتی دنیا تک اس پر لعنتوں کا سلسلہ جاری رہے گا ۔۔ہر اس انسان پر شیطان کا غلبہ ہوتا ہے جو اپنی دولت شہرت پر غرور سے اکڑ کر چلتا ہے خود کو افلاطون قسم کی کوئی چیز سمجھنے لگ جاتا ہے جس کے دل میں اللہ سبحان تعالی کا ذرا سا بھی خوف ہوگا وہ اپنی عزت دولت شہرت پر کبھی غرور نہیں کرے گا بلکہ اللہ کا فرمانبردار بندہ بن کر رہے گا اسے پتہ ہوگا کہ اللہ کو عاجزی پسند ہے اپنی طبعیت میں عاجزی پیدا کرنے کی کوشش کریں اللہ عاجز بندے کو بےحد بے حساب نوازتا ہے جلدی یا بدیر ۔۔ !!