Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • شور نہیں شعور کا راستہ چنیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    شور نہیں شعور کا راستہ چنیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے انہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی قوم کا اجتماعی شعور تھکا ہوا ہو۔ دل بوجھل ہو اور نظر دھندلا گئی ہو ملک کے سیاسی منظرنامے پر جو شور، الزام تراشی، بدزبانی اور عدم برداشت چھایا ہوا ہے، اسے دیکھ کر شائبہ ہوتا ہے جیسے کہ ہم ایک ایسی کھائی کے کنارے کھڑے ہیں جہاں سے واپس پلٹنے کے لیے بہت مضبوط ارادہ درکار ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں اداروں پر تنقید ہوتی ہے مگر وہ تنقید دلیل کے ساتھ اور تہذیبی دائرے میں کی جاتی ہے۔ مگر وطن عزیز میں حالیہ برسوں میں جو زبان، جو لہجہ اور طرز بیان اختیار کیا گیا ہے وہ ریاستی اداروں سمیت ہر اس ستون کے لیے مایوس کن ہے جو کسی قوم کی بقا کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ یہ محض زبان کا بگاڑ نہیں ایک گہری سماجی بے چینی کی علامت ہے۔ اصل مسلہ یہ ہے کہ ملک میں قیادت کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے ہمارے سیاسی رہنماؤں میں برداشت، بردباری، حکمت اور وقار کم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جذباتیت اور ردعمل نے وسعتِ نظر کی جگہ لے لی ہے۔ سیاست دلیل سے ہٹ کر نعروں تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ وہ چند لوگ جو تحمل اور وقار سے بات کرنا جانتے ہیں انکی آواز شور میں دب کر رہ گئی ہے۔

    یہ بحران صرف سیاست تک محدود نہیں معاشرتی رویے بھی اسی انتشار کی جھلک دکھاتے ہیں۔ اختلاف رائے کو دشمنی سمجھ لیا گیا ہے۔ گفتگو کا معیار گر گیا ہے عوام مہنگائی، بیروزگاری اور غیر یقینی کے بوجھ تلے مایوسی کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ اور جب قوم کے دل میں امید کم ہو جائے تو زبان میں سختی اور رویوں میں تلخی بڑھ جایا کرتی ہے۔ مگر یہ تصویر پوری نہیں حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز میں آج بھی بیشمار سمجھدار، معتدل، باشعور اور سنجیدہ افراد موجود ہیں۔ سیاست دان، دانشور، صحافی، سرکاری افسران، نوجوان اور عام شہری جن کی سوچ میں توازن اور دل میں ملک کے لیے اخلاص موجود ہے مگر انکی آوازیں کمزور ہیں جبکہ جذباتی بیانیہ زیادہ زور سے بولا جا رہا یے۔ وطن عزیز کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ دلیل پر مبنی مکالمہ، شائستگی کی بحالی اور ایسی قیادت جو قوم کو تقسیم نہیں، جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہو، قیادت وہی جو صرف سیاسی قوت نہ رکھتی ہو بلکہ اخلاقی قوت بھی رکھتی ہو جو قوم کے زخموں کو پہچانے اور ان ہر مرہم رکھ سکے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قومیں بحران سے گزرتی ہیں مگر جو قومیں بحران کو اپنا استاد بنا لیں وہ ٹوٹتی نہیں سنورتی ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ شدید ضرور ہے مگر ناقابل حل ہرگز نہیں بس ضرورت اس امر کی ہے ہم بطور قوم فیصلہ کر لیں کہ ہمیں شور نہیں شعور کے راستے پر چلنا ہے۔

  • آزادی کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے غلط رویہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    آزادی کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے غلط رویہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک کے سیاسی ماحول میں ایک خطرناک رجحان تیزی سے پنپ رہا ہے۔ سیاسی اختلافات، ذاتی مفادات اور سستی شہرت کی دوڑ نے کچھ عناصر جن میں یوٹیوبرز، غیر ذمہ دار سوشل میڈیا اور دوسرے ویلاگرز نے اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف من گھڑت افواہیں پھیلانا اپنا معمول بنا چکے ہیں۔ یہ طرز عمل نہ صرف اخلاقی انحطاط کا مظہر ہے۔ بلکہ قومی سلامتی پر براراست حملہ بھی ہے۔ پاکستان کی سلامتی کے ادارے خصوصا عسکری قوت اس ملک کی دفاعی دیوار ہے۔ یہ وہ ادارے ہیں جنکے افسران اور جوان ہر لمحہ اپنی جان کو داو پر لگا کر ملک کی سرحدوں کے محافظ بنے کھڑے ہیں۔ ان میں سے کئی وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے ہیں ایسے میں ان کے خلاف جھوٹے الزامات اور بے بنیاد پروپیگنڈہ نہ صرف شہداء کے خون کی توہین ہے بلکہ معاشرے میں انتشار اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔

    بلاشبہ اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے مگر اس آزادی کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے کرنا انکی ساکھ مجروح کرنا اور عوامی اعتماد کو متنززل کرنا کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ دنیا کی ذمہ دار ریاست میں ایسی منفی سرگرمیوں کے خلاف سخت قوانین موجود ہوتے ہیں اور ان قوانین کا نفاذ قومی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کے پھیلاو کو روکنے کے لیے واضح اور سخت حکمت عملی وضع کی جائے ساتھ ہی عوام کو معلومات کی تصدیق اور ذمہ دارانہ رویے کی اہمیت سے آگاہ کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت مدنظر رکھنا چاہیے کہ ریاست ہمیشہ مقدم رہتی ہے سیاست بعد میں۔ اگر سیاسی فائدے یا ذاتی شہرت کے لیے اداروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا تو اسکے اثرات قوم کی اجتماعی وحدت، سلامتی اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

    وطن عزیز اس وقت جن چیلنجز سے دوچار ہے وہ ہم سے زیادہ ذمہ داری، اتحاد اور سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ افواہوں کی سیاست کے خلاف اجتماعی شعور اور ریاستی سطح پر مضبوط کاروائی ہی ملک کو اس خطرناک رجحان سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

  • جماعت اسلامی کا پنجاب میں ایک نیا آغاز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جماعت اسلامی کا پنجاب میں ایک نیا آغاز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاست کے بدلتے ہوئے تناظر میں جماعت اسلامی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ گزستہ دنوں لاھور میں ہونے والا جماعت اسلامی پنجاب کا تاریخی اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت اسلامی ایک بار پھر اپنی تنظیمی طاقت بحال کرنے اور عوامی سیاست میں نئی روشنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لاہور کا اجتماع صرف ایک تنظیمی تقریب نہیں تھا بلکہ یہ جماعت کی سیاسی سمت کے تعین میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کراچی میں جماعت اسلامی کی حالیہ مقبولیت اس اسکے سیاسی مستقبل کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں جماعت نے جس موثر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس نے نہ صرف شہری طبقات میں اسکی ساکھ کو مضبوط کیا بلکہ یہ تاثر بھی قوی ہوا کہ جماعت اسلامی ابھی صرف نظریاتی ووٹرز تک محدود نہیں بلکہ شہری مسائل کے حل کے لیے ایک سنجیدہ متبادل کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ، پانی، نکاسی، تجاوزات اور شہری سہولیات جیسے مسائل پر جماعت کی مسلسل مہم نے اسے دیگر جماعتوں کے مقابلے میں عملی سیاست کا نیا چہرہ فراہم کیا۔ یہ وہ کریڈٹ ہے جو اب پنجاب سمیت دیگر صوبوں تک منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پنجاب تاریخی طور پر مذہبی اور نظریاتی سیاست کے لیے زرخیز رہا ہے مگر گزشتہ دہائیوں میں جماعت اسلامی جہاں مطلوبہ انتخابی نفوس پیدا نہ کر سکی تاہم لاھور میں حالیہ اجتماع نے یہ تاثر بدلا ہے۔ اس اجتماع میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت سے یہ واضح ہوا کہ جماعت اب پنجاب میں ایک نئے بیانیے اور نئی تنظیمی حکمت عملی کیساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ جماعت کی نئی حکمت عملی تین اہم نکات ہر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ تنظیمی ڈھانچے کی بھرپور بحالی۔ بلدیاتی سطح پر فعال موجودگی۔ عوامی مسائل کے حل کو نظریاتی سیاست کیساتھ جوڑنا۔ اگر جماعت اپنے بیانیے کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی تو پنجاب میں اسے پہلے سے بہتر عوامی پزیرائی مل سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کا نوجوان منظر نامہ، مواقعے اور چیلنجز دونوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایک طرف عوام کی نظریاتی سیاست سے مایوسی جماعت کے لیے جگہ پیدا کر رہی ہے، تو دوسری طرف روایتی بڑی جماعتوں کا دباؤ اس کے لیے سخت امتحان بھی ہے۔ سیاسی منظر نامے میں جماعت اسلامی کا مستقبل چند باتوں پر منحصر ہو گا۔ کیا جماعت اسلامی کراچی ماڈل کو پنجاب میں دہرا سکے گی؟ کیا قیادت نوجوان ووٹرز تک رسائی برھا سکے گی؟ کیا جماعت اپنی عوامی سیاست کو جدید میڈیا اور تنظیمی اسٹرجیٹی کے مطابق ڈھال سکے گی؟ اگر یہ تینوں سوالات کے جوابات مثبت ہوئے تو جماعت اسلامی نہ صرف پنجاب میں بلکہ قومی سطح پر بھی اپنی سیاسی حیثیت بہتر بنا سکتی ہے۔ جماعت اسلامی ایک بار پھر پاکستانی سیاست کے افق پر نئی توانائی کیساتھ ابھر رہی ہے۔ لاھور کا اجتماع اس سفر کا نیا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ جبکہ کراچی کی کامیابی جماعت کے لیے اعتماد کا سب سے مضبوط سہارا ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر جماعت اپنی پالیسیوں میں یکسوئی برقرار رکھتی ہے تو وہ پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی سیاست بدلتے موسموں کی کہانی کی طرح ہے۔ کبھی کوئی جماعت مرکز نگاہ بنتی ہے، تو کبھی کوئی تحریک دھڑکنوں میں اتر آتی ہے۔ تاہم پاکستان کی سیاست میں خلا موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جماعت اسلامی اس خلا کو کیسے اور کس حد تک پر کرتی ہے۔ جماعت اس جگہ کو عملی سیاسی قوت میں بدل سکے گی یا نہیں۔ پنجاب کا سیاسی نقشہ فیصلہ کن رہا ہے یہاں کے ووٹر کا رحجان ملک کی مجموعی سیاست کی سمت تعین کرتا ہے۔ لاھور کے حالیہ اجتماع نے یہی پیغام دیا کہ جماعت اسلامی پنجاب میں ایک نیا آغاز چاہتی ہے اور شاید کر بھی چکی ہے۔

  • رقیہ غزل کا منفرد ادبی رنگ،تحریر:سعدیہ ہاشم

    رقیہ غزل کا منفرد ادبی رنگ،تحریر:سعدیہ ہاشم

    ادب کے وسیع آسمان پر کچھ شخصیات ستاروں کی طرح نہیں، ماہتاب کی طرح طلوع ہوتی ہیں؛ ان کی روشنی میں چاندنی بھی ہوتی ہے، لطافت بھی، اور ایک ایسی شائستگی بھی جو نگاہ کو ٹھہرنے پر مجبور کر دے۔رقیہ غزل انہی ماہتاب چہروں میں سے ایک ہیں،ایک مکمل جمالیاتی تجربہ،ایک دلنشیں احساس،اور ایک ایسی خالص روشنی جو لفظوں کے کینوس پر اپنا عکس چھوڑ جاتی ہے۔

    رقیہ غزل کی خوبصورتی صرف ظاہری رنگ و نگار کا نام نہیں،یہ ایک تہذیبی جمال ہے، جس میں پاکستانی اقدار کی مہک اور نسائی وقار کی چمک ہم آہنگ ہو کر دل پر اترتی ہے۔ان کی موٹی، خواب رنگ آنکھیں ایسے لگتی ہیں جیسے ہر پل کسی نئے استعارے کو جنم دینے والی ہوں۔ان کی موجودگی میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ محفل کا موسم بدل گیا ہو،ہوا میں نرمی گھل گئی ہو،لفظوں میں تازگی اتر آئی ہو،اور فضا میں ایک مسحورکن سا سکوت بکھر گیا ہو۔

    جب وہ پاکستان کے روایتی لباس میں ملبوس، سر پر نفاست سے رکھا ہوا دوپٹہ اوڑھے محفل میں قدم رکھتی ہیں، تو دیکھنے والے کے دل میں پہلی ہی نظر میں یہ احساس جاگ اٹھتا ہے کہ ادب ابھی زندہ ہے، اقدار ابھی سانس لے رہی ہیں۔
    دوپٹے کی نرم لہریں ان کے وجود پر یوں مہکتا ہوا سایہ ڈالتی ہیں جیسے شخصیت کے گرد روشنی کا ہالہ ہو،پاکیزگی، ذہانت اور لطافت کا امتزاج،رقیہ غزل جب بولتی ہیں تو لگتا ہے الفاظ زبان سے نہیں، نیلے آسمان سے اترتے ہیں۔ان کے لہجے میں نرم روشنی بھی ہے اور ہمت بھی،وہ سچ کہتی ہیں، وہ دلیل دیتی ہیں، مگر دل کی زمین کو زخمی نہیں کرتیں۔

    نوائے وقت میں ان کے کالم پڑھنے والا جانتا ہے کہ یہ صرف تحریر نہیں،سوچ کے دریچوں میں پڑتی ہوئی وہ دھوپ ہے جس سے بصیرت کا جگنو روشن ہوتا ہے۔ادبی محفل ہو اور رقیہ غزل موجود نہ ہوں تو محفل ایک رنگ کم محسوس ہوتی ہے۔وہ آتی ہیں تو محفل کا لہجہ بدل جاتا ہے،مشاعرہ گویا ایک نعتیہ سکون میں ڈھل جاتا ہے،اور سامعین ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں جیسے کوئی نادر نسخۂ کمال کھلنے ہی والا ہو۔ان کی شخصیت، ان کے لب و لہجے، ان کے اندازِ نشست و برخاست میں ایک ایسا جمال ہے جو ایک پوری محفل کو معنوی بنادیتا ہے۔

    اگر ایک جملے میں ان کا تعارف ممکن ہو تو یوں کہا جائے رقیہ غزل وہ خوبصورت تحریر ہے جسے خدا نے انسان کی صورت میں لکھا۔رقیہ غزل ادب کی وہ شخصیت ہیں جن کے ہونٹوں سے نکلا ہوا ہر شعر، ہر کالم، ہر جملہ ایک نئے سفر کی دعوت دیتا ہے۔ وہ صرف لکھتی نہیں وہ زندگی کے تجربات کو لفظوں میں ڈھال کر دوسروں کے دلوں میں رکھ دیتی ہیں۔
    ادب کے ایسے چراغ کم جلتے ہیں، مگر جب جلتے ہیں تو صدیوں تک روشنی دیتے رہتے ہیں

  • دل کی مسافتیں اور خواہش کی شکست،تحریر:نور فاطمہ

    دل کی مسافتیں اور خواہش کی شکست،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کی راہوں میں انسان اکثر ایسی جیتیں سمیٹتا چلا جاتا ہے جن پر دنیا رشک کرتی ہے۔ کبھی یہ جیت شہرت کی صورت ہوتی ہے، کبھی مرتبے کی، کبھی دولت اور اختیار کی۔ مگر انسان کی فطرت کا سب سے نازک گوشہ ایک ایسی حقیقت سے ہمیشہ بے بس رہتا ہے جسے چند الفاظ میں یوں سمیٹا گیا ہے،”آپ چاہے ساری دنیا سے جیت جائیں، مگر من پسند شخص کو خود سے خوش کرنے میں آپ ہمیشہ ہار جاتے ہیں۔”

    یہ جملہ محض ایک خیال نہیں بلکہ انسانی جذبات کے تہہ در تہہ سچ کی آہٹ ہے۔دنیا کی فتح میں عقل، تدبیر اور محنت ساتھ دیتی ہے،مگر دلوں کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی انسان اپنی سب تدبیریں ہار جاتا ہے۔یہاں اصول بدل جاتے ہیں، دل کے پیمانے دنیا کے پیمانوں سے مختلف ہو جاتے ہیں،اور وہ انسان جو زمانے کو قائل کر لیتا ہے،اکثر ایک دل کو راضی کرنے میں ناکام رہتا ہے۔انسان دل کا اسیر کیوں ہے؟. دل کی خوشی کسی اختیار کی مرہونِ منت نہیں ہوتی،محبت کے چراغ زبردستی نہیں جلائے جاتے۔جسے دل میں جگہ نہ ہو، اسے ہزار کوششوں سے بھی راضی نہیں کیا جا سکتا۔ جذبات یکطرفہ ہوں تو سارا پیمانہ بگڑ جاتا ہے.محبت کا ظرف وسیع ہے،مگر قبولیت کا ظرف اکثر نہایت تنگ۔آپ چاہیں تو اپنی ہستی فنا کر دیں،مگر جس دل پر دروازہ ہی بند ہو،وہ اس قربانی کو دیکھ بھی نہیں پاتا۔

    انسان کامل نہیں، محبتیں بھی آزمائشیں رکھتی ہیں،کبھی آپ کی کمی رہ جاتی ہے،کبھی اس کی توقعات حد سے بڑھ جاتی ہیں۔یوں تعلق ایک ایسے مقام پر آ کھڑا ہوتا ہے،جہاں ہر کوشش رائیگاں محسوس ہوتی ہے۔دل کی دنیا میں ہار بھی اکثر جیت کا روپ رکھتی ہے۔وہ جیت جو انسان کو اپنے بارے میں کچھ اور سکھا دیتی ہے،صبر، اخلاص اور خاموش محبت کا ہنر۔جس شخص کو راضی کرنے میں آپ ناکام رہے وہ شاید آپ کی تقدیر میں "خوشی” کے لیے نہیں بلکہ”سمجھ” کے لیے لکھا گیا تھا۔اصل جیت اس میں نہیں کہ کوئی شخص آپ کی محبت قبول کر لے،اصل جیت اس میں ہے کہ آپ کا دل محبت کے سچے اظہار سے غافل نہ ہوا ہو۔دنیا کی کامیابیاں وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہیں،مگر وہ محبتیں جو پوری نہ ہو سکیں اکثر دل کے سب سے روشن گوشوں میں جگہ بنا لیتی ہیں۔

    زندگی کا سفر ہمیں بتاتا ہے کہ دل کی فتح ہمیشہ انسان کے بس میں نہیں ہوتی۔کچھ دل ہماری تڑپ کے باوجود بھی ہماری پہنچ سے دور رہتے ہیں لیکن یاد رہے،دنیا کی جیتیں انسان کی شہرت بڑھاتی ہیں،مگر دل کی ہاریں اس کی روح کو گہرا کر جاتی ہیں۔کچھ لوگ نصیب میں لمحہ بن کر آتے ہیں،اور کچھ اثر بن کر ہمیشہ کے لیے دل میں ٹھہر جاتے ہیں۔

  • عوامی مسائل پر مسلسل خاموشی کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوامی مسائل پر مسلسل خاموشی کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کی سیاست ایک عجیب دائرے میں قید دکھائی دیتی ہے۔ ایسا دائرہ جو گھومتا ضرور ہے مگر آگے نہیں بڑھتا۔ حکمران آتے جاتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں، پارٹیوں کے جھنڈے رنگ بدلتے ہیں مگر عوام کے مسائل وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔ ایک عام شہری کا سوال بڑا سادہ ہے جب جمہوریت ہے تو پھر جمہور کے حالات کیوں نہیں بدلتے؟ اصل بات یہ ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت کا ڈھانچہ تو موجود ہے مگر اس کی روح کمزور پڑ گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے حالات جدید جمہوری تقاضوں کے بجائے شخصیتوں کے گرد گھومتے ہیں۔ منشور کمزور، پالیسی بعید اور تنظیم غیر فعال۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی حکومت بنتی ہے تو اس کی ترجیحات وہی رہتی ہیں جو کل تھیں، چہرے بدلتے ہیں مگر طرز حکومت وہی رہتا ہے۔ اس کے ساتھ بیوروکریسی کا پرانا نو آبادیاتی ڈھانچہ عوامی خدمت کی جگہ اختیار اور فائل ورک کو ترجیح دیتا ہے۔ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے نظام عوام کے راستے میں کھڑا نظر آتا ہے۔ انصاف کی حالت بھی کچھ بہتر نہیں طاقتور بچ نکلتے ہیں کمزور چکر لگاتے لگاتے تھک جاتے ہیں۔ بنیادی مسلہ یہ بھی ہے کہ وطن عزیز کی معاشی پالیسی اشرفیہ کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ٹیکس ہو، سبسڈی ہو، کاروباری ماحول ہو یا زمین کا نظام قوانین کمزور طبقات کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہیں۔ جب عوام کی جیب پر مسلسل بوجھ پڑتا ہے تو جمہوریت ان کے لیے صرف ایک لفظ بن کر رہ جاتی ہے۔ حقیقت نہیں پاکستان کا تعلیمی نظام بھی سیاسی شعور پیدا کرنے میں ناکام رہا عوام کو نہ حقوق کا علم ہے نہ حکمرانوں سے تقاضے کا سلیقہ۔ سیاست مفادات اور بیانیوں کے جنگ بن کر رہ گئی ہے اور میڈیا نے اس جنگ میں تیزی ہی پیدا کی ہے۔ اصل مسائل پانی، صحت، تعلیم، روزگار، انصاف، ٹی وی اسکرین کی زینت کب بنتے ہیں؟ بہت کم۔ آخر میں سوال وہی کھڑا ہے کہ اگر جمہوریت ہے تو پھر عوامی مسائل پر یہ مسلسل خاموشی کیوں؟ جواب تلخ ضرور ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ وطن عزیز میں ابھی تک جمہور نہیں بلکہ طاقتور سیاسی جماعتوں کی حکمرانی ہے۔ جسے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں سیاسی جماعتوں میں چند کردار ہیں۔ جب تک انصاف اور معیشت کمزور طبقات کے لیے بے معنی رہتی ہے، جمہوریت بھی کمزور رہے گی اور عوام کے مسائل بھی۔ پاکستان کے مسائل اس لیے بھی برقرار ہیں کہ یہاں نظریں ہمیشہ تخت پر رہتی ہیں، نظام پر نہیں۔ دن بدلتے ہیں حکمران بدلتے ہیں مگر عوام کے لیے صرف وعدے بدلتے ہیں۔

  • انیلا ناز کے اعزاز میں اپووا کے پی چیپٹر کی شاندار محفل،رپورٹ :ناز پروین

    انیلا ناز کے اعزاز میں اپووا کے پی چیپٹر کی شاندار محفل،رپورٹ :ناز پروین

    پچیس(25) نومبر کی شام پشاور کلب کا خواب انگیز اور پُرسکون ماحول، جاڑے کی گلابی خنک ہوا اور خوشگوار فضا… انہی دلکش لمحوں میں اپووا کے پی چیپٹر کے زیرِ اہتمام اے آئی جی پولیس پشاور محترمہ انیلا ناز صاحبہ کے اعزاز میں ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں متعدد ممبران نے شرکت کی۔

    ہم محترمہ انیلا ناز کے دِل سے مشکور و ممنون ہیں کہ انہوں نے مصروفیات کے باوجود ہماری اس محفل میں شرکت فرما کر نہ صرف ہماری حوصلہ افزائی کی بلکہ محفل کا وقار بھی بڑھایا۔اس موقع پر جائنٹ سیکرٹری لبنیٰ نوید نے جون سے اب تک اپووا کے پی چیپٹر کی شاندار کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ محض پانچ ماہ کے قلیل عرصے میں چیپٹر نے ادبی، سماجی، ثقافتی اور مذہبی نوعیت کے متعدد پروگرامات کامیابی سے منعقد کیے۔محترمہ انیلا ناز اے آئی جی پولیس نے اپووا کے پی چیپٹر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں اس متحرک گروپ کا حصہ بننے پر فخر ہے۔

    نشست کے دوران باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا گیا کہ دسمبر میں قائد ڈے، کرسمس ڈے اور اے پی ایس کے شہداء (16 دسمبر) کی مناسبت سے خصوصی تقاریب منعقد کی جائیں گی۔ ساتھ ہی آسیہ بی بی (ممبر اپووا کے پی چیپٹر) کے افسانوی مجموعے کی رونمائی پر بھی گفتگو ہوئی۔

    ممبران نے محترمہ انیلا ناز کی زندگی، جدوجہد اور پیشہ ورانہ کامیابیوں کو بڑی دلچسپی سے سنا اور انہیں کے پی کی خواتین کے لیے باعثِ فخر، حوصلہ افزا اور روشن مثال قرار دیا۔ جاڑے کی سرد شام میں گرم گرم چائے اور لوازمات نے محفل کی رونق کو مزید دوبالا کر دیا۔اختتام پر اپووا کے پی چیپٹر کی جانب سے محترمہ انیلا ناز کو پھولوں کا گلدستہ اور سووینیئر پیش کیا گیا، جبکہ محترمہ انیلا ناز کی طرف سے اپووا کی ممبران کو پولیس سووینیئر عطا کیا گیا جو اس باوقار نشست کی ایک خوبصورت یاد بن گیا۔تقریب میں فائزہ شہزاد (صدر)، ناز پروین (جنرل سیکرٹری)، لبنیٰ نوید (جائنٹ سیکرٹری)، روبینہ معین (نائب صدر)، امامہ نوید، فاطمہ افضال جبکہ فرزانہ منور نے اپنی بیٹیوں کے ہمراہ شرکت کی۔

  • ہر عبادت میں سکون ہے، مگر کیسے؟تحریر: واجد علی تونسوی

    ہر عبادت میں سکون ہے، مگر کیسے؟تحریر: واجد علی تونسوی

    میں نے بہت سارے لوگوں کو دیکھا ہے اور یقیناً آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہوگا کہ ہر شخص سکون کو اپنی اپنی مختلف عبادت سے جوڑ کر بیان کرتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ نماز میں دل کو عجیب سا سکون ملتا ہے، کوئی روزے کو روح کی تازگی اور سکون کا ذریعہ قرار دیتا ہے، کوئی قرآن کی تلاوت میں دل کی روشنی اور اطمینان محسوس کرتا ہے اور کئی لوگ صدقہ و خیرات کے بعد دل کے اندر خوشی اور ہلکا پن پاتے ہیں۔ ان تمام تجربات میں فرق ہونے کے باوجود حقیقت ایک ہی ہے کہ سکون عبادت میں ہے، مگر یہ سکون ہر عبادت میں اسی وقت حاصل ہوتا ہے، جب عبادت سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہو اور دل کی پوری توجہ کے ساتھ کی جائے، ورنہ عبادت صرف ظاہری عمل بن کر رہ جاتی ہے اور دل سکون کی کیفیت محسوس نہیں کرتا۔

    نماز کے بارے میں یہ بات واضح ہے کہ بہت سے لوگ روزانہ نماز پڑھتے ہیں، مگر دل کہیں اور ہوتا ہے؛ کاروبار، مسائل یا ذہنی الجھنوں میں۔ ایسی نماز سکون نہیں دے سکتی، لیکن جو لوگ نماز سنت کے مطابق پڑھتے ہیں؛ وضو کی سنجیدگی، قیام کی ادب، رکوع اور سجدے میں عاجزی اور دل کی مکمل حاضری کے ساتھ، تو ان کے دل میں واقعی سکون اترتا ہے۔ ہر سجدہ روح کو تازگی دیتا ہے، ہر رکوع عاجزی سکھاتا ہے اور دعا دل میں امید پیدا کرتی ہے۔

    اسی طرح روزہ بھی تب روحانی سکون بن سکتا ہے جب صرف جسمانی بھوک اور پیاس نہیں، بلکہ زبان، نظریں، اخلاق اور دل کی نیت بھی اللہ کی رضا کے لیے صاف ہو۔ سنت کے مطابق روزہ رکھنے والا انسان دنیاوی مصیبتوں کے باوجود اندر سے مطمئن اور ہلکا محسوس کرتا ہے۔

    قرآن کی تلاوت بھی اسی اصول کی پیروی مانگتی ہے۔ صرف الفاظ کا بلند آواز سے پڑھنا ایک عام سا عمل ہے، لیکن اگر سنت کے مطابق دل کی توجہ اور سمجھ کے ساتھ تلاوت کی جائے تو ہر آیت دل کی گہرائیوں میں روشنی ڈالتی ہے، فکر کو سکون دیتی ہے اور دل کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔

    صدقہ و خیرات میں بھی سکون اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ عمل اخلاص اور دل کی حاضری کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ دکھاوے، شہرت یا نام کمانے کے لیے دی گئی رقم دل کو سکون نہیں دے سکتی، لیکن جب کوئی غریب یا محتاج اللہ کے لیے مدد پاتا ہے، تو دینے والے کے دل پر بوجھ ہلکا ہوتا ہے، دل مطمئن اور خوشی سے بھر جاتا ہے۔ یہی وہ راز ہے کہ عبادت میں سکون ہے، مگر دل، نیت اور سنت کے ساتھ۔

    آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر ہم واقعی سکون چاہتے ہیں تو عبادت کو صرف رسم یا معمول نہ بنائیں، بلکہ دل سے، سنت کے مطابق اور مکمل توجہ کے ساتھ ادا کریں۔ نماز ہو، روزہ، قرآن کی تلاوت ہو یا صدقہ، ہر عبادت سکون کا ذریعہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ دل، نیت اور سنت کو ساتھ رکھا جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھ کر انسان اپنی زندگی میں حقیقی سکون حاصل کر سکتا ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جو آج کے تیز رفتار اور پریشان حال معاشرے میں ہر مسلمان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔

  • طاہرہ ردا کے شعری مجموعے کی تقریب رونمائی ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    طاہرہ ردا کے شعری مجموعے کی تقریب رونمائی ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شکاگو میں اُردو محبت کی وہ شام جسے تاریخ یاد رکھے گی سات سمندر پار امریکہ کی ریاست شکاگو میں پروفیسر مسرور قریشی کی شاندار میزبانی اور طاہرہ ردا کے شعری سفر کا روشن سنگِ میل : شکاگو، جسے دنیا کاروبار و صنعت کا مرکز سمجھتی ہے، 24 نومبر کی اس شام جب ادب کے رنگ اپنے اندر سمیٹے کھڑا تھا تو یہ شہر کسی علم و شعر کے دربار سے کم محسوس نہیں ہوتا تھا۔ عالمی دبستان ادب شکاگو اور شکاگو شناسی فورم کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس تقریبِ رونمائی کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے لفظوں کی بارات سجی ہو، اور اس بارات کی دلہن طاہرہ ردا اپنی پہلی کتاب “تیرے نام کے سارے شعر” کے ہاتھوں آج باقاعدہ ادب کی دنیا میں اتری ہوں۔یہ صرف کتاب کی رونمائی نہیں تھی، بلکہ محبت، تخلیق، تہذیب اور اُردو کے دیرینہ وقار کی تجدید تھی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس تقریب کی روحِ رواں تھے پروفیسر مسرور قریشی—وہ شخصیت جنہوں نے اس شام کو ایک عام ادبی تقریب سے اٹھا کر ایک تاریخی لمحے میں بدل دیا۔

    پروفیسر مسرور قریشی — شکاگو میں اردو تہذیب کے سچے سفیر
    تقریب کے دروازوں سے داخل ہونے والا ہر شخص یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا کہ اس شام کا اصل حسن صرف طاہرہ ردا کی کتاب نہیں تھی، بلکہ وہ محبت بھری فضا تھی جو پروفیسر مسرور قریشی نے اپنی شخصیت سے پیدا کی۔ان کی استقبالیہ مسکراہٹ، حاضرین کے لیے احترام، اور طاہرہ ردا کے لیے ان کا شفقت بھرا انداز—سب نے مل کر اس محفل کو ایسی گرمائش دی کہ لوگ کہتے نہ تھکتے:“یہی محبت ہمیں الیناۓ سے یہاں تک کھینچ لائی ہے۔”پروفیسر صاحب نے نہ صرف نظامت کی بلکہ آغاز ہی میں ایک مربوط، سیر حاصل، ادبی مضمون کے ذریعے طاہرہ ردا کے شعری سفر کو اس طرح پیش کیا کہ حاضرین ایک لمحے کے لیے بھی اپنی نشستوں سے ہلے نہیں۔ان کے انداز میں تحقیق بھی تھی، محبت بھی، اور ایک استاد کا وقار بھی۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہاگر طاہرہ ردا اس تقریب کا عنوان تھیں، تو پروفیسر مسرور قریشی اس کے مرکزی معمار۔

    طاہرہ ردا — شکاگو کی ادبی دنیا کا روشن ستارہ
    اس تقریب کی اصل وجہ، اصل مرکز، اصل جذبہ—بلاشبہ طاہرہ ردا کی ذات تھی۔
    شکاگو کی یہ معروف شاعرہ، اینکر، اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ برسوں سے تخلیق کے سنگ سفر کرتی آئی ہیں، مگر کتاب کی شکل میں اپنے شعور اور احساسات کو پیش کرنا ان کا خواب تھا، جو آج حقیقت بن کر سامنے آیا۔
    جب انہی کے ہاتھوں کتاب کا عنوان پڑھ کر سنایا گیا “تیرے نام کے سارے شعر”تو حاضرین نے اس عنوان میں وہ محبت، وہ نرمی اور وہ احساس محسوس کیا جو طاہرہ ردا کی شخصیت کا اصل جوہر ہے۔پاکستان سے لے کر امریکہ کے مختلف ریاستوں تک پھیلے ہوئے قارئین کی محبت اس دن واضح نظر آئی۔ درجنوں گلدستے، تحائف، محبت بھری تحسین، اور چاہنے والوں کی بھرپور شرکت—سب اس بات کا اعلان تھے کہ طاہرہ ردا نے شکاگو کی ادبی فضا میں اپنی انفرادیت ثابت کر دی ہے۔

    عباس تابش — سفیرِ عشق کا وقار، اور کتاب کی تقدیس
    شام کا سب سے جگمگاتا لمحہ وہ تھا جب عالمی شہرت یافتہ شاعر عباس تابش نے اس کتاب کی رونمائی کی۔
    ان کی آمد ہی تقریب کو وقار بخشنے کے لیے کافی تھی، مگر جب انہوں نے کہا:“یہ کتاب صرف طاہرہ ردا کی نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کی ہے جو اُردو سے محبت کرتے ہیں۔”و ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ہوں نے نہ صرف کتاب کی طباعت کے مراحل بیان کیے بلکہ عشق آباد پبلیکیشن کی جانب سے اسے شائع کرنا اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔ان کا یہ کہنا کہ ردا کے اشعار میں محبت کی وہ سچائی ہے جسے لفظ کبھی دھوکہ نہیں دے سکتے”۔ود شاعرہ کے لیے کسی ایوارڈ سے کم نہ تھا۔ — شعراء وادباء کی شرکت محبت کی وہ لڑی جس نے فاصلے مٹا دیے اس تقریب کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے مختلف ریاستوں سے شعراء و ادباء طویل مسافت طے کر کے یہاں پہنچے۔اوہایو، میری لینڈ، آئیوا، اوہانیو، انڈیانا—ہر طرف سے محبت کے سفیر اس محفل کی رونق بنے،ڈاکٹر سعید پاشا ،مونا شہاب ،ڈاکٹر افضال الرحمن افسر ،ڈاکٹر توفیق انصاری احمد ،عابد رشید ،امین حیدر ،حمیرہ عقیل ،ریاض نیازی اور کئی دیگر معتبر نام ،ہر ایک نے طاہرہ ردا کی شاعری پر اپنے احساسات نہایت مدلل انداز میں پیش کیے، اور ان سب میں ایک بات مشترک تھی “طاہرہ ردا کا شعری سفر ابھی شروع ہوا ہے—مگر روشنی اس میں ابھی سے نظر آ رہی ہے۔”

    تقریب کا دل نشین ترین لمحہ وہ تھا جب پروفیسر مسرور قریشی نے طاہرہ ردا کو ان کے اشعار کے ساتھ ایک خوبصورت پورٹریٹ پیش کیا۔یہ صرف ایک تحفہ نہیں تھا بلکہ محبت، احترام اور تخلیقی رفاقت کا اظہار تھا۔پورے ہال نے کھڑے ہو کر تالیوں سے اس منظر کو سراہا۔محمد مجید اللہ خان نے عالمی مرکزی ادبیاتِ اردو کی جانب سےعباس تابش اورطاہرہ رداکو نشانِ سپاس پیش کیا۔یہ وہ لمحہ تھا جب محبت، محنت اور فن—تینوں اقدار ایک ساتھ مسکرا رہی تھیں۔محفل میں شعری اظہار کے ساتھ ساتھ حاضرین نے ایک ایک جملے کو دل سے محسوس کیا۔نون جاوید نے شعری ہدیہ پیش کیا، اور طاہرہ ردا نے اپنے تخلیقی سفر کے بارے میں بھرپور، جذباتی اور محبت بھری گفتگو کی۔ان کے پڑھتے ہی ہال محبت سے بھر گیا۔جیسے ہی کتاب کے ٹائٹل کے ساتھ کیک کاٹا گیا، ماحول جشن میں بدل گیا۔پھولوں کے ڈھیر، تحائف کی بارش، اور تصویروں کی بے شمار یادیں—یہ سب اس شام کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا گئے۔مظہر عالم، اشرف خان، منظر عالم، محمد مجید اللہ خان، محمد حسین، شاہد خان اور دیگر ساتھیوں نے اس تقریب کو اس قدر منظم کیا کہ حاضرین تعریف کیے بغیر رہ نہ سکے۔مہمان خصوصی فرحت خان کی موجودگی نے بھی تقریب کو صحافتی وقار بخشا۔ظہرانے کا اہتمام، چائے اور لوازمات، اور ادبی ماحول—یہ سب مل کر شکاگو میں اردو کی محبت کا وہ حسین نقش بنا گئے جو برسوں یاد رکھا جائے گا۔

    شکاگو کی تہذیبی یادگار — ایک ادبی عہد کی بنیاد
    شرکاء نے متفقہ طور پر کہا:“شکاگو لینڈ میں اس سے بڑی، منظم، محبت بھری اور ادبی اعتبار سے گہری تقریب پہلے کم ہی دیکھی گئی ہے۔”یہ محض ایک تقریب نہیں تھی، یہ اس بات کا اعلان تھی کہ اگر محبت ہو، اگر ادب کا جذبہ ہو، اگر لوگ خلوص سے مل بیٹھیں—تو دیارِ غیر میں بھی اردو اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
    لفظوں کا سفر جاری ہے،طاہرہ ردا کی کتاب “تیرے نام کے سارے شعر” نہ صرف ان کے تخلیقی سفر کا آغاز ہے، بلکہ شکاگو کے ادبی منظرنامے میں ایک نیا باب بھی ہے۔پروفیسر مسرور قریشی کی محبت، دانشوری اور تنظیمی صلاحیت نے اس تقریب کو اس معیار تک پہنچایا جس کی مثال کم ملتی ہے۔
    یہ وہ شام تھی جو گزر تو گئی،
    مگر اپنے پیچھے محبت، تہذیب اور شعر کی خوشبو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئی،

  • ناو آر نیور،تحریر:مبشر حسن شاہ

    ناو آر نیور،تحریر:مبشر حسن شاہ

    کیا کل کے تخت نشیں آج کے مجرم ٹھہرنے والے ہیں؟
    تمہید باندھنا قلم کاری کی روایت ہے۔ اس سے انحراف کی صورت ایک ہی ہے، وہ ہے موضوع کی نوعیت اور اس کی مناسبت سے وقت کا تقاضا۔ آرٹیفیشکل انٹیلیجنس جب پاکستان میں متعارف ہوئی تو عام آدمی تک اس کا علم صرف اتنا تھا کہ اس سے میسج کریں تو خودکار جواب مل جاتا ہے۔ کچھ ماہ میں اس کی مدد سے تصاویر ایڈیٹ کی جانے لگیں۔ ماہ و سال نہیں اب ہفتوں سے بات دنوں پر آ گئی ہے اور عام آدمی کی رسائی تیزی سے اے آئی کے مزید فیچرز تک جا پہنچی ہے۔ پرامٹ کا لفظ کئی نیم خواندہ لوگ بھی استعمال کرتے ہیں، جو اے آئی کے درست استعمال کی بنیاد ہے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ تو پہلے ہی کیپ کپ اور ٹک ٹاک کی بدولت ہر بندہ کرلیتا تھا۔ اے آئی کی کوڈنگ نے اسے نہ صرف آسان کیا بلکہ جو لوگ رہتے تھے ان کو بھی ویڈیو ایڈیٹر بنا دیا۔ فیک وائس، ڈیپ فیک ویڈیوز، اے آئی جنریٹیڈ پکچرز۔یہ الفاظ اب روزمرہ زبان کے عام الفاظ بن چکے ہیں۔ جب ہم اے آئی سے چیٹ کرکے چیزا لے رہے تھے اور حسب عادت گالیاں لکھ کر مذاق اڑا رہے تھے، عین اسی وقت ترقی یافتہ اقوام نے یہ بات جان لی کہ مستقبل میں علم کا مرکز کیا ہو گا۔ اس وقت چین اے آئی کو ہر سطح پر نصاب تعلیم میں شامل کر چکا ہے۔ دیگر بڑے ممالک میں بھی اس چیز کو سنجیدگی سے اپنایا جا رہا ہے۔ پی ایچ ڈی سکالرز اور ہائر ایجوکیشن کے حوالے سے تو اے آئی کافی عرصہ سے استعمال میں ہے (کچھ ترقی یافتہ ممالک میں) جبکہ ربوٹکس، مشین آپریٹنگ ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں اے آئی انقلاب مکمل طور پر ٹیک اوور کرنے سے چند مراحل دور ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے اخلاقی حدود اور قوانین بنا چکی ہے۔ اب اس بات پر غور جاری ہے کہ کیا انسان کی یہ ایجاد کسی مرحلہ پر انسان کے خلاف ہو سکتی؟ اس تمام پس منظر میں ہم کیا کر رہے ہیں؟ کہاں کھڑے ہیں؟ ہم مفت اے آئی کورسسز کے اشتہار لگا کر لوگوں کو اپنے اداروں کی طرف لاکر پھر کچھ عرصہ بعد مزید بہتر سکھانے کے لیے رقم کا تقاضا ۔ آن لائن ٹریڈنگ، امیزون ٹریڈنگ، فاریکس ٹریڈنگ ٹرک کی وہ ٹیل لائیٹس ہیں جن کے پیچھے ہر نوجوان گھر سے پیسے لے کر برباد کر رہا ہے۔ ہم چکن گیم کھیل کر جوئے سے کمائی کر رہے ہیں۔ ہم فری فائر اور پب جی، آن لائن لڈو ٹورنامنٹ میں ورلڈ چیمپئن شپ کھیل رہے ہیں۔ ہم اے آئی سے ویڈیوز بنا رہے، تصاویر بنا کر خوش ہو رہے ہیں۔ ہم لوگوں کو فخریہ بتا رہے کہ اے آئی کورس کیا ہوتا؟ میں سب جانتا، ایک پرامٹ درست دینا آتی ہو پھر تو سب کام مشین نے کرنا۔ بدقسمتی سے سب کانٹینینٹ کے اسلامک ورژن میں صوفی ازم اور توہم پرستی اتنی ہے کہ ہم کوئی بھی چیز جو سمجھ نہ آئے اسے کرامت قرار دے دیتے ہیں اور جو کام ہاتھ سے کرنا ہو وہ زبان سے کر لیتے ہیں۔ لہذا اے آئی کو ہم نے ڈیجیٹل ولی سمجھ کر پرامٹ کی بیعت کو کافی جانا ہے۔ اب یہ جوتا ہمارے ہی سر پر بجنے کو ہے۔ اس کے لیے ہفتے نہیں دن چاہیں۔ لیکن ہنوز ہم” ۔۔۔۔۔ کا دھوبی ہوں "کہہ کر بچنے کی امید میں ہیں۔ حالانکہ بچا وہ بھی نہیں تھا کیونکہ فرشتے بھی اے آئی ہی سمجھ لیں، ان کو جو پرامٹ اللہ نے دی ہے اس میں من ربک کا ایک ہی آپشن درست ہے، دھوبی والے جواب پر پرامٹ سیٹ ہے، گرز بلا توقف حرکت میں آتا ہے۔

    ویسے ٹاپک سے ہٹ کر دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں: فرشتے کو جو کہا جائے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی ہوں، یہ کلیم زیادہ بڑا اور مضبوط ہے یا ۔۔۔۔۔ کے دھوبی ہونے کا؟ یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی ہونا بہت وزنی کلیم ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا، اے فاطمہ میری بیٹی! میرے مال میں سے جو لینا ہے لے لو، لیکن قیامت کے دن اگر اللہ نے پکڑ لیا تو میں کچھ نہ کر پاؤں گا۔ اے میرے چچا عباس! میرے مال سے جو لینا ہے لے لو لیکن قیامت کے دن میں کچھ کام نہ آؤں گا۔ اور ہم پھر کس حیثیت سے ایسے لطائف سن کر یقین کر لیتے کہ فلاں کا دھوبی، فلاں کا نوکر، اور بخشش؟ یہ تصوف کے ڈیپ فیک ہیومن انٹیلیجنس بیسڈ قصے ہیں۔

    واپس اے آئی پر۔ اگر ہم نے یہی حرکتیں جاری رکھیں تو چند ماہ میں ہمارا برٹش میڈ 1860 کا دم توڑتا نظام تعلیم مکمل طور پر فارغ ہو جانا ہے۔ جس نوعیت کا قابل شیر جوان مملکتِ خداداد میں 16 سال کی تعلیم، ماں کی دعا، باپ کی مار، اساتذہ کی محنت اور موصوف کی ذاتی کاوش سے کی گئی نقل مل کر پیدا کرتی ہے، وہ اے آئی کی کوڈنگ میں 16 دن لگنے اور بن جانا ہے۔ یعنی اس استعداد کی مشین جو ہر وہ بات جانتی ہو جو آپ کا ماسٹرز ڈگری ہولڈر جانتا ہے۔ اس وقت ضرورت نہیں بلکہ لازم ہے کہ ہم اپنا نظام تعلیم ازسرنو وضع کریں۔ اپنی ترجیحات کا تعین کریں۔ اس بات کو مدنظر رکھ کر کہ پیچیدہ ترین ریاضی و سائنس اب اے آئی کی مکمل دسترس میں ہے اور ہمیں اس چیز کو ماننا ہوگا کہ ہماری تمام تر سائنسی مضامین و ریاضی آنے والے دنوں میں اسی طالب علم یا پروفیشنل کو قریب پھٹکنے دیں گے جو اے آئی کا استعمال ایڈوانس لیول پر جانتا ہوگا۔ سوشل سائنسز میں البتہ انسانی عمل دخل زیادہ ہے اور رہے گا کیونکہ انسانی نفسیات و جذبات کی پیچیدہ راہیں اے آئی کے بس سے فی الحال باہر ہیں۔ لیکن اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہمیں ابتدائی کلاسز سے اے آئی کورس میں شامل کرنا ہوگا اور اپنی تمام کلاسز میں اسے بطور مضمون پڑھانا بھی ہوگا۔ کیونکہ جس قدر تیزی سے اے آئی کا پھیلاؤ جاری ہے اس میں ہمارا نظام تعلیم مکمل فلاپ ہے۔

    اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی آرہی ہے یا نہیں ؟ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے نظام تعلیم کو کب اس کے برابر چلائیں گے؟ اس کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ ہم نصاب سے وہ ساری زنگ آلود پرتیں ہٹائیں جو 1860 کے برطانوی ڈھانچے سے چمٹی ہوئی ہیں۔ ہمیں متن، رٹہ اور غیر ضروری رٹے ہوئے سوالات نہیں چاہیے؛ ہمیں وہ بچے چاہیے جو اے آئی سے صحیح سوال پوچھنا جانتے ہوں۔ جو اسے بطور ٹول استعمال کرنا سیکھیں، نہ کہ اس سے ڈر کر بھاگیں یا صرف تصویریں بنا کر خوش ہوں۔

    ہمیں ہر سطح پر اے آئی لٹریسی (AI Literacy) کو بنیادی مضمون بنانا ہوگا۔ پرائمری میں بچوں کو کمپیوٹیشنل سوچ اور روبوٹکس کی بنیاد دی جائے۔ مڈل اور ہائی اسکول میں اے آئی کے استعمال، غلطیوں اور خطرات کو سمجھایا جائے۔ کالج اور یونیورسٹی میں عملی تربیت، ڈیٹا اینالسس، پرامٹ انجینئرنگ، تحقیق، اور اے آئی ڈویلپمنٹ کے عملی کورسز شامل کیے جائیں۔استاد کی ٹریننگ سب سے اہم مرحلہ ہے۔ جس استاد کو خود اے آئی کا استعمال نہیں آتا وہ اگلی نسل کو کیا سکھائے گا؟ استاد کو اس سطح پر لانا ہوگا کہ وہ خود اے آئی سے بہتر مواد، مشقیں، اور ٹیسٹ تیار کر سکے اور طلبہ کو وہ صلاحیتیں سکھائے جو مشین نہیں سکھا سکتی۔ تنقیدی سوچ، اخلاقیات، فیصلہ سازی، اور انسانی اقدار۔آخر میں، ہمیں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اے آئی لیبز قائم کرنا ہوں گی. جہاں بچے صرف پڑھیں نہیں بلکہ بنا سکیں، تجربہ کر سکیں، ناکامی سے سیکھ سکیں، اور خود کو مستقبل کے لیے تیار کر سکیں۔ اگر ہم نے آج یہ بنیاد رکھ دی تو آنے والا دور ہمارے ہاتھ میں ہوگا۔ اگر نہ رکھا تو تاریخ ہمیں ایک بار پھر پیچھے چھوڑ دے گی، اور ہم اس انقلاب کے تماشائی بن کر رہ جائیں گے، شریک نہیں۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
    مبشر حسن شاہ