Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی، کس کے خطاب کا دورانیہ زیادہ، کس کا کم؟ رپورٹ میں‌ پڑھیئے

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی، کس کے خطاب کا دورانیہ زیادہ، کس کا کم؟ رپورٹ میں‌ پڑھیئے

    اسلام آباد (رضی طاہر سے) اقوام متحدہ کی 74 ویں جنرل اسمبلی سے دنیا بھر کے صدور، بادشاہوں، وزرائے اعظم اور وزرائے خارجہ نے خطاب کرتے ہوئے اپنے ملک اور قوم کی نمائندگی کی، تاہم اس اجلاس میں طویل ترین تقریر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کی، جو 50 منٹ پر محیط تھی۔

    دوسرے نمبر پر 38 منٹ کی تقریر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی جبکہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے تیسرے نمبر پر 36 منٹ کا خطاب کیا، جبکہ برازیل کے صدر نے اقوام متحدہ کے 33 منٹ لیے۔

    اسی طرح سب سے کم دورانیے کا خطاب رواندا اور یورپی یونین کے صدور نے کیا جو 8 منٹ پر محیط تھا، اردن کے شاہ عبداللہ دوئم نے اپنی گفتگو کو 10 منٹ میں سمیٹا، سعودی عرب کے وزیرخارجہ نے 12 منٹ گفتگو کی۔

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے صدر کی افتتاحی گفتگو 7 منٹ پر محیط تھی۔ جبکہ چیف اقوام متحدہ نے 4 منٹ کے دورانیے میں استقبالیہ کلمات کہے۔

  • کیا عمران خان کشمیر کا بوجھ اٹھا پائیں گے؟ گلف نیوز کی خصوصی رپورٹ

    اسلام آباد (مانیٹڑنگ ڈیسک) پاکستان میں عمران خان کی قیادت میں مسئلہ کشمیر کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، کشمیر نہ صرف عالمی اخبارات کا بنیادی موضوع بنا بلکہ کئی عالمی رہنماوں کے خطابات اور بیانات کا حصہ بن گیا ہے، کشمیر اب تنہا نہیں رہا، ان تاثرات کا اظہار بین الاقوامی نشریاتی ادارے گلف نیوز کی خصوصی رپورٹ میں تجزیہ کار مہر تارڑ نے کیا. رپورٹ میں بتایا کہ 5 اگست کے بعد سے کشمیر میں‌ کرفیو نافذ ہے اور عمران خان نے دنیا کی توجہ کشمیر کی جانب مبذول کرارکھی ہے.

    آج کشمیر بین الاقوامی طور پر ابھر رہا ہے، اور اسکے لئے یورپین ممالک کی عوام بھی آواز اٹھارہی ہے، چین، ترکی، ملائیشیا، برطانیہ سمیت متعدد ممالک کے رہنماوں نے کشمیر پر اصولی موقف اپناتے ہوئے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے پر زور دیا ہے، کشمیر پر عالمی طور پر آواز اٹھائے جانے کی واحد وجہ عمران خان کا واحد ایجنڈا ہے، کیونکہ وہ صرف کشمیر پر بات کررہے ہیں. جس بہادری کے ساتھ عمران خان نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ پیش کیا اس کی مثال پہلے نہیں ملتی.

    دی گلف نے سوال اٹھایا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ کشمیر کا سفیر کہلائے جانے والے عمران خان کیا اس ذمہ داری کا بوجھ دیر تک اٹھاپائیں گے؟ ابھی تک وہ پر عزم ہیں لیکن آگے امتحانات بہت ہیں۔

  • پچاس دن سے کشمیری عذاب میں‌ہیں، بھارتی کانگریس کا اعتراف

    پچاس دن سے کشمیری عذاب میں‌ہیں، بھارتی کانگریس کا اعتراف

    لاہور (رضی طاہر سے) بھارتی اپوزیشن جماعت اور کئی دہائیوں سے برسراقتدار رہنے والی کانگریس بھی کشمیر کی صورتحال پر مسلسل بات چیت کررہی ہے، 5اگست کے بعد کی صورتحال میں مودی کے جھوٹ ”سب اچھا ہے‘‘کو اپنے آفیشیل ٹوئیٹر پر بے نقاب کردیا۔ کانگریس نے دعوی کیا کہ 50دنوں سے کشمیری عذاب میں زندگی گزار رہے ہیں، کچھ اچھا اور ٹھیک نہیں ہے۔

    کانگریس کے آفیشیل ٹوئیٹر سے کی گئی ٹوئیٹ میں بتایا گیا کہ 50دن سے جموں و کشمیر میں کرفیو ہے، غیر قانونی طور پر زیر حراست رکھنے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ عوام 50دنوں سے ریاستی بربریت کا سامنا کررہے ہیں۔

    یاد رہے کہ کانگریس کے رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی بھی کوشش کی تھی لیکن ائیرپورٹ پر ہی روک دیا گیا۔مودی سرکار تمام تر غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے میں ناکام ہے۔

  • پانچ ماہ سے رہائی کی اپیل لاہور ہائیکورٹ میں‌ زیر التواء، گردے کے مرض میں‌ مبتلا قیدی انتقال کرگیا

    پانچ ماہ سے رہائی کی اپیل لاہور ہائیکورٹ میں‌ زیر التواء، گردے کے مرض میں‌ مبتلا قیدی انتقال کرگیا

    لاہور (رضی طاہر سے) لاہور ہائیکورٹ نے26ستمبر کو گردوں کے مرض کے شکار سیاسی مقدمے کے قیدی ہمایوں بشیر کی رہائی سے متعلق فیصلہ سنانا تھا، اپیل 5ماہ سے التواء کا شکار تھی، مگر ہمایوں بشیر جاں کی بازی ہار گئے، دو نہیں ایک پاکستان کا خواب چکنا چور، غریب اور امیر کے لئے علیحدہ قانون کی ایک اور بھیانک مثال سامنے آگئی۔

    تفصیلات کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے قیدی ہمایوں بشیر میو ہسپتال میں انتقال کرگئے، انہیں آج صبح نیم مردہ حالت میں جیل سے ہسپتال منتقل کیا گیا، ہمایوں بشیر قید ہونے سے پہلے ہی گردے کے مریض تھے، دوران قید ان کی حالت بگڑ گئی اور ڈائلسسز شروع ہوگئے،لواحقین کا کہنا ہے کہ دو ماہ سے ان کے ڈائلسسز چل رہے ہیں جبکہ لاہور ہائیکورٹ میں 5ماہ سے ان کے باقاعدہ علاج کیلئے رہائی کی اپیل زیرالتواء ہے، جس پر سماعت26ستمبر کو ہونی تھی مگر ہمایوں بشیر سماعت سے ایک دن قبل ہی جاں بحق ہوگیا۔ اپیل کی سماعت کرنے والے بنچ کے سربراہ جسٹس صداقت علی ہیں ان کے ہمراہ جسٹس شہرام سرور کیس سن رہے ہیں۔ اس کیس کے سلسلے میں 106افراد تاحال جیل میں ہیں۔

    پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری اطلاعات نور اللہ صدیقی نے باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں بتایا ہے کہ پراسیکیوشن، جیل حکام سمیت ہائیکورٹ کو بھی کئی بار ہمایوں بشیر کی بیماری سے آگاہ کیا، مگر کوئی سننے کو تیار نہیں، 5ماہ سے اپیل فائلوں میں ہے، انہوں نے سوال اٹھا یا کہ ہم دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگانے والوں سے پوچھتے ہیں کہ ہمایوں بشیر کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک اور ”قانونی بربریت” کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا قانون صرف نوازشریف اور بڑے سیاسی رہنماؤں کیلئے ہے،جو قومی خرچے پر ہسپتالوں میں مہینہ بھر پڑے رہتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ تمام تر مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں۔

  • وزراء کا احتساب، عمران خان کا وعدہ وفا نہ ہوسکا، وزراء کی فوج ظفرموج قوم پر بوجھ، خصوصی رپورٹ

    وزراء کا احتساب، عمران خان کا وعدہ وفا نہ ہوسکا، وزراء کی فوج ظفرموج قوم پر بوجھ، خصوصی رپورٹ

    اسلام آباد (رضی طاہرسے) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پہلی کابینہ معرض وجود میں آتے ہی وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ہر تین ماہ بعد وزراء کی کارکردگی رپورٹ جانچنے اور اس رپورٹ کے مطابق متعلقہ وزیر کو بحال رکھنے یا ہٹانے کا فیصلہ کیا، مگر اس فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ وزراء کی فوج ظفر موج کی موجیں جوں کی توں ہیں اور کارکردگی کے حوالے سے کوئی پیمانہ نافذ العمل نہ ہوسکا۔

    تحریک انصاف کے وفاقی وزراء کی تعداد24ہے جبکہ وزرائے مملکت کی تعداد 4ہے،اسی طرح مشیروں کی تعداد 5جبکہ معاونین خصوصی15ہیں۔ وفاقی وزراء میں پوسٹل سروسز کے وزیر مراد سعید، وزیر بجلی وپانی عمر ایوب اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ کوئی بھی وزیر خاطرخواہ کارکردگی نہ دکھا سکا، بعض وزراء محض خانہ پوری کررہے ہیں جن میں خالد مقبول صدیقی، زبیدہ جلال، پرویز خٹک اور فہمیدہ مرزا جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔

    اگر ہم تذکرہ کریں وفاقی وزارت برائے آبی وسائل کا توگزشتہ حکومتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فیصل واوڈا بھی اپنی وزارت کی سالانہ رپورٹ جاری نہ کرسکے، یہ وزارت محض سیلاب کی سالانہ رپورٹ دینے تک محدود ہے، جبکہ اپریل 2018کے بعد کوئی منصوبہ اس وزارت کے زیر سایہ مکمل نہ ہوسکا اور نہ ہی شروع ہوا، اس وزارت کا قلمدان تحریک انصاف کے فیصل واوڈا کے پاس ہے۔ اگر ہم وزارت کشمیر کی بات کریں تو حال میں کشمیر میں 50دن سے جاری کرفیو میں وزیر امور برائے کشمیر کشمیر اور گلگت بلتستان کی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا نہ کرسکے، وزرات کے زیر اہتمام کوئی بھی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے، اس وزارت کا قلمدان علی امین گنڈا پور کے پاس ہے۔

    اسی طرح فوڈ سیکیورٹی کی وزارت بھی محض قوم پر بوجھ کے سوا کچھ نہیں، صاحبزادہ محبوب سلطان اس وزارت پر براجمان ہیں اور اس وزارت نے ابھی تک2018میں دی گئی پالیسی پر ریویو اجلاس تک نہ کیا۔ اسی طرح کئی وزارتیں محض مردہ وجود کی طرح ہیں جو قوم کے ٹیکس پر بوجھ کے سوا کچھ نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف اپنے کیے ہوئے وعدے پر عمل کرتے ہوئے وزراء کا احتساب کرے گی یا یہ سلسلہ جوں کا توں جاری رہے گا۔

  • کبھی ان‘ کبھی آؤٹ، ڈاکٹر طاہرالقادری کا سیاسی سفر، کیا کھویا کیا پایا؟

    کبھی ان‘ کبھی آؤٹ، ڈاکٹر طاہرالقادری کا سیاسی سفر، کیا کھویا کیا پایا؟

    اسلام آباد (رضی طاہر سے) تحریک منہاج القرآن کے بانی و چیئرمین ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان عوامی تحریک سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ملکی قومی سیاست سے ہمیشہ کیلئے دستبرداری کا اعلان کردیا، پارلیمانی سیاست سے وہ پہلے ہی آؤٹ تھے جبکہ ایک زبردست پریشر گروپ کی حیثیت سے ان کی جماعت کا رعب و دبدبہ قائم تھا، نوازشریف اور پیپلزپارٹی کے گزشتہ 10سالوں میں انہوں نے بے شمار جلسے اور دو بڑے دھرنے دیئے، پہلا دھرنا 2013میں 4دن پر محیط تھا، جبکہ دوسرا دھرنا2014میں تقریبا70دنوں پر محیط رہا، جس میں ان کے ہم سفر موجودہ وزیراعظم عمران خان تھے، حالانکہ عمران خان 120دن بیٹھے رہے مگر دھرنے کی اصل رونق ڈاکٹر طاہرالقادری کے قافلے کے جانے کے بعد مانند پڑگئی تھی۔

    ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنی سیاست کا آغاز 90کی دہائی میں شروع کیا، انہوں نے اپنی سیاسی جماعت کی بنیاد مئی1989میں رکھی،قیام کے اگلے ہی سال 1990میں انتخابی سیاست میں حصہ لیا، 90کی دہائی میں یہ ان کا پہلا اور آخری الیکشن رہا، 1993کے انتخابات سے لاتعلقی کا اعلان کیا، اس کے بعد 1996میں سرگرم ہوئے اور بے نظیر کے حکومت کے خاتمے کے بعد عوامی اتحاد قائم کیا، جس میں ملک کی نامور سیاسی جماعتیں شامل تھیں، اتفاق کی بات ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری 1999میں بھی گونواز گو تحریک میں سرگرم عمل رہے، نواز شریف کی حکومت گرائے جانے کے بعد مشرف کے احتساب ایجنڈے کو سپورٹ کرتے ہوئے مشرف کے ساتھی بن گئے، 2002میں ایک مرتبہ پھر انتخابی سیاست میں بھرپور حصہ لیامگر محض اپنی ہی سیٹ حاصل کر پائے، ابتداء میں مشرف کے ساتھی رہے میں وقت کے ساتھ ساتھ ان کی پالیسیوں کے مخالف ہوگئے اور مشرف کے دوہرا عہدہ رکھنے کیخلاف اسمبلی کے فلور میں احتجاج کرتے رہے،2سالہ قومی اسمبلی کے سفر میں ان کی مصروفیات خاص نہیں رہیں، پارلیمانی سیاست سے دور ہی رہے اور2004میں قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دیدیا۔

    انتخابات2008میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے لاتعلقی کا اعلان کیا، اور اسی سال کے آخر میں 5سال کیلئے ملک سے باہر چلے گئے، کینیڈا میں ہی قیام کے دوران تحریک بیداری شعور کاآغاز کیا اور موجودہ انتخابی نظام کے خلاف جدوجہد شروع کی، 2011میں لیاقت باغ جلسے سے مہم کا دائرہ کار بڑھایا اور5سال بعد دسمبر2012میں ملک واپس آئے، مینار پاکستان میں ان کاعوامی استقبال کیا گیا، جہاں انہوں نے اسلام آباد مارچ کا اعلان کرتے ہوئے نظام کے خلاف تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا، 2013کے پہلے مہینے کے دوسرے ہفتے میں ہی انہوں نے اسلام آباد پڑاو ڈالا، 4دن ہزاروں کارکنان کے ہمراہ دھرنا دیا اور بالاخر حکومت وقت سے انتخابی اصلاحات اور نظام کی تبدیلی کا معائدہ کرکے واپس لوٹ آئے، انتخابات2013کا بائیکاٹ کیا، الیکشن ڈے دھرنے دئیے، مئی2014میں بیرون ملک سے ہی ملک کے20سے زائد شہروں میں ہزاروں کارکنان سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے عوامی انقلاب مارچ کا اعلان کیا، تاریخ کا اعلان نہیں کیامگر عوامی رابطہ مہم شروع کردی،17جون کو سانحہ ماڈل ٹاؤن رونما ہوا، جس کے بعد22جون2014کو ڈاکٹر طاہرالقادری لندن سے پاکستان آئے، ان کی فلائٹ کو اسلام آباد اترنا تھا جہاں ان کے کارکنان جمع تھے مگر اس کا رخ لاہور موڑ دیا گیا، ڈاکٹر طاہرالقادری احتجاجا 5گھنٹے جہاز سے نہیں اترے اور اسلام آباد جہاز لے جانے کا مطالبہ کیا، تاہم گورنر پنجاب چوہدری سرور کی مداخلت پر لاہور اترے اور ماڈل ٹاؤن سانحے کے 100سے زائد زخمی کارکنان کی عیادت کیلئے جناح ہسپتال چلے گئے، اگست کی8تاریخ کو ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق ہونے والے افراد کیلئے دعا و قل کا اعلان کیا، اسی تقریب کے دوران 14اگست کو انقلاب مارچ کا اعلان کیا، دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی آزادی مارچ کا اعلان کرچکے تھے، دونوں جماعتیں اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق لاہور سے نکلیں اور براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد آئیں اور پڑاؤ پہلے آبپارہ میں ڈالا بعدازاں رکاوٹیں توڑتے ہوئے ڈی چوک پہنچے، انہی دنوں ان پر اور ان کے کارکنان پر مقدمات بنے جن میں پی ٹی وی حملہ کیس بھی ہے جو ابھی تک زیرالتواء ہیں، ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنا قیام اسلام آباد میں اکتوبرکی22تاریخ تک رکھا اور محض سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر کا مطالبہ منوا کر دھرنے کو ملتوی کردیا، اس کے بعد کچھ عرصہ پاکستان میں جلسے کرتے رہے۔

    انتخابات2018سے بھی ڈاکٹر طاہرالقادری نے لاتعلقی کا اعلان کیا اور کسی جماعت کی حمایت نہ کی، حتی کہ الیکشن سے قبل تحریک انصاف کے بھی خلاف بیان جاری کیا جس میں متنبہ کیا کہ ایسے تبدیلی نہیں آئے گی، مسلسل اتار چڑھاؤ میں رہنے والا ڈاکٹر طاہرالقادری کا سیاسی سفر 14ستمبر2019کو ختم ہوا، جس کا باقاعدہ اعلان پریس کانفرنس کے ذریعے انہوں نے خود کیا، اپنے اس سفر کے دوران وہ مسلسل نظام کے خلاف جدوجہد کرتے رہے میں شاید تاریخ انہیں پاکستان کے مروجہ سیاسی نظام میں ایک ناکام سیاسی رہنما کے طور پر، مگر نظام کے باغیوں میں صف اول کے رہنما کے طورپر یاد کرے گی، پاکستان عوامی تحریک کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان ہے، ان کے بغیر عوامی تحریک کا بیڑہ کون اٹھائے گا اور کیا یہ سیاسی جماعت رہے گی بھی یا نہیں یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔

  • پاکستانی خارجہ پالیسی کی بڑی جیت، بھارت کو دیوار سے لگا دیا

    پاکستانی خارجہ پالیسی کی بڑی جیت، بھارت کو دیوار سے لگا دیا


    ایک وقت تھاکہ جب پاکستان کو روایتی حریف ہندوستان نے مشرقی و مغربی سرحد کے علاوہ اندرونی جنگ بشکل دہشتگردی میں الجھا کر رکھ دیا تھا. اجیت ڈوول کی ہندوتوا پر مبنی پالیسی نے پاکستان کو داخلی و خارجی محاذ پر مصروف کر چھوڑا تھا اور پاکستان کو ہر طرح کے سیکیورٹی خطرات لاحق تھے


    ایسے میں مجھے یاد پڑتا ہے کہ ڈان لیکس 2016 میں منظر عام پر آیا جس کی شہ سرخی تھی “ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی یا بین الاقوامی تنہائی” کے عنوان سے چھپنے والی خبر جسے ڈان لیکس کے نام سے جانا گیا اس خبر نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ننگا کر دیا تھا افغانستان میں ہندوستان امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف بدترین محاذ کھول چکا تھا آئے روز ڈرون حملوں میں پاکستان کے خلاف سرحدی جارحیت کی جاتی تھی اور پاکستان اپنے زخموں کو چاٹ رہا تھا۔ گزشتہ پانچ برس میں پاکستان میں کئی نمایاں فیصلے کئے گئے جس کے بعد آج پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کا اعتراف ہندوستان کو بھی کرنا پڑ رہا ہے، ریاست پاکستان نے اس مشکل صورتحال سے نکلنے کے لئے جو بڑے فیصلے کئے ان میں جمہوری حکومت کا تسلسل اور الیکشن کا بروقت انعقاد ، تمام انتہا پسند گروہوں کے خلاف حتمی آپریشن ، سیاست اور دہشت گردی کے معاشی گٹھ جوڑ کا خاتمہ ، کراچی ، فاٹا اور بلوچستان میں ملک مخالف مسلح گروہوں کی تحریکوں کا مکمل خاتمہ اور پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہ دینا اور خطے کے امن کے لئے مرکزی کردار ادا کرنے جیسےفیصلے کئے گئے جن کا اب ثمر بھی دکھائی دے رہا ہے.
    پانچ برس قبل پاکستان کی ریاست نے ماضی سے سبق حاصل کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد اصلاحاتی ایجنڈے کو اپنایا اور سیاست میں کرپٹ عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا بھی فیصلہ کیا اسی کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان کے طاقتورترین خاندان بھی احتساب کی زد میں ہیں اگرچہ ان تمام اقدامات نے ریاست پر کئی اعتراضات بھی اٹھائے ، انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھائے گئے الیکشنیئرنگ اور سیاسی انجینئرنگ کا الزام بھی لگا، دہشت گرد گروہوں نے فوج اور پولیس پر حملے بھی کئے تاہم اس داخلی اور خارجی جنگ کو جیتنے کیلئے ہر قسم کی قیمت ادا کی گئی ۔۔ موجودہ حکومت جس ایجنڈے پر حکومت میں آئی ہے یہ خالصتاََ ریاستی ایجنڈا ہے اور اسی لئے اب تک اس حکومت کے ساتھ دیگر اداروں کے تعاون کو مثالی کہا جارہا ہے بدترین سیاسی و معاشی بحران میں بھی حکومت کو فی الحال کوئی سنجیدہ نوعیت کا خطرہ دکھائی نہیں دے رہا اگرچہ عوام کو اس جنگ کی قیمت وقتی طور پر مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت میں ادا کرنا پڑرہی ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس معاشی بحران کے اثرات ایک سال تک ٹل جائیں گے مثبت بات یہ ہے کہ اس وقت داخلی سیکیورٹی کی صورتحال کنٹرول میں ہے اور اس کی بڑی وجہ پاک فوج کی بہترین منصوبہ بندی ہے اس وقت ہندوستان خود خارجی محاذ پر پاکستان کی کامیابی کو تسلیم کررہا ہے سعودی عرب، قطر اور یو اے ای کے علاوہ چین سے پاکستان کے بہترین معاشی معاہدے اور وزیراعظم کے کامیاب دورے، روس سے قربت اورسب سے بڑھ کر امریکی صدر ٹرمپ جو پاکستان کے خلاف زہر افشانی سے بھرے ٹویٹ کیا کرتا تھا اب وہ پاکستانی وزیراعظم کو امریکہ کے دورے اور ملاقات کیلئے ویلکم کررہا ہے دنیا بھر میں پاکستان کا بطور ایک دہشت گرد ملک کی بجائے دہشت گردی کی جنگ کو جیتنے والے ملک کے طور پر تشخص بحال ہوا ہے.

    سفارتی سطح پر پاکستان کی کامیابی کواب “ٹائم آف انڈیا “ کے ایک آرٹیکل "میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ اب پاکستان بین الاقوامی تنہائی سے نکل چکا ہے ہندوستان نے تسلیم کیا ہے کہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود افغان امن عمل سے وہ مکمل طور پر باہر ہا چکا ہے جبکہ پاکستان مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے. ہندوستان کی خطے پر اجارہ داری کا خواب چکنا ہر چکا ہے کیونکہ پاکستان امریکہ، روس اور چین اس وقت افغان طالبان کے ساتھ امن معاہدے کا مسودہ تیار کر رہا ہے جبکہ ہندوستان کو مکمل طور پر ان مذاکرات سے الگ کر دیا گیا ہے. پاکستان کی خطے میں جغرافیائی اور سیاسی حیثیت مستحکم ہوئی ہے جو ہر لحاظ سے پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی اور خطے کے امن کو برقرار رکھنے کے لئے بے شمار قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جسے اب ہندوستان بھی تسلیم کر رہا ہے.

     

    مصنف: راو فیصل

  • چنیوٹ لالیاں زمینی تنازع پر نوجوان قتل

    چنیوٹ لالیاں زمینی تنازع پر نوجوان قتل

    چنیوٹ:لالیاں باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تھانہ چناب نگر کی حدود موضع برج بابھل میں زمینی تنازع پر نوجوان شیر محمد ولد لال قوم لونا عمر تقریبا 25سال کوتین افرادنے فائرنگ کر کے قتل کردیا۔ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب۔
    تھانہ چناب نگر پولیس مصروف تفتیش ہے

  • چنیوٹ پولیس کی کارروائی۔بین الصوبائی منشیات فروش گنیگ گرفتار

    چنیوٹ پولیس کی بڑی کارروائی۔بین الصوبائی منشیات فروش گنیگ گرفتار

    چنیوٹ(باغی TV کی رپورٹ کے مطابق)سبنسپکٹر محمد افضل ایس ایچ او تھانہ لنگرآنہ کی کاروائی۔ بین الاصوبائی دو منشیات سمگلرز گرفتار۔ڈی پی او محمد انور کھیتران کی پریس کانفرنس۔منشیات فروشوں کوکھڑکو پل کے قریب ناکہ بندی کے دوران ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ گاڑی کے خفیہ خانوں سے 15 کلو ہیروئن برآمد ہوئی ہے.ملزمان ارشد اور بخت نواب کا تعلق کے پی کے ضلع مردان سے ہیں۔گرفتار ملزمان نے مقامی ڈیلر زبیر, ساجد اور عابد ٹھیٹھیہ کو سپلائی کرنی تھے.ڈی پی او چنیوٹ کے مطابق ملزمان سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے اہم انکشافات متوقع ہیں.معاشرتی ناسوروں کو عبرت کا نشانہ بنائیں گے. ڈی پی او چنیوٹ کی طرف سے۔پولیس ٹیم کے لیے ایک لاکھ نقدی کا اعلان بھی کیا گیا

  • چنیوٹ۔ڈپٹی کمشنر کا ضلع بھر میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ

    چنیوٹ (نمائندہ باغی TV) تمام ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے اس سلسلہ میں کسی قسم کی سستی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی ، ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر سید امان انور قدوائی نے ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کیا ، اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ چنیوٹ سعید احمد ، سی او ایجوکیشن چوہدری ذوالفقار علی ، سی او ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق بشیر عاکف ، ایکسین بلڈنگ ، ایکسین پبلک ہیلتھ ، ایکسین روڑز و دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی ، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ سعید احمد نے بریفنگ اور ضلع بھر مختلف مقامات پر جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا جس کے بعد ڈپٹی کمشنر سید امان انور قدوائی نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کوحکم جاری کیا کہ وہ گورنمنٹ کی طرف سے جاری کردہ فنڈز کو 20جون تک خرچ کریں اور تمام ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کریں اس سلسلہ میں کسی بھی قسم کی سستی یا لاپرواہی کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔