Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • پنجاب حکومت کا عوام دوست بجٹ . تحریر:شعیب قدیر ملک

    پنجاب حکومت کا عوام دوست بجٹ . تحریر:شعیب قدیر ملک

    وزیر اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ایسے وقت میں عوام دوست بجٹ پیش کرکے مخالفین کے منہ بند کردیئے ہیں جب ملک میں کرونا کی عالمی وبا نے معاشی طور پر ایک عام آدمی سے اس کی قوت استطا عت چھین لی ہے بزدار حکومت کی طرف سے یہ بجٹ 2,653ارب روپے کا بجٹ تھا گو اپوزیشن نے حسب روایت لفظوں کی گولہ باری اور الزام تراشی میں کوئی کسراُٹھا نہ رکھی لیکن یہ ایک حقیقت پسندانہ اور متوازن بجٹ تھا جس میں کسی بھی شعبے پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا بلکہ 23شعبوں کو ٹیکس میں ریلیف دیا گیا جنوبی پنجاب کے عوام جن کے ذہن میں ایک تصور نے جنم لیا کہ وہ تخت لاہور کے قیدی ہیں اور ان کی قسمت کے فیصلے بھی تخت لاہور ہی کرتا ہے عثمان بزدار کی حکومت میں اس تصور کو یکسر ختم کردیا اور جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے ایک بھاری رقم جو 189ارب روپے ہے علیحدہ بجٹ کی شکل میں مختص کردی گئی عوام کی مالی مشکلات تو کسی دور میں بھی کم کرنے کی کاوش نہیں کی گئی، اس سے بڑی اور قباحت کیا ہوسکتی ہے کہ جانے والی حکومت کی ناقص حکمرانی کے باعث 56ارب روپے کے واجب الادا چیکس تھے جس کے ساتھ 41ارب روپے کے اوور ڈرافٹس اور اعلیٰ خدمت کا دھنڈورا پیٹنے والوں نے 8000سے زائد نامکمل سکیمیں آنے والی حکومت کیلئے چھوڑیں زراعت کیلئے ایسی پالیسیاں بنائی گئیں جنہوں نے ایک ایسے شعبے کی تباہی کی بنیاد رکھی جسے وطن عزیز میں سب سے بڑی صنعت قرار دیا جاسکتا ہے اور پاکستان کے 79فیصد افراد کا معاشی انحصار اس شعبے کے ساتھ وابستہ ہے اس شعبے کیلئے پالیسیاں بنانے والے ایسے افراد تھے جن کا زراعت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا اسی طرح سابقہ ادوار میں تعلیم کے شعبہ میں بھی ایسی پالیسیاں متعارف کرائی گئیں جس سے عام فرد وطن پر تعلیم کے دروازے بند ہو گئے کووڈ 19کی وبا نے بھی وطن عزیز میں اپنے خونی پنجے گاڑھ لئے کوئی اور حکومت ہوتی تو شاید حالات اس کے کنٹرول میں نہ رہتے مگر موجودہ حکومت نے اپنی بہترین حکمت عملی کے باعث پاکستان کو ان تین ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا جنہوں نے کووڈ پر قابو پانے میں پہلے تین ممالک کا اعزاز پایا اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے 106ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا جس میں کاروباری طبقہ کیلئے روزگار کی بحالی کیلئے 56ارب روپے کا تاریخی ٹیکس ریلیف دیا گیا اور یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تعلیم اور صحت کیلے 205ارب 50کروڑ کی کثیر رقم مختص کی گئی ہے سابقہ ادوار میں ترقیاتی کاموں کا ڈھنڈورا پیٹا گیا لیکن موجودہ دور میں حالیہ بجٹ میں ان کاموں کیلئے 66فیصد زائد رقم کا ضافہ کیا گیا ہے پانچ شعبہ جات جو انتہائی اہم ہیں جن میں صنعت، زراعت،لائیو سٹاک،ٹورازم،جنگلات کے شعبہ جات شامل ہیں کیلئے پہلی بار 57ارب 90کروڑ کی رقم مختص کی گئی یہ اعجاز بھی عثمان بزدار کی حکومت کو ہی جاتا ہے صحت کا شعبہ ہمیشہ سے نظر انداز ہوتا رہا ہے لیکن جنوبی پنجاب خاص طور پر جہاں عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں پنجاب کی 11کروڑ آبادی کی ہیلتھ انشورنس ایک طرف صرف ڈیرہ غازیخان ڈویژن کیلئے ہر وہ فرد جو شناختی کارڈ کا حامل ہے کیلئے ”صحت انصاف“کارڈ کی سہولت رکھی گئی اور ساہیوال و ڈیرہ غازیخان میں قومی شناختی کارڈ کوہی صحت انصاف کارڈ کا درجہ دے دیا گیا جنوبی پنجاب جہاں انسانیت بنیادی سہولیات کیلئے ترستی ہے حالیہ بجٹ میں جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے اور انسانی ترقی پر خرچ کرنے کیلئے کثیر رقم مختص کی گئی، صحت تعلیم اور انفراسٹرکچر کے میدان میں بزدار حکومت انقلاب برپا کرنے جا رہی ہے، پہلی مرتبہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا خاتمہ ہو رہا ہے۔اگر ہم دیکھیں تو اپوزیشن نے حکومت کے عوام دوست اقدامات پر بھی واویلہ پر ہی اکتفا کیا

    نااہل اپوزیشن کی راہیں جدا جدا ہوچکیہیں اسمبلی میں بھی یہ متفق نہ ہوسکے، ان کو صرف اپنی لوٹ مار اور چوری چکاری بچانے کی فکر رہی، وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدانے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر میں عوامی نمائندوں اور عوام کے سامنے بدلتے ترقی کرتے پھلتے پھولتے پنجاب کا نقشہ فارمولا اور روڈ میپ پیش کیا گگیا اس سے بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ڈگری یافتہ ایک نسل روزگار کیلئے سرکاری دفاترز کی دہلیز پر دھکے کھا رہی ہے سردار عثمان بزدار کا تعلق چونکہ جنوبی پنجاب سے تھا اس لئے انہوں نے جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کی محرومی کا احساس کیا اور صوبائی ملازمتوں میں 32 فیصد کوٹہ مختص کیا۔ میانوالی اوربھکر کو شامل کرنے پرکوٹہ 35 فیصد کردیا جائے گا۔یہ سردار عثمان بزدار کا عہداورعزم تھاکہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کے ازالے کو مشن بنا لیا۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ سابق حکمرانوں نے محروم علاقوں کی پسماندگی دور کرنے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ لاہور میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والے دور دراز علاقوں کے مسائل سے یکسر لا علم رہے جب کہ عثمان بزدار نے لاہور میں بیٹھ کر پسماندہ علاقوں کی نمائندگی کی۔وہ ہر ضلع اورہر تحصیل میں جاکرمسائل اورضروریات کا جائزہ لیتے رہے۔ انہوں نے دیگر علاقوں کی طرح پسماندہ علاقوں میں بھی فلاح عامہ کی سکیموں پر کام مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ حالیہ بجٹ سے ایک بات ثابت ہوئی کہ پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب کی 71 سالہ محرومیوں کے خاتمہ کیلئے وسائل کا رخ جنوبی پنجاب کیطرف موڑ ا جس سے پسماندگی کا خاتمہ اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کی کاوش سے جنوبی پنجاب میں ترقی کی نئی راہیں ہموارہونے لگی ہیں۔ جہاں تک جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بہاولپور کا معاملہ ہے تو سیکٹریٹ وہی بنے گا،سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے اورالزامات برائے الزامات کی سیاست میں عوامی خدمت نہیں بلکہ عوام کی خاطر کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کو وطیرہ بنایا گیا۔ پراپیگنڈا کرنے والے عناصرہمیشہ مخصوص ایجنڈا لیکر چلتے رہے۔ ماضی میں جنوبی پنجاب سمیت صوبے کے بڑے حصے کو ترقیاتی منصوبوں تک سے محروم رکھا گیا۔سابق حکمرانوں نے جنوبی پنجاب کے لئے مختص فنڈز کو بھی ذاتی پسند کے منصوبوں پر خرچ کیا اور گزشتہ 7برس کے دوران جنوبی پنجاب کو265 ارب روپے کی رقم سے محروم کیا گیا اور جنوبی پنجاب کے عوام کے لئے ترقی وخوشحالی کے منصوبے صرف کھوکھلے نعرے ہی رہے۔موجودہ حکومت پنجاب پورے صوبے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم نا اپنا عزم سمجھتی ہے۔در اصل جنوبی پنجاب کے عوام سے ماضی میں کی گئی زیادتیوں کے ازالے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ پنجاب حکومت نے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی قسمت بدلنے کیلئے حالیہ بجٹ میں بڑے اقدامات اٹھا ئے اور یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ ترقیاتی بجٹ میں 66 فیصد تاریخی اضافہ کیا گیا۔پنجاب کے بجٹ کی شفافیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔صحت کی سہولیات کی فراہمی بھی موجودہ پنجاب حکومت کی اولین ترجیح رہی۔ ہر ضلع کا علیحدہ ڈویلپمنٹ پیکیج بنانا وزیر اعلیٰ کا بہترین اقدام ٹھہرا۔پی ٹی آئی حکومت نے جنوبی پنجاب کے ہر ضلع کو 35 ارب روپے کا ریکارڈ بجٹ دیکر مثالی بجٹ پیش کیا جس پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار مبارکباد کے مستحق ہیں۔علاقہ بھر میں بجلی کی ترسیل،پینے کے پانی کی فراہمی،ہاکڑہ نہر کی توسیع،ریسکیو 1122 سمیت مختلف شاہرات کے منصوبے منظور ہوئے۔ عوام باشعور ہیں بہتر سمجھتے ہیں کہ اب کسی اور کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگوانے کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ نامساعد حالات کے باوجود 350ارب روپے سے زائدرقم ترقیاتی کاموں کے لیے جنوبی پنجاب کے لیے فنڈز کا مختص کرنا ترقی کی نوید نہیں تو اور کیا ہے۔پسماندہ ضلع لیہ کے لیے اربوں روپے کی مالیت سے ایم ایم روڈ دورویہ تعمیر،دوسوبستر پر مشتمل چار ارب روپے کی لاگت سے زچہ بچہ ہسپتال و نرسنگ سکول کی تعمیر،50کروڑ روپے کی لاگت سے سیوریج سکیموں کی اپ گریڈیشن،گریٹر تھل کینال فیز llتحصیل چوبارہ کے لیے ساڑھے نو ارب روپے مختص کرنے،حفاظتی و سپربندوں کی تعمیر،ریگولیٹری کے کام کی تکمیل کے لیے فنڈز مختص کرنے،رورل ایریا کی سٹرکات کی درستی کے لیے دس کروڑ روپے،شلٹر ہوم کی تعمیر،سپورٹس کے لیے فنڈز مختص کرنے کے علاوہ 40کروڑ روپے کی لاگت سے لیہ تاجمن شاہ کارپٹ روڈ کی تعمیر،ضلع بھر میں کالجز،سکولوں کی اپ گریڈیشن کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز کا مختص کیا جانے سے ضلع لیہ کی عوام کی حالات بدلنے،بے روزگاری کے خاتمہ اور روزگار کے مواقع کے لیے ضلع لیہ کی عوام کے لیے یہ بجٹ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • چلئے کے چلتی کا نام گاڑی : تحریر عینی سحر

    چلئے کے چلتی کا نام گاڑی : تحریر عینی سحر

    رکئے مت چلتے رہیں ماہرین کیمطابق چلنا صحت کیلئے بے حد مفید ہے یہ جو دل ہے اسمیں جسکو مرضی بسائیں لیکن اسکو چلنے کی ورزش سے چاک وچوبند رکھیں تاکے کسی پر مٹنے سے پہلے خود ہی نہ مٹ جاۓ_ کاہلی چاہے جتنی بھی ہو جم جانے کا وقت نہ ہو تو بھی چلنے کی زحمت کرتے رہئے اس سے بڑھتی ہوئی توند کو افاقہ ہوگا بڑھتے ہوۓ وزن میں لاپرواہ رہنے کی بجاۓ دن میں چند گھنٹے چل لینا آپکے بڑھتے ہوۓ وزن کو تھوڑا بریک لگا لے گا_ اگر اماں بازار سے دہی لانے کو کہہ دیں تو اس پر موٹر سائیکل پر فراٹے بھرنے سے بہتر ہے تھوڑا سا پیدل چل لیاجاۓ اور فضا کو موٹر بائیک کے دھوئیں سے بچا لیا جاۓ

    چلنے سے وزن کم کرنے کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں کے ہوسکتا ہے رشتوں والی مائی کو آپکا رشتہ تلاش کرنے میں آسانی ہو ورنہ موٹاپے کے شکار خواتین اور حضرات کیلئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں

    صحتمند خوراک اور روزانہ کا پیدل چلنا آپکے بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول میں رکھتا ہے بیچارابلڈ پریشر جو آجکل کے میڈیا کے ڈراموں ، آلو پیاز مرغی کے گوشت کے بھاؤ کو دیکھ کر بہت بلند ہو جاتا ہے چلنے سے اسکے قابو میں رہنے کا امکان ہے البتہ جتنا مرضی چل لیں آلو پیاز اور مرغی کا بھاؤ قابو میں نہیں آنے والا

    جو کیلوریز موبائل فون اور کمپیوٹر پر جانو مانو کو میسج کرکر کے وزن میں کاہلی سے بڑھتی ہیں اسطرح کی فضول کی کیلوریز چلنے سے جلنا شروں ہوتی ہیں اور جسم کو چاک و چوبند رکھتی ہیں

    ماہرین کہتے ہیں کم از کم چلنے کی ورزش ضرور کریں کیوں کے چلنے سے آپکا موڈ بہتر ہوگا اور بسورتی شکل کو افاقہ ہوگا کیوں کے آپکا مزاج بھی خوشگوار ہوگا جس سے آپکا حلقہ احباب بھی وسعت اختیار کریگا ہوسکتا ہے اس خوشگواری میں کچھ خوش اخلاقی بھی سرایت کرجاۓ اور آپ ہر وقت کی چڑچڑاہٹ سے نجات پائیں

    چلنے کا ایک فائدہ یہ بھی بتایا جارہا ہے کے اس سے آپکی یادداشت بہتر ہو سکتی ہے _ ایسے میں آپکو گھر کے بل اور محلے کی خالہ کو کمیٹی کے پیسے وقت پر دیتے میں مدد ملے گی

    یادداشت کی بہتری سے سبق بھی یاد رہے گا اور امتحان میں نقل کرنے کی محتاجی نہیں ہوگی _ اور امتحان کا نتیجہ آنے کے دنوں میں جو پریشانی کے دورے پڑتے ہیں ان سے نجات ملے گی _

    چلنے کا ایک فائدہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کے اس سے آپکے اعصاب مضبوط ہونگے _ جو آپکو اماں اور ابا جی سے پڑنے والی جھڑکیوں پر مضبوط بناتے ہوۓ صبر عطا کریگی.
    اسلئے چلتے رہئے اس کو اپنا معمول بنا کر خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر صحتمند رکھئے کیوں کے چلتی کا نام گاڑی ہے

  • ‏”تعلیم” .تحریر:سعدیہ ناز

    ‏”تعلیم” .تحریر:سعدیہ ناز

    کیا کبھی ہم نے لفظ تعلیم پر غور کیا ہے؟ تعلیم ہے کیا؟ اور جو ہم تعلیم لے رہے ہیں وہ کیا ہے؟ شاید ہم نے کبھی اس چیز پر غور ہی نہیں کیا، یا ہمیں اس چیز کی ضرورت ہی نہیں پڑی.
    تعلیم کی بنیادی معنی ہے "علم حاصل کرنا” اور علم حاصل کرنے کا مطلب شعور کا آ جانا اور جب شعور آ جاتا ہے تو ہم ہر چیز سے واقف ہو جاتے ہیں،ہمیں اچھے اور برے کا مطلب سمجھ آ جاتا ہے،ہمارے دل میں انسانیت جاگ جاتی ہے،ہمیں لوگوں کی مدد کرنا سمجھ آ جاتا ہے اور سب سے بڑی چیز ہم ایک اچھے انسان بن جاتے ہیں جس کی ہمارے معاشرے کو بہت ضرورت ہے،وہ اچھا انسان جو لوگوں کے کام بنا مطلب اور بنا رشوت کے کرے،وہ اچھا انسان جو محنت سے ایمانداری سے اپنا کام کرے اپنے ملک کا نام روشن کرے اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے..آپ نے دیکھا ہوگا تعلیم سے ہم کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے، میرا مقصد اصل میں یہ سمجھانا تھا کہ اگر ہم علم حاصل کرنے کی وجہ سے تعلیم لیں گے تو اس کے کتنے فوائد ہیں اور اس سے ہم کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں.

    سب سے پہلے ضروری چیز جو ہم تعلیم لے رہے ہیں وہ کیا ہے؟ اگر میں یہ کہوں کے وہ ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے تو بلکل بھی غلط نہیں ہوگا کیوں کہ ہم جو آج کل تعلیم لے رہے ہیں وہ فقط "ڈگری” ہے ۔اگر ہم لفظ ڈگری پر چلے گئے تو اس کے بھی بہت زیادہ مطلب نکل آئیں گے بہرحال ہم اس پر نہیں جا رہے لیکن ہمیں ڈگری اور تعلیم میں فرق جاننا بھی بہت ضروری ہے۔
    یہ 2021 چل رہا ہے آج کل بچے جو اسکول جاتے ہیں وہ تعلیم نہیں بلکہ ایک ڈگری لینے جاتے ہیں ایک فرسٹ کلاس کی ڈگری.اس چیز میں بچوں کا کوئی قصور نہیں بچے تو جو اسکول ،گھر اور معاشرے میں سُنیں گے ،دیکھیں گے تو وہ وہی کریں گے۔اگر ہم گھر کی مثال لیں تو والدین اپنے بچوں کو کہتے ہیں بیٹا/بیٹی تم نے کلاس میں فرسٹ آنا ہے اور فرسٹ کلاس کی ڈگری لینی ہے،تمہارا فلاں کے ساتھ مقابلہ ہے دیکھتے ہیں تم کیا پوزیشن لیتے ہو تم نے بس نمبر ون کی ڈگری لینی ہے جیسے ہم اپنے آس پاس، پڑوس، رشتےداروں کو بتائیں ہمارے بچے بہت قابل اور ذہین ہیں پہلے نمبر کی پوزیشن اور ڈگری لے کر آئیں ہیں۔اور یہی چیز اسکول میں استاد کرتے ہیں مقابلہ کراتے ہیں پوزیشن کا ۔اب آپ خود سوچیں جب بچہ اسکول اور گھر میں یہ سب سُنے گا تو وہ تعلیم نہیں بلکہ نمبر ون کی ڈگری حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔اور اس سب میں تعلیم جو بنیادی چیز ہے وہ چلی گئی پیچھے .

    اور جب یہ ڈگری والے لوگ نمبر ون ہائے فائے نوکری کرنے لگتے ہیں تب وہ اپنے دل میں ایک چیز رکھتے ہیں وہ یہ کہ”ہم نے اتنے پیسے بھر کے اچھے ڈگری لی ہے تو اب ہمیں وہ سارے پیسے دوسرے لوگوں سے وصول کرنے ہیں۔اب اس کی مثال ایک ڈاکٹر کی لیں جو پیسے بھر کر ایک اعلیٰ ڈگری لے کر آیا ہے ،تو وہ کہے گا مجھے یہ پیسے اپنے مریضوں سے علاج کی صورت میں وصول کرنے ہیں۔ایسی بہت ساری مثالیں ہیں ہمارے معاشرے میں ڈگری یا فتہ لوگوں کی جو پڑھ کر ڈگری تو لے لیتے ہیں لیکن افسوس وہ علم جو بنیادی چیز ہے اسے حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں.

    اگر ہم چاہتے ہیں ہماری آنے والی نسل اچھے انسان،اچھے شہری ،اچھے پاکستانی بنے تو ہمیں چاہیے ہم انہیں وہ علم دیں جو ان کے بھی کام آئیں اور دوسرے لوگوں کے بھی۔ جسے حاصل کر کے انہیں سب سے پہلے خود کی اچھے سے پہچان ہو پھر اپنے آس پاس کے لوگوں کی.اور اس چیز کے لیے ضروری ہے ہمارے والدین،بزرگ اور ہمارے استاد جو بچوں کو صرف علم لینا سکھائیں اور علم حاصل کر کے ایک اچھا شہری بننا سکھائیں جس کے دل میں انسانیت اور ہمدردی ہو لوگوں کے لیے.

    "ہمارے معاشرے اور ملک کو علم والے لوگوں کی ضرورت ہے”

  • مہنگائی۔  تحریر: محمد ابراہیم

    مہنگائی۔ تحریر: محمد ابراہیم

    مہنگائی۔ تحریر: محمد ابراہیم
    زیادہ سے زیادہ سال میں مہینہ ڈیڑھ مہینہ ایسا ہوتا ہے کہ ھماری بجلی کے طلب 25ہزار میگا واٹ تک آتی ہے ۔

    جو یہ کرکے گئے 2028 تک انہوں نے مزید 30ہزار میگا واٹ بجلی معاہدوں میں add کرلی، مطلب 25+30 ہزار ٹوٹل 55ہزار میگا واٹ ، مثلاً

    سال بھر میں 25 ہزار میگا واٹ بھی صرف زیادہ سے زیادہ دو مہینے ملک کی ضرورت ہوتی ہے سردیوں میں یہ کھپت 16ہزار میگا واٹ سے بھی کم لیکن 2028 کے معاہدوں تک مُسلم لیگ ن نے 55ہزار میگا واٹ کے معاہدے کیئے اب آپ چاہے 20 ہزار بجلی استمال کریں لیکن پیسہ قوم نے 2028 تک 55 ہزار میگا واٹ کا ھی ادا کرنا ہے ۔

    اب یہ پیسے ہیں کتنے ؟؟

    جب 2013 میں نواز شریف کی حکومت آئی تو اُس وقت قوم معاہدوں کے مطابق سالانہ 180 ارب ادا کررہی تھی ۔

    اُسکے بعد 2018 میں جب تحریک انصاف کی حکومتِ آئی تو معاہدوں مطابق 450 ارب ادا کرنے تھے ۔

    اب اِس وقت اُسی سودوں کے مطابق 700 ارب سالانہ ہے اور 2023 تک یہ رقم 1100 ارب تک پہنچ جائے گی ۔

    اور 2028 تک یہی معاہدوں کی وجہ سے سالانہ رقم 6 ہزار ارب سے بھی تجاوز کر جائے گی ۔

    مطلب اگر 2028 تک پاکستان کی بجلی کی ضرورت 20 ہزار میگا واٹ بھی ہوئی تو پیسے ہم نے 55ہزار میگا واٹ کے ہی دینے ہیں ۔

    اور یہ ساری بجلی مہنگے آئل ، گیس ، کوئلے سے پیدا ہورہی ہے ،

    •آئل مہنگا امپورٹ ہونے سے بجلی مہنگی
    •ایل این جی سے بجلی پیدوار ایک نقصان جبکہ ٹرمینل کا کارگو کھڑا ہونے سے اُسکے چارجز الگ ۔
    •کوئلے کی بجلی بھی وُہ کہ پاکستان کا کوئلہ چھوڑ کر باہر سے امپورٹ کوئلہ پہلے کراچی پورٹ پر آتا ہے پھر کراچی سے ساہیوال تک پہنچتے ڈیڑھ روپیہ فی ٹیرف کا خرچہ ٹرانسپورٹ کی صورت بڑھ جاتا ہے ۔

    جبکہ اِسی دوران ہم ہوا، پانی ، اپنے کوئلے سے بجلی پیدا کرسکتے تھے ۔

    لیکن نواز شریف حکومت نے اپنے فرنٹ مینوں کے زریعے کّک بیکس کی خاطر سب کچھ کیا اور قوم کی پسلیوں سے پیسہ نکال لیا ۔

    اِس سال پاکستان کا ٹوٹل بجٹ 8ہزار ارب خسارے کے ساتھ تھا ۔

    2028 تک 6ہزار ارب روپیہ بجلی کی کمپنیوں کو فالتو دینا پڑے گا ۔

    اندازہ کرلیں شریفوں نے جو اِس قوم کے ساتھ کیا جو شاید فرعون نے اپنی رعایا کے ساتھ بھی نہ کیا ہو
    Twitter handle, @IbrahimDgk1

  • زندگی ، خوشی اور غم کا میل جول .تحریر: کاوش

    زندگی ، خوشی اور غم کا میل جول .تحریر: کاوش

    سردی کا موسم تھا اور ایک بوڑھا آدمی گھر پر اکیلا تھا اسے چائے کی طلب ہو رہی تھی اس کی بیوی اور بیٹا دونوں مارکیٹ گئے تھے اس نے سوچا ان کے آنے کا انتظار کرنے کی بجائے کیوں نہ اٹھ کر خود ہی چائے بنا لی جائے ابھی اس نے چائے بنانا شروع ہی کی تھی کہ فون کی گھنٹی بجنے لگی اس کے بیٹے کا فون تھا وہ اسے بتا رہا تھا کہ بیس منٹ میں وہ لوگ گھر پہنچ جائیں گے اور یہ کہ کیا آپ کے لیے کچھ لے کر آئیں باتوں کے دوران اس آدمی کو خیال ہی نہ رہا اور اس نے بے دھیانی میں چینی کے چار چمچ چائے میں ڈال دیئے جب اس نے چائے کا سیپ لیا تو میٹھا بہت ہی زیادہ تھا اتنی میٹھی چائے پینا بہت ہی مشکل تھا بوڑھا آدمی سوچ میں پڑگیا کہ اب وہ کیا کرے چائے میں ڈالی ہوئی ہے ایکسٹرا چینی کو باہر واپس کیسے نکالے کیا وہ ایسا طریقہ ہو جس کی مدد سے تین چمچ چینی چائے سے باہر نکال پائے اور چائے کا ذائقہ ایک دم فرسٹ کلاس ہو جائے لیکن دوستوں یہ ناممکن تھا

    زندگی میں کچھ چیزوں کی واپسی نہیں ہوتی ان کو ہم undo نہیں کر سکتے جیسے جو پانی ایک بار بہ جائے وہ واپس نہیں آتا جو تیر کمان سے نکل جو بات منہ سے نکل جائے جو وقت ایک بار گزر جائے وہ کبھی دوبارہ نہیں آتا ایسے ہی کچھ چیزیں جو زندگی میں ایک بار ہو جائیں وہ بس ہوجاتی ہیں ان کو واپس نہیں کیا جاسکتا زندگی میں کوئی undo button نہیں ہوتا چائے میں ڈالی ہوئی ایکسٹرا چینی کو باہر نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا لیکن پھر بھی اس مسئلے کو حل کرنے کا ایک طریقہ تھا چائے میں چینی کم کرنے کا اس کو پینے کے قابل بنانے کا ایک ہی طریقہ تھا وہ یہ کہ اس چائے میں دو کپ اور دودھ ڈال دیا جائے اور اس بوڑھے آدمی نے ایسا ہی کیا اور اب اس کے پاس چائے کے ایک کپ کی بجائے تین کپ تھے جو اپنی بیوی اور بیٹے کو دے سکتا تھا دوستو زندگی بھی بالکل ایسی ہی ہے زندگی میں بعض دفعہ کچھ ایسی غلطیاں کچھ ایسی غلط چیزیں کچھ ایسی واقعات کو ہی جاتے ہیں انجانے میں ہو جاتے ہیں جو ہمیں تکلیف دیتے ہیں جن کا ہمیں افسوس رہتا ہے 😊 جن کو ہم بدلنا چاہتے ہیں ہماری کچھ غلط چوائسز کچھ غلط فیصلے غلط انویسٹمنٹ کچھ ایسے غلط الفاظ جو ہم بول جاتے ہیں جو ہمارے منہ سے نکل جاتے ہیں اور ہم انہیں واپس نہیں لے سکتے undo نہیں کر سکتے ایسا نہیں کہ ہم کوشش نہیں کرتے ہم اپنی پوری کوشش کرتے ہیں چیزوں کو بہتر کرنے پر کام کرتے ہیں لیکن جن چیزوں کو ہم بدل نہیں سکتے انہیں ریورس نہیں کر سکتے undo نہیں کر سکتے تو انہیں بدلنے کی ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے رہنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے چائے میں ڈالی ہوئی ایکسٹرا چینی کو باہر نکالنے کی کوشش کرنا جو ہم کبھی نہیں کر پائیں گے

    غلط چیزوں کو ٹھیک کرنے یا ریورس کرنے پر ٹائم ضائع کرنے کی بجائے ان پر ہی فوکس کرنے کی بجائے زندگی میں کچھ نئی کچھ اچھی چیزیں ایڈ کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں غموں کو مٹانے یا دکھوں کو ختم کرنے پر پر فوکس کرنے کی بجاۓ زندگی میں خوشیاں ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیوں کہ وہ خوشیاں آٹومیٹکلی غم کو ختم کردینگی غم ان کے سامنے چھوٹا بھی پڑ جائے گا جب کچھ مسائل کچھ پرابلم ہماری زندگی میں ایسی ہو جو ان کو کنٹرول نہیں کر پاتے جن کو حل نہیں کر پاتے انہیں حل کرنے کی کوشش چھوڑ دینی چاہیے اور زندگی میں کچھ ویلیو ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے مثبت ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے چائے میں سے اگر چینی نکالنی ہے تو اس میں تھوڑا
    سا دودھ ملانا چاہیے اگر آپ کے بچے کا کھلونا کسی نے توڑ دیا ہے اور کوشش کرنے پر بھی آپ اس کا جوڑ نہیں پا رہے اور بہت اداس ہے دکھی ہے تو کھلونا جوڑنے کی کوشش کرتے رہنے کی بجائے اسے کہیں گھمانے لے جائیں اس کو خوشیاں وہ خود ہی کھلونا بھول جائے گا

    @Kashii_Back

  • ریپ کا لباس سے تعلق ؟ تحریر: درخشاں رمضان

    ریپ کا لباس سے تعلق ؟ تحریر: درخشاں رمضان

    سوشل میڈیا پر لوگ ہر قسم کے تبصرے کرتے ہیں جن میں سے کچھ یہ کہہ رہے ہوتے کہ عورت کا لباس کا یا اکیلے نکلنے کا ریپ سے تعلق نہیں جب کہ دوسری طرف کچھ لوگ اس کو ریپ کی وجہ بتاتے ہیں

    تمام باتوں پر اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معاشرے میں زیادتی کا تعلق عورت کے لباس سے ہو یا نہ ہو لیکن یہ intentional relation invitation ضرور ہے یہ راستہ ہم نے خود ہی چنا ہے ایک مثال سے سمجھاتی ہوں

    اگر آپ کے سر میں درد ہو اور ڈاکٹر آپ کو دوائی دے اور آپ ڈاکٹر کو کہیں کہ نہیں میں اپنی بیماری خود ڈھونڈ کر دوا استعمال کروں گاآپ ایسا کرلیتےہیں لیکن آرام آنے کی بجائے سر درد مزید بڑھ جاتا ہے تو اس میں آپ کس کو قصور وار ٹھہرائیں گے خود کو یا ڈاکٹر کو

    اسی طرح اللہ نے ہمیں قرآن دیا ایک بہترین نظام دیا ہمیں شرعی سزاوں کا بتایا اور کہا اسے فالو کرو نافذ کرو کامیاب رہو گئے لیکن کیا ہم نے وہ راستہ اپنایا؟ وہ نظام نافذ کیا؟
    فحاشی اور بے حیائی بڑھتی جارہی ہے عورتوں کو اپنی عزت کا احساس نہیں ماں باپ اولاد سے بے خبر ہیں وقت پر شادیاں نہیں کرتے یہ سب کہیں نہ کہیں وجہ ہے زیادتی کی

    آپؐ نے کتنی قربانیاں دیں کتنےصحابہ کرام شہید ہوئے انہوں نے نظام قائم کیالیکن ہم کیا اس نظام قائم کر پائے ہم اپنے ہاتھوں سے معاشرے کو جہنم بنا رہے ہیں

    ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں مجرم گرفتار ہوجائیں تو کچھ دن بعد باہر ہوتے ہیں قانون عدالتی نظام کمزور ہونے کی وجہ سے مجرم میں خوف ختم ہوگیا ہے طاقتور مافیا پشت پناہی کرتا ہے اور یہی مافیا اللہ کا نظام قائم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اسلامی سزاوں کے نفاظ کی مخالفت یورپ کی خوشنودی ہے

    آپ ایک منٹ کے زرا سوچیں زناکار زمین میں آدھا دھنسا ہوا اور ہر طرف سے پتھر ہی پتھر برس رہے ہوں کوئی پتھر سر پر لگے اور کوئی آنکھ پر یہ سوچ کر ہی ہمیں خوف آنے لگتا
    تو اگر یہ سزا نافذ کر دی جائے اور ایک بار کسی کو دے دی جائے سرعام تو کیا لوگوں کی روح نہیں کانپیں گی کسی بھی لڑکی کا ریپ تو کیا آنکھیں اٹھانے سے بھی اجتناب کریں گے یہ واحد حل ہے لڑکیوں کے تحفظ کا جو کہ ریاست دے سکتی ہے اس کے علاوہ حجاب کو لڑکی کے لیے لازمی قرار دیا جائے نکاح کو آسان بنایا جائے فحاشی سے بھرپور ڈراموں اور فلموں پر پابندی لگا دی جائے

    والدین اپنے بچوں کی جسمانی تربیت کے ساتھ ذہنی تربیت کریں تو ہی اس سے نجات پائی جاسکتی ہےجب تک ہم شریعت پر عمل نہیں کریں گے شریعت کے مطابق سزائیں نافذ نہیں کریں گے اللہ کا نظام نہیں لائیں گے ہم زلیل ہوتے رہیں گے

    اللہ پاک سب کی عزتوں کی حفاظت فرمائے

    آمین

    ‎@DarakhshanR786

  • باب دوستی تک پہنچنے والے طالبان. تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    باب دوستی تک پہنچنے والے طالبان. تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    امریکہ جس طرح افغانستان سے اپنا بوریا بستر گول کر کرتا جا رہا ہے اس طرح افغانستان طالبان کے قبضے میں تیزی سے آرہا ہے. خطے کے تمام ممالک اس پیش رفت سے پریشان ہیں. طالبان مختلف ممالک سے لگنے والی سرحدی علاقوں پر قبضہ اور اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے جا رہے ہیں. ایران سے لگنے والی سرحد کاروباری راستے ” اسلام قلعہ ” ترکمانستان سے لگنے والی سرحدی علاقے پر کنٹرول کے بعد پاک-افغان سرحد پر کاروباری راستے ” باب دوستی ” پر بھی قبضہ کرلیا ہے اور آنے جانے کا وہ اہم راستہ بند ہوگیا ہے. بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی انتظامیہ پاکستان سرحدی شہر چمن کے ساتھ لگنے والے افغان علاقے ویش منڈی پر طالبان کی موجودگی کی آگاہی دے دی گئی ہے اور پاکستان کے اس پار افغان علاقے میں طالبان کے جھنڈے نظر آرہے ہیں…

    افغانستان سے امریکہ کے بھاگ جانے کے فیصلے اور اس پر عمل کرنے کے بعد غیریقینی کی دھند نے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے. افغانستان کے بڑے بڑے علاقوں پر طالبان کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی ہے. کابل انتظامیہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتی جا رہی ہے. افغان طالبان نے مذاکرات میں عالمی طاقتوں کو انسانی حقوق, اور خطے کے دوسرے ممالک میں مداخلت نہ کرنے سمیت جتنی خاطریاں کروائی تھیں وہ بہتی ہوئی نظر آرہی ہے. افغان سرکاری فوج کے جوان جان بچا کر بھاگ گئے. کئی افغانستان سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے ترکمانستان میں پناہ لے لی ہے. اور جو ہتھیار ڈال رہے ہیں انکو جنگی قیدیوں کی حیثیت دے کر عالمی اصولوں اور معاہدوں پر عمل کرنے کی بجائے ان کو مارا جا رہا ہے. طالبان کی اس وقت جنگ افغان سرکاری فورسز کے ساتھ چل رہی ہے تاکہ پورے ملک پر کنٹرول حاصل کیا جائے. پر دوسرا مرحلہ ان قوّتوں سے ٹکراؤ کا ہے جو افغانستان میں اختیار اور اقتدار کے خواہشمند ہیں مطلب کہ وہ ” وار لارڈز ” بھی لڑنے کی تیاری میں ہیں جنہوں نے 90ع میں مخالفین کی گردنیں کٹوا کر ان سے فٹبال کھیلے یاں کٹی گردنوں میں سوراخ کر کے ان میں موم بتیاں جلا کر جیت کا جشن منایا. اس ساری صورتحال کا جس ملک پر زیادہ اثر پڑے گا وہ ملک پاکستان ہے. ویسے بھی افغانی پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے رہے ہیں اور پاکستان بھی افغان پناہگیروں کی 40 سال سے زائد عرصے سے مہمان نوازی کا رکارڈ قائم کر چکا ہے ان کی اس ملک میں آبادکاری کی سرکاری سطح پر بالواسطہ یا بلاواسطہ صحولتکاری ہوتی رہی ہے. صورتحال زیادہ خراب ہوئی تو نہ صرف پاکستان پر افغان پناہگیروں کا وزن بڑھے گا بلکہ پاکستان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ افغانی پناہگیروں کے شکل میں دہشتگرد بھی آ سکتے ہیں جو ایک حقیقت ہے. پاکستان حکمران یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ طالبان کو پاور ملنے سے پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان مضبوط ہوگی. زبانی باتیں ہو رہی ہیں ان خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو غیر سنجیدگی ہی نظر آرہی ہے. پاکستان میں دہشتگردوں کی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں جس کا ایک ثبوت دو دن پہلے صوبے خیبر پختون خواہ کے ضلع کرم میں دہشتگردوں سے مقابلہ ہے جس میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے ہیں. ہمارے حکمرانوں نے اگر سنجیدگی سے کام نہ کیا تو عالمی قوتیں جن کے اس خطے میں مفاد ہیں اور دہشتگرد اس ملک کو میدان جنگ بنا سکتے ہیں. اس وقت ہی پاکستان کے تفریحی مقامات مری اور دوسری کئی جگہوں پر طالبان کے حق میں نعرے اور ان کے حق میں سرگرمیاں رپورٹ کی گئی ہیں.

    پاکستان خطے میں ہونے والی تبدیلیوں, افغانستان میں ہونے والی نئی پیش رفت اور عالمی طاقتوں کی مفادات کی جنگ سے لاتعلق نہیں رہ سکتا. ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ساری صورتحال کو عقابی نظر سے دیکھا جائے اور ساتھ ساتھ ایسے اقدامات نہ اٹھائے جائیں جو پاکستان اس ساری تبدیلی اور ٹکراؤ کا تختۂ مشق بن جائے. افغانی پناہگیروں کا وزن اٹھانے کا مقصد ہوگا کہ اس ملک میں نئی جنگ اور خطرے کو اس ملک میں راستہ دینا. اس لئے پرامن افغانستان پاکستان سمیت پورے خطے کے حق میں بہتر ہے اس لئے افغانستان معاملے کی سیاسی حل کی کوششیں کرنی چاہئیں

  • ‏عدل و انصاف کا حصول ناگزیر .تحریر۔: زمان خان

    ‏عدل و انصاف کا حصول ناگزیر .تحریر۔: زمان خان

    کیا آپ جانتے ہیں
    جو ترازو عدالت کے باہر لٹک رہی ہوتی ہے وہ انصاف کی قیمت اپنے اپنے وزن کے مطابق طے کرنے کے لیئے ہوتی ہے۔
    عوام تو بھولی بادشاہ، عدل کے وہ پلڑے سمجھ بیٹھی جو انصاف دیا کرتے ہیں۔
    بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ جھوٹ بیچنے، کمانے اور کھانے والے کرپٹ ترین وکلاء جن پر سیاستدانوں کی نظر کرم نے جج کا تمغہ عطا کیا ہو وہ نیک اور صالح لوگ عوام کو انصاف دے سکیں؟
    جو جتنا بڑا چور، غنڈہ اتنا ہی اثرو رسوخ والا وکیل!
    جس کے نام سے جج کی بھی ٹانگیں کانپتی ہوں!
    یہ کہاں ہوتا ہے؟
    جی ہاں یہ سب ملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوتا ہے
    آخر یہ سب کب تک چلے گا؟ کب تک ہمارے ملک کی اعلی عدلیہ کا وقار اسی طرح مجروح کرتے رہیں گے؟
    کیوں انصاف کرنے والا بلا خوف و خطر فیصلہ سنانے کی ہمت نہیں رکھتا؟
    کیوں ایک غریب پھانسی کے پھندے تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے اور ایک سیاسی گدھ کے تمام گناہ یا تو معاف کر دیئے جاتے ہیں یاتو سیاسی مصلحتوں کا شکار کر دیئے جاتے ہیں۔
    کیوں سیاسی مقدموں کا فیصلہ نہیں ہوتا؟

    اگر ہو بھی تو لولا لنگڑا
    آخر کیوں
    ایان علی کیس رزلٹ صفر
    ارسلان افتخار کیس رزلٹ صفر
    ڈاکٹر عاصم کیس رزلٹ صفر
    سستی روٹی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    احد چیمہ صرف ریمانڈ رزلٹ صفر
    بینظیر ایئر پورٹ کرپشن کیس رزلٹ صفر
    رئیسانی حرام کمائی گھر سے برآمد رزلٹ صفر
    شرجیل میمن کرپشن کیس رزلٹ صفر
    صاف پانی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    ماڈل ٹاون کیس رزلٹ صف
    شہد کی بوتل کیس رزلٹ صفر
    مجید MPA اہلکار قتل کیس رزلٹ صفر
    بلدیہ ٹاون کیس رزلٹ صفر
    سانحہ ساہیوال کیس رزلٹ صفر
    شاہ رخ جتوئی کیس رزلٹ صفر
    پرویز رشید غداری کیس رزلٹ صفر
    راجہ رینٹل کیس رزلٹ صفر
    حسین حقانی کیس رزلٹ صفر
    فائز عیسی کیس رزلٹ صفر

    کیا کبھی نیک اور دیندار لوگ جو آخرت اور یوم حساب کا خوف رکھتے ہوں انصاف کی کرسی پر بیٹیں گے؟
    کیا کبھی قرآن و سنت کے مطابق نظام عدل قائم کیا جاسکے گا؟
    کیا انگریز کا دیے ہوئے نظام عدل میں اسلامی اقدار اور قرآن و سنت کے مطابق ترامیم کر کے عملاً رائج کیا جا سکے گا؟
    کیا نظام عدل کے بنیادی اصول جو کہ اصل میں ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں۔۔۔ ایمانداری، نیک نامی، دیانتداری، امانتداری نہیں ہونے چاہئیے؟

    کیا ہمارا معاشرہ ان تمام بنیادی اسلامی اقدار اور رہنما اصولوں سے بہت دور نہیں نکل آیا؟

    کیا یہ تمام خوبیاں ہمیں اپنے نظام میں کہیں نظر آتی ہیں؟
    تو پھر کیوں نا ملک بھر کے غیر سیاسی اور نیک نامی علماء کرام کی زیر نگرانی چلنے والے مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے قابل نوجوانوں کو قانون کے شبعہ میں لایا جائے؟
    دین جن کے سینوں میں ہو گا
    جنہیں کم از کم خوف خدا تو ہو گا
    جنہیں سچ اور جھوٹ کی تمیز تو گی
    جنہیں ناانصافی کرنے اور جھوٹ کا ساتھ دینے پر اللہ کا خوف تو آئے گا
    جنہیں رشوت کے عوض انصاف بیچنے پر عذاب الہی تو یاد ہوگا اور خوف خدا سے انکے ہاتھ تو کانپیں گے

    کیونکہ عدل و انصاف ہی وہ پیمانہ ہے جس کی بدولت انسانیت زندہ ہے
    اگر معاشرہ عدل وانصاف سے عاری ہو تو وہ معاشرہ ظلم و جبر کی آماجگاہ تو ضرور بن سکتا ہے مگر صالح معاشرہ نہیں بن سکتا۔
    عدل و انصاف کا جذبہ ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے
    یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اخلاقی و معاشرتی احکام کے ساتھ عدل و انصاف کو بیان فرمایا ہے
    ارشاد باری تعالی ہے
    ” اللہ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے”

    تحریر۔: زمان خان
    ‎@Zaman_Lalaa

  • ‏حکومت بوکھلاہٹ کا شکار .تحریر :فاطمہ بلوچ

    ‏حکومت بوکھلاہٹ کا شکار .تحریر :فاطمہ بلوچ

    سیاسی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان جو چند سالوں میں میں بڑی جماعت ابھری اس کے بانی حضور امیرالمجاہدین امام خادم حسین رضوی نے 2017 میں اس اس پارٹی کو بنایا جو دیکھتے دیکھتے عروج پر چلی گئی اور آج پاکستان کی بڑی طاقت بن چکی ہے تحریک لبیک پاکستان جہاں اسلام کی ترجمانی کرتی ہے لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دیتی ہے وہی مختلف مواقع پر جب ناموس رسالت ﷺ ختم نبوت ﷺ پر حملے ہوئے اپنے گھروں سے نکلے ن لیگ کے دور میں تحریک لبیک ناموس رسالت ﷺ پر پہرا دیتی رہی لیکن جو ظلم ن لیگ کے دور میں قائدین تحریک لبیک اور کارکنان پر ہوا اس سے کئی گناہ زیادہ ظلم پی ٹی آئی حکومت میں ہو جو ریاست مدینہ کا نعرہ لگاتی ہیں فرانس کے سرکاری سطح پر رسول اللّٰہ ﷺ کی گستاخی ہے یہ کوئی نارمل بات نہیں سرکاری سطح پر گستاخی ہو اور حکومت پاکستان خاموشی تماشائی بنی رہے یہ بہت بڑی بات ہے یہاں معلوم ہوتا ہے حکومت نے انگریزوں کی غلامی قبول کی ہوئی یے بہرحال تحریک لبیک نے حکومت سے مطالبہ کیا فرانس کا سفیر نکالا جائے لیکن حکومت ٹال مٹول سے کام لیتی رہی تحریک لبیک نے مارچ کا اعلان کیا تو حکومت نے کچھ دیر پہلے تحریک لبیک کے امیر علامہ سعد حسین رضوی صاحب کو گرفتار کرلیا ملکی کریک ڈاؤن شروع ہوگیا

    پاکستان کے مختلف شہروں میں لبیک والوں نے دھرنے دیئے حکومت نے سر توڑ کوشش کی مظالم کے پہاڑ توڑے گئے عشقان رسول ﷺ پر بہرحال جب حکومت کامیاب نہ ہوئی معاہدہ کرلیا گیا جس کو بعد میں توڑ دیا گیا یعنی وعدہ خلافی حکومت کیونکہ تحریک لبیک سے خوف زدہ ہوچکی تھی کہی ان کی حکومت نہ چلی جائے یا فرانس ناراض ہوگیا تو انکی غلامی کو خطرہ ہوگا اسی وجہ سے حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگادی جو کہ ابھی مکمل لگی نہیں کیونکہ یہ حکومت نے اپنے تحت کیا جو کہ ایک سیاسی جماعت کا دوسری سیاسی جماعت کو کلعدم کردینا کہی درست نہیں یہ صرف تخت کا کمال ہے کیونکہ وہ حکومت میں جو ہے پاور تو استعمال کریں گی لیکن طاقتیں ساری اللّٰہ کی ہیں پاکستان کی ایک بڑی مقبول ترین جماعت جس کے کروڑوں کارکنان ہیں اس پر پابندی کیسے لگ سکتی ہے ؟؟ جس قانون کے تحت حکومت نے پابندی لگائی وہ تو یہ کہتا ہے اگر کوئی گروہ ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے بغاوت کریں فوج سے لڑے بم دھماکے کرے اسکو کلعدم کیا جاسکتا یے

    اب بات یہ ہے تحریک لبیک کے پاس تو ایک پٹاخہ برآمد نہیں ہوا نہ یہ کسی ایسی ایکٹویٹی میں پائی گئی یہ تو واحد جماعت ہے جو الیکشن کمیشن سے کلئیر ہے جن کی حکومت ہے وہ خود الیکشن کمیشن سے کلئیر نہیں دوسری جماعتیں اپنے مخالف حکومت کے دور میں مظاہرے کرتی رہی ہیں جیسے پی ٹی آئی کا 126 دھرنا سول نافرمانی ہے ٹی وی پر حملہ ایسے سب جماعتیں ملکی املاک کو نقصان پہنچا چکی ہیں لیکن انکو آج کلعدم نہیں کیا گیا ؟؟؟ اصل میں تحریک لبیک حکومت کیلئے خطرہ بن چکی ہے کیونکہ حکومت بے نقاب ہورہی ہے روزانہ حکومت کی اسلام مخالف پالیساں واضع ہورہی ہیں اب بات حکومت نے ایک بڑی جماعت کو کلعدم کردیا لیکن یہ ایک لمبا پروسس ہے الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں باقاعدہ اسکا ہونا باقی ہے ایسے کسی جماعت پر پابندی نہیں لگ سکتی یہ تو حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اس وجہ سے اندھا دھندہ دیوار سے ٹکرے مار رہی ہیں بہرحال یہ پاکستانی قوم کیلئے لحمہ فکریہ ہے یہ حکومت اتنی بڑی جماعت کو پابندیاں لگا سکتی ہے تو یہ ملک کو کچھ بھی نقصان دہ سکتی ہیں

  • ففتھ جنریشن وار کے سپاہی . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    ففتھ جنریشن وار کے سپاہی . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    وطن سے محبت ہر پاکستانی کے دل میں ہے وطن کی خاطر جان مال نچھاور کرنے والوں کی ایک طویل داستان ہے جس پر لکھنا شروع کیا جائے تو الفاظ ختم ہو جائے گے حب الوطنی نہیں خیر میرا موضوع آج کچھ ہٹ کر ہے وطن سے محبت میں کچھ لوگ وردی میں ملبوس ہوکر اس کے دفاع کے لئے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر اس کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں دن رات کوشاں رہتے ہیں کچھ سرحدوں پر کچھ وطن کے اندر کچھ نظر نہیں آکر مختلف انداز میں ملک سے محبت اور اس کا دفاع کیا جاتا ہے مگر کچھ سالوں سے ایک نیا طریقہ جسے ہم سوشل میڈیا جنریشن وار کے طور پر جانتے ہیں شروع ہوا جس کے بارے میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد نا واقف تھی اس وار کے مرکزی لیڈ ہیرو کو میں جناب آصف غفور کے طور پر جانتا ہوں جنہوں نے پاکستان کے سوشل میڈیا پر صرف یہاں وہاں کے ٹائم پاس کرنے والے ایکٹیوسٹوں کو ایک نظریہ اور لائن کھینچ کر دی کے کس طرح دشمن سوشل میڈیا کے زریعے ہمارے ذہنوں کو ملک کے خلاف استعمال کرکے اپنے ملک اور اداروں کے خلاف کرنا چاہتے ہیں

    آصف غفور صاحب کی کھینچی گئی وہ لائن جس سے لاکھوں پاکستانی سوشل میڈیا جنریشن وار کے سپاہی کے طور پر سامنے آئے اور ملک کی خاطر جھوٹا پروپیگینڈا کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کا سلسلہ جو آصف غفور صاحب نے شروع کیا تھا وہ مستقل جاری وساری ہے نوجوان نسل سوشل میڈیا جنریشن وار کو بہتر انداز میں لڑ رہا ہے ملک دشمنوں کو ہمیشہ ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے نوجوانوں نسل آصف غفور صاحب کی شکر گزار ہیں کے جن کی بدولت آج ملک کے دفاع میں وہ گھر بیٹھ کر کالجوں دفتروں سے بھی ملک کی خدمت کا موقع حاصل کررہی ہے اور ملک کے دشمنوں کی کسی بھی چال کو کسی بھی صورت کامیاب نہیں بننے دیگی پاکستان کا بچہ بچہ پاکستان ذندہ باد کے نعروں کو اپنے آخری خون کے قطرے تک لگاتار لگاتا رہے گا افواج پاکستان کی قربانیوں کو ملک کے کونے کونے تک پھیلانے کا سبب بھی بنے گا انشاء اللہ