Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • طالبان افغانستان اور الزام کی زد میں پاکستان .تحریر:عبدالمجید مہر ایڈوکیٹ

    طالبان افغانستان اور الزام کی زد میں پاکستان .تحریر:عبدالمجید مہر ایڈوکیٹ

    ٩/١١کے بعد امریکا نے افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تو امریکہ اور عالمی دنیا کے دباو میں مجبور ہوکر ہمیں امریکہ کو راستے بھی دینے پڑے ،کیونکہ ہم راستے نا دیتے تو شائد دنیا ہم پر کئ سخت پابندیاں لگاسکتی تھی جوکہ ہمارے اپنے ملک کے لئے بہت نقصاندہ ہوتا ،ادھر امریکہ کو راستے دینے پر طالبان نے ہمیں امریکی ایجنٹ تسلیم کرلیا
    اور نئ جنگ کا آغاز شروع ہوچکا جس کے نتیجے میں کئ لاکھ افغان پناھ گزینوں نے پاکستان کی طرف ہجرت کی اور ہم نے ان کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مسلماں بھائیوں اور ان کے خاندانوں کو پاکستان میں نا صرف کھلے دل سے خوش آمدید کہا بلکہ ہم نے ان کے لئے کوئی مخصوص کیمپس یا علائقہ نہیں رکھا بلکہ اتنی حد تک آزادی دی کہ وہ پورے پاکستان میں جیسے چاہیں ،جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں وہاں افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ایک حکومت تشکیل دی گئی

    بقول طالبان کے حامد کرزئی کی حکومت امریکہ نے اپنے مفاد کے لئے بنائ ہے اس حکومت کا افغان سرزمین یا یہاں کے باشندوں سے کوئی تعلق نہیں اس لئے طالبان نے نا صرف امریکہ بلکہ افغان حکومت کے خلاف بھی جنگ کا اعلان کیا پاکستان کو اس جنگ کا خمیازہ بھی اس لئے بھگتنا پڑا کیونکہ ہمیں بھی امریکی ایجنٹ کا لقب دیا جاچکا تھا ،اسی سلسلے میں TTPکے دھشتگردوں نے پاکستان میں آرمی،سول اداروں ،ہمارے بازاروں،مسجدوں،اسکولوں سمیت ہر جگہ پر حملے کئے وہاں سے امریکہ کا جب دل چاہتا پاکستان میں ڈروں ماردیتا تھا جس کے نتیجے میں TTPکو ذیادہ فائدہ ہوتا تھا کیونکہ TTPقبائلی علائقوں میں مضبوط ہوتی گئ اور عوام کو پاکستان آرمی اور حکومت کے خلاف بھڑکانے میں مصروف رہی اس وجہ سے ڈرون حملے میں جس کے خاندان کے لوگ شہید ہوتے تو وہ ہتھیار اٹھالیتا پاکستان کے خلاف اسی وجہ سے ہمارے ملک میں بھی ایک جنگ سی کیفیت پیدا ہوگئ ،آئے روز دھماکوں سے نا صرف خوف کا عالم پیدا ہوگیا بلکہ اس کے نتیجے میں ہمیں ٧٠ ہزار سے زائد جانوں کے نزرانے اور اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ،بہرحال ہماری پاک افواج کی بہترین حکمت عملی سے ہم نے پاکستان میں دھشتگردی پر قابو پالیا اور ادھر افغانستان میں امریکہ اور طالبان کی جنگ اپنی آخری مراحل کی طرچ جاچکی تھی ٢٠ سالوں کی اس جنگ میں امریکہ کو مسلسل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو ایک بار پھر اپنی عزت بچانے کے لئے امریکہ نے پاکستان سے درخواست کی کہ کسی طرح طالبان اور امریکہ کے مزاکرات کروائے ہیں آخرکار پاکستان نے اپنی کوششوں سے امریکہ اور طالبان کو آمنے سامنے بٹھایا اور مزاکرات شروع ہوئے جس کے بعد امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنا شروع کردی اور اب ایک بار پھر طالبان افغانستان پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں

    پاکستان نے واضع موقف اپنایا ہے کہ ہم کسی صورت ایسی کسی حکومت کو سپورٹ نہیں کریں گے جو افغان عوام کی خواہشات کے خلاف ہو اس لئے پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان پرامن مزاکرات ہوں تاکہ افغانستان کی عوام بھی سکون سے اپنی زندگی کزارسکیں اور مستقبل کا فیصلہ افغان عوام پر چھوڑا جائے کہ وہ کس کی حکومت چاہتے ہیں
    اس سارے معاملات میں جہاں امریکہ،افغان حکومت اور طالبان سب پاکستان حکومت کے کردار کی تعریف کررہی ہے وہیں
    چند شرپسند عناصر اور خاص طور پر انڈیا پاکستان پر الزام تراشی کرتے نظر آرہے ہیں کہ طالبان کی پشت پر پاکستان کھڑا ہے حالانکہ پاکستان کا واضع موقف دنیا کے سامنے ہیں لیکن چونکہ انڈیا نے افغانستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری جس کا مقصد افغان حکومت کو اپنا بناکر یہاں سے پاکستان کے خلاف دھشتگردی اور تخریب کاریاں کی جائیں گی تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جاسکے لیکن افغانستان کی بدلتی صورتحال میں انڈیا کو اپنی ساری سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آرہی ہے اس لئے وہ اب اس پروپگینڈہ کو فروغ دے رہے ہیں کہ پاکستان اور طالبان ایک ہی ہیں

    لیکن انڈیا شائد بھول گیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کی عوام کا رشتہ ١۴ سو سالوں پر محیط ہے ہم دونوں اطراف کے المسلم اخو مسلم کے رشتے سے بندھے ہیں ،ہم ایک دوسرے کے بھائی ہیں ،ہم دونوں اطراف امن کے داعی ہیں آج بھی افغانستان کا بچہ بچہ پاکستان سے اتنی ہی محبت کرتا ہے جتنی محبت پاکستانی افغانستان کے لوگوں سے کرتے ہیں
    پاکستان کی امن کوششوں کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے ،دنیا پاکستان کی تعریف کررہی ہے
    اور ہم پاکستانی ہماری حکومت ،افواج ،انٹیلجنس ادارے سب اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان کے حالات جلد سے جلد بہتری کی طرف جائیں تاکہ افغانستان میں بھی ایک عوامی حکومت آئے جو افغان عوام کی امنگوں کے مطابق کام کرے اور اس خطے میں ایک بار پھر سے امن و سکون کی ہوا چلے
    جزاک اللہ

  • لوگ کیا کہیں گے .تحریر: فرمان اللہ

    لوگ کیا کہیں گے .تحریر: فرمان اللہ

    یہ جملہ اکثر اوقات آپ سنتے ہوں گے کہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے اور اس جملے کی وجہ سے ہم اکثر اوقات مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ ہم بعض اوقات اسلام کے بتائے ہوئے احکامات کے خلاف بھی چلے جاتے ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔

    شادی کی تقریب کرنی ہے تو اپنی حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کرنے ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ بچی کو جہیز دینا ہے اور جہیز ایک لعنت ہے لیکن دینا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ شادی بیاہ پر جانا ہے تو اچھے اور مہنگے کپڑے پہن کر جانا ہے اور اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس جملے نے انسان سے اس کی اپنی خواہش چھین لی ہے اور ہم ساری عمر بس وہی کرتے ہیں جس سے لوگوں کو خوش کر سکیں۔

    ہمارا معاشرہ اگر اس جملے کو ہی ترک کر دے تو ہمارے بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے اور ہم بہت ساری مشکلات سے باہر آ جائیں گے لیکن ہمارے معاشرے میں یہ ایک رواج بن چکا ہے اور سب اس بات کو بخوبی جانتے بھی ہیں لیکن پھر بھی اپنی سوچ اور حیثیت سے ہٹ کر کام کریں گے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے

    میرا مشورہ ہے کہ لوگوں کو جو کہنا ہے کہنے دیں آپ وہ کریں جس کا حکم ہمیں ہمارے دین نے دیا ہے وہ کریں جو آپ کی حیثیت کے مطابق ہو۔

  • مائے نی میں کنوں آکھاں……..تحریر:فرح خان

    مائے نی میں کنوں آکھاں……..تحریر:فرح خان

    عدل و انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اب تک عدل کا حصول بہت مشکل ہے۔عام آدمی انصاف کی تلاش میں خود منوں مٹی تلے سو جاتا ہے،جس کی بڑی وجہ ہے:
    لاپرواہی، اثر و رسوخ اور انصاف میں تاخیر ۔

    حیدرآباد تھانہ بلدیہ کی حدود میں شوہر کے ہاتھوں بہیمانہ تشدد سے قتل ہونے والی بیوی 4 معصوم بچوں کی ماں قرت العین کے لیے شوشل میڈیا پہ آواز بلند کی جارہی ہے ۔

    قرت العین کا قاتل شوہر عمر میمن بااثر ہونے کی وجہ سے پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا مقتول خاتون کے ورثہ کی اپیل پہ مقتول قرت العین کے قاتل شوہر عمر میمن کو سخت سزا ملے گی؟کیا معصوم بچوں کو ان کی جنت اجڑنے پہ ان کو انصاف ملے گا۔یا ہمیشہ کی طرح انصاف کی دھجیاں اڑا دی جائیں گی۔پا اثر لوگ اپنے اثر و رسوخ سے بےگناہ اور آزاد دھندھناتے پھرتے رہیں گے۔

    مائے نی میں کنوں آکھاں،
    درد وچھوڑے دا حال نی
    مائے نی میں کنوں آکھاں،

    فرح خان
    @MastaniFarah

  • ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا؛تحریر۔سمیرہ جمال

    ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا؛تحریر۔سمیرہ جمال

    اسلام صرف عبادت کا ہی نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو کو کیسے گزارنا ہے بہت خوبصورتی سے بتایا ہے
    اسلام میں باہمی رویوں میں توازن ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے جہاں دوسروں کے حقوق پہ بھی بہت زور دیا گیا ہے۔ہمیں خالص اللہ کی رضا کے لئے جہاں تک ہو سکے نفع بخش بننا چاہیے، اور اپنی زندگی کو انسانیت کی بھلائی میں کسی نہ کسی طرح مصروف رکھنا چاہیے ۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ زندگی ہمیں بہت کم وقت میں بہت سبق سکھا دیتی ہے۔ انسان کی زندگی میں رونما ہونے والے حوادث ہی انسان کی سوچ کا دھارا بدل دیتے ہیں۔ سوچ میں میں پختگی آجاتی ہے، انسان اپنی ,میں؛ سےنکل آتا ہے۔یہ وہ اسٹیج ہوتی ہے جہاں پھر آپ کی اپنی خواہشات ،اپنی تمنائیں، اپنی خوشیاں اتنی اہم دکھائی نہیں دیتی جتنا دوسروں کے کام آنا، ان کے دکھ، ان کے غم ،ان کے آنسو سمیٹنا آپ کو اچھا لگتا ہے
    میں سمجھتی ہوں یہاں اس اسٹیج پر آکر دراصل انسان کا اپنے رب سے رشتہ اتنا مضبوط ہو چکا ہوتا ہے کہ دنیا ہیچ نظر آتی ہے۔ تب سوچ بدلتی ہے اور اللہ کی مخلوق کی خدمت زیادہ سکون دیتی ہے۔ یہاں میں چند چھوٹے چھوٹے کاموں کا ذکر کروں گی کہ جن کو کرنے کے بعد انسان بہت پرسکون حالت میں ہو جاتا ہے ۔
    اگر آپ کو اللہ تعالی نے صاحب مال کیا ہوا ہے تو اسی کے دیے ہوئے مال میں سے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کریں۔
    زیادہ دور نہیں کبھی اپنے اردگرد نظر دوڑائیں یقین کیجئے اتنے سفید پوش آپ کو نظر آئیں گے جو آپ کی مدد کے منتظر ہیں
    کبھی کہیں اگر آپ کو محسوس ہو کہ یہاں پہ کوئی شجر لگانا چاہیے لوگوں کی گزر گاہ تو وہاں پہ ایک سایہ دار شجر لگا دیں
    کبھی دیکھیں جہاں لوگوں کو پانی کی زیادہ ضرورت ہو یا گزرگاہ ہو تونلکا یعنی ہینڈ پمپ لگا کر دیکھیں اور مشاہدہ کریں آپ کے اس سے لوگوں کی دعائیں آپ کے شامل حال ہوگئی ہیں ۔اگر اللہ تعالی نے آپ کو اس سے زیادہ دے رکھا ہے تو آپ الیکٹرک کولر بھی لگوا سکتے ہیں۔
    گرمیاں سردیاں جب بھی موسم کا آ غا ز ہو آ پ اپنی فیملی کے کپڑے دھلوا کر پیک کروا کے اسے کسی کا تن ڈھانپنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں

    آپ کو معیوب لگے گا مگر کبھی ایسا کر کے دیکھیے کہ چھوٹی مارکیٹ میں شاپنگ کا بہانہ کر کے چکر لگائیں کہیں اگر آپ محسوس کریں کہ دکاندار کی مطلوبہ رقم گاہک ادا نہیں کر سکتا اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ مستحق ہے تو خاموشی سے دکاندار کو اشارہ کیجئے اس گاہک کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے دوکاندار ان کی خواہش کے مطابق رقم لے اور اوپر والے پیسے آ پ ادا کر دیجیے ۔
    جب بھی آپ کسی تہوار کے لیے نیا لباس لیں تو کوشش کریں کہ ایک اپنا پرانا لباس جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ اسے و شکر کے بیک کیجئے اور کسی مستحق کے گھر رات کے اندھیرے میں دے آئیے یہ بھی ایک قسم کا صدقہ ہے۔
    ہر مہینے کوشش کریں کہ کم از کم ایک یا دوفیملیز کو راشن کے ذریعے سپورٹ کیجئے ۔
    یاد رہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے کوشش کریں کہ یہ چند چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو ان سفید پوشوں کی بے بسی کو کیمرے میں مقید کرکے ضائع مت کیجئے
    خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اللہ کی رضا کی خاطر نیکیاں سمیٹ رہے ہیں
    جس سماج میں عدم مساوات ، دولت کی غلط تقسیم ، معاشی بدعنوانی اور سیاسی خود غرضی اور موقع پرستی جیسے رجحانات ہوں ،وہاں آپکی یہ چند چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہوا کا جھونکا ہوں گی جہاں آپ دعائیں تو سمیٹے گے وہیں آپ خود کو بہت مطمئن بہت پرسکون محسوس کریں گے
    اللہ آپ کا، میرا، ہم سب کا حامی و ناصر ہو

    تحریر۔۔ سمیرہ جمال
    @sumairajamalkha

  • وہی خدا ہے .تحریر۔۔ محمد کامران

    وہی خدا ہے .تحریر۔۔ محمد کامران

    ذرے زرے میں اس کے جلوے جو ہر قدم پر عیاں ہوتے ہیں، مگر افسوس دنیا کی لذت نے ہمیں سب بھلا دیا کہ سرسوں کے دانے کی بساط ہی کیا ! مگر تم دیکھتے نہیں کیا؟

    کہ وہ زمین کے سخت پردوں کو چیرتے ہوئے نرم و نازک سبز پتی کی شکل میں اپنا جلوہ بکھیرتے اور اپنے وجود کے زریعے اس کی وحدانیت کا یقین دلاتے ہیں۔ شبنم کی بوندیں جو تمہاری نظر میں کچھ نہیں انکی قدر نوزائیدہ نونہالوں سے پوچھو جنکی پیاس بجھا کر انہیں جوان اور تندرست کر دیتی ہیں۔سورج کی روشن چمکتی کرنیں جو صرف تم اپنی خوشی کا زریعہ سمجھتے ہوئے بے دردی سے ہر روز پاوں تلے کچلتے ہو وہ اپنی تیز و گرم مگر مہربان گود میں لے کر پرورش کرتیں ہیں اور ہر روز ایک نئی زندگی عطا کرتی ہیں۔ دیکھو ! ہوا کے شگفتہ جھونکے اس نازک ترین پودے کو جھولا جھلاتے جیسے ایک ماں انہیں اپنی گود میں لیے تحفظ کا احساس دلاتے ہوئے جوان کر رہی ہو۔

    کبھی غور کیا ؟ کہ وہ نازک پودے کس سلیقے، ترتیب اور نظم و ضبط کے ساتھ پرورش کرتے ہوئے تمہاری ہی نظروں کے سامنے تندو مند اور مظبوط پودے بن جاتے ہیں۔
    اتنے بہت سے اسباب جنکو کسی طرح بھی ہم اتفاق نہیں کہ سکتے اس معمولی بے ضرر اور باریک دانے کو مظبوط پودہ بنانے میں کار فرما رہتے اور وہ ماحول فراہم کیا جو آپ اور میں نہیں دے سکتے۔
    ہاں تو کہو ! کوئی تو ہے جسکے حکم سے سب ہوا۔۔۔
    مزہب کی اصطلاح میں اس قوت کا نام "خدا ” ہے۔ وہی خدا ہے ” وہی خدا ہے”
    جسکا وجود وحدانیت زرے زرے سے عیاں ہے، جسے دل سے تسلیم کرنے میں ہی ہم سب کی بقا ، کامیابی اور بخشش ہے۔

    تحریر۔۔ محمد کامران
    @kaamm_ii

  • حضرت عمرؓ .تحریر مدثر محمود

    حضرت عمرؓ .تحریر مدثر محمود

    مرادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تاریخِ اسلام کی وہ نامور شخصیت ہیں جو جرأت و بہادری کی وجہ سے قبولِ اسلام سے قبل ہی شہرت کے حامل تھے۔ امام ترمذی نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی اسی جرأت کی وجہ سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بحضورِ الہٰ التجاء کی: اے اللہ! عمر بن خطاب اور عمرو بن ہشام (ابوجہل) میں سے اپنے پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا فرما۔ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کی دعا قبول کرتے ہوئے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعہ اسلام کو عزت دی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام سے قبل مسلمان مشرکینِ قریش سے چھپ کر عبادات کیا کرتے تھے لیکن جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ آج سے مسلمان عبادات چھپ کر نہیں بلکہ علی الاعلان کیا کریں گے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:

    ’’بے شک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام ہمارے لیے فتح تھی۔ خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے ہم نے مشرکین کا مقابلہ کیا اور خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھنا شروع کیں۔‘‘

    (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم: 8820)

    اُس دن سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا لقب فاروق رکھ دیا گیا۔ یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا-

  • بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں باپ کا کردار! .تحریر: فیضان علی

    بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں باپ کا کردار! .تحریر: فیضان علی

    بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں باپ کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے جو کے پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے
    ابتدائی عمر سے لے کر اسے شعور آجانے تک یہ والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسے کیسا ماحول فراہم کر رہے ہیں کیونکہ وہ جس ماحول میں رہے گا اور وہاں کے لوگوں کے درمیان رہے گا جو انہیں کرتا دیکھے گا وہی اس کورے کاغذ یا سلیٹ جیسے دماغ میں نقش ہوجائے گا

    (ماں کی گود بچے کی پہلی درست گاہ ہوتی ہے)

    تعلیم و تربیت انسانی روح کی بہت اہم غذا ہیں
    جب بچہ دنیا میں آ کر اپنی آنکھیں کھولتا ہے تو اس کے کانوں میں اذان دی جاتی ہے گویا اسی وقت اس کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہو جاتا ہے ماہرین کا کہنا ہے بچے کا دماغ کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے بچہ جس ماحول میں پیدا ہوتا ہے بہت جلد وہ اسی ماحول کا اثر پکڑ لیتا ہے
    اپ جیسا ماحول بچوں کو مہیا کریں گے وہ اسی ماحول کی تعلیم حاصل کریں گا اور اسی رنگ میں ڈھل جائیں گے یہ بات ہم پر لازم ہے کے ہم اپنے بچوں کو کس قسم کا ماحول اور کس قسم کی تعلیم اپنے بچوں کو دیتے ہیں
    ابتدائی عمر سے لے کر انہیں شعور آجانے تک یہ والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ بچوں کو ایک اچھا ماحول دیں اور ان کی اچھی تربیت کریں بچے اپنے ماحول میں اردگرد کے لوگوں کو جو کرتا دیکھیں گے جن کے ساتھ نشت و برخاست ہوں گا انہی چیزوں کو انہی کے آداب طور طریقے اپنے دماغ میں نقوش کرتے جائیں گے اور یہ ماحول کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے
    سب سے بڑھ کر ماں باپ کی محبت بچوں کے لیے، بچوں کی تعلیم و تربیت میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے آپ اپنے بچوں کے ساتھ جس شفقت اور محبت کے ساتھ پیش آئیں گے اپ کے بچے بھی اسی طرح ایک میٹھی تربیت حاصل کریں گے دنیا میں محبت اور شفقت سے بڑھ کر کچھ نہیں یہی شفقت بچوں کو ایک اچھا انسان بھی بناتی ہے

    اب جب بچہ اسکول جانے لائق ہوجاتا ہے تو لازماً اسے ادب و آداب و اخلاقیات اور حسنِ عمل کی بنیادی تربیت فراہم کی جائے والدین کو اپنے گھروں میں مذہبی اور روحانی ماحول تشکیل دینے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے انہیں جھوٹ، بدزبانی اور لڑائی جھگڑے سے کنارہ کشی اختیار کرلینی چاہیے بچوں کو کھیلنے کے لیے کون سا کھلونا دینا ہے یہ فیصلہ کرتے ہوئے والدین کو بہت بڑی احتیاط برتنی چاہیے
    گھر کا ماحول سب سے اہم ترین عنصر ہے جو بچے کی زندگی پر گہرا اثر مرتب کرتا ہے ایک بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی لمحات سے ہی اپنے والدین پر منحصر ہوتا ہے جو اس کی تمام ضروریات کو پورا کرتے ہیں والدین بچوں کے پہلے معلمین ہوتے ہیں اور ان کے لیے رول ماڈل کا کردار ادا کرتے ہیں
    بہت سارے بچے خوش قسمت ہوتے ہیں کے جن کو گھر کا ماحول والدین کی محبت اور شفقت سے بھرپور ایک اعلیٰ سازگار ماحول ملتا ہے اور یہ بچوں کی کامیابی کا بہت اہم ضامن ہے
    اگر والدین یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں کتنے کامیاب ہیں تو اس کا اندازہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کو دیکھ کر لگا سکتے ہیں اگرچہ بچے اخلاقی طور پر اچھے ہیں تو یہ والدین کی اعلیٰ کامیابی ہے یوں بچے کامیابی اور ناکامی پرکھنے کا حقیقی پیمانہ ہیں

    بچوں کو چند احتیاطی تدابیر کے ساتھ والدین کے زیرِنگرانی سوشل میڈیا کا استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
    جب بچہ 10، 12 سال کا ہو جاتا ہے تو والدین کی ذمہ داریوں میں بھی تبدیلی آ جانی چاہیے اس عمر میں بچہ اسکول میں محلے میں اور معاشرے میں دوستیاں قائم کرنے لگتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اس عمر میں بچوں کے دوست بن جائیں اور ان کے لیے صحیح راستے کی رہنمائی کریں۔
    بچوں کی یہ عمر ہر لحاظ سے خوب پھلنے پھولنے کی ہوتی ہے اس عمر میں بچوں کی نقل و حرکات پہ کڑھی نظر رکھنی چاہیے بچوں کو گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے ساتھ اپنے ساتھ نماز ادا کرنے کا پابند بھی بنائیں اور معاشرے میں بڑھتے کچھ جرائم اور تشدد کے واقعات کے بارے میں بڑی احتیاط کے ساتھ بچوں کو انکے بارے میں آگاہ کیا جائے،
    ایک سنہری کہاوت ہے کے گھر میں بچوں کے اچھے دوست بن جائیں تو بچے باہر کی بری دوستی سے بچ جاتے ہیں سادہ الفاظ میں یہ کہوں گا کے بچوں کو گھر میں اچھا دوستانہ ماحول مہیا کریں تاکے اپ کے بچے بُری صحبت سے بیچیں
    اولاد ﷲ تعالٰی کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس کا تحفظ کرنا والدین کی زمہ داری ہے
    اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ، ‘اے ایمان والو تم اپنے آپ کو اور اپنے گهر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندهن آدمی اور پتهر ہیں۔‘ (66:6)

  • پاکستان اور اس کا مستقبل،تحریر: اسعد گل اعوان

    پاکستان اور اس کا مستقبل،تحریر: اسعد گل اعوان

    پاکستان کا مستقبل سیاسی، مزہبی اور دفاعی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان دنیا میں ایٹمی قوت سے جانا جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت عالمی طاقتوں کیلئے بہت اہم ہے چاہے وہ روس ہو، چائنا ہو، امریکہ ہو یا پھر عرب ممالک۔ پاکستان کئی سالوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے جس کے نتیجہ میں ستر ہزار سے زائد عام شہری اور افواج پاکستان کے جوان اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کر چکے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ جیسے کہ پہلے کہہ چکا پاکستان کا مستقبل سیاسی،مزہبی اور دفاعی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے تو آئیں ان تینوں پہلوؤں کا الگ سے جائزہ لیتے ہیں۔
    1- سیاسی پہلو:
    پاکستان نے مارشل لاء میں کافی وقت سامنا کیا کیونکہ ہم پر ہمیشہ سے نا اہل حکمران مسلط رہےجنھوں نے صرف اپنے زاتی کاروبار کو آگے بڑھایا۔ مارشل لاء کی وجہ سے پاکستان کو کافی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود پاکستان معاشی طور پر مستحکم رہا۔ پہلے مارشل لاء میں بھی پاکستان معاشی طور پر اتنا مضبوط تھا کہ دوسرے ملکوں کو قرضے فراہم کرتا تھا۔ لیکن مفاد پرست ٹولے کے آنے کے بعد پاکستان کو کشکول اٹھانا پڑا۔ اور پھر اس کرپٹ ٹولی کی آپس کی باریوں کی بدولت پاکستان قرضوں میں ڈوب گیا۔پاکستان کو بہت عرصے بعد ایک ایسی قیادت نصیب ہوئی جس نے اپنے زاتی کاروبار کے بجائے پاکستان کو اہمیت دی اور مزید دیوالیہ ہونے سے بچایا جو اس کرپٹ ٹولے کو ہضم نہ ہوا۔ پاکستان اس وقت عمران خان کی قیادت میں مسحکم کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ اور انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب ٹیکسٹائل سے لے کر آئی ٹی تک پاکستان دنیا میں اپنا نام بنائے گا۔
    2-مزہبی پہلو:
    پاکستان کے وجود میں دین اسلام خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا 27 رمضان کو وجود میں آنا پھر کلمے کی بنیاد پر نام رکھا جانا اللہ کی طرف سے خاص تحفہ ہے۔ ماضی میں پاکستان نے فرقہ ورانہ دہشت گردی کا بھی سامنا کیا۔ حکومت وقت کی پابندیوں اور اقدام کی وجہ سے پاکستان کافی حد تک فرقہ ورانہ دہشت گردی کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ دین اسلام کی سر بلندی اور حضور پاک ﷺ کی ناموس کیلئے جس قدر مضبوط آواز عمران خان نے اٹھائی اس پر عمران خان کی تعریف نہ کرنا نا انصافی ہو گی۔سیاسی پہلو کے ساتھ مزہبی پہلو سے بھی عمران خان پاکستان کے امیج کو بہتر کی طرف لے جا رہے۔

    3- دفاعی پہلو:
    پاکستان دفاعی لحاظ سے کافی مضبوط ملک ہے۔ جس کے پاس جدید ترین ہتھیار، بہترین صلاحیت کی حامل افواج اور دنیا کی اعلی ترین انٹیلیجنس ایجنسی ہے۔ پاکستان کافی عرصے سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے چاہے وہ ٹی ٹی پی ہو، مشرکی اور مغربی بارڈر ہو، بھارتی ایجنسی را کے دہشت گرد ہوں یا بھارت کی حمایت یافتہ بی ایل اے کے دہشت گرد ہوں۔ افواج پاکستان بہت سے عالمی ساشوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ معرض وجود سے لے کر آج تک پاکستان بہت سے ملکوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے لیکن با صلاحیت اور جنگی حالات گزری ہوئی تجربہ کار فوج کے بدولت پاکستان آج بھی قائم ہے اور انشاءاللہ پاکستان کو ختم کرنے کا خواب دشمنان پاکستان کیلئے شرمندہ تعبیر ہوگا ۔

  • جذبہِ ایثار، تحریر:بشارت محمود رانا

    جذبہِ ایثار، تحریر:بشارت محمود رانا

    ہر سال ۱۰ ذوالحج کو تمام دنیا کے مسلمان حضرت ابراہیم (ع) کی اللہ تعالی کے حکم پہ عمل کرتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کی اُس عظیم قربانی کی سُنت پہ عمل کرتے ہوئے جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔

    ہزاروں سال پہلے پیش آنے والا یہ واقعہ اللہ تعالی نے ہمیں قرآنِ مجید میں ہو بہو بیان کر کے ہم مسلمانوں تک پہنچایا ہے۔ تاکہ ہم بھی اِس سے سبق سیکھ سکیں۔

    جِس طرح حضرت ابراہیم (ع) نے اپنے اکلوتے بیٹے جو کہ انہیں اور حضرت حاجرہ (ع) کو اللہ تعالی نے تب عطا کیا جب کہ یہ دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ تو عُمر کے اس آخری حصے میں اللہ تعالی کی طرف سے ملی ہوئی اس اولاد کو اللہ تعالی کے حکم کے مطابق جب حضرت ابراہیم (ع) کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم ملا، تو حضرت ابراہیم (ع) نے تب نہ تو کوئی حیلا اور نہ کوئی بہانہ گھڑنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس بارے میں کسی قسم کی اللہ تعالی سے کوئی شکایت کی۔

    اور دوسری جانب حضرت اسماعیل (ع) جو تب تک ایک چھوٹے سے بچے تھے، انھوں نے بھی اللہ تعالی کی طرف سے آنے والے اس حکم کو سن کے لمحہ بھر کے لئے بھی نہ ڈرے، نہ ہچکچائے اور نہ کسی قسم کی کمزوری دکھائی۔

    اور یہاں تک کہ کبھی حضرت ابراہیم (ع) کو اور کبھی اُن کے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو بار بار شیطان مردود بھی آ کے ورغلاتا و پھسلاتا رہا کہ کہیں کسی طرح کوئی کمزوری دِکھا کے اللہ تعالی کے حکم کی نافرمانی کر سکیں، لیکن وہ مردود ناکام ہی رہا۔

    پھر جب حضرت ابراہیم (ع) اللہ تعالی کے اس حکم کے سامنے سر تسلیمِ خم کرتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو قربان کرنے کے دوران چھری کو چلا رہے تھے، تب پھر اللہ تعالی نے چھری کو کاٹنے سے منع فرما دیا اور حضرت ابراہیم (ع) کی اس عظیم قربانی کو قبول کرتے ہوئے ایک دُنبہ بھیجا اور حضرت ابراہیم (ع) کو اس دُنبے کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔

    اسی عظیم قربانی کے بدلے میں حضرت ابراہیم کو اللہ تعالی کی طرف سے خلیل اللہ (جس کے معنی اللہ کا دوست کے ہیں) کا لقب دیا گیا اور اُن کے بیٹے حضرت اسماعیل (ع) کو اللہ تعالی کی طرف سے ذبیح اللہ (جس کے معنی ﷲ کی راہ میں قربان ہونے والا کے ہیں) کا لقب دیا گیا۔

    تو اس عظیم اور بے مثال قربانی کو سنت کے طور پر نبھاتے ہوئے تمام دنیا کے مسلمان۱۰ ذوالحج کو عید الاضحی کے موقع پر جسے عید ایثار یا پھر قربانی کی عید بھی کہا جاتا ہے، اس پہ تمام صاحبِ استطاعت لوگ جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کر کے مناتے ہیں

    اور اس قربانی کے گوشت کو ہم اللہ تعالی اور اپنے پیارے نبی و رسول جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دیے گئے احکامات کے مطابق اپنے عزیز و اقارب، رشتے داروں، محلے داروں، اپنے ارد گرد موجود غریب و غرباء اور اُن لوگوں میں بانٹتے ہیں جو قربانی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔

    اگر دیکھا جائے تو اس قربانی کے دن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، جیساکہ اللہ تعالی کے احکامات کو ہمیں ہر صورت ماننا چاہیے اور شیطان مردود کے ہاتھوں کھلونا نہیں بننا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے یا جن سے منع فرمایا ہے اُن میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔

    اور دوسرا یہ کہ شیطان مردود جو کہ انسان کا کُھلا دشمن ہے، وہ طرح طرح کے طریقوں سے ہمیں ورغلا اور پِھسلا کر گناہوں کی طرف دھکیلنے اور اللہ تعالی کے احکامات سے رو گردانی کروانے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمیں کبھی بھی اُس شیطان مردود کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہیے اور اللہ تعالی کے احکامات کو اپنی اپنی زندگیوں میں لازم و ملزوم سمجھ کر شامل کرنا چاہیے

    اور تیسرا یہ کہ ہمیں نہ صرف اس عید ایثار کے موقعے پہ ہمارے ارد گرد موجود غریب و غربا، محلہ داروں، رشتہ داروں اور اُن لوگوں کو جو سفید پوش ہیں، کبھی نہیں بھولنا چاہیے اور اپنی استطاعت میں رہتے ہوئے ان کی ہر قسم کی مدد کو تیار رہنا چاہیے جس سے ایک بہترین اور ہمدرد معاشرہ بھی قائم ہو سکتا ہے جو ایک دوسرے کا ہر اچھے و برے وقت میں خیال رکھتا ہو۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو اس عید ایثار کی عظیم قربانی سے سبق سیکھنے، اس پہ عمل کرنے اور اس کی برکات کو سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

    واخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

  • "پانی کی قدر و قیمت” .تحریر:نـــازش احمــــد

    "پانی کی قدر و قیمت” .تحریر:نـــازش احمــــد

    پانی کی قدر و قمیت پانی اللہ
    ﷻکی بہت بڑی نعمت ہے، انسان کے بےشمار معاملات پانی سے حل ہوتے ہیں انسان کو قدم قدم پر پانی کی ضرورت پڑتی ہے،پانی کے بغیر انسان کے لئے شاید زندہ رہنا بھی ناممکن ہوجائے ،اور زندگی کے معاملات حل کرنا دشوار ہوجائیں ،تومعلوم ہوا کہ پانی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور وطن عزیز پاکستان کو اللہ ﷻنے اس نعمت سے خوب نوازا ہے ،پانی وافر مقدار میں موجود ہے لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم اس پانی کی حفاظت کریں  پانی کو ضائع نہ کریں، جتنی بڑی یہ نعمت ہے وہی حیثیت اس پانی کو دی جائے اور اس پانی کی حفاظت کی جائے اور اسے احتیاط سے استعمال کیا جائے مگر بدقسمتی کے ساتھ قدرت کے اس حسین تحفے کاضیاع بیدردی سے جاری ہے،چھوٹی چھوٹی احتیاطوں سے اس انمول تحفے کی بچت کی جا سکتی ہے۔ہم اپنے روزمرہ کے کاموں میں بہت سا پانی ضائع کردیتے ہیں۔جس کا ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا۔ اپنے روزمرہ کے کاموں میں اگرہم تھوڑی سی احتیاط کرلیں توبڑی مقدارمیں پانی بچاسکتے ہیں۔ ٹوتھ برش کرنے کے دوران اگرکھلا نل ہم بندکردیں ،تواس سے ہم 1 منٹ میں کئی لٹرتک پانی کی بچت کرسکتے ہیں۔ نہاتے وقت اگرآپ صابن لگانے کے دوران نل یا شاوربندکردیں، توپانی کی بڑی مقدارضائع ہونے سے بچ سکتی ہے ،

    اس کے علاوہ اگر ممکن ھو تو نہاتے وقت شاور کی بجائے، بالٹی کا استعمال کیا جائے۔صابن لگاتے اوربال شیمپوکرتے وقت شاوربند کرنے کی صورت میں کافی پانی بچایا جا سکتا ہے ۔اگر اپنی گاڑی کوپانی کے پائپ کی بجائے، پانی بھری بالٹی سے دھوئیں ،تونہ صرف بہت زیادہ پانی کی بچت ہوگی، بلکہ آپ کاگیراج بھی کم گندہ ہوگا۔ پانی میں دھونے کے بجائے، اپنی سبزیاں کٹورے میں دھوئیں۔پانی اورتوانائی دونوں بچاتے ہوئے، سبزیاں کم سے کم پانی میں پکائیں۔ دھونے والے برتنوں پر،پہلے سے پانی بہاناضروری نہیں۔اگربرتنوں پرسے بچے ہوئے کھانے کوہاتھ سے کھرچ دیں گے توکافی پانی بچ سکتاہے۔ واشنگ مشین کوکپڑوں سے بھرکردھونا زیادہ بہترہے۔کیوں کہ اگرمشین کوکم کپڑوں کیساتھ دھویا جائیگا توپانی کیساتھ ساتھ توانائی بھی زیادہ خرچ ہوگی۔ ان سب کے علاوہ گھرمیں ٹپکتے، نلوں اورپانی رستے دیگرآلات کی مرمت سے پانی کی بڑی مقداربچائی جاسکتی ہے۔جبکہ بارش کاپانی محفوظ کرکے بھی کئی طرح سے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی کے مسائل کے بارے میں عوام میں شعور پیدا کیا جائے! اللہ ﷻہم سب کو اپنی نعمتوں کی قدر کرنے کی توفیق دے اور نعمتوں کی ناقدری کرنے اور اس کو ضائع کرنے سے بچائے۔ آمین ثم آمین!
    @itx_Nazish
    نـــازش احمــــد