Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • امن کی پاسبانی، قربانیوں کی گواہی اور بلوچستان کا محفوظ مستقبل،تحریر:نور فاطمہ

    امن کی پاسبانی، قربانیوں کی گواہی اور بلوچستان کا محفوظ مستقبل،تحریر:نور فاطمہ

    قوموں کی تاریخ میں کچھ لمحات محض سرکاری دورے نہیں ہوتے، بلکہ وہ عزم، قربانی اور ریاستی وقار کی علامت بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک بامعنی اور باوقار موقع اس وقت دیکھنے میں آیا جب وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہیڈکوارٹرز فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) کا دورہ کیا۔ یہ دورہ ریاست کی سلامتی، شہداء کی قربانیوں اور بلوچستان کے پُرامن مستقبل کے عزم کی جھلک نمایاں تھی۔ہیڈکوارٹرز آمد پر آئی جی ایف سی نارتھ، میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے وفاقی وزیرِ داخلہ کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس استقبال میں نہ صرف عسکری نظم و ضبط کی جھلک تھی بلکہ اس جذبے کی بازگشت بھی سنائی دیتی تھی جو وطن کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ بیدار رہتا ہے۔

    دورے کا سب سے پُراثر لمحہ وہ تھا جب وفاقی وزیرِ داخلہ نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں خاموش پتھر بھی قربانیوں کی داستان سناتے ہیں اور جہاں جھکے ہوئے سر اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ آج کا امن ان جانوں کا مرہونِ منت ہے جو وطن کی مٹی پر نچھاور ہو گئیں۔ وزیرِ داخلہ نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عہد کی تجدید کی کہ ان عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔اس موقع پر وزیرِ داخلہ کو بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ یہ بریفنگ محض اعداد و شمار تک محدود نہ تھی بلکہ اس میں ایک ایسے خطے کی تصویر پیش کی گئی جو مشکلات کے باوجود استقامت، حوصلے اور قربانی کی روشن مثال بنا ہوا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد، عوام کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے اپنائی گئی حکمتِ عملی نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ ریاستی ادارے ہمہ وقت متحرک اور چوکس ہیں۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں اور امن کے قیام کے لیے کی جانے والی انتھک کوششیں لائقِ تحسین ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست اپنے محافظوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور بلوچستان کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی موجودگی نے اس دورے کو مزید تقویت بخشی، جو اس بات کی علامت ہے کہ وفاق اور صوبہ یکجا ہو کر بلوچستان کے امن، ترقی اور استحکام کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔

    یہ دورہ اس حقیقت کا مظہر تھا کہ امن کوئی اتفاق نہیں بلکہ قربانی، مستقل مزاجی اور اجتماعی عزم کا ثمر ہے۔ فرنٹیئر کور کے جوان، سیکیورٹی ادارے اور ریاستی قیادت مل کر اس خواب کی تعبیر میں مصروف ہیں جس میں بلوچستان امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنے۔ اور جب تک یہ جذبہ زندہ ہے، کوئی اندھیرا اس سرزمین کے مستقبل کو تاریک نہیں کر سکتا۔

  • ’ونڈر بوائے‘ کا سراب، پھر بھی تمھیں یقین نہیں؟تحریر:رقیہ غزل

    ’ونڈر بوائے‘ کا سراب، پھر بھی تمھیں یقین نہیں؟تحریر:رقیہ غزل

    پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مقتدر حلقوں کو عوامی مقبولیت کے حامل کسی بڑے لیڈر کا متبادل تلاش کرنا ہوتا ہے، تو کسی نہ کسی ‘ونڈر بوائے’ کی لانچنگ کی جاتی ہے۔ حال ہی میں معروف سینئر صحافی سہیل وڑائچ صاحب نے اپنے کالم میں جس پراسرار ‘ونڈر بوائے’ کے ظہور کی نوید سنائی تھی، اب سیاسی پردے پر ابھرنے والے مناظر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ اقرار الحسن صاحب ہیں۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا محض ٹی وی سکرین کی مقبولیت اور جذبات سے بھرپور بیانیے کسی حقیقی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں؟ کیا وہ شخص جو اپنی ٹیم کو ‘راج’ نہ کروا سکا، وہ ایک پوری قوم کو ‘عوام راج’ کے خواب دکھانے کا اہل ہے؟

    اقرار الحسن کی سیاسی عقل اور شعور کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ انھوں نے اپنی جماعت کا نام ‘عوام راج’ رکھا ہے، حالانکہ جمشید دستی پہلے ہی ‘عوامی راج’ کے نام سے پارٹی چلا رہے ہیں۔ جس شخص کا علم اتنا محدود ہو کہ اسے اپنی جماعت کے نام کے لیے بھی دوسروں کے نام کا سہارا لینا پڑے، وہ کروڑوں لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ کیسے کرے گا؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ صحافتی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ ایک ایسا شخص جو ‘بلیک میلر’ کے طور پر مشہور ہوا، اسے اچانک مسیحا بنا کر کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟ ‘سرِ عام’ کے نام پر انھوں نے جتنے لوگوں کو ‘بے نقاب’ کرنے کا دعویٰ کیا، حیرت انگیز طور پر ان میں سے کسی ایک کا کاروبار بھی مستقل بند نہ ہو سکا، البتہ موصوف کے اپنے ذاتی کاروبار اور بینک بیلنس میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہوتی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب صرف اتفاق ہے یا اس کے پیچھے بلیک میلنگ کی وہ کہانیاں ہیں جن کا چرچا زبان زدِ عام ہے؟

    کسی بھی انسان کے اخلاص اور اس کی قیادت کی صلاحیت کا سب سے بڑا گواہ اس کا اپنا ماضی اور اس کے قریبی ساتھی ہوتے ہیں۔ اقرار الحسن کا پروگرام ’’سرِ عام‘‘ جس شہرت اور بلندی پر پہنچا، وہ کسی ایک فرد کا کمال نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے درجنوں پروڈیوسرز، کیمرہ مینوں اور ریسرچرز کی انتھک محنت شامل تھی۔ لیکن تضاد کی انتہا دیکھیے کہ برسوں گزر جانے کے بعد بھی آج تک اس ٹیم کا کوئی ایک رکن بھی عوامی سطح پر اپنی پہچان نہ بنا سکا۔ جہاں ٹیم کے مخلص ساتھی گمنامی کی دھول چاٹتے رہے، وہاں موصوف کے ذاتی کاروبار ملک بھر میں پھیلتے گئے اور ان کی اپنی زندگی شاہانہ تعیش اور چکا چوند کا نمونہ بن گئی۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص اپنے ان ساتھیوں کو ان کی محنت کا جائز کریڈٹ نہ دے سکا جنھوں نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا، وہ قوم کے ساتھ کتنا مخلص ہوگا؟اخلاص کے اس فقدان کی ایک اور واضح مثال ان کے اپنے خاندان کی برانڈنگ ہے۔ موصوف کے صاحبزادے کو تو الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ہر گھر میں پہنچا دیا گیا، لیکن کیا کوئی ‘سرِ عام’ کی ٹیم کے کسی ایک رکن کے بچے کا نام بتا سکتا ہے؟ کیا ان کے بچوں کا حق نہیں تھا کہ انھیں بھی وہی مواقع ملتے جو اقرار صاحب کے اپنے بچے کو ملے؟ یہ رویہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہاں صرف ‘اپنی ذات’ اور ‘اپنے خاندان’ کی ترقی پیشِ نظر ہے، نہ کہ ان لوگوں کی جو آپ کی کامیابی کی بنیاد بنے۔ جو شخص اپنی چھوٹی سی ٹیم میں انصاف قائم نہ کر سکا، وہ کروڑوں کی آبادی والے ملک میں ‘عوام راج’ کیسے قائم کرے گا؟

    آج جب پنجاب میں ‘کالے قوانین’ کا راج ہے، جہاں سانس لینے پر بھی پہرے بٹھا دیے گئے ہیں اور ذرا سی سیاسی جنبش پر گرفتاریاں معمول بن چکی ہیں، وہاں ایک مخصوص شخص کو سیاسی چھتری فراہم کرنا اور اسے پارٹی بنانے کی خصوصی چھوٹ دینا کئی شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ پلانٹڈ ‘ونڈر بوائے’ دراصل مخصوص اشرافیہ اور گملوں میں اگنے والی سیاست کا ایک نیا مہرہ ہے جسے صرف ووٹ بینک کو تقسیم کرنے اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے لایا گیا ہے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ایک طرف مصدق ملک کہتے ہیں کہ ‘کون سا ونڈر بوائے؟ وہ جو کام کرنا چاہتا ہے وہ تو ہم خود ہی کر دیں گے’، اور دوسری طرف یہی ونڈر بوائے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنی ہی حمایتی حکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ ‘عوام کو سستی بجلی اور پٹرول دیا جائے’۔ جناب! آپ حکومت میں ہو کر مطالبہ کس سے کر رہے ہیں؟ یہ نورا کشتی اب پرانی ہو چکی ہے اور عوام اب اس مصنوعی اداکاری کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

  • جہیز .تحریر:تابندہ طارق عکس

    جہیز .تحریر:تابندہ طارق عکس

    لخت جگر دے دینا کوئی کم تھوڑی ہے جس کے ساتھ جہیز دینا اہم قرار دے دیا گیا ہے۔انسان کی قیمت تو ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے پھر بھی انسان کو چیزوں کے ترازو میں تولنا کہاں کا انصاف ہے۔لڑکی والے تو نہیں کہہ سکتے لیکن لڑکے والے تو آگے بڑھ کر دل بڑا کر ہی سکتے ہیں کے انھیں جہیز نہیں چاہیے ہے۔ان کے گھر میں ضرورت کی ہر چیز موجود ہوتے ہوئے بھی کیسے فخر سے سب لے جاتے ہیں۔کاش یہ سوچیں کچھ بدلیں ایک دفعہ خود کو اس بات پر رکھ کر سوچیں کہ اگر بہو گھر لے جانے کے بجائے انھیں اپنے بیٹوں کو گھر سے رخصت کرنا پڑے اور صرف بیٹا نہیں بلکہ اس کے ساتھ سود کے طور پر جہیز بھی دینا پڑے اور پھر ساس سسر کی خدمت اور سالیوں اور سالوں کی باتیں بھی سننی پڑیں۔بچے ہونے کے بعد وہ بھی سنبھالیں پڑیں گھر کے کام بھی جدوجہد سے کرنے پڑ جائیں تو یہ سب وہ کر سکیں گے؟ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ انتہائی ناقابل قبول حقیقت ہے۔ایک بہو،ایک بیوی ایک بھابھی یہ سب کچھ کرتی ہے لیکن پھر بھی اسے عزت نہیں ملتی کیوں؟ کیا وہ عزت کی حق دار نہیں ہے؟

    ہمارے معاشرے کا الگ ہی المیہ ہے اپنی بیٹی کو اپنی بیٹی ہی سمجھتے رہتے ہیں جس نے کل کو کسی اور کے گھر کی زینت بننا ہوتا ہے اور جو ان کے گھر آتی ہے اسے کبھی بیٹی کا درجہ نہیں دیتے۔حالانکہ کے قابل غور تو یہ حقیقت ہے کے اصل بیٹی تو بہو ہی ہوتی ہے اسے بیٹی کا مقام دیں بیٹی کی طرح رکھیں اور بہو کو بھی چاہیے وہ بیٹی بننے کی کوشش کرے کچھ سمجھوتے تو سب کو کرنے پڑتے ہیں۔

    جہیز کی بنیاد پر رشتوں کی تعمیر مت کریں جہیز کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے لڑکوں کو انکار کی صورت میں پہل کرنی چاہیے تاکہ اس کا ہمارے معاشرے سے خاتمہ ہو سکے۔

  • عشرت فاطمہ سے معذرت کے ساتھ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    عشرت فاطمہ سے معذرت کے ساتھ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    کچھ آوازیں وقت کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہیں، اور کچھ آوازیں تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ عشرت فاطمہ اُنہی آوازوں میں سے ایک ہیں جنہیں ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے ناظرین اور سامعین عشروں تک سنتے رہے۔ خبروں کی سنجیدگی، تلفظ کی شائستگی اور لہجے کی ٹھہراؤ—یہ سب اُن کی پہچان رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عشرت فاطمہ نے پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کے ابتدائی اور سنجیدہ دور میں اپنی محنت، ریاضت اور تسلسل سے ایک مقام بنایا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر مقام دائمی ہوتا ہے؟ کیا ہر سفر کی کوئی منزل نہیں ہوتی؟ اور کیا ہر پیشے میں ریٹائرمنٹ کا تصور محض ایک بے معنی رسم ہے؟

    عشرت فاطمہ کا یہ کہنا کہ “ریڈیو پاکستان نے مجھے دیوار سے لگا دیا، کہا گیا کہ اب آپ کی ضرورت نہیں، آپ کام کی نہیں”—یہ جملے سن کر دکھ بھی ہوا اور حیرت بھی۔ دکھ اس لیے کہ ایک طویل عرصے تک کسی ادارے سے وابستگی رکھنے والا فرد جب یوں شکوہ کناں ہو تو بات دل کو لگتی ہے۔ اور حیرت اس لیے کہ پینتالیس برس… جی ہاں، پورے 45 سال—کیا یہ کم مدت ہے؟ کیا یہ کسی ادارے کی بے قدری کی علامت ہے یا غیر معمولی برداشت، رواداری اور احترام کی؟

    اگر ہم حساب لگائیں تو پینتالیس برس کی ملازمت کا مطلب یہ ہے کہ عشرت فاطمہ نے کم و بیش اپنی پوری جوانی، اپنی توانائی، اپنی شناخت اسی ادارے کو دی۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کسی نے 45 سال مسلسل کام کیا ہو تو اس کی عمر ستر کے لگ بھگ پہنچ چکی ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں، خواہ وہ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر، ریاستی اداروں میں ریٹائرمنٹ کا ایک واضح اصول موجود ہے۔ کہیں ساٹھ، کہیں پینسٹھ، کہیں زیادہ سے زیادہ ستر۔ اس کے بعد نہ صرف جسمانی تقاضے بدلتے ہیں بلکہ پیشے کی نوعیت بھی۔

    ٹیلی وژن کی دنیا کو ہی دیکھ لیجیے۔ وہاں تو نیوز کاسٹر کے لیے چہرہ، عمر، اسکرین پریزنس اور تازگی بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔ چالیس سال کے بعد تو بڑے چینلز بھی نیوز کاسٹر لینے سے گریز کرتے ہیں۔ مگر ریڈیو پاکستان—جسے ہم اکثر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں—وہی ریڈیو عشرت فاطمہ کو تقریباً ستر سال کی عمر تک برداشت کرتا رہا، موقع دیتا رہا، عزت دیتا رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ادارہ بے حس تھا یا حد درجہ بردبار؟یہ کہنا کہ “مجھے دیوار سے لگا دیا گیا” شاید جذباتی ردعمل ہو، مگر یہ مکمل سچ نہیں۔ اصل سچ یہ ہے کہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ ادارے افراد سے بڑے ہوتے ہیں، اور اداروں کو آگے بڑھنے کے لیے نئی آوازوں، نئے لہجوں اور نئی نسل کو جگہ دینی پڑتی ہے۔ اگر ہر بزرگ آواز ہمیشہ مائیک پر قائم رہے تو پھر آنے والوں کے لیے دروازے کہاں کھلیں گے؟

    ریڈیو پاکستان نے عشرت فاطمہ کو صرف ملازمت نہیں دی، بلکہ پہچان دی، نام دیا، وقار دیا۔ ایک ایسا وقار جو آج بھی اُن کے نام کے ساتھ جڑا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ انہیں کیوں رخصت کیا گیا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پینتالیس برس بعد بھی رخصتی کو توہین سمجھنا درست ہے؟ کیا یہ کہنا مناسب ہے کہ “آپ کام کی نہیں”—جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان ایک وقت کے بعد کام کے اُس معیار پر پورا نہیں اترتا جو ادارے کو درکار ہوتا ہے؟ادب ہمیں سکھاتا ہے کہ شکوہ بھی ایک فن ہے، اور خاموشی بھی ایک وقار۔ بعض اوقات خاموشی، شور سے زیادہ باوقار ہوتی ہے۔ عشرت فاطمہ اگر خاموشی سے رخصت ہوتیں، اپنے ماضی پر فخر کرتیں، نئی نسل کے لیے دعا کرتیں، تو شاید ان کی آواز پہلے سے زیادہ معتبر ہو جاتی۔ مگر میڈیا پر آ کر ادارے پر الزام دھرنا—وہ ادارہ جس نے نصف صدی کے قریب آپ کو برداشت کیا—یہ رویہ دل کو زخمی کرتا ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ ریڈیو پاکستان کوئی ذاتی ادارہ نہیں، یہ ریاستی ادارہ ہے۔ یہاں فیصلے افراد کی پسند یا ناپسند سے نہیں بلکہ پالیسی، عمر، صحت اور ادارہ جاتی ضرورت کے تحت ہوتے ہیں۔ اگر عشرت فاطمہ کو وقت پر ریٹائر کر دیا گیا تو یہ کوئی انوکھا فیصلہ نہیں، بلکہ ایک فطری اور قانونی عمل ہے۔ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ عزت صرف مائیک پر بولنے سے نہیں ملتی، بلکہ وقت پر خاموش ہو جانے سے بھی ملتی ہے۔ بڑے لوگ وہی ہوتے ہیں جو اپنے عروج کو بھی وقار سے جیتے ہیں اور زوال کو بھی وقار سے قبول کرتے ہیں۔ عشرت فاطمہ کا ماضی قابلِ احترام ہے، مگر حال میں شکوہ کناں لہجہ اس احترام کو دھندلا دیتا ہے۔یہ کالم کسی نفی کے لیے نہیں، بلکہ ایک تلخ مگر ضروری سوال کے لیے ہے پینتالیس سال بعد بھی اگر ادارہ آپ کا ساتھ نہ دے تو کیا یہ ناانصافی ہے، یا وقت کا فطری تقاضا؟

    عشرت فاطمہ سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ریڈیو پاکستان نے آپ سے بے وفائی نہیں کی، بلکہ آپ کو وہ سب کچھ دیا جو ہر کسی کے حصے میں نہیں آتا۔ عزت، شناخت، طویل وابستگی،یہ سب نعمتیں ہیں۔ شاید اب شکوے نہیں، شکر کا وقت ہے۔ کیونکہ تاریخ اُنہی کو یاد رکھتی ہے جو رخصت ہوتے وقت بھی مسکراتے ہیں، اور یہی مسکراہٹ اصل پہچان بن جاتی

  • انسانیت کا کیمو فلاج،تحریر:پارس کیانی

    انسانیت کا کیمو فلاج،تحریر:پارس کیانی

    ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، وہاں سب سے زیادہ جو چیز بک رہی ہے وہ سچ نہیں، تاثر ہے۔ یہاں نیت سے زیادہ نعرہ، کردار سے زیادہ چہرہ، اور عمل سے زیادہ اعلان معتبر مانا جاتا ہے۔ انسان کے لفظ نرم ہوتے جا رہے ہیں مگر رویے سخت، زبان شائستہ ہوتی جا رہی ہے مگر دل تنگ۔ بظاہر سب کچھ درست دکھائی دیتا ہے، مگر ذرا سا کھرچنے پر اندر سے کچھ اور ہی نکل آتا ہے۔
    ہر انسان خود کو بہتر ثابت کرنے کی ایک مسلسل کوشش میں ہے۔ کوئی اخلاق کا سہارا لیتا ہے، کوئی تہذیب کا، کوئی مذہب کا، کوئی نظریے کا۔ مگر یہ سب اکثر اس لیے نہیں کہ وہ واقعی بہتر بننا چاہتا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ سوال سے بچ سکے۔ سوال اگر اٹھ جائے تو چہرے اترنے لگتے ہیں، اس لیے انسان نے خود کو اتنا آراستہ کر لیا ہے کہ کوئی اس کے اندر جھانکنے کی جسارت ہی نہ کرے۔

    ہم انصاف کی بات کرتے ہیں مگر صرف وہاں جہاں ہمارا نقصان نہ ہو۔ ہم انسانیت کے گیت گاتے ہیں مگر صرف اپنے جیسے انسانوں کے لیے۔ ہم برابری کا درس دیتے ہیں مگر اپنی برتری کو خاموشی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ ہمیں اصول بہت عزیز ہیں، مگر صرف اس وقت تک جب تک وہ ہمارے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ اصول اگر مفاد سے ٹکرا جائیں تو ہم اصول کی نئی تشریح گھڑ لیتے ہیں۔
    یہ رویہ کسی ایک معاشرے، کسی ایک قوم یا کسی ایک مذہب تک محدود نہیں۔ طاقت جہاں بھی ہو، اس کے چہرے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ دلیلیں بدل جاتی ہیں، زبان بدل جاتی ہے، مگر جواز وہی رہتا ہے۔ کہیں اسے تہذیب کہا جاتا ہے، کہیں سلامتی، کہیں ترقی، کہیں روایت۔ نام بدل جاتے ہیں، مگر انسان کے ہاتھ میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی پردہ ہوتا ہے۔

    جدید دنیا نے اس عمل کو مزید نفیس بنا دیا ہے۔ اب انسان صرف وہ نہیں چھپاتا جو وہ کرتا ہے، بلکہ وہ یہ بھی طے کرتا ہے کہ اسے کیا دکھانا ہے۔ دکھ بانٹنا نہیں، دکھ پیش کرنا اہم ہو گیا ہے۔ ہمدردی ایک کیفیت نہیں، ایک اظہار بن گئی ہے۔ خاموشی اب احساس نہیں، ایک حکمتِ عملی ہے۔ اور بےحسی کو مصروفیت کا نام دے کر قبول کر لیا گیا ہے۔
    نسل، رنگ اور مذہب کے نام پر جو خلیجیں ہیں، وہ بھی اسی رویے کا نتیجہ ہیں۔ ہر گروہ خود کو حق پر اور دوسرے کو خطا پر سمجھتا ہے۔ ہر ایک کے پاس اپنی برتری کا کوئی نہ کوئی اخلاقی یا تاریخی جواز ہے۔ کوئی بھی خود کو آئینے میں دیکھنے پر آمادہ نہیں، کیونکہ آئینہ سوال کرتا ہے، اور سوال ہمیں ننگا کر دیتے ہیں۔

    اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان میں کمزوریاں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو خوبیوں کا لباس پہنا دیتا ہے۔ وہ ظلم کو مجبوری، مفاد کو دانائی، اور بےحسی کو حقیقت پسندی کہہ کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتا ہے۔ یوں ضمیر خاموش ہو جاتا ہے اور انسان مطمئن، حالانکہ کچھ بھی درست نہیں ہوتا۔
    اگر انسان واقعی بدلنا چاہے تو اسے کسی انقلاب، کسی نعرے یا کسی بڑے دعوے کی ضرورت نہیں۔ اسے صرف اتنی ہمت چاہیے کہ وہ خود کو بغیر آرائش کے دیکھ سکے۔ وہ مان سکے کہ وہ جیسا دکھتا ہے، ویسا ہے نہیں۔ وہ تسلیم کر سکے کہ جو پردے اس نے اوڑھ رکھے ہیں، وہ دوسروں کے لیے نہیں، خود اپنے ضمیر کو دھوکہ دینے کے لیے ہیں۔ انسان شاید اس لیے بھی اس دوہرے پن کا عادی ہو چکا ہے کہ سچ کے ساتھ جینا آسان نہیں۔ سچ قربانی مانگتا ہے، قیمت وصول کرتا ہے، اور آئینہ دکھاتا ہے۔ جبکہ دکھاوا سہولت دیتا ہے، قبولیت دلاتا ہے اور سوال سے بچا لیتا ہے۔ اس لیے ہم نے آہستہ آہستہ اصل ہونے کے بجائے موزوں ہونا سیکھ لیا ہے۔ ہم نے سیکھ لیا ہے کہ کب خاموش رہنا ہے، کب بولنا ہے، کہاں آنسو دکھانے ہیں اور کہاں مسکراہٹ سجانی ہے۔ یوں ہم خود بھی نہیں جان پاتے کہ ہمارے اندر جو رہ گیا ہے، وہ حقیقت ہے یا برسوں کی مشق سے تیار کیا گیا کوئی محفوظ چہرہ۔۔۔۔۔
    اور یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقت اپنا نام ظاہر کرتی ہے۔

    یہ جو اخلاق، تہذیب، انسانیت اور اصولوں کی خوبصورت تہیں ہم نے خود پر چڑھا رکھی ہیں، یہ سب دراصل انسانیت کا "کیموفلاج” ہیں۔

  • اقتدار کا نہیں، سوچ کا بحران ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقتدار کا نہیں، سوچ کا بحران ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وقت آگے نکل گیا، سیاست وہیں کھڑی ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور ان کے بیشتر قائدین ایک عجیب خوش فہمی میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ انہیں یہ گمان ہے کہ اقتدار کے چند حربے، وقتی اتحاد اور طاقت کے مراکز سے قربت نے گویا وقت کو ان کے لیے روک دیا ہے۔ جیسے سب کے سب گھڑیال کے گھنٹے سے لٹکے ہوں اور گرنے کا کوئی خطرہ نہ ہو۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ وقت نہ رکا ہے، نہ رکتا ہے، اور نہ کسی کا انتظار کرتا ہے۔ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے۔ جدید ریاستیں عوامی فلاح، شفاف طرزِ حکمرانی، ٹیکنالوجی، میرٹ اور جواب دہی کو اپنی بنیاد بنا چکی ہیں، جبکہ پاکستان کی سیاست آج بھی فرسودہ سوچ، ذاتی مفادات اور اقتدار کی جنگ میں الجھی ہوئی ہے۔ ہم کیلنڈر کے لحاظ سے اکیسویں صدی میں ہیں، مگر عملی سیاست صدیوں پیچھے کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جمہوریت، جسے عوام کی حکمرانی کا نام دیا جاتا ہے، ہمارے ہاں ایک سنجیدہ نظام کے بجائے مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ انتخابات ہوں یا پارلیمان، آئین ہو یا عوامی نمائندگی—ہر شے طاقت کے کھیل، سودے بازی اور وقتی مفادات کی نذر ہو چکی ہے۔ عوام کو صرف ووٹ کے دن یاد رکھا جاتا ہے، اقتدار میں آتے ہی وہی عوام مسائل اور مطالبات کے ساتھ غیر ضروری سمجھ لی جاتی ہے۔سیاسی جماعتیں ماضی کے نعروں، شخصیت پرستی اور جذباتی بیانیوں کے سہارے حال اور مستقبل پر حکمرانی کی خواہش رکھتی ہیں۔ انہیں یہ احساس ہی نہیں کہ معاشرہ بدل چکا ہے، نئی نسل سوال کرتی ہے، دلیل مانگتی ہے اور کارکردگی کو معیار بناتی ہے۔ مگر ہمارے سیاستدان آج بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ عوام وہی ہیں، حالات وہی ہیں، اور سیاست ہمیشہ اسی ڈگر پر چلتی رہے گی۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اور نظام وقت کے ساتھ خود کو نہیں بدلتے، وقت انہیں پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ اگر پاکستان کی سیاست نے خود احتسابی، جدید تقاضوں اور حقیقی جمہوری اقدار کو قبول نہ کیا تو یہ بحران صرف سیاسی نہیں رہے گا بلکہ ریاستی اور سماجی بحران میں تبدیل ہو جائے گا۔ یہ دراصل اقتدار کا نہیں، سوچ کا بحران ہے۔ اور جب تک سوچ نہیں بدلے گی، نہ جمہوریت مضبوط ہو گی، نہ عوام کے مسائل حل ہوں گے، اور نہ ہی پاکستان وقت کے ساتھ قدم ملا سکے گا۔

  • "بسنت خونی کھیل ” تحریر: عائشہ اسحاق

    "بسنت خونی کھیل ” تحریر: عائشہ اسحاق

    حکومت پنجاب کی طرف سے پتنگ بازی پر عائد پابندی ہٹا کر بسنت منانے کا اعلان نہایت نا معقول فیصلہ ہے۔ بسنت کا اسلامی تہواروں سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا اربوں روپے بسنت جیسے تہوار پر خرچ کرنے کا اعلان نہایت غلط ھے۔ اس کے علاوہ یہ بات کیسے فراموش کی جا سکتی ہے کہ پتنگ بازی جیسا قاتل شوق بہت سے خاندانوں کے چراغ گل کر چکا ہے۔ اتنی جلدی خون میں نہائے بچے اور افراد کو فراموش کر دیا گیا۔ فضول شرائط کے ساتھ ایسے قاتل کھیل کی اجازت دینا سراسر عوام دشمنی ہے۔ کیا آپ اس حقیقت سے نا واقف ہیں کہ پاکستان میں بااثرلوگ کس طرح سے قانون اور قواعدہ شرائط کی خلاف ورزیاں کر کے دندناتے پھرتے ہیں۔

    یہ مت بھولیے کہ ان شرائط کی خلاف ورزی پر جوتے اور جرمانے بھی صرف مڈل کلاس بے وقوف پتنگ باز ؤں کہ حصے میں ہی آئیں گے۔ کیونکہ بااثرلوگ قانون کو اپنے والدین کی میراث سمجھتے ہیں۔جہاں غریب کو روٹی میسر نہیں وہاں ایسے فضول اور خونی شوق پر اربوں روپے لگانا شرمناک ہے ۔افسوس اس بات پر بھی ہے کہ ایسے نامعقول اقدامات میں ہم عوام میں سے کئی پڑھے لکھے لوگ بھی شامل حال دکھائی دیتے ہیں۔

  • منفیّت ترقی کے راستے کی رکاوٹ ،تحریر:پارس کیانی

    منفیّت ترقی کے راستے کی رکاوٹ ،تحریر:پارس کیانی

    انسان کا ذہن، فطرتاً، ایک مقناطیسی نظام کی طرح ہے۔ یہ جس سمت میں سوچتا ہے، توانائی بھی اُسی طرف جذب کرتا ہے۔ مثبت سوچ ذہن کے اندر نئے امکانات کے دروازے کھولتی ہے، جبکہ منفیّت ہر راستے پر اندھیرا بچھا دیتی ہے۔ یہی منفیّت ہے جو ترقی کے سفر کو سست کر دیتی ہے، اور اکثر اوقات انسان کو اپنی ہی ناکامی کا ذمہ دار بنا دیتی ہے۔

    منفیّت دراصل ایک ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان ہر بات کا تاریک پہلو دیکھتا ہے۔ کسی کی کامیابی پر حسد، کسی کی خوشی پر بدگمانی، کسی کی رائے پر اعتراض، یہ سب منفیّت کی شاخیں ہیں۔ ڈاکٹر جوزف مرے کے مطابق، “Negative thinking releases stress hormones that block creative and decision-making parts of the brain.” یعنی منفی سوچ دماغ میں ایسے کیمیائی مادّے پیدا کرتی ہے جو فیصلہ سازی اور تخلیقی عمل کو مفلوج کر دیتے ہیں۔

    سائنس دانوں نے ثابت کیا ہے کہ انسان کے دماغ میں ایک حصہ "Amygdala” کہلاتا ہے، جو خوف اور غصے کے جذبات کو کنٹرول کرتا ہے۔ جب کوئی شخص منفی انداز میں سوچتا ہے تو Amygdala مسلسل متحرک رہتا ہے، جس سے دماغ پر دباؤ بڑھتا ہے، اور انسان بے وجہ بددل، مایوس اور بدگمان ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، مثبت سوچ "Prefrontal Cortex” کو متحرک کرتی ہے، جو منصوبہ بندی، امید اور تخلیق کی صلاحیتوں کو ابھارتی ہے۔ یوں مثبت سوچ دماغ میں روشنی پھیلاتی ہے اور انسان کے عمل میں توانائی پیدا کرتی ہے۔

    لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں منفیّت کو اکثر عقل مندی سمجھ لیا جاتا ہے۔ جو شخص ہر بات پر شک کرے، ہر کام میں نقص نکالے، اسے "حقیقت پسند” کہا جاتا ہے، حالانکہ وہ دراصل زندگی کی خوبصورتی سے کٹ چکا ہوتا ہے۔ اقبال نے کہا تھا:

    "عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے ”

    منفیّت خودی کی دشمن ہے۔ یہ انسان کے اندر سے اعتماد، جرات اور جوش چھین لیتی ہے۔ ایک منفی شخص اپنے لیے خود زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے، کیونکہ وہ ہر کامیابی سے پہلے ناکامی کا تصور کر لیتا ہے۔ وہ دوسروں پر الزام دھر کر خود کو بری سمجھتا ہے، مگر انجام میں تنہائی، مایوسی اور حسرت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
    معاشرتی سطح پر دیکھیں تو منفیّت قوموں کو بھی پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کی کامیابی میں رکاوٹ بننے لگیں، جب ہر نئی سوچ کا مذاق اڑایا جائے، جب ہر اچھے ارادے کو شک کی نظر سے دیکھا جائے تو ترقی رک جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنی فکری توانائی کو حسد، بدگمانی اور نفرت میں ضائع کیا، وہ دنیا کے نقشے پر پیچھے رہ گئیں۔

    منفیّت ایک خاموش زہر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کسی دوسرے کے بارے میں برا سوچ رہے ہیں، لیکن دراصل ہم اپنے اندر زہر گھول رہے ہوتے ہیں۔ روحانی سطح پر بھی یہی حقیقت بیان ہوئی ہے کہ انسان جو توانائی دوسروں کی طرف بھیجتا ہے، وہ کسی نہ کسی صورت میں واپس خود اس کی طرف پلٹتی ہے۔ اس لیے جب ہم نفرت، حسد یا بدگمانی پھیلاتے ہیں تو دراصل اپنی ہی فضا کو آلودہ کر رہے ہوتے ہیں۔منفیّت کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار شکرگزاری اور خوش فہمی ہے۔ جو شخص شکر کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ کبھی اندھیرے میں نہیں رہتا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
    "لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ”
    "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔”
    یعنی مثبت رویّہ نہ صرف روحانی ترقی کا ذریعہ ہے بلکہ عملی کامیابی کا بھی راز ہے۔

    آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ منفیّت ایک ایسا بوجھ ہے جسے کندھوں پر اٹھا کر چلنے والا کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ جو دل میں بدگمانی، حسد یا شک رکھتا ہے، وہ اپنے لیے رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے ذہن کو صاف رکھیں، اپنی سوچ کو روشن بنائیں، اور دوسروں کی کامیابی میں خوشی محسوس کریں تو یقیناً ترقی کا سفر آسان ہو جائے گا۔زندگی کے سفر میں سب سے بڑی جیت یہی ہے کہ ہم منفیّت کو ہرا دیں, کیونکہ منفیّت کو شکست دینا، دراصل خود کو جیتنا ہے۔

  • لا تقولوا راعنا،عمران تنہا کا نعتیہ و منقبتیہ شاعری مجموعہ،تحریر: آمنہ خواجہ

    لا تقولوا راعنا،عمران تنہا کا نعتیہ و منقبتیہ شاعری مجموعہ،تحریر: آمنہ خواجہ

    عصرِ حاضر میں جب شاعری کی دنیا میں موضوعات کی فراوانی کے باوجود روحانی ادب نسبتاً کم ہوتا جا رہا ہے، ایسے میں عمران تنہا کا نعتیہ و منقبتیہ شاعری مجموعہ ایک خوشگوار اور بامعنی اضافہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ مجموعہ محض اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ دل کی زمین پر اگنے والی وہ فصل ہے جو عشقِ رسول ﷺ اور اولیائے کرام و اہلِ بیت اطہار کی عقیدت سے سیراب ہے۔
    عمران تنہا کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی اس کی سچائی اور سادگی ہے۔ ان کے ہاں نہ تصنع ہے، نہ لفظی نمائش، بلکہ ایک دردمند دل کی دھڑکن ہے جو ہر شعر میں سنائی دیتی ہے۔ نعتیہ کلام میں جہاں احترام ادب اور محبت بنیادی شرط ہوتے ہیں، وہاں عمران تنہا اس نازک دائرے کو بڑی مہارت سے نبھاتے نظر آتے ہیں۔ ان کے اشعار میں حضور نبی کریم ﷺ سے والہانہ وابستگی بھی ہے اور عاجزی و انکسار بھی، جو قاری کے دل کو بے اختیار جھکا دیتی ہے۔

    منقبتیہ شاعری میں عمران تنہا نے اہلِ بیت صحابہ کرام اور اولیائے اللہ کی سیرت و کردار کو محض تاریخی حوالوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں موجودہ دور کے انسان سے جوڑ دیا ہے۔ ان کی منقبتیں ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ یہ عظیم ہستیاں صرف ماضی کا روشن باب نہیں بلکہ آج بھی ہمارے فکری اخلاقی اور روحانی رہنما ہیں۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ عقیدت کو جذباتی شور میں بدلنے کے بجائے فہم و شعور کی روشنی میں پیش کرتا ہے۔
    فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو عمران تنہا کی شاعری بحر، وزن اور ردیف و قافیہ کے حسن سے آراستہ ہے۔ ان کی زبان شستہ رواں اور عام فہم ہے، جس کی بدولت یہ کلام خواص کے ساتھ ساتھ عوام کے دلوں تک بھی آسانی سے پہنچتا ہے۔ تشبیہات اور استعارات میں بھی ایک پاکیزگی اور وقار نظر آتا ہے جو نعتیہ و منقبتیہ شاعری کے مزاج کے عین مطابق ہے۔

    اس مجموعے کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ قاری کو صرف پڑھنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ سوچنے، رکنے اور خود احتسابی پر آمادہ کرتا ہے۔ ہر نعت اور ہر منقبت ایک خاموش سوال کی طرح سامنے آتی ہے کہ ہم اپنے قول و فعل میں کس حد تک ان ہستیوں کی تعلیمات کو اپنائے ہوئے ہیں جن سے ہم محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
    اخباری سطح پر اس مجموعے کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ ادب اور عقیدت کے اس حسین امتزاج کی نمائندگی کرتا ہے جس کی ہمارے معاشرے کو آج شدید ضرورت ہے۔ عمران تنہا کا یہ نعتیہ و منقبتیہ مجموعہ نئی نسل کو روحانی شاعری سے جوڑنے کی ایک سنجیدہ اور قابلِ قدر کوشش ہے۔

    بلا شبہ عمران تنہا نے اس مجموعے کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت میں خلوص اور دل میں سچی محبت ہو تو لفظ خود بخود معتبر ہو جاتے ہیں۔ یہ مجموعہ نعت و منقبت کے شائقین کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے اور اردو روحانی شاعری کے سفر میں ایک روشن سنگِ میل کی حیثیت رکھتاہے

  • ایک پھول دو مالی___رقیب سے حبیب تک ،تحریر: ریاض احمد احسان

    ایک پھول دو مالی___رقیب سے حبیب تک ،تحریر: ریاض احمد احسان

    محبت کے لغت نامے میں ایک لفظ "رقیب” ہے جو صدیوں سے غلط فہمی کی گرد میں اٹا پڑا ہے ہم نے اسے دشمن سمجھ لیا، مخالف مان لیا اور بدخواہ قرار دے دیا حالانکہ محبت کے باب میں رقیب دشمن،مخالف یا بدخواہ نہیں ہوتا بلکہ وہ تو محبت کے کمرے میں رکھا وہ آئینہ ہے جس میں حبیب کا چہرہ اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔رقیب وہ نہیں جو بیچ میں آ کر محبت چھین لے،قبضہ جما لے یا کانٹے کی طرح آنکھ میں کھٹکنے لگے-آپ پہلے محبت کے لفظ کو سمجھیں پھر معانی و مفہوم میں اتریں تو آپ پرکُھلے گا کہ محبت کسی ایک دل کی جاگیر نہیں یہ تو وہ روشنی ہے جو ایک سے زیادہ آنکھوں میں بیک وقت اُتر سکتی ہے،ایک سے زیادہ دلوں کا قرار بن سکتی ہے.

    ہم نے محبت کو ملکیت بنا دیا ہے اسی لیے رقیب ہمیں چبھتا بھی ہے اور ڈنک بھی مارتا رہتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ جسے ہم نے چاہ لیا اب اس پر صرف ہمارا حق ہے حالانکہ محبت حق سے زیادہ ذمہ داری ہے، دعویٰ ہی نہیں دعا بھی ہے اگر محبت کو احساس، احترام اور خیرخواہی کا نام دے دیا جائے تو رقیب کا تصور خود بخود تحلیل ہو جاتا ہے۔محبت میں رقیب کا ہونا دراصل محبت کے دلچسب ہونے کی علامت ہے جہاں چاہت نہ ہو وہاں مقابلہ کیسا؟ جہاں دل نہ دھڑکے وہاں حسد کیسا؟ رقیب دراصل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں وہ واقعی چاہے جانے کے لائق ہے،سراہے جانے کے قابل ہے محبت میں فلسفہ ہمیں یہی تو سکھاتا ہے کہ قدر ہمیشہ اشتراک سے جنم لیتی ہے جو چیز صرف ایک آنکھ کو بھائے وہ ذاتی پسند ہو سکتی ہے لیکن جو کئی دلوں کو اپنی طرف کھینچے وہ قدر بن جاتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے ایک خوب صورت نظم اگر صرف ایک ہی شخص کو سمجھ آئے تو وہ ذاتی تجربہ یا ذاتی واردات ہے لیکن وہی نظم اگر کئی دلوں میں اتر جائے تو وہ ادب بن جاتی ہے۔حبیب اگر بیک وقت کئی دلوں میں جگہ بنا لے تو یہ اس کی غلطی نہیں بلکہ حسن ہے اور رقیب؟ وہ تو اسی حسن کا قاری ہے، اسی نظم کا دوسرا سامع ہے،قدردان ہے.

    رقیب ہونا دراصل ہم خیالی کا دوسرا نام ہے دو دل اگر ایک ہی دل سے قرار پائیں تو اس میں دشمنی کہاں سے آ گئی؟ یہ تو ہم ذوق ہونا ہے،ہم آہنگی ہے یہ تو احساس کی یکسانیت ہے۔ رقیب وہ شخص ہے جو آپ ہی کی طرح کسی چہرے میں زندگی تلاش کر رہا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ آپ اسے حبیب کہتے ہیں اور وہ بھی—بس راستے جدا ہیں، نیت نہیں،محبت کی سب سے حسین صفت برداشت ہے وہ محبت جو فوراً غیرت کی تلوار اٹھا لے وہ محبت تو نہیں ہوسکتی محبت کے باب میں سچا عاشق وہ ہے جو یہ جانتا ہو کہ اگر اس کا محبوب واقعی قیمتی ہے تو اس کی قدر صرف اسے ہی کیوں محسوس ہو؟

    محبت میں حبیب وہ نہیں ہوتا جو مل جائے،میسر آجائے یا دسترس میں ہی رہے بلکہ حبیب وہ ہوتا ہے جو دل کا حال بہتر بنا دے جو آپ کو ظرف سکھا دے، برداشت سکھا دے،ایثار کرنے کا جذبہ آپکے اندر پیدا کردے اور یہ شعور دے کہ چاہنا قربانی کا نام ہے قبضے کا نہیں کئی بار زندگی میں ایسا ہوتا ہے کہ محبوب کسی اور کے حصے میں چلا جاتا ہے لیکن اس کے جانے کے بعد جو ٹھہراؤ، جو دانائی، جو وسعت آپ کے قلب و نگاہ میں آتی ہے وہی تو اصل ثمر ہوتا ہے یوں کوئی ایک انسان نہیں بلکہ ایک تجربہ حبیب بن جاتا ہے،ہم نے کہانیوں میں،واقعات میں اور ادب میں ہمیشہ رقیب کو ولن بنا کر پیش کیا دراصل رقیب محبت کا کمرہ امتحان ہوتا ہےرقیب کے احسانات میں ایک احسان یہ بھی ہے کہ رقیب ہمیں یہ غور و فکر کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے کہ ہماری چاہت انا پر کھڑی ہے یا خلوص پر اگر انا ہو تو حسد جنم لیتا ہے اگر خلوص ہو تو وجود دعا میں ڈھل جاتا ہے بھلا جو شخص آپ کے محبوب کی خوشی چاہے، وہ آپکا دشمن کیسے ہو سکتا ہے،اسورج ایک ہے لیکن اس کی روشنی ہزاروں کھڑکیوں سے اندر آتی ہے کیا ایک کھڑکی دوسری کی دشمن ہے؟ نہیں، سب روشنی کے استقبال میں برابر رہا سرشار ہوتی ہیں محبوب اگر سورج ہے تو چاہنے والی کھڑکیاں ہیں۔ رقیب کوئی اور نہیں بس ایک اور کھڑکی ہے روشنی اس کی بھی وہی ہے اور آپ کی بھی.

    محبت کا اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ آپ حبیب کو آزاد چھوڑ دیں۔اس کی مسکراہٹ پر پہرا نہ بٹھائیں،اس کے انتخاب کو قید نہ کریں۔محبت اگر سمندر ہے تو رقیب ایک دریا ہے جو اسی میں آن ملتا ہے سمندر چھوٹا نہیں ہوتا،آپ دریا گناہ گار نہ ٹھہرائیں
    جس لمحے آپ یہ سوچنے لگیں کہ
    “اگر وہ میرا نہ ہوا تو کسی اور کا بھی نہ ہو”
    اسی لمحے محبت کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ آپ بس اتنا سمجھ لیں کہ محبت زندگی بانٹتی ہے، موت نہیں اگر آپ واقعی کسی کو چاہتے ہیں تو یہ بھی قبول کریں کہ شاید اس کی خوشی کسی اور راستے پر لکھی ہو یہی محبت میں ایثار ہے
    رقیب کو دشمن سمجھنے والے دراصل محبت کو کم سمجھتے ہیں۔محبت اتنی ناتواں نہیں کہ ایک تیسرے کی آمد سے بکھر جائے اگر بکھر جائے تو مان لیجیے وہ محبت نہیں تھی وہ تو فقط عادتوں کی ورزش تھی یا خود پسندی کی ایک مصنوعی شکل و صورت محبت تو وہ ہے جو رقیب کے وجود میں بھی اپنی شرافت برقرار رکھے،اپنی زبان میں تلخی نہ آنے دے اور اپنے رویّے میں وقار قائم رکھے

    یہ سب لفظوں کی قلعی نہیں نہ کسی منطق کا کرتب ہے یہ میری زندگی کی کمائی ہے، میرے زخموں کی روشنائی ہے، میرے ٹوٹنے سے جنم لینے والی دانائی ہے میں نے رقیب کو کتابوں میں نہیں اپنے دل کے آئینے میں پڑھا ہے۔میں نے اپنے نصیب کے رقیب کو پہچانا اور تسلیم کیا،اُس کے روبرو میری انا ہمیشہ خاموش رہی اور خیر خواہی بولتی چلی گئی.

    دوستو!میرا رقیب میرا حبیب ہے،میرا طبیب ہے، میرا معلّم ہے، میرا مُصلِح ہے، میرا مربّی ہے، میرا ہم ذوق ہے، میرا مرشد ہے، میرا مونس ہے، میرا محرم ہے، میرا معتبر ہے، میرا منصف ہے، میرا مفسّر ہے، میرا محافظِ وقار ہے، میرا مظہرِ برداشت ہے، میری میزانِ محبت ہے،میرا رقیب میرے مقام و مرتبے کو گھٹاتا نہیں، بڑھاتا ہے وہ میری محبت کو کمزور نہیں کامل بناتا ہے .میرا رقیب کل بھی میرا حبیب تھا،آج بھی میرا حبیب ہے اور آئندہ بھی میرا حبیب ہی رہے گا کہ ہم دونوں ایک ہی پھول کے دو مالی ہیں

    ہماری باہمی محبت کا یہ عالم ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے حق میں ہزاروں بار دستبردار ہو سکتے ہیں
    وہ شہرِ خموشاں میں جا بسا اور میں اُس کی نشانیوں کو گلے سے لگائے محبت کے مزار سے کیا عہد نبھا رہا ہوں