وقت آگے نکل گیا، سیاست وہیں کھڑی ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور ان کے بیشتر قائدین ایک عجیب خوش فہمی میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ انہیں یہ گمان ہے کہ اقتدار کے چند حربے، وقتی اتحاد اور طاقت کے مراکز سے قربت نے گویا وقت کو ان کے لیے روک دیا ہے۔ جیسے سب کے سب گھڑیال کے گھنٹے سے لٹکے ہوں اور گرنے کا کوئی خطرہ نہ ہو۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ وقت نہ رکا ہے، نہ رکتا ہے، اور نہ کسی کا انتظار کرتا ہے۔ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے۔ جدید ریاستیں عوامی فلاح، شفاف طرزِ حکمرانی، ٹیکنالوجی، میرٹ اور جواب دہی کو اپنی بنیاد بنا چکی ہیں، جبکہ پاکستان کی سیاست آج بھی فرسودہ سوچ، ذاتی مفادات اور اقتدار کی جنگ میں الجھی ہوئی ہے۔ ہم کیلنڈر کے لحاظ سے اکیسویں صدی میں ہیں، مگر عملی سیاست صدیوں پیچھے کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جمہوریت، جسے عوام کی حکمرانی کا نام دیا جاتا ہے، ہمارے ہاں ایک سنجیدہ نظام کے بجائے مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ انتخابات ہوں یا پارلیمان، آئین ہو یا عوامی نمائندگی—ہر شے طاقت کے کھیل، سودے بازی اور وقتی مفادات کی نذر ہو چکی ہے۔ عوام کو صرف ووٹ کے دن یاد رکھا جاتا ہے، اقتدار میں آتے ہی وہی عوام مسائل اور مطالبات کے ساتھ غیر ضروری سمجھ لی جاتی ہے۔سیاسی جماعتیں ماضی کے نعروں، شخصیت پرستی اور جذباتی بیانیوں کے سہارے حال اور مستقبل پر حکمرانی کی خواہش رکھتی ہیں۔ انہیں یہ احساس ہی نہیں کہ معاشرہ بدل چکا ہے، نئی نسل سوال کرتی ہے، دلیل مانگتی ہے اور کارکردگی کو معیار بناتی ہے۔ مگر ہمارے سیاستدان آج بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ عوام وہی ہیں، حالات وہی ہیں، اور سیاست ہمیشہ اسی ڈگر پر چلتی رہے گی۔
تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اور نظام وقت کے ساتھ خود کو نہیں بدلتے، وقت انہیں پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ اگر پاکستان کی سیاست نے خود احتسابی، جدید تقاضوں اور حقیقی جمہوری اقدار کو قبول نہ کیا تو یہ بحران صرف سیاسی نہیں رہے گا بلکہ ریاستی اور سماجی بحران میں تبدیل ہو جائے گا۔ یہ دراصل اقتدار کا نہیں، سوچ کا بحران ہے۔ اور جب تک سوچ نہیں بدلے گی، نہ جمہوریت مضبوط ہو گی، نہ عوام کے مسائل حل ہوں گے، اور نہ ہی پاکستان وقت کے ساتھ قدم ملا سکے گا۔
