Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • وزیراعلیٰ پنجاب  کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ  کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی رہنمائی اور وژن کے مطابق محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے انقلابی اقدامات کر رہا ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قیادت میں پنجاب کے مختلف شہروں میں ورثہ بحالی کے منصوبے عالمی معیار کے مطابق شروع کیے گئے ہیں، جو نہ صرف ثقافتی شناخت کو اجاگر کر رہے ہیں بلکہ سیاحت اور تحقیق کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔

    حال ہی میں ہڑپہ میوزیم میں چار نئی گیلریوں کو ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی نگرانی میں اسٹیبلش کیا گیا۔ جس کا افتتاح جلد متوقع ہے یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کی عملی مثال ہے، جس میں وادی سندھ کی تاریخ کو جدید تقاضوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اسی طرح شیخوپورہ قلعہ، ہرن منار، قلعہ روہتاس اور ٹیکسلا جیسے منصوبے بھی ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے زیر انتظام جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ماضی کی حفاظت اور مستقبل کے لیے ایک روشن ورثے کی بنیاد ہیں۔

    ان منصوبوں میں بھیرہ قدیم شہر کا تحفظ اور ترقی ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے مطابق بھیرہ کے منصوبے میں قدیم فصیل، تاریخی دروازوں، مساجد اور شہری ڈھانچوں کی بحالی شامل ہے۔ وزٹروں کے لیے سہولیات، شہری ماحول کی بہتری اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت اس منصوبے کو پائیدار اور عوام دوست بناتی ہے۔ سابق ڈائریکٹر محمد حسن کے مطابق بھیرہ کا تحفظ ایک زندہ تہذیب کو بحال کرنے کی کاوش ہے، جبکہ ملک مقصود نے کہا کہ تاریخی ڈھانچوں کی بحالی سے مقامی کمیونٹی براہِ راست فائدہ اٹھائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ورثہ کو ثقافتی فخر اور ٹورزم ڈویلپمنٹ سے جوڑنے پر زور دیا ہے، جبکہ سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ہدایات کی روشنی میں بھیرہ سمیت تمام منصوبے عالمی معیار کے مطابق تیار کیے جا رہے ہیں۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کا کہنا ہے کہ پنجاب آرکیالوجی کی کوششوں سے نہ صرف ورثہ محفوظ ہو رہا ہے بلکہ سیاحت، روزگار اور عالمی شناخت کے نئے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔

    یہ تمام کاوشیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے وژن کی تکمیل اور ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قائدانہ صلاحیتوں کا عملی ثبوت ہیں، جو پنجاب کو ثقافتی فخر اور سیاحت کا عالمی مرکز بنانے کے عزم پر مبنی ہیں۔

  • امریکہ کے ساتھ دوستی،پاکستان کو قومی مفادات سامنے رکھنے ہوں گے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ کے ساتھ دوستی،پاکستان کو قومی مفادات سامنے رکھنے ہوں گے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    موجودہ ملاقات فوجی اور سیاسی قیادت کی مشترکہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے

    فوجی اور سیاسی قیادت کا متفقہ موقف پیش کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان ایک ری سیٹ تجدید کی پالیسی اپنانا چاہتا ہے

    وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے بہتر خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کا نقطہ نظر دنیا تک کامیابی سے پہنچایا

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو بہت سے اتار چڑھاؤ سامنے آتے ہیں۔ خارجہ محاذ کی اگر بات کی جائے تو پاکستانی وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے بہتر خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کا نقطہ نظر دنیا تک کامیابی سے پہنچایا۔ ملکی صورتحال اور امریکہ کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ تاہم پاکستان اب اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں پر پاکستان کو امریکہ کے ساتھ دوستی کو بڑھانے میں اپنے مفادات کو سامنے رکھنا ہوگا اور امریکہ کو بھی برابری کی سطح پر نہ سہی لیکن ایک خود مختار ملک کے طور پر پاکستان کی خود مختاری کا پاس رکھنا ہوگا یہ دونوں ملکوں کے مفاد کے لیے بہتر ہوگا۔ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہو رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ملاقات سے قبل پاکستان اور امریکہ نے تجارتی معاہدہ طے کیا ہے جس میں امریکہ پاکستان کے تیل ذخائر کو دریافت کرنے کا معاہدہ ہے۔ پاکستان نے امریکی کمپنیوں کو کان کنی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی ہے۔ ملاقات کے دوران پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ساتھ ہونا ایک اہم اشارہ ہے یعنی پاکستان کا یہ پیغام اس کی فوجی اور سیاسی قیادت ایک متفقہ موقف پیش کرنا چاہتی ہے۔

    یہ تمام عوامل مل کر اشارہ دیتے ہیں کہ پاکستان ایک ری سیٹ تجدید کی پالیسی اپنانا چاہتا ہے۔ اپنے تعلقات امریکہ کے ساتھ اور اسے علاقائی و بین الاقوامی سطح پر ایک زیادہ فعال اور متوازن مقام دلوانا چاہتا ہے۔ اگر ملاقات نتیجہ خیز ہو اور امریکہ پاکستان کے توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی شبوں میں سرمایہ کاری کرے تو اس سے روزگار کے مواقعے پیدا ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ بہتر تعاون پاکستان کو بین الاقوامی انسداد دہشت گردی نیٹ ورکس کو ٹرانس نیشنل سطح پر نشانے پر لینے میں مدد دے سکتا ہے۔ انٹیلیجنس شیئرنگ بڑھ سکتی ہے مالی معاونت مل سکتی ہے تو پاکستان داخلی سلامتی کو تقویت مل سکتی ہے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان ممکنہ طور پر امریکی گیم پلان کا حصہ بننے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ چین، بھارت، امریکہ توازن میں خود کو ایک مفید شرکت دار ثابت کرے۔ اگر امریکہ پاکستان کو ایک اہم شریک سمجھے تو پاکستان کو علاقائی سیاست میں وزن ملے گا بھارت اس ملاقات کو چین، امریکہ، پاکستان کی تاثیر میں دیکھے گا اور ممکن ہے کہ وہ سخت رد عمل دے یا بین الاقوامی فورمز پر پاکستان پر تنقید کرے۔

    پاکستان کی معیشت پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے ہے۔ سرمایہ کاری حالات شفاف نہیں ہیں کچھ علاقوں میں سکیورٹی مسائل ہیں جن پر توجہ ضروری ہے۔ موجودہ ملاقات فوجی اور سیاسی قیادت کی مشترکہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر عوامی یا سیاسی اپوزیشن حلقے یہ کہیں کہ اس طرح کی نتیجہ خیز ملاقاتوں میں قومی مفادات قربان کیے جائیں تو اندرونی تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ ملاقات خود پاکستان کے لیے گیم چینجر بن جائے گی مگر اس میں اتنی قابلیت ضرور ہے کہ اگر موثر حکمت عملی، شفافیت، سیاسی حوصلہ، دیر پا منصوبہ بندی شامل ہو تو اس کے بہت اہم مثبت اثرات ہو سکتے ہیں۔ اگر پاکستان یہ چاہے کہ اس ملاقات کا بہتر فائدہ ہو اسے چاہیے کہ امریکی معاہدوں کی شرائط کو اچھی طرح سمجھے اپنی خود مختاری کو یقینی بنائے۔ داخلی اصلاحات، قانونی شفافیت، صوبائی مساوات اور سکیورٹی حکمت عملی کو بہتر کرے تاکہ بیرونی سرمایہ کاری محفوظ ہو اور عوام کو فائدہ پہنچے۔ علاقائی تعلقات کا خیال رکھے تاکہ یہ دکھایا جائے کہ پاکستان صرف امریکہ کا ہی اتحادی نہیں بلکہ ایک خود مختار ملک جو علاقائی استحکام کا خواہش مند ہے۔

  • بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کی زندگی ،تحریر:یوسف صدیقی

    بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کی زندگی ،تحریر:یوسف صدیقی

    مہنگائی اور غربت پاکستان کے عام آدمی کے لیے نئی بات نہیں رہی، مگر حالیہ برسوں میں اس کی شدت نے زندگی کو ایک مسلسل امتحان میں ڈال دیا ہے۔ گھر چلانا، بچوں کی تعلیم اور صحت کے اخراجات پورے کرنا، حتیٰ کہ دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی کروڑوں خاندانوں کے لیے ایک مشکل جدوجہد بن چکا ہے۔ پہلے ہی معاشی حالات نازک تھے، مگر حالیہ سیلاب نے معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ زرعی زمینیں ڈوب گئیں، فصلیں تباہ ہو گئیں، مویشی بہہ گئے اور دیہی معیشت کا ڈھانچہ ہل کر رہ گیا۔ چونکہ پاکستان کی معیشت زیادہ تر زراعت پر منحصر ہے، اس تباہی کا اثر شہروں تک بھی براہِ راست پہنچا، جہاں مہنگائی کی نئی لہر نے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

    گھریلو معیشت کو سب سے بڑا جھٹکا اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے لگا ہے۔ آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، دودھ اور گوشت — سب کچھ عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ جس کھانے کو کبھی عام گھرانوں کی میز پر لازمی سمجھا جاتا تھا، وہ آج کئی گھروں کے لیے خواب بن چکا ہے۔ بجلی اور گیس کے بل پہلے ہی لوگوں کو دبا رہے ہیں، اور پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہر شے کی قیمت کو بڑھا دیتا ہے۔ یوں غریب آدمی کے پاس جو چند سو روپے بچتے ہیں، وہ بھی چند دن سے زیادہ برقرار نہیں رہ پاتے۔

    سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے صرف دیہی علاقوں کو متاثر نہیں کیا بلکہ شہروں میں روزگار کے مواقع کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کئی چھوٹی صنعتیں اور کارخانے بند ہوگئے، جن میں مزدور اور ہنرمند اپنے روزگار سے محروم ہوگئے۔ مارکیٹوں میں خریدار نہ ہونے کے برابر ہیں، اور دکاندار مال رکھ کر بھی پریشان ہیں کیونکہ خریدار کے پاس قوتِ خرید باقی نہیں رہی۔ اس کمی نے اجرتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جہاں پہلے ایک مزدور دن بھر محنت کے بعد گزارے لائق کما لیتا تھا، آج اسے آدھی اجرت پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    غربت صرف پیٹ کی بھوک کا نام نہیں، بلکہ یہ عزت نفس اور وقار پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کو کھانے کے لیے روٹی نہ دے سکے، جب ایک ماں اپنے بیمار بچے کو دوا نہ دلا سکے، تو یہ صرف مادی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ جذباتی اور نفسیاتی بوجھ بھی بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ناامیدی بڑھ رہی ہے، جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، اور لوگ اپنی محرومیوں کا اظہار کبھی احتجاج، کبھی جرم اور کبھی مایوسی کے ذریعے کر رہے ہیں۔

    مہنگائی اور بے روزگاری کا یہ گٹھ جوڑ معاشرتی ڈھانچے کو بھی کمزور کر رہا ہے۔ متوسط طبقہ، جو کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، تیزی سے غریبوں کی صف میں شامل ہو رہا ہے۔ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات عام لوگوں کے لیے شجرِ ممنوعہ بنتی جا رہی ہیں۔ دیہی علاقوں کے لوگ بہتر روزگار کی تلاش میں شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں، لیکن شہر پہلے ہی بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس ہجرت نے شہروں میں غربت، بے روزگاری اور جرائم کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

    مزید برآں، مہنگائی اور غربت خواتین اور بچوں کو بھی براہِ راست متاثر کر رہی ہیں۔ خواتین گھریلو بجٹ کا بوجھ اٹھاتے ہوئے کم خوراک، صحت کی سہولیات کی کمی اور بچوں کی تعلیم کے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ بچوں میں غذائی قلت اور تعلیم میں کمی مستقبل کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ یہ نسل کمزور جسمانی اور ذہنی صلاحیت کے ساتھ بڑے ہوں گی۔

    سیلاب اور مہنگائی نے کسانوں کی آمدنی بھی بری طرح متاثر کی ہے۔ زرعی پیداوار کی کمی اور مارکیٹ میں بڑھتی قیمتیں ایک ساتھ عوام کے لیے عذاب بن گئی ہیں۔ کسان جس زمین پر اپنی محنت کرتے ہیں، وہ تباہ ہونے کے بعد دوبارہ کھڑی کرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔ اس کے اثرات صرف دیہات تک محدود نہیں ہیں، بلکہ شہروں میں مہنگائی اور روزگار کی کمی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ سیلاب نے صرف کھیتوں کو نہیں ڈبویا بلکہ معیشت کی سانسیں بھی روک دی ہیں۔ حکومت کے فوری اقدامات کے بغیر یہ بحران مزید گہرا ہوگا۔ سب سے پہلے زرعی شعبے کی بحالی پر توجہ دینا ہوگی تاکہ کسان دوبارہ کھڑا ہو سکے اور غذائی اشیاء کی پیداوار میں اضافہ ہو۔ شہروں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہولتیں دے کر روزگار کے مواقع بڑھانے ہوں گے۔ مزدوروں اور تنخواہ دار طبقے کی اجرتوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو معاشی اور سماجی بحران مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔

    آخر میں سوال یہ ہے کہ جب گھریلو معیشت ہی سانس نہیں لے پا رہی تو ملک کی بڑی معیشت کس طرح صحت مند رہ سکتی ہے؟ اگر عام آدمی کا چولہا بجھ گیا تو ملک کی ترقی کے تمام خواب محض نعرے رہ جائیں گے۔ مہنگائی اور غربت کے اس گرداب سے نکلنے کے لیے ریاست، حکومت اور معاشرہ سب کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔ ورنہ یہ مسائل آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑیں گے، اور ملک کی ترقی صرف خواب ہی رہ جائے گی۔

  • مفتی اعظم سعودی عرب،ایک علمی،روحانی عہد کا اختتام،تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری

    مفتی اعظم سعودی عرب،ایک علمی،روحانی عہد کا اختتام،تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری

    دنیا میں بعض شخصیات ایسی بھی آتی ہیں، جن کی زندگی محض ایک فرد کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ وہ اپنے وجود سے ایک عہد، ایک روحانی روشنی اور ایک فکری توازن کی علامت بن جاتی ہیں۔ایسی ہی جلیل القدر شخصیات میں سے ایک مفتی اعظم سعودی عرب، شیخ عبد العزیز بن عبداللہ آل الشیخ رحمہ اللہ تھے۔آپ نے دین کی خدمت صرف منبر و محراب سے ہی نہیں کی، بلکہ قلم، تقریر اور تدریس کے ذریعے بھی دین اسلام کا پیغام عام کیا۔ ان کے فتاویٰ، خطبات اور بیانات آج بھی مدارس، جامعات اور مساجد میں زیر مطالعہ رہتے ہیں۔ ان کی علمی گہرائی کے ساتھ ساتھ مشکل بات سادگی سے کہنے کا فن انہیں دیگر علما سے ممتاز کرتا تھا۔ان کی تحریروں اور تقاریر میں اعتدال، بصیرت اور حکمت کی جھلک نمایاں تھی۔ انہوں نے ہمیشہ امت کو افتراق کی بجائے اتحاد کی دعوت دی اور فقہی اختلافات کو ایک فکری وسعت سمجھا، نہ کہ نفرت یا تعصب کا ذریعہ۔

    شیخ عبد العزیز رحمہ اللہ 1943ء میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں ہی ان کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو گئی تھی یا انتہاٸی کم ہو گٸ تھی۔عام طور پر یہ ایک بہت بڑی آزمائش ہوتی ہے لیکن انہوں نے اسے حکم ربی سمجھتے ہوئے قبول کیا اور علم دین کے حصول میں مصروف ہو گئے۔ اللہ تعالی نے انہیں روحانی بصیرت اور ایسا روشن دل و دماغ عطا کیا کہ وہ بڑے بڑے علماء کے استاد بنے اور لاکھوں لوگوں کو دین کی روشنی سے منور کر دیا۔ان کے بارے ایک مشہور واقعہ ہے کہ جب وہ 10 برس کے تھے،تو ایک بزرگ عالم دین نے ان کے قرآن مجید حفظ کرنے کے شوق کو دیکھ کر کہا مجھے لگ رہا ہے ”یہ لڑکا اگرچہ نابینا ہے مگر اللہ تعالی نے اس کے دل میں ایسا نور رکھا ہے، جو آنکھوں والوں کو بھی نصیب نہیں“۔

    شیخ رحمہ اللہ نہایت عاجزی انکساری والے انسان تھے۔ وہ اپنے شاگردوں، مہمانوں، حتیٰ کہ خدام سے بھی محبت و نرمی سے پیش آتے۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کی فلاح کے لیے فکر مند رہتے، ان کے والد اور دادا بھی دین کے خادمین میں شمار ہوتے تھے۔ جنہوں نے ان کی ابتدائی تربیت میں بہت اہم کردار ادا کیا۔شیخ رحمہ اللہ نے امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی سعودی عرب میں تعلیم حاصل کی اور پھر وہیں تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہو گئے۔ خطبہ حج کا فریضہ کئی سالوں تک ان کے سپرد رہا، جسے وہ احسن طریقہ سے ادا کرتے رہے۔ ان کی گفتگو میں وقار، دلیل اور اخلاق کا امتزاج نمایاں ہوتا تھا، جو ہر سننے والے کوبہت متاثر کرتا۔وہ علم کو عبادت اور فتوی کو امانت سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی رائے کو صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا اور سنا جاتا تھا۔
    کہتے ہیں ایک مرتبہ ایک نوجوان نے ان سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی۔ شیخ نے اس کو دعا کے ساتھ مختصر جواب میں فرمایااللہ تعالی تمہیں دین کی خدمت کے لیے چنے گا، دل کو ہمیشہ صاف رکھنا۔ کئی سالوں بعد وہی نوجوان ایک معروف عالم دین بن کر ان کے قدموں میں آ بیٹھا اور کہنے لگاشیخ! آپ کی دعا اور تعبیر نے میری زندگی بدل دی ہے۔
    شیخ رحمہ اللہ انتہائی مصروف شخصیت ہونے کے باوجود نماز کو کبھی مؤخر نہیں کرتے تھے۔ ان کے خادموں کا کہنا ہے کہ وہ نماز کے لیے ہر حال میں فوراً کھڑے ہو جاتے، چاہے کتنی ہی اہم میٹنگ یا مہمان موجود ہوتے۔ان کی تلاوت قرآن اور قیام اللیل میں اتنی رقت ہوتی کہ بعض اوقات لوگوں کو ان کے رونے کی آواز مسجد کے باہر تک سنائی دیتی تھی۔

    شیخ رحمہ اللہ اتفاق و اتحاد کے عظیم داعی تھے۔موجودہ دور کی سب سے بڑی آزمائش فرقہ واریت، تعصب اور فکری انتشار ہے۔ ایسے میں انھوں نے ہمیشہ امت کو جوڑنے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا”اختلاف رائے فطری ہے، لیکن دلوں کا فاصلہ شیطانی ہے“۔بین المذاہب مکالمہ ہو یا عالمی اسلامی کانفرنس، انہوں نے ہمیشہ عدل، رواداری اور توحید کو مرکز خطاب بنایا۔

    شیخ رحمہ اللہ کے آخری ایام سادگی، عبادت اور خاموشی میں گزرے۔ ان کی صحت کچھ عرصے سے ناساز تھی، مگر کبھی شکوہ زبان پر نہ آیا۔23 ستمبر 2025ء کو سعودی عرب ریاض شہر میں ان کا انتقال ہوا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ان کی نماز جنازہ مسجد امام ترکی بن عبداللہ میں ادا کی گئی۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور دنیا بھر کی بڑی مساجد میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا اثر و رسوخ صرف ایک ملک تک محدود نہ تھا۔

    شیخ عبد العزیز آل الشیخ رحمہ اللہ کی وفات بلاشبہ ملت اسلامیہ کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔وہ چلے گئے، مگر ان کا فہم باقی ہے۔وہ خاموش ہو گئے، مگر ان کی آواز باقی ہے۔وہ مٹی میں جا سوئے، مگر دلوں میں زندہ ہیں،جو ہمیشہ ان کے لیے صدقہ جاریہ رہے گا۔ ان شاء اللہ۔ اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی حسنات و خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے چھوڑے ہوۓ علمی ورثہ کو امت کے لیے فاٸدہ مند بنا دے۔آمین یارب العالمین

  • کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    گرمیوں کی چھٹیاں ہمیشہ کسی نہ کسی سیر و تفریح کے بہانے گزر جاتی تھیں۔ اس بار بھی حسبِ روایت منصوبہ بندی جاری تھی کہ اچانک ابو کے ایک رشتہ دار کی کال آ گئی۔ ان کا گھر فیصل آباد کے قریب کنجوانی نامی گاؤں میں تھا اور وہ ہمیں دعوت دے رہے تھے۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ہم کسی ایسے خاندان سے ملنے جا رہے تھے جنہیں پہلے کبھی دیکھا یا سنا بھی نہ تھا، اس لیے سب ہی پرجوش تھے۔

    جمعرات کی دوپہر ہم سامان باندھ کر نکلے۔ سرگودھا سے فیصل آباد تک کا دو گھنٹے کا سفر تو جلد کٹ گیا، مگر کنجوانی تک پہنچتے پہنچتے مزید تین گھنٹے لگ گئے۔ بھوک کے مارے سب نڈھال تھے کیونکہ ہم یہ سوچ کر نکلے تھے کہ کھانا وہاں جا کر کھائیں گے۔

    جب گاڑی گاؤں میں داخل ہوئی تو کیچڑ، گوبر اور تنگ گلیاں دیکھ کر دل کچھ بوجھل سا ہو گیا۔ بہن کی اونچی ہیلز اور ہمارا شہروں والا انداز اس ماحول میں بالکل اجنبی لگ رہا تھا۔ مگر جیسے ہی گھر پہنچے تو دروازے پر کھڑے میزبانوں کے خوش اخلاق استقبال نے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔

    گھر دیہاتی طرز کا مگر کشادہ تھا۔ کھلا صحن، لکڑیوں کا چولہا، بیٹھک، کچن اور کمرے سب کچھ ترتیب سے بنا ہوا تھا۔ مکھیاں بےشک بہت تھیں لیکن میزبانوں کی مسکراہٹ نے ساری کوفت کم کر دی۔سب سے پہلے آم کا ملک شیک ملا، پھر تھوڑی دیر بعد تازہ پھل اور اسنیکس۔ ان کے اپنے کھیتوں کی خوبانی اتنی میٹھی تھی کہ شاید ہی زندگی میں کبھی کھائی ہو۔ کچھ ہی دیر بعد بھرپور رات کا کھانا لگا۔مٹن کڑاہی، آلو قیمہ، چکن پلاؤ، رائتہ، سلاد اور میٹھے میں رس ملائی۔ کھانے کے بعد چھت پر گئے تو غروبِ آفتاب اور ہلکی بارش نے منظر اور بھی دلکش بنا دیا۔ شہروں میں ایسے نظارے شاذ ہی نصیب ہوتے ہیں۔اگلی صبح فجر کے وقت ٹھنڈی ہوا اور پرندوں کی آوازیں دل کو سکون بخش رہی تھیں۔ ناشتہ اور بھی شاندار تھا۔تازہ پراٹھے، تندوری نان، حلیم، سبزیاں، اچار، دہی اور لسی۔ شہروں میں جہاں ٹوسٹ اور چائے پر گزارا ہوتا ہے، وہاں کا خالص دیسی ناشتہ لاجواب تھا۔ناشتے کے بعد ہم کھیتوں کی طرف نکلے۔ بارش سے زمین گیلی تھی مگر ہوا خوشگوار تھی۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ان کا احاطہ آیا جہاں سولر پر چلنے والا ٹیوب ویل دیکھ کر حیرت ہوئی۔ سب نے کپڑے بدلے اور پانی میں نہانے کا فیصلہ کیا۔

    شروع میں ڈر لگا، لیکن جیسے ہی پانی میں اترا تو لگا کہ ساری تھکن اور الجھنیں بہہ گئی ہیں۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار تجربہ تھا۔ دیہات کے ایک چھوٹے سے ٹیوب ویل نے وہ سکون دیا جو بڑے بڑے شہروں کی آسائشیں بھی نہ دے سکیں۔

    کھیتوں میں کپاس چنتی عورتیں، ہنستے مسکراتے چہرے اور ہر گھر میں ملنے والی سچی مسکراہٹ،یہ سب کچھ ہمارے لیے نیا مگر بہت خوبصورت تجربہ تھا۔ گاؤں کے لوگ کم وسائل کے باوجود جتنے خوش مزاج اور مخلص ہیں، شہروں میں ویسی خلوص بھری مسکراہٹ شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔دوپہر کو چنا چاٹ اور فرائی فش کے بعد ہم نے سرگودھا واپسی کی تیاری کی۔ سفر اگرچہ مختصر تھا مگر یادیں بہت گہری چھوڑ گیا۔

    اس سفر نے ایک بات سچ کر دکھائی جسے ہمیشہ کتابوں میں پڑھا تھا:
    گاؤں جیسا سکون، شہروں میں کہاں!

  • اینٹی انکروچمنٹ مہم اور PERA کی ناکامی سوالیہ نشانیہ؟تحریر:ملک سلمان

    اینٹی انکروچمنٹ مہم اور PERA کی ناکامی سوالیہ نشانیہ؟تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلیٰ پنجاب کی اینٹی انکروچمنٹ مہم کو ہر مکتبہ فکر اور سول سوسائٹی کی طرف سے بہت زیادہ سراہا گیا۔ ماضی کی حکومتوں کے برعکس سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اٹھایا اس کیلئے پنجاب کے ہر فرد نے دل کھول کر وزیراعلیٰ کے اس اقدام کی تعریف کی لیکن پھر وہی ہوا چند دن بعد بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین نے اس مشن کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا۔

    بیشتر شہروں میں ایک دفعہ کے فوٹو سیشن کے بعد تجاوزات پھر سے واپس آچکی ہیں۔ لاہور میں 10فیصد سے بھی کم جبکہ پنجاب بھر میں بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہوسکا ہے۔ بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین جس قدر کرپٹ اور قانون شکن ہوچکے تھے ان سے بیس فیصد تجاوزات کا خاتمہ کروا لینا بھی وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا مشن امپاسبل کو پاسیبل کرنے کے مترادف ہے۔

    صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے ٹریفک وارڈن، اسسٹنٹ کمشنرز، میونسپل کارپوریشن اور ایل ڈی اے نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ لاہور میں تجاوزات کے خاتمے میں ناکامی کی سب سے بڑی وجہ اختیارات کی جنگ ہے ایم سی ایل، اسسٹنٹ کمشنر، ایل ڈی اے ہر کوئی اختیارات تو چاہتا ہے لیکن تجاوزات ختم کرنے کیلئے نہیں بلکہ تجاوزات کو ہٹانے میں تاخیری حربے اپنانے کیلئے، خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جارہی۔ یہی وجوہات ہیں کہ وزیراعلیٰ اور بورڈ آف ریونیو دونوں کے ”کے پی آئی“ میں لاہور مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔ کبھی یہ دور تھا کہ لاہور کی سیاحت غیر ملکیوں کی توجہ کا مرکز ہوتی تھی اور مشہور تھا کہ جنے لاہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں۔ اب یہ صورت حال ہے کہ تاریخی عمارات کا حامل لاہور اپنی شناخت کھو چکا اور صرف یہی پہچان باقی رہ گئی کہ بے ہنگم ٹریفک اور تجاوزات۔

    صرف ضلع لاہور میں پانچ ہزار ارب سے زائد مالیت کی سرکاری زمینوں پر پرائیویٹ مافیا کے قبضے ہیں۔لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کرماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے جس میں ضلعی انتظامی افسران، ایل ڈی اے، لوکل گورنمنٹ اور دیگر محکموں کے افسران اور اہلکار برابری کی بنیاد پر بینفشریز ہیں جبکہ ٹریفک پولیس بنانمبر پلیٹ رکشوں پبلک ٹرانسپورٹ اور غیر قانونی پارکنگ سے پندرہ سو کروڑ ماہانہ اکٹھا کرتی ہے۔

    تجاوزات کے مستقل خاتمے کیلئے PERAسپیشل فورس بھی بنائی گئی۔ لاہور میں پیرا کے ایک آفیسر نے بتایا کو اس نے ناجائز تعمیرات کے خلاف کاروائی کیلئے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کو کہا کہ سر مجھے سرکاری ڈیمارکیشن نکال دیں تاکہ کاروائی کر سکیں تو اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ یہاں کچھ ٹھیک نہیں ہونے والا تم بھی اتنا جذباتی نہ ہوا کرو، سی ایم کو خوش کرنے کیلئے ریڑی والوں کے خلاف عارضی کاروائی کا فوٹو سیشن شئیر کردیا کرو باقی سکون سے اپنا خرچہ اکٹھا کرو۔ یہی وجوہات ہیں کہ لاہور میں اکثر علاقوں میں 10فیصد تجاوزات ختم کروائی گئیں جبکہ چالیس فیصد نئی تجاوزات کی تعمیرات ہوچکی ہیں۔

    پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے نئے نویلے بچے صرف ڈالا گردی اور فوٹو سیشن کرتے نظر آتے ہیں اگر تجاوزات ہٹانے کیلئے شکایت کریں تو پیرا والے کہتے ہیں کہ ہم اسسٹنٹ کمشنر کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، اسسٹنٹ کمشنر کہتا ہے کہ میونسپل کارپوریشن والوں کو شکایت کریں ایم سی ایل والے کہتے ہیں کہ ایل ڈی اے کا ایریا ہے جبکہ ایل ڈی اے والے کہتے ہیں کہ پیرا کو کہیں۔ عوام کو ”رولر کوسٹر” کی طرح ایک دفتر سے دوسرے دفتر کا راستہ بتا کر خود ایک ایک ریڑی اور غیر قانونی قابضین سے بھتہ لینے کیلئے سب پہنچے ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے افسران ڈرامہ کرکے تجاوزات کے خاتمہ کی بجائے سرپرستی کرکے مال کھانے پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔ ایسی ہی صورت حال دیگر شہروں میں ہے جہاں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔
    تجاوزات کی کمائی کھانے والے سرکاری ملازم پورا زور لگا رہے ہیں کہ انکی حرام کمائی کا ذریعہ بند نہ ہو۔ تجاوزات مافیا کے ساتھ ساتھ تجاوزات کی سرپرستی کرنے افسران کے خلاف قانونی کاروائی بھی ناگزیر ہے۔ تجاوزات لگانے اور لگوانے والے دونوں کو جیل بھیجا جائے۔

    عارضی اور پختہ تعمیرات کی طرح غیر قانونی پارکنگ بھی سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے۔ لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز اور رپئیرنگ ورکشاپ، حتیٰ کہ سیمنٹ، بجری، اینٹوں اور دیگر کنسٹرکشن کا سامان بھی سرکاری سڑک پر رکھ کر بیچا جا رہا ہے۔ ٹریفک پولیس غیرقانونی پارکنگ سٹینڈ کی سرپرستی کرتی ہے چاہے عوام راستوں کے بندش سے خوار ہوجائے ٹریفک پولیس کو اپنی ریگولر کمائی کے سوا کسی سے کوئی غرض نہیں۔ رکشے اور ریڑیاں بیچ سڑک راستہ روکے کاروبار کر رہے ہیں اور انکو قانون کا ذرا ڈر نہیں کیونکہ انکو پتا ہے کہ قانون کی قیمت وہ سرکاری ملازمین کو نقد دیتے ہیں۔ چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگاکر گلیاں بند کی ہوئی ہیں۔گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی گرین بیلٹ اور گارڈ روم کے نام پر 10فٹ تک قبضہ عام روٹین ہے۔ غیر قانونی گرین بیلٹ،گارڈ روم، گلیوں بازاروں میں پتھر رکھ کر ڈیرے اور کاروباری بورڈ لگا کر سڑک پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کاروائی ہونی چاہئے۔تجاوزات کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ صرف ایک دفعہ کے فوٹو سیشن تک محدود نہ رہا جائے بلکہ اس کا فالو اپ بھی لیں۔

    (پیرا) PERA اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے اگر "وزیراعلیٰ عوامی فیڈ بیک سیل” بنایا جائے جہاں سرکاری ملازمین کی طرف سے تجاوزات مافیا کا ساتھ دینے کی شکایات ڈائریکٹ سی ایم کو کرسکیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • کاش دل روشن ہوتے،تحریر: گل شیر ملک

    کاش دل روشن ہوتے،تحریر: گل شیر ملک

    کبھی ہمارے بچے ٹاٹ پر بیٹھ کر علم کے دریا پار کرتے تھے۔ نہ اُن کے گرد چمکتے کمروں کی دیواریں تھیں، نہ اُن کے سروں پر اے سی کی ٹھنڈی ہوا، لیکن ان کے دل قرآن و سنت کی روشنی سے منور تھے۔ وہ کچی زمین پر بیٹھ کر بھی کردار کی پختگی میں پہاڑوں جیسے مضبوط تھے۔ ان کے چہروں پر سادگی تھی، آنکھوں میں شرم و حیا، اور ذہن میں علم حاصل کرنے کا خالص جذبہ۔ استاد کا ایک اشارہ ان کے لیے حکم کا درجہ رکھتا تھا، اور ماں باپ کی دعائیں ان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتی تھیں۔ آج ہم ترقی کی اس دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں تعلیم جدید ترین ٹیکنالوجی سے مزین ہے۔ لیپ ٹاپ، پروجیکٹر، وائی فائی، سمارٹ کلاس رومز، اور انگلی کی ایک جنبش پر کھلتی دنیا۔ آج کا بچہ کتاب سے زیادہ سکرین سے جڑا ہے۔ اس کی جیب میں فلیش ڈرائیو ہے، لیکن کردار میں کمزور ہے۔ اس کے پاس معلومات کا انبار ہے، مگر شعور کی روشنی عنقا ہے۔ وہ ہر سوال کا جواب گوگل سے ڈھونڈ لیتا ہے، لیکن دل کے سوالوں کا کوئی جواب اس کے پاس نہیں۔ زبان میں چالاکی ہے، لیکن لہجے میں عاجزی نہیں۔ لباس مہنگا ہے، لیکن نگاہوں میں حیاء نہیں۔ چہرہ تو روشن ہے، لیکن دل ویران ہو چکا ہے۔

    ایبٹ آباد… وہ شہر جسے ایک زمانے میں علم و تہذیب کا گہوارہ کہا جاتا تھا، آج بے حیائی، کنسرٹس اور اخلاقی بگاڑ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ان اداروں سے جہاں کبھی علم کی روشنی پھوٹتی تھی، آج سگریٹ، نسوار اور زہریلے خیالات کا ماحول دکھائی دیتا ہے ۔ تعلیمی ادارے جو کبھی کردار سازی کے مراکز ہوا کرتے تھے، اب محض کاروباری دکانیں بن چکے ہیں، جہاں فیسیں تو لی جاتی ہیں، لیکن تربیت نہیں دی جاتی۔ اساتذہ جو کبھی قوم کے معمار کہلاتے تھے، آج صرف تنخواہ کے محتاج بن چکے ہیں۔ انہیں نصاب ختم کرنے کی فکر ہے، لیکن نسل بچانے کی کوئی پریشانی نہیں۔

    المیہ یہ ہے کہ ہم نے صرف بچوں کو قصوروار ٹھہرا دیا، حالانکہ اس بگاڑ کے مجرم ہم سب ہیں۔ والدین جو بچے کو مہنگا فون تو دے دیتے ہیں، لیکن اس کی نظروں کی سمت نہیں جانتے۔ جو موبائل کا لاک تو کھول لیتے ہیں، لیکن دل کا حال نہیں پڑھتے۔ اساتذہ جو کبھی دلوں پر نقش چھوڑا کرتے تھے، اب صرف بورڈ پر الفاظ لکھنے تک محدود ہو گئے ہیں۔ ادارے جو تعلیم کے نام پر چل رہے ہیں، درحقیقت کاروبار کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اور ہم، وہ معاشرہ، جو ہر برائی کو دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ نہ کسی کو روکتے ہیں، نہ کسی کو سمجھاتے ہیں۔ بس خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یہ خاموشی محض لاپروائی نہیں، بلکہ شراکتِ جرم ہے۔ جب والدین غافل ہوں، اساتذہ بے حس، ادارے بے مقصد، اور معاشرہ بے سمت، تو نسلیں بھٹک جایا کرتی ہیں۔ یہی ہو رہا ہے۔ آج ہمارے بچے فیشن میں آگے، مگر فہم میں پیچھے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سرگرم، مگر زندگی کے حقائق سے نابلد۔ جب تک ہم خود کو نہیں بدلیں گے، تب تک نسلوں کا یہ بگاڑ بڑھتا جائے گا۔ آج اگر ہم نے اصلاح کی راہ اختیار نہ کی، تو کل یہی بچے بے راہ روی، نشے اور بے دینی کے پرچارک بن جائیں گے۔ اور جب یہ وقت آئے گا، تو شکوہ کرنے کا بھی کوئی حق باقی نہیں رہے گا۔ کاش! والدین وقت نکال کر بچوں کی آنکھوں میں جھانکیں، ان کی الجھنیں سمجھیں، ان کے سوالوں کا جواب بنیں۔ کاش! اساتذہ نصاب شروع کرنے سے پہلے دل میں کردار کا سبق اتاریں۔ اور کاش! ہم سب اتنی جرات پیدا کریں کہ برائی کو برائی کہہ سکیں، چاہے وہ ہمارے اپنے ہی گھر کے آنگن میں کیوں نہ ہو۔ اصلاح کا وقت ابھی باقی ہے۔ دیے بجھنے سے پہلے اگر ایک چراغ جلایا جائے، تو اندھیرا ٹالا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو کل یہ تاریکی نسل کو نہیں،معاشرے کو بھی تباہ کردے گی۔

  • طلاق کی بڑھتی ہوئی وجوہات،تحریر: عمر افضل

    طلاق کی بڑھتی ہوئی وجوہات،تحریر: عمر افضل

    معاشرہ خاندان سے بنتا ہے اور خاندان نکاح کے رشتے پر کھڑا ہوتا ہے۔ یہ رشتہ صرف دو افراد کا ساتھ نہیں ،بلکہ نسلوں کی پرورش اور معاشرتی استحکام کا ذریعہ ہے،لیکن آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ رشتہ پہلے جیسا مضبوط نہیں رہا۔ طلاق اور علیحدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات معاشرے کے سکون کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔

    طلاق کے بڑھنے کی سب سے اہم وجہ صبر اور برداشت کی کمی ہے۔ معمولی باتیں جنہیں کبھی نظرانداز کر دیا جاتا تھا، اب بڑے جھگڑوں میں بدل جاتی ہیں۔ انا اور ضد کے باعث میاں بیوی بات کرنے اور مسئلہ حل کرنے کے بجائے علیحدگی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس رویے نے رشتوں کو کمزور اور گھروں کو غیر محفوظ کر دیا ہے۔

    والدین اور رشتہ داروں کی غیر ضروری مداخلت بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتی ہے۔ شادی کے آغاز پر ہی بیٹی کو کہا جاتا ہے کہ کسی بات پر سمجھوتا نہ کرنا اور ہر مسئلہ ہمیں بتانا، جبکہ بیٹے کو نصیحت کی جاتی ہے کہ ہر بات نہ ماننا ورنہ وقار ختم ہو جائے گا۔ یوں نئی زندگی کی بنیاد ہی اختلاف اور بے اعتمادی پر رکھ دی جاتی ہے۔ ایسے رویے رشتے کو جوڑنے کے بجائے توڑنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔معاشی دباؤ بھی کم اہم نہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور وسائل کی کمی نے گھروں کو سکون سے محروم کر دیا ہے۔ بعض اوقات اگر بیوی زیادہ کماتی ہے تو شوہر میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے اعتماد کی جگہ مقابلہ بازی اور محبت کی جگہ شکوے لے لیتے ہیں۔

    میڈیا اور سوشل میڈیا بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈرامے اور فلمیں ایک خیالی دنیا دکھاتی ہیں، جہاں سب کچھ حسین لگتا ہے۔ جب حقیقت سامنے آتی ہے تو نوجوان ناامیدی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چھوٹے اختلافات کو حل کرنے کے بجائے فوری علیحدگی کو ہی آسان راستہ سمجھا جاتا ہے۔اخلاقی کمزوری بھی اہم سبب ہے۔ جب ایک دوسرے کے حقوق نظرانداز ہوں، عزت اور اعتماد ختم ہو جائے اور ہر وقت اپنی انا کو ترجیح دی جائے تو رشتہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ معمولی مسائل کو بڑا بنانے کی عادت رشتے کو برباد کر دیتی ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو ہوتا ہے جو ٹوٹے ہوئے گھر کے اثرات سہتے ہیں۔

    یہ مسئلہ صرف قانون یا عدالتوں سے حل نہیں ہو سکتا۔ اصل ضرورت شعور کی بیداری ہے۔ اگر میاں بیوی برداشت، ایثار اور قربانی کو اپنا لیں اور والدین مداخلت کے بجائے تعاون کی راہ دکھائیں تو گھروں میں سکون واپس آ سکتا ہے۔ معاشرے کو بھی ایسے رجحانات کو فروغ دینا ہوگا جو رشتوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنیں نہ کہ توڑنے کا۔اگر آج ہم نے اپنی سوچ اور رویے نہ بدلے تو آنے والی نسلیں محبت اور اعتماد کے بجائے تنہائی اور ویرانی کا سامنا کریں گی۔ یہی وقت ہے کہ ہم خاندانی نظام کو بچانے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کریں۔

  • طاقت کے یہ کھیل کب تک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    طاقت کے یہ کھیل کب تک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی طاقتوں کی کشمکش اور باہمی رسہ کشی کے بیچ سب سے زیادہ دباؤ اور نقصان عام آدمی ہی برداشت کرتا ہے۔ طاقتور ملک اپنی معیشتیں،دفاعی حکمت عملی اور سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلے میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن اس دوڑ میں عام شہریوں کی زندگیاں، ان کے وسائل اور ان کا مستقبل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ چاہے وہ مہنگائی ہو، بے روزگاری ہو، مہاجرین کا بحران ہو، یا جنگوں کے نتیجے میں تباہ حال زندگیاں، ہمیشہ قیمت وہی لوگ ادا کرتے ہیں جن کے پاس نہ طاقت ہوتی ہے، نہ وسائل۔ایک طرف بڑی ریاستیں اپنے مفادات کے لیے ترقی، سلامتی اور آزادی کے نعرے لگاتی ہیں مگر حقیقت میں ان ہی فیصلوں کے بوجھ تلے غریب اور کمزور طبقات کچلے جاتے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ عالمی سیاست شطرنج کی بساط کی طرح ہے جس پر بڑے کھلاڑی اپنے مہرے آگے بڑھاتے ہیں۔ مگر وہ مہرے دراصل کروڑوں عام انسانوں کی زندگیاں ہیں جو طاقت کے کھیل میں قربانی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ دنیا کی سیاست آج بھی طاقت کے ایوانوں میں اسی طرح شور مچا رہی ہے جیسے صدیوں پہلے تھی۔ طاقتور ممالک اپنی معیشت، اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے زور پر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگے ہیں۔ ان کے اجلاس، ان کے بیانیے اور ان کے فیصلے دنیا کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ لیکن ان تمام شور و غوغا کے بیچ ایک سوال دب جاتا ہے۔ ان سب کا خمیازہ کون بھگتتا ہے؟

    سچ پوچھیے تو وہی عام انسان جو اپنے چھوٹے سے گھر میں بچوں کے لیے روٹی کا انتظام کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ وہی کسان، وہی مزدور جو دن بھر پسینہ بہا کر شام کو تھکے ہارے گھر لوٹتا ہے۔ عالمی طاقتوں کے فیصلے جب مہنگائی، جنگ یا معاشی بحران میں ڈھلتے ہیں تو سب سے پہلے انہی کے چولہے بجھتے ہیں۔ طاقت کے یہ بڑے کھیل عام آدمی کی زندگی کو یوں کچل دیتے ہیں جیسے پہاڑ کسی ننھی کلی کو روند دے۔ بڑے بڑے ملک اپنے قومی مفاد کے نام پر معاہدے کرتے ہیں، جنگیں چھیڑتے ہیں، ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے ہیں مگر یہ سب کرتے وقت کوئی نہیں سوچتا کہ ان کے جھگڑوں کی زد میں آنے والے بے قصور انسانوں کا کیا ہوگا؟ کون ان کے بچوں کے آنسو پونچھے گا؟ کون ان کے خوابوں کو بچائے گا؟ دنیا کی تاریخ گواہ ہے جب بھی طاقتوروں نے اپنے مفاد کے لیے فیصلے کیے سب سے زیادہ خون عام انسان کا بہا۔ کبھی وہ مہاجرین بن کر سرحدوں پر ٹھوکر کھاتا ہے، کبھی وہ بیمار ہو کر دوائی کو ترستا ہے، کبھی وہ بے روزگار ہو کر بھوک سے لڑتا ہے،

    آج کا عام آدمی طاقت کے اس کھیل کا سب سے کمزور مہرہ ہے۔ ملک جب چاہیں اسے آگ میں جھونک دیتے ہیں، جب چاہیں اسے قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں، وقت آگیا ہے کہ دنیا سوچے طاقت کے یہ کھیل کب تک؟ کب تک یہ عام انسان پسے گا؟ کب تک وہی بھاری قیمت ادا کرے گا جس نے نہ جنگ چھیڑی نہ معاہدہ کیا نہ فیصلہ؟ زمین پر سب سے قیمتی شے قیمت نہیں انسان کی زندگی ہے لیکن افسوس طاقت کے ایوان یہ سچ کب سمجھیں گے؟
    بقول شاعر:
    سلطنتیں لڑتی رہیں اپنی جیت کے لیے
    مگر ہر بار عام انسان ہی مٹ گیا

  • پاک بحریہ دفاع سمندر کی ناقابل تسخیر قوت،تحریر:رقیہ غزل

    پاک بحریہ دفاع سمندر کی ناقابل تسخیر قوت،تحریر:رقیہ غزل

    8ستمبر کا دن پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دن ہمیں 1965ء کی جنگ میں پاک بحریہ کی جرات، حوصلے اور بے مثال پیشہ ورانہ مہارت کی یاد دلاتا ہے۔ جب پاک بحریہ نے دشمن کے دل میں ایسا خوف بٹھایا کہ وہ آج تک سمندر میں مکمل آزادی سے حرکت کرنے کی جرات نہیں کر سکا۔ دوارکا پر کیا گیا دلیرانہ حملہ ہو یا آبدوز ”غازی” کی خاموش مگر ہلاکت خیز موجودگی، ہر لمحہ اس قوم کے بیٹوں کی قربانی، مہارت اور بہادری کی ایک نئی داستان رقم کرتا ہے۔ یہی جذبہ، یہی ولولہ آج بھی پاک بحریہ کے ہر افسر اور جوان کے دل میں زندہ ہے۔ ایک ایسا عزم جو وقت کی کسوٹی پر مزید نکھر چکا ہے اور ایک ایسا وعدہ جو ہر چیلنج کے سامنے سینہ سپر ہے۔ آج پاکستان نیوی محض ایک عسکری قوت نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، خود مختاری اور پیشہ ورانہ برتری سے آراستہ ایک ایسی قابلِ فخر بحری طاقت بن چکی ہے جس کی گونج نہ صرف بحیرہ عرب کی وسعتوں میں بلکہ عالمی بحری افق پر بھی سنائی دیتی ہے۔

    جب 1965ء میں جنگ کا آغاز ہوا تو پاک بحریہ ایک نوآموز قوت تھی مگر اس نے محدود وسائل کے باوجود دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔ آبدوز ”غازی” نے بھارتی نیوی کو بحر ہند میں بند کر دیا، حتیٰ کہ بھارت نے اپنا طیارہ بردار جہاز ”وکرانت” سات سو کلومیٹر دور چھپا دیا۔ 8 ستمبر کو دوارکا پر حملہ ایک ناقابلِ یقین مگر مکمل طور پر کامیاب آپریشن تھا جس نے دشمن کی بحریہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ آج بھی یہ آپریشن دنیا کی بہترین بحری کارروائیوں میں شمار کیا جاتا ہے یہ معرکہ نہ صرف پاک بحریہ کی مہارت بلکہ دشمن پر اس کے خوف کی بھی علامت بن چکا ہے۔اسی شاندار روایت کو زندہ رکھنے کے لیے پاک بحریہ نے ہر دور میں نہ صرف اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا بلکہ سمندری دفاع کے نظریے کو وسعت دی۔ جدید جہازوں، آبدوزوں، میزائل سسٹمز، میری ٹائم نگرانی کے آلات اور فضائی صلاحیتوں سے لیس پاک بحریہ نہ صرف پاکستان کے ساحلوں کی محافظ ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک اہم میری ٹائم فورس کے طور پر تسلیم کی جا چکی ہے۔حال ہی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں بھارتی جارحیت کیخلاف افواج پاکستان کا آپریشن ”بنیان مرصوص” بھی پاک بحریہ کی جنگی تیاریوں اور چابکدستی کا ایک اور شاہکار ہے۔ اس آپریشن کے دوران نہ صرف دشمن کی سمندری جارحیت کو بروقت ناکام بنایا گیا بلکہ اس کے عزائم کو اتنی کاری ضرب لگی کہ وہ کھل کر سامنے آنے کی ہمت ہی نہ کر سکا۔ پاک بحریہ کے جنگی جہازوں اور فضائی یونٹس نے بھارتی بحریہ کی خفیہ نقل و حرکت کو بروقت پہچانا اور اس کے خلاف دفاعی پوزیشن سنبھالی۔ دشمن ہماری مشقوں کی خفیہ نگرانی کرتا رہا، مگر پاک بحریہ کی الرٹنیس نے اس کی ہر چال کو ناکام بنا دیا۔ یہ آپریشن اس امر کی واضح دلیل ہے کہ پاک بحریہ ہر ممکن چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ چاہے وہ روایتی جنگ ہو، ہائبرڈ وار ہو یا میری ٹائم اسٹریٹیجک تھریٹس، پاکستان نیوی ہر محاذ پر اپنی موجودگی اور برتری منوا چکی ہے۔ بلکہ ہر سال بحری امن مشقوں کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو دشمن کو بحری راستوں میں بھی کہیں پناہ نہیں ملے گی۔

    پاکستان نیوی نہ صرف دشمن پر عسکری میدان میں بھاری ہے بلکہ انسنایت کے محاذ پر بھی سب سے آگے ہے۔ دشمن، جو ہر بین الاقوامی فورم پر پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا، وہ بھارت جو سرحدوں پر اشتعال انگیزی، آبی جارحیت، مقبوضہ کشمیر میں ظلم، اور جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف رہتا ہے — اسی بھارت کے زخمی شہری کو جب سمندر کی بے رحم لہروں میں زندگی اور موت کی کشمکش کا سامنا تھا، تو مدد کے لیے جس ہاتھ نے اسے تھاما، وہ پاک بحریہ کا تھا۔ ایک ایسا لمحہ جہاں دشمنی نہیں، انسانیت جیت گئی۔ لائبیریا کے آئل ٹینکر سے موصول ہونے والی ہنگامی درخواست پر پاک بحریہ نے جس سرعت، مہارت اور خلوص کے ساتھ بھارتی عملے کے زخمی رکن کو ریسکیو کیا اور کراچی منتقل کر کے بروقت طبی امداد فراہم کی، وہ نہ صرف بحری پیشہ ورانہ اخلاقیات کا منہ بولتا ثبوت ہے یقینا یہ وہ برتری ہے جو صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ ظرف، جذبے اور کردار سے حاصل ہوتی ہے۔ بھارت کے بے بنیاد الزامات کے بعد پاکستان نیوی کے اس عمل کو دیکھ کر دنیا کہہ اٹھی کہ پاکستان نیوی نہ صرف سرحدوں کی محافظ ہے بلکہ دلوں کی فاتح بھی ہے۔اب پاکستان نیوی کی صلاحیتوں کا اعتراف دشمن بھی کر نے پر مجبور ہو چکا ہے۔حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارت کو جب عبرتناک شکست کا سامنا ہوا اور اپنے عوام کے سامنے بری، بحری اور فضائی ہر محاذ پر شرمندگی اٹھانا پڑی تو بھارتی نیول چیف نے پاکستان بحریہ کی ”حیرت انگیز ترقی“ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے جدید جنگی جہازوں، زیرِ تعمیر آبدوزوں اور تیز رفتار دفاعی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کیا اور برملا اعتراف کیا کہ ہم اپنی پوری حکمت عملی ازسرنو ترتیب دے رہے ہیں۔ یہ گھبراہٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن جان چکا ہے کہ وہ خود ”کتنے پانی میں ہے”۔یقیناً، پاک بحریہ ایک قابلِ فخر قومی قوت ہے جو نہ صرف بحیرہ عرب بلکہ دنیا کے دیگر بحری خطوں میں بھی پاکستان کے وقار اور سلامتی کی محافظ بنی ہوئی ہے۔

    پاکستان نیوی کا کردار صرف جنگی محاذ تک محدود نہیں۔ میری ٹائم سیکیورٹی کے میدان میں بھی پاکستان بحریہ نے وہ خدمات انجام دی ہیں جنہیں عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ چاہے وہ قزاقی کے خلاف مشن ہوں، اقوامِ متحدہ کے امن مشن ہوں یا خطے میں سمندری تجارت کی حفاظت، پاکستان نیوی نے ہمیشہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ پاک بحریہ کی ”امن مشقیں ” دنیا کے مختلف اسٹریٹیجک سوچ رکھنے والے ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لاتی ہیں جوکہ دفاعی لحاظ سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاک بحریہ کی موجودہ قیادت —چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کی سربراہی میں نہ صرف عسکری میدان میں اصلاحات لا رہی ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی، سائبر ڈیفنس، اور نیول انٹیلیجنس جیسے شعبوں کو بھی وسعت دی جا رہی ہے ایئر وار کالج کراچی کے دورے کے دوران نیول چیف نے جدید عسکری تربیت اور ٹیکنالوجی کو مستقبل کی جنگوں میں کامیابی کی بنیاد قرار دیا اور بتایا کہ سطح آب، زیرِ آب اور فضائی شعبوں میں بحریہ کی جنگی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، انہوں نے پاک فضائیہ کی پیش رفت کو بھی سراہا، جس نے خطے میں دفاعی توازن کو نئی جہت دی ہے۔ نیول چیف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان نیوی دشمن کے ہر حملے کو سیسہ پلائی دیوار کی طرح روکنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کی قیادت میں ”امن مشقیں ” محض دفاعی تیاریاں نہیں بلکہ دنیا کو یہ پیغام ہیں کہ ہم ایک ذمہ دار اور پرامن ریاست ہیں، مگر اپنی سالمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے کہ اگر کوئی جارحیت کا سوچے گا، تو اسے سمندر کی گہرائیوں میں دفن کر دیا جائے گا۔

    آج دنیا تیزی سے بلیو اکانومی کی طرف بڑھ رہی ہے، اور پاکستان جیسے جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک کے لیے سمندر میں استحکام اور تجارت کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاک بحریہ نے نہ صرف عسکری بلکہ معاشی سیکیورٹی کے لیے بھی مربوط اقدامات کیے ہیں۔ قومی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی کے استعمال، بندرگاہی تحفظ، اور میری ٹائم ٹریڈ روٹس کی سیکیورٹی میں پاکستان نیوی کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ اب لمبی مسافتوں کا سفر منٹوں میں طے ہو رہا ہے، اور پانیوں پر قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کی نئی داستان لکھی جا رہی ہے۔ پاکستان بحریہ کی کہانی صرف توپوں، جہازوں اور آبدوزوں کی نہیں، بلکہ یہ قربانی، ہمت، جذبے اور غیر متزلزل حب الوطنی کی کہانی ہے۔ یہ وہ فورس ہے جس نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا، سمندر کی گہرائیوں میں مادرِ وطن کے دفاع کی ایسی دیوار کھڑی کی جسے عبور کرنا دشمن کے لیے ایک خواب ہی رہے گا۔ 8 ستمبر کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اگر آج ہم پرامن فضا میں سانس لے رہے ہیں تو اس کے پیچھے پاک بحریہ سمیت تمام مسلح افواج کی قربانیاں ہیں۔ پاکستان نیوی آج بھی اپنی شاندار روایات کے ساتھ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر ہر خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ دشمن جتنا بھی طاقتور ہو، جب جذبہ ایمانی، حب الوطنی اور پیشہ ورانہ مہارت سے لیس جوان سمندر کی حفاظت پر مامور ہوں تو سمندر بھی ان کے لیے سر نگوں ہو جاتا ہے۔