Baaghi TV

Author: باغی بلاگز

  • سعودی عرب کا قومی دن  ہرچمِ اسلام کی سربلندی کا دن ،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی عرب کا قومی دن ہرچمِ اسلام کی سربلندی کا دن ،تحریر: ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    اے اہلِ ایمان! آج کا دن صرف ایک قومی جشن نہیں، بلکہ یہ وہ لمحہ فخرو افتخار ہے جب امتِ مسلمہ نے ایک نئی صبح دیکھی وہ صبح جس کے پہلے چراغِ سفر کو شاہِ صالح، شیرِ صحرا، شاہ عبدالعزیز بن عبد الرحمن آل سعود نے روشن کیا۔ یہ سرزمین صرف ریت اور چٹانیں نہیں، یہاں ہر ذرے میں کعبہ کی خوشبو، ہر نسیم میں اذان کی صدا بسی ہوئی ہے۔ اس لیے مملکتِ سعودی عرب کا قومی دن دراصل ہر مسلمان کے دل کا دن ہے؛ یہ دن ہے توحید کی دعوت، خدمتِ حرمین کی قسم اور امتِ مسلمہ کی تجدیدِ عہد کا۔
    1902ء جسے تاریخ میں ایک سنہری سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے، اسی سال شاہ عبدالعزیز نے ریاض کو فتح کر کے نہ صرف ایک شہر بلکہ ایک قوم کو بیدار کیا۔ اس فتح میں جذبہ و حوصلہ اور ولولہ تھا، مگر اس سے زیادہ ایمان کی روشنی اور حرارت تھی ۔ایک بصیرت جس نے خانہ بدوش قبیلوں کو ایک امت میں ڈھالا۔ صحرا کے شیر اور مرد ِ صالح شاہ عبدالعزیز کے دورِ حکومت میں نجد، الاحساء ، قطیف، مکہ و مدینہ سمیت دیگر علاقوں کو ایک پرچم تلے لا کر جدید سعودی سلطنت کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ وہ دور تھا جب شاہ عبدالعزیز نے انقلابِ تعمیر کے ساتھ ساتھ دلوں کی تعمیر بھی کی قرآن و سنت کو عوامی زندگی کا مرکز بنایا اور امتِ مسلمہ کے لئے اتحاد و اشتراک کے دروازے کھولے۔
    شاہ عبدالعزیز نے جب اسلامی دنیا کے بڑے رہنماؤں کو 13 تا 19 مئی 1926ء میں اپنے ہاں مدعو کیا تو انہوں نے یہ واضح کر دیا کہ ریاست کا سفر سیاسی یا سیاحتی نہیں بلکہ روحانی و فکری سفر ہوگا۔شاہ عبدالعزیزکی دعوت پر بلائی گئی اس کانفرنس میں ہندوستان سمیت دور دراز کے علما و رہنما شریک ہوئے، جس میں بر صغیر کے جید علمائے اہلحدیث سمیت مولانا محمد علی جوہر جیسی عظمتیں بھی موجود تھیں۔ یہ اجتماع امتِ مسلمہ کے لیے ایک تاریخی نقطۂ عروج تھا ایک صدائے اتحاد جو آج بھی صحرا کی ہوا میں گونجتی محسوس ہوتی ہے۔
    صحرا کے شیر اور مرد ِ صالح شاہ عبدالعزیز نے صرف زمینیں ہی فتح نہیں کیں، بلکہ برائیوں کو بھی جڑ سے اکھاڑنے کی جدوجہد کی۔ انہوں نے شراب و بدعنوانی کے مراکز کو ختم کیا، لوٹ مار اور جرائم وڈاکہ زنی کے خلاف سخت اقدام کیے اور خاص طور پر تعلیم کی بنیاد رکھی۔ 1944ء میں مدینہ منورہ میں قائم ہونے والی جامعہ اسلامیہ نے علومِ اسلامیہ کے فروغ کو نئی جہت دی ایسی جامعہ جس میں عالم اسلام کے طلبہ مفت وظیفوں اور رہائش کے ساتھ علم حاصل کرتے ہیں۔ یہ یونیورسٹی نہ صرف علم کا گہوارہ بنی بلکہ امت کی فکری قوت کا سرچشمہ بھی ہے ۔اس وقت دنیا بھر میں یہ علوم اسلامیہ کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے جس میں پوری دنیا سے تشنگان علوم دینیہ آتے اور علوم سے سیراب اور آراستہ ہوکر اسلام کی تبلیغ واشاعت کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ یونیورسٹی اسلام کے غلبہ واحیاء کی ایک عالمی تحریک ہے ۔
    صحرا کے نیچے تیل کی صورت میں موجود چمکتی نعمت نے سعودی معاشرہ کو بدل ڈالا تیل کی دریافت نے ملک کی تقدیر بدل دی۔ جس معاشی ڈھانچے کا دارومدار کبھی حاجیوں پر عائد ٹیکس تک محدود تھا، وہ جلد ہی عظیم اقتصادی قوت بن گیا۔ تیل کی آمدنی نے نہ صرف انفراسٹرکچر، سڑکیں، پل اور ریلوے لائنیں ممکن بنائیں بلکہ حرمین شریفین کی توسیع، مذہبی و تعلیمی اداروں کی تعمیر اور عالم اسلام میں انسانی خدمات کے پھیلائو کے لیے بے پناہ وسائل فراہم کیے۔ شاہ عبدالعزیز نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک ان وسائل کو عوامی فلاح وبہبود ، حرمین کی خدمت اور قرآن و سنت کی نشر و اشاعت پر خرچ کیا یہی وہ روح ہے جو آج بھی سعودی پالیسیوں میں نظر آتی ہے۔
    شاہ عبدالعزیز کے بعد آنے والے سعودی حکمرانوں نے اسی روش کو آگے بڑھایا۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جدیدیت اور روایات کے درمیان ایک نادر توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور سماجی ترقی پر عظیم منصوبے شروع کیے۔ امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی کی شاخوں کو ملک کے ہر شہر تک پھیلانے جیسے اقدامات نے علمی فروغ کو تیز کیا۔ بیرونِ ملک تعلیم کے لیے بے شمار اسکالرشپس، ضرورت مند شہریوں کے لیے گھروں کا انتظام اور طبی سہولیات تک رسائی یہ سب اس حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جو عوام کے دل جیت رہی ہے۔
    مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی توسیع، زمین دوز راستے، سہولیاتِ طواف اور حجاج و عوام کے لیے جدید انتظامات یہ سب اسی عقیدت ومحبت کی عملی تصویریں ہیں جو سعودی حکمرانوں نے قائم کی ہیں ۔ قرآن مجید کی طباعت واشاعت کیلئے ’’ کنگ فہد ہولی قرآن کمپلیکس ‘‘ اور حدیث پرنٹنگ کمپلیکس جیسی کوششیں دنیا بھر میں قرآن و حدیث کی عام دستیابی کو یقینی بناتی ہیں۔ علم کی یہ دولت جب دنیا کے کونے کونے تک پہنچتی ہے تو یہ مملکت کا حقیقی عہد بنتی ہے ۔ اس سے غیر مسلموں کو اسلام کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوتے ہیں ۔
    پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات تاریخ میں محبت و اعتماد کی مثال ہیں۔ 1951ء کا پہلا باہمی معاہدہ، شاہ فیصل کا پاکستان دورہ، اور شاہ فیصل مسجد کا قیام تعلقات کی قدر و منزلت کے عکاس ہیں۔ 1965ء کی جنگ، 1973ء کے سیلاب یا بعد کے زلزلوں میں سعودی امداد نے ہمیشہ پاکستانی عوام کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئے ہیں ۔ حالیہ سیلاب کے دوران بھی سعودی امدادی سرگرمیوں اور دس لاکھ ڈالر سے زائد کی فوری مدد نے ثابت کیا کہ سعودی عرب نہ صرف جغرافیائی طور پر برادر ہے بلکہ دل و دماغ سے بھی ہمارا حامی ہے۔
    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جہاں سعودی معاشرے کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا، وہیں فلسطین، یمن اور شام کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کو اولین ترجیح دی ہے ۔ خاص کر اس وقت پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جو دفاعی معاہدہ ہوا ہے یہ معاہدہ دراصل امت مسلمہ کے دل کی آواز ہے ۔ اب مسلمان قیادت کا امتحان یہ ہے کہ اس کی قوت صرف داخلی ترقی کے لیے نہ ہو بلکہ عالم اسلام کی فلاح و بہبود کیلئے بھی صرف ہو ۔یہی نقطہ اس قوت کا محور ہو ۔اور یہی جذبہ ہم نے سعودی حکمرانوں میں دیکھا ہے۔
    اے میرے بھائیو! سعودی عرب کا قومی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ایمان، تعمیر اور خدمت کی جو روشنی ہوا کرتی ہے، وہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتی۔ یہ روشنی امتِ مسلمہ کے دلوں کو روشن کرتی ہے۔ شاہ عبدالعزیز کی بصیرت، شاہوں کی تسلسلِ خدمت، حرمین کی نگہبانی اور پاکستان جیسے بھائی ملکوں کے ساتھ خلوصِ تعلق نے سعودی عرب کو محض ایک ریاست نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کا روشن منارہ بنا دیا ہے۔
    آؤ! ہم سب مل کر اس عظیم دن کو خراجِ عقیدت پیش کریں، اور یہ عہد کریں کہ حرمین کی خدمت، امت کی وحدت اور علم و عمل کی ترویج کے اس مقصد کو جاری رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زبانوں اور اعمال سے اس بھائی چارے کو مضبوط رکھیں۔ سعودی بھائیوں کی خوشیوں میں ہمارا دل بھی برابر دھڑکے، اور جب وہ سربلند ہے تو سراپاِ امتِ اسلام بھی فخر محسوس کرتی ہے۔اللہ پاک سعودی عرب کو ترقی و استحکام عطا فرمائے، حرمین کی حفاظت ہو، اور امت مسلمہ کو وہ عزت و عظمت نصیب ہو جس کی وہ حقدار ہے۔ آمین۔

  • خدارا!معصوم بچوں کی چیخیں سنیں ،عالمی طاقتیں جنگیں بند کرائیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خدارا!معصوم بچوں کی چیخیں سنیں ،عالمی طاقتیں جنگیں بند کرائیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    کوئی تو آگے بڑھ کر ظالموں کا ہاتھ روک دے،یہ پھول دنیا کا مستقبل ہیں ،اس طرح روندا نہ جائے
    انسانیت کہاں گئی،غزہ اور یوکرین کسی کو نظر نہیں آرہا،بحران انسانی المیہ بن چکا ،اب تو بول پڑو
    مریم نواز سیلاب متاثرین کی خدمت عبادت سمجھ کر رہی ہیں،پاکستان ایسے حکمرانوں کی ضرورت

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    دنیا کے تمام سربراہانِ حکومت اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان سے اپیل ہے کہ وہ فوراً بلا تاخیر موثر اقدامات کریں تاکہ غزہ، یوکرین اور دنیا کے دیگر ممالک جہاں لاکھوں انسانوں کی جانیں اور روزگار چھین لیا گیا ،وہاں جنگیں بند کرائی جائیں، انسانی ہمدردی بین الاقوامی قانون اور اخلاقی ذمہ داری کی روشنی میں فوری فائر بندی انسانی رسائی اور متاثرین کی حفاظت پر توجہ دی جائے، موجودہ انسانی المیہ روکا جائے تو آنے والی نسلوں کے لئے امید کی کرن پیدا ہو سکتی ہے، جنگیں صرف موجودہ نسل نہیں ، معیشت، صحت عامہ اور بین الاقوامی تعلقات کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں، اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کے ادارے کردار ادا کریں تو وہ اس عالمی بحران کو کم کر سکتے ہیں، غزہ میں شہری ہلاکتیں اور وسیع پیمانے پر بے گھر ہونے کی شدت برقرار ہے،کسی بھی قوم یا دنیا کے طاقتوروں کے پاس سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن اگر وہ بچوں کے آنسو نہ روک سکیں تو ان کی طاقت ادھوری اور بے مقصد ہے،یہ معصوم بچے دنیا کے ہر کونے میں دکھ اور ظلم سہہ رہے ہیں ان کے ننھے ہاتھوں میں خوشیاں دیں ان کی آنکھوں سے آنسو مٹا دیں ان کے دلوں میں خوف کے بجائے سکون اور مسکراہٹیں بھر دیں،عالمی طاقتوروں کی ذمہ داری ہے کہ معصوم روحوں کی حفاظت کریں، کوئی بھی جنگ، اختلاف، طاقت ان بچوں کے دکھ کے برابر نہیں ہو سکتی ان کی معصومیت آج کی دنیا کے طاقتوروں کی انسانیت کا امتحان ہے،خدا کے لئے ان پر رحم کریں آج کے یہ بچے کل کا چراغ ہیں، ان کے آنسو خوشیوں میں بدل دیں، ان کے خوف کو سکون میں بدل دیں، یہ بچے پوری دنیا کا کل ہیں اور یہی پوری دنیا کی امید ہیں،پنجاب میں سیلابی صورتحال اور مریم نواز شریف کے اقدامات ایسے ہیں کہ یہ اقدامات عوام کا اعتماد بڑھاتے ہیں بلکہ قیادت کے عملی اقدامات کو اجاگر کرتے ہیں، سیلاب جیسی قدرتی آفات کے دوران شفافیت ،تیز رفتار امداد اور طویل المدتی بحالی منصوبے ہی اصل کامیابی کا پیمانہ ہوتے ہیں۔،دیکھا جائے تو مریم نواز کی حکومت نے یقینًا بڑے پیمانے پر اقدامات کئے ہیں، مریم نواز شریف کا سیاسی مستقبل پاکستان میں کئی عوامل پر منحصر ہے، ان کی موجودہ مقبولیت پارٹی کی پالیسی قومی سیاسی حالات اور ان کے کردار کی شفافیت و قیادت کی صلاحیت اور چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے، اگر پنجاب میں عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری نظام کی بہتری جاری رہی تو وہ نہ صرف صوبے بلکہ قومی سطح پر اپنی شخصیت کو مزید مضبوط کر سکتی ہیں، اگر حالات یوں ہی رہے جیسے اب ہیں یعنی عوامی توقعات کا خیال رکھا جائے بنیادی مسائل حل کرنے کی کوشش جاری رہے تو مریم نواز شریف کے لیے امکان ہے کہ وہ آئندہ پاکستان کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کر سکتی ہیں، اگر عوامی توقعات پر پورا نہ اتریں تو ان کے لئے مشکلات بھی پیدا ہو سکتی ہیں پھر ان کا سیاسی مستقبل سیاسی بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے کامیابی کے لئے محنت حکمت عملی اور سنجیدہ قیادت درکار ہے

  • عمران خان کی سیاست ختم شدہ،تحریر:یوسف صدیقی

    عمران خان کی سیاست ختم شدہ،تحریر:یوسف صدیقی

    وہ جو اڈیالہ جیل میں بیٹھا ہے، اسے خبر نہیں کہ باہر کی دنیا بدل چکی ہے۔ وہ خود ایک قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ پاکستان نے ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔
    — مریم نواز، وزیراعلیٰ پنجاب

    یہ بیان محض لفظوں کا کھیل نہیں، بلکہ حقیقت کی عکاسی ہے۔ عمران خان، جو کبھی پاکستان کی سیاست میں ایک مقبول اور اثرورسوخ رکھنے والا نام تھے، آج اپنی چرب زبانی، وعدہ خلافیوں اور سیاسی ناکامیوں کی وجہ سے ایک ختم شدہ سیاستدان کے طور پر نظر آتے ہیں۔ ان کی حکومت کے دوران بڑے بڑے منصوبے صرف وعدوں تک محدود رہے، معیشت بحران کا شکار رہی، اور عوامی توقعات کے برعکس اداروں کے ساتھ تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار رہے۔ ہر بیان میں شعلہ انگیزی اور جذباتی نعرے تو تھے، مگر عملی میدان میں کچھ نہیں کیا گیا۔ عوامی توقعات کے بجائے محض سیاسی شو چلائے گئے، اور اس دوران حکومت کی بنیادی ذمہ داریاں پس پشت ڈال دی گئیں۔

    عمران خان کی چرب زبانی اور عوامی بیانات اکثر حقیقت سے دور رہے۔ وہ عوام کے جذبات کو بھڑکانے میں ماہر تھے، مگر عملی منصوبے اور نتائج ہمیشہ کمزور ثابت ہوئے۔ ان کے دورِ حکومت میں بڑے اقتصادی منصوبے جیسے ٹیکس اصلاحات، سرمایہ کاری میں اضافہ، اور معاشی استحکام کے دعوے زیادہ تر جزوی کامیابی تک محدود رہے۔ تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے بھی بروقت مکمل نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کی سیاست پر شک و شبہات نے جنم لیا۔ سعودی عرب اور دیگر اہم ممالک، جو پہلے ان کی سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے، اب کسی تعاون کے لیے تیار نہیں۔ عالمی رہنما اور ادارے ان کی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں، اور عمران خان کی چرب زبانی کے باوجود ان کی عالمی کشش کمزور پڑ گئی ہے۔

    انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے بھی عمران خان کے خلاف محاذ قائم کر دیا۔ ہر ٹویٹ، ہر بیان اور ہر پالیسی پر سوشل میڈیا پر بحث اور تنقید جاری رہی۔ بلاگز، نیوز ویب سائٹس اور ٹک ٹاک و یوٹیوب پر ان کے بیانات کا تجزیہ اور تنقید ہوتی رہی۔ اکثر لوگ ان کی چرب زبانی اور وعدہ خلافیوں کو نمایاں کرتے رہے۔ ان کے سوشل میڈیا پیغامات نے کبھی کبھار مثبت اثر پیدا کیا، مگر مجموعی طور پر عوامی تنقید اور مباحثے نے ان کی مقبولیت کو نقصان پہنچایا۔ میمز، طنز اور طنزیہ ویڈیوز نے ان کی عوامی شبیہ کو متاثر کیا، اور نوجوان طبقے میں ان کے خلاف ردعمل کو مزید بڑھایا۔

    عمران خان کی سب سے بڑی سیاسی کمزوری ان کے مخالفین، خصوصاً خواتین کے خلاف بیانات ہیں۔ ان کے بعض بیانات نے عوامی رائے اور میڈیا میں شدید تنقید کو جنم دیا۔ خواتین کے خلاف مبینہ بیانات اور جارحانہ زبان نے انہیں عوامی سطح پر تنقید اور قانونی خطرات سے دوچار کیا۔ اس کے علاوہ دیگر سیاسی رہنماؤں اور مخالفین کے بارے میں ان کے جارحانہ بیانات نے نہ صرف سیاسی تنازعہ بڑھایا بلکہ ان کی عالمی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا۔ یہ بیانات اب سوشل میڈیا اور خبروں میں مسلسل ان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں، جو ان کے سیاسی مستقبل کو مزید محدود کر رہے ہیں۔

    ان کے قانونی مسائل نے بھی ان کی سیاسی کشش کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف کرپشن، بدعنوانی اور دیگر الزامات کے مقدمات چل رہے ہیں، جنہوں نے ان کی ساکھ کو مزید دھچکا پہنچایا ہے۔ ہر قانونی کیس نے عمران خان کی حکومت اور ان کے سیاسی دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیا، اور عوامی اعتماد میں کمی پیدا کی۔ عدالتوں میں سماعتیں، میڈیا میں رپورٹنگ، وکلاء کے بیانات اور عوامی ردعمل نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس نے ان کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کر دیا۔

    حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کا سیاسی عروج جنرل قمر باجوہ کی حمایت کے بغیر ممکن نہ تھا۔ ان کا سیاسی سفر دراصل "باجوا پراجیکٹ” تھا، جو اب ختم ہو چکا ہے۔ جب باجوہ نہیں رہے تو عمران خان بھی سیاسی میدان سے باہر ہو چکے ہیں۔ ان کی چرب زبانی، جذباتی بیانات اور وعدے اب نہ عوام کو متاثر کر رہے ہیں اور نہ عالمی سطح پر کسی کی توجہ حاصل کر پا رہے ہیں۔ ان کے سیاسی دعوے، جو کبھی بڑے عوامی جلسوں اور میڈیا میں چرچے کا مرکز بنتے تھے، اب محض ماضی کی ایک یاد بن گئے ہیں۔

    پاکستان آج ترقی، استحکام اور مضبوط اداروں کی طرف گامزن ہے۔ عمران خان کی کہانی اب ایک ایسا باب ہے، جو شعلہ بیانی، چرب زبانی اور وعدوں کے سوا کچھ نہیں رہا۔ اب ملک کی ترقی، عوام کی بھلائی اور جمہوریت مضبوط کرنے کا وقت ہے۔ جذباتی نعرے اور کھوکھلے وعدے اب پاکستان کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتے۔

    یہ حقیقت ہر پاکستانی کے لیے واضح ہے کہ اگر سیاسی بیانات اور نعرے عملی اقدامات اور نتائج سے ہم آہنگ نہ ہوں تو وہ محض عوامی جذبات کو بھڑکانے تک محدود رہ جاتے ہیں۔ عمران خان کا کیس اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اب وہ ایک ختم شدہ سیاستدان کے طور پر عوام کی یادوں میں موجود ہیں، جبکہ پاکستان نے ایک نئے ترقیاتی اور استحکام کے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔

    اور حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی سیاست میں واپسی کے امکانات بھی محدود ہیں۔ قانونی مسائل، عوامی ردعمل اور سیاسی تنقید کے درمیان، ان کے لیے دوبارہ مؤثر کردار ادا کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ان کے بیانات، عالمی سطح پر عدم دلچسپی، اور قانونی دباؤ انہیں ایک محدود اور ختم شدہ سیاسی شخصیت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی ترقی، عوام کی بھلائی اور جمہوریت کو مضبوط کرنے پر توجہ دے۔ جذباتی نعرے اور کھوکھلے وعدے اب ملک کے روشن مستقبل کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ عمران خان کی سیاست اب ماضی کی بات ہے، اور پاکستان ایک نئے، روشن اور مستحکم عہد کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں عملی اقدامات اور نتائج کی اہمیت جذباتی بیانات سے کہیں زیادہ ہے۔

  • مرکزی مسلم لیگ: خدمتِ خلق کی روشن مثال،تحریر: یوسف صدیقی

    مرکزی مسلم لیگ: خدمتِ خلق کی روشن مثال،تحریر: یوسف صدیقی

    پاکستان میں جب بھی قدرتی آفات آتی ہیں تو عوام کو سب سے زیادہ مسائل کا سامنا بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث کرنا پڑتا ہے۔ حکومتی ادارے اپنی استطاعت کے مطابق کام کرتے ہیں مگر اکثر متاثرین تک بروقت اور مکمل امداد نہیں پہنچ پاتی۔ ایسے میں سیاسی و سماجی جماعتوں کی کارکردگی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ انہی جماعتوں میں مرکزی مسلم لیگ بھی ہے جس نے حالیہ تباہ کن سیلاب میں متاثرین کی جس طرح مدد کی، وہ اس کے خدمتِ خلق کے تسلسل کا عملی ثبوت ہے۔

    سیلاب کے دوران مرکزی مسلم لیگ کے کارکن سب سے پہلے میدان عمل میں اُترے۔ متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کیے گئے جہاں روزانہ ہزاروں متاثرین کو کھانے پینے کی اشیاء، ادویات، کپڑے اور خیمے فراہم کیے گئے۔ کراچی سے کپڑوں اور خوراک کی بڑی کھیپ روانہ ہوئی، راولپنڈی سے سامان سوات، بونیر اور گلگت بلتستان پہنچایا گیا۔ کراچی کی ٹیمیں پہلے دن ہی متاثرہ خاندانوں کے درمیان پہنچ گئیں، جہاں نہ صرف صاف پانی کی فراہمی کے لیے پائپ لگائے گئے بلکہ ملبہ ہٹانے کے لیے مزدور اور آلات بھی فراہم کیے گئے۔ یہ سب کچھ بروقت اور منظم انداز میں کیا گیا تاکہ متاثرین کو فوری سہارا مل سکے۔

    مرکزی مسلم لیگ کی میڈیکل ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں سرگرم رہیں۔ درجنوں دیہات میں علاج کی سہولت فراہم کی گئی، مفت ادویات تقسیم ہوئیں اور وبائی امراض کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپنائی گئیں۔ ان سرگرمیوں نے ہزاروں خاندانوں کو سہارا دیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حکومتی ادارے کمزور پڑ گئے تھے اور متاثرہ لوگ بے یار و مددگار تھے۔

    یہ جماعت ماضی میں بھی مختلف آفات اور سانحات میں عوام کے شانہ بشانہ رہی ہے۔ زلزلے ہوں یا طوفانی بارشیں، مرکزی مسلم لیگ کے کارکنوں نے ہمیشہ میدانِ خدمت میں اپنی موجودگی کو یقینی بنایا۔ یتیم بچوں اور بیواؤں کی کفالت ہو یا قدرتی آفات کے متاثرین کی مدد، اس جماعت نے خدمتِ خلق کو اپنی سیاست کا لازمی حصہ بنایا ہے۔ یہی تسلسل حالیہ سیلاب میں بھی نظر آیا جس نے اسے عوام کے دلوں میں مزید جگہ دی۔

    افسوس یہ ہے کہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا نے مرکزی مسلم لیگ کے کردار پر وہ روشنی نہیں ڈالی جس کی یہ مستحق تھی۔ بڑی سیاسی جماعتیں زیادہ تر بیانات تک محدود رہیں مگر عملی میدان میں مرکزی مسلم لیگ کی سرگرمیاں عوام کے لیے حقیقی سہارا ثابت ہوئیں۔ شاید سیاسی پس منظر اور جماعت کے بارے میں کچھ تحفظات کے باعث میڈیا کی توجہ کم رہی، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ متاثرین نے اس جماعت کو خالص خدمت کے جذبے کے ساتھ یاد کیا۔

    پاکستان جیسے ملک میں جہاں آفات کے دوران سرکاری مشینری اکثر متاثرین تک بروقت نہیں پہنچ پاتی، وہاں رضاکارانہ نیٹ ورک اور خدمت پر یقین رکھنے والی جماعتیں خلا کو پُر کرتی ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ کی سرگرمیوں نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ سیاست صرف نعروں کا نام نہیں بلکہ عوامی خدمت سے جڑی ہوئی عملی جدوجہد ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مرکزی مسلم لیگ نے ثابت کیا ہے کہ خدمتِ خلق ہی سیاست کی اصل پہچان ہے، اور یہی پہچان عوامی اعتماد اور مستقبل کی کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت بن سکتی ہے۔

  • لندن میں کنونشن،اوورسیز پاکستانیوں کی شرکت،وزیراعظم و دیگر کا اہم خطاب،رپورٹ:شہزاد قریشی

    لندن میں کنونشن،اوورسیز پاکستانیوں کی شرکت،وزیراعظم و دیگر کا اہم خطاب،رپورٹ:شہزاد قریشی

    لندن رپورٹ (شہزاد قریشی) چئیرمین اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن (او پی ایف) سید قمر رضا کے زیرِاہتمام لندن میں کنونشن کا انعقاد ہوا۔ جس میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور دیگر اعلی شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔ جبکہ کنونشن میں اوورسیز پاکستانیوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جسکی سعادت دانیال عباسی نے حاصل کی جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے بعد اجلاس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ وزیر اعظم پاکستان جب خطاب کے لیے سٹیج پر آئے تو شرکاء کھڑے ہو گے اور ہال“شہباز شریف زندہ باد”، “افواج پاکستان زندہ باد” کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ اس موقع پر وزیرِاعظم میاں شہباز شریف نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کی قربانیوں کو سراہنے ہوئے حاضرین تقریب کو سلوٹ کیا اور بتایا کہ 1968 میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ چند ماہ لندن میں مقیم رہے جہاں پاکستانیوں کی محنت اور جدوجہد نے انہیں بے حد متاثر کیا۔ پچھلے سال 38 ارب روپے پاکستان بھیجنے والے اوورسیز پاکستانیوں کی محنت کے بغیر ملکی معیشت مضبوط نہیں ہو سکتی تھی۔ وزیر اعظم پاکستان نے اپنے خطاب میں 10 مئی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا گیا اور ایک شہید بچے کی قربانی نے اُنہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں طے کیا گیا تھا کہ اگر دشمن دوبارہ حملہ کرے گا تو بھرپور جواب دیا جائے گا، اور پھر فیلڈ مارشل کی قیادت میں وہ فیصلہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔ مزید برآں انھوں نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر کوئی دشمن میلی آنکھ سے دیکھے گا تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ہماری اصل خواہش امن کی ہے تاکہ وسائل تعلیم، صحت اور عوام کی خوشحالی پر خرچ کیے جا سکیں۔ انہوں نے غزہ اور کشمیر کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے بغیر غربت ختم نہیں ہو سکتی۔

    اس کے بعد ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے کنونشن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں موسم کی خرابی کے باعث 20 اگست کا پروگرام منسوخ کرنا پڑا لیکن آج انہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں جب شہباز شریف نے حکومت سنبھالی تو ملک کو دیوالیہ کہا جا رہا تھا لیکن 2024 کے انتخابات کے بعد آج پاکستان خطے ہی نہیں بلکہ دنیا کو لیڈ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 10 مئی کو پاکستان پر حملہ کیا لیکن پاکستان نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا اور دنیا نے ہماری فتح کو تسلیم کیا۔

    مزید برآں وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر نے جس حکمت اور فراست سے ملک کی معیشت اور دفاع کو مضبوط کیا، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی معاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک نیا باب ہے، اور بھارت کو دی گئی شکست بھی ایک یادگار کامیابی ہے۔ ان کے مطابق “ہائیبرڈ نظام” نے پاکستان کو استحکام دیا ہے اور آج ہم دنیا کے سامنے فخر سے کھڑے ہیں۔

    اس موقع پر وزیرِ اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیراعظم اوورسیز پاکستانیوں کو ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد چوہدری شجاعت حسین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر تمام اوورسیز پاکستانی ہمارے اپنے ہیں۔ “معرکۂ حق” اور سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے تاریخی معاہدے کے بعد اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد مزید بڑھا ہے۔آخر میں چئیرمین او پی ایف سید قمر رضا نے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نائب وزیراعظم، سمیت دیگر تمام آنے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ہمیشہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو اولین ترجیح دیتے ہیں اور اکثر ملاقات کے لیے اُسی روز وقت فراہم کر دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈپٹی وزیراعظم کے ساتھ حالیہ ملاقات میں طے شدہ معاملات جلد حل کر دیے جائیں گے۔

  • خاموشی،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموشی،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموشی محض الفاظ کے نہ ہونے کا نام نہیں، یہ روح کی وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنے اندر کے مکالمے سنتا ہے۔ بعض اوقات ایک لمحۂ سکوت ہزاروں لفظوں پر بھاری ہوتا ہے۔ دل کی گہرائیوں میں چھپی وہ صدائیں جو زبان ادا نہیں کر پاتی، خاموشی ہی کے پردے میں زیادہ واضح ہو جاتی ہیں۔

    ہمارا موجودہ معاشرہ شور و ہنگامے میں ڈوبا ہوا ہے۔ سیاست کا شور، میڈیا کا شور، بازاروں کا شور—لیکن ان سب آوازوں کے بیچ وہ سکوت کھو گیا ہے جو انسان کو اپنی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ ہر شخص بول رہا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلقات کمزور اور دلوں کے فاصلے طویل ہو گئے ہیں۔خاموشی کی اپنی زبان ہے۔ یہ کبھی محبت کی گہری علامت بن جاتی ہے اور کبھی احتجاج کا سب سے مضبوط اظہار۔ کبھی یہ زخموں کو ڈھانپ لیتی ہے اور کبھی دعا کی صورت آسمان تک پہنچتی ہے۔ اہلِ دانش کا کہنا ہے کہ کچھ سچائیاں صرف سکوت میں سمجھی جا سکتی ہیں، کیونکہ شور میں حقیقت کی آواز دب جاتی ہے۔

    لیکن افسوس کہ آج ہم نے یہ دولت کھو دی ہے۔ ہماری زندگیاں مصنوعی مصروفیات میں الجھ گئی ہیں۔ لمحہ بھر کے سکوت کو ہم اجنبیت سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ یہی لمحے ہماری روح کے لیے شفا ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شور سے نکل کر اپنے اندر جھانکیں، اپنے دل کی خاموشی کو سنیں۔ کیونکہ جو شخص اپنی خاموشی کو سمجھ لیتا ہے، وہی اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے۔ اور جب انسان خود کو پہچان لے تو دنیا کے ہنگامے بھی اس پر اثر انداز نہیں ہو پاتے۔

  • نوجوانوں کے لیے مالیاتی تعلیم کی عملی راہیں: خوشحالی کا سفر،تحریر :عمر افضل

    نوجوانوں کے لیے مالیاتی تعلیم کی عملی راہیں: خوشحالی کا سفر،تحریر :عمر افضل

    آج کا نوجوان ڈگریوں کا بوجھ اٹھائے نوکری کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے، دوسری طرف بے روزگاری کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے۔ والدین قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں اور نوجوان محفوظ مستقبل کے خواب دیکھتے دیکھتے مایوس ہو رہے ہیں،کیونکہ یہ سوچ کہ اچھی ڈگری اور اچھی نوکری ہی کامیابی کی ضمانت ہے، اب اپنا اثر کھو چکی ہے۔ بدلتے حالات بتا رہے ہیں کہ نوجوانوں کو صرف کمانا ہی نہیں بلکہ کمائی کو محفوظ اور بڑھانا بھی سیکھنا ہوگا۔ یہی مالیاتی تعلیم ہے، جو خوشحالی کا اصل دروازہ کھولتی ہے۔
    مالیاتی تعلیم کا آغاز بچپن سے ہی ہونا چاہیے تاکہ ہمارے نوجوان مستقبل میں خود مختار بنیں۔ اس مقصد کے لیے والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ انہیں بچوں کو پیسوں کی قدر سکھانی چاہیے۔ انہیں سودا سلف خریدنے کے لیے ساتھ لے جائیں، جیب خرچ کے علاوہ اضافی پیسے دیں اور یہ ہدایت دیں کہ گھر کی ضرورت کی چیزیں خریدنے میں مدد کریں۔ یہ چھوٹی چھوٹی کوششیں بچوں میں خود اعتمادی اور عملی لین دین کا شعور پیدا کریں گی۔ اسی طرح، اسکول کے بعد کا ایک گھنٹہ ہنر سیکھنے کے لیے مختص کرنا چاہیے۔ سلائی، پلمبرنگ، الیکٹریشن، گاڑیوں کی مرمت یا فاسٹ فوڈ جیسے کاموں میں انہیں دلچسپی دلانا چاہیے۔ یہ ہنر انہیں مستقبل میں مالی طور پر مضبوط بنائیں گے۔ تعلیمی اداروں کو بھی جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح مالیاتی تعلیم کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ یہ مضمون صرف حساب کتاب نہیں بلکہ زندگی کی عملی بصیرت بھی دیتا ہے۔
    اسلام نے بھی مالی نظم و ضبط اور خودکفالت پر زور دیا ہے۔ یہ رہنمائی ہمیں نہ صرف کمانا سکھاتی ہے بلکہ اسے حکمت اور اعتدال کے ساتھ خرچ کرنے کی ترغیب بھی دیتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے: "اور ہاتھ کو اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ ہی بالکل کھول دو کہ ملامت زدہ اور حسرت زدہ بیٹھے رہو۔” (الاسراء: 29) یہ آیت ہمیں نہ کنجوسی اور نہ ہی فضول خرچی کی تعلیم دیتی ہے۔ اسی طرح، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے۔” (بخاری) یہ تعلیم خود انحصاری اور دوسروں پر بوجھ نہ بننے کی ہے۔
    حقیقی مالیاتی بصیرت یہ ہے کہ اثاثہ (Asset) اور ذمہ داری (Liability) میں فرق کو سمجھا جائے۔ رابرٹ کیوساکی اپنی کتاب "Rich Dad Poor Dad” میں بتاتے ہیں کہ امیر اور غریب کی سوچ میں سب سے بڑا فرق یہی ہے۔ اثاثہ وہ ہے جو آپ کی جیب میں پیسہ ڈالے، جیسے کرائے پر دی گئی پراپرٹی یا کوئی کامیاب کاروبار، جبکہ ذمہ داری وہ ہے جو آپ کی جیب سے پیسہ نکالے، جیسے قسطوں پر لی گئی مہنگی گاڑی۔ مالی آزادی کا پہلا قدم یہی ہے کہ آپ اپنی آمدنی کا کچھ حصہ اثاثے بنانے پر لگائیں اور اپنے پیسے کو اپنے لیے کام کرنے دیں۔ یہ کوئی بڑا یا مشکل کام نہیں، آپ چھوٹی چھوٹی سرمایہ کاریوں سے بھی آغاز کر سکتے ہیں۔
    آج کے ڈیجیٹل دور میں صرف ایک تنخواہ پر انحصار کرنا کافی نہیں۔ کثیر آمدنی کے ذرائع پیدا کرنا مالیاتی آزادی کا دوسرا اہم قدم ہے۔ کالج، یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم یا ملازمت پیشہ نوجوان اپنے فارغ اوقات کو اضافی آمدنی کے ذرائع میں بدل سکتے ہیں۔ بائیکیا اور ان ڈرائیو جیسی سروسز، لوگوں کے گھروں میں سولر پینل کی وائرنگ، پلمبنگ یا الیکٹریشن کا کام، یا چھوٹے پیمانے پر آن لائن بزنس شروع کرنا بہترین مواقع ہیں۔ ایلون مسک کہتے ہیں، "اگر کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہفتے میں 80 سے 100 گھنٹے کام کرنا ہوگا۔” یہ اضافی گھنٹے ہمیں اضافی آمدنی کے ذرائع بنانے کا موقع دیتے ہیں۔
    آمدنی کے ذرائع بڑھانے کے ساتھ ساتھ اخراجات کو منظم کرنا بھی ضروری ہے۔ وارن بفٹ کا اصول نوجوانوں کے لیے بہترین ہے: "پہلے بچت کریں اور پھر باقی اخراجات کریں۔” یعنی اپنی آمدنی کا ایک حصہ سب سے پہلے بچت اور سرمایہ کاری کے لیے الگ کریں اور پھر باقی میں سے اپنے اخراجات پورے کریں۔ یہ سادہ سا اصول آپ کو مالیاتی نظم و ضبط سکھاتا ہے۔

    نوجوانوں کے پاس سب سے بڑا سرمایہ وقت ہے، اور وقت ہی "کمپاؤنڈ انٹرسٹ” کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ اگر آج چھوٹی سرمایہ کاری شروع کی جائے تو وقت کے ساتھ یہ بڑی دولت میں بدل جاتی ہے۔ آج کل "مائیکرو انویسٹنگ ایپس” کی مدد سے چند سو روپے سے بھی سرمایہ کاری ممکن ہے۔یہاں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ مالیاتی تعلیم محض ایک مضمون نہیں، بلکہ زندگی کا ہنر ہے۔ یہ نوجوان کو بااعتماد، خود مختار اور کامیاب بناتی ہے۔ اگر آج کے نوجوان مالی نظم و ضبط کو اپنا لیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں، بلکہ پاکستان کو بھی خوشحال اور مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مالیاتی تعلیم کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔کیا آپ آج سے اپنی مالیاتی آزادی کی طرف پہلا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟

  • پاکستان اور سعودی عرب: تاریخ کا مقدس اتحاد،تحریر: واجد علی تونسوی

    پاکستان اور سعودی عرب: تاریخ کا مقدس اتحاد،تحریر: واجد علی تونسوی

    1990 کا سال خلیجی خطے کی سیاست میں ایک ہنگامہ خیز موڑ لے کر آیا۔ جب عراق نے کویت پر حملہ کیا تو پورے عرب خطے میں خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ سعودی عرب، جس کی سرحدیں جنگ کے قریب آ چکی تھیں، نے فوری طور پر امریکہ سے فوجی مدد طلب کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے، امریکی فوجی طیارے سعودی عرب کے فضائی اڈوں پر اُترنے لگے۔ اُس وقت یہ قدم ایک حفاظتی تدبیر سمجھا گیا، لیکن یہی فیصلہ آگے چل کر مسلم دنیا میں ایک نئے انحصار کا آغاز بن گیا۔ ایسا انحصار جس نے مسلم ممالک کی عسکری خودمختاری کو مغرب کے مفادات سے جوڑ دیا۔ امریکہ خلیجی خطے میں چوکیدار بن کر اُبھرا۔ مسلم ریاستیں اس کے سائے میں خود کو محفوظ سمجھنے لگیں، لیکن جلد ہی یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ یہ چوکیدار اصل میں ایک سوداگر ہے۔ وہ حفاظت کے وعدے ضرور کرتا ہے، مگر صرف اُس وقت تک جب تک اس کے مفادات وابستہ ہوں۔ جہاں فائدہ ختم ہوا، وہاں ذمہ داری کا بوجھ اُتار دیا گیا۔

    یہ حقیقت وقت کے ساتھ اور بھی واضح ہوتی گئی۔ جب ایران نے قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغے، امریکہ نے کوئی سخت ردعمل نہ دیا۔ جب اسرائیل نے قطر میں حماس کے رہنماؤں پر حملے کیے، جہاں امریکی فوجی بھی موجود تھے، تب بھی امریکہ خاموش رہا۔ اس خاموشی کی سب سے سنگین مثال فلسطین کے معاملے میں دیکھی گئی، جہاں سالہا سال سے اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی بمباری، بچوں کی شہادتیں، مساجد کی تباہی اور عام شہریوں کی نسل کشی پر امریکہ کی پالیسی صرف اظہارِ تشویش تک محدود رہی۔

    یہی وہ مقام تھا جہاں مسلم دنیا نے آنکھیں کھولیں۔ آہستہ آہستہ روایتی اتحادیوں پر انحصار کم ہونے لگا۔ عالمی توازن میں تبدیلی آ رہی تھی۔ چین ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر سامنے آیا۔ روس نے مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی مضبوط کی اور پھر ایک نیا رجحان سامنے آیا۔ مسلم ممالک نے مغرب پر انحصار کے بجائے، آپس میں عسکری، اقتصادی اور سفارتی اتحاد کی طرف دیکھنا شروع کیا۔ یہ وہی دور تھا جب بھارت نے پاکستان کو ایک بار پھر للکارا۔ دشمن کا خیال تھا کہ وہ پاکستان کو دباؤ میں لا سکتا ہے، مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اب وہ پاکستان نہیں، جو صرف دفاع تک محدود رہتا تھا۔ پاکستان نے دشمن کے رافیل طیارے مار گرائے، اس کے ارادے فضاؤں میں بکھیر دیے اور دنیا کو باور کرا دیا کہ یہ نیا پاکستان ہے، مضبوط، خوددار اور چپ نہ رہنے والا۔

    پاکستان کے اسی مضبوط کردار نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی پر مجبور کیا۔ سعودی عرب، جو طویل عرصے سے امریکہ پر انحصار کرتا رہا، اب ایک نئے اتحادی کی تلاش میں تھا۔ ایسا ساتھی جو صرف وعدے نہ کرے، بلکہ وقت آنے پر کھڑا ہو سکے۔ اس بار اُس کی نظر اسلام آباد پر پڑی اور یوں تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کی نوعیت محض رسمی یا علامتی نہیں، بلکہ حقیقی ہے۔ اس کے تحت دونوں ممالک عسکری تعاون کو نئی سطح پر لے جائیں گے۔ مشترکہ جنگی مشقیں کی جائیں گی، انٹیلیجنس شیئرنگ ہوگی اور سب سے اہم بات، پاکستان حرمین شریفین کے دفاع میں براہِ راست شریک ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس سے دفاعی کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعاون میں بھی گہری مضبوطی آئے گی۔

    یہ صرف ایک معاہدہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک نئی سمت کا تعین ہے۔ یہ ایک پیغام ہے کہ مسلم دنیا اب دوسروں کی محتاج نہیں رہے گی، بلکہ خود اپنے تحفظ، اپنے مفادات اور اپنے مستقبل کی ضامن بنے گی۔ یہی وہ لمحہ ہے جسے ایک نئے اسلامی عسکری بلاک کی بنیاد کہا جا سکتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ترکی اور ایران بھی پاکستان کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدوں پر غور کر رہے ہیں۔ اگر یہ تعاون حقیقت بن گیا، تو یہ اتحاد نہ صرف خطے کے لیے، بلکہ دنیا بھر میں مظلوموں کے لیے ایک طاقتور پیغام بن جائے گا۔ اس بدلتے منظرنامے میں ایک شخصیت کا کردار سب سے نمایاں ہے، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب۔ وہ صرف آرمی چیف نہیں، بلکہ ایک وژنری رہنما ہیں جنہوں نے پاکستان کی عسکری، سفارتی اور اسٹریٹجک پوزیشن کو ازسرنو متعین کیا ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے داخلی استحکام حاصل کیا، خارجی سطح پر اپنی خودداری کا پرچم بلند کیا اور عالمی برادری کو دوٹوک پیغام دیا کہ پاکستان اب برابری کی سطح پر تعلقات چاہتا ہے۔

    دنیا انہیں خطرناک ترین آرمی چیف کہتی ہے، کیونکہ وہ امریکی مفادات کے لیے لچکدار نہیں، بلکہ اصولوں پر ڈٹ جانے والے سپہ سالار ہیں، لیکن پاکستان کے عوام کے لیے وہ امید، طاقت اور غیرت کا استعارہ ہیں۔ ان کی موجودگی نے پاکستانی عوام کو اعتماد دیا ہے کہ وہ صرف ایٹمی ہتھیار نہیں، بلکہ ایک باشعور اور بہادر فوج کی پشت پر کھڑے ہیں۔ ان کی حکمت عملی نے دنیا کو بتایا ہے کہ پاکستان صرف دفاعی طاقت نہیں، بلکہ قیادت، قربانی، نظم اور غیرت کا مجموعہ ہے۔ اب اگر کوئی پاکستان پر حملے کی سوچتا ہے، تو اسے یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ اس کے خلاف جواب صرف پاکستان سے نہیں آئے گا، بلکہ مکہ اور مدینہ سے بھی دیا جائے گا۔ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اب پاکستانی فوج ایک دیوار بن چکی ہے۔

    طاقت کا توازن اب مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ مسلم دنیا غلامی کے نفسیاتی خول سے باہر نکل رہی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکی، ایران اور دیگر مسلم ریاستوں کے درمیان بنتے ہوئے تعلقات ایک نیا باب رقم کر رہے ہیں۔ ایسا باب جہاں عزت کے ساتھ جینا اولین ترجیح ہے۔ یہ اتحاد صرف کسی ایک دشمن کے خلاف نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے وقار، بقاء اور آزادی کی علامت بننے جا رہا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اب پاکستان اکیلا نہیں۔ اب ہر وار کا جواب ہے۔ اب ہر سازش کا توڑ ہے۔ اب امتِ مسلمہ ایک نئی طاقت کے طور پر دنیا کے سامنے آ رہی ہے، ایک ایسا اتحاد جو غلامی کو جرم اور خودداری کو فخر سمجھتا ہے۔

  • پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیاموڑ .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیاموڑ .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ جتنی پرانی ہے، اتنی ہی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف مذہبی و تہذیبی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک پہلوؤں سے بھی ایک دوسرے کے قریبی حلیف ہیں۔ یہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ کئی نشیب و فراز سے گزرے مگر ان کی اساس ہمیشہ قائم رہی۔ حالیہ دنوں میں وزیر اعظم پاکستان کے دورۂ سعودی عرب اور سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں نے اس رشتے کو ایک نئے موڑ پر پہنچا دیا ہے جہاں مستقبل کے امکانات مزید وسعت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔مذہبی و روحانی رشتہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سب سے گہرا رشتہ روحانی ہے۔ ہر سال لاکھوں پاکستانی فریضۂ حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔ حرمین شریفین کی محبت پاکستانی عوام کے دلوں میں رچی بسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کو پاکستان میں ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ یہ دینی رشتہ دونوں ممالک کے سیاسی تعلقات کو بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

    پاکستان کے قیام کے فوراً بعد سعودی عرب نے اسے تسلیم کیا اور ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔
    1965 اور 1971 کی جنگوں میں سعودی عرب نے پاکستان کی سفارتی و مالی مدد کی۔ افغانستان میں سوویت مداخلت کے دور میں بھی دونوں ممالک نے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی۔ پاکستان کے حایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھی سعودی عرب نے سفارتی سطح پر حمایت فراہم کی۔حالیہ دورۂ وزیر اعظم اور نئے امکانات ، وزیر اعظم پاکستان کا حالیہ دورۂ سعودی عرب اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ایک نئے دور کی شروعات ہے۔ سعودی قیادت نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے بڑے مواقع فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ خاص طور پر گوادر اور سی پیک منصوبوں میں سعودی شمولیت نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگی بلکہ خطے میں سعودی اثر و رسوخ کو بھی بڑھائے گی۔
    وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ "پاک سعودی سرمایہ کاری تجارتی تعلقات مزید مستحکم کریں گے۔” یہ بیان اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ دونوں ممالک محض جذباتی یا مذہبی رشتے تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ عملی اور معاشی بنیادوں پر تعلقات کو نئی جہت دینا چاہتے ہیں۔معاشی و تجارتی تعاون ۔سعودی عرب پاکستان کو تیل اور توانائی کے شعبے میں بڑے پراجیکٹس کی پیشکش کر رہا ہے۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان کے توانائی بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں بھی سعودی سرمایہ کار دلچسپی رکھتے ہیں۔ سعودی عرب اپنی فوڈ سیکیورٹی کے لیے پاکستان کی زرخیز زمینوں اور افرادی قوت کو بروئے کار لا سکتا ہے۔پاکستانی محنت کش سعودی عرب کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں کام کر کے ہر سال اربوں ڈالر زرمبادلہ اپنے وطن بھیجتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان محنت کشوں کو بہتر سہولیات اور حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ دونوں ممالک کا رشتہ مزید مضبوط ہو۔دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقاتکے حوالے سے پاک فوج اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون بھی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ سعودی افواج کی تربیت، مشترکہ مشقیں، اور سیکیورٹی کے مختلف شعبوں میں تعاون ہمیشہ جاری رہا ہے۔ خطے کے بدلتے حالات میں یہ تعاون مزید اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ یمن اور مشرق وسطیٰ کے دیگر تنازعات میں پاکستان نے ہمیشہ محتاط لیکن برادرانہ کردار ادا کیا ہے تاکہ سعودی عرب کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔عوامی وابستگی اور ثقافتی رشتہ ،پاکستانی عوام سعودی عرب کو صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک روحانی مرکز سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی سیاسی قیادت بھی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو عوامی خواہشات کے عین مطابق ترجیح دیتی ہے۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی نہ صرف اپنے خاندانوں کا سہارا ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک "پل” کا کردار ادا کر رہے ہیں۔اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں لیکن چند چیلنجز بھی موجود ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی اکثر پاکستان کے لیے ایک مشکل صورت حال پیدا کر دیتی ہے۔ پاکستان کو ہمیشہ محتاط رہنا پڑتا ہے کہ وہ کسی ایک جانب زیادہ نہ جھکے۔ اسی طرح پاکستان کی معاشی کمزوری اور بار بار کے سیاسی بحران بھی سعودی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنے تعلقات کو ایک پائیدار معاشی شراکت داری میں تبدیل کریں۔ محض بیانات یا جذباتی نعروں سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔سی پیک میں سعودی شمولیت پاکستان کی اقتصادی راہداری کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔توانائی منصوبے سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان کا توانائی بحران کم ہو سکتا ہے۔زرعی شعبے میں مشترکہ منصوبے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدان میں تعاون نئی نسل کو مواقع فراہم کرے گا۔

    سفارتی سطح پر اشتراک اسلامی دنیا کے مسائل کے حل میں دونوں ممالک کو قائدانہ کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔پاک سعودی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ محض ایک ریاستی تعلق نہیں بلکہ ایک ایسا رشتہ ہے جس کی جڑیں عوامی دلوں میں پیوست ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تعلقات کو معاشی اور تجارتی بنیادوں پر مزید وسعت دی جائے تاکہ دونوں ممالک کے عوام حقیقی معنوں میں مستفید ہو سکیں۔ وزیر اعظم کا حالیہ بیان اور سعودی قیادت کی دلچسپی امید دلاتی ہے کہ مستقبل میں پاکستان اور سعودی عرب نہ صرف ایک دوسرے کے قریب آئیں گے بلکہ خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں گے

  • پاکستان،سعودی عرب دفاعی معاہدہ: اتحاد کی ایک نئی مثال،تحریر:یوسف صدیقی

    پاکستان،سعودی عرب دفاعی معاہدہ: اتحاد کی ایک نئی مثال،تحریر:یوسف صدیقی

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ اخلاص، بھائی چارے اور مشترکہ مذہبی اقدار پر استوار رہے ہیں۔ یہ رشتہ محض جذباتی یا مذہبی وابستگی نہیں بلکہ سیاست، معیشت اور دفاع کے میدانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ سعودی عرب نے ہر نازک موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا، جبکہ لاکھوں پاکستانی محنت کش سعودی عرب میں روزگار حاصل کر کے اپنی محنت سے دونوں ملکوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    انہی دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر حال ہی میں ریاض میں ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا ہے، جسے "اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ” کہا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم قطر کے تاریخی دورے کے بعد سعودی عرب پہنچے۔ اس تناظر میں یہ معاہدہ محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ خطے کی نئی سفارتی صف بندی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔

    معاہدے کے مطابق اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ دراصل اس اعلان کے مترادف ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دفاعی اعتبار سے ایک دوسرے کے ضامن ہیں۔ مزید یہ کہ معاہدے میں "تمام فوجی ذرائع” کے استعمال کی شق موجود ہے، جس میں مشترکہ مشقیں، دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ، انٹیلی جنس تعاون اور دفاعی صنعت میں شراکت داری شامل ہیں۔ یہ سب اس بات کا اظہار ہے کہ دونوں ممالک اپنے دفاع کو کسی بھی سطح پر کمزور نہیں دیکھنا چاہتے۔

    پاکستان کے لیے یہ معاہدہ کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے قریبی دوستوں میں رہا ہے اور اب یہ رشتہ مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب میں 25 لاکھ سے زائد پاکستانی کام کر رہے ہیں جن کی ترسیلات زر ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اس معاہدے کے بعد ان کے مستقبل کو بھی مزید تحفظ حاصل ہوگا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو نئی ساکھ مل رہی ہے، کیونکہ ایک بڑی علاقائی طاقت نے اپنی سلامتی کے لیے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔

    سعودی عرب کے لیے بھی یہ شراکت داری بے حد قیمتی ہے۔ پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے اور یہ حقیقت سعودی عرب کے لیے ایک مضبوط دفاعی سہارا ہے۔ خطے میں ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ اور اسرائیل–قطر تنازعے جیسے حالات میں سعودی عرب کے لیے پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ اعتماد اور تحفظ کا ذریعہ بنے گا۔ اسی کے ساتھ اسلامی دنیا کی قیادت کے حوالے سے سعودی عرب کا موقف بھی مزید مستحکم ہوگا، کیونکہ پاکستان جیسے بڑے ملک کی شمولیت اس کی پوزیشن کو اور واضح کرتی ہے۔

    عوام اور سیاسی حلقوں میں اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ لوگ اسے اسلامی دنیا کے اتحاد کی عملی شکل سمجھ رہے ہیں، جبکہ حکومت کے لیے یہ خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی ہے۔ میڈیا بھی اس پیش رفت کو پاکستان کے عالمی کردار کو مزید مؤثر بنانے کی علامت قرار دے رہا ہے۔

    یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب ماضی میں بھی عسکری تعاون کرتے رہے ہیں۔ پاکستانی ماہرین سعودی افواج کی تربیت میں شامل رہے، اور 1991 کی خلیجی جنگ میں پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے براہِ راست کردار ادا کیا۔ اب یہ معاہدہ پرانی شراکت داری کو ایک باضابطہ اور جامع شکل دے رہا ہے۔

    پاکستان–سعودی عرب دفاعی معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان تعاون نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک پیغام ہے: جب مسلم ممالک ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں تو کوئی چیلنج انہیں کمزور نہیں کر سکتا۔ آج یہ معاہدہ اسی اتحاد کی علامت ہے—یہی اتحاد طاقت ہے اور یہی طاقت امن و استحکام کی ضمانت۔