Baaghi TV

Author: Baaghi Crime

  • دوسرے لڑکے سے تعلق کا شک،لڑکے نے دوست کو قتل کر کے لاش پر پٹرول چھڑک کر لگائی آگ

    دوسرے لڑکے سے تعلق کا شک،لڑکے نے دوست کو قتل کر کے لاش پر پٹرول چھڑک کر لگائی آگ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دوسرے لڑکے سے تعلق کا شک، لڑکے نے اپنی دوست کو انتہائی سفاکی کے ساتھ جنگل میں لے جا کر قتل کر کے لاش کو آگ لگا دی

    واقعہ بھارت میں پیش آیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست اڑیسہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک نوجوان نے اپنی گرل فرینڈ کے دوسرے لڑکے ساتھ تعلق کے شبہہ میں اسکو جان سے مار دیا، لڑکا اپنی دوست کو گھمانے کے لئے جنگل لے گیا، وہاں اس نے تیز دھار آلے سے لڑکی کو قتل کیا اور پھر لاش پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی، لڑکی جب گھر واپس نہ آئی تو اسکے لواحقین نے پولیس میں رپورٹ درج کروائی،

    پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا تو اس میں لڑکی کے دوست کو بھی شامل تفتیش کیا گیا، دوران تحقیقات ملزم سچن اگروال نے اعتراف کر لیا کہ اس نے لڑکی کو قتل کر کے لاش کو جلا دیا تھا، پولیس کے مطابق ملزم لڑکی کے گھر والوں کو بھی دھوکہ دیتا رہا اور مختلف کہانیاں سناتا رہا تا ہم اب اس نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے، پولیس اسے جائے وقوعہ پر لے کر گئی ہے جہاں اس نے لڑکی کو قتل کر کے لاش کو آگ لگا دی تھی وہاں سے لاش کی کچھ باقیات ملی ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا عدالت نے ملزم کا جسمانی ریمانڈ دیا ہے،ملزم سے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے

    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی بھارت میں ایک لڑکے آفتاب نے اپنی دوست شردھا کو قتل کر کے اسکی لاش کے 35 ٹکڑے کر کے اسے فریج میں رکھ دیا تھا، ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اور اس نے بھی جرم کا اعتراف کرلیا ہے، ملزم پر عدالت پیشی کے دوران حملہ بھی ہو چکا ہے،

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    گرل فرینڈ کی لاش کے 35 ٹکڑے کرنیوالے ملزم نے کیا عدالت میں جرم کا اعتراف

    شردھا کو قتل کرنیوالا پولیس آفتاب پولیس کی تحویل میں ہے، گزشتہ روز اس پر تلواروں سے حملے کی بھی کوشش کی گئی

  • وزیرآباد واقعے میں ایک نہیں3 شوٹر تھے،عمران خان، تیسری بار بدلا بیان

    وزیرآباد واقعے میں ایک نہیں3 شوٹر تھے،عمران خان، تیسری بار بدلا بیان

    راولپنڈی:وزیرآباد واقعے میں ایک نہیں3 شوٹر تھے،عمران خان، تیسری بار بدلا بیان،اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے راولپنڈی میں ایک بارپھر وزیرآباد واقعہ کے حوالے سے اپنا بیان بدلہ ہے ، عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیرآباد واقعے میں ایک نہیں3 شوٹر تھے،

    عمران خان کو یوٹرن ماسٹر کہا جاتا ہے وہ اپنے جھوٹوں کو یوٹرن کہتے ہیں، عمران خان نے وزیر آباد حملے کے بعد ایک بار نہیں بار بار بیان بدلے اور ایسے لگ رہا ہے کہ آنیوالے دنوں میں وہ مزید بیان بدلیں گے، راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کہ وزیرآباد میں میرے اوپرہونے والے حملے میں ایک نہیں بلکہ تین شوٹرتھے،عمران خان اپنی تقریر میں کہا کہ جب میرے اوپرحملہ ہوا تو اس وقت نیچے کھڑے ہوئے شوٹر پر فائرنگ کی گئی ،جس کے نتیجے میں فائروہاں شوٹرکے پیچھے جانے والے معظم کو لگا اور وہ جاںبحق ہوگیا،

    عمران خان نے شوکت خانم میں حملے کے بعد پہلی پریس کانفرنس کی تھی تو اسوقت کہا تھا کہ دو شوٹر تھے، عمران خان پر حملے کے بعد عمران خان کا میڈیکل کسی سرکاری ہسپتال سے نہیں ہوا،عمران خان اپنی مرضی سے شوکت خانم گئے، میڈیکل سرکاری ہیسپتال سے نہ ہونے کی وجہ سے عمران خان کو کتنی گولیوں کے‌ذرات لگے،کیا ہوا، کچھ ؤاضح نہیں کیونکہ عمران خان خود تو ہر روز بیان بدل رہے ہین اور کبھی کہتے ہیں دو گولیاں لگیں، کبھی کہتے ہیں تین لگیں،کبھی کہتے ہین چار، اب شوٹر والے بیان پر بھی عمران خان قائم نہ رہ سکے،

    عمران خان پر حملے کی تحقیقات کرنیوالی جے آئی ٹی بھی عمران خان کے دو شوٹر کے پہلے دعوے کو رد کر چکی ہے ،جے آئی ٹی کا کہنا ہے کہ حملہ آور ایک ہی تھا ، دوسری گولیاں عمران خان کے سیکورٹی گارڈ نے چلائیں، تاہم عمران خان اپنا دماغ لڑاتے ہوئے ہر روز نیا انکشاف کرتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں کہ میں نے اس بارے پہلے کیا تھا،

    الیکشن کی تاریخ چاہئے تو عمران خان پی ڈی ایم قیادت سے ملیں، وزیر داخلہ

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    خان صاحب کی نظریں کہہ رہی ہیں کہ محمود خان آ سکتا ہے تو وہ کیوں نہیں آیا؟

     عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی اسمبلیوں سے نکلنے کا اعلان کر دی

  • تھانے میں میری ویڈیو بنائی گئی، انیقہ ممتاز اسلام آباد پولیس پر برس پڑیں

    تھانے میں میری ویڈیو بنائی گئی، انیقہ ممتاز اسلام آباد پولیس پر برس پڑیں

    اسلام آباد:جس شہرکاقاضی ملاہوظالم سے،اس شہرمیں عزت سلامت نہیں رہتی:وزیراعظم صاحب:مجھےانصاف کون دے گا:ڈاکٹرانیقہ ممتازکی بے بسی کے آنسووں کو دیکھ کرکوئی بھی اپنے جزبات پر قابونہ پاسکا

    اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی ڈاکٹرانیقہ ممتاز کہتی ہیں کہ میں پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہوں اور پمز ہسپتال اسلام آباد میں بطور ڈاکٹر خدمات سرانجام دے رہی ہوں ،ڈاکٹرانیقہ ممتازکہتی ہیں کہ میرا شوہر جسکا نام مدثر ہے پمز ہسپتال کے شعبہ ڈینٹسٹری میں ملازم ہے، متعدد مرتبہ مجھے بدترین تشدد کا نشانہ بنا چکا ہے، ڈاکٹر انیقہ ممتاز اپنی بے بسی کااظہارکرتے ہوئے کہتی ہیں کہ گزشتہ ہفتے کے روز بھی ہماری لڑائی ہوئی جسکے بعد میں نے ریسکیو 15 کال کی اور اسکے بعد میرے شوہر نے بھی مختلف لوگوں کو متعدد کالز کیں،

    ڈاکٹر انیقہ ممتازاپنے اوپرہونے والے ظلم وزیادتی کے بعد اسلام اباد کے طاقتورلوگوں کی بے حسی پرکچھ یوں‌ کہتی ہیں‌ کہ تھانہ کراچی کمپنی پہنچنے پرحیران کن طور پر پولیس کا رویہ جانبدار تھا،پولیس نے میری بات سننا تک گوارہ نہ کی،اے ایس آئی صادق کا رویہ انتہائی غیرمہذب اور ناقابل برداشت تھا،ڈاکٹر انیقہ کہتی ہیں کہ وہ پیسے کے لحاظ سے اسلام آباد کے ایک بڑے ہسپتال کی سنیئرڈاکٹر ہیں اور وفاقی دارالحکومت میں ایک خاتون ڈاکٹر کیساتھ پولیس کا ایسا رویہ ہو سکتا ہے میرے وہم وگمان میں نہیں تھا،

    ڈاکٹر انیقہ ممتازنے پولیس کے رویے کے بارے میں بتایا کہ میں نے متعدد بار اپنا موقف پولیس کے سامنے پیش کرنا چاہا اور یہ باور کروانے کی کوشش کی میں نے ریسکیو 15 پر اپنے شوہر کیخلاف شکایت درج کروائی مگر مدعی کیساتھ ملزم سے بھی بدتر سلوک کیا گیا،اے ایس آئی صادق نے میری ایک نہ سنی اور مجھے گالیاں دینا شروع کر دیں جس پر میں نے احتجاج کیا، ڈاکٹر انیقہ ممتازپولیس کی غیراخلاقی حرکتوں کا نقشہ کچھ یوں کھینچتی ہیں کہ پولیس میرے شوہر سے ملی ہوئی تھی تو کمال ہوشیاری اور پولیس کی ملی بھگت سے میرے عقب میں کھڑے میرے شوہر نے اس صرف میری ویڈیو بنائی،

    ڈاکٹر انیقہ ممتازنے اسلام آباد میں طاقتورحلقوں کو بتاتی ہیں کہ اس دوران تھانہ کراچی کمپنی کے اے ایس آئی صادق نے غلیظ زبان استعمال کی اور مجھے اشتعال دلایا گیا، ویڈیو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بنائی گئی، تھانہ کراچی کمپنی کے اے ایس آئی صادق نے میرے شوہر کیساتھ ملکر جھوٹ پر مبنی ٹیمپر شدہ وڈیوز مختلف واٹس ایپ گروپوں بالخصوض سوشل میڈیا پر وائرل کی، ویڈیو سے خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کی، کیونکہ انہوں نے صرف میرا چیخنا دکھایا، ویڈیو میں منصوبے کے تحت اے ایس آئی صادق کی بدتمیزی اور غلیظ زبان کو نظر انداز کیا گیا،

    ڈاکٹر انیقہ ممتازنے بتایا کہ ماضی کی طرح اس روز بھی میرے شوہر نے مجھ پر پمز ہسپتال کی پارکنگ میں گھریلو تنازعہ پر بحث کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا۔ تہذیب یافتہ خاندان سے تعلق رکھتی ہوں بلاجواز کوئی کسی پر اس انداز میں کیسے چیخ سکتا ہے،اے ایس آئی صادق نے مجھے غلیظ گالیاں دے کر منصوبے کے تحت اکسایا تاکہ صرف میری ویڈیو بنا کر مذموم مقاصد حاصل کئے جاسکیں،سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر جھوٹی خبروں میں پولیس اور شوہر مدثر کی ملی بھگت سے میری کردار کشی کی گئی،

    ڈاکٹر انیقہ ممتاز بتاتی ہیں کہ مدثر نے جون 2021 میں میرے گھر میں گھس کر مجھے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور سامان کی توڑ پھوڑ بھی کی جسکے بعد میں نے تھانہ گولڑہ میں درخواست دی پر بعد ازاں اسکے نادم ہونے اور معافی مانگنے پر خدا واسطے معاف کر دیا، ستمبر 2021 میں اس نے مجھ پر جان لیوا حملہ کیا جس کا مقدمہ تھانہ لوہی بھیر میں درج ہوا،

    ڈاکٹرانیقہ ممتاز بتاتی ہیں کہ جعلی نکاح سے متعلق جون 2022 میں میری درخواست پر پولیس نے مدثر کے خلاف مقدمہ درج کیا تاہم نہ پولیس نے اسے گرفتار کیا نہ ہی جعلی نکاح کروانے والے نکاح خواں اور اسکے ساتھیوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی، عدالت میں حقیقی نکاح کے بعد رواں سال اگست اور ستمبر میں بھی میرا ظالم اور ذہنی مریض شوہر ظلم و ستم کرنے سے باز نہ آیا، یکم اکتوبر کو بھی اس نے بیہمانہ تشدد کیا ۔مدثر کے تشدد کے بعد تھانے جا کر جو سلوک ہوا وہ ناقابل برداشت ہے،

    ڈاکٹر انیقہ ممتاز کا کہنا تھا کہ میں ٹیکس ادا کرتی ہوں پاکستان کی معزز شہری اور ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ خاتون ہوں،مہذب معاشروں میں خواتین کیساتھ ایسی نازیبا زبان میں بات کرنے اور گالیاں دینے کا تصور نہیں ہے، وفاقی پولیس کے تھانے میں مثالی پولیس کا خاتون کیساتھ ایسا رویہ کسی طور قابل قبول نہیں ہوسکتا ہے، میرے ساتھ ہونے والا دل خراش واقعہ اعلی پولیس حکام کے لئے لمحہ فکریہ ہے،افسوس کیساتھ کہنا چاہوں گی کہ پولیس سٹیشن میں میرا موقف نہیں سنا گیا،

    ڈاکٹر انیقہ ممتازنے بتایا کہ ایک پڑھی لکھی خاتون کی تذلیل کی گئی یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر میرا موقف درست نہ تھا تو ویڈیو وائرل ہونے کے بعد آئی جی اسلام آباد پولیس کو از خود نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کروا کر حقائق کو سامنے لانا چاہیے تھا،ریسکیو 15 کی کال، پولیس سٹیشن میں نصب سی سی ٹی کیمروں کی مدد سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکتا ہے، ڈاکٹر انیقہ ممتازبتارہی تھیں کہ المیہ یہ ہے کہ وفاقی پولیس کے اعلی افسران سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی،

    ڈاکٹرانیقہ ممتازکا کہنا تھا کہ میری وفاقی وزیر انسانی حقوق ریاض حسین پیرزادہ ، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان پولیس سے مطالبہ ہے کہ میری ایف آئی آرز سمیت حالیہ واقعے اور جون 2022 کے تھانہ کراچی کمپنی میں درج مقدمہ کی اعلی سطحی غیر جانبدارانہ انکوائری ہنگامی بنیادوں پر کروائی جائے اور میری داد رسی کی جائے،

    ڈاکٹر انیقہ ممتازایک بہت بڑے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں سارا شاہنواز یا نور مقدم جیسے افسوسناک واقعات کے بعد نادم ہوا جائے اور انصاف کے لئے آواز بلند کی جائے،مدثر جو ایک ذہنی مریض ہے، متعدد مرتبہ گلہ دبانے سمیت تھپڑوں مکوں سے زخمی کر چکا ہے جسکے تصویری ثبوت بھی موجود ہے مگر تاحال نہ پولیس سے ریلیف ملا نہ ہی کسی دوسرے فورم سے ازالہ ہوا،اب ظلم کی انتہا ہو چکی ہے میں انصاف کے حصول کے لئے ہر فورم پر جاؤں گی،ڈاکٹر انیقہ ممتازنے عزم کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ میں انصاف ملنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گی۔

  • پوچھنا جرم بن گیا ،”تم کون ہواور کیا کررہے ہو”نامعلوم افراد کی فائرنگ بزرگ جانبحق

    پوچھنا جرم بن گیا ،”تم کون ہواور کیا کررہے ہو”نامعلوم افراد کی فائرنگ بزرگ جانبحق

    پوچھنا جرم بن گیا ،”تم کون ہو اور کیا کر رہے ہو”نامعلوم افراد کی فائرنگ بزرگ جانبحق

    چکوال (ایم قیصر شیخ ) تفصیلات کے مطابق چکوال میں پولیس چوکی بشارت کے علاقہ چھوئی رانجھا میں نا معلوم افراد کی فائرنگ سے محمد خان نامی بزرگ جاں بحق ہوگیا

    ذرائع کے مطابق مقتول نے نا معلوم مسلح افراد سے باز پرس کی “کہ تم کون ہو اور کیا کررہے ہو” جس پر وہ سیخ پا ہوگیا اور فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں بزرگ محمد خان موقع پر دم توڑ گئے اور نامعلوم مسلح ملزم موٹرسائیکل پر فرار ہوگیا.واقعہ کی اطلاع ملنے پر نئے تعینات ہونے والے کامران نواز پنجوتھا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے فوری نوٹس لیا ، مرزا محمد یسین ایس ڈی پی او چوآسیدن شاہ سرکل اور ضمیر حسین ایس ایچ او تھانہ چوآسیدنشاہ کو ہمراہ فورس موقعہ پر بھجوایا

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    پولیس کے مطابق کرائم سین یونٹ اور پی ایف ایس اے کی ٹیمز کو بغرض حصول شواہدات موقع پر بلوا لیا گیا ہے اور لاش کو پوسٹمارٹم کے لئے ٹی ایچ کیو ہسپتال چوآسیدنشاہ بھجوا دیا گیا کامران نواز پنجوتھا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال کی ھدایات پر مرزا محمد یسین ایس ڈی پی او چوآسیدن شاہ اور ضمیر حسین ایس ایچ او تھانہ چوآسیدنشاہ کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے ملزم کی جلد گرفتاری کے لیے ریڈ کئے جارہے ہیں،اس موقع پر ڈی پی او چکوال کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انشاء اللہ جلد ہی ملزمان کو ٹریس کرکے گرفتار کرلیا جائیگا۔ ملزمان کو ٹریس کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں

  • پڑھائی میں تسلی بخش جواب نہ دینا جرم، باپ نے بیٹے پرتیل چھڑک کر آگ لگا دی

    پڑھائی میں تسلی بخش جواب نہ دینا جرم، باپ نے بیٹے پرتیل چھڑک کر آگ لگا دی

    پڑھائی میں تسلی بخش جواب نہ دینا جرم، باپ نے بیٹے پرتیل چھڑک کر آگ لگا دی
    اورنگی ٹاؤن کے علاقے اقبال مارکیٹ میں باپ نے بیٹے پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی جس سے دو دن زیر علاج رہنے کے بعد بیٹا انتقال کر گیا

    پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا، واقعہ پڑھائی میں دل نہ لگانے اور پتنگ اڑانے کی ضد کرنے پر پیش آیا۔ایس ایچ او اقبال مارکیٹ انسپکٹر سلیم خان نے بتایا کہ 14 ستمبر کو اقبال مارکیٹ کے رہائشی نذیر خان کے 12 سالہ بیٹے شہیر نے اپنے والد سے پتنگ اڑانے کی ضد کی، اس دوران جب باپ نے اپنے بیٹے سے پڑھائی کے بارے میں پوچھا تو وہ کوئی جواب نہیں دے سکا، اس نے اسکول کے ہوم ورک کے بارے میں معلوم کیا تو بھی بچے نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا جس پر نذیر خان کو اپنے بیٹے پر غصہ آگیا۔پولیس افسر کا کہنا تھا کہ چیخ و پکار سننے پر بچے کی ماں شازیہ بھی اسے بچانے آئی جبکہ والد نذیر نے بھی اس پر کمبل اور دیگر کپڑے ڈالے، بچے کو فوری طور پر سول اسپتال کے برنس وارڈ لے گیا جہاں بچہ دو روز تک زیر علاج رہنے کے بعد 16 ستمبر کو انتقال کر گیا۔

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    ایس ایچ او انسپکٹر سلیم نے مزید بتایا کہ بچے کی تدفین انتقال کے اگلے روز ہی کر دی گئی اور اس دوران پولیس کو کسی نے کچھ نہیں بتایا لیکن انھیں سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ کوئی بچہ اورنگی ٹاؤن میں جھلس کر انتقال کرگیا ہے جس پر انھوں ںے اس ویڈیو کی تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ وہ ان کے ہی علاقے اقبال مارکیٹ کی ہے جس پر وہ نذیر کے گھر پہنچے تاہم نذیر گھر پر نہیں ملا جس کے بعد انھوں نے اس کی اہلیہ شازیہ کے گھر والوں سے رابطہ کیا تو شازیہ نے ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔

    ایس ایچ او کے مطابق باپ نے بیٹے کو ڈرانے کے لیے گھر میں رکھا مٹی کا تیل اور تھنر جوکہ وہ اپنے گھر میں رنگ کرنے کے لیے لایا تھا پھینک دیا جس پر بچہ بہت زیادہ خوفزدہ ہوگیا، نذیر نے اسے ڈرانے کے لیے ماچس کی تیلی جلائی اور اس پر پھینک دی جس سے شہیر شعلوں کی نذر ہوگیا۔

  • لیڈیز کالج کی آڑ میں قحبہ خانہ،استاد کی طالبات کے ساتھ رنگ رلیاں، ویڈیو وائرل

    لیڈیز کالج کی آڑ میں قحبہ خانہ،استاد کی طالبات کے ساتھ رنگ رلیاں، ویڈیو وائرل

    گگو منڈی کے لیڈیز کالج کی آڑ میں قحبہ خانہ کھل گیا۔

    استاد اپنی طالبہ سے رنگ رلیاں مناتے ہوئے پکڑا گیا، ویڈیو وائرل ہو گئی، ۔ٹیچروں کے کرتوت ظاہر کرنے پر چوکیدار کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں،وڈیو وائرل ہونے پر مذہبی و سماجی حلقوں میں غم وغصہ پایا جانے لگا۔

    گزشتہ روز لیڈیز کالج گگو منڈی کے چوکیدار محمد افضل نے صحافیوں کو بتایا کہ! کالج کا مالک ایک عیاش قسم کا شخص ہے، جو چوری کے مقدمہ میں جیل بھی بھگت چکا ہے۔لیڈیز کالج گگو منڈی میں بھی قحبہ خانہ کھول رکھا ہے، جہاں آئے روز طلباء و طالبات کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کالج کا ہی ایک ٹیچر عابد آکاش آفس میں ایک طالبہ سے نازیبا حرکتیں کرتا پکڑا گیا تھا، جس کی وڈیو بھی وائرل ہوچکی ہے۔ محمد افضل نے بتایا کہ! اس سے پہلے بھی کالج کے متعدد ٹیچرز بچوں کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بناتے ہوئے پکڑے گئے تھے، جن کے ثبوت بھی میرے پاس ہیں۔ ٹیچر کی اپنی طالبہ سے رنگ رلیاں منانے کی وڈیو وائرل ہوتے ہی مذہبی و سماجی حلقوں میں غم و غصہ پایا جانے لگا ہے اور والدین نے اپنے بچوں کو نجی کالجز و اکیڈمیوں سے تعلیم ادھوری چھڑوا کر گھروں میں بٹھا لیا ہے۔

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس بابت موقف لینے کیلئے لیڈیز کالج کے مالک محمودالحسن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ! کالج کی بلڈنگ میں ہی بیس اکیڈمی ہے۔ یہ واقعہ وہاں ہوا ہے کالج کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • سب سے بڑا ڈاکو پنجاب کا وزیراعلیٰ تو ڈیرھ ارب کرپشن سیکنڈل کا ملزم مشیر مقرر

    سب سے بڑا ڈاکو پنجاب کا وزیراعلیٰ تو ڈیرھ ارب کرپشن سیکنڈل کا ملزم مشیر مقرر

    انصاف اور احتساب کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے والی جماعت نے انصاف کے ساتھ ساتھ اپنوں کے لئے احتساب بھی ختم کر دیا

    نواز شریف، آصف زرداری تو لٹیرے ٹھہرے لیکن پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو جسے کہا تھا اسکی درجن سے بھی کم سیٹیں ہونے کے باوجود پنجاب کا وزیراعلیٰ کا بنا دیا گیا ، پرویز الہیٰ نے بھی وزیراعلیٰ بنتے ہی کمال کر دکھایا ، ایسے لوگوں کا اپنا مشیر منتخب کرنا شروع کر دیا جو پہلے ہی سیکنڈلائز ہیں اور کرپشن کے کیسز میں انکے نام آ چکے ہیں،

    این آئی سی ایل سکینڈل کےمرکزی کردارایاز خان نیازی وزیراعلیٰ کے مشیرمقرر،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے ایک بہت بڑے ادارے میں بہت بڑے اسکینڈل کے مرکزی کردار ایاز خان نیازی کو وزیراعلیٰ پنجاب کا سیاسی مشیر بنانے پرسخت تنقید کی جارہی ہے ،ایازخان نیازی کی اس تقرری پرسوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پرویزالٰہی اور عمران خان نے ایک کرپٹ شخص کو مشیر بنا کراپنے ہی نظریے کی نفی کی ہے ، عوام الناس کا کہنا ہے کہ انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ عمران خان کسی ایسے شخص کوکابینہ کا حصہ بنائیں گے مگرایسا ہوگیا ،

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ تین نوجوان دوست مونس الہی،محسن وڑائچ اور ایاز خان نیازی —ڈیرہ ارب روپے کے NICL سکینڈل کے مرکزی کردار تھے۔ آج مونس کے ابا حضور پرویز الہی نے اسی ایاز نیازی کو اپنا مشیر مقرر کر دیا۔
    امید ہے تینوں دوست اپنی “قابلیت”کا سلسلہ وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے ٹوٹا

    صحافی رؤف کلاسرا ٹویٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ PTI نوجوانو مبارک ہو۔ سڑکوں پر شیل کھاتے رہے،پولیس کی کٹ کھائی لیکن لاٹری ایاز خان نیازی کی نکل آئی جو NICK سکینڈل میں گرفتار رہا،عدالت نے سات سال سزا سنائی۔آف شور کمپنیاں۔آج پرویز الہی نے اسے ایڈوائز بنا لیا۔ عوام صرف پسند کے لیٹروں کو اقتدار میں چاہتی ہے۔بس لیٹرا مرضی کا ہو

    رؤف کلاسرا ایک اور ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ جس ایاز خان نیازی کو آج پرویز الہی نے اپنا مشیر مقرر کیا ہے ان کے بارے SC فیصلہ پڑھ لیں تو کانوں سے دھواں نکل جائے۔مونس الہی بارے ہدایت بھی پڑھ لیں کہ ان سے لندن بنک اکاونٹ سے گیارہ لاکھ پونڈز بھی ریکور ہونے تھے۔ آج دونوں دوست دوبارہ حکمران بن گئے ہیں۔عوام کا بس لیٹرا مرضی کا ہو

    وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے اپنی کابینہ میں توسیع کردی، 3 مشیر اور 4 معاونین خصوصی کی تقرری کے نوٹیفکیشن جاری کردیئے گئے۔وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے 3 سیاسی مشیروں کا تقرر کردیا، عمر سرفراز چیمہ وزیراعلی پنجاب کے ایڈوائزر ہوں گے، محمد ایاز خان نیازی اور نوابزادہ وسیم خان بادوزئی بھی سیاسی مشیر ہوں گے۔چیف سیکریٹری پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیران اور معاونین خصوصی کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    یاد رہے کہ نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) اسکینڈل میں اربوں روپے کا ایک سیکنڈل سامنے آیا جس میں‌ سابق چیئرمین ایاز خان نیازی سمیت چھ ملزمان شامل تھے نیب کے مطابق ملزمان پر کورنگی میں مہنگے داموں زمین خریدنے کا الزام تھا اور ملزمان نے قومی خزانے کو 490 ملین روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ مئی دو ہزار دس میں ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر نیشنل انشورنس کمپنی میں میگا اسکینڈل کا بھانڈہ پھوڑا تھا۔ جس پر عدالت نے ازخود نوٹس لیا تو بڑے بڑے پردہ نشینوں کے نام سامنے آئے تھے۔

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • سروسز ہسپتال کے ہاسٹل سے نرس کی لاش برآمد

    سروسز ہسپتال کے ہاسٹل سے نرس کی لاش برآمد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہسپتال کے ہاسٹل سے نرس کی لاش ملی ہے

    واقعہ سروسز ہسپتال میں پیش آیا،سروسز ہسپتال کے ہاسٹل سے نرس کی لاش برآمد ہوئی ہے، اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، پولیس حکام کے مطابق سونیا مردہ حالت میں پائی گئی جو جڑانوالہ کی رہائشی تھی سونیا نیورولوجی ڈیپارٹمنٹ میں تعینات تھی۔لاش تحویل میں لے پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوا دی گئی ہے، حقائق پوسٹمارٹم کے بعد سامنے آئینگے، تفتیش جاری ہے

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کرلی اور واقعہ کی ہر پہلو سے تحقیقات کا حکم دے دیا، اور کہا کہ جامع انکوائری کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔ تمام حقائق سامنے لائے جائیں۔

    نوٹ، اس خبر کو اپڈیٹ کیا جا رہا ہے

    ہوٹل میں جوڑوں کی غیر اخلاقی، فحش ویڈیو بنانے والا ہوٹل منیجر گرفتار ک

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    شک تھا ناجائز اولاد ہے،سفاک باپ نے بیٹی کو ذبح کر دیا

  • عمران ریاض خان صحافی  یا فراڈ، سب سچ سامنے آ گیا

    عمران ریاض خان صحافی یا فراڈ، سب سچ سامنے آ گیا

    عمران ریاض خان صحافی یا فراڈ، سب سچ سامنے آ گیا

    کُچھ انسان اپنی شیطانی صفات اور دوسروں پر غلبہ پانے کی شدید خواہش کو اپنی شعلہ بیانی کے پیچھے چُھپانے کا فن جانتے ہیں۔ عمران ریاض خان ایک ایسا ہی شخص ہے۔ غُربت اور آواہ پن کی آغوش سے جنم لینے والی لالچ کا پیکر ہے

    عمران ریاض کا باپ ریاض خان ٹریکٹر مکینک تھا ۲۰۰۹ میں پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی میں سفارش سے دوبارہ ملازمت حاصل کی۔ سارا بچپن اور جوانی غربت اور شیطانی خیالات میں گزرا۔ عمران ریاض آج سات زاتی لگژری گاڑیوں کا مالک، ڈیفینس لاہور کے قریب زاتی گھر، کئ پلاٹ، چکوال میں ڈیم کنارے چار سو کنال پر مُحیط فارم ہاؤس، ایک پُر تعیش زندگی گزار رہا ہے۔

    ۲۰۰۸ میں عارضی رپورٹر بھرتی ہوا، سیاسی بیٹ ملی ، تعلقات بنے ٹوٹی موٹر سائیکل سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے دھندے میں ہاتھ ڈالا۔ ٹاؤٹی کی گاہک ڈھونڈے تو چار پیسے بنے۔ صحافت سے پہلے عملی زندگی کا آغاز کار چوری کے بادشاہ گینگ میں شمولیت سے کیا۔ ۲۰۰۸-۱۰ تک لاہور میں یہ گینگ بُہت فعال تھا جو بعد میں سی سی پی او شفیق گُجر کی کوششوں سے ختم ہوا آج اسکی زاتی گاڑیوں کے فلیٹ میں مرسڈیز بینز ، ویگو ، ہای لکس، رییوو ، سوک اور سٹی شامل ہیں۔

    مہنگے اور غیر قانونی شکار نے موصوف کو گیلا تیتر کے عوامی لقب سے نوازا۔ ۲۰۲۰ میں چکوال کی حسین وادیوں میں تین سو نایاب تیتر شکار کرنے کے بعد بے رحمی سے گاڑی میں لاد کر جاتے ہوے ایک تصویر نے عمران کے اس روپ سے عوام کو آشنا کیا۔ ایاز امیر صاحب ماحولیات کے بُہت بڑے چیمپین ہیں لیکن اس بے رحمانہ شکار پر کبھی آواز نہ نکلی۔

    ناجائز قبضوں ، جھگڑے والی زمینوں کے سودوں میں بھی عمران ریاض نے خوب مال کمایا۔ ۲۰۱۸ میں مُخالف پارٹی کی فائرنگ کی ایف آئ آر ۳۶۹/۱۸ تھانہ ٹاون شپ آج بھی اسکی گواہی دے رہی ہے۔ ۲۰۲۰ میں youtube channel میں جھوٹی سچی باتوں اور جعلی شعلہ بیانی سے شہرت ملی ورنہ شہر میں عمران کی آبرو کیا ہے سب جانتے ہیں۔ ۲۰۲۱ میں دھرابی ڈیم چکوال میں عمران ریاض کے والد نے چار مشکوک کمپنیوں کی مدد سے چار کروڑ بایس لاکھ کا ماہی بانی کا ٹھیکہ حاصل کیا۔ اس ٹھیکے کی انکوئری اینٹی کرپشن اتھارٹی پنجاب کر رہی ہے۔

    عمران ریاض کے مالیاتی گوشوارے ہوش رُبا داستان سُناتے ہیں۔ چند ہی سالوں اثاثوں اور دولت کی ریل پیل ! ۲۰۲۰-۲۱ میں کُل آمدنی دس کروڑ چھبیس لاکھ اٹھاسی ہزار جس میں سے أٹھ کروڑ ستاسی لاکھ غیر مُلکی آمدن۔ صرف ایک سال میں آمدن میں نو کروڑ کا اضافہ۔

    بنک سے ڈھائی کروڑ کا قرضہ لیا پلاٹ لیا جبکہ اسی سال تین کروڑ کا نامعلوم گفٹ دیا !

    دو پلاٹ ملت سوسائٹی میں تین کروڑ پچیس لاکھ خریدے جبکہ اُس سال کُل آمدن ایک کروڑ تیس لاکھ رہی۔

    ایف بی آر گوشواروں کا تفصیلی جائزہ لے کر اس نتیجے پہ پہنچی کہ تین کروڑ بیس لاکھ کا ٹیکس واجب الادا ہے۔

    عمران ریاض کی ذندگی اس معاشرے کے اخلاقی بگاڑ کی زندہ مثال ہے۔ سفارش تعلق اور بدمعاشی سے کیسے طاقت اور دولت کو گھر کی باندی بنایا جاسکتا ہے۔ تحریکِ انصاف کے لاکھوں چاہنے والوں کا آئیڈیل ایک فراڈ اور رانگ نمبر ہے۔

    زرا سوچئے !

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران ریاض خان، قانون کی دھجیاں اڑانے لگے، اسلحہ سے لیس، محافظوں کی فوج،پولیس نے اسلحہ سے پاک مہم کے تحت اسلحہ لائسنس معطل کرنے کی درخواست کی، اٹھارہ لائسنس جو لاہور میں تھے، باقی چکوال مین انکے فارم ہاؤس اور پنڈی میں تھے، عمران ریاض سوشل میڈیا پر عوام کو قانون کی پاسدراری کا درس دیتے ہیں تا ہم اسلحہ کا اتنی بڑی تعداد پر اب انہیں خود تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515879″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515878″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515877″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515876″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515875″ /]

  • پولیس افسران کے حکم پر گھر میں گھس کر شہریوں پر تشدد،مقدمہ جھوٹا ثابت،افسران کو بچانے کی کوشش

    پولیس افسران کے حکم پر گھر میں گھس کر شہریوں پر تشدد،مقدمہ جھوٹا ثابت،افسران کو بچانے کی کوشش

    پولیس افسران کے حکم پر گھر میں گھس کر شہریوں پر تشدد،مقدمہ جھوٹا ثابت،افسران کو بچانے کی کوشش
    لاہور 18 -19 اپریل 2022 کی درمیانی شب جوھِر ٹاون کے علاقہ G4 میں پرائیویٹ کمپنی مالک شوکت علی گل اور بیوی بچوں پر پولیس کے دو ایس پی حضرات کے ذاتی/ غیر قانونی حکم پر تھانہ بادامی باغ اور تھانہ جنوبی چھاؤنی سے بھیجے گئے بے وردی پولیس اہلکاروں کا گھر کی دیوار پهلانگ کر بدترین تشدد، توڑ پھوڑ ،اہم کاغذات لیپ ٹوپ بچے کا ٹیب اور موبائل فون چھین لئے ۔

    ۱۸-۱۹ اپریل ۲۰۲۲ کو پنجاب پولیس کے 2 ایس پی ( عیسی سکھیرا اور حفیظ بگٹی ) کے ذاتی حکم پر سادہ کپڑوں میں ملبوس بادامی باغ تھانے کے پولیس اہل کاروں اور SP کینٹ عیسی سکھیرا کے ذاتی گارڈ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے بغیر وارنٹ آدھی رات کو جوہر ٹاؤن کے علاقے G/4 میں گیٹ پھلانگ کر پرائیویٹ کمپنی کے مالک کے گھر کے تمام دروازے توڑتے ہوئے بیڈ روم کے اندر گُھس گئے، بیوی بچوں کے سامنے بیہامانہ تشدد کیا- لیپ ٹاپ ، بچے کا ٹیب، موبائلز چھین لیے، کمپنی کے مالک شوکت علی گل کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر تشدد کرتے ہوئے اور گھسیٹتے ہوئے پولیس ڈالے میں ڈال کر تھانہ جنوبی چھاؤنی میں لے گئے – جہاں جھوٹی FIR درج کی گئی،

    وردا فضل نامی ایک ہائی سوسائٹی گرل نے اپنے سابقہ شوہر سجاد ہاشمی جو کہ ایک کمپنی میں اعلی عہدے پر فائز ہے، کے خلاف دھمکیاں دینے کی ایک جھوٹی شکائت کراچی سے واٹساپ میسج پر اپنے دوست SP حفیظ بگٹی کے ذریعے SP کینٹ عیسی سُکھیرا کو بھجوائی ، جنہوں نے بغیر تحقیقات کئے FIR درج کرنے کا حکم دیا اور SP حفیظ بگٹی کی بادامی باغ سے بھیجے گئے سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اھل کاروں/غنڈوں کی ٹیم کے ساتھ تھانہ جنوبی چھاؤنی کے اھل کار بھیج دئے، پولیس کی اس غنڈہ بردار ٹیم نے بغیر کسی قانونی استحقاق کے پہلے سجاد ھاشمی جو کہ خود ایک کمپنی میں چیف آپریٹنگ آفیسر ہے، اسکو مورخہ ۱۸ اپریل رات کے ۹ بجے انکے دوست کے ساتھ ان کے آفس ڈیفنس فیز 6 سے زبردستی آنکھوں پر کپڑا باندھ کر تشدد کرتے ہوئے اُٹھایا اور ان کے بھی موبائل فون ، لیپ ٹاپ چھین لئے، اور تھانہ جنوبی چھاؤنی لے گئے-

    بعد ازاں بادامی باغ /جنوبی چھاؤنی تھانے اور ذاتی گارڈ کی اسی ٹیم نے رات کے ۱۲:۳۰ بجے سجاد ھاشمی کے بہنوئی شوکت علی گل جو کہ ایک پرائیویٹ کمپنی کے مالک بھی ہیں، اور جنکی کمپنی کیلئے وردا فضل HASCOL کی ملازمہ ہوتے ہوئے کام کرتی تھیں اور کروڑوں کا فراڈ کر گئیں، وردا فضل کے خلاف کمپنی کے مالک شوکت علی گل نے HASCOL کمپنی کے CEO عقیل خان کو مورخہ 7 اپریل2022 کو ایک خط بھی لکھا تھا، انھی اقدامات کی پاداش میں ہائی سوسائٹی گرل وردا فضل نے مبینہ طور پر اپنے حفیظ بگٹیSP کے ساتھ ناجائز تعلقات استعمال کرتے ہوئے SP عیسی سُکھیرا کے ساتھ اس تمام غیر قانونی آپریشن کا نہ صرف پلان کیا بلکہ کراچی سے بیٹھ کرآن لائن ویڈیوز کے زریعے ایک ایک ایکشن کو کنٹرول کیا-

    کمپنی کے مالک شوکت علی گل کے گھر آدھی رات کو دھاوا بولا گیا، ان کا لیپ ٹاپ، اور اسکے بیٹے کا ٹیب اور موبائل فونز اسی لئے قبضے میں لیے گے تاکہ کمپنی کا بزنس ریکارڈ ختم کیا جا سکے- رات کے 3 بجے شوکت علی گل اور سجاد ھاشمی کے دوست سہیل ظفر کو چھوڑ دیا گیا، جبکہ سجاد ھاشمی کو دوسرے دن SP عمران کھوکھر کے تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد چھوڑ دیا گیا کہ FIR جھوٹی ہے اور FIR میں درج کوئی وقوعہ ہوا ہی نہیں ہے –

    مورخہ ۲۲ اپریل ۲۰۲۲ کو ڈی آئی جی آپریشن ڈاکٹر عابد نے پولیس کی اس کھلے عام غنڈہ گردی کا نوٹس لیتے ہوئے 7 پولیس اہلکار بشمول 2 ایس ایچ او تھانہ بادامی باغ عمران نیازی اور تھانہ جنوبی چھاؤنی سید وجیہہ کو معطل کر دیا اور تحقیقات کا حکم دے دیا – جھوٹی FIR 971/22 جنوبی چھاؤنی مکمل تحقیقات کے بعد خارج ہو چکی ہے-

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    11 سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے پر بھارتی فوجی اہلکار گرفتار

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    مگر دوسری طرف متاثرین واقعہ کا موقف ہے کہ اس ساری واردات کے اصل کردار ایس پی حفیظ بگٹی اور ایس پی عیسی سُکھیرا کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور ان کے خلاف مکمل شہادتوں اور بیانات کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا جا رھا جبکہ اس واردات میی ملوث ایک اہم کردار جو کہ ایس پی عیسی سُکھیرا کا ذاتی گارڈ بتایا جاتا ہے، جسکے cctv فوٹیج اور تصاویر بھی موجود ہے، جو تمام تر تشدد میں پیش پیش رھا اور تشدد کی وڈیوز بنا کر SP حفیظ بگٹی اور وردا فضل کو بھیجتا رھا، اسکو بچا لیا گیا ہے، اور اسکے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ، وہ غنڈہ ابھی تک آباد ہے اور متاثرین ابھی تک حراساں ہیں -ایس پی حفیظ بگٹی جو کہ کراچی ٹرانسفر ہو چکا ہے، وہ خاندان کے دوسرے افراد خصوصی طور پر سجاد ھاشمی کے بڑے بھائی معروف سرجن ڈاکٹر پرویز محمود ھاشمی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رھا ہے – جسکے ثبوت موجود ہیں –

    متاثرین وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس پاکستان، آرمی چیف اور آئی جی پنجاب سے انصاف اور تحفظ کی اپیل کرتے ہیں، اور سوال کرتے ہیں کہ کیا ریاست ایس پی حضرات کے ذاتی احکامات کی غلام ہے؟ کیا ریاست قانون کی پابند نہیں؟ جو دفعات جھوٹی FIR میں لگائی گئیں ہیں، کیا ان کے تحت ریاستی مشینری، پولیس گردی، گھر میں گھسنا، تشدد، موبائلز لیپ ٹاپ بچے کا ٹیب لینا بنتا ہے؟ جو ابھی تک واپس نہیں کیا گیا-

    کیا ریاست ان ایس پی حضرات کے سامنے بے بس ہے، کیا ریاستی ادارے ان کو ٹھیکے پر دے دئے گئے ہے؟ اور ان کے ذاتی معاملات کی دیکھ بھال کیلئے کسی کو بھی بھینٹ چڑھایا جا سکتا ہے ؟ کیا طاقت کے نشے میں دھُت ان سول سروسز کے پولیس افسران کا کوئی احتساب کوئی پوچھ گُچھ نہیں ہے؟ کیا اس قسم کے افسران کو مستقبل میں ڈسٹرکٹ اور صوبے کا پولیس چیف لگایا جائے گا؟