Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گھوٹکی پولیس کی کاروائی، سنگین جرائم کے اشتہاری مردو عوارت گرفتار

    گھوٹکی پولیس کی کاروائی، سنگین جرائم کے اشتہاری مردو عوارت گرفتار

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق لغاری): ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی ہدایات پر گھوٹکی پولیس نے روپوش، اشتہاری اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائیوں کو تیز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں تھانہ جروار کے ایس ایچ او صفدر عباس پھلپوٹو نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اہم کامیابی حاصل کی ہے۔

    دورانِ گشت، خفیہ اطلاع پر کاروائی کرتے ہوئے پولیس نے سکھر کے تھانہ کندھرہ میں درج کرائم نمبر 101/2024 کے تحت دفعہ 302 اور 201 تعزیراتِ پاکستان کے ایک قتل کے مقدمے میں مطلوب ایک اشتہاری ملزم اور ایک ملزمہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

    گرفتار ہونے والوں میں اسحاق ولد مبارک جکھرانی اور مسمات حلیمہ عرف ذلی جکھرانی شامل ہیں، جو میرپور ماتھیلو کے نواحی علاقے گڑھی چاکر کے رہائشی ہیں۔ پولیس نے ملزم اور ملزمہ کو مزید قانونی کاروائی کے لیے متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیا ہے

  • کشمور: یوم ولادت رسول ﷺ کے انتظامات کا جائزہ، ڈپٹی کمشنر کی سیکیورٹی اور سہولیات یقینی بنانے کی ہدایت

    کشمور: یوم ولادت رسول ﷺ کے انتظامات کا جائزہ، ڈپٹی کمشنر کی سیکیورٹی اور سہولیات یقینی بنانے کی ہدایت

    کشمور (باغی ٹی وی،نامہ نگارمختیار اعوان)محسن انسانیت، سرورِ کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یوم ولادت کے سلسلے میں عقیدت، احترام اور جوش و خروش سے تقریبات کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی کمشنر کشمور آغا شیر زمان جی کی زیرِ صدارت اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اہلسنت جماعت سمیت مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون سید غضنفر علی شاہ، ڈی ایس پی سید اصغر علی شاہ، پاک آرمی اور رینجرز کے افسران و دیگر حکام نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت دی کہ ربیع الاول کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مؤثر سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ عوامی شکایات کے فوری حل کے لیے یکم ربیع الاول سے ڈی سی آفس میں 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔

    ڈی سی نے میونسپل کمیٹی اور دیگر اداروں کو ہدایت دی کہ صفائی ستھرائی اور سٹریٹ لائٹس کے انتظامات مکمل کیے جائیں، جبکہ تمام حکام جلوسوں کے راستوں کا خود دورہ کریں تاکہ تمام انتظامات وقت سے پہلے مکمل ہو سکیں۔ سیپکو اور سوئی گیس حکام کو ہدایت دی گئی کہ ربیع الاول کے اجتماعات کے دوران لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔ محکمہ صحت کو ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور عملے کی موجودگی یقینی بنانے کا کہا گیا۔ اس موقع پر میونسپل کمیٹی اور ٹاؤن کمیٹی کو کھلے مین ہولز بند کرنے اور سرکاری عمارتوں، گلیوں اور اہم شاہراہوں کو سجانے کی بھی ہدایت کی گئی۔

  • ننکانہ:تین ماہ قبل ہونے والی 18 لاکھ کی روڈ رابری کا مرکزی ملزم گرفتار

    ننکانہ:تین ماہ قبل ہونے والی 18 لاکھ کی روڈ رابری کا مرکزی ملزم گرفتار

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز)تھانہ بڑا گھر پولیس کی بڑی کارروائی میں تین ماہ قبل ہونے والی 18 لاکھ روپے کی روڈ رابری کا سراغ لگا لیا گیا۔ پولیس نے مرکزی ملزم حماد کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے واردات کے دوران چھینی گئی رقم اور اسلحہ برآمد کر لیا۔

    ڈی پی او فراز احمد نے ملزم سے برآمد شدہ 18 لاکھ روپے کی رقم مدعی مقدمہ خلیل احمد کے حوالے کر دی۔ چھینی گئی رقم واپس ملنے پر مدعی مقدمہ نے ننکانہ پولیس سے اظہار تشکر کیا۔

    ڈی پی او فراز احمد کا کہنا ہے کہ واردات کا سراغ پولیس ٹیم کی پیشہ وارانہ مہارت کا نتیجہ ہے اور شہریوں کے جان و مال اور عزت کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

  • پاک افغان بارڈر پر مزدوروں کی واحد رجسٹرڈ یونین کاغیر قانونی مزدوروں سے لاتعلقی کا اعلان

    پاک افغان بارڈر پر مزدوروں کی واحد رجسٹرڈ یونین کاغیر قانونی مزدوروں سے لاتعلقی کا اعلان

    لنڈی کوتل (تحصیل رپورٹر)پاک افغان سرحد تورخم پر مزدوروں کی نمائندگی کرنے والی رجسٹرڈ کمیٹی کے چیئرمین ذاکر عمر شینواری نے ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل میں دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے تورخم بارڈر پر مزدوروں کو درپیش مسائل اور اپنی کمیٹی کی پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔

    ذاکر عمر شینواری، جن کے ساتھ صحبت خان، اسد اللہ اور ولی اللہ بھی موجود تھے، نے بتایا کہ وہ گزشتہ 20 سال سے تورخم بارڈر پر مزدوری کر رہے ہیں اور اب مزدور یونین کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ‘تورخم مزدور کمیٹی’ حکومتی اداروں کے ساتھ باقاعدہ رجسٹرڈ ہے اور یہ واحد یونین ہے جو حکومتی قوانین کے مطابق کام کر رہی ہے۔

    انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمیٹی صرف ان مقامی مزدوروں کو رجسٹرڈ کرے گی جو قانونی طور پر مزدوری کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی بچہ یا خاتون اس کمیٹی میں رجسٹرڈ نہیں ہوں گے اور کمیٹی ایسے کسی بھی غیر قانونی کام کے ذمہ دار نہیں ہوگی جو کوئی غیر رجسٹرڈ یا غیر مقامی مزدور سرانجام دے۔

    ذاکر عمر شینواری نے آخر میں کہا کہ تورخم میں اسلام آباد ٹوڈی اڈہ کے ساتھ ان کا دفتر ہے اور اگر کسی بھی مزدور کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ ان کے دفتر سے رابطہ کر سکتا ہے۔

  • میرپورخاص: پاک آرمی کے حاضر سروس افسر میجر بلال آفتاب انتقال کر گئے

    میرپورخاص: پاک آرمی کے حاضر سروس افسر میجر بلال آفتاب انتقال کر گئے

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)پاکستان آرمی کے حاضر سروس افسر میجر بلال آفتاب خون کے سرطان کے باعث راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔ ان کا جسد خاکی آج میرپورخاص لایا گیا، جہاں ہدیٰ مسجد، ہدیٰ سٹلائٹ ٹاؤن میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ پاک آرمی کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔

    نمازِ جنازہ میں فوجی اعلیٰ افسران، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور پولیس افسران نے شرکت کی۔ پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی میرپورخاص کے ڈسٹرکٹ پریزیڈنٹ صوبیدار رانا محمد اشرف نے تمام تحصیلوں کی قیادت کرتے ہوئے اپنی ٹیم کے ہمراہ شرکت کی۔

  • ڈیرہ غازی خان: ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے گند دیہات میں پھینک کر علاقہ برباد کردیا، عوام سراپا احتجاج

    ڈیرہ غازی خان: ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے گند دیہات میں پھینک کر علاقہ برباد کردیا، عوام سراپا احتجاج

    ڈیرہ غازی خان( باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان) ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے گند دیہات میں پھینک کر علاقہ برباد کردیا، عوام سراپا احتجاج
    تفصیل کے مطابق ویسٹ مینجمنٹ کمپنی Dewoo نے شہر کا کچرا باڑہ کے خوبصورت علاقے اور وڈور روڈ کے قریب ڈال کر علاقہ مکینوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ گندگی کے ڈھیروں سے ملیریا، ہیضہ اور دیگر بیماریاں پھیلنے لگی ہیں جبکہ مقامی افراد اور گزرنے والے شہریوں کو سانس لینے میں بھی شدید دشواری کا سامنا ہے۔

    اہل علاقہ نور محمد، فیض بخش، فیضان ماچھی، حیات اللہ، عبداللہ ماچھی، عبداللہ لغاری، عمران لغاری و دیگر نے الزام لگایا ہے کہ انتظامیہ کی نااہلی کے باعث اب تک 15 سے 20 افراد سانس کی بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں اور باقی لوگ دوائیاں جیب میں رکھ کر چلنے پر مجبور ہیں۔

    مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر گند ڈالنے کا سلسلہ نہ روکا گیا تو وہ سرکاری دفاتر کے سامنے شدید احتجاج کریں گے اور کچرا پھینکنے والی گاڑیوں کو روک دیں گے۔

    اہل علاقہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

  • اوچ شریف: دریائے ستلج میں طغیانی، پانی بستیوں میں داخل، مکانات اور فصلیں متاثر

    اوچ شریف: دریائے ستلج میں طغیانی، پانی بستیوں میں داخل، مکانات اور فصلیں متاثر

    اوچ شریف ( باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے دریائے ستلج میں طغیانی کے باعث پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ پہوڑاں والا پتن کے قریب پانی تیز رفتاری سے رہائشی بستیوں میں داخل ہو گیا ہے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق 100 سے زائد مکانات اور ایک سرکاری اسکول مکمل طور پر پانی کی زد میں آ چکے ہیں جبکہ سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی تباہی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

    دیہاتی اپنے مویشی اور سامان محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں، تاہم کئی خاندان اب بھی متاثرہ علاقوں میں محصور ہیں۔

    مقامی افراد نے حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ سے فوری امدادی کارروائیوں، ریسکیو ٹیموں کی تعیناتی اور ریلیف کیمپوں کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو جانی و مالی نقصان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • سینیر صحافی ملیحہ خان لودھی کی ایم این اے خرم منور منج سے اہم ملاقات

    سینیر صحافی ملیحہ خان لودھی کی ایم این اے خرم منور منج سے اہم ملاقات

    ننکانہ صاحب (نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) سینیر صحافی ملیحہ خان لودھی نے ایم این اے خرم منور منج سے ملاقات کی، جس میں ملک کے اہم سماجی مسائل پر خصوصی گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں نوجوان نسل کی ترقی، خواتین کے حقوق، اور اقلیتوں کی نمائندگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    خرم منور منج، جو حلقہ 116 سے رکنِ قومی اسمبلی ہیں، نے کہا کہ نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت معاشرتی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے خواتین کے حقوق کی پاسداری کو بھی ہر شہری کی ذمہ داری قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایک مسلم معاشرے کے طور پر اقلیتوں کے تحفظ اور نمائندگی کا خیال رکھنا ہر پاکستانی شہری کا فرض ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایک مہذب اور مضبوط معاشرہ بنانے کے لیے ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔ یہ ملاقات ملک کی سماجی بہتری کے لیے ان دونوں شخصیات کی مشترکہ سوچ کو ظاہر کرتی ہے۔

  • تاریک راہیں ،بحران،امید کی کرن کہاں؟

    تاریک راہیں ،بحران،امید کی کرن کہاں؟

    تاریک راہیں ،بحران،امید کی کرن کہاں؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان آج کل ایسے بحرانوں کا شکار ہے جو لمحہ بھرمیں تبدیل ہورہے ہیں، جہاں ایک طرف قدرتی آفات ملک کو نگل رہی ہیں، وہیں سیاسی، معاشی اور سیکورٹی مسائل قوم کی کمر توڑ رہے ہیں۔آج 23 اگست 2025 تک یہ ملک ایک ایسے طوفان میں گھرا ہوا ہے جہاں مون سون کی شدید بارشیں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملے روزمرہ کی حقیقت بن چکے ہیں۔ بھارت کے ساتھ سرحدی تناؤ، معاشی گراوٹ اور سیاسی عدم استحکام نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آئیے اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان خطرناک حالات میں حکومتی اقدامات کافی ہیں، کیا عوام کئے جانے والے ان اقدامات سے مطمئن ہے اورعوامی سوچ کیا ہے، کیا اس دلدل سے نکلنے کا کوئی راستہ موجود ہے۔

    سب سے پہلے قدرتی آفات کی بات کریں تو پاکستان اس وقت مون سون کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 500 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ ایک افسوسناک واقعہ یہ بھی ہے کہ ریسکیو آپریشن کے دوران ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا، جس میں پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ گلگت بلتستان میں گلیشیئر پگھلنے سے 28 سال پرانی لاشوں کی برآمدگی ماحولیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔ سال روان میں پولیو کیسز 21 تک پہنچ گئے ہیں، جو صحت کے نظام کی ناکامی کو نمایاں کرتے ہیں۔ کراچی جون کے ایک مہینے میں 57 بار زلزلوں کے جھٹکوں سے لرزتا رہا۔ 20 جولائی 2025 کو دُکی کے علاقے میں کوئلے کی کان میں گیس بھرنے سے دھماکے میں 7 مزدور جاں بحق ہوئے جبکہ 2 اگست 2025 کو کوئٹہ کے علاقے میں ایک اور دھماکے سے مزید 4 مزدور ہلاک ہوئے۔ یہ تمام واقعات لمحہ بہ لمحہ بدلتے حالات اور بڑھتی تباہی کی سنگین تصویر پیش کرتے ہیں۔

    سیکورٹی چیلنجز بھی ملک کو اندر سے کمزور کر رہے ہیں۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھارتی فتنہ الخوارج کے دہشت گردانہ حملے مسلسل جاری ہیں۔ مثال کے طور پر بلوچستان میں ایک بس پر حملے میں سات افراد جاں بحق ہوئے اورٹرین اغوا کا معاملہ ابھی تازہ ہے جبکہ پولیو ورکرز پر فائرنگ اور فوجی آپریشنز میں 30 دہشت گرد مارے گئے۔ جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں لیکن افغانستان کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان نے ڈرون حملوں کا الزام عائد کیا ہے مگر سفارتی سطح پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔

    مئی 2025 میں کشمیر میں بھارت کے ایک فالز فلیگ دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان محدود جنگ چھڑ گئی۔ پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا، جس میں دشمن کی دفاعی لائنوں کو اڑا کر رکھ دیا گیا۔ دنیا نے دن کی روشنی میں بھارت کے جدید ترین رافال طیاروں سمیت 6 جنگی جہازوں کی تباہی اور ایس-400 میزائل ڈیفنس سسٹم کے ناکارہ ہونے کا منظر دیکھا۔ اس فیصلہ کن اور مختصر جنگ نے نہ صرف بھارت کے عزائم خاک میں ملا دیے بلکہ پاکستانی قوم کا مورال بھی آسمان کو چھو گیا۔ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہی اور ایسی مثالی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جس کی تاریخ میں کم ہی مثال ملتی ہے۔ اسی دوران پاکستان کی جانب سے افغانوں کو اپنے ملک واپس بھیجنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جو قومی امنگوں اور عوامی توقعات کے عین مطابق سمجھا جا رہا ہے۔

    معاشی بحران بھی پاکستان کی بنیادوں کو ہلا رہا ہے۔ کم از کم اجرت 133 ڈالر ماہانہ ہے، مگر زندہ رہنے کی لاگت 374 ڈالر تک جا پہنچی ہے، جس نے غربت کی شرح کو آسمان تک پہنچا دیا ہے۔ زراعت تباہ حالی کا شکار ہے، غذائی قلت کا خدشہ بڑھ رہا ہے اور کاروبار ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے 410 ملین ڈالر کی امداد ملی ہے لیکن یہ سمندر میں قطرے کے مترادف ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات جاری ہیں، مگر کرپشن اور سیاسی عدم استحکام ان پر سوالیہ نشان ہیں۔ قرضوں میں ڈوبا ملک خوابوں کی دنیا میں جی رہا ہے جبکہ کسان بھوک سے نڈھال اور نوجوان بیروزگاری کے ہاتھوں مایوس ہیں۔ یہ معاشی زوال قدرتی آفات اور سیکورٹی مسائل سے جڑ کر ایک ایسے شیطانی چکر کی شکل اختیار کر چکا ہے جو ملک کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے؟ شہباز شریف کی زیر قیادت حکومت بظاہر ان بحرانوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے مگر اس کی کارکردگی پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اقدامات ناکافی اور تاخیر کا شکار ہیں۔ سیلاب کے متاثرین کے لیے ریسکیو آپریشنز شروع کیے گئے، ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امداد پہنچائی جا رہی ہے اور ورلڈ بینک کے تعاون سے کلائمیٹ ریزلیئنٹ منصوبوں جیسے 213,000 گھروں کی تعمیر نو پر کام ہو رہا ہے۔ قومی صحت اور ماحولیاتی پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے، لیکن پیشگی تیاری نہ ہونے کی شکایت سب سے زیادہ سامنے آ رہی ہے۔ اگر حکومت نے موسمیاتی پیش گوئیوں پر بروقت توجہ دی ہوتی تو شاید تباہی اس پیمانے پر نہ ہوتی۔

    سیکورٹی کے محاذ پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں، افغانستان سے سفارتی احتجاج بھی ریکارڈ کروایا جا رہا ہے اور بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف پاک فوج اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے ان دشمنوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں ۔لیکن بلوچستان کی صوبائی حکومت کی رٹ انتہائی کمزورہے اور وزیراعظم پاکستان میاں شہبازشریف کی وفاقی حکومت کے کوئی سنجیدہ اقدامات دکھائی نہیں دے رہے اور مٹھی بھر دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے کوئی سیاسی حکمت عملی یا پالیسی دکھائی نہیں دے رہے.

    عوامی رائے کا جائزہ لیں تو صورت حال خاصی مایوس کن ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام حکومت کو نااہل اور کرپٹ قرار دے رہے ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت نے لوگوں کو بے حال کر رکھا ہے۔ کسان طبقہ بھوک سے نڈھال ہے، کاروبار سکڑتے جا رہے ہیں اور لوگ کہتے ہیں پاکستان کا حال اس زخمی پرندے جیسا ہے جو اُڑنا تو چاہتا ہے مگر اس کے پر کاٹ دیے گئے ہیں۔ 95 فیصد عوام حکومت کی کارکردگی سے ناخوش اور مایوس ہیں، تاہم یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ اگر ادارے مضبوط ہوں تو حالات بدل سکتے ہیں۔

    دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان اور بھارت سے سفارتی اور فوجی سطح پر واضح اور مضبوط جواب دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عالمی برادری کے سامنے افغانستان اور بھارت کی جانب سے کی جانے والی پراکسی دہشت گردی کے ثبوت پیش کرنے، بھارت پر اقتصادی پابندیاں عائد کروانے اور اسے عالمی عدالت انصاف میں مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے مؤثر سفارت کاری کی جتنی ضرورت آج ہے، اتنی پہلے کبھی نہیں تھی۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے حکمرانوں کو عوام کی محرومیوں کو ختم کرنے کے لیے عملی طور پر ان کے پاس جانا ہوگا۔ معیشت کی بحالی کے لیے کرپشن کا خاتمہ، ٹیکس اصلاحات اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔

    پاکستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر سمت اندھیرا اور بحرانوں کی گھنی چھاؤں نظر آتی ہے۔ معاشی زوال، سیاسی انتشار، قدرتی آفات اور سیکورٹی کے چیلنجز نے قوم کو تھکا ضرور دیا ہے، مگر اندھیروں میں بھی روشنی کی کرن ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ یہ کرن ہمارے نوجوانوں کی صلاحیت، عوام کی استقامت اور ان اداروں کی بہتری کی صورت میں ہے جو اگر شفافیت اور عدل کو اپنا لیں تو ملک کو ایک نئی راہ دکھا سکتے ہیں۔ امید کی یہ روشنی اس وقت روشن ہوگی جب قیادت اخلاص اور وژن کے ساتھ فیصلے کرے، عوام شعور اور اتحاد کا مظاہرہ کریں اور ہم سب مل کر کرپشن، نااہلی اور طاقت کی منفی سیاست کو مسترد کریں۔ اندھیرا چاہے کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، امید کی کرن موجود ہےاور اگر ہم نے اسے جگا لیا تو یہی کرن پاکستان کے مستقبل کو روشن کر سکتی ہے۔

  • سیالکوٹ: شہادت امام حسنؑ کا مرکزی جلوس برآمد

    سیالکوٹ: شہادت امام حسنؑ کا مرکزی جلوس برآمد

    سیالکوٹ (ڈسٹرکٹ رپورٹرمدثررتو) سیالکوٹ میں 28 صفر کو شہادت امام حسن علیہ السلام کا مرکزی جلوس امام بارگاہ دربتول، اڈہ پسروریاں سے برآمد ہوا۔

    یہ جلوس اڈہ پسروریاں سے شروع ہو کر کشمیری محلہ، بڈھی بازار، بازار کلاں اور دو دروازہ سے ہوتا ہوا رات 9 بجے کے قریب امام بارگاہ دربتول پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس کے راستوں میں شرکاء کے لیے سبیلوں اور لنگر کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔

    جلوس کی سکیورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں، جس کے تحت تقریباً 1000 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ جلوس کی نگرانی ڈی پی او آفس سے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے کی جا رہی ہے۔ جلوس میں داخلے کے لیے تین تہوں پر مشتمل حفاظتی حصار قائم کیا گیا ہے اور مکمل چیکنگ کے بعد ہی داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، جلوس کے داخلی و خارجی راستوں پر خاردار تاریں اور قناتیں بھی لگائی گئی ہیں۔