Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • شانِ پاکستان .تحریر: عیشل فاطمہ تلہ گنگ

    شانِ پاکستان .تحریر: عیشل فاطمہ تلہ گنگ

    شانِ پاکستان
    تحریر: عیشل فاطمہ(تحصیل تلہ گنگ، ضلع چکوال)
    پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، خواب اور عہد کا نام ہے۔ یہ وہ عظیم نعمت ہے جس کی بنیاد لا الٰہ الا اللہ پر رکھی گئی۔ اس وطن کی شان نہ صرف اس کی سرزمین، پہاڑوں اور دریاؤں میں ہے، بلکہ ان قربانیوں، خوابوں اور ارادوں میں بھی ہے جن سے یہ ملک وجود میں آیا۔ ہجرت کے قافلے، کٹے پھٹے جسم، اور لہو میں ڈوبے خواب، یہ سب پاکستان کی قیمت ہیں۔ اس وطن کو سجدوں کی حرارت، دعاؤں کی شدت اور قلم کی جرأت سے حاصل کیا گیا۔ شانِ پاکستان کا مطلب صرف ترانہ، پرچم یا قومی دنوں کی تقریبات نہیں، بلکہ اس تصور اور حقیقت کا ادراک ہے جس نے اس ملک کو اقوام عالم میں ایک الگ پہچان بخشی۔ شانِ پاکستان اس کی تہذیب میں ہے، اس کے نوجوانوں کی امنگوں میں ہے، اس کی ماؤں کی دعاؤں میں ہے، اس کے کسانوں، مزدوروں، سپاہیوں اور علما کی جدوجہد میں ہے۔ شانِ پاکستان صرف شاندار ماضی یا تابناک فتوحات کا نام نہیں، بلکہ ایک عہد ہے اُن خوابوں کا جو اس وطن کے قیام کے وقت دیکھے گئے تھے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے واقعی ان خوابوں کے مطابق آج کا پاکستان تشکیل دیا؟ یہی سوال اس تحریر کا مرکزی نکتہ ہے۔

    پاکستان کی شان کا سرچشمہ سب سے پہلے اس کے نظریاتی وجود سے پھوٹتا ہے۔ دو قومی نظریہ، جس نے مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم کی حیثیت دی، وہی اس شان کی بنیاد بنا۔ علامہ اقبال نے جس روحانی اور تہذیبی خودی کا تصور دیا، اور قائداعظم محمد علی جناح نے جس حکمت، قانون پسندی اور بصیرت کے ساتھ اسے عملی جامہ پہنایا، وہ شانِ پاکستان کی اساس ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے اس نظریے کو بحیثیت قوم اپنی عملی زندگی میں جگہ دی؟ کیا ہم نے اقلیتوں کو وہی مقام دیا جو قائداعظم نے 11 اگست 1947 کی تقریر میں وعدہ کیا تھا؟ کیا عدل، مساوات، دیانت داری اور میرٹ کو وہی تقدس دیا گیا جس کا خواب تحریک پاکستان کے رہنماؤں نے دیکھا تھا؟ اگر نہیں، تو یہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

    پاکستان کی ثقافت و تمدن، اس کی شاعری، موسیقی، زبانیں، اور روایات، اس کی اصل پہچان ہیں۔ پنجاب کے لوک گیت ہوں یا سندھ کی صوفیانہ محفلیں، بلوچستان کے غیرت مند قبائل ہوں یا خیبر پختونخوا کے رسم و رواج، یہ سب “شانِ پاکستان” کے رنگ ہیں، لیکن موجودہ دور میں ہماری تہذیب خطرات کا شکار ہے۔ مغرب زدہ میڈیا، غیر ملکی ثقافت کی یلغار، اور نئی نسل میں اپنی روایات سے لاتعلقی نے اس شان کو دیمک کی طرح چاٹنا شروع کر دیا ہے۔ جدیدیت کی آڑ میں اپنی شناخت کھونا کوئی ترقی نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم زوال کی نشانی ہے۔

    پاکستان کی سب سے بڑی دولت اور شان اس کے نوجوان ہیں، جو آبادی کا 60 فیصد ہیں۔ ان میں صلاحیت ہے، جوش ہے، ذہانت ہے۔ عبد الستار ایدھی سے لے کر ملالہ یوسف زئی، ارفع کریم سے لے کر نسیم شاہ تک، پاکستانی نوجوانوں نے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا، لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بے روزگاری، تعلیم کی خراب صورتحال، اور میرٹ کی پامالی نے نوجوانوں کو یا تو مایوسی میں دھکیل دیا ہے یا بیرون ملک ہجرت پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ ملک کی شان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

    افواجِ پاکستان ہماری سرحدوں کی نگہبان اور ہمارے فخر کی اصل علامت ہیں۔ چاہے وہ 1948، 1965، 1971، کارگل یا 2025 کی تازہ ترین جنگ ہو، پاک فوج نے ہمیشہ وطن کا دفاع کیا۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ 2025 کی پاک بھارت جنگ میں جب دشمن نے جارحیت کی کوشش کی، تو پاک فوج نے جرأت، حکمت اور دلیری سے جواب دیا۔ دشمن کو پسپا کر کے ایک بار پھر پاکستان کی شان کو دوام بخشا۔

    معاشی خود مختاری کسی بھی ملک کی شان کا بنیادی جز ہے۔ پاکستان کے پاس زرخیز زمینیں، معدنی ذخائر، نوجوان افرادی قوت، اور صنعتی بنیادیں موجود ہیں، جو کسی بھی ملک کے لیے ترقی کی ضمانت بن سکتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے کرپشن، ناقص پالیسی سازی، سیاسی عدم استحکام، اور قرضوں کی معیشت نے پاکستان کی اصل شان کو دھندلا دیا ہے۔ آج اگر ہم آئی ایم ایف کی شرائط پر اپنے فیصلے کرتے ہیں، اپنی کرنسی کو مسلسل گرتے دیکھتے ہیں، تو ہمیں بحیثیت قوم یہ سوچنا ہوگا کہ ہم نے خود کو کیوں محتاج بنایا؟ اصل شان خود کفالت میں ہے، اور اس کے لیے سنجیدہ، دیانتدار اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

    شانِ پاکستان کا ایک پہلو اس کی بین الاقوامی شناخت سے بھی جڑا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ، او آئی سی، اور دیگر پلیٹ فارمز پر کشمیری عوام کی حمایت میں ہمیشہ جرأت مندی کا مظاہرہ کیا، افغانستان میں امن کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا، اور اسلامی دنیا کی یکجہتی کی بات کی، فلسطینی عوام، خصوصاً غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کی۔ تاہم، حالیہ برسوں میں خارجہ پالیسی میں تسلسل کی کمی، داخلی کمزوریوں، اور سفارتی ناکامیوں کی وجہ سے پاکستان کا بین الاقوامی اثر کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایک باوقار، خوددار اور دوراندیش خارجہ پالیسی ہی ملک کی اصل شان بن سکتی ہے۔

    اس لیے ہمیں صرف ماضی کے کارناموں پر فخر کرنے کی بجائے، حال کے چیلنجز کا تنقیدی ادراک بھی کرنا ہوگا۔ کرپشن، اقربا پروری، شدت پسندی، لسانی و فرقہ وارانہ منافرت، اور ادارہ جاتی ٹکراؤ جیسے مسائل نے قوم کی جڑوں کو کمزور کر دیا ہے۔ جب تک ہم ان مسائل کو دیانت داری سے نہ سمجھیں اور ان کے حل کے لیے متحد نہ ہوں، تب تک شانِ پاکستان صرف ایک نعرہ ہی رہے گا، حقیقت نہیں۔

    اہلِ پاکستان خوش نصیب ہیں کہ ان کے پاس امید کی کرنیں ابھی موجود ہیں۔ دنیا گواہ ہے کہ پاکستان کے ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنس دان، فنکار، کھلاڑی، سول سوسائٹی، اور عام شہری جب ایک عزم کے ساتھ کام کرتے ہیں، تو ناممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں۔ کرونا وبا کے دوران ڈاکٹرز اور نرسز کی قربانیاں، زلزلوں اور سیلابوں میں نوجوانوں کی رضاکارانہ خدمات، اور کھیل کے میدان میں کامیابیاں، اور سب سے بڑھ کر حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران سارے سیاسی و مذہبی اختلافات کو بھلا کر پوری قوم کا متحد ہونا، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی اصل شان ابھی زندہ ہے۔

    شانِ پاکستان محض ماضی کا تذکرہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل جدوجہد، خود احتسابی، اور اجتماعی بیداری کا نام ہے۔ اگر ہم اپنے تعلیمی، معاشی، سیاسی، اور ثقافتی نظام کو درست کر لیں، اپنے اداروں کو مضبوط بنائیں، میرٹ اور عدل کو فروغ دیں، اور نوجوانوں کو مثبت راستے پر ڈالیں، تو یقیناً پاکستان نہ صرف اقوام عالم میں ایک شان دار مقام حاصل کرے گا بلکہ حقیقی معنوں میں "شانِ پاکستان” کہلانے کا حقدار بھی بنے گا۔

    آج ہمیں جس شدت کے ساتھ پاکستان کی تعمیرِ نو، حفاظت اور ترقی کے لیے اپنے جذبات، اپنے وسائل، حتیٰ کہ اپنی جان تک وقف کرنے کی ضرورت ہے، وہ شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ آج ہم سب کو خود سے اور اس ملک سے یہ وعدہ کرنا ہو گا کہ وطن کے سبز ہلالی پرچم کی سربلندی، قوم کے معصوم چہروں کی خوشیاں، اور آنے والی نسلوں کا محفوظ مستقبل کرنے کے لیے ہم ہر حد سے گزر جائیں گے۔

    آؤ وعدہ کریں، آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم، پھر ارادہ کریں
    جتنی یادوں کے خاکے نمایاں نہیں
    جتنے ہونٹوں کے یاقوت بے آب ہیں
    جتنی آنکھوں کے نیلم فروزاں نہیں
    جتنے چہروں کے مرجان زرداب ہیں
    جتنی سوچیں بھی مشعلِ بداماں نہیں
    جتنے گل رنگ مہتاب گہنا گئے، جتنے معصوم رخسار مرجھا گئے
    جتنی شمعیں بجھیں، جتنی شاخیں جلیں
    سب کو خوشبو بھری زندگی بخش دیں، تازگی بخش دیں
    بھر دیں سب کی رگوں میں لہو نم بہ نم
    مثلِ ابرِ کرم رکھ لیں سب کا بھرم
    دیدہ و دل کی بے انت شاہی میں ہم
    زخم کھائیں گے حسنِ چمن کے لیے
    اشک مہکائیں گے مثلِ رخسارِ گل
    صرف آرائشِ پیرہن کے لیے
    مسکرائیں گے رنج و غم دہر میں، اپنی ہنستی ہوئی انجمن کے لیے
    طعنِ احباب، سرمایہ کج دل، بجز اغیار سہہ لیں گے، فن کے لیے
    آؤ وعدہ کریں
    سانس لیں گے متاعِ سخن کے لیے
    جان گنوائیں گے ارضِ وطن کے لیے
    دیدہ و دل کی شوریدگی کی قسم
    آسمانوں سے اونچا رکھیں گے عَلم
    آؤ وعدہ کریں
    آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم

    یہ صرف اشعار نہیں، ایک مکمل منشورِ محبتِ وطن ہے۔ ہمارے جذبات کی ترجمان ہے۔ آئیے ہم سب اس نظم کو اپنے ضمیر کی آواز بنائیں اور پاکستان کو امن، ترقی اور عظمت کی طرف لے جانے میں اپنا کردار ادا کریں اور مل کر عہد کریں کہ ہم وطن کی خوشبو کو زندہ رکھیں گے، چمن کے زخموں پر مرہم رکھیں گے، اور اپنے فن، فکر، قلم، ہنر اور کردار کے ذریعے شانِ پاکستان کو دنیا میں سر بلند کریں گے۔ کیونکہ پاکستان صرف ایک زمین کا نام نہیں، یہ ہماری پہچان، ایمان اور قربانیوں کی روشن دلیل ہے۔

    نوٹ: کالم نگار نے اس کالم میں شامل نظم کا ریفرنس نہیں دیا کہ یہ نظم کہاں سے لی گی ہے اورکس کی تخلیق ہے ؟

  • شانِ پاکستان .تحریر: زاہدہ کاظمی

    شانِ پاکستان .تحریر: زاہدہ کاظمی

    شانِ پاکستان
    تحریر: زاہدہ کاظمی
    پاکستان، جس سرزمین پر ہم آج آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، یہ محض ایک ملک نہیں، بلکہ لاکھوں قربانیوں اور اذیت بھری داستانوں کا اجالا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اس دھرتی کے حصول کے لیے خون کا دریا عبور کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ لاکھوں جانیں وطن کی بنیادوں میں دفن ہیں، ماؤں نے اپنے لختِ جگر قربان کیے، بہنوں نے اپنے سہاگ وطن پر نچھاور کیے، اور نوجوان اپنی جانیں ہنستے ہوئے وطن پر وار گئے۔

    اس ملک کی عظمت اس لیے نہیں کہ یہاں وسیع و عریض زمینیں، سرسبز وادیاں، جھیلیں اور دریا ہیں، بلکہ اس لیے کہ یہاں کا ہر ذرہ شہداء کے خون سے رنگین ہے۔ یہاں کا پرچم ان عظیم قربانیوں کا امین ہے۔ پاکستان کی سرحدوں پر آج بھی ہمارے سپوت اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، جن کی جرات، حب الوطنی اور وفاداری ہی شانِ پاکستان ہے۔

    شہادت ایک ایسا مقام ہے جسے سعادت اور عظمت کا درجہ حاصل ہے۔ ہمارے شہداء کی آنکھوں میں وطن کی محبت، دل میں ایمان کی روشنی اور قدموں میں عزم کی مضبوطی ہوتی ہے۔ ان کا سرزمینِ پاکستان سے رشتہ اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ وہ بغیر کسی لالچ یا شہرت کے خود کو قربان کر دیتے ہیں۔ ان کی قربانیوں کی بدولت آج ہم آزاد زندگی گزار رہے ہیں۔

    ایک شہید کا جنازہ صرف ایک گھر کے لیے نہیں، بلکہ پوری قوم کے لیے فخر اور عزم کی علامت بن جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں، انہیں احترام دیں اور ان کے اہلِ خانہ کی عزت کریں۔ شہداء کی بدولت ہی پاکستان ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا۔

    14 اگست وہ دن ہے جب ظلمت چھٹی، غلامی کا خاتمہ ہوا، اور ایک روشن صبح کا سورج اُفق پر چمکا۔ یہی وہ دن ہے جب دنیا کے نقشے پر ایک نئی ریاست، پاکستان، نمودار ہوئی—ایسی ریاست جو صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کی امیدوں، قربانیوں اور دعاؤں کا ثمر تھی۔ یہ دن جشنِ آزادی کا ہی نہیں، بلکہ تجدیدِ عہد کا دن ہے۔

    پاکستان کا قیام کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک طویل جدوجہد اور لاکھوں قربانیوں کا نتیجہ تھا۔ حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت، علامہ اقبالؒ کے خواب اور برصغیر کے مسلمانوں کی قربانیوں نے اس معجزے کو ممکن بنایا۔ پاکستان ایک نظریے پر قائم ہوا:
    پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ

    پاکستان کی فوج، ایئر فورس، نیوی اور دیگر دفاعی ادارے دنیا بھر میں اپنی بہادری، نظم و ضبط اور حب الوطنی کی مثال ہیں۔ 1965ء کی جنگ ہو، 1998ء کے ایٹمی تجربات ہوں یا دہشت گردی کے خلاف جنگ—ہماری بہادر افواج نے ہر موقع پر ملک کی شان اور خودداری کو بلند رکھا۔ پاکستان دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت ہے، جو ہمارے وقار اور دفاع کی علامت ہے۔

    پاکستان کئی زبانوں، ثقافتوں اور رنگوں کا حسین گلدستہ ہے۔ پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، کشمیری اور اردو—یہ سب پاکستان کی تہذیبی خوبصورتی کو بڑھاتے ہیں۔ ادب میں اقبال، فیض، منٹو اور پروین شاکر نے ایسے شاہکار تخلیق کیے جو دنیا بھر میں پڑھے جاتے ہیں۔ فلم، موسیقی، ڈرامہ اور خطاطی میں پاکستان کی منفرد پہچان ہے۔

    کھیلوں میں بھی پاکستان کا نام روشن ہے۔ 1992ء کا کرکٹ ورلڈ کپ، اسکواش میں جہانگیر خان کی فتوحات، ہاکی کے عالمی کپ—یہ سب پاکستان کے عزم اور صلاحیت کا ثبوت ہیں۔ آج بھی پاکستانی نوجوان کھیلوں میں اپنے جوش و جذبے سے دنیا کو حیران کر رہے ہیں۔

    عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر رتھ فاؤ، انصار برنی اور دیگر فلاحی کارکنان نے پاکستان کو انسانیت کی خدمت میں نمایاں مقام دلایا۔ قدرتی آفات یا کسی بھی مشکل وقت میں پوری قوم ایک ہو کر مدد کے لیے کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہی اتحاد پاکستان کی اصل شان ہے۔

    آج جب ہم 14 اگست کو جھنڈے لہراتے اور چراغاں کرتے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری اصل شان صرف ماضی کی کامیابیاں نہیں بلکہ مستقبل کی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ ہمیں اپنے ملک کو کرپشن، ناانصافی، غربت اور بدامنی سے پاک کرنا ہے۔ تعلیم، عدل، رواداری اور ترقی کو اپنا مقصد بنانا ہے۔

    شانِ پاکستان سرحدوں، ہتھیاروں یا صرف تاریخ کے کارناموں میں نہیں—بلکہ ہر اُس پاکستانی کے دل میں ہے جو دیانت، قربانی اور وفاداری سے جیتا ہے۔ اگر ہم سب اپنا کردار ایمانداری سے ادا کریں، تو کوئی طاقت پاکستان کو جھکا نہیں سکتی۔

    پاکستان زندہ باد!

  • شان پاکستان.تحریر:وجیہہ سجاد ہمدانی

    شان پاکستان.تحریر:وجیہہ سجاد ہمدانی

    شان پاکستان
    ازقلم :وجیہہ سجاد ہمدانی
    پاک سرزمین جس کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر رکھی گئی تھی، لاکھوں قربانیوں، بے مثال جدوجہد اور ان گنت دعاؤں کے بعد 14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم ملک ہے اور اپنے قدرتی وسائل، تہذیب و تمدن، ثقافت، عسکری قوت اور عوام کی محنت و ہنر کے باعث ایک عظیم ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ آئیں ان تمام پہلوؤں پر نظر ڈالتے ہیں جو "شان پاکستان” کی وجہ ہیں۔

    لازوال قربانیاں
    شان پاکستان کی اصل بنیاد اس کی تاریخ میں پنہاں ہے۔ تحریکِ پاکستان جس کی قیادت کا سہرا قائداعظم محمد علی جناح کے سر ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ہندو اکثریت کے تسلط اور انگریزوں کے ظلم و جبر سے نجات حاصل کرنے کے لیے ایک الگ وطن کے لیے جدوجہد کی۔ لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی، گھر بار چھوڑا، جانوں کے نذرانے دیے، عزتیں لٹتی رہیں لیکن عزم و حوصلے میں کمی نہ آئی۔ یہی قربانیاں پاکستان کی شان کی وجہ ثابت ہوئیں۔

    پاکستان کی بنیاد — نظریہ اسلام
    پاکستان کی بنیاد زمین کے ایک ٹکڑے پر نہیں رکھی گئی، بلکہ یہ ایک نظریے پر قائم ہوا — وہ نظریہ جو اسلام کے اصولوں پر مبنی تھا۔ اس ملک کا خیال سر سید احمد خان نے پیش کیا۔ علامہ اقبال نے ایک ایسا خواب دیکھا تھا، جس میں مسلمان آزاد اور خود مختار ہوں، اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے جدوجہد قائداعظم محمد علی جناح نے کی۔ یہی نظریہ پاکستان کی اصل شان قائم رکھے ہوئے ہے۔

    بہترین عسکری قوت
    قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت اور برصغیر کے مسلمانوں کے عزم نے ایک علیحدہ وطن کے خواب کو حقیقت بنایا۔ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہی ریاست کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سب سے بڑا مسئلہ سیکیورٹی کا تھا۔ انہی حالات میں وطن کے بہادر سپوتوں نے وطن کی حفاظت کا بیڑہ اٹھایا۔

    پاک فوج اپنی پیشہ ورانہ مہارت، اعلیٰ نظم و ضبط اور قربانی کے جذبے سے سرشار دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے۔ اس کا نصب العین "ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ” ہے، یہی ان کا مشن ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا قدرتی آفات، اقوامِ متحدہ میں امن مشنز ہوں یا سرحدی حفاظت — ہماری پاک فوج آج تک کسی محاذ پر پیچھے نہیں ہٹی۔ ہمہ وقت چوکس اور مستعد، وطن کے بیٹے سرحدوں پر ہماری یعنی اپنی قوم کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔

    شاعر نے کیا خوب لکھا ہے:
    خاکی وردی میں جتنے بھی ملبوس ہیں
    پاک دھرتی کے جگمگ یہ فانوس ہیں
    اس وطن کے درخشاں ستارے ہیں یہ
    دیس والوں کی آنکھوں کے تارے ہیں یہ
    اپنی دھرتی سے شر کو مٹاتے ہیں یہ
    دیپ امن و اماں کے جلاتے ہیں یہ
    فوج اپنی علی تا قیامت رہے
    تاکہ دھرتی ہماری سلامت رہے

    قدرتی حسن و وسائل
    پاکستان جغرافیائی خصوصیات کا حامل ملک ہے۔ شمال میں برف پوش پہاڑ، جنوب میں بحیرہ عرب، مغرب میں صحرا اور مشرق میں سرسبز و شاداب میدان — سب قدرتی حسن کے شاہکار ہیں جو ہمارے ملک کو اور خوبصورت بناتے ہیں۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی "کے ٹو” پاکستان کا حصہ ہے۔ وادیٔ سوات، ہنزہ، ناران و کاغان جیسے علاقے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کشش رکھتے ہیں۔

    قدرتی وسائل کی بات کی جائے تو پاکستان کو کوئلہ، نمک، گیس، تیل، سونا، تانبہ، یورینیم، اور قیمتی پتھروں جیسے بیش بہا خزانے میسر ہیں۔ زرعی پیداوار میں گندم، چاول، کپاس اور آم جیسے اجناس پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

    خوبصورت ثقافت
    پاکستان کی خوبصورت ثقافت اس کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور قبائلی علاقوں کی الگ الگ زبانیں، لباس، موسیقی و رقص، کھانے اور رسم و رواج پاکستان کو ایک کثیر الثقافتی ملک بناتے ہیں۔ پنجابی بھنگڑا، سندھی اجرک، بلوچی چپل، پشتون مہمان نوازی اور کشمیری کڑھائی دنیا بھر میں پاکستان کی ثقافت کی علامت ہیں۔

    ہر خطے کی اپنی بولی ہے جیسے اردو، پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو اور براہوی — یہ سب ملک کو لسانی دولت سے مالامال کرتی ہیں۔ اردو کو بطور قومی زبان اپنانا قومی اتحاد کی علامت ہے۔

    شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
    میں سندھی، میں بلوچی،
    میں سرائیکی، میں پنجابی،
    میں مہاجر، میں پٹھان ہوں
    سب رنگ ہیں میرے
    میں ہر رنگ میں مسلمان ہوں
    میں پیارا پاکستان ہوں

    سپورٹس و فنونِ لطیفہ
    پاکستان کرکٹ، ہاکی، اسکواش اور سنوکر جیسے کھیلوں میں عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم، جہانگیر خان اور محمد یوسف جیسے بہترین کھلاڑی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ پاکستان نے 1992 میں کرکٹ ورلڈ کپ جیت کر دنیا کو حیران کر دیا اور یہ ثابت کیا کہ پاکستان کسی میدان میں پیچھے نہیں۔

    فنون لطیفہ میں بھی پاکستان نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ صوفی موسیقی، قوالی، غزل، فلم و ڈرامہ اور مصوری میں پاکستان نمایاں مقام رکھتا ہے۔ نور جہاں، مہدی حسن، نصرت فتح علی خان اور فیض احمد فیض جیسے فنکار پاکستان کی ثقافتی شان میں اضافہ کرتے ہیں۔

    بحیثیت پاکستانی عوام ہماری ذمہ داریاں
    اگرچہ پاکستان کو کرپشن، بے روزگاری، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان کی نوجوان نسل میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔

    موجودہ حالات میں صرف فوج اور حکومت پر انحصار کافی نہیں۔ ملک کی ترقی، استحکام اور سلامتی کے لیے ہر پاکستانی کو اپنی ذمہ داری کا احساس اور اس پر عمل کرنا ہوگا۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں قانون کی پاسداری، قومی یکجہتی کا فروغ، منفی پروپیگنڈے سے بچاؤ، ملکی معیشت کے تحفظ کے لیے اقدامات، اور صبر و تحمل سے حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

    بقول شاعر:
    غیر کی باتوں میں یوں جو آتے ہو تم
    اپنی املاک کو کیوں جلاتے ہو تم
    دل میں حبِ وطن تا قیامت رکھو
    دیس گھر ہے اسے تم سلامت رکھو
    یہ سیاست ہمیشہ رہے گی کہاں
    اس میں الجھو نہ تم اس کو چھوڑو میاں
    ان کی خاطر جو گھر کو جلاو گے تم
    خود ہی اپنا جنازہ اٹھاو گے تم

  • شانِ پاکستان .تحریر:میاں وقاص فرید قریشی

    شانِ پاکستان .تحریر:میاں وقاص فرید قریشی

    شانِ پاکستان
    تحریر:میاں وقاص فرید قریشی
    پاکستان ایک عظیم ملک ہے جو 14 اگست 1947 کو لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کے بعد معرضِ وجود میں آیا۔ یہ ملک صرف ایک خطہ زمین نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک خواب، اور ایک ایسی حقیقت ہے جس میں لاکھوں لوگوں کی امیدیں اور قربانیاں شامل ہیں۔پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے ۔جو کلمہ کے نام پر معرض وجود میں آیا۔جو سب سے اہم بات جو اس کی شان کو بڑھاتا ہے۔وہ یہ کہ 27ویں رمضان المبارک شب قدر کی رات کو معرض وجود میں آیا۔ پاکستان کی شان اس کے عوام، اس کی ثقافت، اس کی فوج، اس کے قدرتی وسائل، اور سب سے بڑھ کر اس کے اسلامی تشخص میں پوشیدہ ہے۔

    پاکستانی قوم دنیا کی ایک بہادر اور محنتی قوم ہے۔ ہر مشکل وقت میں پاکستانی عوام نے اتحاد، قربانی، اور استقامت کی مثال قائم کی ہے۔ چاہے وہ 1965، 1971۔ 1999،یا 2025 کی جنگ ہو۔ہمیشہ دشمن کو شکست دی۔اور ثابت کیا ۔کہ پاکستانی جس حالات میں بھی ہوں۔جب ملک کی سالمیت کی بات ہو گی۔سب کچھ بھول کر سیسہ پلائی ہو دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔جس کی مثال پوری دنیا نے 10 مئی 2025 کو دیکھا۔دشمن کا غرور خاک میں ملایا۔اور اس کی جدید ٹیکنالوجی کو اپنی حکمت عملی سے پاش پاش کر دیا۔پاکستان کو 10 مئی 2025 کے بعد ایک نئی شناخت ملی ہے۔اس وقت کی سپر پاور امریکہ کو مجبور کیا۔کہ وہ پاکستان سے درخواست کر کے جنگ بندی کروائیں۔پاکستان اب ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے پوری دنیا کی نظریں اب پاکستان پر ہیں۔

    زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات، پاکستانی عوام نے ہمیشہ ایک قوم بن کر ان کا سامنا کیا ہے۔حکومت کے ملازمین کے ساتھ مل کر اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک کو مضبوط و توانا بناتے ہیں ۔اگر کرونہ کے دور کی بات کریں۔تو سب صاحب حیثیت لوگوں نے عام عوام تک راشن و دوسری ضروریات زندگی پہنچائیں۔اس طرح ایک محب وطن شہری ہونے کی لازوال قائم کی۔

    پاکستان کی شان مینارِ پاکستان لاہور، پاکستان کا ایک تاریخی اور قومی یادگار مقام ہے، جو پاکستان کی آزادی کی جدوجہد کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اقبال پارک، لاہور، پنجاب، پاکستان میں موجود ہے۔اس کی تعمیر کا آغاز: 23 مارچ 1960اورتکمیل: 22 مارچ 1968کو ہوئی۔اس کامعمار: نسار احمد (پاکستانی)ہے۔اور اس کی اونچائی: تقریباً 70 میٹر (230 فٹ)ہے۔اس کی تعمیر میں مواد: ماربل، کنکریٹ، اور اسٹیل استعمال ہوا ہے۔ تاریخی اہمیت کے حوالے سے اگر ذکر کریں۔تو 23 مارچ 1940 کو قراردادِ پاکستان اسی مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں منظور کی گئی تھی۔یہ قرارداد برصغیر میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن (پاکستان) کے قیام کا مطالبہ تھی۔اس مقام کو یادگارِ پاکستان کے طور پر منتخب کیا گیا تاکہ اس عظیم لمحے کو یاد رکھا جا سکے۔ فنِ تعمیر کی خصوصیات کے حوالے سےمینار کی تعمیر میں اسلامی، مغلیہ اور جدید فنِ تعمیر کے عناصر شامل ہیں۔اس کی بنیاد کی سطح پر پھول کی پتیوں جیسا ڈیزائن ہے، جو قربانی، عزم، اور ترقی کی علامت ہے۔مینار کی بنیاد پر قراردادِ پاکستان کا متن اردو، انگریزی، بنگالی، اور عربی زبانوں میں کندہ ہے۔ دلچسپ حقائق میں
    مینار 4 مراحل میں اوپر جاتا ہے، جو مسلمانوں کی جدوجہد کی علامت ہیں:1. نچلا حصہ سنگِ مرمر اور پتھروں سے، جو غلامی کی حالت کی نمائندگی کرتا ہے۔2. درمیانی حصہ جدوجہد۔3. اوپری حصہ کامیابی و آزادی۔4. سب سے اوپر ترقی و خودمختاری کی علامت ہے۔

    پاکستان کی ثقافت رنگا رنگ ہے۔ یہاں مختلف زبانیں، رسم و رواج، اور تہوار موجود ہیں جو اس ملک کو خوبصورت بناتے ہیں۔ پنجابی، سندھی، بلوچ، پشتون، اور کشمیری — سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر پاکستان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ پاکستان کا تاریخی ورثہ، جیسے موہنجو داڑو، ٹیکسلا، بادشاہی مسجد، اور قلعہ لاہور، دنیا بھر میں اس ملک کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔حکومت ہر وقت کوشش میں ہے ۔کہ پاکستان کے خوبصورت مناظر کو نہ صرف پاکستانی شہریوں بلکہ غیر ملکی سیاحوں کیلئے جدید ترین سہولیات فراہم کر رہی ہے ۔اس سے نہ صرف پاکستان کے بارے میں اچھی یادیں ملیں گیں ۔بلکہ ملک کے ریونیو میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔اور ملک کی معیشت دن بدن مضبوط ہو رہی ہے۔

    پاکستان کی شان میں اضافہ کرتا ہوا ایک اور شاہکار کے ٹو (K2) دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے، جو ماونٹ ایوریسٹ کے بعد آتی ہے۔اس کی بلندی تقریباً 8,611 میٹر (28,251 فٹ)یہ پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے، قراقرم (Karakoram) کے پہاڑی سلسلے میں پاکستان کا سب سے بلند پہاڑاسے اکثر "سَوَیج ماؤنٹین” (Savage Mountain) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں چڑھنا نہایت خطرناک ہے۔1856 میں گریٹ ٹرگنومیٹرک سروے کے دوران، سروے افسر ٹامسن مونٹگمری نے قراقرم کی چوٹیوں کو K1، K2، K3 وغیرہ کے نام دیے۔چونکہ K2 کا کوئی مقامی نام معروف نہیں تھا، اس کا یہی نام "K2” برقرار رہا۔اگر چڑھائی کی تاریخ کا ذکر کریں تو پہلی کامیاب چڑھائی 31 جولائی 1954 کو اطالوی کوہ پیماؤں لِینو لاچیدیلی اور اچیلی کمپاگنیونی نے کی۔K2 پر چڑھنا بہت خطرن سمجھا جاتا ہے، اور موت کی شرح بھی بلند ترین چوٹیوں میں سب سے زیادہ ہےانتہائی سخت موسم، برفانی طوفان، اور تنگ راستے اور آکسیجن کی کمی کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔تکنیکی طور پر دنیا کے مشکل ترین پہاڑوں میں سے ایک ہے۔

    پاکستان کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے۔کہ یہ دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت ہے۔جس کی وجہ سے پوری دنیا میں عزت واحترام سے اس کو دیکھا جاتا ہے ۔دفاع کے لحاظ سےپاک فوج، بحریہ، اور فضائیہ دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے ہر محاذ پر دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنایا ہے۔ ہماری افواج نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ اندرونِ ملک بھی قدرتی آفات میں عوام کی مدد کے لیے پیش پیش رہتی ہیں۔ ان کی قربانیاں ہی پاکستان کی شان کا ایک اہم پہلو ہیں۔اگرچہ قیام پاکستان کے وقت پاکستان کو وہ اثاثہ جات نہیں دیئے ۔جو پاکستان کے حصے میں ائے۔اس کے باوجود پاکستان نے تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی بہت ترقی کی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر عبدالسلام، اور بہت سے دوسرے سائنسدانوں نے ملک کا نام روشن کیا۔ نوجوان نسل تعلیمی میدان میں آگے بڑھ رہی ہے اور ملک کے مستقبل کو روشن بنا رہی ہے۔

    پاکستان ہماری پہچان ہے، ہماری شان ہے۔ اس کی ترقی، سلامتی اور استحکام ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم فرقہ واریت، نفرت، اور بدعنوانی کو چھوڑ کر ایک قوم بن کر کام کریں تاکہ پاکستان دنیا میں ایک باوقار اور ترقی یافتہ ملک بنے۔
    "پاکستان زندہ باد!”

  • شانِ پاکستان.تحریر:طوبیٰ خان

    شانِ پاکستان.تحریر:طوبیٰ خان

    شانِ پاکستان
    تحریر:طوبیٰ خان
    جب کوئی پرندہ آزاد فضا میں پر پھیلاتا ہے، تو وہ لمحہ خود ایک نعمت ہوتا ہے۔ قوموں کی زندگی میں بھی آزادی ایسی ہی ایک نعمت ہے جسے حاصل کرنے کے لیے نسلوں نے قربانیاں دی ہوتی ہیں۔ پاکستان… محض ایک زمینی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک خواب، ایک دعا اور ایک مقصد کا نام ہے۔ یہ ملک صرف جغرافیے کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کی آنکھوں کی چمک، ماؤں کے آنسو، بہنوں کی قربانی، اور ان لاکھوں دعاؤں کی قبولیت ہے جو سجدوں میں مانگی گئیں۔ یہی سب کچھ، یہی سب قربانیاں، اور یہی سب خواب، "شانِ پاکستان” کہلاتے ہیں۔

    پاکستان کی بنیاد "لا الٰہ الا اللہ” پر رکھی گئی۔ یہ وہ نعرہ تھا جس نے قوم کے دلوں میں ایک نئی روح پھونکی۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت اور علامہ محمد اقبالؒ کے فکرانگیز خواب نے برصغیر کے مسلمانوں کو اپنی پہچان دی۔ تحریکِ پاکستان ایک ایسی تحریک تھی جس کا مرکز و محور اسلام اور مسلمانوں کی جداگانہ شناخت تھی۔ یہ ملک، نظریاتی اساس پر قائم ہوا، اور یہی نظریہ، اس کی سب سے بڑی "شان” ہے۔

    پاکستان نے ابتدا ہی سے علم اور عسکریت کے میدان میں اپنی شناخت قائم کی۔ ہمارے سائنسدانوں، انجینئرز، اور تعلیم یافتہ نوجوانوں نے دنیا کو دکھایا کہ ہم کسی سے کم نہیں۔
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا، جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر نہ صرف دشمن کے عزائم خاک میں ملائے بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے فخر کا باعث بنے۔ یہی نہیں، خلائی تحقیق، طب، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدانوں میں بھی پاکستان نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

    پاکستان کی اصل شان اس کے وہ سپوت ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں دنیا کو حیران کیا۔
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان – جنہوں نے دشمن کے غرور کو توڑا۔
    ارفہ کریم – دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل، جو پاکستان کی ذہانت کی علامت بنی۔
    ملیحہ لودھی – اقوام متحدہ میں پاکستان کی باوقار نمائندہ، جنہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی آواز بن کر دنیا کو ہمارا اصل چہرہ دکھایا۔
    عبد الستار ایدھی – انسانیت کی خدمت میں پاکستان کی نرم ترین تصویر، جنہیں ساری دنیا "فرشتہ” کہتی رہی۔
    یہ سب لوگ "شانِ پاکستان” کی وہ زندہ مثالیں ہیں جن پر ہم بجا طور پر فخر کرتے ہیں۔

    پاکستان کی تہذیب، روایات اور ثقافتیں خود اپنی مثال ہیں۔ پنجاب کی محبت، سندھ کی وفا، بلوچستان کی غیرت، خیبر پختونخوا کی دلیری، اور گلگت بلتستان کی سادگی… سب مل کر پاکستان کی ثقافتی شان کو مکمل کرتے ہیں۔
    ہماری شاعری، موسیقی، لباس، کھانے، اور تہوار سب ہمارے وجود کی شناخت ہیں۔ اردو زبان خود ایک ایسی دولت ہے جو ہمیں جوڑتی ہے، اور ہماری تحریری اور ادبی وراثت کو سنوارتی ہے۔

    پاکستان آج بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ سی پیک (CPEC) جیسے منصوبے، نوجوانوں کی جدوجہد، سٹارٹ اپس، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی فیلڈز، اور تعلیمی میدان میں ہماری کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں۔
    کراچی سے لے کر خیبر تک، پاکستان کے نوجوان اب صرف خواب نہیں دیکھتے بلکہ انہیں حقیقت میں بدلنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ یہی نوجوان، ہماری سب سے بڑی امید، اور سب سے بڑی "شان” ہیں۔

    یقیناً ہمیں مسائل کا سامنا ہے — مہنگائی، سیاسی عدم استحکام، کرپشن، اور تعلیم و صحت جیسے چیلنجز۔ مگر ان سے نمٹنے کی طاقت بھی ہمارے اندر موجود ہے۔ جس قوم نے صفر سے ایک ملک بنایا، وہ ان بحرانوں کو بھی عبور کر سکتی ہے۔ ہمیں صرف ایمان، اتحاد اور قربانی کے جذبے کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔

    "شانِ پاکستان” صرف ماضی کی داستان نہیں، بلکہ حال کی ذمہ داری اور مستقبل کی امید بھی ہے۔ یہ ملک ہمیں یوں ہی نہیں ملا، اس کے پیچھے ان گنت قربانیاں ہیں۔ ہمیں نہ صرف اس کی حفاظت کرنی ہے بلکہ اسے سنوارنا بھی ہے۔
    آیئے! اس یومِ آزادی پر ہم سب یہ عہد کریں کہ
    ہم قلم اٹھائیں گے، علم پھیلائیں گے، خدمت کریں گے، اور اپنے پاکستان کو دنیا کے افق پر ایک روشن ستارے کی طرح چمکائیں گے۔

    پاکستان کی شان صرف اس کی ایٹمی طاقت یا جغرافیائی اہمیت میں نہیں، بلکہ اس کی اصل شان اُس قوم میں ہے جو سختیوں کے باوجود اپنی امید نہیں چھوڑتی۔ ایک دیہاڑی دار مزدور، جو پسینے میں شرابور ہو کر اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کا خواب دیکھتا ہے؛ ایک استاد، جو کم تنخواہ کے باوجود بچوں کے ذہنوں کو روشن کرنے کا عزم رکھتا ہے؛ ایک فوجی، جو ہر لمحہ سرحد پر کھڑا ہے تاکہ وطن کی نیندیں محفوظ رہیں — یہی سب لوگ پاکستان کی حقیقی شان ہیں۔
    ایک عام شہری کا دیانتداری سے جینا، چھوٹے تاجر کا حلال رزق کمانا، ایک طالب علم کا علم کی تلاش میں محنت کرنا — یہ سب وہ روشن چہرے ہیں جو کسی قوم کی اصل شناخت بنتے ہیں۔ آج اگر ہم پاکستان کی ترقی کے خواہاں ہیں تو ہمیں اسی کردار سازی کی طرف لوٹنا ہوگا جس کی بنیاد ہمارے اسلاف نے رکھی تھی۔

    پاکستان کی خواتین بھی شانِ پاکستان کی ایک روشن مثال ہیں۔ تحریکِ آزادی میں فاطمہ جناحؒ کا کردار، ادب میں بانو قدسیہ، قدرت اللہ شہاب کے ہم قدم خواتین کردار، اور آج کی جدید پاکستانی خواتین — ڈاکٹرز، اساتذہ، پائلٹ، وکیل، سائنسدان — سب اپنی جگہ ایک نشانِ فخر ہیں۔

    دیہاتی عورت ہو یا شہری، ماں ہو یا بیٹی، استانی ہو یا طالبہ — وہ اپنی محنت، قربانی اور خلوص سے پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط بنا رہی ہے۔ ان کے بغیر نہ گھر مکمل ہوتا ہے، نہ معاشرہ اور نہ وطن۔

    تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے وجود کو ہمیشہ چیلنج کیا گیا، کبھی اندرونی سازشوں سے، تو کبھی بیرونی دشمنوں سے۔ مگر ہر مرتبہ قوم نے متحد ہو کر یہ پیغام دیا کہ ہم ایک جسم ہیں، ایک قوم ہیں، ایک دل کی دھڑکن ہیں۔ جب زلزلے آئے، جب سیلاب آئے، جب دشمنوں نے وار کیے — پاکستانیوں نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ثابت کیا کہ ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔
    "شانِ پاکستان” کسی نعرے یا علامت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل جذبے، قربانی، اور امید کا نام ہے۔ ایک خواب تھا جو اقبال نے دیکھا، ایک حقیقت تھی جو جناح نے بنائی، اور اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اسے پروان چڑھائیں۔

    یہ ملک ہمارا فخر ہے، ہماری شناخت ہے، اور ہمارے بچوں کا مستقبل بھی۔ ہمیں تعلیم، اخلاق، عدل، اور خدمت کے ذریعے اس سرزمین کو وہ شان دینا ہے جو اس کا حق ہے۔

    خدایا! ہمارے اس وطن کو سلامت رکھ،
    اس کی ہوائیں، اس کی فضائیں، اس کے دریا، اس کی مٹی —
    سب کو امن و سکون عطا فرما۔
    ہمیں ایسا بننے کی توفیق دے کہ دنیا دیکھے،
    کہ پاکستان نہ صرف ایٹمی طاقت ہے بلکہ اخلاقی اور تہذیبی طاقت بھی ہے۔
    آئیے! ہم سب وعدہ کریں:
    سچ بولیں گے
    وطن سے محبت کریں گے
    فرقہ واریت، نفرت، اور انتشار سے بچیں گے
    اور پاکستان کو دنیا کا فخر بنائیں گے۔
    کیونکہ… پاکستان ہے، تو ہم ہیں!
    پاکستان زندہ باد

  • شان پاکستان .تحریر: شگفتہ خان

    شان پاکستان .تحریر: شگفتہ خان

    شان پاکستان
    تحریر: شگفتہ خان
    اللہ تعالی نے مخلوق آدم کو خلق کیا اور پھر پہچان کےلئے ان کے قبیلے بنا دیے۔ یہی قبیلے ان کی شناخت بھی ہیں، پہچان بھی اور شان بھی ہیں۔ مسلمانوں کی پہچان اور ان کی شان پیارا وطن "پاکستان” ہے۔

    14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشے پر اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا وطن "پاکستان” ایک الگ ملک کی حثیت سے روشن ستارہ بن کر چمکا تو مسلمان سجدہ شکر بجا لائے کہ آزادی ملی ہے تو اب اپنے دینی فرائض بھی آزادی سے سر انجام دے پائیں گے۔ یہ وطن جو ہمارے آباواجداد نے قائداعظم محمد علی جناح کی اور ان کے ساتھی رہنما کی ان تھک کوششوں سے ہندووں اور انگریز حکومت سے آزاد کروایا تھا۔ کس اذیت سے گذرے ہونگے جب ہندوستان سے پاکستان آنے کے لئے زندگی اور جوش و خروش سے بھر پور انسانوں سے بھری ٹرین روانہ ہوتی ہے اور جب وہ پاکستان کی حدود میں آکر رکتی ہے تو پوری ٹرین میں صرف لاشیں ہوتی ہیں۔ ہمارے اجداد نے ہجرت کا عذاب جھیلا ہے۔ اس ہجرت میں بسے بسائے گھر، چلتے ہوئے کاروبار، جائیداد اور زمینیں تو دیں ساتھ اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے تہ تیغ ہوتے دیکھا ہے۔ اپنے گھر کی عورتوں کو اپنے سامنے لٹتے اور پھر موت کی آغوش میں جاتے ہوئے دیکھا ہے۔

    پاکستان کا مطلب کیا "لا الہ الا اللہ” کے نعرے نے برصغیر کے مسلمانوں کو متحد ہو کر اپنے نظریے کے مطابق ایک الگ وطن کا حوصلہ دیا۔ پاکستان واحد ملک ہے جس کی بنیاد ایک نظریہ تھا، جو مسلمانوں کے لئے اپنی راہ متعین کرنے میں معاون ثابت ہوا۔ بے شک پاکستان اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، جس کو اللہ نے بے بہا نعمتوں سے مالامال کیا ہوا ہے۔ وطن عزیز کو چار موسم دیے کہ گرمی، سردی، خزاں اور بہار — ہر موسم کے نظارے حسین اور دلکش ہیں۔ معدنی وسائل دیکھیں تو میرے خدا کی خاص رحمت ہے۔ یہ ایک زرعی ملک ہے، ہر موسم میں مختلف اجناس کی کاشت ہوتی ہے، ہر طرح کا پھل وافر مقدار میں موجود ہے۔ یہاں کے لوگ محنتی بھی بہت ہیں، مہمان نواز اور جفاکش بھی ہیں۔ یہ وطن ہماری پہچان، ہماری شان ہے۔ ہم کسی بھی ملک میں جائیں تو ہماری شناخت "پاکستان” ہے۔

    پاکستان کی مسلح افواج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ ہمارے بہادر جوان ہر جگہ صف اول میں ہوتے ہیں، اس وطن پہ آنچ بھی نہیں دیتے۔ کوئی بری نظر سے اس وطن کو دیکھے تو سہی، صیحح معنوں میں اس کی آنکھیں نکال کر، اس کے چودہ طبق روشن کر دینے کا ہنر جانتے ہیں۔ 1965 اور 1971 کی جنگ کے تو ہم نے قصے ہی سنے ہوئے ہیں۔ جب رات کی تاریکی میں دشمن نے یہ سوچ کر حملہ کیا کہ شائد پاکستانی فوج غفلت کی اتنی گہری نیند میں ہے کہ وہ ہمیں پھر سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ سکے گا، مگر اس کی غلط فہمی ثابت ہوئی۔ ہمارے بہادر فوجی جوانوں کے ساتھ عوام بھی ایک سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے اور دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر بھاگنے پر مجبور کردیا۔

    پھر پاکستان نے پہلا ایٹمی دھماکہ کرکے خود کو پہلا مسلمان ایٹمی ملک ثابت کیا۔ دشمن کی چالبازیوں کو نظر انداز کرنے پر ایک بار پھر اس نے رات کی تاریکی میں حملہ کر دیا۔ پاکستانی افواج اگر چپ تھی تو صرف اس لئے کہ دونوں ممالک ایٹمی طاقت بن چکے ہیں، اب یہ فرد واحد کی لڑائی نہیں ہے۔ پورے ملک کو ایک لمحہ میں دنیا کے نقشے سے ختم کیا جاسکتا ہے، لیکن دشمن اس چپ کو ہماری کمزوری سمجھا۔ سب کے سمجھانے پر بھی بھارت جارحیت سے باز نہیں آیا۔ بھارت نے مجبور کر دیا کہ پاکستانی فوج ان کے وار کا جواب دے ہی دے۔

    9 مئی کو صبح صادق کے وقت اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت کو پورا کرتے ہوئے "آپریشن بنیان مرصوص” کے لئے GF 17 تھنڈر نے اڑان بھری۔ وہ جانباز و جیالے شاہین جنھوں نے اڑان بھرنے سے پہلے خود اپنی وصیت اور ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کئے تھے۔ ان کا عزم تھا کہ اپنے ہدف تک پہنچنا ہے، پھر موت بھی رکاوٹ ڈالے تو پرواہ نہیں۔ بھارت کا وہ دفاعی نظام جس پر ان کو بہت غرور تھا، اس کو تباہ کرنے کےلئے 50 جہاز بھی کم تھے مگر پاکستان کے 2 شاہینوں نے نیست و نابود کیا اور پھر واپس بھی آگئے۔ 5 جیٹ طیاروں نے 3 گھنٹے 45 منٹ میں دشمن کے گھر جا کر 26 علاقوں کو ہدف بنایا اور دشمن کو ان کے ہی ملک میں دھول چٹا کر پاکستان لوٹ آئے۔ بھارت جو سوچتا تھا کہ پاکستان 10 دن بھی ٹک نہ سکے گا، 3 گھنٹے 45 منٹ میں سوچ کے اس بت کو ہمارے جانبازوں نے توڑ دیا۔ جن 3 باتوں کو ستون بنا کر بھارت نے خود کو سپر پاور سمجھ لیا تھا، ہماری بہادر فوج کے عقابوں نے 3 گھنٹے 45 منٹ میں وہ ستون زمین بوس کرکے بھارتی حکومت کو گھنٹے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

    پاک فوج نے ہر مشکل وقت میں عوام کا ساتھ دیا ہے۔ قدرتی آفات ہوں یا جنگ کے حالات، ہمارے بہادر جوانوں نے ثابت کیا کہ یہ ہمارے وطن کی شان ہیں۔ ڈاکٹرز، انجینئر اور سائنسدان — ہر کوئی اپنے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    یہ اس وطن کی بدقسمتی کہہ لیں کہ اسے پھر قائداعظم محمد علی جناح کے بعد کوئی ان جیسا نڈر، محنتی، ایماندار، ہمدرد، مخلص اور با اصول حکمران پھر نہ مل سکا، جن کا مقصد وطن کو ترقی کی منزل پر چلانا ہو۔ دیکھا جائے تو اپنا وطن بھی ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل ہو رہا ہے۔ بے شک آج کل معاشی حالات کچھ بہتر نہیں ہیں، لیکن نوجوانوں سے بہت پر امید ہیں کہ وہ اب اس ملک کی باگ ڈور سنبھالیں اور ترقی کی شاہراہ پر لے کر آئیں کہ یہ وطن جو ہمارے آباواجداد کے خوابوں کی تعبیر کی صورت میں ہمیں ملا ہے، ہماری پہچان، ہماری شان ہے۔ اس کو سنواریں۔

  • شان پاکستان .تحریر:افروز عنایت

    شان پاکستان
    تحریر:افروز عنایت
    سر زمین پاکستان ہم سب کے لئے رب العزت کی طرف سے۔ ایک بڑی نعمت اور انعام سے کم نہیں ، اس خطہ ارض کو اللہ رب العزت نے بہت سی خوبیوں سے بھی نوازا ہے ، جو ہم سب کے لئے باعث فخر ہیں ، حسین ،دریاوں ، لہلہاتے آبشاروں ،سمندر ، زرخیز سر سبز شاداب لہلہاتے باغات و کھیتوں ، پہاڑوں ،سمندر اور دریاؤں کے جھلملاتے رنگوں نے اس دیس کو ایک منفرد مقام اور حسن عطا کیا ہے ، جس کی نظیر نہیں ملتی ماشاءاللہ۔ نایاب معدنیات اور وسائل سے مالامال یہ پاک سر زمین جسے اسلام کا قلعہ کہا گیا ہے ـ جو دنیا بھر میں ہماری پہچان ہے ، حقیقت میں اللہ رب العزت کی طرف سے عطا کردہ بڑا تحفہ ہے — اور اسلامی ممالک میں بھی اس وطن عزیز کو۔ ایک خاص مقام حاصل ہے ــ

    اس ارض پاک کی ایک بڑی خصوصیت یہاں کے محب وطن ،۔ باصلاحیت ، زہین ، بہادر ، غیرت مند ، باشندے بھی ہیں جنہوں نے ہمیشہ اس پاک سر زمین کی شان و ماں بڑھانے کے لئے پر شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا اور کامیابیاں حاصل کیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ـــ

    عزت دینے والی زات اللہ رب العزت کی ہے وہ جسے چاہے عزت سے نوازے ،جی ہاں ویسے تو میرے رب العزت کا بڑا کرم ہے کہ اسنے ہمیں ایک اسلامی ریاست کا مکین بنایا ہے ہم سب ایک آزاد اور مسلمان ملک میں عزت اور آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں ــ اور اس شان کو بڑھانے میں ہماری افواج سر فہرست ہیں ــ

    ہماری بہادر افواج جو ہماری اس سر زمین کی سرحدوں کی محافظ ہیں اور دفاع کے لئے دن رات سرحدوں پر پہرہ دینے والی یہ جرآت مند افواج دن رات وطن عزیز کے دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند ڈٹے ہوئے ہیں ــ جب بھی بھارت نے حملہ کر نے کی کوشش کی اسے ہماری جان نثار افواج کی وجہ سے منہ کی کھانی پڑی ،اور الٹے قدموں انہیں بھاگنا پڑا ،ماشاء اللہ جسکی تازہ مثال پچھلے دنوں پوری دنیا دیکھ چکی ہے ـ بھارت سفید جھنڈا لہرانے پر مجبور ہو گیا ـــ سلام افواج پاکستان ـــ

    یہی نہیں بلکہ ہر میدان میں چاہے وہ کھیل کا میدان ہو یا ملک کی ترقی اور بھلائی کے لئے کوئی ادارہ ہو ، یا تعلیمی میدان۔ ہر جگہ وطن عزیز کے باصلاحیت جوانوں نے اپنی کامیابی کے سکے جمائے ہیں ـ اور ملک کا نام روشن کیا ہے ـ

    ایک اہم اعزاز جو ہماری اس ارض پاک کو حاصل ہے وہ ہے ایٹمی قوت کا حاصل ہونا ، ماشاءاللہ
    جی ہاں 28 مئی 1998 کا وہ حسین اور یادگار دن تھا جب تاریخ کے صفحات پر سنہری الفاظ میں لکھا گیا کہ آج پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن گیا ہے ،پاکستان کو اللہ رب العزت کی طرف سے یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ وہ عالم اسلام کا پہلا ایٹمی طاقت حاصل کرنے والا مسلمان ملک ہے ، ماشاءاللہ ،

    ہمارے ملک کے قابل قدر عظیم سائنسدان ڈاکٹر عبدا لقد یر خان اور انکے ساتھیوں کی چھ سات سال کی انتھک محنت اور جدوجہد کے بعد ہم اس اعزاز سے سرفراز ہوئے ،شکر الحمد اللہ

    یہ اعزاز حاصل کرنا کوئی معمولی یا آسان کام نہیں تھا بلکہ یہ ایک جدوجہد کی داستان ہے اس اعزاز کو حاصل کرنے میں راہ میں رکاوٹیں بھی آئیں ہونگی سخت محنت اور لگن اور جدوجہد کا میدان تھا لیکں سلام فرزند پاکستان کو اور انکے رفقاء کو ، جنہوں نے ہمت نہیں ہاری ، جس کی وجہ سے ہم آج ایٹمی طاقت والے آزاد ملک کے محب وطن پاکستانی ہونے کے اہل ہیں یہ اعزاز پاکستان کی شان اور ہم سب کے لئے باعث عزت ہے باعث فخر اعزاز ہے

    یہ ایک ایسا اعزاز ہے جس نے تمام دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا ،اور اسی قوت و طاقت کی وجہ دشمن۔ پاکستان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے سے بھی ڈرتا ہے ، صرف دھوکے سے اور چھپ چھپ کر رات کی تاریکی میں حملہ کرکے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور سفید پرچم لہرانے لگتا ہے جسکی مثال پچھلے دنوں مکار بھارت دکھا چکا ہے ـ

    سلام محسن پاکستان ڈاکٹر عبدا لقد یر خان ،اپ پر پوری قوم کو فخر ہے آپ اس اسلامی ریاست کی شان ہیں ، آج آپ دنیا میں نہیں لیکن آپ کی وجہ سے پاکستان کو حاصل ہونے والا یہ اعزاز آپکو ہمیشہ ہمارے دلوں میں نہ صرف زندہ رکھے گا بلکہ ہم سب ہمیشہ آپکے لئے دعا گو رہیں گے آمین ثم آمین

    ہر محب وطن پاکستانی کو یہ وطن عزیز اور اسکی شان اور اسکی سلامتی عزیز ہے ، اس وطن کی عزت و ناموس اور شان کے لئے ہم سب کی آپس میں یکجہتی ،اتفاق ، ایمانداری ،محنت بے حد ضروری امر ہے ،ہماری یہ خوبیاں اور ہماری صلاحیتیں اس وطن وطن عزیز کی بقا و سلامتی کے لیے ہی ہیں ، ہر وہ کام جو وطن عزیز کی عزت اور شان کو مجروح کرے اس سے پرہیز کرنا پوری قوم کی عزت کا باعث ہے۔ یہی تعلیم اور نصیحت نئی نسل کے لئے بھی ہے جنہیں رب العزت نے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے جنہیں وہ وطن عزیز کی ترقی ،سلامتی ،تحفظ کے لئے بروئے کار لاکر اس ارض کا نام اور شان مزید روشن کرسکتے ہیں کیونکہ یہ ہی آج کے نونہال اس ارض پاک کا مستقبل اور وارث ہیں۔ جس طرح گھر کے تمام افراد گھر کی سلامتی ،عزت ، تحفظ کے زمہ دار ہوتے ہیں اسی طرح اس ارض پاک کا ہر فرد اسکا رکھوالا اور محافظ ہے یہ وطن جو ہمارا مسکن ہم سب کی شان اور دنیا میں ہماری پہچان ہے ،سدا قائم و دائم رہے ـــ

    سدا یوں ہی جگمگاتا رہے یہ ارض پاک
    کبھی نہ کوئی آنچ آئے اس چمن پاک پر

    آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • آزادی ! چند لمحے سوچتے ہیں.تحریر:نگہت فرمان

    آزادی ! چند لمحے سوچتے ہیں.تحریر:نگہت فرمان

    آزادی ! چند لمحے سوچتے ہیں
    تحریر:نگہت فرمان
    چودہ اگست پاکستان کی آزادی کا دن ہے۔ آزادی کیا ہوتی ہے، کسے کہتے ہیں آزادی اور جب آزادی مل جائے تو اس کی حفاظت کیسے کرتے ہیں ؟

    کیا آج کا پاکستانی اس آزادی کی روح سے آشنا ہے؟ کیا ہمارے جشنِ آزادی منانے کے انداز اس عظیم مقصد سے ہم آہنگ ہیں جس کے لیے لاکھوں جانیں قربان ہوئیں؟ ہم ہر سال جشن آزادی پر کیا کرتے ہیں ؟ رات کے بارہ بجتے ہی آتش بازی، ڈھول باجے و تماشے کرتے ہیں اور صبح سویرے اخبارات آزادی پر خصوصی ایڈیشن شایع کرتے ہیں، ٹیلی وژن چینلز آزادی کا جشن منانے کے لیے نت نئے پروگرامز ترتیب دیتے ہیں، قومی ترانے، ملی نغمے، بچوں کے ٹیبلوز، لوک فنکاروں کے والہانہ رقص، فیس پینٹنگ، ہلا گلا اور نہ جانے کیا کچھ۔ ہر طرف سبز ہلالی پرچموں کی بہار، ہمارا پرچم، یہ پیارا پرچم، یہ پرچموں میں عظیم پرچم، عطائے رب کریم پرچم، میرا مالک اس عظیم پرچم کو سدا سر بلند رکھے۔ آمین

    زندہ قومیں اپنی آزادی کا دن اسی جوش و جذبے سے مناتی ہیں، منانا بھی چاہیے، لیکن وہ آزادی کا جشن ہی نہیں مناتیں بل کہ اپنی ذمے داریوں کا احساس بھی اجاگر کرتی ہیں اس لیے وہ اس دن اپنا احتساب بھی کرتی ہیں، اپنا جائزہ بھی لیتی ہیں، ان سے جو غلطیاں ہوئی ہیں ان سے سبق سیکھتی اور آئندہ ان سے بچنے کا عہد بھی کرتی ہیں۔ ان کے راہ نما اس دن اپنی سال گزشتہ کی غلطیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتے اور اپنی قوم سے معذرت کرتے ہیں، اور اگلے دن اپنی پوری توانائی سے ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے پہلے سے زیادہ تندہی سے مصروف کار ہوجاتے ہیں۔

    لیکن کیا کہیے اسے کہ ہم آزادی کا جشن مناتے ہیں لیکن اس آزادی کی روح کو سمجھے بغیر، شعور آزادی کے بغیر، اپنی ذمے داریوں کو سمجھے اور ادا کیے بغیر۔ بدنصیبی کہیے کہ ہم کبھی سنجیدہ نہیں ہوتے۔ کبھی غور نہیں کرتے، سوچتے نہیں اور نہ ہی سمجھتے ہیں اور کوشش بھی نہیں کرتے کہ آزادی ہوتی کیا ہے اور اس کے ثمرات سے ہم اب تک محروم کیوں ہیں۔

    چلیے اس پر چند لمحے سوچتے ہیں !
    آزادی کسی بھی قوم کے لیے وہ نعمت عظمی اور وہ بیش بہا سرمایہ افتخار ہوتی ہے جو اس قوم کی زندگی اور اس کے تاب ناک مستقبل کی ضامن حیات ہوتی ہے۔ غلام قومیں اور محکوم معاشرے نہ صرف اصل لطف زندگی سے محروم رہ جاتے ہیں بل کہ زمین پر ایک بوجھ بھی ہوتے ہیں۔ غلامی وہ مرض کہن ہے کہ جو دلوں کو یک سر مردہ کردیتا ہے شاید اسی لیے غلامی کو آزادی میں بدلنے کا زریں نسخہ بتاتے ہوئے علامہ اقبال نے بجا طور پر فرمایا تھا:
    دل مردہ، دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ!
    کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ!

    آزادی صرف ایک دن کی خوشی نہیں بل کہ مسلسل شعور، قربانی، اور ذمہ داری کا سفر ہے۔ آج جب ہم 78 واں یومِ آزادی منانے جا رہے ہیں، تو ہمیں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ جشن کی چکا چوند روشنیوں کے پیچھے کہیں ہمارا قومی ضمیر اندھیرے میں تو نہیں ڈوبا ہوا۔

    یوم آزادی کے قریب آتے ہی بازار جھنڈیوں، پرچموں اور جھنڈے سے مماثلت رکھتے کپڑوں و دیگر زیبائش کی چیزوں سے بھر جاتے ہیں۔ سڑکوں پر ہلہ گلہ کرتے نوجوانوں کا ہجوم بڑھ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وطن عزیز کے متوالوں کی تعداد ان کا جوش و خروش دیکھنے کے قابل ہوتا ہے

    لیکن کیا یہی جشنِ آزادی ہے؟ کیا آزادی صرف آتش بازی، گانوں، ہلا گلہ اور سیلفیوں کا نام ہے؟ ہم قیام پاکستان کے مقصد کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ ہمارے لوگ خط غربت سے نیچے زندگی کے اذیت ناک دن گزار رہے ہیں۔ انصاف و مراعات صرف اشرافیہ کے لیے ہیں، ہم اپنی ملی غیرت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، ہم عالمی ساہوکار اداروں سے بھیک مانگ مانگ کر گزر بسر کر رہے ہیں اور بھیک بھی ایسی جو وہ اپنی شرائط پر ہمیں دیتے ہیں، ہم ان کی مرضی کے خلاف سانس بھی نہیں لے سکتے، ہماری سرحدیں محفوظ نہیں ہیں، بلوچستان کے حالات سے کون بے خبر ہے۔ ہمارے ہاں ہر روز ایک نیا حادثہ ہے و سانحہ جنم لے رہا ہے۔ ناگہانی اموات و قدرتی آفات نے ہمیں گھیرا ہوا ہے اور ہم پھر بھی خود کو بدلنے کو تیار نہیں۔ ہم آخر کب تک اپنے اس سفاک رویے کو ترک کریں گے؟ اور کریں گے بھی کہ نہیں ؟

    یوم آزادی سے پہلے ہمیں محاسبہ کرنا ہوگا اور تجدید کرنا ہوگا کہ ہم بطور قوم ایمان دار بنیں۔ اپنے ملک سے مذہب سے وفادار ہوں گے، آئین کی پاسداری کریں گے،قومیں نعرے لگانے ، تقاریر کرنے گانے گانے سے نہیں بنتیں خود کو بدلنے سے بنتی ہیں۔

    تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ یوم آزادی کو صرف جذباتی نغموں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس دن کو علم، شعور، اور کردار سازی کا دن بنائیں۔ ہمیں اپنے نوجوان کے اندر مفادات سے باہر آکر پاکستان کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا اور حقیقی آزادی دلوا کر سبز رنگ کے نیچے چھائی سیاہی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ اس یوم آزادی پر آتش بازیاں اور گھروں میں چراغاں ہی نہیں دلوں میں چراغ جلائیں محبت کے وفا کے اور ایمان کے۔

    چلیے احمد ندیم قاسمی یاد آئے، اسے پڑھتے ہیں اور اس پر آمین بھی کہتے ہیں:
    وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
    یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
    یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
    یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
    اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
    گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
    کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو
    خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
    اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
    ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
    کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
    خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
    حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

  • کیا یہی تھا پاکستان !.تحریر:نگہت فرمان

    کیا یہی تھا پاکستان !.تحریر:نگہت فرمان

    کیا یہی تھا پاکستان !
    تحریر:نگہت فرمان
    خواب، خواب ہی رہتا ہے جب تک تعبیر نہ ہوجائے اور خواب تعبیر پاتے ہی مجسم ہوجاتا ہے۔ لیکن ٹھہریے! دم لیجیے! خواب کیا ہوتا ہے ؟ خواب تو سرمایہ ہوتے ہیں، لیکن پھر یہ بھی کہ جو بڑا خواب دیکھے تو اس کی تعبیر بڑی ہوتی ہے اور وہ خواب جو صرف اپنے لیے دیکھے جائیں تو ہوتے تو خواب ہی ہیں لیکن بس محدود،ڈاکٹر اقبال کو مصور پاکستان بھی کہتے ہیں ناں ، کیوں! اس لیے کہ انھوں نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا، تو بس جتنا بڑا خواب اتنی بڑی تعبیر۔
    اقبال نے ایک اور خواب بھی دیکھا تھا ، وہ یہ کہ خود ان کی زبانی:
    خدایا آرزو میری یہی ہے
    مرا نور بصیرت عام کردے
    اور پھر ان کے اس خواب نے بھی تعبیر پائی کہ آج دنیا بھر کی جامعات میں اقبال کے افکار و شاعری پر تحقیق ہورہی ہے۔
    اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر ہمارے سامنے ہے۔ اب یہ تعبیر کیسی ہے یہ تو ہم سبھی جانتے ہیں۔

    خواب سرمایہ ہوتے ہیں! اور پھر خواب دیکھنے پر کوئی پابندی بھی نہیں لگائی جاسکتی، تقریر پر تحریر پر تو پابندی لگائی جاسکتی ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پابند سلاسل کیا جا سکتا ہے لیکن خواب پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی کسی صورت بھی نہیں۔ پانی کی طرح خواب اپنا رستہ خود نکال لیتا ہے، خواب روایات، رسم و رواج اور سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے۔ پنچھی کی طرح ہوتا ہے خواب تو۔ خواب بس خواب ہوتے ہیں کسی ضابطے سے پَرے۔ کوئی ریا کار ہو سکتا ہے لیکن خواب نہیں۔ اس پر کوئی بھی کسی طرح کی بھی پابندی نہیں لگا سکتا ، لگا ہی نہیں سکتا، مجبوری کہہ لیں، بے بسی بھی۔
    کیا ہم خواب کو کسی باغی سے تشبیہ دے سکتے ہیں؟

    یقیناً خواب باغی ہوسکتے ہیں، اگر اسے موضوع بنایا تو بات بہت دور تلک چلی جائے گی تو بس واپس آتے ہیں۔ تو اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا۔ حالات کیسے تھے، ناممکن تھا پاکستان ، کوئی امید نہیں، بے سرو سامانی، بے کسی اور بے بسی۔ لیکن اقبال گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اپنا جگنو لے کر نکلے۔ خواب دیکھا اقبال نے اور اسے تعبیر دینے کے لیے قدرت نے محمد علی جناح کو منتخب کیا جو قائد اعظم کہلائے۔ ایسا قائد جو اردو میں اپنا مطمع نظر بیان نہیں کر سکتا تھا اسے قدرت نے منتخب کیا۔

    ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ قائد اعظم تقریر کر رہے تھے اور ایک دیہاتی سر دھن رہا تھا، کسی نے پوچھا آپ کو انگریزی آتی ہے تو بس اتنا کہا: ”مجھے انگریزی نہیں آتی، میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ قائد جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں۔

    جی! میرے خوابوں کا محور و مرکز بھی پاکستان تھا، ہے اور رہے گا۔ لیکن کیسا پاکستان …؟ پاکستان! جہاں بلند بالا پہاڑ ہیں، وادیاں ہیں، گلیشیرز ہیں۔ جھیلوں کا شفاف پانی۔ پاکستان میں پانچ دریا اور پانچ ہی موسم میں جو خوبانی سے کھجور تک میں ہمیں خود کفیل بناتے ہیں۔ جہاں زمیں سونا اگلتی ہے۔

    یہ وطن جو جغرافیائی لحاظ سے 1947 میں منصہ شہود پر آیا اپنے قیام سے پہلے اپنے وقت کے عظیم لوگوں کا خواب تھا۔ وہ عظیم لوگ جنہوں نے تاریخ عالم پر ایسے ان مٹ نقوش ثبت کیسے ہیں کہ اصول پسندی و استقامت کو اس کے اصل معانی سے روشناس کروا گئے۔ یہ پاک وطن ان عظیم المرتبت ہستیوں کا عظیم خواب تھا جو ان کی محنت شاقہ کی بہ دولت اپنی تعبیر پا گیا لیکن آج اگر میں اپنی انفرادی حیثیت میں اس مادر وطن کے لیے دیکھ جانے والے خوابوں کا تقابل ان عظیم خوابوں سے کروں تو جو اس کے بانیان نے اس کے لیے دیکھے تو ندامت کا احساس میرے قلم کی روانی میں حائل ہو جاتا ہے۔
    نوبت یہاں تک کیوں اور کیسے آگئی؟

    وہ پاکستان کہ جس کی اقتصادی ترقی کی رفتار دنیا کے بہت سے ممالک کے لیے قابل تقلید ہوا کرتی تھی۔ جس کے ماہرین معاشیات کو ریا، ملائشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے ترقیاتی منصوبہ جات تیار کیا کرتے تھے۔ وہ پاکستان جس کی جامعات طب اور زراعت میں بڑی اعلی تحقیقات کے مراکز تھیں۔ پاکستان کی ایئر لائن ”با کمال لوگ لاجواب سروس“ کے سلوگن کی حامل اور جدید دور کی منافع بخش کمپنیوں کی معمار تھی۔ جس کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ایشیا بھر میں کوئی ثانی نہ تھا۔ آج بھی دنیا بھر کے کھلاڑی سیالکوٹ کے تیار کردہ کھیلوں کے سامان کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں۔

    وزیر آباد کے آلات جراحی مغرب کے جدید ترین اسپتالوں کی اہم ترین ضرورت تھے۔ وہ پاکستان کہ جس کی ڈرامے انتہائی کم وسائل کے باوجود اپنے پڑوسی ملک کی جدید ترین انڈسٹری سے بہت آگے تھے۔ وہ پاکستان کہ جو عالم اسلام میں اعتدال و رواداری کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ اور وہ پاکستان کہ جس کا گورنر جنرل ایک اہم ٹیکس آفیسر کو اس لیے ڈانٹتا ہے کہ اس نے اسے وقت پر انکم ٹیکس ادا نہ کرنے پر نوٹس جاری کیوں نہیں کیا تھا۔ وہ پاکستان کہ جہاں مواخات مدینہ کے بعد بھائی چارے کی سب سے بڑی مثال دنیا نے دیکھی تھی۔

    جی ہاں! یہی ہے میرے خوابوں کا پاکستان جو ماضی میں ایک حقیقت ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ مستقبل کے لیے میرے خوابوں کا پاکستان ہے۔

    ہم نے اس پاکستان کا کیا حال کردیا ہے۔ ہم سب اپنے خوابوں کے قاتل ہیں۔ ہم نے ترقی اور خوش حالی کے ان حقائق کو دوام دینے کی کوشش ہی نہیں کی کہ جن کی بنیاد پر میرے خوابوں کا پاکستان دنیا کے لیے قابل تقلید بن سکتا۔ نتیجا یہ کہ اب ہم”مضمحل ہیں اور ہمارا پاکستان مفلوج”۔

    گمراہ اشرافیہ آسمان سے اترتی ہے نہ سیاسی جماعتیں۔ دہشت گرد زمین سے اگتے ہیں نہ غداران وطن۔ یہ سب طبقے ہم ہی میں سے ہیں لہذا میرے خوابوں کا پاکستان کسی کو مورد الزام ٹھہرانے کسی پر انگلی اٹھانے یا پھر کسی کوکو سنے سے ہرگز وجود میں نہ آئے گا۔ میرے خوابوں کا پاکستان تب وجود میں آئے گا جب ہم الزام تراشی کے اس رویے کو ترک کر کے دل و جان سے اس پاک وطن کے لیے خلوص اور چاہت سے کام کریں گے اور ہم سب کو سوچنا ہوگا کہ خوابوں کے پاکستان کے حصول کی منزل دور ہونے میں ہم انفرادی طور پر کس حد تک قصور وار ہیں۔ قوم کے افراد کا انفرادی کردار ہی مجموعی قومی شناخت بنتا ہے۔ اس وطن کی تقدیر ہمارے ہاتھوں میں ہے اور ہماری تقدیر اس کی سالمیت و ترقی سے وابستہ ہے۔

    آئیے! اپنی پوری قوت و صلاحیت اسے مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے پر صرف کیجیے تاکہ ہم قوموں کی صف میں باعزت مقام حاصل کر سکیں اور اگر ہم نے وطن کی ترقی کی طرف سے اغماض برتا تو تاریخ ہمیں حرف غلط کی طرح مٹا ڈالے گی۔

  • شانِ پاکستان . تحریر: مونا نقوی

    شانِ پاکستان . تحریر: مونا نقوی

    شانِ پاکستان
    تحریر: مونا نقوی
    وطن عزیز جو خواب کی صورت علامہ اقبال کی جہاندیدہ آنکھوںمیں سمایا اور دوراندیش ذہن نے اس کا تصور امت مسلمہ کے دلوں میں بیدار کیا ۔ قائد ملت محمد علی جناح نے جسے شرمندہ تعیبر کرنے کے لیے انتھک جد وجہد کی ۔ تمام قوم کو یکجا کیا ، ایک ایسا نعرہ دیا جس نے ہر ذی شعور انسان میں جوش و ولولہ بھر دیا اور جوق در جوق آزدای کے پروانے اس آواز پرلبیک کہتے ہوئے سبز ہلالی پرچم کے تلے جمع ہونے لگے۔

    کچھ وطن فقط نقشوں پر بنتے ہیں چند ایک ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے نقشے دلوں پر نقش ہوتےہیں اور پاکستان ان میں سے ایک ہے…جسے خوابوں کی مٹی سے گوندھا گیا،تہجد میں مانگی گئی دعاؤں سے سینچاگیا،اور بے مثال قربانیوں سے تراشا گیا۔

    اس ارضِ پاک کی سرحدیں کسی پین کی لکیروں کی مرہونِ منت نہیں،بلکہ ان قدموں کی گرد میں چھپی ہیں جو کوچوں سے کوچے، قافلوں سے قافلے،اپنا سب کچھ چھوڑ کرصرف ”لا الٰہ الا اللہ“ کی چھاؤں میں ہجرت کر کے آئے۔یہی تو ہے پاکستان کی نظریاتی شان —جہاں عقیدہ صرف عبادت نہیں،بلکہ شناخت بھی ہے۔یہاں کی مٹی میں صرف فصلیں نہیں اگتیں،یہاں خواب اگتے ہیں —وہ خواب جو کبھی ہنزہ کے نیلے آسمان میں تیرتے ہیں،تو کبھی سوات کی وادیوں میں بانسری کی صورت بجائے جاتے ہیں۔

    بلوچستان کی قدرتی قیمتی معدنیات اپنے بطن میں چھپائے پہاڑیاں اس ملک کی شان ہیں ،دریائے سندھ میں بہتا پانی فقط پانی نہیں بلکہ صدیوں کی تہذیب کی رگوں میں بہتا ہوا خون ہے ۔کے ٹو کی برف پوش چوٹیاں وقار میں لپٹی دعاؤں جیسی ہیں جو فلک سے ہمکلام ہیں۔یہ قدرتی شان پاکستان کی وہ مسکراہٹ ہے جو زمین کے چہرے پر آسمان کے بوسے کی مانند ہے۔

    وطن عزیز جہاں قدرتی خزانوں سے مالا مال ہے وہیں روشن دماغوں اور خداداد صلاحیتوں سے لبریز قومی ہیروز کا بھی مسکن ہے۔ ایسے ہیروز جنھوں نے ناصرف قومی سطح پر اپنا لوہا منوایا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی فتح و ظفر کے جھنڈے گاڑے اور فخرِ پاکستان کہلوائے۔

    جب زمین کو خون چاٹنے کی عادت پڑی،تو ہم نے سپاہیوں کے سینے آگے کر دیے۔ہم نے وردی میں صرف لباس نہیں پہنا،ہم نے وقار، قربانی، وفا اور موت کا گہنا پہنا۔وہ سپاہی جن کے لیے میڈیم نور جہاں نے ؛ ”اے وطن کے سجیلے جوانو ! میرےنغمے تمہارے لیے ہیں“ گا کر گیت کو امر کر دیا۔یہ عسکری شان نہیں،یہ اس ماں کا سچ ہے جو بیٹے کی لاش پر بھی فخر سے کہتی ہے:”میرا بیٹا پاکستان پر قربان ہو گیا…“

    سائنسدانوں نے جب خاموشی سے مٹی میں علم بویا،تو آسمانوں سے روشنی اُتری۔جب دشمن نے ارض وطن کی طرف میلی آنکھ سےدیکھا تو ہم نے چاغی کی پہاڑیاں ہلا دیں اور ملک کو نا قابل تسخیر بنا ڈالا۔ڈاکٹر عبدالقدیر نے جوہری دھڑکنیں جگائیں،تو دنیا نے ہمیں عزت کی زبان میں پکارا۔یہ سائنس و دانش کی شان ہے —کم وسائل، زیادہ حوصلے، اور حدوں سے آگے سوچنے کا ہنر۔ارفع کریم جیسے چراغ بجھنے سے پہلے افق پر روشنی کی لکیر بن گئے۔

    اور یہ جو لفظوں کی خوشبو بکھرتی ہےکبھی فیض کی نظم میں،کبھی پروین کی غزل میں،کبھی منٹو کی تلخ تحریروں میں،کبھی بانو کی نرمی میں ،یہ ادبی شان ہے،جہاں الفاظ صرف لکھے نہیں جاتے،جیے جاتے ہیں۔ہماری ثقافت وہ چادر ہےجس میں ہر رنگ کی دھجی بڑی محبت سے سلی ہوئی ہے۔پنجاب کی دھمال، سندھ کی ٹوپی،بلوچستان کا ساز، پختونخوا کی چائے،یہ سب "ہم” ہیں ۔۔۔ ”ہم“وہ چراغ جنھیں ہوائیں بجھا نہیں سکتیں۔

    اور جب کھیلوں کے میدان میں ہرا جھنڈا لہرایا جاتا ہے،تو صرف جیت نہیں،پاکستان کا دل دھڑکتا ہے۔عمران کی ورلڈ کپ کی جیت ہو،یا جہانگیر خان کی ناقابلِ شکست دوڑ ،یا ارشد ندیم کی عظیم فتح ہم نے دنیا کو بتایا کہ فتح وہی ہوتی ہے جو جذبے سے شروع ہو۔یہ کھیلوں کی شان ہے —جہاں گیند، بلّا، ریکٹ، اور پسینہ صرف کھیل نہیں،قوم کی فتح بن جاتے ہیں۔ جن کی کامیابیوں سے ملت کے دل جوش و خروش سے بھر جاتے ہیں اور ہر زبان لہک لہک کر یہ نغمہ گنگنانے لگتا ہے۔

    چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
    سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے

    اور پھر…وہ عام لوگ — جن کے لیے کوئی نغمہ نہیں لکھا گیا۔۔کوئی ترانہ نہیں پڑھا گیا،جن کے لیے کوئی ڈرامہ نہیں بنایا گیا۔جن کے نام کسی اینکر نے نہیں پکارے،جن کے لیے کوئی مجسمہ نہیں بنا…مگر جنہوں نے پاکستان کو روز بچایا، روز سنوارا۔ملک کی ترقی میں جنھوں نے شبانہ روز اپنا حصہ ڈالا وہ گمنام کردار بھی کسی ہیرو سے کم نہیں۔

    کسی خاتون نے اسپتال میں ڈیوٹی دی،کسی نوجوان نے سافٹ ویئر ایجاد کیا،کسی درزی نے پاکستان کے جھنڈے میں کپڑا سی دیا،کسی ڈرائیور نے وقت پر روٹی گھر پہنچا دی —یہ سب عوام کی شان ہیں۔وہ مائیں، جو بغیر نوکری کیےدنیا کے سب سے بڑے دل کی مالک ہیں؛جو ملک کے لیے ایسی نسلیں پروان چڑھا رہی جو ملک و قوم کے لیے آنے والے وقتوں میں سرمایہ بنیں گی۔وہ بچیاں، جو تعلیم کےلیے گھروں سے نکلتی ہیں تاکہ والدین اور خاندان کانام روشن کر سکیں؛

    وہ اقلیتیں، جو چرچ، مندر، گردوارے سے نکل کرپاکستان کے لیے سانس لیتی ہیں…یہ سب اصل شانِ پاکستان ہیں۔
    اور وہ جو بیرونِ ملک بستے ہیں،اپنےدل میں پاکستان کو بسائےرکھتے ہیں۔دنیا کے نقشے پر جہاں بھی کوئی پاکستانی کچھ بڑا کرتا ہے،وہ ”شانِ پاکستان“ بن جاتا ہے۔چاہے وہ انجینئر ہو یا ڈاکٹر،کھلاڑی ہو یا استاد —اس کے نام کے ساتھ "پاکستانی” لفظ ہی اس کا تمغہ ہے۔

    اور یہ زبان اردو،جو نا صرف بولی جاتی ہے،بلکہ بہتی ہے، نرالی ہے، خواب جیسی ہے۔اس کی روانی میں تہذیب ہے،اس کی لطافت میں علم،اور اس کی گہرائی میں پاکستان۔یہ زبان کی شان ہے —جو ہمیں جوڑتی ہے، سلاتی ہے، جگاتی ہے۔تو اے وطن…تو نہ صرف نقشہ ہے، نہ صرف زمین، نہ صرف دریا تو ایک چراغ ہےجو کسی نے خون سے جلایا،اور اب ہم نے اپنی سانسوں سے بچانا ہے۔تیری شان تیرے لوگ ہیں تیری شان تیری روشنی ہےتیری شان وہ خواب ہے جو ہم نے اگلی نسل کو آنکھوں میں دے کرآسمان کی طرف دیکھنا ہے۔

    یہی تو ہے "”شانِ پاکستان“
    خوابوں، دعاؤں، آہوں اور فتوحات کی داستان۔