Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • میرپورخاص: چہلم امام حسینؑ پر ضلع بھر میں ماتمی جلوس، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

    میرپورخاص: چہلم امام حسینؑ پر ضلع بھر میں ماتمی جلوس، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

    میرپورخاص( باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب) میرپورخاص میں چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر ضلع بھر میں عزاداری کے جلوس نکالے گئے۔ دن بھر مختلف علاقوں میں بارگاہ تقی شاہ، سٹلائٹ ٹاؤن اور بھانسگاہ آباد سے ماتمی جلوس برآمد ہوتے رہے۔

    چہلم کا مرکزی جلوس غریب آباد سے برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا عزاخانہ مولوی نوازش علی شاہ، اسٹیشن چوک اور پوسٹ آفس چوک سے ہائی کورٹ روڈ کے سامنے سے گزرا اور درسگاہ مکھن شاہ پر اختتام پذیر ہوا۔

    جلوس کے روٹس پر میئر میونسپل کارپوریشن کی ہدایات پر صفائی ستھرائی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور سیکیورٹی کے سخت ترین اقدامات کیے گئے تاکہ جلوس پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہو سکے۔

  • لنڈی کوتل :فاٹا ڈس ایبل کرکٹرز کو سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ

    لنڈی کوتل :فاٹا ڈس ایبل کرکٹرز کو سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) فاٹا ریجن کے ڈس ایبل کرکٹرز نے حکومت اور محکمہ کھیل سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ روا رکھے گئے امتیازی سلوک کو فوری طور پر بند کیا جائے اور کھلاڑیوں کو ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انٹرنیشنل ڈس ایبل کرکٹر اور فاٹا ریجن ڈس ایبل کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد اللہ آفریدی نے ڈسٹرکٹ خیبر پریس کلب لنڈیکوتل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ کھلاڑی واحد شاہ اور محی الدین شینواری بھی موجود تھے۔

    محمد اللہ آفریدی نے کہا کہ فاٹا ریجن کے ڈس ایبل کرکٹرز وسائل اور سہولیات کی کمی کے باوجود شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 27 اگست کو مانسہرہ اور گوجرانوالہ میں ملک کے 16 ریجنز کی ڈس ایبل ٹیموں کے درمیان کرکٹ مقابلے ہونے جا رہے ہیں، جس میں فاٹا ریجن کی ٹیم بھی حصہ لے رہی ہے۔ تاہم، ٹیم کو کٹ بیگز اور دیگر ضروری سامان کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ فاٹا ریجن کے کھلاڑیوں میں بہترین صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن وسائل کی کمی اور حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے صوبائی وزیر برائے کھیل عدنان قادری، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ کھیل سے اپیل کی کہ وہ ان کھلاڑیوں کی مدد کریں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کھلاڑیوں کو مناسب سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر فاٹا ریجن کا نام روشن کر سکتے ہیں۔

  • شانِ پاکستان، تحریر سعد فاروق

    شانِ پاکستان، تحریر سعد فاروق

    شانِ پاکستان
    تحریر سعد فاروق
    زمین کے ہر گوشے میں کوئی نہ کوئی کہانی چھپی ہوتی ہے۔ کہیں کسی پہاڑ کی چوٹی صدیوں سے ہوا کو چیرتی کھڑی ہے، کہیں کوئی دریا اپنی موجوں میں صدیوں کا سفر سمائے بہہ رہا ہے، اور کہیں کسی دھرتی کا ذرّہ بھی اپنی پہچان، اپنی عظمت اور اپنی کہانی کا امین ہوتا ہے۔ ہماری دھرتی — پاکستان — بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے، جو وقت کے اوراق پر سنہری حروف میں لکھی گئی ہے۔ یہ سرزمین صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر، ایک قربانی کا صلہ، اور ایک ایسی روشنی کا مینار ہے جو اندھیروں میں بھٹکتے انسان کو راستہ دکھاتا ہے۔

    پاکستان کی بنیاد کسی لالچ یا اقتدار کی ہوس پر نہیں رکھی گئی، بلکہ یہ ایک نظریہ تھا، ایک وعدہ تھا، اور ایک ایمان تھا۔ یہ وعدہ محمد علی جناحؒ اور ان کے ساتھیوں نے ایک ایسی قوم سے کیا، جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑی تھی۔ یہ ایمان علامہ اقبالؒ نے اپنے اشعار میں بیدار کیا، وہ خواب جو انہوں نے دیکھا، ہر لفظ میں ایک عزم کی صدا تھی۔ اقبال کا یہ خواب محض سیاسی نقشہ نہیں بلکہ روحانی انقلاب کا پیش خیمہ تھا۔

    یہ سرزمین گنگا جمنا کی تہذیب کی دھرتی بھی ہے اور قرآن کی ہدایت کا مرکز بھی۔ یہاں کے پہاڑوں میں ہمالیہ کی سادگی اور وقار جھلکتا ہے، تو صحراؤں میں ریت کے ذروں کی صدیوں پرانی دانائی چھپی ہے۔ وادیٔ سندھ کی گواہی دینے والے کھنڈرات آج بھی بتاتے ہیں کہ یہ خطہ تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ ہڑپہ اور موہنجو داڑو کی مٹی میں نہ جانے کتنے قصے دفن ہیں، جو وقت کی زبان میں کہے جانے کے منتظر ہیں۔

    پاکستان کی شان اس کے قدرتی حسن میں بھی ہے۔ شمال کے برف پوش پہاڑ، وادیٔ ہنزہ کے شفاف جھرنے، سوات کی سبز وادیاں، گلگت کے چمکتے گلیشیئرز، اور بحیرۂ عرب کے نیلگوں پانی—یہ سب مل کر قدرت کا ایسا شاہکار بناتے ہیں، جو دنیا میں نایاب ہے۔ دنیا کے دوسرے حصے میں لوگ کروڑوں خرچ کر کے ایسی فضا تلاش کرتے ہیں، جو یہاں ہر سانس میں گھلتی ہے۔

    مگر پاکستان کی اصل شان صرف اس کی مٹی، پہاڑ یا دریا نہیں، بلکہ اس کے لوگ ہیں۔ وہ کسان جو دھوپ میں جل کر، پسینے کو بارش بنا کر فصل اگاتے ہیں۔ وہ مزدور جو اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں محنت کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ وہ سپاہی جو اپنی نیند قربان کر کے ہماری نیند کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ استاد جو کچے سکول میں بیٹھ کر بھی علم کا چراغ جلاتا ہے۔ یہ سب پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

    پاکستان کی تاریخ میں وہ لمحے بھی ہیں جب دشمن نے اس کی طرف میلی نظر ڈالی، مگر اس دھرتی کے بیٹے دیوار کی طرح کھڑے ہو گئے۔ 1965 کی جنگ میں لاہور کی فضاؤں میں گونجتے ہوئے نعرے، 1971 کی آزمائش میں بھی عزم کا مینار، اور کارگل کی برفانی چوٹیوں پر بہادری کی داستانیں—یہ سب پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ہمارے سپاہی اپنی جان دے کر بھی دشمن کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ یہ دھرتی کبھی خالی نہیں ہوگی، یہاں ہمیشہ ایک سپاہی کھڑا ہوگا، ایک جوان سانس لے گا، اور ایک ماں اپنے بیٹے پر فخر کرے گی۔

    پاکستان کی شان اس کے نوجوان ہیں، جن کے خواب ستاروں سے بھی اونچے ہیں۔ یہ نوجوان جب قلم پکڑتے ہیں تو علم کے میدان میں جھنڈے گاڑ دیتے ہیں، جب ہنر دکھاتے ہیں تو دنیا حیران رہ جاتی ہے، اور جب کرکٹ کے میدان میں اترتے ہیں تو پوری قوم ایک ساتھ دھڑکتی ہے۔ عبدالستار ایدھی جیسے لوگ اس شان کو انسانیت کی معراج تک لے جاتے ہیں، جن کی زندگی ایک پیغام تھی کہ محبت اور خدمت سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں۔

    یہ سرزمین مشکلات سے بھی گزری ہے—سیلابوں کا قہر، زلزلوں کا زخم، معاشی بحرانوں کا بوجھ—مگر پاکستانی قوم نے ہر بار راکھ سے اٹھ کر نیا جنم لیا۔ یہاں کا بچہ بھی اگر کھلونا ٹوٹ جائے تو لکڑی اور ڈبے سے نیا بنا لیتا ہے، یہ قوم بھی اسی بچے کی طرح ہر مشکل میں سے راستہ نکال لیتی ہے۔

    پاکستان کی شان اس کے رنگ، اس کی زبانیں، اس کی ثقافت اور اس کی محبت میں چھپی ہے۔ پنجابی کی مٹھاس، سندھی کا وقار، بلوچی کی بہادری، پشتون کا غیرت مند دل، اور کشمیری کی وفاداری—یہ سب ایک ہی پرچم کے سائے تلے جُڑ کر ایک ایسی قوسِ قزح بناتے ہیں، جسے دیکھ کر ہر دل فخر سے بھر جاتا ہے۔

    پاکستان کا پرچم صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں، یہ قربانیوں کی چادر ہے۔ اس کا سبز رنگ امید اور ایمان کا نشان ہے، اس کا سفید رنگ اقلیتوں کی عزت اور محبت کی علامت ہے۔ جب یہ پرچم ہوا میں لہراتا ہے، تو اس کے سائے میں لاکھوں شہیدوں کی ارواح مسکراتی ہیں۔

    آج کا پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک چیلنج اور ایک موقع دونوں ہے۔ یہ ملک اپنی صلاحیت، اپنے وسائل اور اپنی نوجوان نسل کی طاقت سے وہ سب کر سکتا ہے جو بڑے بڑے ملک بھی نہیں کر پاتے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہم اپنی شان کو پہچانیں، اپنے اختلافات کو بھول کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں، اور اس عزم کو زندہ رکھیں جو 1947 میں ہمارے بڑوں کے دل میں تھا۔

    شانِ پاکستان یہ ہے کہ ہم نہ صرف اپنی پہچان پر فخر کریں بلکہ دنیا کو دکھائیں کہ یہ قوم محنت، محبت اور قربانی سے کیا کچھ کر سکتی ہے۔ یہ شان ہمیں ورثے میں ملی ہے، اور ہمیں اسے آنے والی نسلوں تک امانت کے طور پر پہنچانا ہے۔ کیونکہ پاکستان صرف ہمارا آج نہیں، یہ ہمارے کل کا ضامن بھی ہے۔

    پاکستان زندہ باد۔

  • شانِ پاکستان  .تحریر: ردا آرزو ، ڈیرہ اسماعیل خان

    شانِ پاکستان .تحریر: ردا آرزو ، ڈیرہ اسماعیل خان

    شانِ پاکستان
    تحریر: ردا آرزو ، ڈیرہ اسماعیل خان
    14 اگست سن 1947ء کو وجودیت کے پیرائے میں ڈھلنے والی ریاستِ خداداد اسلامی جمہوریہء پاکستان تاریخی، جغرافیائی، تہذیبی، ثقافتی، اور دفاعی لحاظ سے ایک منفرد عظمت اور شان کی حامل ریاست ہے۔

    اس کی تاریخ یوں منفرد ہے کہ یہ کوئی وراثتی ریاست نہیں، بلکہ ہمارے آباء واجداد کی انتھک محنت اور بے شمار قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ کوئی حادثاتی طور پر وجود میں آنے والا ملک نہیں، بلکہ اس کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کا لہو شامل ہے اور اس کے قیام کی یہ تاریخ اس کی انفرادی شان اور بین الاقوامی پہچان کا سب سے معتبر حوالہ ہے۔
    صدیوں سے ذہنی و فکری غلامی کی زنجیروں میں جکڑے برصغیر کے مسلمان انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ جہاں اُنہیں مذہبی آزادی حاصل تھی نہ ہی معاشرتی حقوق۔ ایسے میں شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے اُن کے لیے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا خواب دیکھا، جسے بعدازاں قائدِ اعظم محمد علی جناح اور دیگر مسلمان رہنماؤں کی انتھک محنت اور جہدِ مسلسل نے شرمندہء تعبیر کر دکھایا۔

    وہ مسلمان جو برصغیر میں بے نام و نشان زندگی گزارنے پر مجبور تھے، جب متحد ہوئے تو اس شان سے ابھرے کہ تاجِ برطانیہ سے اپنے لیے ایک علیحدہ خطّہء ارض حاصل کر کے پوری دنیا کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ اگر کوئی قوم متحد ہو کر کسی مقصد کے لیے جدوجہد کرے تو اسے دنیا کی کوئی طاقت اپنا مقصد پانے سے روک نہیں سکتی۔

    جغرافیائی حیثیت:
    جغرافیائی لحاظ سے یہ ایک انتہائی اہم خطے میں واقع ہے۔ یہ ناصرف براعظم ایشیا کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے اقتصادی اور دفاعی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی سرحدیں پانچ ممالک سے ملتی ہیں۔ یہ محلِ وقوع پاکستان کو براعظم ایشیا کے دل میں ایک "پل” (bridge) کی حیثیت دیتا ہے اور اسے تجارتی، دفاعی اور سفارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل بناتا ہے۔
    اس کے علاوہ پاکستان قدرتی حسن اور وسائل سے بھی مالامال ہے۔ یہاں دنیا کی حسین ترین وادیاں، جھیلیں، خوبصورت ترین پہاڑی سلسلے، وسیع و عریض صحرا اور گلیشئرز وغیرہ موجود ہیں جو دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

    ایٹمی طاقت:
    28 مئی سن 1998ء میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں پاکستان نے چاغی (بلوچستان) کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنا دفاع ناقابلِ تسخیر بنایا۔ یہ پہلا اسلامی ایٹمی ملک بنا اور اس کی یہ ایٹمی صلاحیت ناصرف پاکستانی قوم کے لیے بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے تحفظ کی علامت بن گئی۔ یہ اعزاز 57 اسلامی ممالک میں صرف پاکستان کے حصے میں آیا۔
    اس ایٹمی صلاحیت کی بدولت امریکہ جیسی سوپر پاورز

    کثیر ثقافتی ریاست:
    ہمارا پاکستان ایک کثیر ثقافتی ریاست ہے۔ یہاں مختلف قوموں اور مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں مختلف خطوں میں مختلف زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ ہر علاقے کی اپنی ایک منفرد تہذیب اور ثقافت ہے۔ رسم و رواج ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن اس سب کے باوجود تمام پاکستانی آپس میں اتفاق اور اتحاد سے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ کیونکہ سب پاکستانی ہیں اور پاکستان ہی وہ کڑی ہے جو مختلف قوم، رنگ، مذہب اور نسل سے تعلق رکھنے والوں کو آپس میں اتحاد کے رشتے میں جوڑتا ہے۔

    کھیلوں کا میدان:
    علم و فن میں ترقی کے ساتھ ساتھ پاکستان کھیلوں کے میدان میں بھی انفرادی مقام رکھتا ہے۔ کرکٹ، ہاکی، فٹ بال اور اسکواش جیسے کھیلوں میں پاکستان کے نامور کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور اپنے ملک و قوم کا نام روشن کیا۔ کھیلوں کی مصنوعات میں بھی ہمارا پاکستان دنیا بھر میں ایک انفرادی پہچان رکھتا ہے۔ یہاں سیالکوٹ میں بننے والا کھیلوں کا سامان مثلاً فٹ بال، ہاکی، بلّے اور گیند وغیرہ اپنے اعلیٰ معیار کی وجہ سے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں استعمال ہوتی ہیں، جو پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔

    افواجِ پاکستان:
    امن ہو یا جنگ، دہشت گردی کا خاتمہ مقصود ہو یا قدرتی آفات جیسا کہ سیلاب اور زلزلے کی مشکلات سے نمٹنا ہو، ہماری افواج ہر محاذ پر صفِ اوّل میں وطن کی حفاظت اور خدمت کے فرائض سرانجام دیتی نظر آتی ہیں۔
    حالیہ پاک بھارت جھڑپ (جسے بنیان المرصوص کا نام دیا گیا) میں ہماری افواج نے دشمن کو اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر پوری دنیا کے سامنے ایک بار پھر اپنی اعلیٰ عسکری صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور آئندہ کے لیے دشمن کو خبردار کر دیا کہ ہم اپنے پاک وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں۔

    حقیقی شان:

    پاکستان کی اصل شان پاکستان کی وہ غیور عوام ہے، جو کبھی اعتزاز حسن کی شکل محض پندرہ سال کی عمر میں قربانی کے جذبے سے سرشار ہو کر عظمت کی اُس بلندی پر پہنچ جاتا ہے کہ اپنے سکول کے کم و بیش دو ہزار بچوں کو بچانے کی خاطر اپنی موت کو خوشی خوشی گلے لگا لیتا ہے۔

    کہیں وہ ولید خان کی شکل میں چہرے اور گردن پر چھے گولیاں کھا کر بھی زندہ بچ جاتا ہے اور اُن گولیوں کے نتیجے میں اپنے چہرے اور بننے والے نشانات کو اپنی بہادری کا میڈل قرار دیتا ہے۔
    فہرست طویل ہے، لیکن دامنِ تحریر مختصر ہے۔

    پس قصہ مختصر، کہ وہ پاکستان جو سن 1947ء میں ایک ناتواں اور لاغر ریاست تھا، جس کا وجود قائم رہنا ہی اقوامِ عالم کے نزدیک ناممکن تھا، جس کے اِدارے، صنعتیں اور معیشت اپنے ہی وجود کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھے، وہی پاکستان اپنے قیام کے چند سال بعد اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوا اور پھر دنیا بھر میں اپنی ایک انفرادی پہچان قائم کرنے اور اُسے برقرار رکھنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا نظر آیا اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اپنی اس جدوجہد میں کافی حد تک کامیاب ہو چکا ہے اور مزید ترقی کی منزلیں زینہ بہ زینہ طے کرتا نظر آ رہا ہے۔

    آج پاکستان سائنس، ٹیکنالوجی، میڈیکل، انجینئرنگ، یہاں تک کہ اسپیس ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملانے کے لیے کوشاں ہے۔

    قائدِ اعظم کے فرمان کے مطابق ایمان، اتحاد اور تنظیم ہی اس ملک کی کامیابی اور ترقی کی ضمانت ہیں۔ یہ ہم سب کی قومی ذمے داری ہے کہ ہم اپنے وطن کی حفاظت اور ترقی کی خاطر اس اصول کو اپنی زندگیوں کا محور بنائیں اور اپنے وطن کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • شانِ پاکستان . تحریر :عبدالحفیظ شاہد،مخدوم پور پہوڑاں

    شانِ پاکستان . تحریر :عبدالحفیظ شاہد،مخدوم پور پہوڑاں

    شانِ پاکستان
    تحریر :عبدالحفیظ شاہد،مخدوم پور پہوڑاں
    قیامِ پاکستان کا خواب 14 اگست 1947 کو حقیقت بنا اور ہمیں آزادی ملی۔پاکستان بنا تو اس کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کا خون اور اس کی فضاؤں میں لا إلہ إلا اللہ کا نور شامل تھا۔ یہ مملکتِ خداداد اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر معرضِ وجود میں آئی۔عظیم اسلامی مملکت ، اسلامی جمہوریہ پاکستان محض ایک ملک نہیں بلکہ عشق ، محبت ، عظمت اور قربانی کی داستانوں کے ایک طویل سلسلے کانام ہے۔

    لاکھوں خاندانوں نے اپنے آبا و اجداد کی قبریں، زمینیں، گھر، محلے، دکانیں، حتیٰ کہ اپنے پیارے تک قربان کر دیے۔ سکھوں کے قافلے، ہندو انتہاپسندوں کے ہجوم اور بے رحم فسادات نے مسلمانوں کی بستیاں اجاڑ ڈالیں ۔
    جب 14 اگست 1947 کو پاکستان آزاد ہواتو نہ بینک تھے، نہ اپنا مرکزی نظام، نہ افسران کی بھرمار، نہ صنعتیں، نہ زرعی نظام مستحکم، نہ ہی تعلیمی ڈھانچہ۔ مگر یہ قوم عزم سے مالا مال تھی۔

    پہلی کامیابی تب ملی جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان 1948 میں قائم ہوا۔ یہ محض ایک ادارہ نہیں تھا، بلکہ خودمختاری کی جانب پہلا قدم تھا۔ پھر تعلیم کی طرف توجہ دی گئی۔ لاہور، کراچی، پشاور اور ڈھاکہ جیسے شہروں میں جامعات کا قیام عمل میں آیا۔

    پاکستان کی افواج نے صرف دفاع کا فرض ہی نہیں نبھایا بلکہ ایک منظم، بہادر اور جذبہ ایمانی سے لبریز ادارہ بن کر دکھایا ۔ 1965 کی جنگ ہو یا کارگل کی جنگ یا پھر بنیان المرصوس کا موقع ہو ہر بار پاکستانی سپاہیوں نے وطن کی خاطر سینہ سپر ہو کر دنیا کو بتایا”ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔”

    ایئر فورس کے ایم ایم عالم جیسے سپوت نے محض چند لمحوں میں پانچ بھارتی جہاز گرا کر عالمی تاریخ رقم کی۔ دشمن حیران رہ گیا کہ یہ چھوٹا سا ملک اتنی بڑی ہمت کہاں سے لایا؟
    یہ ہمت، اس ماں کی دعا سے آئی جو بیٹے کو صبح اسکول ، مسجد، مدرسے بھیجتے وقت اصل میں میدان کے لیے تیار کر رہی ہوتی ہے ۔

    1974 میں بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو دنیا کی نظریںپاکستان پر تھیں مگر پاکستانی سائنسدانوں، خصوصاً ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قیادت میں پاکستان نے 28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں اپنے آپ كو ایک بہادر اور غیرت مند ملک ثابت کردیا ۔

    یہ صرف بم نہیں تھا، یہ ایک پیغام تھا کہ ہم امن چاہتے ہیں، مگر غلامی نہیں۔

    ہاکی، اسکواش، سنوکر اور دیگر کھیلوں میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں نے دنیا کو حیران کیا۔ جہانگیر خان، جان شیر خان جیسے نام صرف کھلاڑی نہیں قوم کے ہیرو ہیں

    پاکستانی ادب، شاعری، مصوری، موسیقی، فلم اور تھیٹر نے دنیا کو بتایا کہ یہ قوم نہ صرف بہادر ہے، بلکہ حساس اور تخلیقی بھی ہے۔
    فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، پروین شاکر، عمیرہ احمد، مستنصر حسین تارڑ جیسے ادیبوں نے اپنے لفظوں سے قوم کو جگایا۔
    نصرت فتح علی خان، مہدی حسن، نور جہاں، عابدہ پروین جیسے فنکار صرف فنکار نہیں محبت کے امین ہیں۔
    گزشتہ دہائیوں میں پاکستان نے تعلیمی میدان میں بھی غیر معمولی ترقی کی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تشکیل، نیسپاک، پی آئی اے، پاکستان ریلوے، پاکستان نیوکلیئر انرجی کمیشن جیسے ادارے قائم ہوئے۔

    پاکستانی طلبا نے بیرون ملک اسکالرشپس حاصل کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ انجینئرنگ، میڈیکل، سافٹ ویئر، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، اسپیس سائنسز ہر میدان میں پاکستانی نوجوان ابھر رہے ہیں۔

    نمل یونیورسٹی، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) جیسی جامعات عالمی سطح پر مقام بنا چکی ہیں۔

    عبدالستار ایدھی، ایک ایسا نام ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہے۔ انھوں نے صرف ایک ایمبولینس سے آغاز کیا اور پوری دنیا میں سب سے بڑا فلاحی نیٹ ورک قائم کیا۔
    ڈاکٹر رتھ فاؤ، جس نے کوڑھ جیسے موذی مرض کا پاکستان سے خاتمہ کیا، وہ ایک غیر ملکی ہوتے ہوئے بھی پاکستانی بن گئیں۔ ایسے ہی بے شمار افراد، جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت کرتے رہے۔

    آج کا پاکستان مشکلات کے باوجود آگے بڑھ رہا ہے۔ نوجوان ہاتھوں میں قلم، ٹیکنالوجی، ہنر اور حوصلہ لیے کھڑے ہیں۔

    سی پیک جیسے منصوبے مستقبل کی اقتصادی ترقی کا اعلان ہیں۔بلوچستان، گلگت، خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب کے دور افتادہ علاقوں میں اسکول، ہسپتال، سڑکیں، اور انٹرنیٹ سہولیات کا قیام ہو رہا ہے۔

    پاکستان کا اصل چہرہ وہ مزدور ہے جو صبح سویرے روزی کے لیے نکلتا ہے۔ وہ طالبعلم ہے جو موم بتی کی روشنی میں پڑھتا ہے۔ وہ ڈاکٹر ہے جو مفت کیمپ میں لوگوں کا علاج کرتا ہے۔ وہ کسان ہے جو دھوپ میں جھلس کر بھی فصل کاٹتا ہے۔

    یہ وطن ان سب کا ہے۔
    یہ وطن اُن دعاؤں کا ہے جو ہر جمعے کو بوڑھی مائیں آسمان کی طرف اٹھاتی ہیں:
    "یااللہ! میرے ملک کی حفاظت فرما۔”
    ہمیں اب ماضی پر فخر کے ساتھ حال کی اصلاح کرنی ہے۔ نفرت، تعصب، کرپشن، جہالت اور مایوسی کے اندھیروں کو ختم کر کے ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جو قائداعظم کے وژن کا مظہر ہو۔ ہمیں صرف شکایت نہیں کرنی، کام کرنا ہے۔

    ہمیں یہ سوال خود سے پوچھنا ہے:
    "ہم پاکستان کو کیا دے رہے ہیں؟”
    آئیے! آج پھر ہم وہی نعرہ لگائیں جو ہمارے آباؤ اجداد نے لگایا تھا،
    “پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ!”
    اور اس نعرے کو صرف زبان تک محدود نہ رکھیں، اسے دل میں اُتاریں، کردار میں ڈھالیں اور عمل سے ثابت کریں۔

    ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اس کے لیے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے نبھا رہے ہیں؟ کیا ہم اس کے اداروں، اس کی اقدار اور اس کے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر اجتماعی اور قومی فلاح کا سوچیں۔ ہمیں اپنی تمام تر ذہنی، جسمانی اور اخلاقی صلاحیتیں پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے وقف کرنی ہوں گی۔ ہر فرد اگر یہ عزم کر لے کہ وہ اپنے حصے کی شمع جلائے گا، تو اندھیروں کو روشنی میں بدلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

    یاد رکھیں ہم ہی ہیں جو اسے سنوار سکتے ہیں۔ہمیں صرف خود پر یقین رکھنا ہے اور عمل کی راہ اختیار کرنی ہے۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلو ں میں خلوص، ہمارے . عمل میں سچائی اور ہمارے ارادوں میں پختگی عطا فرمائے۔ اور اس پاک سرزمین کو ہمیشہ سلامت، آباد اور محفوظ رکھے۔ آمین

  • شان پاکستان .تحریر: ردا فاطمہ اعوان گوجرنوالہ

    شان پاکستان .تحریر: ردا فاطمہ اعوان گوجرنوالہ

    شان پاکستان
    تحریر: ردا فاطمہ اعوان گوجرنوالہ
    ہر طرف ہے روشنی، چمکتا ہے آسمان
    یہ وطن ہمارا ہے، یہی ہے شانِ پاکستان”

    پاکستان 14 اگست 1947 کو ایک نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا: "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ”
    یہ ملک آزاد زندگی گزارنے کے لیے حاصل کیا گیا۔پاکستان کی شان تو اس کے وجود میں ہے، اس کی بقا میں ہے، اس کی ترقی میں ہے۔ یہ ملک ہمارے بزرگوں کی محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

    پاکستان کی شان اس کی نوجوان نسل میں ہے جو ملک کے مستقبل کی امید ہیں۔ پاکستان کی شان اس کی فوج میں ہے جو ہمیشہ بنا دن رات کا تعین کیے دشمنوں کو چار شانے چت کرنے کے لیے تیار رہتی ہے۔

    زراعت، پانی اور جنگلات کی فراوانی سب پاکستان کی شان کا حصہ ہیں۔

    قومی ہیرو:
    قائداعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال، سر سید احمد خان، اور لیاقت علی خان، ڈاکٹر عبد القدیر خان ہمارے قومی ہیرو ہیں۔

    ثقافت:
    پاکستان کا ثقافتی نظام قدیم جو چاروں صوبوں کی قومیتوں، زبانوں، مذہبی روایات اور تاریخی ورثے پر مشتمل ہے۔ یہ بھی تو پاکستان کی شان ہے کہ یہاں بزرگوں کا احترام، مہمان نوازی اور شرم و حیا کا نظام راج ہے۔

    قدرتی حسن:
    پاکستان کے شمالی علاقہ جات قدرتی حسن سے مالا مال ہیں۔ یہاں کے دلکش پہاڑ، ندیاں، جھیلیں، گلشیرز اور سرسبز وادیاں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ وادی سوات کو پاکستان کا منی سوئزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے۔

    عوام پاکستان:
    پاکستان کی عوام باہمت، محنتی، مہمان نواز اور غیرت مند ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں، پاکستانی عوام ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے، اپنے ملک سے محبت ہر پاکستانی اپنے ایمان کا حصہ سمجھ کر نبھاتے ہیں۔

    ایٹمی طاقت:
    پاکستان نے عالمی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود خفیہ طریقے سے ایٹم بنایا۔ یہ پہلا اسلامی ملک ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے، پاکستان کی ایٹمی طاقت اس کی خودمختاری کی ضمانت ہے۔

    صنعت و زراعت:
    پاکستان کی زرخیز زمینیں دنیا کے بہترین زرعی خطوں میں شامل ہیں۔ یہاں کپاس، گندم، چاول، آم، کینو اور دیگر فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری دنیا بھر میں مشہور ہے۔ سیالکوٹ کا سرجیکل اور اسپورٹس سامان پوری دنیا میں برآمد ہوتا ہے۔

    عالمی سطح پر مقام:
    پاکستان اقوامِ متحدہ، OIC، اور دیگر عالمی تنظیموں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کھیلوں میں کرکٹ، ہاکی، فٹ بال میں عالمی کامیابیاں بھی پاکستان کی شان ہیں۔

    تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
    جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا

    شانِ پاکستان صرف ماضی کی قربانیوں، عظمتوں نہیں بلکہ ایک وعدہ ہے کہ ہم اپنے ملک کا نام مزید بلند کریں گے اور دنیا کو دکھائیں گے کہ ہم ایک پُرامن اور عظیم قوم ہیں۔

    "خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے”

  • شانِ پاکستان،یہ مٹی بولتی ہے، میں پاکستان ہوں! .تحریر:عبداللہ عبدالرؤف

    شانِ پاکستان،یہ مٹی بولتی ہے، میں پاکستان ہوں! .تحریر:عبداللہ عبدالرؤف

    شانِ پاکستان،یہ مٹی بولتی ہے، میں پاکستان ہوں!
    تحریر:عبداللہ عبدالرؤف
    رات کے پچھلے پہر مینارِ پاکستان کے سائے تلے ایک بوڑھا درخت کھڑا تھا، جس کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں اس وطن کی کتھا اور داستانوں کی گواہ تھیں۔ اس کے پتوں پر شبنم کی بوندیں وقت کی خامشی کو سمیٹے ساکت تھیں، اور اس کی چھاؤں میں بکھری ہوا میں ایک ایسی سرسراہٹ نظر آئی جو نہ صرف ماضی کی سرگوشی ہو بلکہ ضمیر کی گہرائیوں میں کوئی چھپی ہوئی صدا بیدار کرتی تھی۔ وہ صدا جو صدیوں کی مسافت طے کر کے آج کی صبح سے ہمکلام ہونے آئی ہو۔

    ’’میں نے اُن آنکھوں کو آنسوؤں سے تر دیکھا، جن کی پلکوں پر ہجرت کا درد اترا تھا۔ میں نے ان ہاتھوں کی لرزش کو محسوس کیا جو ماؤں نے اپنے بیٹوں کو ہجرت کی راہوں پر رخصت کرتے وقت سینے پر رکھے۔ میں نے وہ قافلے دیکھے جو سب کچھ لٹا کر نکلے تھے، ہاتھوں میں فقط قرآن، دلوں میں فقط یقین، اور زبانوں پر فقط ایک صدا لاالہ الا اللہ تھی۔ میں نے لٹے پٹے قافلوں کے وہ قدم گنے ہیں جو ایک ایسے دیس کی تلاش میں تھے جہاں ان کا خدا، ان کا دین، ان کی زبان اور ان کی عزت محفوظ ہو۔لیکن وہ لٹے قافلے جس شان سے آۓ تھے آج بھی وہ منظر آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا‘‘

    قریب ہی ایک نوجوان خامشی سے بیٹھا اس درخت کی گفتگو سنتا رہا۔ اس کے چہرے پر سوالوں کی جھلک اور نظروں میں ایک بے چین تلاش تھی۔ اس نے آہستہ سے پوچھا: ’’بابا درخت! پاکستان کی شان کیا ہے؟ توپ و تفنگ؟ ایٹم بم؟ یا مینارِ پاکستان کی بلندیاں؟‘‘

    درخت نے آسمان کی وسعتوں کی طرف دیکھا، جیسے کہکشاؤں میں گم شدہ صداقت کو تلاش کر رہا ہو۔ پھر گویا ہوا؛’’نہیں بیٹے، شان نہ سنگِ مرمر کی عمارتوں میں ہے اور نہ ہی عسکری طاقت کے مظاہر میں بلکہ شان ان بے آواز دعاؤں میں ہے جو رات کی تنہائی میں ماؤں کے لبوں سے نکلتی ہیں۔ شان ان کسانوں کے ہاتھوں میں ہے جو سورج کی آنکھ کھلنے سے پہلے زمین کو جگاتے ہیں۔ شان تو وہ استاتذہ ہیں جو بورڈ پر الف سے انقلابی فہم کی بنیاد رکھتے ہیں، اور ان سپاہیوں میں ہے جو چپ چاپ وطن کے سرد مورچوں پر جاگتے ہیں۔‘‘

    ’’شان ان خوابوں میں ہے جو حضرت اقبال نے قرطاسِ دل پر تراشے، ان نظریات میں ہے جو بابائے قوم نے اصولوں کی چھینی سے تراش کر قوم کے سامنے رکھے۔ شان اس درویش کی آہ میں ہے جو فاقہ زدہ ہو کر بھی اپنے ملک کے لیے عافیت مانگتا ہے۔ وہ بوڑھا شجر بولتا ہی چلا جا رہا تھا اور نوجوان بھی نا جانے کس سوچ میں گم ہو گیا۔ شان اس بچی کے روشن چہرے میں ہے جو اسکول کے پرچم کے نیچے قومی ترانے کے ہر لفظ کو امانت سمجھ کر گاتی ہے۔ شان ان راستوں میں ہے جو وادیِ گلگت کے گلوں سے لے کر مکران کے ساحلوں تک ایک ہی دھڑکن سے جڑے ہیں۔‘‘

    درخت کی شاخیں جیسے دعا کی صورت آسمان کی طرف پھیل گئیں ’’یہ وہ سرزمین ہے جس کے ذرے ذرے میں شہیدان وفا کا خون بولتا ہے، جن کے کفن پر چاندنی نے چراغاں کیا، جن کے جنازے وطن کی مٹی نے گلے لگا کر سنوارے۔ مگر اے نسلِ نو! یہ سب فقط تذکرے نہیں، یہ ایک عہد ہے، ایک ذمہ داری ہے، ایک مسلسل چلنے والا سفر ہے۔‘‘

    ’’اب وقت بدل چکا ہے۔ یہ صدی آوازوں کی نہیں، اشاروں کی ہے۔ یہاں آنکھوں کو پڑھنا آتا ہے، مگر دلوں کی سچائی بھلا دی گئی ہے۔ بیٹے! دنیا ایک ڈیجیٹل دھارے میں بہتی جا رہی ہے، جہاں جذبات کو ایموجی، اور سچائی کو ترند سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یاد رکھنا، مشینیں نہ ضمیر رکھتی ہیں، نہ وفا اور نہ ہی درد کا شعور۔سو شان اُس نسل میں ہے جو ٹیکنالوجی کو ہتھیار بنائے مگر انسانیت اس کی ڈھال ہو۔ جو ترقی کی دوڑ میں خودی نہ کھو بیٹھے، جو معلومات کے انبار میں حکمت کی شمع جلاتی چلی جائے۔‘‘

    فضا میں گلابی روشنی پھیلنے لگی، جیسے افق کی چھاؤں میں سحر کی کوئی کرن ہاتھ پھیلائے کھڑی ہو۔ مینار کی پیشانی پر سورج کی پہلی کرن پڑی تو ایسا محسوس ہوا جیسے پوری کائنات یہ اعلان کر رہی ہو: پاکستان کی شان ان دلوں میں ہے جو وفا میں سچے، عمل میں پختہ، اور خوابوں میں بے خوف ہیں۔

    نوجوان نے آنکھوں میں عزم کا نور لیے درخت کی طرف دیکھا، لبوں پر سکون تھا، مگر آواز میں بجلی سی تیزی اور بے ساختہ بولا اے شجرِ سایہ دار ،اے حقیقت پسند میں عہد کرتا ہوں کہ’’میں نفرت کا سوداگر نہیں، محبت کا امین بنوں گا۔ میں اپنے حرفوں کو تیر نہیں، مرہم بناؤں گا۔ میں خامشی کے اس بازار میں صداقت کی آواز بنوں گا۔ میں چوراہوں پر چیخنے والے مجمع کا نہیں، بیدار شعور کا نمائندہ بنوں گا۔‘‘

    درخت کی شاخیں جیسے چھاؤں کی چادر میں لپٹ کر اس کے سر پر سایہ فگن ہوئیں۔ وہ گویا ہوا: ’’بس یہی ہے اصل شان کہ تم فقط ایک فرد نہیں، بلکہ ایک فکری کارواں ہو۔ تم وہ دلیل ہو جس سے یہ وطن اپنے وجود کی گواہی دیتا ہے، تم وہ روشنی ہو جس سے اندھیرے لرزتے ہیں۔ تمہاری سوچ ہی پاکستان کا مستقبل ہے، اور تمہاری جرأت ہی اس کی بقا کی ضامن ہے۔‘‘

    اور ہاں! اس وطن کی شان وہ لکھاری بھی ہیں جو حروف میں طوفان باندھ دیتے ہیں۔ جو تخت کو بھی سوال کے کٹہرے میں لاتے ہیں، اور محراب کو بھی خواب کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ جو لفظوں سے چراغ جلاتے ہیں، اور جن کی سوچ صرف تحریر نہیں، تحریک ہوتی ہے۔ ان کے قلم کی سیاہی سے تاریخ رقم ہوتی ہے، اور قومیں سانس لیتی ہیں۔

    یہی وہ خاک ہے، جس پر چلنے والے ان دیکھے راستوں کے مسافر ہوتے ہیں۔ یہ وطن فقط سرحدوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک فکری تمدن ہے، ایک روحانی رشتہ ہے، ایک تاریخی کربلا کے بعد ملنے والا ابدی انعام ہے۔ یہ وہ آسمان ہے، جہاں ہر ستارہ ایک خواب کی نمائندگی کرتا ہے، اور ہر خواب ایک نئی صبح کی بشارت ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں مٹتی ہیں جو آوازوں سے خالی ہو جائیں، اور وہ بستیاں مر جاتی ہیں جہاں ضمیر سستا ہو۔ مگر پاکستان کی شان اُن سینوں میں دھڑکتی ہے جو مصلحت کے اندھیرے میں بھی سچ کا پرچم اٹھائے رکھتے ہیں۔ یہ ملک اُن قدموں کی گونج ہے جو سڑکوں پر نہیں، نظریات کی راہوں پر چلتے ہیں۔ یہاں افتخار توپوں کی گرج میں نہیں، ایک طالبعلم کی کتاب میں چھپی بصیرت میں ہے۔ یہاں وفا کوئی نعرہ نہیں، ایک طرزِ زیست ہے۔ یہ شان نہ تاج میں ہے، نہ تخت میں بلکہ یہ تو اس لمحے میں ہے جب کوئی نوجوان اپنی انا کو قربان کر کے قوم کے لیے جھک جاتا ہے اور اپنا پرچم سر بلند کرتا ہے۔

    یہی ہے پاکستان، اور یہی ہے شانِ پاکستان!

  • شانِ پاکستان. تحریر: محمد اطہر فتح پوری

    شانِ پاکستان. تحریر: محمد اطہر فتح پوری

    شانِ پاکستان
    تحریر: محمد اطہر فتح پوری
    پاکستان، سرزمینِ منیرِ امن و اتحاد۔۔۔ پاکستان، ایک ایسا خواب جو حقیقت میں بدلا، ایک ایسی سرزمین جو لاکھوں قربانیوں کے بعد وجود میں آئی، جس کا جغرافیہ صرف قدرتی حسن سے مالا مال ہی نہیں بلکہ اس کی تاریخ اور ثقافت بھی رنگین اور عمیق ہے۔ اس کی شان صرف اس کی جغرافیائی حدود میں نہیں، بلکہ اس کے نظریے، ثقافت، تاریخ اور عوام کی جدوجہد میں مضمر ہے۔

    برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ وطن کا خواب دیکھا تاکہ وہ اپنے دین، ثقافت اور روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا:”پاکستان کا مطلب صرف زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسی ریاست کا قیام ہے جہاں ہم اپنی مذہبی، ثقافتی اور سماجی اقدار کے مطابق زندگی گزار سکیں۔”

    علامہ اقبال نے 1930ء میں الہٰ آباد کے خطبے میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کا تصور پیش کیا، جو بعد میں پاکستان کی بنیاد بنا۔ پاکستان کا قیام 14 اگست 1947 کو ہوا۔ یہ وہ دن تھا جب ایک خودمختار اسلامی جمہوری ریاست کی صورت میں نئے عہد کی بنیاد رکھی گئی، جس نے مشعلِ راہ بن کر ایشیا اور اس سے آگے کے خطوں میں اقلیتوں کے حقوق اور برابری کی ریاست کی امید جگائی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے الفاظ آج بھی دلوں کو جنجھوڑ دیتے ہیں:
    "قیادت ایمان ہے، رہبر وہی ہے جس کے دل میں ہمدردی، یقین اور خلوص ہو۔”

    پاکستان کا قیام محض ایک سیاسی عمل نہیں تھا، بلکہ یہ لاکھوں مسلمانوں کی ولولہ خیز قربانیوں کا نتیجہ تھا۔ 1947ء کی تقسیم کے دوران لاکھوں افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، بے شمار خاندان بے گھر ہوئے، لیکن ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔

    خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگِ گلاب
    ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔

    پاکستان مختلف ثقافتوں، زبانوں اور روایات کا گہوارہ ہے۔ پاکستان کا سیرنگ نظارہ اپنی سرائیکی مٹی سے لے کر پشتون پہاڑوں تک، بلتستان کی وادیوں سے سندھ کے میدانی علاقے تک، اور بلوچستان کے ریگستان سے کوہ ہمالیہ کے ٹھنڈے پہاڑوں تک پھیلا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان کے چشمے جیسے شیشے کی چادر پہ بہی دودھ کی لکیریں ہوں۔ سوات و وادیٔ کاغان کی وادیاں جیسے برف کے ہونٹوں سے چمکتی ہوئی نیلم کی روشنی منعکس کر رہی ہوں۔ سندھ کی سرسبز دھان کی کھیتیاں اور پنجاب کی ہریالی ایسے محسوس ہوتی ہے جیسے بہار اپنا جوبن کا سبز رنگ کھولے ہوئے مسکرا رہی ہو۔ بلوچستان کی سنگلاخ چٹانیں ایسا نظارہ پیش کرتی ہیں جیسے وقت نے اپنی کہانی کندہ کر دی ہو۔ یہ طرح طرح کے مناظر نہ صرف دل کو چھوتے ہیں بلکہ اپنی شان و عظمت کے جلوؤں کا ایسا اعتراف کرواتے ہیں گویا قدرت نے یہاں اپنے پورے ڈبے سے رنگ بکھیر دیے ہوں۔ ہر خطہ ایسا کہ جیسے کسی مصور کی بے نظیر و شاہکار مصور گری ہو، جس میں ہر رنگ اپنی داستان بیان کرتا ہے۔ اس کی مختلف زبانیں اور مختلف روایات اس کی ثقافتی ورثے کی نمائندہ ہیں۔ اس کا یہی تنوع ہماری طاقت ہے، جو ہمیں ایک مضبوط قوم بناتا ہے۔

    ہماری قوم کی طاقت کا ایک مظہر وطنِ عزیز کی عسکری قوتیں بھی ہیں۔ ہماری مسلح افواج نے ہمیشہ ملک کی خودمختاری کا دفاع کیا ہے۔ کئی مواقع پر ایسی کاری ضرب لگائی کہ عالمِ دنیا انگشت بدنداں ہوئی، جیسے کہ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں ہمارے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دشمن کو پسپا کیا۔

    اے راہِ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو
    تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں۔

    شانِ پاکستان صرف خوبصورتی یا تاریخ تک محدود نہیں، بلکہ یہ جدیدیت اور ترقی کی راہوں پر بھی رواں دواں ہے۔ وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی میں تجارت و صنعت، ٹیکسٹائل و زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، صحت و توانائی، ادبی و تعلیمی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی اپنے اپنے محور میں رہ کر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی پراجیکٹس جیسے سی پیک (چائنا–پاکستان اکنامک کوریڈور) نے پاکستان کو خطے میں معاشی مرکز کی حیثیت دی، ٹرانسپورٹ و توانائی کے شعبے میں نئے امکانات کھولے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی راہ پر چل کر پاکستان ایٹمی قوت بنا۔ 1998ء میں ایٹمی تجربات کے ذریعے دفاعی خود انحصاری میں ایک ایسا سنگ میل عبور کیا جس نے قوم کی جواں مردی اور حوصلہ کو ثابت کیا۔ اس کی تجارت و صنعت، ٹیکسٹائل و زراعت اور ڈیجیٹل سروسز اور دیگر پاکستانی مصنوعات بین الاقوامی معیار پر پہنچ چکی ہیں۔

    پاکستان کے نوجوان، جو "ٹیلنٹ فیکٹری” کی طرز پر ہیں، ہر شعبے میں اپنی لگن، تعلیم، اور جدّت سے ملک کا چہرہ روشن کر رہے ہیں: اسٹارٹ اپ کلچر، ٹیک انقلاب، فنانس، زرعی ٹیکنالوجی، ای-کامرس میں نئی لہریں۔۔۔

    نوجوانوں سے ہے ملک کی تقدیر وابستہ
    ان کے ہاتھوں میں ہے پاکستان کی باگ ڈور۔

    ادبی حلقوں میں نئے شعری تجربے، افسانہ نگار اور ناول نگار کی ابھرتی ہوئی نسلیں عالمی منظر پر پاکستانی زبان و کہانی کو اجاگر کر رہی ہیں، یعنی ہر آنے والا دن پاکستان کو نئے امکانات سے روشناس کراتا ہے۔

    الغرض پاکستان نے مختلف شعبہ جات میں کافی قابلِ ذکر ترقی کی ہے، لیکن ابھی بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ ان میں مزید اصلاح و بہتری کی ضرورت بہر حال موجود ہے۔ ہمیں مل کر ان مسائل کا حل کے لئے جہدوجہد کرنی ہو گی تاکہ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں سر فہرست ہو سکے۔

    ملکِ عزیز ایک احساس، ایک جذبہ، اور ایک روایت ہے۔ "شانِ پاکستان” کا مفہوم اس کے لوگ، اس کی زبان، اس کا کلچر، اس کی کامیابیاں اور اس کا مستقبل سب کچھ محیط ہے۔ ایک شاعر نے خوب کہا:

    راہِ عشق میں ہم نے کِیا استغنا
    تو جو نصیب ہوا خوابِ روشنی سا!

    "شانِ پاکستان” محض لفظ نہیں بلکہ ایک جامع، تحقیقی حقیقت ہے۔ تاریخی اصول، جغرافیائی شاندار مناظر، سماجی و ثقافتی تنوع، اقتصادی ترقی، اور مستقبل کے روشن امکانات۔۔۔ یہ سب مل کر اسے ایک ایسی شے بناتے ہیں جو واقعی انعام کی حقدار ہے۔

    پاکستان ایک نعمت ہے، ایک خواب کی تعبیر ہے، ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہمیں فخر ہے۔ اس کی شان کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیں اتحاد، ایمان اور قربانی کے جذبے کو زندہ رکھنا ہوگا۔

    خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو۔

  • شانِ پاکستان. تحریر: سید سخاوت الوری

    شانِ پاکستان. تحریر: سید سخاوت الوری

    شانِ پاکستان
    تحریر: سید سخاوت الوری
    جب نزولِ قرآن کی پُرنور ساعتیں تھیں، اللہ کے نیک بندے عبادت میں مصروف تھے، ربّ العالمین کی رحمت کے طلبگار تھے، آسمان سے نور کی بارش ہورہی تھی، فرشتے عبادت گزار بندوں پر رحمتیں نچھاور کررہے تھے۔ تہجد گزار سجدے میں جھکے، صدق دل سے "سبحان ربی الاعلیٰ” کا ورد کررہے تھے۔ سجدوں سے سر اُٹھے تو آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔

    دعائیں صادق دل سے نکلیں: اے ہمارے رب! دکھیاروں کے پالن ہار، بے سہاروں کے سہارے، ہم گناہ گاروں کو، سیاہ کاروں کو اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے ایک ایسی زمین، ایک ایسا ملک عنایت فرما، جہاں ہم آزادی سے تیری عبادت کرسکیں، تیرا دیا ہوا قانون نافذ کرسکیں، ایک قوم کی حیثیت سے زندگی گزار سکیں۔ جہاں کسی کو کسی پر برتری نہ ہو سوائے تقویٰ کے، جہاں تیرے دئیے ہوئے رزق سے کوئی محروم نہ رہے، کوئی بھوکا نہ سوئے، ہر شخص کو اس کا حق ملے، بزرگوں کا احترام ہو، بچوں سے پیار ہو، جان و مال، عزت و آبرو محفوظ ہو۔

    مسلمانوں نے بلاتعصب رنگ و نسل، ایک قوم ہوکر رو رو کر اور گڑگڑا کر دعا کی۔ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والے اللہ تعالیٰ سے اپنے بندوں کی آہ و زاری دیکھی نہ گئی۔ رحمتِ خداوندی جوش میں آئی، فرشتوں کو حکم دیا "کُن”، فرشتوں نے جواب دیا "فَیَکُون”، اور اللہ کے نیک بندوں کے دلوں سے آواز نکلی: تیرا انعام پاکستان…!

    "فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَان” کی تکرار کی زندہ تعبیر، بیس لاکھ شہداء کے خون، لاکھوں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و آبرو کا صدقہ — پاکستان عالمِ وجود میں آگیا۔

    لیکن یہ کیا؟ ہم اللہ سے کئے گئے وعدے بھول گئے، اس کی تعلیم بھول گئے، اس کے حبیب ﷺ کا واسطہ بھول گئے۔ نفسانفسی اور خودغرضی کے سمندر میں غرق ہوگئے، غریبوں کا حق مارنے لگے، حرام اور حلال کی پہچان بھول گئے، جائز و ناجائز کی شناخت کھو دی۔ ماں، بہن اور بیٹی کا احترام بھول گئے، بچوں سے پیار اور بزرگوں کا مقام بھول گئے، جان و مال اور عزت و آبرو کے لٹیرے بن گئے۔ گویا "اپنا کام سیدھا، بھاڑ میں جائے عید” کی زندہ تصویر بن گئے۔

    تاریخ گواہ ہے، نافرمان قومیں تباہ و برباد ہوگئیں، دریا بُرد ہوگئیں۔ اور کیا تم بھول گئے؟ ابھی کل کی بات ہے کہ 2005ء کا زلزلہ، اللہ کی ناراضگی کا معمولی سا اظہار، انسان لاچار، شہر ویران، بستیاں تباہ حال، ایک لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے، پھر بھی سبق نہ سیکھا۔

    پھر رحمتوں اور برکتوں کے مہینے رمضان المبارک میں شہر کراچی میں آگ کی بارش بھول گئے؟ تقریباً ڈھائی ہزار افراد شدتِ گرمی سے جھلس گئے، سڑکیں لاشوں سے پٹ گئیں، مُردے اُٹھانے والے کم پڑ گئے، قبریں کم پڑگئیں، سردخانوں میں لاشیں سڑنے لگیں، تم اب بھی استغفار کیلئے آمادہ نہیں۔

    نفرتوں میں تقسیم، سندھی، پنجابی، پٹھان، بلوچی اور مہاجر میں فخر محسوس کررہے ہو، تم نے ایک قوم بن کر پاکستان حاصل کیا تھا، اب تم کدھر جارہے ہو؟

    میرے آفاقی ساتھیو! آؤ، اُٹھو، کمر کسو اور اللہ کی دی گئی نعمت پاکستان کے تحفظ اور ترقی کے لیے اپنے بزرگوں کے عزمِ عالیشان کو عملی جامہ پہناؤ، تاکہ آنے والی نسلیں بھی فخر سے کہیں: اے نگارِ وطن، تو سلامت رہے…! اور ہم ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دیں جن سے شانِ پاکستان میں اضافہ ہو، اور ہم قوموں کی صف میں سینہ تان کر، اپنا قومی پرچم تھامے، عزت، وقار اور شانِ بے نیازی کے ساتھ کھڑے ہو سکیں۔

  • شانِ پاکستان .تحریر: زید محسن

    شانِ پاکستان .تحریر: زید محسن

    شانِ پاکستان
    تحریر: زید محسن
    کسی بھی قوم کیلیے ملک کا وجود اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی ملک کیلئے قوم کا وجود لازم ہے۔ یہ علمِ مدنیت کا مسلّمہ قانون ہے کہ کرہ ارض کا کوئی خطہ اس وقت ایک مخصوص ملک کہلانے لگتا ہے، جب اس میں ایک مخصوص تعداد میں افراد آ بستے ہیں، اور وہ افراد جو زمین کے کسی حصے پر آ بستے ہیں، ان کیلئے وہ حصہ ملک ہو جاتا ہے اور وہ افراد اس ملک کی قوم بن جاتے ہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ قوم و ملک لازم و ملزوم ہیں۔

    ایک دوسرے کے بغیر ان دونوں کا وجود یا تو ہوتا نہیں ہے، اگر ہوتا ہے تو خطرے میں ہوتا ہے۔ ہاں البتہ ترجیحات کے حوالے سے تفاوت ہو جاتا ہے کہ کبھی قوم کو ملک کی زیادہ ضرورت پڑ جاتی ہے اور کبھی ملک کو قوم کی زیادہ حاجت ہوتی ہے۔

    ایک وقت تھا کہ ہم افراد کی صورت میں ایک ملک کی تلاش میں تھے کیونکہ جس ملک کی ہم قوم تھے وہاں ہماری قومیت خطرے سے دوچار تھی، سو کل ہمیں ایک ملک کی ضرورت تھی، جو پاکستان کی صورت حاصل ہوا اور آج اس ملک کو قوم کی ضرورت ہے جو پاکستان کی شان اور آن کو بڑھائے اور خود شانِ پاکستان بن جائے۔

    کسی بھی ملک کی شان کا انحصار اس کی قوم پر ہوتا ہے اور خود قوموں کی شان افراد کے ہاتھوں بڑھتی ہے، جیسا کہ اقبال رحمتہ اللّٰہ علیہ نے فرمایا تھا:
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا

    اس شعر کے ذریعہ اقبال قوم کے ہر ہر فرد کے اندر اس جذبے اور شعور کو اجاگر فرما رہے ہیں کہ جب قوم کا ہر ایک فرد اپنے حصے کا کام کرتا ہے تو تقدیرِ اُمم و ممالیک بدلنا شروع ہوتی ہے۔ پھر ملک کی شان و شوکت بڑھتی ہے اور قوموں کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔

    اگر ہم اس تناظر میں دیکھیں تو اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ پاکستان کی شان و شوکت کی اصل ضمانت بھی قوم ہی ہے اور شانِ پاکستان بھی قومِ پاکستان ہی ہے۔

    قوم کا ہر وہ شخص جو تعمیر و ترقی میں ذرا برابر بھی حصّہ ملا رہا ہو، چاہے وہ تندور پر بیٹھا نان بائی ہو کہ جس کے ذریعے سے قوم کو پیٹ بھر کر جینا نصیب ہوتا ہے۔ چاہے وہ کھیت میں کام کرتا کسان ہو کہ جس کے ذریعے سے قوم کی خوراک کا بندوبست ہوتا ہے۔ چاہے وہ گھر بنانے والا دیہاڑی دار مزدور ہو کہ جس کے ذریعہ سے قوم کو سر ڈھانکنے کی جگہ ملتی ہے۔ چاہے وہ مختلف قسم کی تجارت کرنے والا تاجر ہو کہ جس کے ذریعے سے قوم کے پیسے کا پہیہ گھومتا ہے۔ چاہے وہ چھوٹی بڑی نوکریاں کرنے والا کوئی فرد ہو کہ جس کے ذریعہ سے قوم کی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔ چاہے وہ مسند پر بیٹھا ہوا عالمِ حق ہو کہ جس کی راست گوئی اور تربیت سے قوم کے دین کی حفاظت ہوتی ہے۔ چاہے وہ انتظامی امور سے متعلقہ کوئی فرد ہو کہ جس کے ذریعے قوم کے انتظامات چل رہے ہوتے ہیں۔ چاہے وہ برّی، بحری یا فضائی سرحدوں پر پہرا دیتا محافظ ہو کہ جس کے ذریعے قوم کی حفاظت ہوتی ہے۔

    الغرض، ہر وہ شخص جو ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ملا رہا ہے اور تخریب و انہدام سے بچا رہا ہے، وہ نہ صرف شانِ پاکستان کو بڑھا رہا ہے، بلکہ خود بھی شانِ پاکستان اور ملک و قوم کا ستارہ بنتا جا رہا ہے۔

    اس کے بر خلاف وہ شخص جو ملک کی ترقی کی بجائے نقصان اور انہدام کو اپنی زندگی کا حصّہ بنا رہا ہے اور اس کی ترجیحات میں ملکی اور قومی مفاد بعد میں اور تنظیمی یا انفرادی مفاد پہلے ہے، وہ چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے پاکستان کی شان کو گھٹانے کیلئے کوشاں ہے۔ چاہے وہ بغاوت پر اترا ہوا ہتھیار اور اسلحے سے لیس باغی ہو۔ چاہے وہ حکومتی عہدوں پر بر اجمان رشوت خور اور میرٹ کا قاتل عہدے دار ہو۔ چاہے وہ وردی میں ملبوس لیکن غیروں کے ہاتھوں فروخت شدہ ذہنیت رکھنے والا غدار فوجی ہو۔ چاہے وہ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا وہ فرد ہو جو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہو۔ چاہے وہ پاکستان سے باہر بیٹھ کر تخریب کاری میں ملوث باغی ہو یا غیر ذمہ دار شہری ہو۔

    الغرض جو کوئی بھی ذاتی مفاد کیلیے قومی و ملی نقصان کا باعث بن رہا ہے، یا ملک کو خطرات کی طرف دھکیل رہا ہے، یا کسی بھی انداز سے ملک و قوم کے سر کو نیچا کرنے ذریعہ بن رہا ہے وہ شانِ پاکستان میں کمی کا ذمہ دار ہے، کیونکہ ملک میں رہتے ہوئے یا بیرونِ ملک ہوتے ہوئے کوئی بھی اقدام فرد کا ذاتی اقدام نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک قوم کا تشخص بن جاتا ہے اور قومیں ملک کے نام سے موسوم ہو جاتی ہیں اور پھر جب جب قوم کے کسی برے عمل کا تذکرہ ہوتا ہے تب تب ملک کے اوپر تنقیدی انگلی اٹھ جاتی ہے۔

    اسی لئے اگر شانِ پاکستان مطلوب ہے تو ہمیں بحیثیتِ مجموعی و انفرادی اپنے کردار، گفتار، اطوار اور اقدار پر توجہ دینی ہوگی کیونکہ ہم ہی پاکستان ہیں اور ہم ہی پاکستان کی شان بڑھانے یا گھٹانے کا ذریعہ ہیں۔

    اور ایک آخری بات یہ بھی سمجھ لینی چاہیے کہ جس قدر پاکستان کی شان بڑھے گی اور جس قدر وطنِ عزیز کا نام بلند و بالا ہوگا، اسی قدر ہر ایک پاکستانی کی شان و شوکت میں بھی اضافہ ہوگا اور اتنا ہی معزز تر ہر پاکستانی بھی ہو جائے گا۔ سو بات وہی ہے کہ قوم کی شان و آن، ملک کی شان و شوکت میں ہے اور ملک کی شان، وقار و عظمت قوم کی شان و رفعت میں کیونکہ یہ دونوں ہی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ ان دونوں کی بقا بھی یکجا اور فنا بھی یکجا!

    سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے!