Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • شانِ پاکستان .تحریر:ایس اے شازم

    شانِ پاکستان .تحریر:ایس اے شازم

    شانِ پاکستان
    تحریر:ایس اے شازم(پنوعاقل ضلع سکھر سندھ)
    پاکستان ہمارا مان ہے۔ہماری پہچان ہے۔ہمیں فخر ہے کہ ہم ایک ایسے ملک کے باسی ہیں جو لاکھوں جانوں کے نذرانے کے بعد حاصل ہوا،1947 کی آزادی صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی،بلکہ ایک تاریخ ساز لمحہ تھا جسے مسلمانوں نے اپنی علیحدہ شناخت،مذہب،زبان کی حفاظت کے لیے ایک نئی ریاست کی بنیاد رکھی۔تقسیمِ ہند کے وقت جو خون کی ہولی کھیلی گئی وہ آج بھی تاریخ کے اوراق پر تازہ ہے۔جلتے ہوئے گھر، گاڑیوں میں لاشیں اور ہجرت کے کربناک مناظر آج بھی آنکھوں کو بھگو دیتے ہیں۔

    قائد اعظم محمد علی نے فرمایا تھاکہ پاکستان کے مستقبل کا دارومدار نوجوانوں پر ہے.
    ہمارے نوجوان صرف تعلیمی میدان میں ہی نہیں بلکہ سائنسی، ٹیکنالوجی، ادب و فنون، دفاع اور سیاسی سماجی خدمات کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ہماری نوجوان نسل جو کہ معاشرے میں جذبہِ بیداری پیدا کرتے ہیں،امن اور رواداری اور اتحاد کے پیغام کا پرچار کرتے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں نوجوان نسل کو صحیح سمت دینا بھی ضروری ہے۔ انہیں تعلیم، اخلاقیات اور جذبہ حبل وطنی کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کرنا ہی ہمارے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    پاکستان کی شان اس کی حسن میں بھی پوشیدہ ہے۔ پاکستان قدرتی حسن سے مالا مال ہے یہ دریاؤں، پہاڑوں،صحراؤں، میدانوں، وادیوں اور سمندر کی حسین آمیزش رکھتا ہے، بلوچستان کے پہاڑ، پنجاب کے میدان، سندھ کے دریائی کنارے اور کے پی کے کی وادیاں۔غرض ہر خطہ ایک الگ الگ رنگ میں رنگا ہوا ہے۔پاکستان کا قدرتی حسن الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔وادی سوات سے لے کر گلگت بلتستان تک ایسی خوبصورت وادیاں ہیں جو ہمیں جنت کا نظارہ پیش کرتی ہیں۔اور سیاحوں کا دل موہ لیتی ہے۔

    پاکستان کی اصل شان اس کے عوام کا جذبہ حب الوطنی، فوج کا عزم،نوجوان نسل کی امید، زبانوں کا تنوع اور ہماری ثقافت کا حسن ہے۔دنیا بھر میں پاکستانی افواج کو امن کی راہ استوار کرنے پر سراہا جاتا ہے۔پاکستانی فوج آج کے نوجوانوں میں نظم و ضبط قربانی اور حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہماری پاک سرزمین پر ایسی افواج ہے جو ہر پل جاگتی ہے تاکہ ہم سکون سے سو سکیں،اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے سپہ سالار ہمیشہ چوکس اور دشمن پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہمیں سکون میّسر کر کے دشمن کی نیندیں حرام کرنے پر تلے ہیں۔اور رافیل کو تو دشمن بھول ہی نہیں سکتا۔

    پاکستان کی افواج اس کی سیکورٹی ایجنسیاں اور دیگر قومی ادارے وہ ستون ہے جو ملک کی حفاظت اور ترقی کےضامن ہیں۔ہماری افواج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے۔جو ہر محاذ پر ملک کا دفاع کرتی ہے۔جب بھی پاکستان کی شان کی بات کرتے ہیں تو صرف اس کی سرحد و قدرتی وسائل نظم و ضبط کی بات نہیں کرتے، ہم بات کرتے ہیں ایک روحانی عظمت کی جو اس وطن کے خمیر میں شامل ہے.

    پاکستان کی شان اس کے ادب و فنون،شاعری ،اور فنکاروں میں ہے۔جنہوں نے لفظوں کے چناؤ سے انقلاب برپا کیا، جن کی تحریروں میں وطن کی مٹی کی مہک ہے،جن کے خیالوں میں قوم کی ترقی کا خواب چھپا ہوا ہے۔

    پاکستان کی شان ایک ماں کے آنچل میں ہے جو اپنے شہید بیٹے کی تصویر چوم کر صبر کا ہر وار سہتی ہے،اس مزدور کے پسینے میں ہے جو دن بھر کی محنت مشقت کے بعد بھی وطن کی محبت میں سرشار رہتا ہے۔

    شانِ پاکستان ایک چیز کا نام نہیں بلکہ مجموعہ ہے جذبوں کا ،قربانیوں کا ،اور خوابوں کا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس شان کو برقرار رکھیں، اسے مزید روشن کریں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ہم سب کا ہے اس کی عزت و سلامتی اور ترقی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔یہ ملک ہماری پہچان ہے، ہماری محبت ہے، اور ہمارا فخر ہے۔

    ہم سب پاکستان کی شان ہیں اگر ہم سچے پاکستانی بن جائیں اور وطن پاکستان سے محبت کریں اور خلوص دل سے اس کی خدمت کریں۔ تو دنیا دیکھے گی کہ ہمارا پیارا پاکستان ایک روشن ستارہ ہے،جو ہمیشہ چمکتا رہے گا ،خوشحال ہوگا اور دنیا کے نقشے پر ایک عظیم قوم کے طور پر ابھرے گا۔

    آئیے مل کر عہد کریں کہ پاکستان کا پرچم ہمیشہ سر بلند رکھیں گے اور وطنِ پاکستان کی شان کو صرف باتوں میں نہیں بلکہ عمل میں بھی زندہ رکھیں گے، کیونکہ ہم سب پاکستان کی شان ہیں. پاکستان ہے تو ہم ہیں.اللہ پاک میرے پیارے پاکستان کو ہمیشہ شادوآباد رکھے (آمین)

    آخر میں ایک شعر عرض ہے کہ۔۔..!!

    اے پاک سرزمین ہم قرض دار ہیں تیرے
    تو مانگ لے گر جان تو ہم جانثار ہیں تیرے
    سدا سلامت رکھے میرا رب شانِ پاکستان کو شازم
    تو ماں ہے،تو وفا ہے،ہم وفادار ہیں تیرے

    پاکستان زندہ باد

  • شان پاکستان .  تحریر:ڈاکٹر شاہد ایم  شاہد واہ کینٹ

    شان پاکستان . تحریر:ڈاکٹر شاہد ایم شاہد واہ کینٹ

    شان پاکستان
    تحریر:ڈاکٹر شاہد ایم شاہد واہ کینٹ
    احمد ندیم قاسمی کا شعر ہے۔
    خدا کرے کہ میری عرض پاک پہ اترے
    وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

    ملت اسلامیہ کا کون سا ایسا فرد ہے جو اپنے وطن کی آزادی کے بارے میں نہ جانتا ہو؟ بلا شبہ یہ ملک ان گنت قربانیوں اوراللہ تعالی کی پاک مرضی سے معرض واضح وجود میں آیا ہے ۔میرے وطن کا نام اسلامیہ جمہوریہ پاکستان ہے۔یہ 14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا۔1947 سے تا حال یہ ایک خود مختار ریاست ہے۔

    2025 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی قریبا 25 کروڑ ہے ۔اسلام آباد اس کا دارالخلافہ ہے۔ اس کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر کی تمام ایمبیسیز کے دفاتر ہیں ۔ کل رقبہ ۷۹۶۰۹۷ ہے۔ واضح ہو یہ دنیا کے 36 ویں رقبے والا ملک ہے۔

    پاکستان کی قومی زبان اردو جبکہ سرکاری زبان انگریزی ہے۔یہاں چار موسم اور پانچ دریا بہتے ہیں جن کی بدولت ملک کی خوبصورتی اور دلکشی میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔وطن عزیز کے چار صوبے ہیں۔ہر صوبے کو قدرت نے الگ الگ نعمت سے نواز رکھا ہے۔یہاں معدنیات کے ذخائر ہیں۔ کوئلے کی کانیں ہیں۔ ریلوے کا ایک منظم نظام ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز ہے۔ خوبصورت روڈ اور عمارتیں ہیں۔نمک کی کھیوڑہ کان ہے جہاں کئی صدیوں تک نمک نکلتا رہے گا۔
    دنیا کے مد مقابل ہر شعبہ جات قائم ہیں۔ ملک میں کہیں میدان ،سرمئی پہاڑ ، جنگلات ، برفانی تودے ، دریاؤں کا شور ، اور کہیں سر سبزہ ہآنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔ اور پاکستان کی سرزمین سونا اگلتی ہے یہاں پھل، پھول سبزیاں بکثرت پیدا ہوتے ہیں جو عوام کی کفالت ،صحت اور زندگی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ میں اپنے وطن کی سلامتی اور بقا کے لیے یہ شعر کہوں گا۔

    یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے صدیوں
    یہاں خزاں کو بھی گزرنے کی مجال نہ ہو

    پاکستان کو آزاد ہوئے 77 برس گزر گئے ہیں۔ یہاں ہر سال بانی پاکستان کے تصور کے بارے میں فکری اور نظریاتی تحقیق ہوتی ہے۔سرکاری سطح پر پروگرام مرتب کیے جاتے ہیں۔نظریہ پاکستان پیش کیا جاتا ہے۔آزادی کی قدر و قیمت کے بارے میں تصورات اجاگر کیے جاتے ہیں۔

    اگر اس بات کو فکری تنوع میں دیکھا جائے تو یہ بات ہم پر ایک مکاشفہ کی طرح کھلتی ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے مشکلات کے باوجود بھی ریاست کو ایک سال تک کامیابی کے ساتھ چلایا۔پاکستان کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا۔ملک کو استحکام بخشا۔انہوں نے قومی خزانے کو عوام کی امانت سمجھ کر استعمال کیا۔رات کو سونے سے پہلے گورنر جنرل کی ساری بتیاں بند کر دیتے تھے۔ بانی پاکستان نے ریاستی امور کو مذہب سے الگ تھلگ رکھا۔

    ریاست پاکستان ایک منظم نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا اس کی بنیاد رکھنے والے قائد اعظم محمد علی جناح ہر طرح کی مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت اور ہر قسم کے تعصب سے پاک ریاست چاہتے تھے۔ وہ آئین کی پاسداری کرتے اور اصولوں کے متقاضی تھے۔وہ چاہتے تھے کہ پاکستان آزاد ہو کر خود مختاری کے فیصلے کر سکے۔جہاں ہر شہری کو بغیر رنگ، نسل مذہب کے انصاف میسر ہو۔وہ اعلی منشور کے خواہش مند تھے کہ یہاں علم کی پیاس بجھانے والی درسگاہیں ہوں۔ کیونکہ تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا بنیادی فرض ہے۔ہر شہری کو صحت کی سہولیات میسر ہوں۔انہوں نے اس ملک کو برسوں کی محنت کے بعد حاصل کیا۔

    اگر آج ہم شان پاکستان پر غور وخوض کریں۔تو ہمارے کھیت ہمیں سونا اور چاندی مہیا کرتے ہیں۔ پاکستان کے ہر صوبے میں عظیم درسگاہیں اور ہسپتالوں کی افراد ہے۔ یہاں ہر بیماری کا علاج کیا جاتا ہے۔ گرمی ہو یا سردی ہر سو ہریالی دیکھنے کو ملتی ہے۔سردیوں میں پہاڑ برف سے ڈھک جاتے ہیں۔گرمیوں میں یہ پگھل جاتے ہیں۔ گرمیوں میں یہ شور اور ٹھنڈا کا احساس مہیا کرتے ہیں۔ وادی سوات کا حسن و جمال سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ یہ علاقہ سوٹزرلینڈ کی طرح خوبصورت ہے۔یہاں دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔ ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ قدرت کی خاموشی ان کو بہت سی باتوں کا درس دیتی ہے۔

    پنجاب میں ملکہ کہسار قدرت کے نظاروں کی آمین ہے۔ کراچی کی بندرگاہ تجارت کے لیے مشہور ہے۔میں اپنے ملک کی کون کون سی شان بیان کروں۔ مجھے کہیں برف باری تو کہیں تپتے صحرا سے واسطہ پڑتا ہے ۔کہیں پھول اور کہیں باغات ہیں۔ پاکستان ایٹمی لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔پاکستان کی مسلح افواج 24 گھنٹے چوکس رہتی ہیں۔ حالیہ جنگ میں پاکستان نے انڈیا کو بری طرح شکست دی۔ان کے طیاروں کو بری طرح گرا دیا گیا۔پاکستان ایئر فورس کے پائلٹوں نے انڈیا جا کر کئی ایئر بیس تباہ کیے۔سلامتی سے واپس لوٹے۔پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔

    پاکستان کھیل کے میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں 1992 کا ورلڈ کپ جیت کر ثابت کر دیا کہ پاکستانی محنتی قوم ہے۔ دنیا میں اپنا لوہا منوانا جانتی ہے۔ مشکلات پر قابو پانا جانتی ہے۔یوں کہہ لیجیے پاکستان میں ہر شعبہ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔اس دھرتی کے سپوتوں نے دنیا میں ہر جگہ جا کر اپنا جھنڈا لہرایا ہے۔ فتوحات حاصل کی ہیں۔ بلکہ اس دھرتی سے جواں مردی نسل در نسل جاری ہے۔

    قیام پاکستان سے لے کر تا حال جن ہیروز نے پاکستان کی شان کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ان میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جنا ح، تصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ، مادر ملت فاطمہ جناح، لیاقت علی خان ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان ، عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر ثمر مبارک، ڈاکٹر رتھ فاو ، پائلٹ راشد منہاس ، ذوالفقار علی بھٹو ، عمران خان ، نواز شریف ، ملالہ یوسف زئی، جہانگیر خان ، میجر عزیز بھٹی تمام سول اور سیاسی قیادت جن کی انتھک محنت کے باعث پاکستان کی شان قائم ہے۔

    اس کے جوان محنتی ، علم کے متلاشی ، ریسرچ کے پیکر ، درسگاہوں کے وائس چانسلرز قوم کو تعلیم کے زیور سے یا آراستہ کرنے میں جس قدر سر گرم ہیں۔ اس کے عملی ٹھوس ثبوت عظیم کارناموں کی بدولت منظر عام پر آرہے ہیں۔ ملک میں کہیں انجینئرنگ یونیورسٹیز قائم ہیں تو کہیں صحت عامہ کے میڈیکل کالجز ، ہسپتال ، قومی ادارے اور پرائیویٹ سیکٹر نے شان پاکستان کی بالادستی میں محنت کا لہو شامل کیا ہے۔یہی وجہ ہے آج تمام صوبوں میں سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے ۔لوگوں کی منڈیوں تک رسائی ہے۔گورنمنٹ ایجوکیشنل اداروں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر بھی تعلیم و تربیت کے میدان میں نمایاں کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔

    مصنفین کی ایک بڑی تعداد میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر رکھی ہے۔پاکستان کے قومی اداروں میں اکادمی ادبیات پاکستان ، مقتدرہ قومی زبان ، اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے نام ادیبوں کی فلاح و بہبود میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔خدا کرے جب تک دنیا قائم و دائم ہے ۔پاکستان بھی دنیا کے نقش قدم پر موجود رہے۔اس کا پرچم ہمیشہ لہلہاتا رہے۔ہماری ہر آنے والی نسل شان پاکستان کی تاریخ کو سنہری حروف سے قلم بند کرے۔

  • شان پاکستان.تحریر:سمیہ اقبال

    شان پاکستان.تحریر:سمیہ اقبال

    شان پاکستان
    از قلم: سمیہ اقبال
    14 اگست 1947 صرف ایک دن یا تاریخ نہیں ہے بلکہ یہ تاریخ کا رخ موڑ دینے والا لمحہ ہے جس نے دنیا پر یہ واضح کیا کہ اسلام کی خاطر مسلمان کس حد تک قربانی دے سکتے ہیں۔ چودہ سو سال کے بعد مدینہ کی یاد تازہ ہوئی مدینہ بھی اسی مقصد کے حصول کے لئے دوبارہ آباد ہوا تھا تھا کہ وہاں اسلامی تعلیمات کا نفاذ ہو اور پاکستان کی بھی یہی خوبی ہے کہ اسے اسلامی تعلیمات کے نفاذ کے عزم سے بنایا گیا ہے۔

    اس ریاست کی بنیادیں خون سے سیراب ہیں۔ جب پاکستان وجود میں آگیا تو برصغیر کا کوئی گھر ایسا نہ بچا تھا جس کے خاندان کے افراد مکمل ہوں راوی کو عبور کرنے کے لئے کسی کشتی یا پل کی ضرورت نہیں تھی لوگ لاشوں پر پاؤں رکھ کے راوی عبور کر گئے اس دن راوی کا پانی سفید نہیں سرخ تھا آزادی ایسے ہی حاصل نہیں ہوئی اس کی قیمت پر فرد کو دینی پڑی ہر ماں کو دینی پڑی، ہر بہن کو دینی پڑی، عزتیں نیلام ہوئیں، کوکھ اجڑی، سہاگ اجڑے، اس دن بچے بوڑھے ہوئے جس دن مسلمان ہندوستان کی سرحد پار کر کے پاکستان آئے۔ کیونکہ یہ ایک قدم کا فاصلہ نہیں تھا جو مسلمانوں نے طے کیا یہ چودہ سو سال کا فاصلہ تھا، یہ نظریے کا فاصلہ تھا اور اس ایک سرحد پار کرنے کی مسلمانوں نے بڑی بھاری قیمت چکائی مگر اپنے عزم ارادے حوصلے سے پیچھے نہ ہٹے۔

    مسلمانوں نے بتایا کہ اسلام کی خاطر تن ، من دھن وہ سب وار سکتے ہیں۔ پاکستان کلمہ لا الہ الااللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والی مدینہ کے بعد سب سے بڑی ریاست ہے مگر آج مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم نے جس مقصد سے یہ وطن حاصل کیا ہم اسے بھلا چکے، وہ نظریہ وہ قربانیاں وہ سب ہم نے بھلا دیا افسوس صد افسوس اس ملک کو اس ملک کے ایک ایک فرد نے الگ الگ توڑا اس وطن سے شکوہ کناں ہوا بس یہ کہا کہ اس ملک نے ہمیں کیا دیا سوال تو یہ ہے کہ اس ملک کو ہم نے کیا دیا کل روز محشر جب وہ لوگ ہمارے دست گریباں ہونگے جنہوں نے اس وطن کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کیا کہ تم نے اس مٹی کے ساتھ کیا کیا تو ہم ان کو کیا جواب دیں گے ہم شرمندہ ہیں،

    آج کے جوان کو اپنا وطن پسند نہیں اور وہ اپنے روشن مستقبل کا خواب یورپ میں دیکھتا ہے کاش کے وہ یہ سمجھ سکے اس وطن جیسا محبوب وطن پوری دھرتی پہ کہیں نہیں۔ اس وطن کی فضاء میں آزادانہ سانس لینے کے لئے ہم ہزار یورپ کے روشن مستقبل قربان کردیں۔ اس وطن کا ایک ایک زرہ چیخ چیخ کر یہ کہہ رہا ہے کہ آزادی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ افسوس اس وطن کو ہم نے خود اجاڑا اور الزام دوسروں پر ڈالا۔

    یہ وطن ہمارا باغ ہے اس کی دیکھ بھال ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ وطن ہر شہری کی جاگیر ہے ہر شہری کی وراثت ہے اور اس کی ویسی ہی حفاظت ہمارا نصب العین ہے جیسے ہم اپنی وراثت کی حفاظت کرتے ہیں ۔ ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم انفرادی طور پر کچھ نہیں کرنا چاہتے اور یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے حالات بہتر ہوں ہمارا وطن ترقی کرے مگر جب ایک عام آدمی جھوٹ، چوری، رشوت نہیں چھوڑے گا تو وہ کیسے حکومت کو الزام دے سکتا ہے۔ ایک عام آدمی جب اپنے حصے کا پانی نہیں لگائے گا تو یہ باغ کیسے پھلے پھولے گا یہاں بہار کیسے آئے گی بہار کے لئے تو ضروری ہے ہم سب اپنے حصے کے پھول لگائیں۔

    آئیں آج ایک عزم کرتے ہیں کہ ہم وہ کہانی دوہرائیں گے جس مقصد کے لیے ہمارے بڑوں نے قربانیاں دیں ہم اسے فراموش نہیں کریں گے، ہم اپنی نسلوں میں اس قربانی کا درد جگائیں گے، ہم انفرادی طور پر اپنے حصے کا دیا جلائیں گے۔

    ہم اپنے آنے والی نسلوں کو بنائیں گے کہ پاکستان روئے زمین پر اللہ کا احسان ہے یہ وطن تو علماء کے شملے کا ہیرا ہے، یہ وطن تو اللہ کی طرف سے الہام ہے، یہ وطن تو راہ نجات ہے جائے سکوں ہے جس کا شکر ہم مرتے دم تک ادا نہیں کر سکتے ۔ہم پاکستان کو نئے سرے سے استوار کریں گے اقبال کی شاعری پر ، قائد کے نظریے پر۔ تھانوی کی تہجد کی دعاؤں پر۔ اب ہم اس وطن کو ضائع نہیں ہونے دیں گے، ہم روز محشر ان لوگوں کے سامنے شرمندہ نہیں ہونگے جنہوں نے اس وطن کی آبیاری اپنے خون سے کی ہے۔

    یہ وطن ہمارا ہے
    ہم ہیں پاسباں اس کے

    مجھے امید ہے آنے والی نسلیں اس وطن کی اہمیت کو سمجھیں گی کیونکہ اقبال نے بالکل صحیح کہا

    نہیں ناامید اقبال اپنی کشت و ویراں سے
    ذرا نرم ہو تو بڑی ذرخیز ہے یہ مٹی ساقی

    پاکستان زندہ باد
    پاکستان تابندہ باد

  • شان پاکستان.تحریر: محمد نوید عزیز

    شان پاکستان.تحریر: محمد نوید عزیز

    شان پاکستان
    تحریر: محمد نوید عزیز
    پاکستان زندہ باد!” یہ نعرہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک جذبہ، ایک عقیدہ، ایک امید ہے۔ یہ ایک ایسی سرزمین کی پہچان ہے جو قربانیوں کی بنیاد پر وجود میں آئی۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ "شانِ پاکستان” کیا ہے؟ تو میرا دل بے ساختہ کہے گا، "یہ میرے وطن کے وہ گمنام سپاہی ہیں، وہ محنتی کسان ہیں، وہ مائیں ہیں جو شہیدوں کو جنم دیتی ہیں، وہ بچے ہیں جو کتابیں سینے سے لگا کر خواب دیکھتے ہیں، اور وہ سائنسدان ہیں جو ستاروں سے آگے سوچتے ہیں۔”

    14 اگست 1947 کو جب دنیا سو رہی تھی، ایک قوم جاگ رہی تھی۔ رات کے اندھیرے میں ایک نئی صبح نے جنم لیا۔ یہ صبح صرف ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک نظریاتی فتح تھی۔ پاکستان کا قیام اس وقت ممکن ہوا جب لاکھوں مسلمانوں نے اپنا سب کچھ قربان کر کے، اس خاک کے لیے خون بہایا۔

    قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہمیں ایک ایسا وطن ملا، جہاں مسلمان آزاد ہو کر اپنے دین، ثقافت اور تہذیب کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ یہ آزادی ہی ہماری شان ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جس کا اندازہ صرف وہی کر سکتا ہے جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو۔

    اگر ہم جغرافیائی لحاظ سے دیکھیں، تو پاکستان ایک جنت نظیر ملک ہے۔ شمال میں برف پوش پہاڑ، جنوب میں نیلگوں سمندر، مشرق میں زرخیز میدان اور مغرب میں پرشکوہ پہاڑ۔ یہ سرزمین ہر موسم، ہر منظر، اور ہر رنگ کا حسین امتزاج ہے۔

    کیا آپ نے کبھی سوات کی وادیوں میں بہتے چشموں کی موسیقی سنی ہے؟ کیا آپ نے سندھ کے تھر میں صحرا کے سینے پر اگتے پھول دیکھے ہیں؟ کیا آپ نے بلوچستان کے پہاڑوں میں چھپی خاموشی کو محسوس کیا ہے؟ یا پنجاب کے کھیتوں میں جھومتی فصلوں کی مہک کو سونگھا ہے؟ اگر نہیں، تو آپ نے "شانِ پاکستان” کا ایک اہم پہلو ابھی نہیں جانا۔

    پاک فوج، رینجرز، فضائیہ اور بحریہ کے وہ بہادر جوان، جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ملک کا دفاع کیا — یہی تو ہیں اصل شانِ پاکستان۔ چاہے وہ 1965 کی جنگ ہو ہمارے جانباز ہمیشہ آگے بڑھے۔

    آج جب ہم پرامن راتیں سوتے ہیں، تو یہ انہی محافظوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ وطن کے یہ سپوت ہر مشکل وقت میں سرحدوں پر سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔ ان کی جرأت، ہمت، اور قربانی، پاکستان کی شان ہے۔

    شانِ پاکستان صرف ماضی کی عظمتوں میں نہیں چھپی بلکہ ہمارے آج کے نوجوانوں میں زندہ ہے۔ ارفع کریم، ڈاکٹر عبدالسلام جیسے عظیم افراد نے دنیا کو دکھایا کہ پاکستان صرف ایک ترقی پذیر ملک نہیں، بلکہ ایک باصلاحیت قوم ہے جو اگر موقع ملے تو دنیا کو بدل سکتی ہے۔

    پاکستان کے طلبہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ نوجوان موبائل ایپلی کیشنز، سافٹ ویئر، اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان ہی مستقبل کی امید ہیں اور یہ امید ہی ہماری شان ہے۔

    پاکستان ایک کثیرالثقافتی ملک ہے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی اور ہزارہ وال ثقافتوں کا امتزاج، ایک ایسا گلدستہ ہے جس کی خوشبو پوری دنیا میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

    چاہے وہ سندھ کی اجرک ہو یا پنجاب کی پگ، بلوچستان کی چادر ہو یا خیبر پختونخوا کی چترالی ٹوپی۔ ہر علاقہ اپنی الگ پہچان رکھتا ہے، اور یہی تنوع ہماری اصل طاقت ہے۔

    ہمارے لوک گیت، قوالیاں، صوفی شاعری، اور ادب دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں۔ فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، بانو قدسیہ، اور عمیرہ احمد جیسے ادیبوں نے "شانِ پاکستان” کو لفظوں میں ڈھالا۔

    کبھی قدرتی آفات آئیں، کبھی دہشت گردی کا سامنا ہوا، پاکستان نے ہر بار کمر باندھی۔ 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010 کے سیلاب، پوری قوم نے جس اتحاد و بھائی چارے کا مظاہرہ کیا، وہ شانِ پاکستان کی ایک روشن مثال ہے۔

    ہم نے اندھیرے دیکھے، دہشتگردی کے سائے سہے، لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ہم نے لاشیں اٹھائیں لیکن حوصلہ نہیں ہارا۔ ہم نے اپنے بچوں کو شہید ہوتے دیکھا، مگر دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

    یہی جذبہ، یہی غیرت، یہی وفا ۔ ہماری اصل شان ہے۔

    اب ہمیں صرف ماضی پر فخر نہیں کرنا، بلکہ مستقبل سنوارنا ہے۔ ہمیں ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں ہر بچہ تعلیم حاصل کرے، ہر بیٹی محفوظ ہو، ہر مزدور کو حق ملے، ہر مریض کو علاج میسر ہو، اور ہر شہری کو انصاف حاصل ہو۔

    ہمیں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانی ہے، ناانصافیوں کو ختم کرنا ہے، اور وطن کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنا ہے۔ یہی نئے پاکستان کا خواب ہے، اور یہی خواب ہماری شان بن سکتا ہے۔

    "شانِ پاکستان” کوئی ایک واقعہ، ایک انسان، یا ایک جگہ نہیں۔ یہ ایک احساس ہے، ایک جذبہ ہے، جو ہر پاکستانی کے دل میں دھڑکتا ہے۔ جب ہم قومی ترانہ سنتے ہیں، جب ہم پرچم کو لہراتا دیکھتے ہیں، جب ہم عالمی مقابلوں میں اپنے کھلاڑیوں کو فتح حاصل کرتے دیکھتے ہیں — تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں۔

    آئیے! ہم سب مل کر وعدہ کریں کہ ہم اپنے وطن کو دل و جان سے چاہیں گے، اس کی خدمت کریں گے، اور اپنی نسلوں کو "شانِ پاکستان” کا مطلب سکھائیں گے۔

    پاکستان زندہ باد!

  • شانِ پاکستان .تحریر:عصمت اسامہ

    شانِ پاکستان .تحریر:عصمت اسامہ

    شان پاکستان
    از قلم: عصمت اسامہ
    وطنِ عزیز پاکستان ،ہمارے آباء کا خواب نگر ،ارمانوں کی بستی ہے ،یہ لاکھوں جانوں کی قربانیوں کا ثمر ہے۔مدینہ طیبہ کے بعد پاکستان وہ دوسری ریاست ہے جو کلمہء طیبہ "لا الہ الااللہ محمدرسول اللہ” کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی۔

    شان دار تاریخ
    قیام،پاکستان مسلمانان برصغیر کی طویل تاریخی جہدوجہد کا نتیجہ ہے۔
    جب انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے تجارت کے بہانے ہندوستان میں اپنا تسلط قائم کیا اور مغل بادشاہوں سے سلطنت چھین لی تو مسلم عوام کو رفتہ رفتہ غلامی کی زنجیروں میں اس طرح جکڑ دیا گیا کہ دستور و قوانین ، نظام تعلیم ،نظام عدالت،معیشت اور سیاست غرض سب کچھ ان کے ہاتھ سے نکلتا چلا گیا حتیٰ کہ مسلمانوں پر ملازمتوں کے دروازے بھی بند کردئیے گئے۔جس جگہ کسی گاۓ کو ذبح کرنے کی اطلاع ملتی تو انتہا پسند ہندو وہاں قتل و غارت گری کرکے پوری بستی کو ذبح کر ڈالتے۔اسکولوں میں مسلمان بچوں کو ہاتھ جوڑ کر بتوں کی پوجا پر مجبور کیا جاتا۔

    ~ملا نہیں وطنِ پاک ہم کو تحفے میں
    جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا!

    1857ء کی جنگ آزادی اسی جبر و تسلط سے نکلنے کی ایک کوشش تھی جسے برطانوی سامراج نے ناکام بنادیا ۔ ایسے کٹھن وقت میں مولانا محمد علی جوہر جیسے عظیم صحافیوں اور علامہ اقبال جیسے بیدار مغز ادیبوں کا قلم حریت کا چراغ اور مشعلِ راہ بنا جس نے قوم کو آزادی کا راستہ سجھایا۔علماۓ کرام نے بھی الگ اسلامی مملکت کے قیام کی حمایت کی۔

    آل انڈیا مسلم لیگ( جو اس وقت مسلمانوں کی نمائندہ جماعت تھی) کے پلیٹ فارم سے 1930ء کے خطبہء الہ آباد میں شاعر مشرق علامہ اقبال نے ایک الگ وطن کے حصول کا مطالبہ کیا۔آل انڈیا مسلم لیگ مسلمانوں کے جدا گانہ تشخص ،حریت و غیرت کی علم بردار بن گئی تو برصغیر کے مسلمان بھی اس کے پلیٹ فارم پر متحد ہونا شروع ہوگئے۔

    جب سرکاری سطح پر اعلان ہوا کہ ہندوستان میں صرف ایک قوم آباد ہے اور وہ ہندو ہے تو قائد اعظم محمد علی جناح نے اسے چیلنج کرتے ہوۓ فرمایا کہ "ایک اور قوم بھی ہندوستان میں آباد ہے اور وہ مسلمان ہیں۔ہندو اور مسلمان دو مختلف مذہبی فلسفوں ،مذہبی روایات اور ادب سے تعلق رکھتے ہیں ۔وہ نہ تو اکٹھے کھانا کھاتے ہیں اور نہ آپس میں شادیاں کرتے ہیں۔ایک قوم کا ہیرو دوسری قوم کے دشمن کی حیثیت رکھتا ہے۔ایک کی فتح کا مطلب دوسری قوم کی شکست ہے۔یہ اکٹھے کیسے رہ سکتے ہیں؟۔( 23 مارچ 1940ء)۔

    بالآخر برسوں کی جہدوجہد کے نتیجے میں 14 اگست 1947ء بمطابق 27 رمضان المبارک کو پاکستان معرض وجود میں آگیا۔یہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت تھی۔پاکستان کئی پہلوؤں سے زبردست اور عظیم الشان مقام کا حامل ہے۔

    نظریۂ پاکستان: ہماری فکری شان

    پاکستان کی بنیاد "دو قومی نظرئیے”( Two Nation Theory) پر رکھی گئی ہے، جو دراصل ” نظریہء اسلام” ہے۔ جس کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمانوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک علیحدہ ریاست کے لیے جدوجہد کی۔ یہ صرف زمین کے ٹکڑے کے حصول کا مطالبہ نہ تھا، بلکہ ایک ایسی شناخت کی تلاش تھی جہاں مسلمانوں کو خدا کے سوا کسی کے سامنے اپنا سر نہ جھکانا پڑے۔یہی نظریہء توحید پاکستان کی فکری شان ہے۔

    افواجِ پاکستان: ہماری عسکری شان
    جغرافیائی اعتبار سے پاکستان اہم ترین محل وقوع پر واقع ہے جسے کئی خطرات کا سامنا ہے۔پاک فوج ” دنیا کی بہترین فوج” ہے جو اندرون ملک دہشت گردوں سے اور سرحدوں پر چومکھی لڑائی لڑ رہی ہے،اس نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔

    جب بھارت نے "سانحہء پہلگام "جیسے دہشت گردانہ واقعہ کو پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی اور خواہ مخواہ دھمکیاں دینے پر اتر آیا تو پاکستان نے فیصلہ کن ردعمل دینے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان آرمی نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں دشمن کے دانت کھٹے کردئیے۔پاکستانی فضائیہ نے سات طیارے مار گراۓ۔ بھارت کے اندر طیارے گھس گئے اور دشمن کو دن میں تارے دکھا دئیے ۔ وہ جنگ بند کروانے کے لئے امریکہ سے مدد مانگنے لگا۔

    اس معرکے میں سائبر وار،سوشل میڈیا اور سفارتی محاذوں پر بھی پاکستان نے سبقت حاصل کی۔عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کو درست کہا گیا اور بھارت اپنا موقف منوانے میں ناکام رہا۔یہ معرکہ صرف عسکری فتح ہی نہیں تھا بلکہ سچائی کے میدان میں بھی پاکستان سرخرو ہوا۔نئی نسل نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ جو کچھ انھوں نے مطالعہء پاکستان میں پڑھا تھا ،وہ سچ تھا!

    جوان افرادی قوت کی شان:
    پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ جن میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔یہ محنتی اور باہمت ہیں۔۔پاکستانی پائلٹ ،سول انجینئرز، کھلاڑی ،آئی ٹی ماہرین ، ڈاکٹرز اور طبی عملہ،ای کامرس اور فری لانسر دنیا بھر میں وطن کا نام روشن کر رہے ہیں۔

    امتِ مسلمہ میں قیادت کی شان
    پاکستان اسلامی دنیا کا واحد ایٹمی ملک ہونے کے سبب دنیا بھر کے مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز ہے۔حالیہ فلسطین واسرائیل کی جنگ میں پاکستان نے فلسطین کی ہر ممکنہ اخلاقی ،سفارتی اور مادی مدد کی ہے۔ اقوام متحدہ میں اس جنگ کو رکوانے کی کوشش کی ہے۔ جنگی تباہ کاریوں کی حالت میں فلسطینی عوام کوخوراک،خیمے ،پانی ،طبی امداد ،اشیاۓ ضرورت فراہم کی ہیں۔جب امریکہ نے ایران پر حملے کا ارادہ کیا تو پاکستان نے اس جنگ کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔پاکستان امت مسلمہ کے اتحاد کا داعی ہے۔

    قدرتی وسائل سرزمین کی شان
    سرزمین پاکستان بہت سر سبز و شاداب اور زرخیز ہے۔ ہمارے پھلوں کے ذائقے اپنی مثال آپ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں چار موسموں سے نوازا ہے ۔ یہاں برف پوش پہاڑ بھی ہیں اور چاندی جیسے پانی کے آبشار بھی ۔یہاں سونا اگلتی مٹی بھی ہے، بلوچستان میں معدنیات اور ہیروں کی کانیں بھی ہیں اور گوادر جیسی اہم بندرگاہیں بھی۔
    دیکھا جاۓ تو پاکستان سورہء رحمٰن کی عملی تمثیل ہے!

  • شانِ پاکستان .تحریر : ڈاکٹر مریم خالد

    شانِ پاکستان .تحریر : ڈاکٹر مریم خالد

    شانِ پاکستان
    تحریر : ڈاکٹر مریم خالد
    پاکستان، ایک ایسا ملک جو تاریخ، ثقافت، قربانی، محبت، اتحاد اور غیرت کا حسین امتزاج ہے۔ یہ صرف ایک سرزمین کا نام نہیں، بلکہ کروڑوں دلوں کی دھڑکن، ایک نظریہ، ایک خواب اور ایک عہد کی تعبیر ہے۔ “شانِ پاکستان” صرف اس کے ایٹمی ہتھیاروں، فوجی طاقت یا قدرتی وسائل کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کے عوام کی حب الوطنی، مہمان نوازی، جدوجہد، برداشت اور قربانیوں کی عظمت میں پوشیدہ ہے۔

    قیام پاکستان – ایک غیر معمولی جدوجہد
    شانِ پاکستان کا آغاز 14 اگست 1947 سے نہیں بلکہ اس دن سے ہوا جب برصغیر کے مسلمانوں نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر اپنے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت، علامہ اقبالؒ کے خواب، اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں نے اس خواب کو حقیقت میں بدلا۔ لاکھوں لوگ اپنے گھر، جائیداد، عزیز و اقارب قربان کر کے اس سرزمین پر پہنچے تاکہ ایک ایسا ملک قائم ہو جہاں وہ آزادانہ طور پر اپنے دین و تہذیب کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

    فطری حسن اور وسائل – قدرت کی عنایت
    پاکستان اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں سے مالا مال ہے۔ شمال میں برف پوش پہاڑ، جنوب میں وسیع سمندر، مشرق میں زرخیز میدان اور مغرب میں صحرا اور معدنی ذخائر۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے-ٹو، حسین وادیٔ سوات، شگر، ہنزہ، اور کشمیر کی جنت نظیر وادیاں پاکستان کی شان ہیں۔ دریائے سندھ جیسے قدرتی آبی ذخائر، زراعت کے لیے زرخیز زمینیں اور تیل، گیس، کوئلہ، نمک، سونا، تانبا جیسے قیمتی وسائل پاکستان کی قدرتی دولت کا ثبوت ہیں۔

    ایمان، اتحاد، قربانی – قومی پہچان
    شانِ پاکستان اُس ایمان سے جڑی ہے جس کی بنیاد پر یہ ملک قائم ہوا۔ رمضان المبارک میں قیام، اسلامی تہذیب و اقدار پر زور، اور دینی شناخت ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ پاکستانی قوم نے ہر کٹھن وقت میں اپنی وحدت کا ثبوت دیا۔ زلزلہ ہو یا سیلاب، جنگ ہو یا کورونا جیسی عالمی وبا، قوم نے ہمیشہ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

    فوج – دفاعِ وطن کے محافظ
    پاک فوج، پاکستان کی شان کا ایک مضبوط ستون ہے۔ ہماری افواج نے نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کی، بلکہ ہر قدرتی آفت، اندرونی خطرات، اور بین الاقوامی چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ چاہے 1965 کی جنگ ہو، 1999 کا کارگل محاذ یا دہشت گردی کے خلاف آپریشنز، ہماری افواج نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔

    سائنس و ٹیکنالوجی – خود انحصاری کی راہ
    پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا اس کی سائنسی شان کی ایک بڑی مثال ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے سائنسدانوں کی خدمات نے دنیا کو حیران کر دیا۔ خلائی تحقیق، دفاعی ٹیکنالوجی، زراعت، اور طب کے میدان میں بھی پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے۔ نوجوان نسل جدید آئی ٹی، سافٹ ویئر اور انوویشن میں دنیا بھر میں نام کما رہی ہے۔

    ثقافت، زبانیں اور روایات – تنوع میں اتحاد
    پاکستانی ثقافت ایک رنگین گلدستہ ہے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی اور دیگر زبانوں کی شیرینی، لباسوں کی خوبصورتی، کھانوں کا ذائقہ، اور مہمان نوازی ہماری پہچان ہے۔ شادی بیاہ، تہوار، میلوں، صوفیانہ موسیقی، قوالی اور لوک رقص پاکستان کی سماجی شان کی جھلک ہیں۔

    ادب اور فنون لطیفہ – فکری دولت
    پاکستانی ادب نے دنیا کو فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، پروین شاکر، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، منٹو، عمیرہ احمد، اور انتظار حسین جیسے عظیم ادباء دیے۔ فلم، موسیقی، ڈرامہ، اور مصوری میں بھی پاکستان کے فنکاروں نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی ہے۔ "کوک اسٹوڈیو” جیسا پلیٹ فارم ہماری موسیقی کی وراثت کو دنیا تک پہنچا رہا ہے۔

    نوجوان نسل – شانِ پاکستان کا مستقبل
    پاکستان کے نوجوان باصلاحیت، پرعزم اور محنتی ہیں۔ کھیل کے میدان ہوں یا سائنس، ادب، آئی ٹی، یا کاروبار، پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ ارفع کریم، ملالہ یوسفزئی، شہروز کاشف، اور علی سدپارہ جیسے نوجوان پاکستان کا فخر ہیں۔

    اقوامِ عالم میں کردار
    پاکستان اقوام متحدہ، او آئی سی، اور مختلف عالمی تنظیموں کا فعال رکن ہے۔ کشمیر، فلسطین اور دیگر مظلوم اقوام کے لیے آواز اٹھانا ہماری خارجہ پالیسی کی خوبی ہے۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دے کر انسان دوستی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔

    اختتامیہ
    “شانِ پاکستان” صرف جملہ نہیں، یہ ایک احساس ہے، ایک فخر ہے، ایک جذبہ ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وطن کی شان کو برقرار رکھنا صرف حکومت یا فوج کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر شہری، ہر طالبعلم، ہر مزدور، ہر کسان، ہر ماں، ہر استاد اور ہر بچے کا فرض ہے۔ اگر ہم سب اپنی اپنی جگہ ایمانداری، خلوص، اور حب الوطنی سے کام لیں، تو کوئی طاقت دنیا میں ایسی نہیں جو پاکستان کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچنے سے روک سکے۔
    ہم سب کو دعا کرنی چاہیے۔

  • شانِ پاکستان .تحریر: آستر  رندھاوا

    شانِ پاکستان .تحریر: آستر رندھاوا

    شانِ پاکستان
    تحریر: آستر رندھاوا
    14 اگست 1947 ایک ایسا دن تھا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو وہ شناخت، وہ مقام اور وہ آزادی عطا کی، جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جسے قائداعظم محمد علی جناح نے عملی صورت دی۔ پاکستان کا قیام نہ صرف ایک جغرافیائی تبدیلی تھی، بلکہ ایک نظریے کی فتح تھی۔ "شانِ پاکستان” اسی غیر معمولی جدوجہد، قربانی اور جذبے کا نام ہے جس نے ایک آزاد ریاست کی بنیاد رکھی۔

    شانِ پاکستان ہمارے ماضی کی ان قربانیوں میں پوشیدہ ہے جنہوں نے ہمیں یہ وطن عطا کیا۔ چاہے وہ تحریکِ پاکستان کے جلسے ہوں، قراردادِ لاہور کی منظوری ہو، یا قیامِ پاکستان کے موقع پر ہونے والا انسانی المیہ ہر لمحہ، ہر واقعہ اس ملک کی شان کو بیان کرتا ہے۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی بے مثال قیادت، علامہ اقبال کا فلسفہ خودی، مادر ملت فاطمہ جناح کی ہمت اور بے شمار گمنام سپاہیوں کی قربانیاں یہ سب "شانِ پاکستان” کا وہ عکس ہیں جن پر ہمیں ناز ہے۔

    ہمارا سبز ہلالی پرچم صرف ایک کپڑے کا ٹکڑا نہیں، یہ ہمارے ایمان، اتحاد اور قربانیوں کی علامت ہے۔ سبز رنگ ہمارے اکثریتی مسلم عوام کی نمائندگی کرتا ہے، سفید رنگ اقلیتوں کے تحفظ اور مساوی حقوق کا پیغام دیتا ہے، جبکہ چاند اور ستارہ ترقی، روشنی اور امید کی علامت ہیں۔ جب یہ پرچم فضا میں بلند ہوتا ہے تو دل فخر سے بھر جاتا ہے یہی ہے شانِ پاکستان۔

    پاکستان کی افواج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ ہماری فوج، بحریہ اور فضائیہ نہ صرف ملکی سرحدوں کی محافظ ہیں بلکہ قدرتی آفات، دہشت گردی، اور بین الاقوامی مشنز میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کامیاب معرکے ہماری بہادر افواج نے ہر مقام پر اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کی شان کو سربلند رکھا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے سائنسدانوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا کر دنیا میں ایک منفرد مقام دلایا۔ یہ ایک تاریخی کامیابی تھی جس نے ثابت کیا کہ اگر نیت نیک ہو، وژن بلند ہو، اور محنت خالص ہو تو کوئی قوم کچھ بھی حاصل کر سکتی ہے.

    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف قومیتیں، زبانیں اور روایات ایک خوبصورت گلدستے کی مانند ہیں۔ پنجابیوں کی مہمان نوازی، سندھیوں کی ثقافتی رنگینی، بلوچوں کا وقار، پشتونوں کا غیرت مند جذبہ، اور کشمیریوں کی خوبصورتی و محبت سب مل کر پاکستان کی ثقافتی شان بناتے ہیں۔ ہمارے میلوں، تہواروں، دستکاریوں، کھانوں اور لباسوں میں ایک الگ ہی رنگ ہے جو دنیا کو متوجہ کرتا ہے۔اگر کسی قوم کی شان کو جانچنا ہو تو اس کے نوجوانوں کو دیکھو۔ پاکستان کے نوجوان پرجوش، باصلاحیت اور باہمت ہیں۔ تعلیمی میدان ہو، کھیلوں کا میدان، سائنسی ایجادات ہوں یا فنونِ لطیفہ ہر جگہ پاکستانی نوجوانوں نے اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔

    شانِ پاکستان ہمارے اتحاد میں ہے ہماری سب سے بڑی طاقت ہمارا "اتحاد، ایمان اور قربانی” کا جذبہ ہے۔ جب بھی کوئی مشکل وقت آیا زلزلہ، سیلاب، دہشت گردی یا کوئی اور آفت پاکستانی قوم نے ہمیشہ یکجہتی اور بھائی چارے سے اس کا مقابلہ کیا۔ ایک دوسرے کا سہارا بن کر، ایک قوم کی طرح اٹھ کھڑے ہو کر ہم نے دنیا کو دکھایا کہ ہماری اصل شان ہمارا اتحاد ہے۔

    اردو ہماری قومی زبان ہے جو ہمیں ایک لڑی میں پروتی ہے۔ یہ زبان نہ صرف ہماری شناخت ہے بلکہ ہماری تاریخ، ادب، شاعری، اور جذبات کی ترجمان بھی ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری، فیض احمد فیض کا کلام، بانو قدسیہ کے افسانے یہ سب پاکستان کی فکری شان کا مظہر ہیں۔

    پاکستان ایک خواب کی تعبیر ہے۔ یہ ایک ایسی زمیں ہے جو لاکھوں شہداء کے خون سے سینچی گئی، جہاں مسلمان آزاد فضا میں سانس لے سکتے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ تعلیم حاصل کریں، جھوٹ اور کرپشن سے بچیں، صفائی اور قانون کا احترام کریں، اور ملک کے وقار کو ہمیشہ بلند رکھیں۔

    یومِ آزادی صرف ایک دن منانے کا موقع نہیں، بلکہ ایک عہدِ نو کی تجدید کا لمحہ ہے۔ ہمیں ہر سال یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کی شان کو دنیا بھر میں سربلند رکھیں گے۔ ہم اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے، اور اس وطن کو وہ عظمت واپس دلائیں گے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔

    آیئے، 14 اگست کے دن صرف جھنڈا نہ لہرائیں، بلکہ دلوں میں پاکستان کی محبت، اعمال میں دیانت، اور نیت میں خلوص کے ساتھ ایک نیا عہد کریں۔ یہی ہے شانِ پاکستان — یہی ہے ہماری پہچان۔

  • شانِ پاکستان. تحریر:محمدرؤف علی

    شانِ پاکستان. تحریر:محمدرؤف علی

    شانِ پاکستان
    تحریر:محمدرؤف علی،ڈیرہ غازیخان
    پاکستان یہ صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک نظریہ ایک خواب ایک قربانی اور ایک عہد کی تکمیل ہے پاکستان صرف اُس سرزمین یا عمارتوں کا نام نہیں بلکہ اس کے بہادر لوگوں شاندار تاریخ بے مثال ثقافت قربانیوں اور کامیابیوں کا مجموعہ ہے یہ وہ ملک ہے جو ظلم و جبر کے خلاف ایک صدا تھا جو غلامی کے اندھیروں سے نکل کر آزادی کے سورج تک پہنچا

    پاکستان کی بنیاد: ایک نظریہ ایک قربانی
    1947 کی جدوجہد آزادی صرف سیاسی یا جغرافیائی جنگ نہ تھی بلکہ یہ ایک نظریاتی جدوجہد تھی علامہ اقبال کا خواب قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں اس نظریے کا مظہر تھیں کہ مسلمانوں کو ایک علیحدہ وطن کی ضرورت ہے جہاں وہ آزاد ہو کر اپنے دین ثقافت اور طرزِ حیات کے مطابق زندگی گزار سکیں یہی نظریہ یہی خواب یہی ارادہ پاکستان کی شان ہے

    خون سے لکھی گئی تاریخ
    کیا کوئی اندازہ کر سکتا ہے کہ کتنی ماؤں نے اپنے بیٹے قربان کیے، کتنی بہنوں کی عزتیں پامال ہوئیں، کتنے باپوں نے اپنے خاندان کھو دیے ،پاکستان کی سرزمین ان گمنام شہداء کے لہو سے سیراب ہے جنہوں نے یہ وطن ہمیں آزاد کر کے دیا پاکستان کا ہر ذرہ ہر پتھر قربانیوں کی خوشبو سے مہک رہا ہے

    قائداعظمؒ: شان کے معمار
    قائداعظم محمد علی جناحؒ نہ ہوتے تو شاید پاکستان کا خواب محض خواب ہی رہ جاتا اُن کی بے لوث قیادت اصول پسندی اور مضبوط ارادے نے وہ کر دکھایا جو بظاہر ناممکن تھا اُن کے الفاظ ایمان اتحاد قربانی آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ قائداعظم کی شخصیت ہی پاکستان کی پہلی اور لازوال شان ہے۔

    پاکستان کی کامیابیاں: روشنی کی کرنیں
    قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی دشمنوں نے سازشیں شروع کر دیں۔ معاشی بحران نقل مکانی کا بوجھ اداروں کی کمی اور دیگر مشکلات نے پاکستان کو گھیر لیا۔ مگر اس قوم نے ہار نہیں مانی۔ ہم نے ایٹمی طاقت بن کر دنیا کو حیران کیا ہم نے بہترین سائنسدان جیسے ڈاکٹر عبدالقدیر خان پیدا کیے، ہمارے پاس عبد الستار ایدھی جیسے ہمدرد انسان ہیں جنہوں نے انسانیت کی خدمت میں اپنی زندگی وقف کر دی یہ سب پاکستان کی شان ہیں۔

    ادب ثقافت اور زبان: دلوں کی خوشبو
    پاکستانی ادب موسیقی شاعری اور فنونِ لطیفہ میں جو رنگ ہے وہ دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی ،بانو قدسیہ، اشفاق احمد ،عمیرہ احمد جیسے نام پاکستانی معاشرے کے فکری معمار ہیں۔ ہماری ثقافت میں جو محبت، خلوص مہمان نوازی اور روایات کی خوشبو ہے، وہ ہر پاکستانی کی پہچان ہے

    سائنس و ٹیکنالوجی: ایک ابھرتا ہوا پاکستان
    آج پاکستان میں نوجوانوں کا ایک گروہ ہے جو دنیا میں نام کما رہا ہے پاکستانی انجینئرز، آئی ٹی ایکسپرٹس فری لانسرز اور اسٹارٹ اپس عالمی سطح پر پہچانے جا رہے ہیں ارفع کریم، جس نے محض نو سال کی عمر میں مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کا خطاب حاصل کیا، ہماری نئی نسل کی شان ہے

    افواجِ پاکستان: ناقابلِ تسخیر دیوار
    پاکستان کی فوج نہ صرف ملک کی سرحدوں کی محافظ ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی بہادری اور قابلیت کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کی قربانیاں اور کام دنیا بھر میں تسلیم کیے گئے ہیں۔ جنرل راحیل شریف جنرل عاصم منیر جیسے سپہ سالار اور ہزاروں شہداء ہمارے حقیقی ہیرو ہیں

    مشکلات کے باوجود اُمید کی کرن
    پاکستان نے ہر دور میں بحرانوں کا سامنا کیا دہشتگردی سیاسی عدم استحکام معاشی دباؤ اور قدرتی آفات جیسے زلزلے اور سیلاب لیکن ہر بار یہ قوم اُٹھی، دوبارہ کھڑی ہوئی اور آگے بڑھی یہ ہمت حوصلہ صبر اور استقلال پاکستان کی حقیقی شان ہے

    نوجوان: پاکستان کا مستقبل پاکستان کی شان
    آج پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوانی اگر مثبت سمت میں استعمال ہو، تو پاکستان کو دنیا کی عظیم اقوام کی صف میں شامل کر سکتی ہے یہی نوجوان جب اپنے ملک سے محبت کرتا ہے ایمانداری سے کام کرتا ہے علم حاصل کرتا ہے اور دنیا میں پاکستان کا پرچم بلند کرتا ہے، تب وہ خود شانِ پاکستان بن جاتا ہے

    خاتمہ: پاکستان تو سلامت رہے
    پاکستان ہم سب کی پہچان ہے۔ اس کی ترقی خوشحالی اور وقار ہم سب کی ذمہ داری ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اندر اتحاد پیدا کریں نفرتوں کو ختم کریں تعلیم کو فروغ دیں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ ہم واقعی ایک عظیم قوم ہیں

    ایک دعا کے ساتھ:
    خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اُترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
    فیض احمد فیض

    آئیے 14 اگست کو صرف جھنڈیاں لگا کر یا نعرے لگا کر نہ منائیں بلکہ اپنے دل اپنے عمل، اور اپنے مستقبل کو پاکستان کے نام کر کے منائیں۔ یہی شانِ پاکستان ہے یہی ہماری شناخت ہے یہی ہمارا فخر ہے

  • شانِ پاکستان .تحریر: زین العابدین مخلص

    شانِ پاکستان .تحریر: زین العابدین مخلص

    شانِ پاکستان
    تحریر: زین العابدین مخلص،اردو لیکچرر اسلامیہ گرلز ڈگری کالج مردان خیبرپختونخوا
    پاکستان صرف ایک ملک نہیں، یہ ایک زندہ قوم کا دل ہے۔ یہ ایک خواب کی تعبیر ہے، جو علامہ اقبال کی نگاہِ دور بیں میں روشن ہوا اور قائداعظم محمد علی جناح کی بے مثال قیادت میں حقیقت کا روپ اختیار کر گیا۔ پاکستان کی بنیاد صرف جغرافیہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، ایک مقصد ہے، ایک جدوجہد ہے، اور یہی وہ جوہر ہے جو اسے دنیا کے دیگر ممالک سے ممتاز کرتا ہے۔

    ہر قوم کی شان اس کی خودی، غیرت، اور استقلال میں پنہاں ہوتی ہے۔ پاکستان کی شان بھی انہی اوصاف میں ہے جو اسے ابتدا ہی سے آزمائشوں کی بھٹی سے کندن بنا کر نکالتی رہی ہیں۔ کبھی قدرتی آفات، کبھی دشمنوں کے وار، کبھی اندرونی چیلنجز، اور کبھی عالمی سازشیں.. لیکن ہر لمحہ، ہر مقام پر پاکستان نے سر بلند رکھا اور دنیا کو بتایا کہ ہم وہ قوم ہیں جو مٹ نہیں سکتے۔

    پاکستان کا نظریاتی وقار
    پاکستان کا مطلب "لا الہ الا اللہ” صرف نعرہ نہیں، یہ اس ریاست کی روح ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جس نے لاکھوں مسلمانوں کو ایک امید، ایک خواب، اور ایک نصب العین دیا۔ جب کوئی قوم اپنے نظریے سے جڑی ہو، تو اس کے پاؤں زمین میں مضبوطی سے گڑے ہوتے ہیں، اور اس کی نظر افق سے آگے دیکھتی ہے۔ یہی نظریہ پاکستان کی اصل شان ہے، جس نے اسے ایک عام ملک سے ایک غیر معمولی ریاست کا درجہ عطا کیا۔

    قربانیوں کی سرزمین
    پاکستان کی تاریخ شہادتوں سے روشن ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں آزادی کے متوالوں نے اپنی جانیں قربان کر دیں، جہاں ماؤں نے بیٹوں کی میتوں پر سجدے کیے، جہاں بہنوں نے بھائیوں کی شہادت پر فخر کیا۔ ایسی قومیں کبھی زوال کا شکار نہیں ہوتیں، کیوں کہ ان کا ہر قدم قربانی کی مٹی میں گندھا ہوتا ہے۔

    قیامِ پاکستان کے وقت جو خون بہایا گیا، وہ صرف زمین کے لیے نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے وطن کے لیے تھا جہاں مسلمان آزادی سے اپنے دین، ثقافت، اور تہذیب کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ یہی جذبہ آج بھی پاکستان کی رگوں میں دوڑتا ہے اور اسے ہر آزمائش میں سرخرو کرتا ہے۔

    فطری خوبصورتی اور وسائل کی فراوانی
    پاکستان کا ہر خطہ قدرت کی صناعی کا شاہکار ہے۔ شمال میں فلک بوس پہاڑ، جنوب میں نیلگوں سمندر، مشرق میں زرخیز میدان، اور مغرب میں صحرا .. یہ سب پاکستان کی شان کا مظہر ہیں۔ دریائے سندھ کی روانی، ہنزہ کی وادیاں، گوادر کی بندرگاہ اور بلوچستان کی معدنی دولت سب اس ملک کی ممکنات کا پتہ دیتی ہیں۔

    یہ وطن اگر چاہے تو اپنی زمین سے سونا نکالے، اپنے پانی سے بجلی پیدا کرے، اور اپنے نوجوانوں کی صلاحیت سے دنیا کو حیران کر دے۔ شانِ پاکستان اس کی زمین میں ہے، اس کے آسمان میں ہے، اور اس کی ہوا میں ہے۔

    دفاعی طاقت اور قومی غیرت
    پاکستان کا دفاع اس کی سب سے بڑی شان ہے۔ ہماری افواج صرف وردی میں ملبوس انسان نہیں، یہ غیرت کے محافظ، نظریے کے امین اور قوم کے محافظ ہیں۔ 1965ء کی جنگ ہو یا کارگل کی جھڑپ، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا سرحدوں کی حفاظت ..پاکستانی سپاہی نے ہر بار اپنے لہو سے وطن کا پرچم بلند رکھا۔

    دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بننا صرف ٹیکنالوجی کی کامیابی نہیں، یہ قوم کے عزم کا مظہر ہے۔ دشمن جانتے ہیں کہ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے کا انجام کیا ہو سکتا ہے، کیوں کہ یہاں کے لوگ مٹی کی قسم کھا کر جیتے ہیں اور اس کے لیے مر مٹنے کو فخر سمجھتے ہیں۔

    ثقافت، زبان، اور ادب کی عظمت
    پاکستان کی شان اس کے تہذیبی ورثے میں بھی ہے۔ پنجابی کا جوش، سندھی کا سوز، بلوچی کا وقار، پشتو کی غیرت، کشمیری کی لطافت .. یہ سب مل کر ایک ایسی ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں جو دنیا کی نظروں میں قابلِ رشک ہے۔ یہاں قوالی کی گونج ہے، صوفی کلام کی روشنی ہے، اور لوک موسیقی کی نرمی ہے۔

    اردو ادب نے اس ملک کو عظیم شعرا، ادبا، اور مفکرین عطا کیے۔ فیض احمد فیض، حبیب جالب، احمد ندیم قاسمی، اور بانو قدسیہ جیسے لوگوں نے اس سرزمین کے جذبات کو الفاظ کا جامہ پہنایا۔ پاکستان کی ثقافت اس کی روح ہے، اور یہی روح اس کی شناخت کا سب سے روشن چراغ ہے۔

    نوجوان نسل .. اُمید کی کرن
    کسی بھی قوم کی شان اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے، اور پاکستان کے نوجوان باصلاحیت، باحوصلہ اور باکردار ہیں۔ چاہے کھیل کا میدان ہو یا تعلیم کا شعبہ، طب ہو یا ٹیکنالوجی، پاکستانی نوجوان ہر جگہ اپنی صلاحیت کا لوہا منوا رہے ہیں۔

    عبدالستار ایدھی جیسے خدمت گزار، ارفع کریم جیسی کم عمر ٹیکنالوجی ماہر، اور نسیم شاہ جیسے کم عمر فاسٹ بولر اس قوم کی توانائی اور جذبے کے آئینہ دار ہیں۔ اگر یہی نسل شعور، علم اور اخلاص کے ساتھ آگے بڑھے، تو پاکستان کا مستقبل نہایت روشن ہو گا۔

    پاکستان نے ہمیشہ آزمائشوں کا سامنا کیا .. دہشت گردی، معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام .. لیکن ہر بار یہ قوم مضبوط ہو کر ابھری ہے۔ ہماری قوم کی ایک خاص بات ہے کہ جب بھی کوئی مشکل آئے، ہم متحد ہو جاتے ہیں، اور یہی اتحاد ہماری شان کا سب سے قیمتی پہلو ہے۔

    زلزلے آئیں یا سیلاب، جب قوم ایک جسم کی طرح حرکت کرتی ہے، تو دنیا حیران رہ جاتی ہے۔ ہم نے دکھ سہے ہیں، مگر سر جھکایا نہیں؛ ہم نے قربانیاں دی ہیں، مگر پیچھے ہٹے نہیں.. یہی ہماری پہچان ہے، یہی ہماری شان ہے۔

    شانِ پاکستان صرف اس کی تاریخ، جغرافیہ، یا دفاع میں نہیں بلکہ اس کے عوام کے جذبے، اتحاد، اور خلوص میں ہے۔ یہ ملک لاکھوں شہیدوں کی قربانیوں، مہاجروں کی ہجرت، ماؤں کے آنسوؤں اور بزرگوں کی دعاؤں سے بنا ہے۔ یہ صرف سرزمین نہیں، ایک خواب ہے، ایک دعا ہے، ایک ایمان ہے۔

    ہمیں چاہیے کہ اس شان کو صرف لفظوں میں نہ رکھیں، بلکہ عمل سے ثابت کریں۔ اپنے حصے کی شمع جلائیں، اپنے وطن سے وفا کریں، اور اس خواب کو مکمل کریں جو 14 اگست 1947 کو تعبیر ہوا تھا۔

    کیوں کہ جب تک پاکستان ہے، ہم ہیں اور جب تک ہم ہیں، شانِ پاکستان بھی زندہ ہے۔

  • شانِ پاکستان .تحریر: زین جٹ

    شانِ پاکستان .تحریر: زین جٹ

    شانِ پاکستان
    تحریر: زین جٹ
    پاکستان… ایہ صرف اک ملک دا ناں نہیں، ایہ اک نظریہ اے، اک خواب اے، اک قربانی دی لازوال داستان اے۔ دنیا دے نقشے اتے ابھری ایہ سبز ہلالی ریاست لکھاں جاناں، بے شمار قربانیاں تے ان گنت دعاواں دا نتیجہ اے۔ شان پاکستان صرف سرحداں، فوجی طاقت یا ثقافتی رنگاں تک محدود نہیں بلکہ ایہ اک قوم دی عزت، غیرت، ایثار تے حوصلے دی مکمل تصویر اے۔

    پاکستان دی شان اوہدے نوجواناں وچ اے جہڑے دنیا بھر وچ اپنی عقل، محنت تے صلاحیت نال ملک دا ناں روشن کر رہ نیں۔ ساڈے کھڈاریاں، ساڈے اداکاراں، ساڈے شاعراں، ادیباں، ساڈے ڈاکٹراں تے ساڈے سائنسداناں ایہناں ساریاں نے ثابت کیتا اے کہ پاکستان اک عظیم ٹیلنٹ رکھن والا ملک اے۔ جتھے مایوسی ہووے، اوتھے امیداں دیاں کونپلاں وی اگدیاں نیں تے جتھے اندھیرا ہووے، اوتھے چمکن والے چراغ وی موجود ہوندے نیں۔

    پاکستان دی شان اوہناں شہیداں وچ اے جہڑے ہر دور وچ ماں دھرتی دی رکھوالی لئی اپنی جان وار دیندے نیں۔ 1965 دی جنگ ہووے، 1971ء، کارگل ہووے یا دہشتگردی دے خلاف آپریشن، پاکستانی فوجی ہر وار سینہ تان کے کھڑی ہوندی اے، خون دا نذرانہ دیندی اے پر وطن نوں کسے وی قیمت اتے نیواں نہیں ہون دیندی۔ کیپٹن راجہ محمد سرور توں لے کے میجر شبیر شریف تک، ایہ سارے سانوں فخر دے نال کہن دی اجازت دیندے نیں کہ ایہ ساڈی شان نیں۔ اوہ ماپے وی ساڈی شان نیں جنہاں نے اپنے لال وطن تے وار دتے۔

    پاکستان دی شان اوہدی آزادی وچ اے۔ اوہ آزادی جہڑی غلامی دی لمی رات توں بعد ملی۔ اوہ آزادی جہڑی سانوں اپنی پہچان، ثقافت، مذہب تے زبان نوں بچان دا موقعہ دیندی اے۔ ایہ اک نعمت اے جہدی قدر اوہ بندہ جان دا اے جہڑا اج وی اوہدی تڑپ وچ زندہ اے۔ کشمیر، فلسطین تے ہور محکوم علاقے اج وی پاکستان ورگی آزادی دے خواب ویکھدے نیں۔

    پاکستان دی شان ایہدے کساناں وچ اے، جہڑے زمین دا سینہ چیر کے اناج اگا کے قوم نوں پال دے نیں۔ اوہناں مزدوراں وچ اے جہڑے پسینہ وگا کے اٹاں چک کے ملک دا پہیہ چلاون والے نیں۔ اوہناں عورتاں وچ اے جہڑیاں ماں، بہن، بیٹی بن کے معاشرے دی بنیاد نیں۔ اوہ تعلیم تے تربیت وچ مرداں دے نال نال قدم ملا کے چل رہیاں نیں۔

    پاکستان دی ثقافت وی ایہدی شان دا اک قیمتی جزو اے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پختون تے کشمیری ثقافتاں ایہ سبھ مل کے پاکستان دی رنگین چادر بنادے نیں۔ ساڈی شاعری، لوک گیت، موسیقی، رسم و رواج تے بولیاں اس گل دا ثبوت نیں کہ اسیں اک جیندی جاگدی ساہ لین والی قوم آں۔ وارث شاہ، شاہ لطیف، خواجہ فرید تے رحمان بابا جیہڑے لفظاں نال قوم نوں جگا گئے، ایہ دھرتی اوہناں دی اے۔ اوہناں دی شاعری وچ پاکستان دی عظمت وسدی اے۔

    پاکستان دی شان اوہدے نظریے وچ اے۔ اوہ نظریہ جہڑا قائد اعظم نے دتا، اوہ خواب جہڑا علامہ اقبال نے ویکھیا۔ اوہ مقصد جہڑا لکھاں مسلماناں نوں برصغیر دے ہر کونے توں کھچ کے لے آیا۔ ایہہ ملک "لا الہ الا اللہ” دی بنیاد تے حاصل کیتا گیا۔ ایہ اک نظریاتی قلعہ اے جتھے اسلام نوں اصل روح دے نال نافذ کرن دا خواب ویکھیا گیا۔ ایہہ خواب اجے وی مکمل نہیں ہویا، پر ایہ خواب ویکھن والے آج وی زندہ نیں، اوہناں دا جذبہ زندہ اے۔

    معاشی میدان وچ وی پاکستان دی شان کسے توں گھٹ نہیں۔ ایہ ملک زرعی لحاظ نال زرخیز اے، قدرتی وسائلاں نال مالا مال اے، ذہانت تے ٹیلنٹ نال بھرپور اے۔ سی پیک، گوادر، تھر دا کوئلہ، سوات دے سیاحتی مقام، بلوچستان دیاں معدنیات… ایہ اوہ خزانے نیں جیہڑے کسے وی ملک کول نہیں۔ بس سانوں حکمت عملی، ایمانداری تے قومی یکجہتی دی لوڑ اے۔

    پاکستان دی شان اوہدے شہراں، در و دیوار، ندی نالیاں، پہاڑاں تے درختاں وچ اے۔ جدوں لاہور دی فضا وچ اذان دی گونج آندی اے، جدوں کراچی دے سمندر تے سورج ڈھلدا اے، جدوں مری دی برف باری دھرتی تے سفید چادر پا دیندی اے، جدوں گلگت دے پہاڑاں وچ پاکستان دی گونج سنائی دیندی اے… ایہ اوہ لمحے نیں جدوں دھرتی آہستہ آہستہ آکھدی اے: "میں شانِ پاکستان آں۔”

    پر سوال ایہ وے کیہ اسیں ایہ شان سنبھال رہے آں؟ کہ اسیں اپنے اندرونی جھگڑیاں، لسانی نفرتاں، فرقہ واریت تے کرپشن نال ایہ شان داغدار نہیں کر دتی؟ ایہ اوہ سوال اے جہڑا ہر پاکستانی نوں اپنے آپ توں کرنا چاہیدا اے۔ جے اسیں پاکستان نوں واقعی فخر نال دنیا دے سامنے پیش کرنا چاہندے آں تاں سب توں پہلاں ساڈے اندر دی صفائی ضروری اے۔ خود احتسابی، دیانتداری تے دھرتی نال وفاداری دی لوڑ اے۔

    شان پاکستان صرف فوج، حکومت یا کسی خاص طبقے دی ذمہ داری نہیں۔ ایہ ہر اک دی ذمہ داری اے۔ جدوں اک استاد نیک نیتی نال پڑھاندا اے، اک ڈاکٹر ایمانداری نال علاج کردا اے، اک پڑھیار دل توں علم حاصل کردا اے، اک عام شہری قانون دی پاسداری کردا اے، تاں اوہ دراصل پاکستان دی شان وچ اضافہ کردا اے۔

    پاکستان ساڈا اے۔ ایہہ اوہ مقدس امانت اے جہڑی ساڈے بزرگاں نے خون دے نال ساڈے حوالے کیتی۔ ہن ساڈی واری اے کہ اسیں اس دی حفاظت کریے، ایہنوں ترقی دی راہ تے لیائیے تے دنیا وچ اس دا ناں فخر نال بلند کریے۔ کیونکہ ایہہ وطن سانوں مفت نہیں ملیا، ایہ ساڈے بزرگاں دی قربانیاں دی مہک نال رچیا بسیا اے۔

    آخر وچ میرے شان پاکستان دے حوالے نال میرا لکھیا اک نغمہ پڑھو:
    ہر دم اپنی آن دے نغمے گانے نیں
    یعنی پاکستان دے نغمے گانے نیں

    ایہدے ہر اک شہر دی دکھ ای وکھری اے
    پنڈی تے ملتان دے نغمے گانے نیں

    مینوں جان توں پیارا میرا دیس اے جی
    میں تے اپنی جان دے نغمے گانے نیں

    ایہ آزادی رب دی ڈھیر عنائیت اے
    رب دے اس احسان دے نغمے گانے نیں

    سارے جگ توں سوہنا ایہدا پرچم اے
    اس پرچم دی شان دے نغمے گانے نیں

    صرف اک گل یاد رکھو:
    پاکستان دی شان اسیں آں تے شان پاکستان ساڈی شان اے۔