Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • شانِ پاکستان.تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

    شانِ پاکستان.تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

    شانِ پاکستان
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    ہر قوم کی پہچان اس کے کردار، ورثے اور کارناموں سے ہوتی ہے اور اگر کوئی ملک واقعی قابلِ فخر ہو سکتا ہے تو وہ پاکستان ہے، وہ پاک سرزمین جو نہ صرف قدرتی حسن سے مالا مال ہے بلکہ عسکری، سائنسی، سماجی اور معاشرتی طاقتوں کی عظیم علامت بھی ہے۔ آج جب ہم اپنے وطنِ عزیز کو عالمی افق پر دیکھتے ہیں تو اس کی ہر جہت ایک نئی عظمت کی کہانی سناتی ہے۔ یہی توہے شانِ پاکستان۔

    حال ہی میں جب ہمارے ازلی دشمن ہمسایہ ملک بھارت نے جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے پاکستان کی فضاؤں میں دراندازی کی جسارت کی، تو پاک فوج و پاک فضائیہ نے وہ تاریخ رقم کی جو دنیا نے حیرت سے دیکھی۔ پاکستان نے بھارت کے چھ جنگی جہاز مار گرائے جو اس کی عسکری برتری، نظم و ضبط اور جوابی حکمتِ عملی کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ دشمن کو دندان شکن اور عبرت ناک شکست دینا صرف ہتھیار کی طاقت نہیں بلکہ عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی یکجہتی کا نتیجہ ہے۔اسے کہتے ہیں شانِ پاکستان۔

    پاکستان اپنی ہزاروں سال قدیم تہذیبوں اور مذہبی رواداری کی وجہ سے عالمی سطح پر نمایاں ہے۔ یہ سرزمین دنیا کی چند قدیم ترین تہذیبوں، جیسے کہ ہڑپہ اور موہنجو دڑو، کی گہوارہ رہی ہے، جو اپنی شہری منصوبہ بندی اور ترقی یافتہ طرز زندگی کے لیے مشہور تھیں۔ بہاولپور کے قریب واقع گنویری والا کی دریافت جو ممکنہ طور پر 6000 سے 7000 سال قدیم ہے، پاکستان کی تاریخی عظمت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ یہ آثار قدیمہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ خطہ ہزاروں سالوں سے انسانی تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ اس سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شانِ پاکستان کیا ہے

    پاکستان اپنے تنوع اور اقلیتی برادریوں کے مذہبی مقامات کے احترام کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں سکھ، ہندو اور عیسائی سمیت دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے عقائد کے مطابق آزادانہ اور خوف کے بغیر زندگی گزارتے ہیں۔ سکھوں کے لیے پاکستان ایک انتہائی اہم مذہبی مرکز ہے، کیونکہ یہاں ان کے کئی مقدس گوردوارے موجود ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں بابا گرونانک کی جنم بھومی ننکانہ صاحب ہے، جو سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک دیوجی کا جائے پیدائش ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں سکھ یاتری یہاں آتے ہیں اور اپنے مذہبی فرائض انجام دیتے ہیں۔

    اسی طرح کرتار پور صاحب کا گوردوارہ بھی سکھ برادری کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے، جہاں بابا گرو نانک دیوجی نے اپنی زندگی کا آخری حصہ گزارا۔ یہ مقامات نہ صرف سکھ مذہب کی تاریخ اور روایات کا حصہ ہیں بلکہ پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کی ایک بہترین مثال بھی ہیں۔ پاکستان میں ہندوؤں کے بھی کئی قدیم اور مقدس مندر موجود ہیں، جن میں چکوال کے قریب واقع کٹاس راج مندر خاص مقام رکھتا ہے۔ عیسائی برادری بھی یہاں اپنی عبادات کے لیے گرجا گھروں میں جاتی ہے اور اپنے مذہبی تہوار آزادی سے مناتی ہے۔ پاکستان کے آئین میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی دی گئی ہے۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    پاکستان کی زمینی خوبصورتی اس کی سب سے نمایاں شناخت ہے۔ شمال میں بل کھاتی وادیاں، بہتے چشمے، برف سے ڈھکی چوٹیوں سے لے کر جنوب میں خلیجِ عرب سے جڑے نیلے پانیوں والے ساحل، سب قدرت کی عطاء ہیں۔ سوات، کالام، گلگت، ہنزہ، ناران، کاغان اور نیلم وادی جیسی حسین وادیوں کو اگر جنتِ ارضی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ مناظر نہ صرف سیاحوں کو لبھاتے ہیں بلکہ قومی معیشت میں اہم کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    روہی، چولستان، تھر اور تھل کے صحرا اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں انسان نے سخت حالات کے باوجود زندگی کا رنگ بکھیر رکھا ہے۔ اونٹوں کے قافلے، روایتی ثقافت، صحرا میں گونجتی لوک موسیقی اور رنگ برنگے تہوار، یہ سب کچھ پاکستان کی تنوع سے بھرپور تہذیب کا مظہر ہے۔ ان خشک ریگزاروں میں بھی ایک دھڑکتا ہوا پاکستان آباد ہے۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    بلوچستان ویسے تو بہت ہی خوبصورت لیکن ضلع خضدار اپنے قدرتی چشموں، پہاڑی سلسلوں اور مٹی کے آتش فشاں جیسی نایاب قدرتی ساختوں کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں کی زمین معدنیات سے مالا مال ہے اور یہ قدرتی وسائل پاکستان کی اقتصادی ترقی کی کلید ہیں۔ ساتھ ہی یہ خطہ ایک جغرافیائی پل کا کردار ادا کرتا ہے جو وسطی ایشیا اور خلیجی ریاستوں سے پاکستان کو جوڑتا ہے۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    پاکستان کا ساحلی علاقہ بالخصوص گوادر بندرگاہ، آنے والے وقت میں عالمی تجارتی مرکز بننے جا رہا ہے۔ یہ بندرگاہ نہ صرف چین، افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے گیٹ وے ہے بلکہ یہ پاکستان کی معاشی خودمختاری کی علامت بن چکی ہے۔ گوادر سے جڑی سی پیک (CPEC) نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے معاشی ترقی کا ذریعہ ہے۔ یہی تو ہے شانِ پاکستان۔

    شہرِ کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ، ملتان، حیدرآباد، سکھر اور سیالکوٹ جیسے تجارتی مراکز پاکستان کی معیشت کو زندگی بخشتے ہیں۔ سیالکوٹ جو کہ پاکستان کا صنعتی دل ہے، دنیا بھر میں اسپورٹس گُڈز، سرجیکل آلات، لیدر مصنوعات اور برآمدات کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ یہی وہ شہر ہے جس کی متحرک بزنس کمیونٹی نے اپنے وسائل سے نہ صرف ملک کا پہلا نجی بین الاقوامی ایئرپورٹ تعمیر کیا بلکہ "ائیر سیال” کے نام سے اپنی ایئرلائن بھی قائم کی ، یہ اس شہر کے ترقی پسند جذبے اور قومی خدمت کے عزم کی زندہ مثال ہے۔ ان شہروں کے بین الاقوامی ہوائی اڈے، جدید شاپنگ مالز، صنعتی زونز، فری ٹریڈ ایریاز اور فنانشل حب کے طور پر ابھرتے ڈھانچے دنیا کو ایک نیا، ترقی یافتہ پاکستان دکھا رہے ہیں۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    اور اگر پاکستان کا مرکز اور دل کہیں تو وہ ہے ڈیرہ غازیخان، جو جغرافیائی لحاظ سے چاروں صوبوں کے سنگم پر واقع ہے۔ اس علاقے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں ایشیا کا دوسرا بڑا اسٹیل پل تعمیر کیا گیا جو کوہِ سلیمان کے بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان بلوچستان کی آمد و رفت کو آسان بناتا ہے۔ یہی نہیں جنوبی پنجاب کا خوبصورت سیاحتی مقام فورٹ منرو جسے "جنوبی پنجاب کا مری” بھی کہا جاتا ہے ، ڈیرہ غازیخان ہی میں واقع ہے، جو نہ صرف مقامی سیاحت کو فروغ دے رہا ہے بلکہ علاقے کی اقتصادی و ثقافتی اہمیت کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    تعلیم کے میدان میں پاکستان میں اعلیٰ معیار کی یونیورسٹیاں، میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز، زرعی و ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹس نئی نسل کو نہ صرف تعلیم دے رہے ہیں بلکہ انہیں عالمی معیار کا ہنرمند بھی بنا رہے ہیں۔ نمل، نسٹ، کامسیٹس، آئی بی اے، لمز، گورنمنٹ کالج، پنجاب یونیورسٹی اور دیگر ادارے ملک کے تعلیمی افق پر درخشاں ستارے ہیں۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    پاکستانی نوجوان ہنرمند، پرجوش اور قابلیت میں کسی سے کم نہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو آئی ٹی، ای کامرس، فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، فیشن، فلم، فنون لطیفہ اور کھیلوں کے میدان میں دنیا میں پاکستان کا پرچم بلند کر رہے ہیں۔ ہماری ہنر مند افرادی قوت نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے رہی ہے بلکہ دنیا بھر میں اپنی پہچان قائم کر چکی ہے۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    پاکستان کا زرعی شعبہ، سرسبز کھیت، بہترین نہری نظام، چاول، گندم، کپاس، آم، مالٹے، گنا، اور سبزیاں، یہ سب پاکستان کی زرعی طاقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پنجاب کے لہلہاتے کھیت، سندھ کی زرخیز زمین، خیبرپختونخوا کے پہاڑی باغات اور بلوچستان کی پھلوں سے بھری وادیاں ہمارے دیہی نظام کا حسن ہیں۔ یہی تو شانِ پاکستان ہے۔

    پاکستان بلند و بالا پہاڑوں کی سرزمین ہے، جہاں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K2 واقع ہے۔ کے ٹو صرف ایک پہاڑ نہیں، یہ ہمت، حوصلے اور عزم کا نشان ہے۔ یہاں آنے والے کوہ پیما پاکستان کی قدرتی خوبصورتی اور خطرناک مگر دلکش چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں اور پوری دنیا کے سامنے پاکستان کی انفرادیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہی بھی شانِ پاکستان ہے۔

    سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی پاکستان نے دنیا کو حیران کیا۔محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم کی شبانہ روز ان تھک محنت اور تحقیق نیز اس وقت کی جہاندیدہ قیادت اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے بروقت اور جرات مندانہ فیصلے کی بدولت پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت بنا۔28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان نے دنیا کو باور کرا دیا کہ ہم اپنی خودمختاری، سالمیت اور قومی وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔پاکستان کی ایٹمی صلاحیت نہ صرف ملکی دفاع کی ضامن ہے بلکہ عالمِ اسلام کی اجتماعی طاقت کی علامت بھی ہے۔یہی تو ہے شانِ پاکستان۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دیگر محب وطن سائنسدانوں نے پاکستان کو اس مقام پر پہنچایا کہ آج دنیا ہماری صلاحیتوں کا لوہا مانتی ہے۔
    "ٹی از فنٹاسٹک” سے شروع ہونے والی دشمن کی شیخی رافیل طیاروں کی تباہی پر ختم ہوئی ، پاکستان نے دشمن کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی اور اللہ رب العزت کے حضور سجدۂ شکر ادا کیا، شکرانے کیلئے کسی اور کیلئے نہیں فقط اپنے رب کی خوشنودی کیلئے اس کے آگے سجدہ ریز ہونا بھی تو شانِ پاکستان ہے .

    پاکستان نہ صرف جغرافیائی حسن، عسکری طاقت، زرعی ترقی اور اقتصادی مواقع کا نام ہے بلکہ یہ ایک نظریہ، ایک تہذیب، ایک ثقافت اور ایک جذبے کا نام ہے۔ یہاں کے لوگ مہمان نواز، محبت کرنے والے، جفاکش اور ایماندار ہیں۔ پاکستانی قوم آزمائشوں سے گھبراتی نہیں بلکہ ان کا سامنا کرتی ہے اور ہر بار سرخرو ہوتی ہے۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    ہماری افواج، ہمارے ادارے، ہمارے سائنس دان، کسان، مزدور، ڈاکٹر، انجینئر، طالبعلم، فنکار اور کھلاڑی اور ہمارے محب وطن قلمکار وصحافی سب مل کر ایک ایسا پاکستان بناتے ہیں جو نہ صرف قابلِ فخر ہے بلکہ دنیا کے لیے مثال بھی ہے۔کیونکہ یہی ہے ہمان آن بان اور شانِ پاکستان۔
    پاکستانی قوم اور پاک فوج زندہ باد ،پاکستان پائندہ باد.

  • شانِ پاکستان.تحریر:دانیال حسن چغتائی

    شانِ پاکستان.تحریر:دانیال حسن چغتائی

    شانِ پاکستان
    تحریر:دانیال حسن چغتائی
    ہر خطہ، ہر بستی، ہر چپہ زمین کی کوئی نہ کوئی شناخت ہوا کرتی ہے لیکن اسی کائنات پر ایک ملک ایسا بھی ہے جس کی پہچان اس کی جغرافیائی حدود، قدرتی وسائل نہیں بلکہ اس کی شان اس کا نظریہ، قربانیوں سے لبریز تاریخ اور اس کی آزاد فضاؤں میں سانس لینے والے غیرت مند لوگ ہیں ۔
    جب 14 اگست 1947 کی روشن صبح طلوع ہوئی تو ایک صدی کی غلامی کے بعد صبح نو تھی۔ یہ نئی امید، نئی پہچان کی صبح تھی۔ لاکھوں قربانیوں، ہزاروں ماؤں کی لٹتی چوٹیاں، لٹے ہوئے قافلے، سسکتی ہوئی مائیں، کٹے پھٹے جنازے اور ان سب کے باوجود ایک ہی للکار، صدا تھی۔
    پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ!
    یہ نعرہ امتِ مسلمہ کے شعور کا اعلان تھا۔

    قائداعظم محمد علی جناح نے جب فرمایا،
    ہم علیحدہ قوم ہیں، ہماری تہذیب، تمدن، مذہب، معیشت سب جدا ہے تو گلیوں، بستیوں اور قریوں میں رہنے والے مسلمانوں میں نئی روح دوڑ گئی۔ یہی وہ روح ہے جو آج تک شانِ پاکستان کی بنیاد ہے۔
    اگر اقبال کے خواب، قائد کے عزم، لیاقت علی خان کی قربانی، فاطمہ جناح کی جدوجہد اور ہزاروں نوجوانوں کی شہادتوں کو ایک لڑی میں پرویا جائے تو جو تسبیح بنے گی، وہی شانِ پاکستان ہے۔

    آج پاکستان ایٹمی طاقت ہے، عالمِ اسلام کا قلعہ ہے، نوجوانوں کا خواب ہے، شہیدوں کی امانت ہے۔کبھی سیاچن کے برفیلے محاذوں پر جوان بے سرو سامانی میں دشمن کو روک لیتے ہیں تو کبھی وزیرستان کی وادیوں میں دہشت گردی کا قلع قمع کرتے ہیں۔ بنیان المرصوص تو ابھی کل کی ہی بات ہے۔

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

    یہ دیدہ ور ہم نے ارفع کریم کی صورت، ڈاکٹر عبد القدیر کی تحقیق میں، ملالہ یوسفزئی کی استقامت میں، ایدھی کی خدمت میں، اور نیلم کے سپاہی کی شہادت میں دیکھے ہیں۔ اگر آج کوئی نوجوان ہاتھ میں قلم تھامے کسی پہاڑی بستی میں بیٹھا تعلیم حاصل کر رہا ہے تو وہ بھی شانِ پاکستان ہے۔
    اگر کوئی خاتون ٹیچر حجاب میں بچیوں کو سائنس پڑھا رہی ہے تو وہ بھی شانِ پاکستان ہے۔اگر فوجی سپاہی مورچے میں بیٹھ کر دشمن کو للکار رہا ہے تو وہ بھی شانِ پاکستان ہے۔

    یوں تو دنیا کے نقشے پر بےشمار ممالک ابھرتے اور ڈوبتے رہے، کوئی سلطنتِ مغلیہ کہلائی تو کوئی سلطنتِ عثمانیہ، کہیں تاج برطانیہ چھایا تو کہیں فرعونوں کی دھاک بیٹھی مگر خاکِ پاکستان کچھ اور ہے، اس کی بنیادوں میں خوابوں کی چنگاریاں بھی ہیں اور شہادتوں کے پھول بھی ہیں ۔ اس کی صبحیں اذانوں سے روشن اور شامیں سجدوں سے معطر ہوتی ہیں۔ پاکستان نظریے، عقیدے اور عظیم جدوجہد کا روشن نتیجہ ہے۔اور کیا ذکر کروں اُس لازوال محبت کا، جو اس سرزمین کے ذرے ذرے سے ہو جاتی ہے؟ کیا یہ کم فخر کی بات ہے کہ اسی خاک سے اقبال نے خواب دیکھے اور قائد نے تعبیر کی! ایک طرف لہو کا دریا، دوسری جانب منزل کا صحرا، پھر بھی ہنستے ہنستے قربان ہونے والوں کی وہ داستانیں، جنہیں اگر سنیں تو آنکھیں چھلک پڑیں، اور دل کہتا ہے یہی تو شانِ پاکستان ہے۔

    اردو۔ وہ زبان جو گلزارِ تہذیب بھی ہے اور آئینۂ شعور بھی۔ پاکستان نے اردو کو وہ مقام عطا کیا جو دنیا کے کسی خطے میں نہیں ملا۔ یہ ہماری قومی زبان ہے۔ یہ زبان بھی تو پاکستان کی شان ہے۔

    اگر فنونِ لطیفہ کی بات کی جائے تو پھر دھنک رنگ پاکستان پیشِ نظر آتا ہے۔ لاہور کی انار کلی سے لے کر کراچی کے ساحلوں تک، خیبر کے پہاڑوں سے لے کر کشمیر کی وادیوں تک، ہر گوشہ ثقافت، ہر سنگِ در، ہر ساز کی لے میں الگ جمال اور اک نئی شان چھپی ہوئی ہے۔ ہنر مندوں کی سرزمین، لوک داستانوں، قوالی، غزل، فوک میوزک، اور کلاسیکی رقص و موسیقی کی وہ ریت، جو دلوں کو مسحور کر دیتی ہے۔ یہ سب پاکستان کی پرچھائیں ہیں، یہ سب اس کی شان کے استعارے ہیں۔

    معاشرتی اقدار، خاندانی نظام، مہمان نوازی، بزرگوں کا احترام، خوشبو سے معطر باورچی خانے پاکستان کی روایتی زندگی میں وہ حسن ہے کہ جو کبھی پرانا نہیں پڑتا۔ یہاں بچپن دادی نانی کی کہانیوں سے مالا مال ہوتا ہے، جوانی غیرت و مروت کی عکاس اور بڑھاپا عزت و احترام کا پیکر بن کر سامنے آتا ہے۔

    ہماری افواج کی قربانیاں، ان کا عزم، ان کی جرات سب کچھ ایسی عظمتوں کا پتہ دیتی ہیں جو لفظوں میں سموئی نہیں جا سکتیں۔ یہی وہ فولادی سپاہی ہیں جو پاکستان پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ شانِ پاکستان کے ماتھے کا جھومر یہی سپاہی ہیں۔

    پاکستان کی شان اس کے نوجوانوں میں پنہاں ہے۔ وہ نوجوان جو سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، کھیل، فنون اور دفاعی میدانوں میں دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ کبھی ملالہ کے نام سے دنیا جھوم اٹھتی ہے تو کبھی ارفع کریم کی خدمات کا پوری دنیا اعتراف کرتی ہے۔

    یقیناً ہمارے دامن میں مسائل بھی ہیں۔ جن میں غربت، ناانصافی، کرپشن، دہشت گردی شامل ہیں لیکن وہ قوم، جس نے تہتر برس قبل ایک خواب کی تعبیر الگ وطن کی صورت میں حاصل کیذ! آج ان کٹھنائیوں سے نہ نکل پائے گی؟ ہرگز نہیں! کیونکہ جب تک دلوں میں پاکستان کے لیے تڑپ موجود ہے، جب تک آنکھوں میں اس کے لیے روشنی باقی ہے، جب تک ہاتھ اس کے لیے دعاؤں میں اٹھتے رہیں گے تب تک شانِ پاکستان سلامت رہے گی ان شاءاللہ ۔

    وطن کی شان نعرے لگانے سے نہیں بڑھتی بلکہ اس کے لیے عمل، قربانی، دیانت اور اتحاد درکار ہوتا ہے۔ دلوں کو جوڑیں، زبانوں کو نرم کریں، اختلاف کو رحم میں بدلیں، وطن کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں تب ہی ہم حقیقی معنوں میں شانِ پاکستان میں کردار ادا کر سکیں گے۔
    یہ ملک ہماری پہچان ہے، ہمارا مان ہے، ہماری روح ہے۔ اس کے کھیت ہمارے رزق کا وسیلہ، اس کی ہوائیں ہمارے خوابوں کا سفر اور اس کے شہید ہماری آزادی کی مہر ہیں۔
    پاکستان زندہ باد!
    پاکستان پائندہ باد!

  • شانِ پاکستان.تحریر: ڈاکٹر ادیب عبدالغنی شکیل

    شانِ پاکستان.تحریر: ڈاکٹر ادیب عبدالغنی شکیل

    شانِ پاکستان
    تحریر: ڈاکٹر ادیب عبدالغنی شکیل
    اللہ تبارک تعالیٰ کا بے شمار بار شکر و احسان ہے کہ اس نے اس وسیع و عریض دنیا میں ہمیں اتنا پیارا، اتنا خوب صورت آزاد وطن عطا کیا:
    اتنے بڑے جیون ساگر میں تونے پاکستان دیا
    ہو اللہ، ہو اللہ
    دنیا میں لگ بھگ دو سو ممالک ہیں، کوئی چھوٹا، کوئی بڑا۔ پاکستان ان سب میں منفرد و ممتاز ملک ہے:

    دنیا مانے میرے وطن کی شان
    پاکستان اتنا منفرد، ممتاز، عالی شان اور ذی وقار کیسے ہے؟ کیوں ہے؟
    سب سے پہلی چیز جو اسے عظیم بناتی ہے وہ ہے اس کا نظریاتی قیام۔ مدینتہ النبی ﷺ کے بعد یہ وہ واحد ریاست ہے جو ایک عقیدے، ایک نظریے پر قائم ہوئی، جس کی بنیادوں میں لاکھوں شہداء کا لہو شامل ہے۔

    اس کی بنیادوں میں ہے تیرا لہو، میرا لہو
    اس سے تیری أبرو ہے، اس سے میری ابرو
    اس سے تیرا نام ہے، اس سے میری پہچان ہے
    تیرا پاکستان ہے، یہ میرا پاکستان ہے
    اس پہ دل قربان، اس پہ جان بھی قربان ہے۔

    اسلامی نظریہ قومیت پر قائم ہونے والی اس مملکت خداداد کی شان میں اس کا جغرافیہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو دنیا کے ہر بڑے خطے کی جغرافیائی خوبصورتیوں سے مالامال ہے: پہاڑ، دریا، جنگلات، صحرا، جزائر، سطح مرتفع، اور جھیلیں، سب کچھ اس دھرتی پر موجود ہے۔

    پنجاب کے ہرے بھرے میدان ہوں یا شمالی علاقہ جات کے برف پوش پہاڑ، نانگا پربت ہو یا کے ٹو، دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام سے لے کر کاریز تک، جھیل سیف الملوک سے منچھر جھیل تک، چمن کے باغات سے کے پی کے کے جنگلات تک:

    ہے اس دھرتی سے پیار مجھے
    یہ دھرتی میری دھرتی ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ہر موسم کی دولت بھی عطا کی ہے: گرما، سرما، خزاں، بہار۔ اگرچہ ماحولیاتی آلودگی نے منظرنامے کو گڑبڑا دیا ہے لیکن شعور بیدار ہو رہا ہے، شجرکاری کی جانب رغبت بڑھ رہی ہے، إن شاءاللّٰه حالات بہتر ہوں گے۔

    "ہر نعمت والے سے حسد کیا جاتا ہے”
    پاکستان کا قیام دشمنوں کی مرضی کے خلاف ہوا، اس لیے پاکستان اپنے قیام سے پہلے ہی سے ان کی آنکھ میں کھٹکتا رہا۔ آج جب وہ اس کی ترقی دیکھتے ہیں تو ان کے سینے پر سانپ لوٹتے ہیں، مگر:

    نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

    جس کا حامی ہو خدا اس کو مٹا سکتا ہے کون؟
    قوم کے جانباز سپوتوں نے اس وطن پر اپنی جانیں نچھاور کیں:
    کیپٹن سرور شہید، میجر عزیز بھٹی شہید، میجر محمد اکرم، طفیل محمد، محفوظ، سوار محمد حسین، میجر شبیر شریف، راشد منہاس، کرنل شیر خان، حوالدار لالک جان، سیف اللہ جنجوعہ اور دیگر گمنام ہیرو… سب نے وطن کی بقا کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔

    جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے
    کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا

    اس چراغاں کی روشنی کو مزید جلا دی اعتزاز احسن شہید اور آرمی پبلک اسکول کے ننھے شہداء نے۔

    سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی پاکستان نے دنیا کو حیران کیا۔
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دیگر محب وطن سائنسدانوں نے پاکستان کو عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت بنایا۔
    "ٹی از فنٹاسٹک” سے شروع ہونے والی دشمن کی شیخی رافیل طیاروں کی تباہی پر ختم ہوئی — پاکستان نے دشمن کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی۔

    بنیان المرصوص کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان نے نہ صرف اپنی طاقت کا لوہا منوایا بلکہ رب کے حضور سجدہ شکر بھی ادا کیا۔

    اَلْحَمْدُلِلّٰہ پاکستان آج خلائی دوڑ میں شامل ہو چکا ہے، چاند کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔ کمپیوٹر کی دنیا میں ارفع کریم رندھاوا جیسی ہونہار بیٹی نے سب کو چونکا دیا۔

    کھیلوں میں بھی پاکستان نے دنیا میں اپنا نام بنایا۔
    سکواش، ہاکی، کرکٹ، سنوکر، ٹینس، کشتی، پولو، نیزہ پھینکنے، والی بال… ہر میدان میں سبز ہلالی پرچم سربلند کیا۔
    جہانگیر خان، جان شیر خان، ماجد خان، عمران خان، جاوید میانداد، حنیف محمد، سمیع اللہ، حسن سردار، اختر رسول، اور لاتعداد دوسرے ہیرو اس قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

    سعودی عرب ہو یا دبئی، پاکستانیوں نے ریگستان میں پھول اگا دیے۔

    علم و ادب کے میدان میں پاکستان کا وقار مسلمہ ہے۔
    ترکیہ، آذربائیجان، مصر اور چین جیسے ممالک کی جامعات میں اردو کی تدریس ہوتی ہے۔
    مصر کی دختر نیل ہو یا چین کا انتخاب عالم ، سب اپنے خیالات کے اظہار کے لیے اردو کا سہارا لیتے ہیں۔

    شوبز میں وحید مراد کی فلمیں بھارت کی اکیڈمیوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔
    مہدی حسن کے بارے میں لتا منگیشکر کا یہ کہنا کہ "ان کے گلے میں بھگوان بولتا ہے” اور دلیپ کمار کا فیض احمد فیض سے آٹوگراف لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا تخلیقی سرمایہ سرحدوں کا محتاج نہیں۔

  • شان پاکستان (بھوک سے آزادی ).تحریر : لائبہ ہدایت

    شان پاکستان (بھوک سے آزادی ).تحریر : لائبہ ہدایت

    شان پاکستان (بھوک سے آزادی )
    تحریر ۔ لائبہ ہدایت
    14 اگست آزادی کا دن ہوتا ہے ہر گھر ،گلی ،محلہ دکانیں آزاذی کی جھنڈیاں سے سجے ہوئے ہوتے ہیں بچے ، جوان ، مرد، عورتیں سب نۓ کپڑوں اور نئی چیزوں سے خوب سجے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ہر طرف آزاد ہونے کا جشن منایا جا رہا ہوتا ہے اسی محلے میں ایک غریب عورت اور اسکے دو بچے بھی رہتے ہیں 5 سال کا چھوٹا بیمار اور 9 سال کی ایک بھوکی بچی جو محلے کے باقی بچوں کو نۓ کپڑوں سے سجا دھجا دیکھ کر اپنے دل میں حسرت کی آہیں بھرتی ہے وہ عورت محلے کے گھروں میں برتن مانجھ کر اپنے دو بچوں کو پالتی ہے ان کے گھروں سے ضائع بچا ہوا کھانا لے کر اپنی اور اپنے بچوں کی ایک وقت کی بھوک مٹاتی ہے ۔

    ان دنوں عورت ملیریا کے بخار میں مبتلا ہونے کی وجہ سے کا م پہ نہیں جا رہی ہوتی جسکی وجہ سے اسکے بچے بھوکے ہوتے ہیں اکثر ۔ بیمار چھوٹا بچہ دودھ کے لئے تڑپ رہا ہو تا ہے ، بیٹی ایک وقت کے کھانے کے لیے بھوک سے نڈھال ہوتی ہے ۔بیٹی کبھی ماں کو دیکھتی تو کبھی باہر جھانکتی گلی میں کھیلتے طرح طرح کی چیزیں کھاتے بچوں کو دیکھ کر اسکی بھوک اور بھی زیادہ بڑھتی چلی جارہی ہوتی ہے ۔

    بچی اپنی ماں سے کہتی ہے کہ اماں یہ کیسے لوگ ہیں ہم کن لوگوں کے بیچ میں آگۓ ہیں کسی کو ہماری بھوک کی خبر نہیں کسی کو ہماری غربت اور بیماری کا احساس نہیں یہ کیسے لوگ ہیں آج اپنی آزادی منانے کے لیے ہزاروں خرچ کر رہے ہیں لیکن ہمیں ایک وقت کی روٹی بھی نہیں دے سکتے ۔ ایسا کیوں ہے کہ یہ لوگ آزاد ہیں اور ہم آج بھی غربت اور بھوک کی قید میں غلام ہیں ۔ ہمیں کب آزادی ملے گی اس بھوک سے ۔ یہ لوگ ہمیں آزاد کیوں نہیں کرواتے ؟ ہمیں کون آزاد کرواۓ گا ؟

    بھوک سے نڈھال اور تنگ ہو کر بچی ماں سے سوال کرتی ہے کہ اماں پا کستان کی عوام کو آزادی کس نے دی ہے ؟
    اماں جواب دیتی ہے کہ قاعد اعظم نے ۔بچی دوبارا اپنی اماں سے پوچھتی ہے کہ قاعد اعظم کون تھے ؟
    اماں ۔ قاعد اعظم ایک بھت عظیم لیڈر تھے اس قوم کے جنہوں نے پوری قوم کو غلامی سے آزادی دلائی ۔بچی یہ سن کے اماں کا جواب سوچ میں پڑ جاتی ہے تھوڑی دیر کے بعد اماں سے کہتی ہے کہ کیا آج قاعد اعظم جیسا کوئی عظیم لیڈر اس قوم میں نہیں ہے جو ہمیں بھی اس غربت اور بھوک کی غلامی سے آزادی دلا سکے ؟

    آج سب لوگ آزاد ہیں خوش ہیں اور ہم آج بھی بھوک کے غلام ہیں ایسا کیوں ہے اماں جو لوگ آزاد ہیں ان کو ہمارا احساسِ نہیں ؟
    اماں بچی کے سوال سن کر زور زور سے رونے لگی اپنی بے بسی پہ ، بچوں کی بھوک پہ ، اپنی غربت پہ رونے لگی بچی ماں کو روتا دیکھ کر پریشان ہو گئی اور گھر سے باہر چلی گئی اور باہر گلی میں جا کر ادھر ادھر دیکھ کر لوگوں کو ہستا مسکراتا خوشی میں کیک کاٹتا دیکھ کر زور ، زور سے سب کو کہنے لگی کہ
    کیا آج کوئی قاعد اعظم زندہ ہے اس آزاد قوم میں ؟

    سب لوگ بچی کا سوال سن کر بہت حیران ہوۓ ۔ بچی بار بار یہی سوال پوچھ رہی ہوتی ہے ۔
    ایک آدمی بچی کے پاس آتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ یہ کیا کہہ رہی ہو ؟
    بچی پھر کہتی ہے کہ کیا آج کوئی قاعد اعظم زندہ ہے جو مجھے بھوک کی غلامی سے آزاد کروا دے ، جو میرے بیمار بھائی کو دودھ کا دے ، جو میری ماں کو غربت کی غلامی سے آزاد کروا سکے ۔

    یہ سب باتیں سن کر وہاں کھڑے سب لوگ بہت حیران ہوۓ بچی کی با تیں سن کر سب لوگ سوچ میں پڑ گۓ ،ایک بوڑھا آدمی کھانا لیکر بچی کے پاس آتا ہے اسکے سر پر ہاتھ رکھتا ہے ہاتھ میں کھانا دیتا ہے ،بچی کھانے کو دیکھ کر بھت خوش ہو جاتی ہے وہ کھانا لیکر اپنے گھر کی طرف بھاگتی ہے ،وہاں کھڑے سب لوگ خاموش اپنے ذہن میں اس سوال کا جواب سوچ رہے ہوتے ہیں

    بوڑھا آدمی مڑ کر سب لوگوں کی طرف دیکھ کر وہی سوال پوچھتا ہے سب سے ،کیا ہے آج کوئی قاعد اعظم جیسا عظیم لیڈر زندہ جو غریبوں کو بھوک کی غلامی سے آزاد کروا سکے بھلے ایک وقت کی بھوک سے آزادی ہی کیوں نہ ہو ؟

    آج سب لوگ اپنے آزاد ہونے کا جشن منا رہے ہیں نۓ کپڑے طرح ، طرح کے کھانے بنا رہے ہیں کیک کاٹ رہے ہیں ہزاروں خرچ کرتے ہیں لیکن غریب کی بھوک مٹانے کے لیے ان کے پاس ایک وقت کا کھانا بھی نہیں ہے سب لوگ شرم سے سر جھکائے سوچ میں گم کھڑے ہوتے ہیں وہاں پہ اس بچی کی بھوک کو یاد کر کے ۔۔۔۔۔۔۔
    اس آزادی ۔ بھوک سے آزادی

  • شان پاکستان.تحریر: ایڈووکیٹ وحید اللہ اعوان (روڈہ)

    شان پاکستان.تحریر: ایڈووکیٹ وحید اللہ اعوان (روڈہ)

    شان پاکستان
    ازقلم: ایڈووکیٹ وحید اللہ اعوان (روڈہ)
    پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد، ایمان کی حرارت اور قربانی کی بے مثال داستان ہے۔ اس وطن کا قیام علامہ اقبال کے خواب، قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت اور لاکھوں شہداء کے خون کی بدولت ممکن ہوا۔ پاکستان کی اصل شان اس کے آئین، نظریہ، جغرافیہ، ثقافت، زبانوں اور عوام کی حقیقی جدوجہد میں ہے۔

    پاکستان چھ صوبوں اور متعدد قومی ثقافتوں کا گہوارہ ہے۔ پنجابیوں کی محبت، سندھیوں کی مہمان نوازی، پختونوں کی غیرت، بلوچوں کی روایات، سرائیکیوں کی شائستگی اور گلگت بلتستان والوں کا خلوص، سب مل کر پاکستان کو اکائی بناتے ہیں۔ تمام قومیتیں دستور 1973 کے سائے تلے ایک جھنڈے اور ایک عزم میں پروئی ہوئی ہیں۔

    ہمالیہ سے لیکر بحیرہ عرب تک، پاکستان کے قدرتی وسائل اسے خطے کی معیشت کے لئے بہت خاص بناتے ہیں۔ دریائے سندھ، کوہِ ہندو کش، وادی کشمیر، بلوچستان کے معدنی ذخائر اور پنجاب کی زرخیز زمینیں ہمارے قومی فخر کا حصہ ہیں۔ یہی وسائل جب محنتی پاکستانی قوم کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں تو ملک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے اور ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔

    پاکستانی افواج اس ملک کی عظمت اور سلامتی کی ضامن ہیں۔ ان کی جرات، شفقت اور نظم و ضبط عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں۔ 1965 اور 1971 کی جنگیں، 1998 کے ایٹمی دھماکے، دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنزیہ سب پاکستان کی خودمختاری، وقار اور دفاعی شان کا عملی ثبوت ہیں۔

    پاکستان کے ادارے، جامعات، سائنسدان، کھلاڑی اور فنکار بھی اس ملک کی بین الاقوامی شناخت کو چار چاند لگاتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام، عبدالقدیر خان، ارمونا خان، جہانگیر خان، دنیا بھر میں وطن کا نام روشن کرتے ہیں۔ کرکٹ ورلڈکپ 1992، اسکواش میں لگاتار فتوحات، اور نوبل پرائز،یہ سب پاکستان کے قابل فخر لمحات ہیں۔

    ثقافت اور ادب میں پاکستان نے اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور سرائیکی زبانوں میں ایسے شاہکار تخلیق کیے جو آج بھی دلوں کو گرما دیتے ہیں۔ فیض احمد فیض، حبیب جالب، پروین شاکر، صوفیانہ کلام اور قوالی ہمارے معاشرتی سرمائے کی لازوال دولت ہیں۔

    ملک کے شہری اور دیہی علاقوں میں علم و ہنر کا پھیلاؤ، یونیورسٹیوں اور کالجوں میں نوجوانوں کی ترقی، نمل، پنجاب یونیورسٹی، قائداعظم یونیورسٹی، لمز وغیرہ ملک کے علمی وقار کی علامتیں ہیں۔

    پاکستان کے عوام مشکل حالات میں بھی پرامید، باوقار اور محنتی ہیں۔ قدرتی آفات جیسے سیلاب یا زلزلے کے وقت پاکستانی قوم نے ہمیشہ اتحاد، ایثار اور یکجہتی کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ عشرہ بدر عشرہ، مشکل لمحوں میں ہلال احمر، الخدمت اور ایدھی فاؤنڈیشن جیسی تنظیمیں انسانیت نوازی میں ہمیشہ آگے رہی ہیں۔

    شانِ پاکستان، اس کے آئینی ادارے، عدلیہ، پارلیمان، آزاد میڈیا، اور باخبر سول سوسائٹی بھی ہیں۔ یہ سب مل کر جمہوریت اور آئین کی سربلندی کے لئے کوشاں ہیں۔

    پاکستان کی مذہبی اور روحانی تاریخ میں صوفیائے کرام، علماء اور مشائخ کی تعلیمات سماجی ہم آہنگی اور بین المسالک اتحاد کی بنیاد ہیں۔ داتا گنج بخش، سرہندی مجدد الف ثانی، شاہ عبدالطیف بھٹائی جیسے بزرگ ہستیاں پاکستان کی روحانی پہچان ہیں۔

    آج کا پاکستان تعلیم، ٹیکنالوجی اور امن کے خواب کے ساتھ اپنی عظمت کے سفر پر گامزن ہے۔ ہر پاکستانی چاہے وہ وطن میں ہو یا بیرون ملک، اپنے ملک کی عزت اور ترقی کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

    آخر میں یہی کہوں گا: پاکستان کی عظمت صرف اس کے رقبے یا آبادی میں نہیں، بلکہ اس کے عوام کی جرات، دانش، حب الوطنی، اصول پسندی اور خدا پر توکل میں ہے۔ ہمارے نوجوان پاکستان کی شان ہیں، آج اور کل بھی۔

    اللہ تعالیٰ پاکستان کو سلامتی، ترقی اور استحکام عطا کرے۔(آمین)

  • شان پاکستان.تحریر: ثناء سجاد

    شان پاکستان.تحریر: ثناء سجاد

    شان پاکستان
    از قلم۔ ثناء سجاد
    پاکستان… ایک ایسا ملک جس کے نام میں ہی برکت چھپی ہے۔ دنیا کے نقشے پر ایک ایسی ریاست جو صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک نظریہ، ایک عقیدہ، اور لاکھوں قربانیوں کی پہچان ہے۔ ہر قوم کو اپنے وطن پر فخر ہوتا ہے، لیکن جو فخر ہمیں پاکستان پر ہے، وہ شاید ہی کسی کو نصیب ہو۔ پاکستان کی مٹی میں جو تاثیر ہے، وہ صرف یہاں کے لوگوں کو محسوس ہو سکتی ہے۔

    یہ ملک کئی آزمائشوں سے گزرا، لیکن اس نے ہر مشکل کو اپنے حوصلے سے شکست دی۔ جہاں قوموں نے ہار مان لی، وہیں پاکستان نے ثابت کیا کہ ہم ایک زندہ، جاندار اور باوقار قوم ہیں۔ یہاں کے لوگ محبت کرنے والے ہیں، قربانی دینے والے ہیں، اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے والے ہیں۔ یہی پاکستان کی اصل شان ہے۔

    دنیا کی بڑی بڑی قومیں اپنے سائنسی کارناموں اور ایجادات پر فخر کرتی ہیں، ہمیں فخر ہے اس قوم پر جو کم وسائل کے باوجود بھی ایٹمی طاقت بنی۔ ہمیں فخر ہے ان ڈاکٹروں، انجینئروں، سپاہیوں، استاتذہ اور نوجوانوں پر جنہوں نے ہر شعبے میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خاموشی سے دن رات ملک کی خدمت کرتے ہیں، اور ان کے چہروں پر کوئی غرور نہیں، صرف محبت ہے… پاکستان سے۔

    پاکستان صرف پہاڑوں، دریاؤں، کھیتوں اور شہروں کا نام نہیں۔ یہ وہ دھڑکن ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں بستی ہے۔ جب قومی ترانہ بجتا ہے تو سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا ہے، جب سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے تو آنکھیں خوشی سے بھیگ جاتی ہیں۔ یہ وہ احساس ہے جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔

    پاکستان کی خوبصورتی اس کے قدرتی حسن میں چھپی ہے، اس کی ثقافت میں، اس کے رہن سہن میں، اس کی زبانوں میں، اس کے کھانوں اور میلوں میں۔ یہاں ہر رنگ اپنا ہے، ہر چہرہ اپنائیت سے بھرا ہوا ہے۔ یہ ملک ہمیں پہچان دیتا ہے، حفاظت دیتا ہے، شناخت دیتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ہم کہاں ہوتے؟ شاید کہیں نہ ہوتے۔

    آج اگر ہم کھل کر سانس لیتے ہیں، تعلیم حاصل کرتے ہیں، اپنے خوابوں کو جیتے ہیں تو یہ سب اسی وطن کی بدولت ہے۔ اس ملک نے ہمیں سب کچھ دیا ہے، اب وقت ہے کہ ہم بھی اس کی حفاظت کریں، اس سے محبت کریں اور اسے سنواریں۔ کیونکہ یہ صرف ہمارا ملک نہیں، یہ ہماری پہچان ہے، ہماری شان ہے۔

    پاکستان ایک امید ہے۔ ایک روشنی ہے۔ ایک ایسی روشنی جو ہر رات کے بعد نئی صبح لے کر آتی ہے۔ ہمیں بس یقین رکھنا ہے، اپنے حصے کی کوشش کرنی ہے اور ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔ تبھی ہم اپنے پاکستان کو مزید خوبصورت، مضبوط اور کامیاب بنا سکتے ہیں۔

    پاکستان صرف ماضی کی عظمت نہیں، پاکستان ایک روشن مستقبل کا وعدہ ہے۔ اور ہم سب اس وعدے کے امین ہیں۔

    پاکستان ہمیشہ سلامت رہے، یہی ہے ہماری اصل شان۔

  • شان پاکستان.تحریر:مریم محمود اقبال

    شان پاکستان.تحریر:مریم محمود اقبال

    شان پاکستان
    از قلم: مریم محمود اقبال
    پاکستان وہ عظیم سرزمین ہے جو دنیا کے نقشے پر 14 اگست 1947 کو ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھری۔ یہ وہ وطن ہے جو لاکھوں قربانیوں، طویل جدوجہد اور بے مثال عزم و استقلال کا نتیجہ ہے۔ پاکستان صرف ایک ملک نہیں، بلکہ ایک نظریہ، ایک خواب اور ایک عہد ہے۔ یہ تحریر "شانِ پاکستان” کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے، تاکہ ہم اپنے ماضی کو یاد رکھ سکیں، حال کو سنوار سکیں اور مستقبل کو روشن بنا سکیں۔ پاکستان کا قیام محض جغرافیائی حدود کے اندر ایک ملک کا بن جانا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک نظریاتی ریاست کے طور پر وجود میں آیا۔ مسلمانوں نے برصغیر میں ایک الگ وطن کے لیے طویل جدوجہد کی۔ تحریکِ پاکستان کا آغاز ایک تاریخی موڑ تھا۔ جس نے لاکھوں دلوں میں آزادی کی چنگاری کو روشن کیا۔ علامہ اقبال کا خواب، قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت، اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں اس عظیم ریاست کے قیام کی بنیاد بنیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا!
    "پاکستان کا مطلب صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، ایک منزل ہے جہاں مسلمان اپنے عقائد، ثقافت اور زندگی گزارنے کے طریقے کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکیں۔”

    پاکستان کی بنیادوں میں وہ خون شامل ہے جو نہتے مسلمانوں نے آزادی کے وقت اپنی جانوں کے نذرانے کے طور پر پیش کیا۔ ہجرت کے دوران جو ظلم، قتل و غارت اور جبر برداشت کیا گیا، وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ لاکھوں افراد نے اپنے گھربار چھوڑے، خواتین کی عصمت دری کی گئی، بچوں کو قتل کیا گیا، لیکن مسلمانوں کا حوصلہ متزلزل نہ ہوا۔ ان قربانیوں کا مقصد صرف ایک تھا: "آزادی”۔ آج جب ہم آزاد فضا میں سانس لیتے ہیں تو ہمیں ان شہداء کو یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے اپنی جانیں دے کر ہمیں آزادی کا تحفہ دیا۔

    پاکستان کی ثقافت اس کی اصل شان ہے۔ یہاں مختلف قوموں، زبانوں، اور ثقافتوں کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتون، کشمیری، سرائیکی، اور دیگر قومیں ایک ہی پرچم تلے متحد ہیں۔ یہ تنوع ہماری طاقت ہے، نہ کہ کمزوری۔پاکستانی موسیقی، لوک رقص، دستکاری، کھانے، اور لباس دنیا بھر میں اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ مہمان نوازی، عزت و احترام، اور مذہبی رواداری پاکستانی معاشرے کی خوبصورت اقدار ہیں۔

    پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ زرعی زمین، معدنیات، دریا، پہاڑ، صحراء اور سمندر وغیرہ یہ سب پاکستان کی معاشی ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔ پاکستان کا محلِ وقوع بھی اسے دنیا کے اہم ترین خطوں میں شامل کرتا ہے۔ چین، بھارت، افغانستان، ایران اور بحیرہ عرب سے متصل ہونا پاکستان کو ایک اقتصادی، دفاعی اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک بناتا ہے۔

    پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین افواج میں شمار کی جاتی ہے۔ ہماری مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں اور ملک میں امن قائم کیا۔ کارگل، سوات، وزیرستان اور دیگر علاقوں میں فوج کی قربانیاں قابلِ فخر ہیں۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہے، جو ہماری خودمختاری اور دفاع کی علامت ہے۔ 28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے ایٹمی تجربے نے دشمنوں کو پیغام دیا کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے۔

    اگرچہ تعلیمی شعبے میں ہمیں ابھی بہتری کی ضرورت ہے، تاہم کچھ کامیابیاں قابلِ ذکر ہیں۔ پاکستان کے سائنسدانوں، انجینئروں، اور ماہرینِ طب نے عالمی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام، جو نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان تھے، اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، ہماری قومی شان ہیں۔ آج بھی پاکستان کے نوجوان اسٹارٹ اپس، آئی ٹی سیکٹر، اور جدید ٹیکنالوجی میں عالمی میدان میں قدم رکھ رہے ہیں۔ یہ تمام تر ترقی ہمارے روشن مستقبل کی امید ہے۔

    پاکستان نے کھیلوں کی دنیا میں بھی اپنا مقام بنایا ہے۔ کرکٹ، ہاکی، اسکواش اور سنوکر میں ہمارے کھلاڑیوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلند کیا۔ عمران خان، جہانگیر خان، وسیم اکرم، اور شوکت علی جیسے سپورٹس ہیروز آج بھی نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ پاکستانی ادب، شاعری، اور فنون لطیفہ عالمی سطح پر مقبول ہیں۔ فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، منٹو، پروین شاکر، اور بانو قدسیہ جیسے ادیبوں اور شاعروں نے پاکستان کو ادبی دنیا میں ممتاز مقام دلایا۔ فلم، ڈرامہ اور موسیقی کے شعبے میں بھی پاکستان نے کئی نئے انداز متعارف کرائے۔ کلاسیکی موسیقی سے لے کر جدید میوزک تک، ہر دور میں پاکستان کے فنکاروں نے دل جیتے ہیں۔

    چیلنجز اور امیدیں پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جیسا کہ معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام، تعلیمی فقدان، اور کرپشن جیسے مسائل ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ لیکن یہ چیلنجز ناقابلِ حل نہیں۔ پاکستانی قوم نے ہر آزمائش میں ثابت کیا ہے کہ وہ ہار ماننے والی نہیں۔سیلاب ہو یا زلزلہ، وبا ہو یا دہشت گردی پاکستانی قوم نے ہمیشہ ایک ہو کر ہر مسئلے کا سامنا کیا۔ یہی اتحاد، قربانی، اور جذبہ پاکستان کی اصل شان ہے۔ شانِ پاکستان کا مستقبل پاکستان کا مستقبل تابناک ہے بشرطیکہ ہم ایمانداری، خلوص، اور اتحاد کو اپنا شعار بنائیں۔ تعلیم، تحقیق، انصاف اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو کر ہم دنیا میں ایک باوقار مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

    نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ علم، کردار اور عمل سے خود کو آراستہ کریں۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے، تو کوئی طاقت پاکستان کو دنیا کی عظیم ترین قوم بننے سے نہیں روک سکتی۔

    اسلامی جمہوریہ پاکستان جنوبی ایشیا کے شمال مغرب وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا میں واقع ایک خودمختار اسلامی ریاست ہے۔ 20 کروڑ کی آبادی پر مشتمل یہ دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک ہے۔ پاکستان کا نام چودھری رحمت علی نے 1933ء میں تجویز کیا اور اس کے قیام کا اعلان 3 جون 1947ء کو ہوا۔ 1947ء سے لے کر 1948ء تک پاکستان کو بڑی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ قدیم زمانے میں اس کے علاقے آریا، ہن، ایرانی، یونانی، عرب، ترک، منگول وغیرہ لوگوں کی ریاستوں میں شامل رہا ہے۔
    پاکستان زندہ باد
    پاکستان تابندہ باد

  • شانِ پاکستان.تحریر ۔ حافظ حمزہ سلمانی

    شانِ پاکستان.تحریر ۔ حافظ حمزہ سلمانی

    شانِ پاکستان
    تحریر ۔ حافظ حمزہ سلمانی
    پاکستان صرف ایک ملک کا نام نہیں، بلکہ ایک عقیدہ، ایک نظریہ، اور ایک عظیم خواب کی تعبیر ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جو قربانیوں کی لازوال داستانوں سے وجود میں آئی، جہاں ہر اینٹ، ہر ذرہ، ہر پرچم کا رنگ، قوم کی عظمت، غیرت اور حمیت کی گواہی دیتا ہے۔ "شانِ پاکستان” کہنا گویا ان تمام خوبیوں اور قدروں کا مجموعہ ہے جو اس وطنِ عزیز کو دنیا میں ممتاز بناتی ہیں۔

    پاکستان کی شان اُس وقت ابھری جب برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ ریاست کا خواب دیکھا، جہاں وہ اپنے دین، ثقافت، تہذیب، اور روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اس خواب کو تعبیر دینے کے لیے علامہ اقبالؒ نے فکری رہنمائی دی اور قائداعظم محمد علی جناحؒ نے حکمت، عزم، اور تدبر سے اُسے عملی شکل دی۔ لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر یہ سرزمین حاصل کی، اور یوں پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک ایسی نظریاتی ریاست کے طور پر ابھرا جو اسلام کے اصولوں پر مبنی تھی۔

    شانِ پاکستان اس کی بے مثال ثقافت، دلکش مناظر، شاندار ورثے، اور غیور عوام میں بھی جھلکتی ہے۔ چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے رنگ، رسم و رواج، اور روایات مل کر ایک ایسی حسین تصویر بناتے ہیں جس پر ہر پاکستانی کو ناز ہے۔ پنجابیوں کی گرمجوشی، سندھیوں کی مہمان نوازی، بلوچوں کی غیرت، پختونوں کی بہادری، کشمیریوں کی وفایہ سب پاکستان کی خوبصورتی اور شان کا مظہر ہیں۔

    پاکستان کی زبان، ادب، اور فنون لطیفہ بھی اس کی شان کے امین ہیں۔ اردو ادب نے شاعری، افسانہ، تنقید، اور نثر میں جو بلند مقام حاصل کیا، وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، منیر نیازی، اور پروین شاکر جیسے شعرا نے پاکستان کے جذبات، درد، خواب اور امیدوں کو اپنے اشعار میں سمویا۔

    فیض احمد فیضؔ نے کہا تھا:
    "نکلے ہیں عزم لے کے ہم اہلِ وفا کی بزم سے
    تارے بھی توڑ لائیں گے، گل بھی کھلا کے چھوڑیں گے”

    یہ اشعار اس یقین کو ظاہر کرتے ہیں جو قوم کی شان اور قوتِ ارادی کی علامت ہے۔

    پاکستان کی فوج، اس کی سیکیورٹی ایجنسیاں، اور محنتی عوام بھی شانِ پاکستان کا اہم حصہ ہیں۔ ہماری افواج نے نہ صرف جنگوں میں جرات مندی سے دشمن کا مقابلہ کیا بلکہ امن کے وقت بھی زلزلوں، سیلابوں اور دیگر آفات میں قوم کے لیے سینہ سپر ہوئیں۔

    محسن نقویؔ نے اس جذبے کو خوبصورت انداز میں کہا:
    "یہ جو سرحد پہ کھڑے ہیں، یہ تمھارے جیسے ہیں
    فرق بس اتنا ہے کہ یہ جاگتے رہتے ہیں”

    پاکستان کی شان اُس وقت اور بھی نمایاں ہوتی ہے جب ہم اپنے قومی پرچم کی جانب دیکھتے ہیںسبز رنگ مسلمانوں کی اکثریت کی نمائندگی کرتا ہے اور سفید رنگ اقلیتوں کے احترام کا اعلان ہے۔ ستارہ اور ہلال ترقی و روشنی کا استعارہ ہیں۔ یہ پرچم ہماری وحدت، ایمان، اور قربانی کی روشن علامت ہے۔

    پاکستان کی ترقی بھی اس کی شان ہے۔ ایٹمی طاقت بننا، اقوامِ متحدہ میں ایک باوقار آواز رکھنا، دنیا بھر میں پاکستانیوں کی کامیابی، یہ سب ثابت کرتے ہیں کہ ہم ایک باصلاحیت قوم ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے لے کر ارفع کریم تک، عبدالستار ایدھی سے ملالہ یوسفزئی تک، پاکستانیوں نے ہر شعبے میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔

    ہمارے کسان، مزدور، طالب علم، اساتذہ، اور سائنسدان، سب پاکستان کی بنیاد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    احمد ندیم قاسمیؔ نے کہا:
    "نئی منزل کے خواب آنکھوں میں
    نئی نسلوں کے پاس ہوتے ہیں”

    یہ نسلیں ہی پاکستان کی حقیقی شان اور روشن مستقبل کی ضامن ہیں۔
    شانِ پاکستان کا ایک اور پہلو اس کی اسلامی شناخت ہے۔ ہمارا آئین، ہمارے ادارے، اور ہماری تربیت اسلام کے اصولوں پر استوار ہے۔ عدل، مساوات، اخوت، اور دیانت،یہ وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط قوم کھڑی کی جا سکتی ہے۔

    ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شانِ پاکستان صرف حکومتی کارکردگی یا فوجی طاقت سے نہیں، بلکہ عوام کے کردار، اتحاد، دیانت، اور حب الوطنی سے وابستہ ہے۔ اگر ہم ہر فرد کو باعزت زندگی دیں، تعلیم، صحت، انصاف مہیا کریں، اور قوم کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں تو پاکستان کی شان مزید بلند ہوگی۔

    آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کی شان ہم سب سے وابستہ ہے۔ یہ ملک ہمارے آبا و اجداد کی قربانیوں کا ثمر ہے، اور اس کی حفاظت، تعمیر، اور ترقی ہماری اولین ذمہ داری ہے۔

    "یہ وطن تمھارا ہے، تم ہو پاسبان اس کے
    یہ چمن تمھارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے”

    فاطمیؔ

    اللہ کرے پاکستان ہمیشہ سلامت رہے، ترقی کرے، اور دنیا کے نقشے پر ایک باعزت، پرامن، اور خوشحال ملک کے طور پر پہچانا جائے۔

    پاکستان زندہ باد!
    شانِ پاکستان پائندہ باد!

  • شان پاکستان.تحریر:شاہد نسیم چوہدری فیصل آباد

    شان پاکستان
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری فیصل آباد
    "یار، یہ پرانے لوگ بھی ناں بس ہر وقت پاکستان، قربانی، حب الوطنی۔۔۔ کوئی اور بات ہی نہیں!”
    احمد نے بے زاری سے کہا اور موبائل کی سکرین پر انگلیاں چلانے لگا۔
    وہ ایک مشہور پرائیویٹ یونیورسٹی کا طالبعلم تھا، جس کے دن انسٹاگرام اور راتیں نیٹ فلکس پر گزرتی تھیں۔ سوشل میڈیا پر اس کی پروفائل تصویروں سے بھری ہوئی تھی — برگر، کافی، جم، اور ایک دو سیلفیاں پاکستان کے پرچم کے ساتھ… لیکن صرف 14 اگست کو۔
    احمد کے والد ایک بڑے بزنس مین تھے۔ ملک، قوم، یا تاریخ سے اسے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی۔ آزادی، جدوجہد، اور قربانی جیسے الفاظ اس کے لیے صرف اسکول کے نصاب کا بوجھ تھے۔

    ایک دن، 13 اگست کی شام، یونیورسٹی سے واپسی پر اس کی گاڑی خراب ہو گئی۔ قریب ہی ایک چائے والا ہوٹل نظر آیا، جس پر پرچموں کی قطاریں لگی تھیں اور ایک بورڈ پر لکھا تھا:
    "شانِ پاکستان: 1947 کے سپاہی کی زبانی
    رات 9 بجے، داخلہ مفت!”
    احمد نے چونک کر دیکھا۔”مزیدار چائے، اوپر سے مفت ڈرامہ… چل احمد، بوریت ختم کر!”
    رات کو جب احمد مقررہ جگہ پہنچ کر اندر داخل ہوا تو ایک چھوٹا سا کمرہ دکھائی دیا۔ کچھ بینچیں، دو تین دیواروں پر پاکستان کی تصاویر، اور سامنے ایک سادہ سی میز۔ چند لوگ بیٹھے تھے — زیادہ تر بزرگ۔
    پھر ایک دبلا پتلا بوڑھا آدمی اسٹیج پر آیا۔ سفید شلوار قمیص، کندھے پر چادر، اور سینے پر ایک تمغہ۔

    "السلام علیکم! میرا نام بابا رشید ہے۔ 1947 میں ، میں نے سرحد پار کی۔ میری عمر اُس وقت تیرہ برس تھی، مگر میری آنکھوں میں جو تصویریں قید ہیں، وہ آج تک دھندلائی نہیں…”
    احمد کی آنکھیں موبائل پر تھیں، لیکن کانوں میں بوڑھے کی آواز آہستہ آہستہ گھسنے لگی۔
    "ہم نے پاکستان مانگا تھا، خدا سے۔ مگر خدا نے اسے یوں نہ دیا جیسے عیدی ملتی ہے۔ ہمیں اس کے بدلے اپنی بہنوں کے دوپٹے، ماؤں کے سہاگ، اور بچوں کی معصوم لاشیں دینی پڑیں۔”
    کمرے میں سناٹا چھا گیا۔
    "میں نے اپنی ماں کو کٹتے دیکھا۔ ہم قافلے کے ساتھ تھے۔ وہ پچھلی طرف رہ گئی تھی۔ جب میں واپس بھاگا… ایک سکھ کی تلوار میرے سامنے چمکی۔ میں چیخا۔ اور وہ رُک گیا۔ بولا: بھاگ جا بچے، ورنہ تُو بھی…”
    بوڑھا کانپنے لگا۔
    "میں بھاگ آیا، ماں کو چھوڑ کر، پاکستان کی طرف۔ مگر آج تک اُس ماں کی چیخیں میرے خواب میں آتی ہیں۔ اور جب کبھی کوئی جوان مجھ سے کہتا ہے کہ ‘پاکستان نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟’… تو میرے دل سے آواز آتی ہے — سب کچھ دیا، بیٹے، سب کچھ۔”

    تیسرا منظر: موبائل بند ہو گیا
    احمد نے موبائل کی طرف دیکھا — بیٹری ختم ہو چکی تھی۔ اب وہ مجبور تھا کہ بات سنے… اور اب وہ سننا چاہتا بھی تھا۔
    بابا رشید کی آواز اب رندھ چکی تھی:
    "پھر وقت گزرتا گیا۔ میں جوان ہوا۔ 1965 کی جنگ لڑی۔ میں نے لاہور کے محاذ پر بارودی سرنگیں بچھائیں۔ میرے ساتھ والے دو جوان شہید ہوئے۔ ایک کی لاش کو میں نے خود دفنایا۔ لیکن سوال یہ ہے…”
    انہوں نے مجمع کی طرف دیکھا۔
    "یہ پاکستان، جو ہمارے لہو سے سیراب ہوا… کیا آج بھی اتنا ہی قیمتی ہے جتنا ہم نے اسے جان دے کر سمجھا تھا؟”
    مجمع خاموش تھا۔
    "کیا ہم نے اسے صرف جھنڈے لہرانے، پٹاخے چلانے، اور سیلفیاں لینے کے لیے حاصل کیا؟”
    بوڑھے کی آنکھیں اب احمد کی آنکھوں سے ٹکرائیں۔ اور احمد کی نظریں جھک گئیں۔

    چوتھا منظر: ایک سوال، ایک جواب
    پروگرام ختم ہو چکا تھا۔ احمد نے باہر آ کر ایک سگریٹ سلگانا چاہی، لیکن ہاتھ کانپنے لگے۔
    "بابا جی…”
    بابا رشید پیچھے مڑے۔
    "جی بیٹا؟”
    "میں نے کبھی ان قربانیوں کو اس زاویے سے نہیں دیکھا تھا۔ مجھے لگتا تھا یہ سب پرانی باتیں ہیں، نصاب کا بوجھ…”
    بابا جی مسکرائے۔
    "بیٹا، تاریخ اگر صرف کتابوں میں رہ جائے تو قومیں اندھی ہو جاتی ہیں۔ پاکستان کتاب نہیں، ایک خون کی تحریر ہے۔”
    "تو پھر ہم کیا کریں؟ ہم نئی نسل…؟”
    بابا جی نے احمد کے کندھے پر ہاتھ رکھا:
    "تم سچ بولو، محنت کرو، وطن سے محبت کرو… یہ کافی ہے۔”
    "لیکن ہم نے تو سچ بولنا چھوڑ دیا ہے، بابا جی…”
    "پھر دوبارہ سیکھ لو، بیٹا۔ یہی شانِ پاکستان ہے!”

    نئی صبح
    اگلی صبح احمد نے انسٹاگرام پر اپنی پروفائل پکچر بدلی — ایک سادہ تصویر، سفید قمیص، ہاتھ میں پرچم، اور کیپشن:
    "شانِ پاکستان اُن بزرگوں کی آنکھوں میں ہے جنہوں نے یہ خواب دیکھا تھا۔ اور میرے جیسے نوجوانوں میں جو اب جاگ رہے ہیں!”
    اس تصویر پر لائکس تو کم آئے، مگر بابا رشید کا فون آیا:
    "بیٹا، کل رات تم نے کہا تھا کہ تم کچھ کرنا چاہتے ہو؟”
    "جی بابا جی!”
    "تو آؤ، ہمارے فلاحی ادارے میں شام کو بچوں کو پڑھانا شروع کرو۔ یہی شانِ پاکستان ہے!”
    "شانِ پاکستان” صرف پرچم لہرانا یا ترانے بجانا نہیں…
    یہ سمجھنا ہے کہ
    جنہوں نے ہمیں یہ وطن دیا، وہ کون تھے…
    اور
    ہم اسے کس حال میں لے جا رہے ہیں۔
    اگر آج کا نوجوان، اپنا آپ پہچان لے،
    تو سمجھ لو پاکستان کی شان سلامت ہے۔۔۔۔۔۔، اور یہی "شان پاکستان” ہے ۔۔۔۔۔،

    *پاکستان زندہ باد! قلم سلامت!

  • شانِ پاکستان.تحریر: فیضان عباس الحسینی

    شانِ پاکستان.تحریر: فیضان عباس الحسینی

    شانِ پاکستان
    تحریر: فیضان عباس الحسینی
    پاکستان ایک نظریہ ہے، ایک خواب ہے، ایک قربانیوں سے سجی داستانِ حریت ہے۔ اس کی شان نہ صرف جغرافیہ میں پوشیدہ ہے، بلکہ اس کی روح اس عقیدے، اس تصور، اور اس عظمت میں پنہاں ہے جس کی خاطر برصغیر کے مسلمانوں نے تاریخ کے صفحات پر اپنے لہو سے ایک نئی سطر لکھی۔ "شانِ پاکستان” فقط ایک نعرہ نہیں، یہ ایک عہد ہے، ایک جدوجہد ہے، اور ایک نظریاتی ورثہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔

    تاریخی پس منظر: نظریہ سے ریاست تک
    برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ جب ظلم، جبر اور اکثریتی استبداد سے لبریز ہونے لگی، تب ایک مردِ درویش، علامہ محمد اقبالؒ نے اس تاریکی میں اجالا بکھیرنے کی تمنا کی۔ 1930ء میں اپنے خطبۂ الٰہ آباد میں انہوں نے ایک الگ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا، جو نہ صرف جغرافیائی طور پر جدا ہو بلکہ دینی و تہذیبی اساسات پر قائم ہو۔

    اس خواب کو حقیقت کا جامہ قائدِاعظم محمد علی جناحؒ نے پہنایا، جنہوں نے انتھک محنت، بے مثال قیادت، اور آئینی جدوجہد کے ذریعے ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ ان کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ نے 23 مارچ 1940ء کو قراردادِ لاہور منظور کی، جو بعد ازاں قراردادِ پاکستان کہلائی اور یہی وہ دن تھا جب پاکستان کا تصور ایک واضح اور متعین ہدف بن گیا۔

    1947ء میں جب 14 اگست کی رات ہوئی تو صرف سرحدیں نہ بدلیں، نسلوں کی تقدیریں بدل گئیں۔ لاکھوں جانیں قربان ہوئیں، ہزاروں مائیں بیٹے ہاریں، لیکن اُس خون سے ایک نئی صبح نے جنم لیا ، وہ صبح جس کا نام تھا پاکستان۔

    شانِ پاکستان: نظریاتی و فکری پہلو
    پاکستان محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ "لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کی بنیاد پر حاصل کی گئی ریاست ہے۔ اس کی شان اُس وحدانیت پر قائم ہے جو تمام مسلمانوں کو ایک لڑی میں پروتی ہے۔ یہ ملک اُس نظریاتی تشخص کا محافظ ہے جو صدیوں پر محیط اسلامی تہذیب، ثقافت اور تمدن کی آئینہ دار ہے۔

    پاکستان کی شان اُس وقت اور نکھرتی ہے جب ہم اس ریاست کو دینِ اسلام کے عدل، مساوات، علم، اور اخوت کے اصولوں پر استوار کرتے ہیں۔ یہ ملک فقط مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ اقلیتوں کو بھی وہی حقوق عطا کرتا ہے جو اسلامی تعلیمات کا جوہر ہیں۔

    شانِ پاکستان: قربانیوں کی داستان
    پاکستان کی تخلیق کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ یہ تاریخ کا وہ طوفان تھا جس میں انسانیت کا ایک حصہ ڈوب گیا اور ایک حصہ ایمان کی کشتی میں سوار ہو کر پار اترا۔ ہجرت کے وہ مناظر، ریل گاڑیوں کے لاشوں سے بھرے ڈبے، اجڑی بستیاں، لٹے قافلے، یہ سب پاکستان کی شان کے استعارے ہیں۔ یہ قربانیاں ہمارے قومی تشخص کی بنیادیں ہیں، اور ان کا احترام ہر پاکستانی کا دینی، اخلاقی اور قومی فریضہ ہے۔

    شانِ پاکستان: تعمیر و ترقی میں عوام کا کردار
    پاکستان کی اصل شان اُس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اس کے عوام اپنے اپنے دائرہ کار میں خلوص، محنت، دیانت، اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایک کسان جب زمین کو ہل چلاتا ہے، ایک سپاہی جب سرحد پر جاگتا ہے، ایک استاد جب نسلوں کو علم و حکمت سے سیراب کرتا ہے، ایک سائنسدان جب نئی ایجادات کے خواب بُنتا ہے، سب دراصل "شانِ پاکستان” کو تقویت دے رہے ہوتے ہیں۔

    یہ ملک اُن شہداء کی جاگیر ہے جنہوں نے 1965ء، 1971ء، اور کارگل کی جنگوں میں اپنے لہو سے دشمن کو بتایا کہ ہم نہ صرف زندہ قوم ہیں بلکہ غیرت مند اور حوصلہ مند قوم ہیں۔ پاکستان کی فوج، اس کے غیور عوام، اور اس کی پرعزم مائیں اس ملک کا اصل چہرہ ہیں، جو ہر آندھی میں چراغ کی مانند روشن رہتا ہے۔

    شانِ پاکستان: علم و ادب میں
    پاکستان کی شان اس کی علمی، ادبی، اور فکری روایات میں بھی نمایاں ہے۔ یہاں فیض، منٹو، جالب، اور اقبال جیسے نابغہ روزگار افراد پیدا ہوئے جنہوں نے قلم کے ذریعے آزادی، خودی، اور حق گوئی کی شمع جلائی۔ آج کا نوجوان جب قلم اُٹھاتا ہے، وہ دراصل پاکستان کی اس فکری میراث کو آگے بڑھا رہا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تعلیم کو اپنا ہتھیار بنائیں اور علم کے ذریعے دنیا کو دکھائیں کہ پاکستان ایک ذی شعور، ذی فہم، اور امن پسند قوم کا گہوارہ ہے۔

    شانِ پاکستان: اقوامِ عالم میں مقام
    پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے۔ یہ کارنامہ اس قوم کی غیرت، عزم، اور بے پناہ صلاحیت کا غماز ہے۔ پاکستان نے عالمی امن، اقوامِ متحدہ کی امن مشنوں، اور بین الاقوامی تعاون میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا۔ ہماری ثقافت، فن، موسیقی، قوالی، ہنر، اور میزبانی دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔
    یہی "شانِ پاکستان” ہے کہ دنیا ہمیں ایک باوقار، خوددار، اور مہذب قوم کی حیثیت سے جانے۔

    نتیجہ: ہم کیا کر سکتے ہیں؟
    ہمیں چاہیے کہ ہم "شانِ پاکستان” کو محض تقریر اور تحریر تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے اپنے کردار، عزم، اور عمل سے ثابت کریں۔ہمیں جھوٹ، بددیانتی، فرقہ واریت، اور قومی املاک کی تباہی کو ترک کرنا ہوگا۔ہمیں اپنے اداروں، اپنے اساتذہ، اپنے بزرگوں، اور اپنی اقدار کا احترام کرنا ہوگا۔
    تب جا کر یہ ملک نہ صرف زمین پر بلکہ دلوں میں بھی بسے گا۔

    پاکستان ایک نعمت ہے، اور اس نعمت کی شکرگزاری صرف یومِ آزادی کے نعرے نہیں، بلکہ روزمرّہ کی دیانت دارانہ زندگی میں ہے۔

    پاکستان کی شان آپ ہیں، ہم ہیں، ہمارا کردار ہے۔
    آئیے! ہم سب مل کر اپنے عظیم وطن کی شان کو ایسا تابندہ کریں کہ اقوامِ عالم رشک کریں۔

    پاکستان پائندہ باد، پاکستان زندہ باد۔