Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • شانِ پاکستان.تحریر۔بنتِ حوا

    شانِ پاکستان.تحریر۔بنتِ حوا

    شانِ پاکستان
    تحریر۔بنتِ حوا
    ایک عقیدت بھرا سلام، اس پاک سرزمین کے نام!
    پاکستان، صرف ایک ملک نہیں…
    یہ ایک دعاؤں کی قبولیت ہے، ایک شہادتوں کی روشنی ہے، ایک عزمِ فولادی، ایک وعدہ ربانی ہے۔
    یہ وہ سرزمین ہے جس کے خمیر میں کلمہ توحید شامل ہے۔
    یہ وہ خطہ ہے جسے خدا نے نہریں، پہاڑ، دریا، کھیت، معدنیات، غیرت مند قوم، اور ایٹمی طاقت سے نوازا۔

    یہ چمن یونہی رہے گا قائم و دائم، ان شاءاللہ
    خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
    (حفیظ جالندھری)

    یہ ملک کسی سازشی میز پر بیٹھ کر نہیں بنا،یہ کربلا کی یاد تازہ کرتے ہوئے، ہجرت کی تکلیفیں جھیل کر، ماؤں، بہنوں، بچوں اور بزرگوں کی قربانیوں کے بدلے میں ملا۔یہ وہ وطن ہے جس کے لیے قائداعظم محمد علی جناح نے بیماری میں بھی آرام نہ کیااور علامہ اقبال نے جو تصور خواب میں دیکھا، اسے فکر، فلسفہ اور اشعار سے جلا بخشی۔

    ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
    ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

    (اقبال)

    پاکستان کی مسلح افواج ہماری غیرت کی دیوار، امن کی ضمانت اور خوفِ دشمن کی بنیاد ہیں۔کارگل ہو یا سوات، سیلاب ہو یا زلزلہ، یہ بیٹے ہمیشہ سب سے آگے رہے۔جب پاک فوج چلتی ہے، تو پہاڑ جھکتے ہیں، دشمن کانپتے ہیں،اور پوری قوم کا دل فخر سے بھر جاتا ہے۔

    خون اپنا ہو یا پرایا ہو
    نسلِ آدم کا خون ہے آخر

    (فیض احمد فیض)

    پاکستان کی سرزمین اتنی زرخیز ہے کہ اگر سچائی سے کاشت کی جائے، تو سونا اگلے۔پنجاب کے کھیت، سندھ کی نہریں، بلوچستان کے خزانے، خیبر پختونخواہ کی پہاڑیاں اور گلگت کی وادیاں سب مل کر پاکستان کا حسن ہیں۔

    خدا کے فضل سے یہ سرزمین ہے بڑی پیاری
    یہی ہے میری جنت، یہی میری عطا ساری

    پاکستان کا ادب، شاعری، موسیقی، مصوری ، سب کچھ ایک ایسی روح ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔
    فیض، جالب، پروین شاکر، بانو قدسیہ، نصرت فتح علی خان، مہدی حسن . ان سب کا فن، پاکستان کی پہچان ہے۔

    دل دل پاکستان، جان جان پاکستان
    میرے ہوش و خرد کی پہچان پاکستان

    پاکستان کی اصل "شان” اُس کے نوجوان ہیں، وہ نوجوان جو سافٹ ویئر انجینئر بھی ہیں، فوجی کیڈٹ بھی، ڈاکٹر بھی، کھلاڑی بھی اور شاعر بھی۔
    یہی وہ نسل ہے جو سائنس، ٹیکنالوجی، فنون اور ادب میں پاکستان کا جھنڈا دنیا بھر میں بلند کر رہی ہے۔

    نہیں ہے نا اُمیدی، کفر ہے نا اُمیدی
    نہیں اپنی فطرت میں، کمزوری و زاری

    (اقبال)

    پاکستان ایٹمی طاقت، خودمختار اور باوقار ملک ہے۔28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑ گرجے، اور دنیا نے دیکھا کہ پاکستان صرف محبت کا علمبردار ہی نہیں، بلکہ اپنے دفاع کا ضامن بھی ہے۔ہم امن چاہتے ہیں، لیکن غلامی ہرگز قبول نہیں۔

    ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں
    ہم سب کی ہے پہچان، پاکستان

    یہ ملک صرف مسلمانوں کا نہیں، اقلیتوں کا پاکستان بھی ہے۔پاکستان صرف مسلمانوں کا وطن نہیں، بلکہ یہ ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی، سب کے لیے برابر کا گھر ہے۔یہاں مندر بھی ہیں، گرجا بھی، گردوارے بھی اور مسجدیں بھی .سب ساتھ سانس لیتے ہیں۔

    یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
    (حبیب جالب)

    آج اگرچہ مسائل ہیں، مہنگائی ہے، بدعنوانی ہے، لیکن یہ سب عارضی ہے۔جس قوم نے صفر سے ملک بنایا، جو قوم سروں پر کفن باندھ کر جنگیں لڑی، وہ قوم ان چیلنجز سے بھی نکلے گی۔

    اے ارضِ وطن، ہم تجھے سنواریں گے
    دھو لیں گے تیرے داغ، تجھے چمکائیں گے

    پاکستان… ہمارا فخر، ہماری جان ہے
    شانِ پاکستان صرف فوج، ثقافت، یا ایٹم بم نہیں … بلکہ ہر پاکستانی کا کردار، سچائی سے کمائی گئی روٹی، نماز میں اُٹھنے والے ہاتھوں کی دعا اور قربانیوں کی خوشبو ہے۔

    آئیے آج تجدیدِ عہد کریں:

    ہم پاکستان کو صرف وطن نہیں، امانت سمجھیں گے۔ہم نفرت نہیں، محبت بانٹیں گے۔ہم زبان، نسل، فرقے کے بجائے، قوم اور انسانیت کو ترجیح دیں گے۔اور سب سے بڑھ کر، ہم پاکستان کو فخر کا مقام دلائیں گے۔

    چاند میری زمیں، پھول میرا وطن
    میرے خوابوں کا گلشن، یہی ہے وطن
    میرے نغموں کی چاہت، یہی سرزمین
    میری جنت، میرا عشق، میرا پاکستان!

    پاکستان زندہ باد، پائندہ باد!

  • شانِ پاکستان.تحریر:کشور آپی

    شانِ پاکستان
    تحریر:کشور آپی
    "مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی”
    دل موہ لینے والی آواز ریشماں.. کیا کہنے ہیں اس کے۔ درد بھرا ہوا ہے اس کی آواز میں۔ جو کلام بھی پڑھتی ہے، اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔ لہجہ سادہ، سچا، ایسا لگتا ہے جیسے اس کا کلام کہیں دیہات میں بیٹھ کر سن رہے ہوں۔

    عامر کو تو جیسے ریشماں کے کلام کی عادت ہوگئی تھی۔ صبح سویرے اٹھنا، نماز پڑھنا، واک پر جانا اور ساتھ میں موبائل پر ریشماں کے گیت بلیوٹوتھ کے ذریعے سننا۔ یونیورسٹی میں بھی چپ چاپ رہنا۔
    "کیا مسئلہ ہے یار؟” اکثر میں پوچھتا، اور وہ چپ کر جاتا۔ ایک دن وہ پھٹ پڑا۔ کہنے لگا:
    "زاہد! تمہارے گھر میں کون کون ہیں؟”

    میں نے کہاکہ "تم نے یہ کیا سوال کر دیا؟ کون کون ہیں؟ ظاہر ہے بھئی ابو، امی، بہن، بھائی، اور کون ہوتا؟ میری شادی ہو جاتی تو تمہاری بھابھی بھی ہوتی، مگر ابھی تو میں سنگل ہوں۔”

    عامر بولا: "زاہد! میرے گھر میں میری امی نہیں ہیں۔ وہ فوت ہوگئی ہیں۔”
    زاہد بولا: "بھائی، معاف کر دو، مجھے پتہ نہیں تھا۔ تمہاری امی کب فوت ہوئیں؟”

    عامر نے افسردہ ہو کر کہاکہ "میں تقریباً دو سال کا تھا جب میری امی کا انتقال ہو گیا تھا۔ تم جب یونیورسٹی جاتے ہو تو تمہاری امی تمہیں ناشتے کے لیے آوازیں دے رہی ہوتی ہیں۔ تب مجھے اپنی امی بہت یاد آتی ہیں، کہ اگر وہ زندہ ہوتیں تو مجھے بھی اسی طرح آوازیں دیتیں۔” عامر بچوں کی طرح رونے لگ گیا۔

    زاہد کو اب سمجھ آئی کہ آخر عامر کیوں ریشماں کا یہ گیت بار بار سنتا ہے۔
    زاہد نے عامر سے پوچھا کہ کیا اس کے ابو نے دوسری شادی نہیں کی؟

    وہ بولا: "کی ہے یار، بھلا کون اتنے عرصے تک اکیلا رہ سکتا ہے۔ میری دوسری امی ہیں مگر ان کا سلوک میرے ساتھ اچھا نہیں ہے۔ سارا دن مجھ سے گھر کے کام کرواتی رہتی ہیں، ابو سے شکایتیں لگاتی ہیں کہ میں ان سے صحیح طرح سے بات نہیں کرتا، ان کا کہنا نہیں مانتا اور یہیں پر بس نہیں کرتیں، مجھے ابو سے پٹواتی ہیں۔”

    زاہد بولا: "یار دنیا میں غم بھرے پڑے ہیں۔ کسی کے پاس کھانے کو روٹی نہیں ہے، کسی کے پاس چھت نہیں ہے، کسی کے پاس سب کچھ ہے لیکن وہ کسی کو برداشت نہیں کرتا۔ یہی تمہاری سوتیلی ماں کا حال ہے۔ وہ بیوہ ہو کر آئی ہے مگر اسے تمہاری قدر نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں تم ایک نیک لڑکے ہو۔ دنیا میں ایک سے ایک عیاش، بدتمیز انسان ہے، مگر تم پانچ وقت کے نمازی اور اپنی پڑھائی کرنے والے انسان ہو۔ کیسے وہ یہ سب کر لیتی ہے؟ کیا اس کا ضمیر مر گیا ہے؟ وہ ایک بن ماں کے بچے کے ساتھ یہ ظلم کر رہی ہے۔ خدا اسے ہدایت دے اور اس کے دل میں تمہارے لیے رحم ڈالے۔”

    عامر ایک دن زاہد سے ملنے آیا تو عامر کی امی (سوتیلی) نے پردے کی اوٹ سے کہہ دیا کہ "بیٹا وہ نہیں ہے، گھر کا سودا لینے گیا ہے، آ جائے گا تو بتا دوں گی۔” عامر اس دن پھوٹ پھوٹ کر رویا کہ اگر میری ماں ہوتی تو وہ بھی مجھے "بیٹا” کہتی۔

    زاہد عامر کے گھر گیا۔ جیسے ہی بیل بجائی، عامر نکل کے باہر آ گیا۔ عامر کی آنکھیں رو رو کر سوج گئی تھیں۔ زاہد نے پوچھا تو بتایا کہ "آنکھ میں کچھ گر گیا تھا۔”

    عید آئی تو عامر عید پڑھنے کے بعد گھر آیا اور سویاں کھا کر سو گیا۔ اسی گلی میں اس کے ماموں رہتے تھے۔ عامر کی والدہ کے فوت ہو جانے کے بعد وہ کبھی ان کے گھر نہیں آئے تھے۔ جب عامر کا دل کرتا تو وہ اپنے ماموں کے گھر چلا جاتا، ماموں کے بچوں سے کھیل کر واپس آ جاتا۔ اس کی ممانی بہت اچھی تھیں۔ وہ عامر کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھتیں، کھانا کھلاتیں اور پیسے دیتیں تاکہ وہ اپنی من پسند چیز کھا لے۔

    عامر کے ابو کا کلینک تھا اور وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے۔ وہ جو بھی جیب خرچ عامر کو دینے کے لیے اپنی بیوی کو دیتے، وہ اپنے پاس رکھ لیتی اور عامر کو کچھ نہ دیتی۔

    زاہد اس کے گھر کے حالات سن سن کر پریشان ہوتا، مگر صبر کے سوا چارہ نہ تھا۔

    زاہد، عامر اور یونیورسٹی کے لڑکوں نے ٹرپ پر جانے کا فیصلہ کیا تو عامر نے کہاکہ "یار میں تو پڑھائی کرنا چاہتا ہوں، تم لوگ ہو آؤ۔ فی الحال میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔” زاہد کو پتہ تھا کہ آخر یہ کیوں جانے سے انکار کر رہا ہے۔ زاہد نے عامر کے ابو سے اجازت لی اور عامر کو بھی اپنے ساتھ لے گیا۔

    سوات جا کر عامر بہت خوش ہوا کیونکہ وہ جب چھوٹا تھا تو اس کے ابو اسے پارک یا جھیل پر لے جاتے تھے، لیکن اب تو سب اسے خواب لگنے لگا تھا۔

    سوات میں اس نے خوب مزے کیے۔ جھیل، آبشاریں، جھرنے اور مخملیں فرش جیسے راستے اور موسم خوشگوار ، کبھی ہلکی ہلکی بوندا باندی اور کبھی بارش۔ ہوٹل سیاحوں سے بھرے پڑے تھے۔ گرمی سے بلکتے انسان خوشگوار موسم کی تلاش میں یہاں کا رخ کرتے ہیں اور کچھ دن گزارنے کے بعد اپنے اپنے شہروں کا رخ کرتے ہیں اور حسین یادیں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ زاہد اور عامر نے بھی کئی ویڈیوز اور تصاویر بنائیں اور خوب لطف اندوز ہوئے۔ زاہد اور عامر کا گروپ بھی ایک ہفتہ گزارنے کے بعد اپنے شہر روانہ ہوگیا۔

    عامر پہلے سے بہتر لگ رہا تھا۔ اب وہ اپنی سوتیلی امی کی باتوں کو نظر انداز کرنے لگا اور خوش رہنے لگا۔ زاہد کو بھی اسے اس طرح دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔

    زاہد اب ہر چوتھے یا پانچویں ماہ سیر کا پروگرام بناتا اور عامر کے ابو سے اجازت لے کر عامر کو بھی اپنے ساتھ لے جاتا۔ اسے دکھ صرف یہی تھا کہ اس کی سوتیلی ماں اس سے اچھا سلوک نہیں کرتی تھی اور عامر کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ وہ ہنسنا بھول گیا تھا اور ہر وقت افسردہ رہنے لگا تھا۔

    سیر پر جانے سے عامر کی حالت تبدیل ہو گئی اور وہ خوش خوش رہنے لگا۔ یونیورسٹی میں عامر اور زاہد کا آخری سال تھا، مگر ان کی دوستی اب بھی ویسی ہی ہے جیسی پہلے دن تھی۔

    یہی ہمارے ملک کی شان ہے کہ کوئی بھی ایک دوسرے کو اکیلا نہیں چھوڑتا، ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلتا ہے اور مل جل کر ایک دوسرے کے زخموں پر مرہم رکھتا ہے۔ اللہ ہمارے ملک کو شاد و آباد رکھے اور سب کو پیار اور محبت سے رہنے کی توفیق دے۔
    آمین ثم آمین۔

    میری ہردم ہے دعا یا رب
    اس وطن کو رکھے سدا یا رب
    پھول ایسے کھلیں اس میں
    جو تا قیامت مہکتے رہیں
    اس وطن کی مٹی میں
    پیارے شہید ہیں سوئے ہوئے
    جان اپنی قربان کرکے
    جنت میں اعلیٰ مقام ہیں پاتے
    اس وطن کے یہ رکھوالے
    اپنا تن، من، دھن لٹاتے ہیں
    اے وطن کے باسیو تم
    خوش رہو اور ایک ہو جاؤ

  • شانِ پاکستان.تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    شانِ پاکستان.تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    شانِ پاکستان
    تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    وطن…
    ایک لفظ نہیں، ایک دھڑکن ہے،ایک سایہ ہے جو تپتے سورج میں چھاؤں بن کر برستا ہے،ایک آنگن ہے جس میں نسلیں پلتی ہیں،ایک مٹی ہے جسے بوسہ دینے سے ماتھے کا نصیب جاگتا ہے۔

    پاکستان…
    کوئی نقشہ نہیں، کوئی نشان نہیں،بلکہ وہ خواب ہے جو ایک شاعر کی پلکوں سے ٹپکا،ایک قائد کے حوصلے سے ابھرا،اور ایک قوم کے لہو سے رنگین ہوا۔

    یہ وطن ہمیں صدیوں کے انتظار، لاکھوں کی قربانی اور کلمۂ توحید کی گونج کے ساتھ ملا۔یہ وہ تحفہ ہے جو تاریخ نے ہمیں کانٹوں سے چن کر دیا۔
    مگر سوال یہ ہے کہ…”ہم نے اس تحفے کی حفاظت کیسے کی؟”

    وہ دن، وہ منظر، وہ قربانی
    چودہ اگست 1947 کا سورج فقط طلوع نہ ہوا،وہ اپنے ساتھ قافلوں کی آہیں، بچوں کی چیخیں اور ماؤں کی سسکیاں لے کر طلوع ہوا۔

    راستوں پر خون تھا، مگر زبانوں پر "پاکستان زندہ باد” کا نعرہ تھا۔بکھری لاشوں کے درمیان جھنڈا بلند تھا۔ریلوے اسٹیشنوں پر آنکھوں کے سامنے خاندان مٹ رہے تھے،مگر دل میں امید کی شمعیں روشن تھیں۔

    پاکستان ایک انقلابی دعا کا قبول ہونا تھا۔یہ مٹی محض سرحدوں میں قید ایک ملک نہیں،یہ ہماری شناخت ہے، ہماری زبان، ہماری ثقافت، ہمارا وقار۔

    شانِ پاکستان کیا ہے؟
    شانِ پاکستان وہ مینار نہیں جو صرف تصویر میں ہے،بلکہ وہ اذان ہے جو مسجد کے مینار سے ہر صبح ہمیں جگاتی ہے۔وہ مزار نہیں جو ہری جالیوں میں چھپا ہے،بلکہ وہ بازار ہے جہاں ایک باحجاب بیٹی رزقِ حلال کے لیے کام کرتی ہے۔

    شانِ پاکستان وہ سپاہی ہےجو برف کی چادر میں لپٹا، پہرہ دے رہا ہے۔شانِ پاکستان وہ اُستاد ہےجو چاک کے گرد اپنی زندگی کا دائرہ بنا کر نسلیں بناتا ہے۔شانِ پاکستان وہ کسان ہے،جو سورج کے ساتھ بیدار ہوتا ہے اور مٹی کو سونا بنا دیتا ہے۔

    مگر آج…!ہم نے وطن کی محبت کو صرف نعروں تک محدود کر دیا۔ہم نے پرچم کو دیوار پر چڑھا دیا، مگر دل سے اتار دیا۔قانون کا مزاق، انصاف کی بولی،اخلاق کی موت، سچ کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔جس ریاست کو "مدینہ کی جھلک” بننا تھا،وہاں نعرے تو بہت ہیں، لیکن کردار مفقود ہے۔

    مزاحمت: شان کا اثاثہ
    تاریخ شاہد ہے کہ قومیں جنگوں سے نہیں، ضمیر کے بیدار ہونے سے بنتی ہیں۔پاکستان کی اصل شان وہ ہےجو اپنے اندر سچ، غیرت، اور قربانی کو زندہ رکھے۔وہ شان ضمیر کے بیدار لمحے میں ہے،جب ایک طالبعلم کمرہ امتحان میں نقل سے انکار کرتا ہے۔وہ مزاحمت ہے،جب ایک دیہاڑی دار مزدور حرام کی روٹی ٹھکرا دیتا ہے۔وہ روشنی ہے،جب ایک شاعر ظلم کے خلاف نظم لکھتا ہے، چاہے پابند سلاسل ہو جائے۔وہ غیرت ہے،جب ایک بچی گاؤں میں اسکول نہ ہونے پر چھت پر بیٹھ کر پڑھتی ہے،اور کہتی ہےکہ”ایک دن میں استاد بنوں گی، اس پاکستان کے لیے!”

    امید کا چراغ
    اگرچہ اندھیرے بہت ہیں،لیکن روشنی مر نہیں گئی۔آج بھی کوئی استاد بچوں کے ہاتھوں میں قلم دے رہا ہے۔آج بھی کوئی ماں بچے کو سچ بولنا سکھا رہی ہے۔آج بھی کوئی نعت خواں وطن سے محبت کو ترنم میں سجا رہا ہے۔اور آج بھی کوئی نوجوان فیس بک پر نہیں، میدانِ عمل میں پاکستان کے لیے جیت رہا ہے۔

    اب کیا کرنا ہے؟
    اب وقت ہے کہ ہم صرف تقریریں نہ کریں، کردار دکھائیں۔وطن سے محبت صرف نعرہ نہ ہو، وعدہ ہو۔جشنِ آزادی صرف رنگوں کی بہار نہ ہو، عمل کا چمن ہو۔ہر فرد ایک چراغ بنے، ہر دل ایک منار بنے۔اور ہر زبان، "پاکستان زندہ باد” سے پہلے "میں زندہ باد کیسے بنوں؟” کا جواب دے۔

    حلفِ وفاداری
    آئیے، آج چودہ اگست کے دن،نئے کپڑے پہننے سے پہلے نیا عہد کریں۔ہم سچ بولیں گے۔ہم ایماندار رہیں گے۔ہم وطن کے وفادار ہوں گے۔ہم اپنے قلم، اپنی سوچ، اپنے قدم اور اپنے خواب پاکستان کے نام کریں گے۔کیونکہ…”شانِ پاکستان وہ نہیں جو دکھائی دے،بلکہ وہ ہے جو جِھلکے، جو جلے، جو روشنی بنے!”

    پاکستان زندہ باد…….شانِ پاکستان پائندہ باد!

  • شانِ پاکستان.تحریر:قراۃلعین کاظمی ،مانسہرہ شنکیاری

    شانِ پاکستان.تحریر:قراۃلعین کاظمی ،مانسہرہ شنکیاری

    شانِ پاکستان
    از قلم .قراۃلعین کاظمی ،مانسہرہ شنکیاری
    جب زمین پر ظلمتوں کے سائے چھا گئے، جب غلامی کی زنجیروں نے قوموں کی روحیں جکڑ لیں، تب ایک آواز اٹھی، ایک خواب جاگا ، پاکستان کا خواب۔ یہ خواب محض ایک ریاست کا نہیں تھا، یہ ایک نظریے، ایک عقیدے اور ایک جدوجہد کا نام تھا۔ پاکستان، جسے لاکھوں قربانیوں، خون سے بھیگے کفنوں اور ماؤں کی سسکیوں کے عوض حاصل کیا گیا، وہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ہمارے بزرگوں کی امیدوں اور دعاؤں کا حاصل ہے۔
    پاکستان، میری پہچان، میری جان!
    شانِ پاکستان اُن سپاہیوں میں ہے جو برفیلے مورچوں پر جاگتے ہیں تاکہ ہم سکون سے سو سکیں۔ شانِ پاکستان ان ماؤں کی آنکھوں میں ہے جو اپنے بیٹے کو کفن میں لپٹے دیکھ کر بھی فخر سے کہتی ہیں: "میرا بیٹا وطن پر قربان ہو گیا۔”
    شانِ پاکستان ان طلبہ میں ہے جو لائبریریوں کی گرد آلود میزوں پر بیٹھ کر دن رات محنت کرتے ہیں، تاکہ اس ملک کا مستقبل روشن ہو۔ شانِ پاکستان ان کسانوں کی ہتھیلیوں میں ہے جو سورج کی تپش میں پسینہ بہا کر ہماری روٹی اگاتے ہیں۔
    شانِ پاکستان تم ہو، میں ہوں، ہم سب ہیں!

    ہماری سرزمین کے ہر ذرے میں وہ طاقت ہے جو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو بھی جھکا سکتی ہے۔ ہماری زبان، ہماری تہذیب، ہمارا لباس، ہمارے رسم و رواج ، سب "پاکستان” کا عکس ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم اُس قوم سے ہیں جس نے ایٹمی طاقت بن کر دنیا کو دکھا دیا کہ اگر ہم پر امن ہیں تو کمزور ہرگز نہیں۔
    لیکن!
    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فقط پاکستان سے محبت کا دعویٰ نہ کریں بلکہ اسے عمل سے ثابت کریں۔ جھوٹ، دھوکہ، بدعنوانی، نفرت .یہ سب پاکستان کی شان کے دشمن ہیں۔ اگر واقعی ہمیں اس ملک سے محبت ہے، تو ہمیں اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم اس کی عزت، ترقی اور عظمت کے محافظ ہیں۔

    اے پاکستان! تو صرف ایک وطن نہیں، تو میرا فخر ہے، میری غیرت ہے، میری پہچان ہے۔ میں تجھ پر جان بھی قربان کر دوں، مگر تیری عزت پر آنچ نہ آنے دوں۔ تو سلامت رہے، تو ترقی کرے، تو دنیا کی نظروں میں ایک مثال بنے — یہی میری دعا ہے، یہی میری خواہش، یہی میرا خواب ہے۔
    تو ہے شانِ پاکستان، اور میں تیرا سپاہی۔

  • جشنِ آزادی اور چہلم شہدائے کربلا کے موقع پر سکھر رینج میں سکیورٹی ہائی الرٹ

    جشنِ آزادی اور چہلم شہدائے کربلا کے موقع پر سکھر رینج میں سکیورٹی ہائی الرٹ

    میرپورماتھیلو(نامہ نگار باغی ٹی وی، مشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ نے یومِ آزادی اور چہلم شہدائے کربلا کے پیش نظر سکھر رینج میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے۔ انہوں نے سکھر، خیرپور میرس اور گھوٹکی کے تمام ایس ایس پیز کو ریلیوں، تقریبات، جلوسوں اور مجالس کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    جاری کردہ ہدایات کے مطابق شرپسند عناصر اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور امن و امان کی فضا ہر صورت قائم رکھی جائے گی۔ ڈی آئی جی سکھر نے تمام ایس ایس پیز کو غیر معمولی حفاظتی انتظامات پر مشتمل فول پروف سیکیورٹی پلان ترتیب دینے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔

    سکولوں، کالجوں، جامعات، پریس کلبوں، جشن آزادی کی تقریبات اور چہلم شہدائے کربلا کے جلوسوں کے راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ ان مقامات کے اطراف میں رینڈم اسنیپ چیکنگ، پکٹنگ اور دیگر سیکیورٹی میئرز کو یقینی بنایا جائے گا۔ تمام اہم مقامات، جلوسوں کے روٹس، چوراہوں، داخلی و خارجی راستوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کی جائے گی۔

    ریلوے اسٹیشنز، بس ٹرمینلز، سرکاری و نجی املاک، گنجان آباد علاقوں اور بازاروں میں موبائل اور موٹر سائیکل گشت میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ ون ویلنگ کرنے والے منچلے نوجوانوں اور شرپسند عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    ڈی آئی جی سکھر نے تمام اضلاع میں ضروری سہولیات سے آراستہ کنٹرول رومز قائم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے باخبر رہا جا سکے۔ اقلیتی برادریوں اور ان کی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی سخت کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ چینی باشندوں کی حفاظت کے لیے وضع کردہ ایس او پیز پر بھی سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔ ڈی آئی جی نے سیکیورٹی اہلکاروں کو بریفنگ دینے اور ہر وقت الرٹ رہنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

    اپنے پیغام میں ڈی آئی جی سکھر رینج نے کہا کہ یوم آزادی اور چہلم شہدائے کربلا کے سیکیورٹی پلان کے مطابق تمام افسران و اہلکار مستعدی سے اپنے فرائض انجام دیں۔ کسی بھی قسم کی غفلت اور لاپرواہی کی صورت میں سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • اوچ شریف: مزارات کی مرمت اور تزئین کا منصوبہ تاخیر کا شکار، زائرین مشکلات شکار

    اوچ شریف: مزارات کی مرمت اور تزئین کا منصوبہ تاخیر کا شکار، زائرین مشکلات شکار

    اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگار حبیب خان)برصغیر کے روحانی مرکز، اولیائے کرام کے مسکن اور صدیوں پرانے ثقافتی و مذہبی ورثے کے امین شہر اوچ شریف میں مزارات کی مرمت اور تزئین و آرائش کا منصوبہ طویل تاخیر کا شکار ہے، جس پر شہریوں، زائرین اور تاریخ کے تحفظ کے علمبردار حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق حضرت جلال الدین کے مزار پر چھت کی مرمت، جدید واش رومز کی تعمیر اور "باب جلال الدین” کے نام سے مرکزی داخلی دروازے کی تیاری کا کام کئی ماہ قبل شروع کیا گیا، تاہم ناقص منصوبہ بندی اور سست رفتاری کے باعث تاحال مکمل نہ ہو سکا۔ منصوبے کا مقصد زائرین کو بارش اور دھوپ سے بچانے کے لیے مضبوط چھت، معیاری واش رومز اور ایک شاندار تاریخی طرز کا گیٹ فراہم کرنا تھا، تاکہ مزار کا روحانی اور ثقافتی حسن بحال ہو سکے۔

    تاخیر کے باعث برسات کے دنوں میں چھت سے پانی ٹپکنے، صفائی کے فقدان اور سہولیات کی کمی جیسے مسائل شدت اختیار کر گئے ہیں۔ زائرین کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال نہ صرف ان کے لیے مشکلات کا باعث ہے بلکہ شہر کے روحانی تقدس اور سیاحتی کشش کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

    یاد رہے کہ اوچ شریف کے مزارات صدیوں سے برصغیر کے روحانی اور ثقافتی نقشے پر نمایاں مقام رکھتے ہیں، جہاں ہر سال ملک اور بیرونِ ملک سے ہزاروں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔ یہ مزارات مقامی معیشت اور ثقافت کی شناخت کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔

    اس صورتحال پر چیف آف سادات، مخدوم الملک، سجادہ نشین دربار عالیہ حضرت جلال الدین، مخدوم سید زمرد حسین بخاری نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر بہاولپور سے فوری نوٹس لینے اور منصوبہ ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاخیر زائرین کی مشکلات میں اضافہ اور شہر کے روحانی و ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچا رہی ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں

  • اوچ شریف: شہید کیپٹن محمد آصف شکرانی فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک

    اوچ شریف: شہید کیپٹن محمد آصف شکرانی فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک

    اوچ شریف( باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی گاؤں موضع شکرانی کے بہادر سپوت، پاک فوج کے نڈر افسر کیپٹن محمد آصف شکرانی کو بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران وطن کی خاطر جان قربان کرنے پر پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔

    شہید کی نمازِ جنازہ مقامی گراؤنڈ میں ہزاروں سوگواران کی موجودگی میں ادا کی گئی، جس میں کور کمانڈر بہاولپور، ڈی پی او بہاولپور، ایم این اے کے فرزند مخدوم سید سمیع حسن گیلانی، سابق ایم پی اے مخدوم سید افتخار حسن گیلانی، موجودہ ایم پی اے مخدوم سید عامر علی شاہ، پاک فوج کے اعلیٰ افسران، وکلاء، صحافی، سماجی شخصیات اور علاقے کے عمائدین سمیت ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

    نمازِ جنازہ کے بعد شہید کے جسدِ خاکی پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں اور پاک فوج کے دستے نے سلامی پیش کی۔ فضا "پاک فوج زندہ باد”، "شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے” اور "پاکستان زندہ باد” کے نعروں سے گونجتی رہی۔

    اس موقع پر کور کمانڈر بہاولپور نے کہا کہ کیپٹن محمد آصف شکرانی کی بہادری اور وطن سے محبت پاک فوج کے عزم اور قربانی کے جذبے کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج دہشت گردی کے خاتمے اور وطن کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔

    علاقے کے مکینوں نے شہید کے اہل خانہ سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیپٹن محمد آصف شکرانی کی شہادت ان کے لیے باعثِ فخر ہے اور ان کا نام ہمیشہ عزت و احترام سے یاد رکھا جائے گا۔

  • نارنگ منڈی: نوجوان نسل تباہ ،منشیات کی سرعام فروخت جاری،پولیس اور سیکیورٹی ادارے بے بس

    نارنگ منڈی: نوجوان نسل تباہ ،منشیات کی سرعام فروخت جاری،پولیس اور سیکیورٹی ادارے بے بس

    نارنگ منڈی (نامہ نگار: محمد وقاص قمر)نارنگ منڈی شہر اور گردونواح میں آئس سمیت دیگر منشیات کی سرعام فروخت عروج پر ہے۔ منشیات فروش دیدہ دلیری سے اپنا مکروہ دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جب کہ پولیس اور سکیورٹی ادارے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال کے نتیجے میں نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

    شہر میں آئس کے نشے کے ساتھ ساتھ چرس، افیون اور شراب کی فروخت بھی عام ہے۔ منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، اور سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اس میں کم عمر نوجوانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ منشیات فروشوں کی چاندی ہو چکی ہے اور وہ بغیر کسی خوف کے اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

    منشیات کی روک تھام کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ ہونے پر شہریوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ وہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کیوں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟ روزانہ نئے لوگ اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں، اور کئی ماؤں کی گودیں اجڑ چکی ہیں۔

    اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ پولیس منشیات فروشوں کو پکڑنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ پولیس کی اس ناکامی پر شہری برہم ہیں۔ اہل علاقہ نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سمیت تمام سیاسی نمائندوں اور سماجی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور شہر کو منشیات کے اس جال سے نجات دلائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پورا شہر اس نشے کی لعنت میں جکڑ جائے گا۔

  • نارنگ منڈی: پیزا ڈلیوری بوائے لوٹ لیا گیا، تین مسلح ڈاکو فرار

    نارنگ منڈی: پیزا ڈلیوری بوائے لوٹ لیا گیا، تین مسلح ڈاکو فرار

    نارنگ منڈی (نامہ نگار محمد وقاص قمر) مریدکے نارووال روڈ پر مسلح ڈکیتی کی واردات میں پیزا ڈلیوری بوائے لٹ گیا۔ تفصیلات کے مطابق ایچ ایف سی نارنگ پیزا شاپ کا ڈلیوری بوائے جاوید مریدکے نارووال روڈ پر پیزا ڈلیوری کے لیے جا رہا تھا کہ پنڈوری کے قریب تین نامعلوم موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے اسے روک لیا۔ ملزمان نے اسلحہ کے زور پر ہزاروں روپے نقدی اور موبائل فون چھین لیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔

    نارنگ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش اور تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

  • اوکاڑہ: صوبائی وزیر صحت کا میڈیکل کالج سائٹ کا دورہ، پیش رفت کا جائزہ

    اوکاڑہ: صوبائی وزیر صحت کا میڈیکل کالج سائٹ کا دورہ، پیش رفت کا جائزہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے میڈیکل کالج اوکاڑہ کی سائٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر سپیشل سیکرٹری ڈویلپمنٹ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ذیشان شبیر رانا، رکن پنجاب اسمبلی میاں محمد منیر، ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید، پرنسپل ساہیوال میڈیکل کالج پروفیسر اختر ملک اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری فیاض ظفر بھی موجود تھے۔

    صوبائی وزیر صحت نے جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا، جبکہ متعلقہ حکام نے منصوبے کی پیش رفت پر بریفنگ دی۔ خواجہ سلمان رفیق نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے شروع کیے گئے تمام صحت کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ لیہ سمیت دیگر شہروں میں بھی نئے میڈیکل کالجز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات میسر ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق میڈیکل ایجوکیشن کے فروغ اور شعبہ صحت میں انقلابی اقدامات پر عمل جاری ہے۔ عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنے اور سرکاری ہسپتالوں میں بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات یقینی بنائے جا رہے ہیں۔