Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • چنیوٹ:پولیس کا بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، کروڑوں کا مسروقہ سامان برآمد

    چنیوٹ:پولیس کا بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، کروڑوں کا مسروقہ سامان برآمد

    چنیوٹ ( باغی ٹی وی ، نامہ نگار حسن معاویہ)چنیوٹ پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کا مسروقہ سامان برآمد کر لیا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عبداللہ احمد نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کارروائیوں کے دوران 4 کروڑ 14 لاکھ روپے سے زائد کا سامان برآمد کیا گیا، جبکہ ڈکیتی، راہزنی اور چوری کی وارداتوں میں ملوث 300 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

    پولیس کے مطابق ملزمان سے 84 لاکھ روپے نقد، 25 تولے سونا، 150 سے زائد مال مویشی، 54 موٹرسائیکل، 55 موٹر بجلی اور سولر پینل، اور وارداتوں میں استعمال ہونے والا ناجائز اسلحہ برآمد کیا گیا۔ کریک ڈاؤن کے دوران ڈکیتی، راہزنی اور چوری کے 278 مقدمات یکسو کیے گئے۔

    ڈی پی او عبداللہ احمد نے برآمد شدہ سامان مدعیان کے حوالے کیا، جنہوں نے پولیس کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اچھی کارکردگی دکھانے والے پولیس افسران کو تعریفی سرٹیفکیٹس اور انعامات دینے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور یہ ٹارگٹڈ کریک ڈاؤن آئندہ بھی جاری رہے گا۔

  • مہنگائی اور واپڈا کی سلیب گردی، کیا یہی ہے آزادی؟

    مہنگائی اور واپڈا کی سلیب گردی، کیا یہی ہے آزادی؟

    مہنگائی اور واپڈا کی سلیب گردی، کیا یہی ہے آزادی؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    کل 14 اگست 2025 ہے، پاکستان کا 78 واں یومِ آزادی۔ سبز ہلالی پرچم لہرائیں گے، قومی ترانہ گونجے گا اور تقریبات میں بلند بانگ دعوے کیے جائیں گے کہ ہم ایک آزاد اور ترقی یافتہ قوم ہیں۔ لیکن کیا یہ سچ ہے؟ جب قوم مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہو، جب بجلی کے بلز واپڈا کی سلیب گردی کی شکل میں غریبوں کی کمر توڑ رہے ہوں، تو یہ کیسی آزادی ہے؟ گیلپ پاکستان کے تازہ سروے جس میں 500 سے زائد کاروباری شعبوں کی آراء شامل ہیں، قوم کی تکلیف کو عیاں کر دیا ہے۔ 28 فیصد تاجر مہنگائی کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں، 18 فیصد یوٹیلٹی بلز کے اضافے سے نالاں ہیں اور فوری حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن حکمران، خاص طور پر وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری جو عوام کو بجلی کی قیمتوں میں ریلیف دینے کے بجائے جھوٹ پر مبنی کہانیاں اور مکارانہ چالیں چل رہے ہیں ،جو اقتدار کے نشے میں قوم کی چیخیں سننے سے قاصر ہیں۔

    78 سال قبل ہم نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی، لیکن آج ہم اپنے ہی حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کی غلامی میں جکڑے ہیں۔ سروے بتاتا ہے کہ کاروباری طبقہ جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، بدترین حالات سے گزر رہا ہے۔ 28 فیصد تاجر مہنگائی کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ یہ مہنگائی کیا ہے؟ یہ وہ زہر ہے جو غریب کے دسترخوان سے روٹی چھین رہا ہے جو بچوں کو سکول سے دور کر رہا ہے، جو مریضوں کو دوا سے محروم کر رہا ہے۔ آٹا، دال، چینی، تیل ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی اور ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو اشیاء خوردونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اور حکمران؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم ترقی کی راہ پر ہیں۔ کس کی ترقی؟ چند سرمایہ داروں کی جو حکومتی سرپرستی میں پل رہے ہیں یا اس قوم کی جو بھوک اور افلاس سے مر رہی ہے؟

    یوٹیلٹی بلز کا معاملہ اور بھی تکلیف دہ ہے۔ سروے کے مطابق 18 فیصد تاجروں نے بجلی کے بھاری بلز کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ واپڈا کی سلیب گردی نے غریبوں سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ سلیب سسٹم کوئی منصفانہ نظام نہیں، بلکہ ایک ظالمانہ ہتھیار ہے جو کم آمدنی والوں کو سزا دیتا ہے۔ تھوڑا زیادہ استعمال کیا، سلیب بدلی اور بل دگنا، تگنا۔ گرمیوں میں پنکھا، سردیوں میں ہیٹر ،یہ کوئی عیاشی نہیں ہے بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن واپڈا نے اسے لگژری بنا دیا۔

    وفاقی وزیرتوانائی اویس لغاری عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے جھوٹی کہانیاں گھڑتے ہیں کہ “ہم نے بجلی کی قیمتوں میں کافی ریلیف دیا”۔ یہ کیسا ریلیف ہے ؟، جب فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اور سلیب سسٹم نے غریبوں کی زندگی اجیرن کر دی؟ اویس لغاری کی یہ بے سروپا دلیلیں، یہ مکارانہ چالیں، عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ سروے بتاتا ہے کہ 47 فیصد تاجروں کو لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ لوڈشیڈنگ! 78 سال بعد بھی؟ اویس لغاری کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے گرڈ سسٹم کی اپ گریڈیشن خواب ہی رہا۔ 53 فیصد نے لوڈشیڈنگ نہ ہونے کی بات کی، لیکن یہ کوئی کامیابی نہیں۔ یہ تو بنیادی حق ہے، جو نصف قوم سے چھینا جا رہا ہے۔ اویس لغاری کی سربراہی میں سولر اور ونڈ انرجی کے منصوبے محض کاغذی ہیں، جن کا کوئی عملی وجود نہیں۔

    حکمرانو! سنو، یہ یومِ آزادی ہے لیکن قوم پوچھ رہی ہے کہ مہنگائی سے کب آزادی ملے گی؟ سروے کے مطابق 11 فیصد تاجروں نے ٹیکسوں کے بوجھ کو اپنا مسئلہ قرار دیا۔ GST اور انکم ٹیکس بڑھ رہے ہیں لیکن بدلے میں سہولیات کیا ہیں؟ ٹوٹی سڑکیں، خالی ہسپتال، بغیر اساتذہ کے سکول۔ ٹیکس دے کر قوم کیا پا رہی ہے؟ صرف حکمرانوں کے محلات اور پروٹوکول؟ 6 فیصد تاجروں نے سیاسی عدم استحکام کو خطرہ قرار دیا۔ سیاسی انتشار نے معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ ایک حکومت آتی ہے، دوسری جاتی ہے، لیکن مسائل وہیں کے وہیں۔ 7 فیصد نے قوت خرید میں بہتری کا مطالبہ کیا، 3 فیصد نے روپے کی قدر مستحکم کرنے کی بات کی۔ یہ سب حکومتی ذمہ داری ہے لیکن وہ کہاں ہیں؟ اقتدار کی ہوس میں ڈوبے ہوئے۔

    سروے میں کچھ مثبت نکات بھی ہیں، لیکن وہ اویس لغاری کی ناکامیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ گزشتہ سروے میں 6 فیصد تاجروں نے حکومتی فیصلوں کو درست کہا تھا، اب 17 فیصد۔ لیکن یہ اضافہ اویس لغاری کی کامیابی نہیں ہے بلکہ چند سرمایہ داروں کی چاپلوسی ہے، جو حکومتی مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اویس لغاری کی زیر نگرانی بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نجکاری کے نام پر بجلی کمپنیاں سرمایہ داروں کے حوالے کی جا رہی ہیں جبکہ عوام مہنگے بلز تلے دب رہے ہیں۔ رشوت ستانی میں کمی آئی ہےگزشتہ 34 فیصد سے اب 15 فیصد۔ لیکن یہ اویس لغاری کی کامیابی نہیں بلکہ تاجروں کی ہمت ہے، جو اب رشوت دینے سے انکار کر رہے ہیں۔اویس لغاری کا آن لائن بلنگ سسٹم ایک مذاق ہے، جہاں اوور بلنگ اور غلطیاں روز کا معمول ہیں۔ لوڈشیڈنگ نہ ہونے کی بات 53 فیصد نے کی لیکن باقی 47 فیصد؟ وہ اویس لغاری کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اندھیرے میں ہیں۔

    یومِ آزادی پر قائد اعظم کے خواب کو یاد کیجیے۔ ایک خوشحال پاکستان، جہاں غریب اور امیر برابر ہوں۔ لیکن آج؟ IMF کے قرضوں کی غلامی نے قوم کو جکڑ رکھا ہے۔ مہنگائی، ٹیکس اور سبسڈیز کا خاتمہ ، یہ سب IMF کی شرائط ہیں۔ اور اویس لغاری؟ وہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے جھوٹ بول رہے ہیں کہ “بجلی سستی کی”۔ یہ کیسا ریلیف، جب سلیب سسٹم اور فیول چارجز نے غریبوں کو زندہ درگور کر دیا؟ قرض ادا کون کر رہا ہے؟ قوم، اپنی جیب سے۔ لیکن حکمرانوں کے عیش و عشرت میں کوئی کمی نہیں۔

    کاروباری طبقہ برباد ہو رہا ہے۔ مہنگائی نے خام مال مہنگا کر دیا، یوٹیلٹی بلز نے فیکٹریاں بند کر دیں، لوڈشیڈنگ نے پیداوار روک دی۔ اویس لغاری کی ناکام پالیسیوں نے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں کو کاغذوں تک محدود رکھا۔ ٹیکسوں کا بوجھ چھوٹے تاجروں کو کچل رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام سے سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے۔ قوت خرید کم اور روپیہ کمزور۔ یہ سب حکومتی ناکامی کی زنجیر ہے۔

    حکمرانو! جاگو، یہ یومِ آزادی ہے، لیکن قوم کی آزادی کہاں؟ مہنگائی روکو، بجلی سستی کرو۔ اویس لغاری کی جھوٹی کہانیوں سے باز آؤ، جو عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں۔ سلیب سسٹم کو منصفانہ بناؤ، لوڈشیڈنگ ختم کرو۔ قوم سے وعدہ کرو کہ اگلا یومِ آزادی حقیقی آزادی کا ہوگا۔ ورنہ، تاریخ تمہیں معاف نہیں کرے گی۔

  • قصور: دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند، نگر کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا،متعدد دیہات سیلاب کی زد میں آگئے

    قصور: دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند، نگر کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا،متعدد دیہات سیلاب کی زد میں آگئے

    قصور(باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹرطارق نویدسندھو)قصور میں دریائے ستلج میں بھارت کی مسلسل آبی جارحیت کے باعث پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔ متعدد بار انتباہ کے باوجود حکومتی نمائندگان کی جانب سے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے۔ آج گاؤں نگر کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، جس کے باعث قریبی دیہات شدید خطرے سے دوچار ہیں۔

    گزشتہ دنوں باغی ٹی وی کی رپورٹ میں اس بند کی خستہ حالی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ قصور ہیڈ گنڈا سنگھ اپ اسٹریم پر سیلابی صورتحال سنگین ہے، پانی کی سطح مسلسل بڑھنے سے نشیبی علاقے متاثر ہو رہے ہیں۔ بستی سندھیاں والی اور نگر ایمن پورہ کے حفاظتی بند بھی متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آ گئی ہے۔

    متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ صرف دفاتر تک محدود ہے اور کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ عوام نے فوری امدادی کارروائیوں کا مطالبہ کیا ہے تاکہ نقصان کو کم کیا جا سکے۔

  • میرپور خاص: چہلم امام حسینؑ کے انتظامات کا جائزہ اجلاس

    میرپور خاص: چہلم امام حسینؑ کے انتظامات کا جائزہ اجلاس

    میرپورخاص(باغی ٹی وی ،نامہ نگارسیدشاہزیب شاہ)میرپور خاص میں مئیر عبدالرؤف غوری کی صدارت میں ان کے دفتر میں چہلم حضرت امام حسین علیہ السلام کے انتظامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی مئیر سمیرا بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر میرپور خاص غلام حسین کانیہو، اسسٹنٹ کمشنر حسین بخش مری، زینب حفیظ، ڈپٹی کنٹرولر سول ڈیفنس محمد فہیم میمن، ڈپٹی چیف وارڈن و ترجمان خلیل اللہ خان، ریسکیو 1122 کے عرفان خاصخیلی، ڈی ایس پی سٹی عبدالغفور خاصخیلی اور ضلعی امن کمیٹی کے ارکان سمیت دیگر محکموں کے افسران نے شرکت کی۔

    اس موقع پر مئیر عبدالرؤف غوری نے کہا کہ چہلم حضرت امام حسین علیہ السلام کے موقع پر تمام مطلوبہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ جلوسوں کے راستوں پر صفائی ستھرائی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، اور اس حوالے سے میں خود تمام کاموں کی نگرانی کروں گا۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ چہلم حضرت امام حسین علیہ السلام کے موقع پر مذہبی رواداری، بھائی چارگی، امن و محبت کو فروغ دیا جائے، کیونکہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی امن اور بھائی چارگی کا درس دیا ہے۔

  • کندھ کوٹ: یومِ آزادی پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی پروقار تقریب

    کندھ کوٹ: یومِ آزادی پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی پروقار تقریب

    کندھ کوٹ (باغی ٹی وی ،نامہ نگار مختیاراعوان) 14 اگست یومِ آزادی اور "معرکۂ حق” کی مناسبت سے محکمہ صحت ڈی ایچ او سید اعجاز علی شاہ کی جانب سے سول ہسپتال کے اسکول میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔

    تقریب میں ڈپٹی کمشنر کشمور کندھ کوٹ آغا شیر زمان، چیئرمین میونسپل کمیٹی میر راشد خان سندرانی، اسسٹنٹ کمشنر سید علی رضا شاہ، ڈی ایس پی سید اصغر علی شاہ، اور دیگر سرکاری افسران کے علاوہ ڈاکٹروں، اساتذہ، ریسکیو 1122 کے اہلکاروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے "پاکستان زندہ باد” اور "پاک فوج زندہ باد” کے نعرے لگائے، اور ہاتھوں میں بینرز، پلے کارڈز اور قومی پرچم لہرا کر اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا۔

    مختلف اسکولوں کے طلباء نے تقاریر اور ٹیبلو کے ذریعے "معرکۂ حق” میں پاک فوج کی فتح کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ نے صحت کے شعبے میں بہترین خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ایوارڈ شیلڈز سے نوازا، جبکہ میونسپل کمیٹی چیئرمین نے بچوں میں نقد انعامات بھی تقسیم کیے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور دیگر مقررین نے کہا کہ پاکستان بہت سی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے اور آزادی ایک نعمت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس دن کو بھرپور جوش و جذبے سے منانا چاہیے اور اپنے اجداد کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ مقررین نے "معرکۂ حق” میں بھارت کو شکست دینے پر پاک فوج کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کیا۔

  • بہاولپور میں جشنِ آزادی کے موقع پر ٹائیکوانڈو چیمپئن شپ کا انعقاد

    بہاولپور میں جشنِ آزادی کے موقع پر ٹائیکوانڈو چیمپئن شپ کا انعقاد

    بہاولپور (نامہ نگار حبیب خان) پاکستان کے 78ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے ڈرنگ اسٹیڈیم بہاولپور میں پنجاب اور بہاولپور ڈویژن ٹائیکوانڈو ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام ٹائیکوانڈو چیمپئن شپ کا انعقاد کیا گیا۔

    اس ٹورنامنٹ میں ڈویژن بھر کی 20 ٹیموں نے شرکت کی اور کھلاڑیوں نے اپنی مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا۔ چیمپئن شپ کا مقصد نوجوانوں میں کھیلوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور ٹائیکوانڈو جیسے مارشل آرٹس کو فروغ دینا تھا۔

    مقابلوں کے دوران کھلاڑیوں نے بھرپور تکنیک اور مہارت کے ساتھ ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش کی۔ شریک کھلاڑیوں نے کہا کہ ایسے ایونٹس کا تسلسل جاری رہنا چاہیے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع مل سکے۔

  • نارنگ منڈی میں جشن میلاد النبیؐ شایان شان طریقے سے منانے کا اعلان

    نارنگ منڈی میں جشن میلاد النبیؐ شایان شان طریقے سے منانے کا اعلان

    نارنگ منڈی (نامہ نگار محمد وقاص قمر) ماہ ربیع الاول کی آمد کے سلسلے میں مرکز اہلسنت نارنگ میں مفتی شہباز رسول سعیدی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں علماء اور اہلسنت تنظیمات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    اجلاس میں اس سال جشن عید میلاد النبیؐ کو شایان شان طریقے سے منانے کا اعلان کیا گیا۔ اس کی ایک خاص وجہ نبی کریم حضرت محمدؐ کی دنیا میں تشریف آوری کے 1500 سال مکمل ہونا ہے۔

    اجلاس میں سابق صدر امن کمیٹی شہباز احمد، سابق جنرل سیکرٹری اعظم علی باجوہ، قاری محمد خالد چشتی، قاری محمد انیس، قاری یونس رضا، اور حافظ اسد سمیت تحریک لبیک، مصطفائی تحریک، اور تحریک منہاج القرآن جیسی تنظیمات کے نمائندے بھی موجود تھے۔

    علماء اور تنظیمات اہلسنت نے کہا کہ وہ اس تاریخی جشن ولادت کو بھرپور طریقے سے منائیں گے کیونکہ آپؐ کی ولادت سے بڑھ کر کوئی اور خوشی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جشن ولادت منانے کا مقصد کائنات کی سب سے عظیم خوشی کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہے۔

  • ہرن مینار شیخوپورہ کا مطالعاتی دورہ، وفد کو تاریخی و قدرتی اہمیت پر بریفنگ

    ہرن مینار شیخوپورہ کا مطالعاتی دورہ، وفد کو تاریخی و قدرتی اہمیت پر بریفنگ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور شخصیات کے ایک وفد نے ہرن مینار شیخوپورہ کا مطالعاتی دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد اس تاریخی اور قدرتی ورثے کی اہمیت کو سمجھنا تھا۔

    وفد میں کیمیکل، مکینیکل اور انوائرمنٹل انجینئرز کے علاوہ مینجنگ ڈائریکٹر اور سینئر صحافی ملک ظفر اقبال شامل تھے، جنہوں نے وفد کی قیادت بھی کی۔ دورے کے موقع پر ڈویژنل فاریسٹ آفیسر شیخوپورہ افتخار احمد جنجوعہ، بلاک آفیسر عمران ورک اور ایس ڈی ایف او شرافت علی نے وفد کا استقبال کیا اور انہیں ہرن مینار کی تاریخی، قدرتی اور ماحولیاتی اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    افتخار احمد جنجوعہ نے بتایا کہ ہرن مینار صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کے تحفظ کا ایک اہم مرکز بھی ہے۔ انہوں نے جنگلات کی موجودہ صورتحال، شجرکاری مہمات اور ماحولیاتی تحفظ کے جاری منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔

    وفد کے شرکاء نے ہرن مینار کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے محکمہ جنگلات کی کوششوں کو سراہا۔ وفد نے اس دورے کو ماحولیاتی آگاہی میں ایک مثبت قدم قرار دیا۔ افتخار احمد جنجوعہ نے یقین دلایا کہ مستقبل میں ہرن مینار شیخوپورہ اس علاقے کا ایک خوبصورت اور دلکش تفریحی مقام بنے گا۔

  • چنیوٹ: جشنِ آزادی کی شایان شان تقریب، "معرکۂ حق، عزم و استقلال کے 78 سال” کا عنوان

    چنیوٹ: جشنِ آزادی کی شایان شان تقریب، "معرکۂ حق، عزم و استقلال کے 78 سال” کا عنوان

    چنیوٹ (نامہ نگار حسن معاویہ) جشنِ آزادی کے سلسلے میں "معرکۂ حق، عزم و استقلال کے 78 سال” کے عنوان سے چنیوٹ کے ہاکی اسٹیڈیم میں ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی۔ یہ تقریب پاک آرمی اور ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے منعقد ہوئی، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    تقریب میں لیفٹیننٹ کرنل جنید احمد، ڈپٹی کمشنر صفی اللہ گوندل، اور ڈی پی او عبداللہ احمد کے علاوہ اراکین صوبائی اسمبلی، شہداء کی فیملیز، تاجر برادری اور شہریوں نے حصہ لیا۔

    اس موقع پر ملی نغموں کی دھن پر حاضرین نے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا، جبکہ رسہ کشی اور چنیوٹ کبڈی کلب بمقابلہ لنگرانہ ٹیم کے درمیان دلچسپ کبڈی میچ کا بھی اہتمام کیا گیا۔ پنجابی کمنٹری نے اس میچ کو مزید پرجوش بنا دیا۔ تقریب میں طلبہ کی تیار کردہ پینٹنگز کی ایک نمائش بھی لگائی گئی جسے مہمانانِ خصوصی نے خوب سراہا۔

    آخر میں مختلف مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں اور سماجی خدمات انجام دینے والے افراد میں انعامات اور اعزازی شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ جشنِ آزادی کی تقریبات 14 اگست تک ضلع بھر میں جاری رہیں گی۔

  • شانِ پاکستان .تحریر: بنتِ سیّد

    شانِ پاکستان .تحریر: بنتِ سیّد

    شانِ پاکستان
    تحریر: بنتِ سیّد
    اگست 1947 کو اس کرۂ ارض پر ایک ماں، ایک نئی شناخت "پاکستان” کا وجود ظہور میں آیا۔ ایک ایسی دھرتی ماں جس کے وجود کے حصول کے لیے اس کے سپوتوں نے انتھک کوشش و جدوجہد کی۔ اس دھرتی ماں کے قیام کو اس کے بیٹوں اور بیٹیوں نے اپنے خونِ جگر سے سینچا؛ تب کہیں جا کر دنیا کے ہر کونے میں ایک لفظ "پاکستان” کی بازگشت گونجی۔ یہی شانِ پاکستان ہے کہ دھرتی ماں "پاکستان” جب دنیا کے نقشے پر معرضِ وجود میں آیا تو اس کے سپوتوں نے اپنی مٹی کی آغوش میں اپنے تمام تر تھکن و آزمائش کو بھلا کر سکھ کا سانس لیا، اور نئے سرے سے پُرعزم ہو کر وطنِ عزیز کی شان کو بلند سے بلند تر کرنے کے لیے کوشاں ہو گئے۔

    پاکستان کو منزلِ اوج عطا کرنے کا سفر کبھی آسان نہیں تھا۔ آزمائشوں کا یہ سفر جستجو و امید کی پرواز لیے ہوئے تھا، اور جو چیز اسے زمانے میں بے مثال و یکتا بناتی ہے، وہ اس کے قیام کی تہذیبی، تاریخی و روحانی داستان ہے۔ وہ نظریہ تھا جس نے خواب کو تعبیر کا پیرہن پہنانے کے لیے ہمت، استقلال اور مردانہ وار جدوجہد سے پہلی اینٹ رکھی، اور قوم کی ڈھارس بندھائی۔

    آغازِ سفر کھٹن تھا، خاردار راستوں اور مزاحمتوں سے بھرا ہوا— لیکن یہ قوم و ملت کی بقا کی جنگ تھی، جسے قوم و ملت نے اپنے عزم و اتحاد سے بھرپور انداز میں عبور کیا۔ ابتدا میں دنیا کے نقشے پر ابھرنے والے اس نئے وجود کو جو مسائل پیش آئے، ان میں آئین سازی، مہاجرین کی آبادکاری، معاشی و تعلیمی بحران جیسے امتحان سرفہرست تھے۔

    اپنے وجود کی سالمیت کو لے کر پاکستان نے اٹھہتر (78) سالوں میں جو مسلسل جدوجہد کی، وہ "شانِ پاکستان” کی مکمل عکاسی ہے۔ اس کا مقصد صرف ایک زمینی خطے کی بقا کو قائم رکھنا نہیں تھا، بلکہ اس نظریے اور فکر کا تحفظ اور ان کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا جن کے پس منظر میں ہمارے آباؤ اجداد کا لہو شامل رہا۔ اس جدوجہد میں خوش آئند بات یہ رہی کہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے اس امر میں اپنا فعال کردار ادا کیا، اور یوں "شانِ پاکستان” کا اعزاز ہر دور میں پاکستان کے محسنوں کی دھڑکن اور عوام کے لبوں پر زندہ رہا۔

    ملک ہماری حرمت، ہماری جان و آن ہے
    پاکستان شان ہماری، ہم شانِ پاکستان ہیں

    نامساعد حالات اور منتشر جذبات کے باوجود قوم نے عزم و استقلال سے ہر بیرونی ناپاک سازش کا قلع قمع کیا۔ 16 دسمبر 1971 کو اپنے وجود کا ایک اہم حصہ کھونے کے بعد پاکستان نے اپنی بقا کی جنگ کی مضبوط منصوبہ بندی شروع کی، اور 28 مئی 1998 کو "محسنِ پاکستان” ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی دانشوری و علمی فیض سے اسلامی ممالک میں پہلی اور عالمی سطح پر ساتویں ایٹمی طاقت کا اعزاز اپنے نام کیا۔

    عمل و جدوجہد کا سفر رکا نہیں، بلکہ مزدور و کسان، محققین، ماہرین، سائنس دان، اطباء، وکلاء، فنکار، ادیب، شعرا اور طلبہ ہر وقت ملک کی ترقی و سالمیت کے لیے پیش پیش رہے۔

    زندگی سے وابستہ ہر شعبے میں پاکستان نے اپنے شہریوں اور ہر دلعزیز کھلاڑیوں کے ذریعے نام کمایا۔ کرکٹ کے میدان میں 1992 میں عمران خان کی قیادت میں عالمی ٹرافی پاکستان کے حصے میں آئی۔ اپنی فاسٹ اور منفرد بالنگ کے ذریعے وسیم اکرم "سلطان آف سوئنگ” کہلائے۔ وہی شاہد آفریدی نے اپنی بیٹنگ کے ذریعے دلوں پر راج کیا۔

    ہاکی کے میدان میں پاکستان نے تین اولمپک میڈلز اپنے نام کیے، اور ان فتوحات میں شہباز احمد سینیئر کا نام جہاں سرفہرست ہے، وہیں "فلائنگ ہارس” سمیع اللہ خان اپنی برق رفتاری سے دشمن کی صفیں اڑا دیتے تھے۔ اسکواش کی دنیا میں جان شیر خان، جہانگیر خان جیسے عالمگیر کھلاڑیوں کے ذریعے پاکستان نے پانچ دہائیوں تک حکمرانی کی۔

    2024 میں نیزہ بازی کے میدان میں عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھا کر ارشد ندیم نے پاکستان و قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، اور یہ ثابت کیا کہ محدود وسائل کے باوجود پاکستان دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

    تعلیم کے میدان میں ڈاکٹر عبدالسلام نے پہلے پاکستانی کی حیثیت سے نوبیل انعام وصول کر کے قوم کا وقار بلند کیا۔ طب کے میدان میں ڈاکٹر ادیب رضوی جیسے محسنِ انسانیت نے خدمت کا عظیم نمونہ پیش کیا۔ آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ پاکستان کی کم عمر ارفع کریم (مرحومہ) نے پاکستان کو منفرد انداز میں عالمی شناخت عطا کی۔

    ان سب کے علاوہ عبدالستار ایدھی کا نام نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں "ایمبولینس سروس” کی وجہ سے قابلِ ذکر ہے۔ آج بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں بے شمار گمنام لوگ ملک کی بقا، سالمیت اور انسانیت کی خدمت کے لیے محوِ عمل ہیں، اور یہی اصل "شانِ پاکستان” ہے۔

    شانِ پاکستان کا ذکر ہو تو کسی قیمت پر پاکستان کی عسکری قیادت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کا کردار محض سرحدوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ ملک کے عالمی وقار و بقا کے لیے اہم اور فیصلہ کن رہا ہے۔ جذبۂ شہادت اور ایثار و قربانی سے لبریز 1948، 1965، 1971، 1999 کی جنگوں میں پاک فوج کے نوجوانوں نے جان کا نذرانہ دے کر اس کے جغرافیائی محلِ وقوع کا دفاع کیا ہے۔

    آپریشن راہِ راست، راہِ نجات، ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے اہم فوجی آپریشنز نے نہ صرف دہشت گردی کی کمر توڑی بلکہ دنیا کو بھی پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا۔ قدرتی آفات، زلزلے، سیلابوں اور وباؤں کے دور میں ہمیشہ ریلیف کیمپس کے ذریعے افواجِ پاکستان قوم کے شانہ بشانہ رہی ہے۔

    موجودہ وقت میں جب پڑوسی دشمن ملک نے پاکستان کو جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے صفحۂ ہستی سے مٹانے کا ناپاک منصوبہ بنایا، تو عسکری قیادت نے نہایت مدبرانہ انداز میں اس پر پیش رفت دکھائی اور آپریشن "بنیان مرصوص” کے ذریعے دشمن اور دنیا کو پیغام دیا کہ ہم اپنا دفاع کرنا نہ صرف جانتے ہیں بلکہ جب جوابی کارروائی کے لیے سامنے آتے ہیں، تو اس کی گونج اور چمک پوری دنیا کو سنائی اور دکھائی دیتی ہے۔

    اس ساری صورتِ حال میں عوامِ پاکستان کا جذبہ بھی دیدنی تھا۔ دشمن کے ناپاک عزائم نے قوم میں دوبارہ وہ روح اور جذبہ پھونک دیا تھا جو قیام کے وقت ان کے آباء میں تھا۔ تمام تر اندرونی رنجشوں کو مٹا کر قوم مثبت جذبے کے ساتھ باہم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی حیثیت سے، اور مثبت سوچ و فکر کے ساتھ ابھر کر آئی تھی، اور دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ یہی "شانِ پاکستان” ہے — ہم باہم ہیں، ایک ہیں، اور متحد ہیں۔

    پاکستان بنا ہے قائم رہنے کے لیے۔ بھلے کسی کو ایک آنکھ نہ بھائے، پاکستان تھا، پاکستان ہے، اور تا قیامت رہے گا، ان شاء اللّٰہ عزوجل۔

    جذبہْ خودی رہا ہے تیرا مقدرِ جہاں
    زمانے میں بلند سدا شانِ پاکستاں