Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • نارنگ منڈی:سرکاری اساتذہ کے پرائیویٹ سکول اور اکیڈمیاں، ایک تشویشناک صورتحال

    نارنگ منڈی:سرکاری اساتذہ کے پرائیویٹ سکول اور اکیڈمیاں، ایک تشویشناک صورتحال

    نارنگ منڈی (نامہ نگار محمد وقاص قمر کی رپورٹ)سرکاری اساتذہ کے پرائیویٹ سکول اور اکیڈمیاں، ایک تشویشناک صورتحال

    تفصیل کے مطابق حکومتی احکامات کی پابندی کے باوجود سرکاری اساتذہ نے اپنے پرائیویٹ سکول اور اکیڈمیاں کھول رکھی ہیں۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی توجہ کم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے نجی اداروں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔

    حال ہی میں میٹرک کے نتائج میں ناقص کارکردگی کے بعد سی او ایجوکیشن نے گورنمنٹ ہائی سکول گھڑیال کلاں، گورنمنٹ ہائی سکول نارنگ، گورنمنٹ ہائی سکول رفیق آباد اور جنڈیالہ کلساں سمیت 6 سرکاری سکولوں کے ہیڈ ماسٹرز سے جواب طلبی کی تھی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب سرکاری اساتذہ سرکاری سکولوں کی بجائے اپنے پرائیویٹ نجی تعلیمی اداروں پر توجہ دیں گے تو امتحانی نتائج ایسے ہی ملیں گے۔

    وزارت تعلیم کی سخت پابندیوں کے باوجود سرکاری اساتذہ کا اپنے پرائیویٹ سکول اور اکیڈمیاں چلانا ایک سوالیہ نشان ہے۔ شہریوں نے صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات سے اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • نارنگ منڈی: سٹریٹ لائٹس نہ ہونے سے شام ہوتے ہی شہر میں اندھیر ا،ہرطرف خوف کے سائے

    نارنگ منڈی: سٹریٹ لائٹس نہ ہونے سے شام ہوتے ہی شہر میں اندھیر ا،ہرطرف خوف کے سائے

    نارنگ منڈی (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد وقاص قمر) نارنگ منڈی شہر میں سٹریٹ لائٹس کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شام ڈھلتے ہی پورا شہر، بشمول شرقی و غربی آبادیاں، ریلوے اسٹیشن اور اہم شاہراہیں گہرے اندھیرے میں ڈوب جاتی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف وارداتوں اور جرائم میں اضافہ کر دیا ہے بلکہ شہری خوف وہراس کا شکار ہیں۔

    اندھیرے کی وجہ سے راہگیروں کو ٹھوکریں لگنے اور زخمی ہونے کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ مساجد میں نماز ادا کرنے جانے والے نمازیوں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

    شہریوں نے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین، رکن قومی اسمبلی رانا احمد عتیق انور اور رکن صوبائی اسمبلی چوہدری حسان ریاض سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں سٹریٹ لائٹس نصب کروائی جائیں تاکہ اہل علاقہ کی مشکلات کم ہو سکیں اور انہیں تحفظ کا احساس ہو۔

  • اوچ شریف :سجاد عرف کالے خان نے مسجد میں کھلے عام توبہ کر کے نئی زندگی کا آغاز کر دیا

    اوچ شریف :سجاد عرف کالے خان نے مسجد میں کھلے عام توبہ کر کے نئی زندگی کا آغاز کر دیا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) سجاد عرف کالے خان نے مسجد میں کھلے عام توبہ کر کے نئی زندگی کا آغاز کر دیا

    دھوڑ کوٹ میں آج ایک اہم اور روحانی منظر اس وقت سامنے آیا جب موضع ودھنور جھنگڑا شرقی سے تعلق رکھنے والے سجاد عرف کالے خان نے مسجد میں کھلے عام توبہ کرتے ہوئے اپنی سابقہ زندگی سے مکمل رجوع کا اعلان کیا۔

    یہ تاریخی لمحہ سابق پارلیمانی سیکرٹری سردار عامر یار وارن کے ڈیرے کے ساتھ واقع مسجد میں بعد نماز جمعہ پیش آیا، جہاں امام مسجد مولانا عبداللہ عباسی نے سجاد خان سے اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر توبہ کا حلف لیا۔

    سجاد عرف کالے خان نے مسجد میں سب کے سامنے کہاکہ”میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر اپنی مکمل توبہ کا اعلان کرتا ہوں، آج کے بعد میری نئی زندگی کا آغاز ہے۔”

    توبہ کے اس اعلان کی گواہی سردار جہانگیر وارن، صمد یار وارن اور درجنوں مقامی افراد نے دی۔ اس موقع پر خصوصی دعا بھی کی گئی۔ تمام متعلقہ ادارے، بشمول سی سی ڈی، تھانہ دھوڑ کوٹ، اسپیشل برانچ اور دیگر محکمے اس توبہ کا نوٹس لیں۔

    یہ اقدام نہ صرف ایک فرد کی اصلاح کی علامت ہے بلکہ سردار عامر یار وارن اور ان کے خاندان کی مثبت قیادت، اصلاحی سوچ اور علاقے میں امن و رواداری کے فروغ کا مظہر بھی ہے۔ علاقے میں اس کھلے عام توبہ کو بے حد سراہا جا رہا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: وڈور روڈ چار ماہ سے زیر تعمیر، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    ڈیرہ غازی خان: وڈور روڈ چار ماہ سے زیر تعمیر، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)ڈیرہ غازی خان میں گرلز کالج کے سامنے واقع وڈور روڈ گزشتہ تقریباً چار سے پانچ ماہ سے ری کنسٹرکشن کے لیے توڑا گیا ہے، مگر تاحال اس کی تعمیر مکمل نہیں ہو سکی، جس کے باعث مقامی شہریوں اور راہگیروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ ٹوٹا پھوٹا روڈ اب شہریوں کے لیے درد سر بن چکا ہے۔

    بارشوں کے دنوں میں اس روڈ پر پانی جمع ہو جاتا ہے، جس سے صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے۔ دن بھر ٹریکٹر ٹرالیوں کا رش بھی اس روڈ پر رہتا ہے، جو متعدد حادثات کا باعث بن چکا ہے۔ افسوسناک طور پر، ان حادثات میں کئی نوجوان شہری اور بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ پہلے ہی یہ روڈ سنگل تھا، اور اب اسے توڑ کر شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ٹھیکیداروں کی نااہلی، غفلت اور مبینہ کرپشن کی وجہ سے یہ روڈ تاحال مکمل تعمیر نہیں ہو سکا ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں وڈور روڈ کے علاوہ دیگر تمام کارپیٹڈ روڈز کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ مقامی شہریوں نے انتظامیہ سے پرزور اپیل کی ہے کہ ٹھیکیداروں کی کرپشن کا شکار اس روڈ کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ شہریوں کو مزید مشکلات سے نجات مل سکے۔

  • پنجاب بھر میں پیدائش اور وفات کے سرٹیفکیٹس کا اجرا مفت، تاخیر سے اندراج پر بھی کوئی فیس نہیں.مظفر مختار

    پنجاب بھر میں پیدائش اور وفات کے سرٹیفکیٹس کا اجرا مفت، تاخیر سے اندراج پر بھی کوئی فیس نہیں.مظفر مختار

    سیالکوٹ (بیوروچیف خرم میر کی رپورٹ) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبہ بھر میں بچوں کی پیدائش اور افراد کی وفات کے اندراج اور سرٹیفکیٹس کا اجرا مکمل طور پر مفت کر دیا گیا ہے۔ یہ اعلان ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ مظفر مختار نے لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سیالکوٹ کے زیر اہتمام جناح ہال قلعہ سیالکوٹ میں منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    مظفر مختار نے واضح کیا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ کے "رجسٹریشن آف برتھ اینڈ ڈیتھ رولز 2025” کے تحت یہ قانون فوری طور پر نافذالعمل ہوچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب اگر کوئی شہری سات سال تک کی تاخیر سے بھی بچے کی پیدائش یا کسی فرد کی وفات کا اندراج کرواتا ہے تو اس پر کوئی فیس عائد نہیں کی جائے گی اور سرٹیفکیٹ بھی بلا معاوضہ جاری ہوگا۔

    ایک اور اہم تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے مظفر مختار نے بتایا کہ سات سال سے زائد تاخیر کی صورت میں عدالت کی ڈگری کی شرط کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ اب یہ اختیار ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو سونپ دیا گیا ہے، جس سے عوام کو عدالتی کارروائی سے نجات مل گئی ہے اور اس سے وقت اور پیسوں کی بچت ہوگی۔

    تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ انعم بابر، ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ گوجرانوالہ قمر ذیشان، ڈپٹی ڈائریکٹر عمر امجد بیگ، اے ڈی ایل جیز محمد جلیل بھٹی، معظم علی تارڑ، رانا آصف علی، محمد ارشد کے علاوہ یونین کونسلز کے سیکرٹریز، نکاح رجسٹرار، این جی اوز، محکمہ تعلیم اور وکلاء کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔

    ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ڈویژن قمر ذیشان نے اس موقع پر کہا کہ بچے کی برتھ رجسٹریشن ان کا بنیادی قانونی حق ہے۔ انہوں نے والدین، اساتذہ، سوشل ورکرز اور نکاح رجسٹرار حضرات سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور عوام میں اس سے متعلق زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کریں تاکہ کوئی بھی بچہ قانونی شناخت سے محروم نہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے کو فوری طور پر قریبی یونین کونسل میں مفت اندراج اور سرٹیفکیٹ کے ذریعے قانونی شناخت دلائی جائے۔

  • اوچ شریف: بستی لکھویرا میں جھکا ہوا بجلی کا پول موت کا پیغام، واپڈا کی سنگدل غفلت پر شہری سراپا احتجاج

    اوچ شریف: بستی لکھویرا میں جھکا ہوا بجلی کا پول موت کا پیغام، واپڈا کی سنگدل غفلت پر شہری سراپا احتجاج

    اوچ شریف (باغی ٹی وی/نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے مانک نوشہرہ کی بستی لکھویرا میں ایک خطرناک حد تک جھکا ہوا بجلی کا پول علاقہ مکینوں کے لیے موت کا سایہ بن گیا ہے۔ اس پول پر نصب ہائی وولٹیج مین سپلائی کی تاریں اور بجلی کے میٹر نہ صرف قریبی گھروں کو مسلسل خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ کسی بھی وقت ایک بڑے سانحے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق پول کی بنیادیں مکمل طور پر کھوکھلی ہو چکی ہیں، سریے زنگ آلود ہو کر باہر نکل چکے ہیں اور یہ کسی بھی لمحے زمین بوس ہو کر درجنوں جانیں نگل سکتا ہے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی بار واپڈا حکام کو اس صورتحال سے آگاہ کر چکے ہیں، مگر افسوسناک حد تک کسی قسم کا کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

    اہل علاقہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے واپڈا پر مجرمانہ غفلت کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واپڈا حکام کو انسانی جانوں کی کوئی پروا نہیں۔ شہریوں نے میڈیا کے سامنے چیخ چیخ کر سوال اٹھایا کہ کیا متعلقہ ادارے صرف اس وقت جاگیں گے جب کوئی خونریز حادثہ پیش آ جائے گا؟

    بستی لکھویرا میں اس صورتحال کے باعث شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ بچے اسکول جانے سے ہچکچا رہے ہیں، بزرگ گھروں سے نکلنے سے گریزاں ہیں جبکہ خواتین ہر وقت کسی بھی ممکنہ حادثے کے ڈر سے سہمے ہوئے ہیں۔

    مکینوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور خطرناک پول کی فوری مرمت یا تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس جان لیوا خطرے کو فوری طور پر ختم نہ کیا گیا تو آئندہ پیش آنے والا کوئی بھی سانحہ مکمل طور پر واپڈا کی مجرمانہ غفلت اور نااہلی کا نتیجہ ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔

  • اوچ شریف:دفعہ 144 گیا بھاڑ میں،جھانگڑہ پل کے قریب دریائے ستلج میں نہانے کا سلسلہ جاری

    اوچ شریف:دفعہ 144 گیا بھاڑ میں،جھانگڑہ پل کے قریب دریائے ستلج میں نہانے کا سلسلہ جاری

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)جھانگڑہ پل کے قریب دریائے ستلج میں متعدد افراد کی جانب سے خطرناک طریقے سے نہانے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جو ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق کے جاری کردہ حفاظتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں دریاؤں اور نہروں میں نہانے پر سخت پابندی عائد کی تھی، اور خبردار کیا تھا کہ ایسی لاپرواہی سنگین حادثات اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتی ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق متعدد نوجوانوں کو نہ صرف نہاتے دیکھا گیا بلکہ وہ گہرے پانی میں خطرناک انداز میں تیراکی کرتے بھی نظر آئے، جس سے کسی بڑے حادثے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ کی خاموشی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد نہ ہونے سے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

    شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری ایکشن لینے اور نگرانی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ایسی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور نہر و دریا کے کناروں پر پولیس یا رینجرز تعینات کیے جائیں تاکہ کسی ممکنہ سانحے سے بچا جا سکے۔

    تاہم، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس واقعے کی باضابطہ تصدیق یا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس سے شہریوں میں اضطراب بڑھ رہا ہے۔ یہ صورتحال شہری تحفظ کے حوالے سے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہی ہے۔

  • کچے میں خونیوں کا راج ،کیا ریاست ختم ہوگئی ہے؟

    کچے میں خونیوں کا راج ،کیا ریاست ختم ہوگئی ہے؟

    کچے میں خونیوں کا راج ،کیا ریاست ختم ہوگئی ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    رحیم یار خان کے علاقے صادق آباد میں ماہی چوک کے قریب شیخانی پولیس چوکی پر کچے کے ڈاکوؤں نے رات کی تاریکی میں راکٹ لانچرز اور جدید اسلحے سے حملہ کر کے ریاست کی رٹ کو چیلنج کر دیا، جس کے نتیجے میں ایلیٹ فورس کے پانچ بہادر اہلکار شہید اور دو شدید زخمی ہو گئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو بھی ہلاک ہوا۔ شہید ہونے والے اہلکاروں میں محمد عرفان، محمد سلیم، خلیل احمد، غضنفر عباس اور نخیل حسین شامل ہیں، جن کی قربانی نے ایک بار پھر کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور ان کی بے خوف کارروائیوں کو آشکار کر دیا ہے۔ یہ حملہ کوئی اچانک واقعہ نہیں بلکہ سندھ اور پنجاب کے سرحدی علاقوں میں برسوں سے جاری ڈاکوؤں کی دہشت گردی کی ایک خونریز داستان کا تسلسل ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق شہید ہونے والے تین اہلکاروں کا تعلق بہاول نگر سے تھا جبکہ دو کا رحیم یار خان سےاور یہ تمام اہلکار گزشتہ چھ ماہ سے کچے کے انتہائی خطرناک علاقے میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے اور ان کی تدفین مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او عرفان علی سموں پولیس نفری کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور جوابی کارروائی کی قیادت کی جبکہ ڈاکوؤں کا تعاقب جاری ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب کچے کے ڈاکوؤں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا ہو۔ سندھ اور پنجاب کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں نے پولیس چوکیوں اور گشت پر موجود دستوں پر متعدد خونریز حملے کیے ہیں۔ مثال کے طور پر 2024 میں کندھ کوٹ سندھ میں دھودھر پولیس چوکی پر 20 سے زائد ڈاکوؤں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید اور دو زخمی ہوئے۔ اسی طرح 2022 میں گھوٹکی کے علاقے رونتی میں ڈاکوؤں کے حملے میں ایک ڈی ایس پی اور دو ایس ایچ اوز سمیت پانچ اہلکار شہید ہوئے۔ 2024 میں رحیم یار خان کے ماچھکہ میں پولیس کی گاڑیوں پر راکٹ حملے میں 12 اہلکار شہید اور چھ زخمی ہوئے۔ ان حملوں میں اب تک سینکڑوں پولیس اہلکار شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ اگست 2024 تک صرف رحیم یار خان میں 17 اہلکار شہید ہوئے ہیں اور شدید زخمی ہونے والے اہلکاروں کی تعداد سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان میں سے کئی زندگی بھر کے لیے معذور ہوئے ہوں گے۔ ان شہادتوں کے پیچھے انسانی المیوں کی ایک لمبی فہرست ہے. ہر شہید اہلکار کے خاندان کی کہانی دل دہلا دینے والی ہے، جہاں نوجوان لڑکیاں بیوہ ہوئیں، بچے یتیم ہوئے اور مائیں اپنے جوان بیٹوں کے جنازوں پر بین کرتی رہیں۔ مثال کے طور پر ماچھکہ حملے میں 12 اہلکاروں کی شہادت سے کم از کم 12 خاندان متاثر ہوئے، جن میں بیوائیں، یتیم بچے اور بوڑھے والدین شامل ہیں اور ان خاندانوں کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلیاں ناقابل بیان ہیں جنہیں ریاست کی بھرپور مدد کی ضرورت ہے۔

    کچے کے ڈاکوؤں نے نہ صرف پولیس بلکہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ان کی دہشت گردی کی کارروائیاں صرف سڑکوں پر گشت کرنے والے اہلکاروں تک محدود نہیں بلکہ وہ شہروں اور دیہاتوں میں گھس کر شہریوں کو اغوا کرتے ہیں، ان پر تشدد کرتے ہیں اور تاوان نہ ملنے کی صورت میں بے دردی سے قتل کر دیتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 2024 میں کشمور، سندھ میں تین ہندو تاجروں کو اغوا کیا گیا، جنہیں بعد میں بازیاب کرایا گیا جبکہ گھوٹکی میں 10 شہری یرغمال بنائے گئے اور رحیم یار خان میں کانسٹیبل احمد نواز کو اغوا کیا گیا، جن کی تشدد زدہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس نے عوام میں غم و غصہ پیدا کیا۔ کشمور میں 2023 میں راولپنڈی سے ایک شخص کو کاروباری جھانسے میں اغوا کیا گیا اور تاوان نہ ملنے پر بے رحمی سے قتل کر دیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکوؤں کے نیٹ ورک دور دراز کے علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ڈاکو زنجیروں میں جکڑے یرغمالیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں، جن میں وہ تشدد اور تاوان کے مطالبات دکھاتے ہیں، یہ ویڈیوز ریاست کو براہ راست چیلنج کرتی ہیں اور عوام میں مایوسی پھیلاتی ہیں۔ 2024 تک شکارپور، کشمور، گھوٹکی، سکھر اور جیکب آباد میں 40 شہری یرغمال تھے، اور تاوان کی عدم ادائیگی پر کئی شہریوں کو وحشیانہ تشدد کے بعد قتل کیا گیا، جیسے کہ 2024 میں ایک پرائمری ٹیچر اللہ رکھیو نندوانی کا قتل۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ڈاکوؤں کی دہشت صرف پولیس تک محدود نہیں بلکہ عام شہری بھی ان کے ظلم کا شکار ہیں اور انہیں ریاستی تحفظ کی اشد ضرورت ہے۔

    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے شیخانی چوکی حملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آر پی او بہاولپور سے رپورٹ طلب کی اور ڈی پی او رحیم یار خان کو ڈاکوؤں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا، ان کا کہنا تھا کہ بزدلانہ حملوں سے پولیس کا مورال پست نہیں ہوگا اور شہید اہلکاروں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیانات محض رسمی ہیں؟ کیا ماضی میں ایسے بیانات کے بعد حالات بہتر ہوئے ہیں؟ کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشنز دہائیوں سے جاری ہیں، لیکن نتائج صفر ہیں۔ 1990 کی دہائی میں کئی آپریشنز ہوئے، لیکن ڈاکو ہر بار فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جس سے ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے۔ 2016 میں آپریشن میں چھوٹو گینگ کے 22 پولیس اہلکاروں کے اغوا کے بعد فوج کی مدد سے آپریشن کیا گیا، لیکن ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ نہ ہو سکا اور چھوٹو گینگ کے کئی ارکان فرار ہو گئے یا بعد میں دوبارہ منظم ہو گئے۔

    2024 میں سندھ میں پولیس اور رینجرز نے مشترکہ آپریشن شروع کیا، لیکن ڈاکوؤں کی کارروائیاں جاری رہیں، جو ان کی جڑوں کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔اور اب 2025 میں شیخانی چوکی حملے کے بعد سرچ آپریشن تیز کیا گیا، لیکن گرفتاریاں محدود ہیں۔ یہ صورتحال سوالات پیدا کرتی ہے کہ آخر ڈاکوؤں کا خاتمہ کیوں نہیں ہوتا؟ اس کی کئی وجوہات ہیں،کچے کا علاقہ جغرافیائی طور پر مشکل ہے، جہاں گھنے جنگلات، جھاڑیاں اور پانی کے راستے ڈاکوؤں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کا کام کرتے ہیں اور یہ علاقہ پولیس کے لیے رسائی میں دشوار گزار ہے اور ڈاکو اس جغرافیے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ڈاکوؤں کے پاس جدید اور خطرناک اسلحہ موجود ہے، جس میں راکٹ لانچرز، خودکار ہتھیار اور حتیٰ کہ طیارہ شکن بندوقیں بھی شامل ہیں، جو پولیس کے روایتی اسلحے سے کہیں بہتر ہیں اور یہ انہیں پولیس پر برتری فراہم کرتا ہے۔ سب سے بڑھ کر، مقامی زمینداروں اور سیاسی شخصیات کی مبینہ پشت پناہی ڈاکوؤں کو تحفظ دیتی ہے، یہ سیاسی سرپرستی ڈاکوؤں کو قانون کی گرفت سے بچاتی ہے اور انہیں مزید مضبوط بناتی ہے۔ سندھ اور پنجاب کی پولیس کے درمیان تعاون کی کمی بھی ڈاکوؤں کو سرحد پار فرار ہونے میں مدد دیتی ہے، جس سے ان کا تعاقب مشکل ہو جاتا ہے۔

    سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ڈاکوؤں نے کبھی کسی مقامی سردار، وڈیرے، وزیر، مشیر، ایم این اے یا ایم پی اے کے عزیز کو کیوں اغوا نہیں کیا؟ کیوں ان سے بھتہ نہیں مانگا؟ کیوں ان کے خاندان ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں؟ یہ سوالات ایک گہری سازش کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کشمور کے طاقتور جاگیردار سردار تیغو خان تیغانی پر ڈاکوؤں کی پشت پناہی کے الزامات ہیں، لیکن ان کے خاندان کو کبھی نشانہ نہیں بنایا گیا۔ کچے کے علاقوں میں زمینداروں اور سیاسی شخصیات کی لاکھوں ایکڑ اراضی ہے، جہاں ڈاکو کاشتکاری کرتے ہیں اور اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں۔ ڈاکوؤں کو مقامی افراد سے معلومات ملتی ہیں، جو انہیں پولیس کی نقل و حرکت سے باخبر رکھتے ہیں، یہ معلومات انہیں پولیس کے آپریشنز سے بچنے میں مدد دیتی ہیں۔ سندھ کے سابق وزیر داخلہ نے 2024 میں اعتراف کیا کہ جب تک زمینداروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی، ڈاکوؤں کا خاتمہ ناممکن ہے۔ یہ کوئی سائنس یا ریاضی کا معمہ نہیں، بلکہ ایک کھلا راز ہے کہ ڈاکوؤں کی پشت پناہی مقامی طاقتور طبقات کرتے ہیں اور جب تک ان سرپرستوں کا احتساب نہیں ہوگا، کچے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

    کچے کے ڈاکوؤں کا راج کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری ہے۔ پولیس کے جوان اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، شہری خوف کے سائے میں جی رہے ہیں، لیکن ڈاکوؤں کی دہشت کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ کیا یہ ریاست کی ناکامی ہے یا دانستہ خاموشی؟ حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف مذمتی بیانات اور عارضی آپریشنز کے بجائے ایک مستقل اور جامع حل تلاش کرے، اس کے لیے مقامی پولیس کو بھرتی کیا جائے جو کچے کے علاقوں سے واقف ہوں اور مقامی جغرافیہ کو سمجھتے ہوں، جدید اسلحہ اور گاڑیاں فراہم کی جائیں تاکہ پولیس کو ڈاکوؤں کے مقابلے میں بہتر اسلحہ اور رسائی کے لیے جدید گاڑیاں دی جائیں، پولیس اہلکاروں کو کچے کے علاقوں میں کارروائیوں کے لیے خصوصی تربیت دی جائے اور وہاں بنیادی ڈھانچہ مضبوط کیا جائے اور سب سے بڑھ کر طاقتور زمینداروں اور سیاسی شخصیات کی پشت پناہی کا خاتمہ کیا جائے جو کہ وہ اصل جڑ ہے جو ڈاکوؤں کو زندہ رکھے ہوئے ہے، ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ضروری ہے، اور بین الصوبائی تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ سندھ اور پنجاب کی پولیس اور رینجرز کے درمیان موثر رابطہ کاری اور مشترکہ آپریشنز ڈاکوؤں کے فرار کے راستے بند کر سکیں۔ اگر یہ سب نہ ہوا تو شیخانی چوکی جیسے واقعات ہوتے رہیں گے اور پولیس کے جوانوں کی قربانیاں رائیگاں جاتی رہیں گی۔ ہم شہید اہلکاروں محمد عرفان، محمد سلیم، خلیل احمد، غضنفر عباس اور نخیل حسین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان کی قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ امن کی قیمت خون سے ادا کی جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اس خون کی قدر کرے گی اور کچے کو واقعی امن کا گہوارہ بنائے گی؟

  • رحیم یار خان: کچے کے ڈاکوؤں کا پولیس چوکی پر حملہ، 5 ایلیٹ اہلکار شہید، ایک ڈاکو ہلاک، آئی جی پنجاب کا نوٹس

    رحیم یار خان: کچے کے ڈاکوؤں کا پولیس چوکی پر حملہ، 5 ایلیٹ اہلکار شہید، ایک ڈاکو ہلاک، آئی جی پنجاب کا نوٹس

    رحیم یار خان (باغی ٹی وی) صادق آباد کے علاقے ماہی چوک کے قریب واقع شیخانی پولیس چوکی پر کچے کے درجنوں ڈاکوؤں نے رات کی تاریکی میں راکٹ لانچرز اور جدید اسلحے سے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایلیٹ فورس کے 5 اہلکار شہید جبکہ 2 زخمی ہو گئے۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو بھی ہلاک ہو گیا۔ شہید اہلکاروں کی شناخت محمد عرفان، محمد سلیم، خلیل احمد، غضنفر عباس اور نخیل حسین کے نام سے ہوئی ہے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق شہید ہونے والے 3 اہلکاروں کا تعلق بہاول نگر جبکہ 2 کا تعلق رحیم یار خان سے ہے۔ یہ تمام اہلکار گزشتہ 6 ماہ سے کچے کے علاقے میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ شہدا کی تدفین مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر ڈی پی او عرفان علی سموں پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور جوابی کارروائی کی قیادت کی۔ پولیس کے مطابق ڈاکوؤں کا تعاقب جاری ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آر پی او بہاولپور سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے ڈی پی او رحیم یار خان کو فائرنگ میں ملوث تمام ڈاکوؤں کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس اپنے شہدا کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دے گی۔

    آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ بزدلانہ حملے سے پولیس کا مورال پست نہیں ہوگا، بلکہ ان قربانیوں سے ہمارے عزم کو مزید تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن بھرپور طاقت کے ساتھ جاری رہے گا۔

    پولیس ترجمان کے مطابق حملہ انتہائی منظم طریقے سے کیا گیا اور ڈاکو راکٹ لانچر اور خودکار ہتھیاروں سے لیس تھے۔ تاہم پولیس جوانوں نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے ایک ڈاکو کو مار گرایا اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔

    علاقے میں صورتحال تاحال کشیدہ ہے جبکہ پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے۔ مقامی افراد نے بھی شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے حکومتی سطح پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • طورخم: این ایل سی کی مبینہ ناانصافیوں کے خلاف خوگاخیل قوم سراپا احتجاج، 3 اگست تک الٹی میٹم

    طورخم: این ایل سی کی مبینہ ناانصافیوں کے خلاف خوگاخیل قوم سراپا احتجاج، 3 اگست تک الٹی میٹم

    لنڈی کوتل (مہد شاہ شینواری) خوگاخیل قوم کے مشران اور تحصیل چیئرمین شاہ خالد شینواری نے ڈسٹرکٹ خیبر پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے این ایل سی کی جانب سے لوڈ ان لوڈنگ، کینٹین، کیفے ٹیریا اور دیگر سہولیات کے ٹینڈرز کو خوگاخیل قوم کے بجائے دیگر افراد کو دینے کے فیصلے کو معاشی قتل قرار دیا اور تین اگست تک فیصلہ واپس لینے کا الٹی میٹم دے دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں پاک افغان شاہراہ کو بند کر کے نہ ختم ہونے والے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری این ایل سی پر عائد ہوگی۔

    شاہ خالد شینواری نے کہا کہ خوگاخیل قوم آج طورخم ٹرمینل پر کام بند کرنے کے لیے متحد ہو کر کھڑی ہوئی، اور این ایل سی پر مکمل احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر 3 اگست تک ٹینڈرز منسوخ نہ کیے گئے تو خوگاخیل قوم اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات پر مجبور ہوگی اور کسی صورت بھی باہر سے لائے گئے افراد کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

    پریس کانفرنس میں مشران نے مزید کہا کہ این ایل سی کے ساتھ 300 کنال زمین پر ہونے والے معاہدے کے تحت 201 کنال اراضی کی مکمل قیمت اور مراعات اب تک ادا نہیں کی گئیں۔ ساتھ ہی معاہدے کی رو سے ہر فیصلہ خوگاخیل قوم سے اجتماعی مشاورت کے بعد ہونا تھا، مگر اب چند مخصوص افراد کے ذریعے فیصلے نافذ کیے جا رہے ہیں جو کسی صورت قبول نہیں۔

    انہوں نے این ایل سی پر مقامی لوگوں سے روزگار چھیننے اور معاشی قتل عام کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ عوامی روزگار ختم کیا جا رہا ہے، جس سے غربت اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ ٹرانسپورٹرز، کسٹم ایجنٹس اور دیگر شعبے کے افراد اب ایک صفحے پر ہیں اور خوگاخیل قوم کے جائز حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کریں گے۔

    این ایل سی حکام سے موقف جاننے کی کوشش کی گئی تاہم ان کی جانب سے بتایا گیا کہ موقف ہیڈکوارٹر سے جاری کیا جائے گا۔

    مشران نے آرمی چیف، کور کمانڈر پشاور، آئی جی ایف سی اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ خوگاخیل قوم سے کیا گیا معاہدہ فی الفور مکمل طور پر نافذ کیا جائے اور تمام مراعات اسی قوم کو دی جائیں، بصورت دیگر 3 اگست کے بعد ملک گیر سطح پر احتجاج کی نئی لہر کا آغاز ہوگا۔