Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • نارنگ منڈی: سٹی پریس کلب کی کوششیں رنگ لے آئیں، لاہور-سیالکوٹ ریلوے سیکشن پر ٹرینوں کی بوگیاں بڑھا دی گئیں

    نارنگ منڈی: سٹی پریس کلب کی کوششیں رنگ لے آئیں، لاہور-سیالکوٹ ریلوے سیکشن پر ٹرینوں کی بوگیاں بڑھا دی گئیں

    نارنگ منڈی (نامہ نگار محمد وقاص قمر)لاہور،نارنگ،نارووال،سیالکوٹ ریلوے سیکشن پر سفر کرنے والے مسافروں کے لیے خوشخبری! سٹی پریس کلب نارنگ کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں اس سیکشن پر چلنے والی تمام مسافر ٹرینوں کی بوگیوں کی تعداد بڑھا کر 10 کر دی گئی ہے۔

    سٹی پریس کلب نارنگ منڈی کی جانب سے طویل عرصے سے مذکورہ ریلوے سیکشن پر بوگیوں کی کمی اور مسافروں کو درپیش شدید مشکلات کے خلاف آواز بلند کی جا رہی تھی۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما چوہدری فرحان شوکت ہنجراء نے لیاقت بلوچ کے ہمراہ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی سے ملاقات کی اور عوامی مسائل سے آگاہ کیا۔

    وفاقی وزیر ریلوے نے فوری ایکشن لیتے ہوئے اعلان کیا کہ 15 اگست 2025 سے سیالکوٹ ایکسپریس، لاثانی ایکسپریس، فیض احمد فیض ایکسپریس اور نارووال پیسنجر سمیت اس سیکشن پر چلنے والی تمام مسافر ٹرینوں میں بوگیوں کی تعداد 10 کر دی جائے گی تاکہ مسافروں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    اس اہم پیشرفت پر سٹی پریس کلب نارنگ، جماعت اسلامی کے رہنما چوہدری فرحان شوکت ہنجراء، ڈیلی پیسنجر ایسوسی ایشن کے رہنما حافظ عبدالقیوم، حسن ریحان نارنگ کمیونٹی اور متعدد مسافروں نے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اسے عوامی ریلیف کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔

    یہ اقدام نہ صرف مسافروں کی سفری مشکلات میں کمی لائے گا بلکہ ٹرینوں پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو بھی مؤثر طریقے سے سنبھالنے میں مدد دے گا۔

  • ننکانہ:ریسکیو 1122کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ، جولائی میں 5470 افراد کو ایمرجنسی سروسز فراہم کی گئیں

    ننکانہ:ریسکیو 1122کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ، جولائی میں 5470 افراد کو ایمرجنسی سروسز فراہم کی گئیں

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 ننکانہ صاحب میں ماہانہ کارکردگی اجلاس کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے کی۔ اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے افسران نے شرکت کی جن میں کنٹرول روم انچارج محمد نوید، ریسکیو سیفٹی آفیسر علی عمران، اسٹیشن کوارڈینیٹر محمد سعید اور میڈیا کوارڈینیٹر علی اکبر شامل تھے۔

    اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جولائی 2025 کے دوران ریسکیو 1122 کو موصول ہونے والی 17668 کالز میں سے 4424 ایمرجنسیز کالز تھیں جن پر فوری کارروائی کی گئی۔ ان ایمرجنسیز کے نتیجے میں 5470 متاثرین کو سروس فراہم کی گئی، جن میں634 روڈ ٹریفک حادثات،2724 میڈیکل کیسز،13 آگ لگنے کے واقعات،86 جھگڑے یا تشدد کے کیس،24 عمارتوں کے منہدم ہونے کے واقعات،4 پانی میں ڈوبنے کے واقعات،600 متفرق ایمرجنسیز شامل تھیں۔

    ریسکیو اہلکاروں نے 2578 زخمیوں کو جائے وقوعہ پر فوری طبی امداد فراہم کی، جبکہ 2455 مریضوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ افسوسناک طور پر 98 متاثرین جانبر نہ ہو سکے۔

    علاوہ ازیں، ضلعی سطح پر علاج کی سہولیات نہ ہونے کے باعث 339 مریضوں کو ریفر کیا گیا، جنہیں پیشنٹ ٹرانسفر سروس کے ذریعے لاہور اور فیصل آباد کے بڑے اسپتالوں تک بلا معاوضہ اور محفوظ طریقے سے منتقل کیا گیا۔

    اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے موسم برسات کے خطرات سے بچاؤ کے لیے شہریوں سے اپیل کی کہ:
    "برسات کے دوران بجلی کے کھمبوں سے محفوظ فاصلہ رکھیں، بچوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے دیں، اور گھروں کی چھتوں و نالیوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں تاکہ کسی قسم کے جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔”

    ریسکیو 1122 کی ماہانہ رپورٹ ضلعی ایمرجنسی سروسز کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور عوامی خدمت کے جذبے کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔

  • چنیوٹ : یومِ شہداء پولیس کی پُروقار تقریب، شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت

    چنیوٹ : یومِ شہداء پولیس کی پُروقار تقریب، شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت

    چنیوٹ (باغی ٹی وی،نامہ نگارحسن معاویہ)4 اگست 2025 کو ملک بھر کی طرح چنیوٹ میں بھی یومِ شہداء پولیس انتہائی عقیدت، احترام اور قومی جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر یادگارِ شہداء پر ایک پُروقار تقریب منعقد ہوئی، جہاں پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔

    تقریب میں ڈی پی او عبداللہ احمد، ایس پی انویسٹی گیشن، صدر بار ایسوسی ایشن، شہداء کی فیملیز، سول سوسائٹی کے نمائندگان، اور پولیس افسران و جوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    شہداء کی فیملیز کو خصوصی پروٹوکول کے تحت تقریب میں لایا گیا، جہاں انہیں عزت و احترام کے ساتھ بٹھایا گیا۔اس موقع پر ڈی پی او عبداللہ احمد اور دیگر افسران نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور شہداء کے درجات کی بلندی اور ملک کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

    ڈی پی او عبداللہ احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:”ہم اپنے شہداء کے خون کے وارث ہیں، ان کے لواحقین کے دکھ سکھ کے ضامن ہیں۔ شہداء پولیس ہمارے ماتھے کا جھومر اور ہمارے محسن ہیں۔ ملک و قوم کی بقا اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنا عظیم قربانی ہے۔ پولیس کے جوان دہشت گردی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سینہ سپر ہیں اور آئندہ بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔”

    یومِ شہداء پولیس کی یہ تقریب شہداء کی لازوال قربانیوں کو یاد رکھنے اور نئی نسل میں حب الوطنی کے جذبے کو پروان چڑھانے کا اہم ذریعہ بنی۔

  • یومِ شہداء پولیس: ڈیرہ غازی خان میں شہداء کو خراجِ عقیدت، ڈی پی او سید علی کی شرکت

    یومِ شہداء پولیس: ڈیرہ غازی خان میں شہداء کو خراجِ عقیدت، ڈی پی او سید علی کی شرکت

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر: شاہد خان)یومِ شہداء پولیس کے موقع پر ڈیرہ غازی خان پولیس کی جانب سے ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ان عظیم سپاہیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جنہوں نے ملک و قوم کے تحفظ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ دیا۔

    تقریبات میں ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی، ایس ڈی پی او سٹی، ڈی ایس پی ٹریفک سمیت دیگر پولیس افسران، اسکولوں کے طلباء، شہریوں اور میڈیا نمائندگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    تقریب کے دوران ڈی پی او سید علی نے شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کیں، جبکہ شرکاء نے بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے شمعیں جلا کر ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب میں شہداء کے درجات کی بلندی اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

    اس موقع پر باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی پی او سید علی نے کہا:”شہداء پولیس ہمارا فخر اور قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی لازوال قربانیاں ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتی رہیں گی۔ یومِ شہداء ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آج جو آزادی اور امن ہمیں میسر ہے، وہ ان ہی جانبازوں کی بے مثال قربانیوں کا نتیجہ ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا:”ہم ہر لمحہ شہداء کی فیملیز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا دکھ ہمارا دکھ ہے، اور ان کا فخر ہمارا فخر۔”

    یومِ شہداء پولیس کے موقع پر منعقدہ یہ تقریب نہ صرف پولیس شہداء کی قربانیوں کا اعتراف ہے بلکہ نئی نسل کو ان کی قربانیوں سے روشناس کرانے کا ذریعہ بھی ہے۔

  • یومِ شہداء سندھ پولیس: میرپورخاص میں پولیس شہداء کو خراجِ عقیدت، پروقار تقریب کا انعقاد

    یومِ شہداء سندھ پولیس: میرپورخاص میں پولیس شہداء کو خراجِ عقیدت، پروقار تقریب کا انعقاد

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)4 اگست 2025 کو یومِ شہداء سندھ پولیس کے موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس میرپورخاص کی جانب سے ایک عظیم الشان اور باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد ان بہادر پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا، جنہوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جانوں کے نذرانے پیش کیے اور اپنی قربانیوں سے قوم کے امن کو یقینی بنایا۔

    تقریب میں شہداء کی فیملیز کو خصوصی پروٹوکول کے ساتھ مدعو کیا گیا، جن کی موجودگی نے تقریب کو مزید پراثر اور جذباتی بنا دیا۔ اس موقع پر کئی معزز مہمانوں نے شرکت کی جن میں رکن قومی اسمبلی پیر آفتاب شاہ جیلانی، چیئرمین ضلع کونسل میرپورخاص نوابزادہ میر انور خان تالپور، کمشنر میرپورخاص فیصل احمد عقیلی، میئر میرپورخاص عبدالرؤف غوری، ڈی آئی جی میرپورخاص رینج محمد زبیر دریشک، ایس ایس پی میرپورخاص ڈاکٹر سمیر نور چنہ، ایس پی جیل و اصلاحی ادارہ جات اشفاق احمد کلوڑ، اور ایس پی ہیڈکوارٹر فضل حق چانڈیو شامل تھے۔

    تقریب میں سول سوسائٹی، تاجر برادری، مذہبی علماء اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے شہداء کی قربانیوں کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس اہلکاروں کی یہ لازوال قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔

    ایس ایس پی میرپورخاص ڈاکٹر سمیر نور چنہ نے اپنے خطاب میں کہا:

    "ہماری پولیس فورس کے شہداء قوم کا فخر ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے اور قانون کی بالادستی کے لیے جو قربانیاں دیں، وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔”

    تقریب کے اختتام پر شہداء کے درجات کی بلندی اور ملک کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

    یومِ شہداء سندھ پولیس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جو امن آج ہمیں میسر ہے، وہ ان ہی جاں نثاروں کے خون کی بدولت ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کو محفوظ بنایا۔

  • بہاولپور: دریائے ستلج میں 16 سالہ لڑکا ڈوب کر جاں بحق، 21 گھنٹے بعد لاش برآمد

    بہاولپور: دریائے ستلج میں 16 سالہ لڑکا ڈوب کر جاں بحق، 21 گھنٹے بعد لاش برآمد

    بہاولپور (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)دریائے ستلج میں 16 سالہ چرواہا لڑکا ڈوب کر جاں بحق، 21 گھنٹے بعد لاش برآمد
    ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی، لاش 2 کلومیٹر دور سے نکالی گئی

    ماڑی قاسم شاہ جھنگی والا روڈ، بہاولپور کے قریب دریائے ستلج میں 16 سالہ چرواہا لڑکا اسد ولد اللہ دتہ پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسد اپنی بھینسوں کو پانی پلانے دریا کے کنارے لے گیا تھا اور وہ جانوروں کے پیچھے گہرے پانی میں چلا گیا۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق متوفی لڑکا تیرنا نہیں جانتا تھا۔ جب بھینسیں گہرائی میں پہنچیں تو اسد نے انہیں واپس لانے کی کوشش کی لیکن خود پانی میں ڈوب گیا۔ اس کے نانا نے فوری بچاؤ کی کوشش کی مگر بے سود رہی۔

    ایمرجنسی کال موصول ہوتے ہی واٹر ریسکیو وین سمیت BPA-05، BR-1، BR-2 اور دیگر ریسکیو گاڑیاں صرف آٹھ منٹ میں موقع پر پہنچ گئیں۔ ٹیموں نے مقامی افراد کے ساتھ مل کر 21 گھنٹے تک مسلسل تلاش جاری رکھی اور آخرکار اسد کی لاش تقریباً دو کلومیٹر دور سے برآمد کر لی گئی، جسے ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔

    ریسکیو ٹیموں کی اس کارروائی کو مقامی افراد نے خراج تحسین پیش کیا، جب کہ حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دریا کے کنارے جانے میں خصوصی احتیاط برتیں، خصوصاً بچوں اور غیر تیراک افراد کو گہرے پانی سے دور رکھیں۔

  • پنجاب میں پھیپھڑوں کے سرطان سے بچاؤ کیلئے اقدامات تیز

    پنجاب میں پھیپھڑوں کے سرطان سے بچاؤ کیلئے اقدامات تیز

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)پنجاب میں پھیپھڑوں کے سرطان سے بچاؤ کیلئے اقدامات تیز،ٹی بی کنٹرول پروگرام کی جانب سے عالمی دن پر آگاہی مہم کا آغاز، طلحہ خان شیروانی کا عزم

    تفصیلات کے مطابق پنجاب میں پھیپھڑوں کے سرطان (لنگ کینسر) سے بچاؤ اور عوامی آگاہی کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ ورلڈ لنگ کینسر ڈے 2025 کے موقع پر صوبائی ٹی بی کنٹرول پروگرام پنجاب نے عالمی برادری کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے "Stronger Together: United for Lung Cancer Awareness” کے تھیم کے تحت بھرپور آگاہی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

    یہ دن ہر سال یکم اگست کو منایا جاتا ہے تاکہ پھیپھڑوں کے سرطان کے خلاف اجتماعی کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس موقع پر ٹی بی کنٹرول پروگرام پنجاب کی جانب سے نہ صرف ٹی بی اور لنگ کینسر کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی گئی بلکہ عوامی سطح پر شعور بیداری، جلد تشخیص اور علاج تک بہتر رسائی کو بھی یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    ترجمان ٹی بی کنٹرول پروگرام کے مطابق، ٹی بی اور لنگ کینسر دونوں پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والی مہلک بیماریاں ہیں۔ ان کی وجوہات میں تمباکو نوشی، فضائی آلودگی اور صنعتی کیمیکل سرِفہرست ہیں۔ پروگرام کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی بی سے متاثرہ افراد میں بعد ازاں لنگ کینسر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، لہٰذا مشترکہ اسکریننگ اور تشخیصی حکمت عملیوں پر زور دیا جا رہا ہے۔

    لنگ کینسر کی ابتدائی علامات میں آٹھ ہفتوں سے زائد جاری رہنے والی مسلسل کھانسی، سینے میں درد، خون والی کھانسی، وزن کا اچانک کم ہونا اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان علامات کو عام نزلہ زکام سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ تشخیص کے لیے چھاتی کے ایکسرے، سی ٹی اسکین، پی ای ٹی اسکین اور برونکوسکوپی جیسے جدید طریقۂ کار تجویز کیے جا رہے ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جن کی عمر 50 سے 80 سال ہے اور جو تمباکو نوشی کی طویل تاریخ رکھتے ہیں۔

    آگاہی مہم کے تحت پنجاب بھر میں ہیلتھ کیمپس، تعلیمی سیمینارز اور معلوماتی سیشنز کا انعقاد کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق، پروگرام نہ صرف تمباکو نوشی ترک کرنے کی ترغیب دے رہا ہے بلکہ فضائی آلودگی سے بچاؤ اور باقاعدہ طبی معائنے کی اہمیت پر بھی زور دے رہا ہے۔

    ڈائریکٹر ٹی بی کنٹرول پروگرام پنجاب، طلحہ خان شیروانی نے اپنے بیان میں کہا کہ پروگرام کا عزم ہے کہ ہر فرد کو مساوی طبی سہولیات میسر ہوں تاکہ پھیپھڑوں کے سرطان کا بروقت علاج ممکن بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے حکومتی اداروں، نجی شعبے، محققین اور سول سوسائٹی کے تعاون سے اسکریننگ اور علاج کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

  • اوچ شریف: جلالپور روڈ پر تیز رفتاری کے باعث کار اور ٹرک میں تصادم، تین افراد زخمی

    اوچ شریف: جلالپور روڈ پر تیز رفتاری کے باعث کار اور ٹرک میں تصادم، تین افراد زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے جلالپور روڈ نزد چوک بھٹہ روڈ پر تیز رفتاری ایک بڑے حادثے کا سبب بن گئی، جہاں سامنے سے آنے والے ٹرالر سے کار ٹکرا گئی، حادثے میں ایک مرد، ایک خاتون اور ایک کمسن بچی زخمی ہو گئی۔

    حادثہ اُس وقت پیش آیا جب مبارک پور کے رہائشی خضر حیات اپنی بہن اقصیٰ بی بی اور تین سالہ ذائشہ بی بی کے ہمراہ علی پور میں واقع اپنے دوسرے گھر جا رہے تھے۔ خاتون مریضہ کے مطابق اوچ شریف چوک بھٹہ روڈ کے سامنے جلالپور روڈ پر چھڑتے ہوئے ان کی کار سامنے سے آنے والے ٹرک سے ٹکرا گئی۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق، زخمیوں میں:
    * خضر حیات ولد شبیر خان(عمر 26 سال) شامل ہیں، جنہیں سر پر چوٹ اور نچلے ہونٹ پر گہرا زخم آیا، وہ بے ہوش پائے گئے؛
    *اقصیٰ بی بی دختر شبیر خان (عمر 28 سال) کے سر پر چوٹ لگی تاہم وہ ہوش میں تھیں؛
    * جبکہ ذائشہ بی بی دختر محمد واجد (عمر 3 سال) کو معمولی خراشیں آئیں۔

    ریسکیو ٹیم نے موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد تمام زخمیوں کو ٹی ایچ کیو ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا۔ خوش قسمتی سے تینوں زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔

    علاقہ مکینوں اور حادثے کے عینی شاہدین نے مطالبہ کیا ہے کہ جلالپور روڈ پر حد رفتار کی پابندی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ایسے جان لیوا حادثات سے بچا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: ڈاکٹر شاہد ریاض کی ساس انتقال کر گئیں، نماز جنازہ آج رات 8 بجے رڈیال میں ادا کی جائے گی

    سیالکوٹ: ڈاکٹر شاہد ریاض کی ساس انتقال کر گئیں، نماز جنازہ آج رات 8 بجے رڈیال میں ادا کی جائے گی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی) باغی ٹی وی ڈویژن گوجرانوالہ و سیالکوٹ کے بیوروچیف ڈاکٹر شاہد ریاض کی ساس رضائے الٰہی سے انتقال فرما گئیں۔ مرحومہ ایک باعمل، باوقار اور دیندار خاتون تھیں۔ ان کے انتقال پر عزیز و اقارب، دوست احباب اور صحافتی برادری میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    مرحومہ کی نمازِ جنازہ آج 3 اگست بروز ہفتہ رات 8 بجے ان کے آبائی گاؤں رڈیال، نزد گڑی گوندل والے قبرستان میں ادا کی جائے گی۔

    باغی ٹی وی کی پوری ٹیم اور تمام نمائندگان اس افسوسناک سانحے پر ڈاکٹر شاہد ریاض اور ان کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ دکھ کی اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحومہ کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

  • تونسہ اور ڈیرہ غازی خان میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند،  نشیبی علاقے زیرِ آب، سیلابی خطرہ منڈلانے لگا

    تونسہ اور ڈیرہ غازی خان میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، نشیبی علاقے زیرِ آب، سیلابی خطرہ منڈلانے لگا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)دریائے سندھ میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں تونسہ اور ڈیرہ غازی خان کے متعدد کچے علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں جبکہ مزید بستیوں اور زرعی زمینوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں تیزی کے باعث شادن لُنڈ، کالا، کالاکالونی، دری ڈھولے والی، شاہ صدر دین، پیر عادل، لاڈن، دری میرو، دراہمہ، سمینہ سادات، جھوک اُترا، جکھڑ امام شاہ اور شیرو جیسے دریا کنارے آباد نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہونے لگا ہے۔

    متعدد علاقوں میں فصلیں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ رہائشی آبادیوں میں بھی پانی گھسنے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق کچی آبادیوں کے علاوہ پکی بستیوں میں بھی سیلابی ریلے پہنچنے کا خطرہ ہے، تاہم تاحال خاطر خواہ اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تونسہ میں 15 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں تاکہ متاثرین کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکے، تاہم بیشتر مکین اب بھی اپنے گھروں اور مال مویشیوں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق مکینوں کو بار بار خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کے پیش نظر نقل مکانی کر لیں، لیکن وہ اپنے گھروں، فصلوں اور جانوروں کو چھوڑنے سے گریزاں ہیں۔

    تونسہ کےعلاقے میں متعدد خاندان کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں، تاہم اس عمل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نہ صرف رسائی کے راستے متاثر ہو چکے ہیں بلکہ نقل مکانی کے دوران قیمتی سامان بھی ضائع ہو رہا ہے۔

    محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول ذرائع کے مطابق دریا میں پانی کا بہاؤ تاحال بڑھ رہا ہے اور آئندہ چند روز مزید خطرناک ہو سکتے ہیں۔ نشیبی علاقوں کو خالی کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، تاہم مکینوں کے انکار کے باعث خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

    عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے اربابِ اختیار صرف فوٹو سیشن کرکے کاغذی کارروائیاں مکمل نہ کریں بلکہ عملی طور پر فیلڈ میں نکلیں، زمینی حقائق کا جائزہ لیں اور فوری و مؤثر اقدامات کریں تاکہ قیمتی جان و مال کے نقصان سے بچا جا سکے۔