Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: ڈی پی او کا شہری کی شکایت پر فوری ایکشن، ایس ایچ او تھانہ کوتوالی معطل

    سیالکوٹ: ڈی پی او کا شہری کی شکایت پر فوری ایکشن، ایس ایچ او تھانہ کوتوالی معطل

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو) ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے شہری کی شکایت پر فوری ایکشن لیتے ہوئے تھانہ کوتوالی کے ایس ایچ او سب انسپکٹر اسد اللہ کو معطل کر دیا۔
    شہری عتیق انجم نے الزام عائد کیا تھا کہ ایس ایچ او نے ایک مالی لین دین کے تنازع پر اسے غیرقانونی طور پر حراست میں لے کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
    ڈی پی او کی ہدایت پر ڈی ایس پی سٹی سرکل کی جانب سے کی گئی انکوائری میں شہری کے الزامات درست ثابت ہوئے، جس پر ڈی پی او فیصل شہزاد نے فوری طور پر ایس ایچ او کی معطلی کے احکامات جاری کیے۔

    ڈی پی او فیصل شہزاد نے واضح کیا کہ پولیس اختیارات کے ناجائز استعمال اور شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، محکمہ پولیس میں احتساب کا عمل جاری رہے گا تاکہ شہریوں کے اعتماد کو بحال رکھا جا سکے۔

  • سکھر: پولیس چھاپہ، بزرگ جاں بحق، خواتین پر تشدد، نوجوان لاپتا، تھانے کے سامنےلاش رکھ کر احتجاج

    سکھر: پولیس چھاپہ، بزرگ جاں بحق، خواتین پر تشدد، نوجوان لاپتا، تھانے کے سامنےلاش رکھ کر احتجاج

    سکھر (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)سکھر کے قریب صالح پٹ کے علاقے میں پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف مرہوٹا برادری کے افراد نے صالح پٹ تھانے کے باہر لاش رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں مردوں کے ساتھ خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ مظاہرین نے سکھر پولیس اور صالح پٹ پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

    مظاہرین نے الزام لگایا کہ گزشتہ رات دو بجے پولیس اہلکار بغیر لیڈی پولیس کے ہمارے گھروں میں داخل ہوئے، جہاں بزرگوں نے جب مال مویشی لے جانے سے روکا تو اہلکاروں نے خواتین اور بزرگوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین کے مطابق پولیس تشدد سے 70 سالہ جھنگل خان موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جس کی لاش لے کر احتجاج کیا جا رہا ہے۔

    مظاہرین نے بتایا کہ پولیس ہمارے گھروں سے 15 بھینسیں، 15 بکریاں، تین نایاب تیتر، تین تولہ زیور اور 16 سالہ نوجوان غلام عباس کو بھی ساتھ لے گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ غلام عباس کو غائب کر دیا گیا ہے اور میڈیکل لیٹر تک نہیں دیا جا رہا۔ مرہوٹا برادری نے سندھ حکومت، آئی جی پولیس اور اعلیٰ عدالتوں سے فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: مانکا کینال سے مردہ جانور کا گوشت برآمد، ملزم فرار

    ڈیرہ غازی خان: مانکا کینال سے مردہ جانور کا گوشت برآمد، ملزم فرار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر جواد اکبر)ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مانکا کینال سے مردہ جانور کا مضر صحت گوشت برآمد کر لیا۔ کارروائی محکمہ لائیو اسٹاک اور فوڈ اتھارٹی کی مشترکہ ٹیم نے اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر نذر حسین کورائی کی نگرانی میں کی، تاہم ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

    برآمد شدہ گوشت کو فوری طور پر ضبط کر کے غازی گھاٹ کے مقام پر دریائے سندھ میں تلف کر دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے اس موقع پر واضح کیا کہ انسانی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مضر صحت یا مشکوک گوشت کی فروخت کی صورت میں فوری طور پر ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ محکموں کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

  • سیالکوٹ: ماں بنی قاتل! ناجائز تعلق چھپانے کیلئے اپنے ہی بچے مروادیے

    سیالکوٹ: ماں بنی قاتل! ناجائز تعلق چھپانے کیلئے اپنے ہی بچے مروادیے

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو)تھانہ صدر سیالکوٹ کے علاقے بھیکو چھور میں دو معصوم بچوں کے اندھے قتل کی لرزہ خیز واردات کا معمہ حل کر لیا گیا۔ پولیس نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں ملوث ملزمان کو 12 گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیا۔ دلخراش انکشافات کے مطابق بچوں کا قتل ان کی والدہ کے ناجائز تعلقات چھپانے کی کوشش میں کیا گیا۔

    چھ سالہ ام کلثوم اور تین سالہ وارث، جو محنت کش کاشف کے بچے تھے، گزشتہ روز لاپتہ ہوئے اور اگلے دن ان کی لاشیں قریبی قبرستان سے برآمد ہوئیں۔ قتل بےرحمی سے اینٹوں کے وار کر کے کیا گیا تھا۔ ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے خود موقع پر پہنچ کر تحقیقات کی نگرانی کی اور ایس پی انویسٹی گیشن عثمان منیر سیفی کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی۔

    تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ مقتول بچوں کی والدہ نادرا بی بی کے علاقے کے بااثر شخص ملک فاروق سے ناجائز تعلقات تھے، جنہیں ام کلثوم نے دیکھ لیا۔ راز فاش ہونے کے خدشے پر فاروق نے نادرا کے ساتھ مل کر بچوں کو قتل کرنے کی سازش کی اور دونوں کو انتہائی سفاکی سے مار ڈالا۔

    ڈی پی او فیصل شہزاد نے کہا کہ ایسے درندہ صفت مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں، انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دلوا کر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔ سیالکوٹ پولیس کی برق رفتاری اور پیشہ ورانہ مہارت پر اہل علاقہ نے اظہار تحسین کیا ہے۔

  • اوکاڑہ: ظفر اقبال نے بطور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر چارج سنبھال لیا، ریسکیو ٹیم کا پرتپاک استقبال

    اوکاڑہ: ظفر اقبال نے بطور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر چارج سنبھال لیا، ریسکیو ٹیم کا پرتپاک استقبال

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی، ملک ظفر)ظفر اقبال نے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر اوکاڑہ کے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھال لیا۔ سنٹرل اسٹیشن آمد پر ضلع بھر کے افسران اور ریسکیورز نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، کنٹرول روم انچارج سلیم مسعود، ریسکیو سیفٹی آفیسرز رانا طارق صدیق، ندیم اصغر اور عارف اقبال نے پھولوں کے گلدستے پیش کیے جبکہ چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔

    اس موقع پر ظفر اقبال نے تمام ریسکیورز سے فرداً فرداً مصافحہ کیا اور شاندار استقبال پر شکریہ ادا کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اور بروقت ایمرجنسی سروسز کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ایک مضبوط ٹیم کی صورت میں عوامی خدمت کو یقینی بنایا جائے گا۔

  • واربرٹن: پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف کامیاب کارروائی، 2 ملزمان رنگے ہاتھوں گرفتار، 6 کلو سے زائد منشیات برآمد

    واربرٹن: پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف کامیاب کارروائی، 2 ملزمان رنگے ہاتھوں گرفتار، 6 کلو سے زائد منشیات برآمد

    واربرٹن (باغی ٹی وی، عبدالغفار چوہدری)پولیس تھانہ واربرٹن نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دو منشیات فروشوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ ایس ایچ او مجاہد عباس ملہی کی سربراہی میں کی گئی کارروائی کے دوران ملزم نوازش سے 5460 گرام جبکہ اسامہ سے 560 گرام منشیات برآمد ہوئی۔

    پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ ڈی پی او ننکانہ سید ندیم عباس کا کہنا ہے کہ نشے کا کاروبار کرنے والے معاشرے کے دشمن ہیں، انہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ضلع کو منشیات سے پاک کرنا پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

  • اوچ شریف: غیرقانونی بھانوں سے شہر گندگی اور بیماریوں کی لپیٹ میں، شہریوں کا فوری نوٹس کا مطالبہ

    اوچ شریف: غیرقانونی بھانوں سے شہر گندگی اور بیماریوں کی لپیٹ میں، شہریوں کا فوری نوٹس کا مطالبہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)غیرقانونی بھانوں سے روحانی شہر ماحولیاتی تباہی کا شکار، تعفن، بیماریوں اور انسانی المیے پر شہری سراپا احتجاج

    پنجاب کا روحانی و تاریخی شہر اوچ شریف اس وقت ایک شدید ماحولیاتی بحران میں مبتلا ہے، جہاں درجنوں غیر قانونی جانوروں کے بھانے شہری زندگی کے لیے عذاب بن چکے ہیں۔ شہر کی گلیاں، رہائشی علاقے اور نالیاں گندگی، تعفن، خون آلود پانی اور جانوروں کے فضلے سے اٹی پڑی ہیں، جس سے نہ صرف شہریوں کا روزمرہ معمول مفلوج ہو گیا ہے بلکہ مختلف مہلک امراض بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

    شہریوں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ بھانے بااثر افراد کی سرپرستی میں عرصہ دراز سے قائم ہیں اور انتظامیہ کی خاموشی اس غیرقانونی کاروبار کو دوام دے رہی ہے۔ فضلے کی بدبو سے شہری گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ سانس کی بیماریاں، دمہ، اسہال، جلدی امراض اور پیٹ کے مسائل بچوں، خواتین اور بزرگوں کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔

    مقامی رہائشی محمد رمضان، عامر محمود، الحسن اکبر اور شفیق احمد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ "یہ شہر اولیاء کا مرکز ہے، مگر بدقسمتی سے انتظامیہ کی غفلت نے اسے گندگی کا مرکز بنا دیا ہے۔ بچوں کا اسکول جانا، خواتین کا گھروں سے نکلنا اور بزرگوں کا مسجد تک جانا بھی عذاب بن چکا ہے۔”

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز، چیف سیکرٹری، سیکرٹری ماحولیات، کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فرحان فاروق سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ:

    * شہر کے رہائشی علاقوں میں موجود تمام غیر قانونی بھانوں کی فوری بندش کو یقینی بنایا جائے
    * ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ماحولیات پر مشتمل خودمختار ٹاسک فورس تشکیل دی جائے
    * فضلہ ٹھکانے لگانے کے لیے جدید اور منظم نظام نافذ کیا جائے
    * گندگی پھیلانے اور ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اوچ شریف میں ایک مکمل ماحولیاتی سانحہ جنم لے سکتا ہے جو نہ صرف صحت عامہ کے لیے خطرہ بنے گا بلکہ روحانی و ثقافتی ورثے کی توہین بھی تصور ہوگا۔

  • وفاقی محتسب، واپڈا گردی کے سامنے امید کی آخری کرن

    وفاقی محتسب، واپڈا گردی کے سامنے امید کی آخری کرن

    وفاقی محتسب، واپڈا گردی کے سامنے امید کی آخری کرن
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    یہ کالم سنی سنائی باتوں پر مبنی نہیں بلکہ میری ذاتی آپ بیتی ہے۔ اس میں جو کچھ لکھا ہے نہ وہ افسانہ ہے، نہ مبالغہ آرائی اور نہ ہی الفاظ کا کوئی جادو۔ میں ایک ایماندار میپکو صارف ہوں، برسوں سے اپنے خون پسینے کی کمائی سے بجلی کے بل ادا کر رہا ہوں۔ نہ کبھی میٹر سے چھیڑ چھاڑ کی، نہ بجلی چوری کا گناہ کیا۔ لیکن جب میں نے اپنے علاقے میں کھلم کھلا بجلی چوری دیکھی، ٹرانسفارمرز سے لٹکتے کنڈے اور منظم انداز میں لائنوں پر چوری دیکھی تو میرا ضمیر جاگ اٹھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاؤں گا۔ مگر افسوس! میری ایمانداری ہی میرے لیے جرم بن گئی۔ میں نے ایکسئین، ایس ڈی او اور لائن سپرنٹنڈنٹ کو تحریری شکایات دیں، ثبوت دیے اور اپیل کی کہ چوروں کو پکڑیں، ایماندار صارفین کو ناجائز ڈیٹیکشن بل بھیج کر سزا نہ دیں۔ لیکن ہوا یہ کہ مجھے ہی سزا دے دی گئی، میپکو کے ناخداؤں نے میرے نام 14 ہزار روپے سے زائد کا ناجائز ڈیٹیکشن بل جاری کر دیا۔ مجھے یہ سزا میری ایمانداری کی پاداش میں دی گئی۔

    جب میں اس بل کے خلاف اپنی سب ڈویژن کے ایس ڈی او کے پاس گیا تو بجائے جواب کے مجھے ہٹ دھرمی سے حکم دیا گیا کہ بل ہر صورت ادا کرنا ہوگا۔ میں نے دلیل دی کہ اگر کوئی چوری کی ہوتی تو اس کا کوئی ثبوت ہوتا، میرا میٹر، میرا لوڈ، سب کچھ تمہارے سسٹم میں موجود ہے۔ تم نے چوروں کی بستی کے ٹرانسفارمر سے کنکشن لینا میرا جرم بنا دیا اور مجھے ہی چور ٹھہرا دیا۔ میرے پوچھنے پر کہ کیا ثبوت ہے تمہارے پاس یہ ناجائز بل بھیجنے کا، ایس ڈی او موصوف نے کہاکہ”سب کوبھیجا ہے اور تمہیں بھی یہ بھرنا پڑے گا!” جس پر میں نے جواب دیا کہ میں عدالت میں انصاف کے لیے جاؤں گا، چاہے مجھے سپریم کورٹ تک ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے جہاں تک ممکن ہوگا کوشش کروں گا۔ اس کے بعد میں ایک سینئر وکیل دوست کے پاس گیا اور انہیں اپنا دُکھڑا سنایا کہ میرے ساتھ میپکو نے یہ ظلم کیا ہے۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ میرا کیس کورٹ میں فائل کریں اور مجھے اس ظلم سے نجات دلائیں۔ اس وکیل دوست نے جو مجھے جواب دیا، وہ انتہائی مایوس کن تھا،انہوں نے کہا "میرے بھائی! آپ کا بل صرف 14,000 روپے ہی تو ہے، جمع کرائیں اور اپنی جان چھڑائیں۔ عدالتوں کے چکر میں آپ کو یہ بل معلوم نہیں کتنا مہنگا پڑے گا کیونکہ آپ کو ہمارے اس عدالتی نظام سے انصاف نہیں ملے گا۔ پوری کچہری چوری کی بجلی پر چل رہی ہے، جہاں سبھی اس چوری میں ملوث ہوں، آپ کے حق میں کیسے فیصلہ آ سکتا ہے؟ میں آپ کا کیس عدالت میں فائل نہیں کر سکتا، بس آپ جائیں بل جمع کرائیں۔”

    اس جواب نے مجھے انتہائی مایوس کیا اور یہ بات واضح ہو گئی کہ کرپشن کس قدر ہمارے اداروں میں جڑیں پکڑ چکی ہے۔ کچہری سے نکل ہی رہا تھا کہ ایک دوست عابد خان لشاری سے ملاقات ہو گئی۔ انہیں تمام ماجرا سنایا تو انہوں نے ایک آدمی کو فون کیا اور کہا کہ "یہ ہمارے سینئر صحافی دوست ہیں، یہ آپ کے پاس آ رہے ہیں، ان کی رہنمائی کریں، انہیں کیا کرنا چاہیے؟” میں عابد خان لشاری کے بتائے ہوئے آدمی کے پاس پہنچا تو اس بندے نے مجھے بتایا کہ ڈیرہ غازی خان خیابانِ سرور میں وفاقی محتسب کا دفتر کھل رہا ہے، وہاں جائیں، درخواست دیں۔ ادھر سے آپ کو مکمل انصاف ملے گا۔ اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آپ آن لائن وفاقی محتسب کو بھی درخواست بھیج سکتے ہیں اور ساتھ میں میپکو ہیڈکوارٹر کو بھی درخواست رجسٹری کرا کر بھیج دیں۔ اس بھلے بندے کے کہنے پر میں نے درخواستیں لکھیں، آن لائن وفاقی محتسب کو درخواست بھیجی، ساتھ میں میپکو ہیڈکوارٹر ملتان بھی درخواست بذریعہ رجسٹری ڈاک بھیج دی۔ جس کا آج تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ درخواست پاکستان پوسٹ والوں نے دریائے چناب میں بہا دی یا میپکو ہیڈکوارٹر کی ردی میں گم ہو گئی۔

    تو خیر کچھ دنوں بعد ایک سرکاری نمبر سے کال آئی جس میں مجھے بتایا گیا کہ وہ وفاقی محتسب کے ریجنل آفس سے بات کر رہے ہیں اور مجھ سے چند ضروری سوالات پوچھے گئے اور پھر بتایا کہ کل آپ کی تاریخ ہے، آپ ہمارے آفس اپنے کیس کی سماعت کے لیے تشریف لائیے گا۔ سب سے پہلے جب میں وفاقی محتسب کے ریجنل آفس ڈیرہ غازی خان پہنچا تو وہاں موجود سٹاف نے میرے ساتھ ایسا خوبصورت برتاؤ کیا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں کوئی ان کا وی آئی پی مہمان ہوں۔ کرسی پر بٹھایا گیا، فوری طور پر ایک ملازم نے پانی پیش کیا۔ اس کے بعد میرے آنے کا مقصد پوچھا تو میں نے بتایا کہ کل فون کال آئی تھی، آج مجھے کیس کی سماعت کے لیے بلایا گیا ہے۔ پھر مجھے ایک نوجوان اپنے لیگل آفس میں لے گیا جہاں ایک خوبصورت نوجوان لیگل ایڈوائزر موجود تھا، جس نے اپنے تعارف میں بتایا کہ اس کا نام ملک ارباب رحیم ہے۔ میرے کاغذات کی جانچ کے بعد بتایا کہ آپ کا کیس سیکنڈ فلور پر ریجنل انچارج ڈاکٹر محمد زاہد صاحب سماعت کریں گے۔ ایک ملازم میرے ساتھ بھیجا جو مجھے کمرہ سماعت میں لے گیا۔ جب میں نے آفس کے اندر جانے کی اجازت طلب کی تو مجھے فوری اور باعزت طریقے سے کہا گیا کہ تشریف لائیے!

    جب میں ڈاکٹر محمد زاہد صاحب کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کو کہا اور مسئلہ پوچھا۔ میرے بتانے پر انہوں نے میری درخواست والی فائل منگوائی اور تفصیل سے اسے پڑھا اور مجھ سے انتہائی شفقت بھرے انداز میں سوالات پوچھے جن کے میں نے جوابات دیے۔ پھر ڈاکٹر زاہد صاحب نے واپڈا والوں کو بلایا اور ان سے میرے بل سے متعلق تمام ریکارڈ فوری طور پر طلب کیا۔ واپڈا یا میپکو کے ذمہ داران میرے خلاف کسی بھی قسم کی بے ضابطگی ثابت نہ کر سکے، جس پر وفاقی محتسب نے میرے حق میں فیصلہ صادر فرمایا۔ یہ فیصلہ میرے لیے واپڈا کے ظلم، دھونس اور دھاندلی کے بعد ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔ یہ محسوس ہوا کہ اگر تمام ادارے اپنے اندر خود احتسابی کا مؤثر نظام قائم کرتے تو عوام کو کبھی اس طرح کی اذیت سے نہ گزرنا پڑتا۔ یہ کرپشن ہی ہے جس نے کسی بھی محکمے میں خود احتسابی کو اپنے ہاں قدم ہی نہ رکھنے دئے۔

    ایک ماہ بعد وفاقی محتسب اسلام آباد سے توثیق شدہ فیصلہ موصول ہوا۔ جب میں اس فیصلہ کی کاپی لے کر واپڈا کے آر او آفس گیا تو وہاں نئے فسانے میرے منتظر تھے۔ آر او نے اس فیصلے پر نوٹ جاری کرکے مجھے متعلقہ کلرک راشد کے پاس بھیجا۔ جب اس کلرک بادشاہ کے پاس پہنچا تو اس نے کہا کہ آپ ایکسئین آفس میں ذاکر صاحب کے پاس جائیں۔ جب وہاں پہنچا تو آفس کھلا تھا لیکن سیٹ پر کوئی موجود نہیں تھا۔ باہر موجود ایک بندے سے پوچھا کہ ذاکر صاحب کون ہیں اور کہاں ملیں گے تو اس بندے نے جواب دیاکہ "تیسرا دن ہے میں مسلسل انتظار کر رہا ہوں، مجھے ابھی تک نہیں ملا۔” چوتھے دن خوش قسمتی سے میری ذاکر صاحب سے ملاقات ہو گئی، کہنے لگے کہ آج میرے پاس ٹائم نہیں ہے، میں وفاقی محتسب جا رہا ہوں، آپ کل تشریف لائیے گا۔ جب میں اگلے دن ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا اس فیصلہ کی کاپی آپ مجھے دے کر جائیں، دو تین دن بعد آنا۔ اسے کاپی کرا دی۔ اور تیسرے دن ذاکر صاحب کی دی گئی پیشی پر پہنچا تو مجھے ان کی طرف سے بھاشن دیا گیا کہ آپ اشفاق صاحب کے پاس جائیں۔ اس دن مجھے ڈھونڈنے سے بھی کہیں پر اشفاق صاحب نہ ملے۔ پھر اگلے دن اشفاق سے ملاقات ہو گئی تو جناب نے حکم جاری کیا کہ آپ کا فیصلہ ابھی تک ہمارے ہاں نہیں پہنچا! میں نے کہاکہ "جناب اسلام آباد سے فیصلہ جاری ہوئے 43 دن ہو چکے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ہمیں آپ کا فیصلہ نہیں ملا؟” جس پرجواب دیا گیا کہ آپ کا فیصلہ میپکو ہیڈ کوارٹر میں پڑا ہوگا، وہ بھیجیں گے تو ہمارے پاس آئے گا۔

    تھک ہار کردوبارہ وفاقی محتسب کے ریجنل آفس پہنچا، ڈاکٹر زاہد سے ملاقات کی اور انہیں تمام حالات سے آگاہ کیا۔ جس پر انہوں نے دوبارہ نوٹس لیا، ایمپلیمنٹیشن لیٹر سمیت واپڈا/میپکو کے ذمہ داران کو طلب کیا۔ جنہوں نے پھر اگلے ہفتے عمل درآمد کی رپورٹ جمع کرائی اور مجھے بھی وفاقی محتسب سے عمل درآمد کے لیٹر کی کاپی جاری ہوئی۔ جب اگلے روز میں اپنے نئے بل اور عمل درآمد کی کاپی لے کر آر او آفس گیا تو انہوں نے اس لیٹر دیکھنے کے بعد اپنے ریمارکس لکھے اور مجھے کہا کہ آج راشد چھٹی پر ہے، حسنین بیٹھا ہے، اس کے پاس جائیں، وہ آپ کو بل بنا کر دے گا۔ جب حسنین کے پاس گیا تو وہاں ایک اورحکم میرا منتظر تھا کہ آپ یہ تمام کاغذات لے کر اشفاق کے پاس جائیں، وہی اس پر عمل درآمد کرائے گا۔ جب اشفاق کے پاس پہنچا انہوں نے پھر حکم دیا کہ آپ سوموار یعنی پانچ روز بعد آنا۔ میں نے کہا: "ایسا کیا مسئلہ ہے؟ جب آپ لوگوں نے رپورٹ وفاقی محتسب میں جمع کرا دی ہے تو میرا بل ٹھیک کیوں نہیں ہو سکتا؟” جس پر اشفاق نے جواب دیا کہ ادھر رپورٹ تو ہم نے جمع کرا دی تھی لیکن ابھی تک ایکسئین کے سائن ہونا باقی ہیں۔ میں نے جب پوچھا کہ جب ایکسئین کے سائن نہیں ہوئے تو پھر ایمپلیمنٹیشن لیٹر وفاقی محتسب کو کیسے جمع کرا دیا ہے؟ یہ جو کاپی ہے اس پر کس کے سائن ہیں، دوسری کون سی اتھارٹی ہے جو انہیں بائی پاس کر رہی ہے؟ میں نے کہاکہ "مہربانی کریں، حسنین کو بتائیں اور میرا نیا بل جاری کروائیں۔” جس پر اشفاق نے کہا کہ آپ دوبارہ حسنین کے پاس جائیں اور میری یہ نشانی دیں کہ میں نے ابھی ان سے فون پر بات کی ہے تو وہ تمہیں نیا بل جاری کر دے گا۔

    کئی بار سیڑھیاں اوپر چڑھتے اور اترتے ٹانگیں درد کرنے لگیں اور شدید گرمی میں سانس بھی پھولنے لگا۔ اس دوران میں دوبارہ حسنین کے پاس پہنچا اور اسے نشانی بتائی تو اس نے کہاکہ ٹھہرو ،میں بل بنا دیتا ہوں۔” میں نے اسے کہا کہ ڈیٹیکشن بل جمع نہ کرانے کے باعث اس بل میں جرمانے لگے ہوئے ہیں، جب اصل رقم ہی ختم ہو گئی ہے تو جرمانہ کس چیز کا، وہ بھی ختم کرکے بل بنائیں۔ اس نے مجھے بل اور دوسرے کاغذات واپس کرتے ہوئے کہاکہ "آپ کا بل نہیں بنتا، جائیں آپ جہاں سے بنوا سکتے ہیں بنوا لیں۔ ہمیں جو عدالت کا حکم ہے ہم اسی پر عمل درآمد کریں گے۔” اس کے بعد دوبارہ آر او کے پاس گیا، اسے اپنا مسئلہ بتایا اور کہا کہ جب اصل رقم ہی ختم ہو گئی ہے تو اس رقم کا جرمانہ کیسا؟ جس پر انہوں نے میرے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک درخواست لکھیں، میں جرمانے ختم کر دیتا ہوں۔ درخواست پر جرمانے ختم کرانے کا آرڈر لے کر دوبارہ حسنین کے پاس پہنچا تو اس نے کہا کہ یہ کام مجھ سے نہیں ہوگا، سوموار کو راشد آئے گا تو آپ کا بل وہی درست کرے گا۔ پھر تین دن گزرنے کے بعد سوموار کو میپکو کمپلیکس پہنچا، سب سے پہلے حسنین سے ہی ملاقات ہوئی، جس نے کہا کہ آپ راشد کے پاس جائیں۔ جب راشد کے پاس گیا تو اس نے کہا کہ آپ حسنین کے پاس جائیں۔ مجھ سمیت بیشتر سائلین شٹل کاک بن گئے! پھر تھک کر میں دوبارہ آر او کے پاس گیا تو آر او نے راشد کو ڈائریکٹ کہا کہ آپ ان کا بل بنا دیں۔ اس حکم کے بعد بھی مجھے تقریباََ ڈیڑھ گھنٹہ کھڑا رکھنے بعد بل بنایا گیا، جس پر میں نے آر او کا شکریہ ادا کیا اور پنجاب بینک جا کر بل ادا کیا۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے جس طرح وفاقی محتسب بے مثال کام کر رہا ہے، باقی محکمے کیوں نہیں کرتے؟ اور وفاقی محتسب کے دیے گئے ریلیف پر واپڈا/میپکو کے اہلکار فرعون کیوں بن جاتے ہیں؟ کیوں عوام کو اپنے جائز حقوق کے لیے اس قدر دھکے کھانے پڑتے ہیں؟ یہ تمام واقعات ہمارے نظام میں موجود سرخ فیتہ شاہی اور کرپشن کی واضح مثال ہیں۔ کاش پاکستان میں ایسا کوئی انقلاب آئے جہاں تمام ادارے اپنے اندر خود احتسابی کا مربوط نظام قائم کر سکیں اور وفاقی محتسب کے دیے گئے فیصلوں کے خلاف روڑے نہ اٹکائیں۔ عوام کے لیے انصاف کو آسان اور فوری بنایا جائے تاکہ جس طرح مجھے وفاقی محتسب سے ریلیف ملاہے اسی طرح ہر مظلوم کے حصے میں بھی ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آئے اور انہیں اپنے حقوق کے لیے دربدر کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔

  • ٹھٹھہ: لمس کے ڈاکٹر کے غلط آپریشن سے 14 سالہ لڑکا زندگی و موت کی کشمکش میں، باپ کی وزیراعلیٰ سندھ سے فریاد

    ٹھٹھہ: لمس کے ڈاکٹر کے غلط آپریشن سے 14 سالہ لڑکا زندگی و موت کی کشمکش میں، باپ کی وزیراعلیٰ سندھ سے فریاد

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) سول ہسپتال مکلی میں لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو (لمس) کے ڈاکٹر معشوق خواجہ پر غریب شہری اللہ بچایو سموں نے بیٹے کے غلط آپریشن کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے انصاف کی اپیل کی ہے۔ عوامی پریس کلب ٹھٹھہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اللہ بچایو سموں کا کہنا تھا کہ اس کے 14 سالہ بیٹے غلام علی کو اچانک پیٹ میں شدید درد ہوا، جس پر اسے فوری طور پر سول ہسپتال مکلی لایا گیا، جہاں ڈاکٹر معشوق خواجہ نے اسے اپنے پرائیویٹ سینٹر "حسینی ہسپتال مکلی” لے جانے کا مشورہ دیا۔

    اللہ بچایو کے مطابق ڈاکٹر نے وہاں پہلے 75 ہزار روپے کی رقم کاؤنٹر پر جمع کرانے کا مطالبہ کیا، جو اس نے غربت کے باوجود قرض لے کر ادا کی۔ تاہم ڈاکٹر معشوق نے غیر ذمہ دارانہ طور پر غلط آپریشن کیا جس سے بچے کی حالت مزید بگڑ گئی۔ اللہ بچایو کا کہنا ہے کہ دوبارہ سول ہسپتال مکلی میں لے جا کر دوسرا آپریشن بھی کروایا گیا جو ناکام رہا اور بعد ازاں کراچی کے جناح ہسپتال ریفر کر دیا گیا، جہاں بچے کو داخل تک نہیں کیا گیا۔

    متاثرہ باپ نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر نے محض مالی لالچ میں آ کر اس کے بیٹے کی جان کو خطرے میں ڈالا اور اب تک وہ ڈھائی سے تین لاکھ روپے خرچ کر چکا ہے لیکن بیٹے کی حالت بدستور خراب ہے۔ اللہ بچایو سموں نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر صحت، سیکریٹری صحت، وائس چانسلر لمس، اور ٹھٹھہ کے منتخب نمائندوں حاجی علی حسن زرداری، سید ریاض شاہ شیرازی اور صادق علی میمن سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر معشوق خواجہ کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور اس کے بیٹے کے علاج کے لیے حکومتی مدد فراہم کی جائے۔

    علاقائی سطح پر یہ واقعہ میڈیکل نظام کی خامیوں اور ڈاکٹروں کی مبینہ تجارتی سوچ پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے۔ متاثرہ خاندان کو فوری انصاف اور بچے کے بہتر علاج کی فوری ضرورت ہے تاکہ ایک اور قیمتی جان ضائع ہونے سے بچائی جا سکے۔

  • ننکانہ صاحب: میٹرک میں تیسری پوزیشن لینے والے فیضان رضا نے ایک دن کیلئے ڈپٹی کمشنر کا چارج سنبھالا

    ننکانہ صاحب: میٹرک میں تیسری پوزیشن لینے والے فیضان رضا نے ایک دن کیلئے ڈپٹی کمشنر کا چارج سنبھالا

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ننکانہ صاحب کی تاریخ میں ایک منفرد اور حوصلہ افزا قدم اٹھایا گیا، جہاں لاہور بورڈ میں میٹرک امتحانات میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے ہونہار طالبعلم فیضان رضا کو ایک دن کے لیے اعزازی ڈپٹی کمشنر کا چارج سونپا گیا۔ اس موقع پر فیضان رضا کو پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ان کے گھر سے ڈپٹی کمشنر آفس پہنچایا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر شاہکوٹ ثناء شرافت اور دیگر ضلعی افسران نے انہیں سرکاری گاڑی میں بٹھا کر ڈی سی آفس روانہ کیا۔ فیضان رضا نے اپنے دن کا آغاز گورنمنٹ ہائی اسکول شاہکوٹ نمبر 1 کے دورے سے کیا، جہاں انہوں نے اپنے اساتذہ اور طلبا سے ملاقات کی اور اس کامیابی پر اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔

    ڈپٹی کمشنر آفس پہنچنے پر اصل ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو اور دیگر افسران نے اعزازی ڈپٹی کمشنر کا پرتپاک استقبال کیا۔ فیضان رضا نے شہریوں کے مسائل سنے اور ضلعی افسران سے تفصیلی بریفنگ بھی لی۔ بعدازاں انہوں نے مریم نواز سکول فار اسپیشل چلڈرن (سنٹر آف ایکسیلنس) اور گورنمنٹ گرونانک گریجویٹ کالج برائے خواتین کا بھی دورہ کیا۔

    مون سون شجرکاری مہم کے تحت انہوں نے ننکانہ سٹی کے پبلک پارکس میں پودے لگا کر ماحول دوست اقدام میں بھی حصہ لیا۔ میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے فیضان رضا نے کہا:
    "ڈپٹی کمشنر بننا میرے لیے ایک بڑا اعزاز ہے، میں ایک سبزی فروش کا بیٹا ہوں، زندگی میں بہت مشکلات آئیں، لیکن والدین اور اساتذہ نے ہمیشہ ساتھ دیا۔ میں یہ اعزاز اپنے والدین اور اساتذہ کے نام کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ ملک و قوم کا نام روشن کرنے کے لیے مزید محنت کروں گا۔”

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو نے کہا کہ اگر کوئی ضلع میں پہلی پوزیشن حاصل کرتا تو اسے مزید پروٹوکول ملتا۔ انہوں نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ تعلیم کو اپنا ہدف بنائیں اور والدین، اساتذہ اور ملک کا نام روشن کریں۔

    عوامی، وکلاء، اور تاجر حلقوں نے اس اقدام کو بے حد سراہا اور ڈپٹی کمشنر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے نوجوانوں میں تعلیم کے لیے دلچسپی بڑھے گی اور ایک مثبت مقابلے کی فضا قائم ہو گی۔

    یہ اقدام نہ صرف ایک طالبعلم کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ محنت، خلوص اور لگن سے کامیابی کے دروازے کھلتے ہیں – چاہے پس منظر کچھ بھی ہو۔