Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ: محکمہ تحفظ جنگلی حیات کی بڑی کارروائی، بھاری تعداد میں بھورے جنگلی تیتر برآمد، ملزم فرار

    اوکاڑہ: محکمہ تحفظ جنگلی حیات کی بڑی کارروائی، بھاری تعداد میں بھورے جنگلی تیتر برآمد، ملزم فرار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)محکمہ تحفظ جنگلی حیات اوکاڑہ نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھاری تعداد میں نایاب بھورے جنگلی تیتر برآمد کر لیے۔ یہ کارروائی اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر شہباز انور مان کی ہدایت پر عمل میں لائی گئی، جس میں سینئر رینجر آفیسر رائے اعجاز احمد، میاں طارق عزیز، محمد مشتاق احمد اور محمد عمران خان پر مشتمل وائلڈ لائف ٹیم نے حصہ لیا۔

    کارروائی کے دوران اوکاڑہ کے رہائشی مشتاق عرف بگی کے گھر پر قانونی سرچ وارنٹ کے تحت چھاپہ مارا گیا، جہاں سے بڑی تعداد میں جنگلی تیتر برآمد ہوئے۔ تاہم ملزم وائلڈ لائف رینجر عملے کو دیکھتے ہی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

    محکمہ وائلڈ لائف نے تمام برآمد شدہ پرندے مالِ مقدمہ کے طور پر اپنی تحویل میں لے کر قانونی کارروائی مکمل کی اور مقدمہ عدالتِ اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ اوکاڑہ میں پیش کر دیا گیا۔

    اس موقع پر شہباز انور مان نے کہا کہ جنگلی جانوروں اور پرندوں کے تحفظ کے لیے وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی، اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

  • اوکاڑہ: اسسٹنٹ کمشنر  کا مختلف علاقوں کا دورہ، صفائی کے انتظامات کا جائزہ

    اوکاڑہ: اسسٹنٹ کمشنر کا مختلف علاقوں کا دورہ، صفائی کے انتظامات کا جائزہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اسسٹنٹ کمشنر اوکاڑہ چوہدری رب نواز نے شہر کے مختلف علاقوں کا اچانک دورہ کر کے صفائی ستھرائی کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ کمپلیکس، چرچ روڈ، سی بلاک، میونسپل کمیٹی روڈ، گول چوک اور اس سے ملحقہ بازاروں، صمد پورہ اور فیصل آباد روڈ سمیت اہم مقامات پر صفائی کے انتظامات کا معائنہ کیا۔

    دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے گول چوک سے ملحقہ علاقوں میں نالیوں کی صفائی کا جائزہ لیتے ہوئے سینٹری ورکرز کو ہدایات جاری کیں کہ تمام علاقوں کی فوری اور مکمل کلیرنس کو یقینی بنایا جائے۔ میونسپل کمیٹی روڈ پر واٹر فلٹریشن پلانٹ کی فعالیت چیک کی گئی اور عوامی سہولت کے پیش نظر پلانٹ آپریٹر کا نمبر نمایاں مقام پر آویزاں کرنے کا حکم دیا گیا۔

    صمد پورہ میں انہوں نے گھروں سے سالڈ ویسٹ کی کلیکشن کے عمل کا جائزہ لیتے ہوئے مقامی شہریوں سے صفائی انتظامات پر فیڈ بیک بھی حاصل کیا۔ اس موقع پر چوہدری رب نواز نے کہا کہ شہر کی خوبصورتی اور صفائی ستھرائی کو برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ان کی خود نگرانی بھی جاری ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صفائی عملے سے بھرپور تعاون کریں تاکہ شہر کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنایا جا سکے۔

  • اوچ شریف: زمین کے تنازع نے بھائی کو دشمن بنا دیا، نذیر احمد کی دہائی پر پولیس خاموش

    اوچ شریف: زمین کے تنازع نے بھائی کو دشمن بنا دیا، نذیر احمد کی دہائی پر پولیس خاموش

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار: حبیب خان)موضع لاڑ بستی کھنڈو، تھانہ نو شہرہ جدید کی حدود میں زمین کے تنازع نے خاندانی رشتوں کو دشمنی میں بدل دیا ہے۔ نذیر احمد نامی شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے سگے بھائی وزیر احمد نے زرعی زمین ہتھیانے کی غرض سے نہ صرف اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر رکھی ہیں بلکہ اس کی جان کو بھی شدید خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔

    نذیر احمد نے اس سلسلے میں تھانہ نو شہرہ جدید، ایس ایچ او اور ڈی پی او بہاولپور کو متعدد بار تحریری درخواستیں دیں، تاہم پولیس کی جانب سے مکمل خاموشی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ ہو چکا ہے اور پولیس کی مجرمانہ خاموشی اسے موت کے منہ کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کوئی افسوسناک واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری پولیس اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

    علاقہ مکینوں نے بھی پولیس رویے پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمینی تنازعات جیسے نازک معاملات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے عملی ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو یہ خاندانی جھگڑا کسی بڑے خونی سانحے میں بدل سکتا ہے۔

    سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی پی او بہاولپور فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیں، نذیر احمد کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور وزیر احمد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی غیر سنجیدگی نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی ہے، جو کسی وقت بھی قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ اگر بروقت اقدام نہ اٹھایا گیا تو صرف مذمت اور افسوس باقی رہ جائے گا۔

  • سکھر: محکمہ پولیس کے درجنوں اہلکاروں کے خلاف سزائیں، تبادلے اور اپیلیں مسترد

    سکھر: محکمہ پولیس کے درجنوں اہلکاروں کے خلاف سزائیں، تبادلے اور اپیلیں مسترد

    سکھر (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی زیر صدارت اردلی روم کا اہم اجلاس دفتر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ سکھر رینج میں منعقد ہوا، جس میں کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال، جرائم پر قابو پانے میں ناکامی اور محکمانہ غفلت کے الزامات پر پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمہ جاتی انکوائریوں کی روشنی میں سخت فیصلے سنائے گئے۔ اجلاس میں افسران و اہلکاروں کو میجر و مائنر سزائیں، تبادلے، تنبیہات اور برطرفی کے خلاف اپیلوں پر فیصلے جاری کیے گئے۔

    انسپکٹر عمران خان بھیو، انسپکٹر محمد رمضان ملاح اور کانسٹیبل عبدالجبار چنا کی ایک سال کی سروس ضبط کرلی گئی۔ انسپکٹر نظیر احمد منگی، سید آفتاب احمد شاہ، سعید احمد میرانی، سب انسپکٹر رحمت اللہ سولنگی، غلام صفدر بوزدار، مہربان کولاچی، اے ایس آئی تاج محمد ملک، اعجاز علی گڈانی، علی حسن ملاح، ہیڈ کانسٹیبل عبداللہ کلوڑ اور کانسٹیبل فقیر محمد رند کے سالانہ انکریمنٹ روکے گئے، جبکہ سب انسپکٹر سکندر علی لاکھیر کا دو سال کا انکریمنٹ روکا گیا۔

    سب انسپکٹر ذوالفقار بھمبرو، حق نواز کلوڑ اور کانسٹیبل ثناء اللہ ماچھی کی میجر سزاؤں کے خلاف اپیلیں خارج کر دی گئیں۔ ہیڈ کانسٹیبل عبداللہ کلوڑ کی میجر پنشمنٹ کو مائنر میں تبدیل کر دیا گیا جبکہ کانسٹیبل شرف الدین ملک کی سروس ضبط اور تنزلی کی سزا کو ایک سال کے انکریمنٹ کی روک میں بدل کر انہیں دوبارہ ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر بحال کر دیا گیا۔

    سب انسپکٹر خیر محمد لغاری، ہیڈ کانسٹیبل علی اکبر بھٹو، کانسٹیبل محمد شفیق پتافی اور معشوق علی بھمبرو کی برطرفی کے خلاف اپیلیں مسترد کی گئیں۔ تاہم کانسٹیبل آصف علی شیخ کی برطرفی کو ایک سال کی سروس ضبط کرنے میں تبدیل کرتے ہوئے بحال کر دیا گیا۔ کانسٹیبل عبدالنبی اجن اور عابد حسین مہیسر کی برطرفی کو کمپلسری ریٹائرمنٹ میں بدل دیا گیا۔

    انسپکٹر دیدار حسین ابڑو، جاوید علی میمن، سیف اللہ انصاری، ہیڈ کانسٹیبل محمد سومر پھوڑ، مشتاق احمد دایو، کانسٹیبل تیمور علی کورائی، ممتاز علی کورائی، بشیر احمد ملک، توفیق احمد مہر، زبیر احمد مہر، محمد ابراہیم ڈومکی اور انصاف علی گوپانگ کے خلاف الزامات ثابت نہ ہونے پر ان کے شوکاز نوٹسز فائل کر دیے گئے۔

    انسپکٹر مصور حسین قریشی، عبدل علی پتافی، رضوان ناریجو، سب انسپکٹر عبدالرزاق انصاری، غلام صفدر بوزدار، ثناء اللہ کونهارو، محمد پنیل منگی، اے ایس آئی عبدالجبار پٹھان، کانسٹیبل آصف علی سولنگی، الطاف حسین جتوئی، نظام الدین مری، صدام حسین لاڑک، اسد اللہ لاڑک، نوید ممتاز بھٹو، شیر زادہ پٹھان اور جونیئر کلرک برکت علی لاشاری کو تنبیہ کرتے ہوئے آئندہ محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

    اے ایس آئی رسول بخش دایو، کانسٹیبل مظفر حسین شیخ اور جونیئر کلرک منور حسین وسان کو ویلفیئر برانچز میں شہدائے پولیس کی فیملیز اور مرحوم اہلکاروں کے لواحقین کے مسائل حل نہ کرنے پر ایک سال کا انکریمنٹ روکتے ہوئے آئندہ محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی۔

    سی پیک ڈیوٹی اور دیگر وجوہات کے باعث مختلف یونٹس سے واپسی پر سکھر، خیرپور اور گھوٹکی میں انسپکٹر سے کانسٹیبل رینک کے 30 اہلکاروں کے تبادلے بھی کیے گئے۔

    ڈی آئی جی فیصل عبداللہ چاچڑ نے کہا کہ محکمانہ فرائض میں غفلت، لاپرواہی، کرپشن، اختیارات سے تجاوز اور خاص طور پر شہداء پولیس کی فیملیز سے بے حسی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث افسران و اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔ ان کے خلاف سخت ترین محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • سیالکوٹ: پروفیشنل پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کا اہم اجلاس، نئے ممبران کا شاندار استقبال

    سیالکوٹ: پروفیشنل پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کا اہم اجلاس، نئے ممبران کا شاندار استقبال

    سیالکوٹ (بیوروچیف خرم میر)پروفیشنل پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن رجسٹرڈ سیالکوٹ کا ایک نہایت اہم اجلاس مرکزی چیئرمین خرم میر کی صدارت میں منعقد ہوا، جس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا۔ تلاوت کی سعادت مہر ندیم نے حاصل کی جبکہ نعتِ رسول مقبول ﷺ محمد جمال نے پیش کی۔

    اجلاس کے دوران چیئرمین خرم میر نے پروفیشنل پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن رجسٹرڈ پاکستان میں نئے شامل ہونے والے اراکین مہر فیصل، بلال انجم، محمد یامین، خرم شہزاد، زبیر باجوہ، اسحاق ناگرہ، حسن اور مرزا ساجد کو خوش آمدید کہا اور ہار پہنا کر ان کی شمولیت کا خیرمقدم کیا۔

    اس موقع پر وائس چیئرمین شاہد ریاض، رانا نوید، سینئر وائس چیئرمین عمران چھٹہ، محمد علی، رانا ارشد علی تبسم، رانا جاوید، مہر ندیم، مہر مصطفی، ڈاکٹر وقاص اسلم، محمد جمال، مرزا اسد بیگ، ادریس سندھو، حافظ سلمان، محمد یاسین وٹو، ملک کامران، مدثر رتو، عیسو جمیل، عمران گجر اور دیگر معزز ممبران بھی موجود تھے جنہوں نے نئے اراکین کو مبارکباد دی اور ہار پہنائے۔

    نئے شامل ہونے والے اراکین نے پُرتپاک استقبال پر چیئرمین خرم میر اور تمام ساتھیوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔
    اجلاس کا اختتام اجتماعی دعا کے ساتھ ہوا جس میں تنظیم کی ترقی، اتحاد و یکجہتی اور صحافت کے روشن مستقبل کے لیے دعائیں کی گئیں۔

    Ask ChatGPT

  • ننکانہ صاحب کے ہونہار طالب علم فیضان رضا ایک دن کے لیے اعزازی ڈپٹی کمشنر مقرر

    ننکانہ صاحب کے ہونہار طالب علم فیضان رضا ایک دن کے لیے اعزازی ڈپٹی کمشنر مقرر

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ہونہار طالب علم فیضان رضا ایک دن کے لیے اعزازی ڈپٹی کمشنر مقرر

    ننکانہ صاحب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک طالبعلم کو ایک دن کے لیے اعزازی ڈپٹی کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔ لاہور بورڈ میں میٹرک امتحانات کے نتائج میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے گورنمنٹ ہائی سکول شاہکوٹ نمبر 1 کے ہونہار طالبعلم فیضان رضا کو ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ کی جانب سے یہ اعزاز دیا گیا۔

    ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق فیضان رضا نے آج اعزازی ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب کا چارج سنبھالا اور پورے دن ضلعی انتظامیہ کے مختلف امور کا جائزہ لیا۔ ضلعی افسران نے انہیں ضلعی نظم و نسق، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سروسز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں فیضان رضا، ان کے والدین، اساتذہ اور ضلعی افسران نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے فیضان رضا کو لاہور بورڈ میں شاندار کامیابی حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور انہیں ایک لاکھ روپے نقد انعام بھی پیش کیا۔ مزید برآں، انہوں نے اعلان کیا کہ فیضان رضا کے اساتذہ کو بھی ان کی محنت کے اعتراف میں آدھی تنخواہ بطور انعام دی جائے گی۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ فیضان رضا نے نہ صرف ضلع ننکانہ بلکہ اپنے والدین اور اساتذہ کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی حکومت تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی تاکہ نوجوان نسل کو خدمتِ وطن کے لیے تیار کیا جا سکے۔

  • واربرٹن: حاجی اکرم آرائیں کی اہلیہ کی چوتھی برسی، ایصالِ ثواب کی تقریب میں علما و نعت خواں کی شرکت

    واربرٹن: حاجی اکرم آرائیں کی اہلیہ کی چوتھی برسی، ایصالِ ثواب کی تقریب میں علما و نعت خواں کی شرکت

    واربرٹن (باغی ٹی وی، عبدالغفار چوہدری)واربرٹن کی معروف سماجی و سیاسی شخصیت حاجی محمد اکرم آرائیں کی اہلیہ کی چوتھی برسی کے موقع پر ایک پروقار ایصالِ ثواب و دعا کی تقریب مقامی شادی ہال میں منعقد ہوئی، جس میں علاقہ بھر سے معززین، سیاسی و سماجی شخصیات، علما کرام اور نعت خواں حضرات نے بھرپور شرکت کی۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جس کے بعد بین الاقوامی شہرت یافتہ نعت خواں حضرات نے بارگاہِ رسالت میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔ معروف نعت خواں ظہیر الحسن ظہور ، استاد جوجی علی خان، مدثر ہمدانی، فیصل قیوم اور ننھے نعت خواں موحد نے اپنے مخصوص انداز میں نعتیں پیش کر کے حاضرین کے دلوں کو منور کیا۔

    پروگرام میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر علامہ محب النبی طاہر نے کہا کہ "ہمیں برائیوں سے بچنے کے لیے اپنی موت کو یاد رکھنا چاہیے اور زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق بسر کرنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اطہر کو ہر مقام پر مقدم رکھنا چاہیے اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ فضول اور لاحاصل بحثوں سے اجتناب کریں اور جن باتوں کا مکمل علم نہ ہو، ان پر خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر ہے۔

    تقریب میں ڈاکٹر علی ثقلین حیدر نے اشعار کی صورت میں اپنی والدہ مرحومہ کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جس سے فضا جذباتی اور روحانی کیفیت سے بھر گئی۔ آخر میں حاجی محمد اکرم آرائیں نے تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی شرکت نے اس روحانی محفل کو حقیقی معنوں میں ایصالِ ثواب کا ذریعہ بنایا۔

    تقریب کے اختتام پر مرحومہ کے ایصالِ ثواب اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

  • بی آئی ایس پی، قوم کو بھکاری بنانے کی سازش تو نہیں؟

    بی آئی ایس پی، قوم کو بھکاری بنانے کی سازش تو نہیں؟

    بی آئی ایس پی، قوم کو بھکاری بنانے کی سازش تو نہیں؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں غربت کے خاتمے اور کمزور طبقات کو معاشی تحفظ فراہم کرنے کے دعوے کے ساتھ شروع کیا گیا "بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام” (BISP) آج ایک ایسے سوالیہ نشان کی صورت اختیار کر چکا ہے جو ارباب اختیار کے دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان وسیع خلیج کو واضح کرتا ہے۔ یہ پروگرام، جو 2008 میں غریب خاندانوں، بالخصوص خواتین کو مالی معاونت فراہم کر کے انہیں معاشی بھنور سے نکالنے کے نیک مقصد کے ساتھ شروع کیا گیا تھا، اب خود کرپشن، ناانصافی اور عوامی تضحیک کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ کروڑوں غریب پاکستانیوں کی آنکھوں میں امید کی کرن جگانے والا یہ پروگرام آج قوم کو کشکول تھمانے اور اس کی عزت نفس کو مجروح کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ کیا یہ واقعی غربت مٹانے کی کوشش ہے، یا پھر حکمرانوں کی جانب سے قوم کو مستقل بھکاری بنانے کی ایک سوچی سمجھی سازش؟

    جب BISP کے تحت گھر گھر سروے کا اعلان ہوا تو عوام نے امید کی کہ شاید اب واقعی حق داروں کو ان کا حق ملے گا۔ دعویٰ کیا گیا کہ مستحق خاندانوں کی شناخت شفاف طریقے سے ہوگی، لیکن عملی طور پر ایسا کچھ نہ ہوا۔ یہ سروے گھر گھر نہیں کیے گئے، بلکہ ان کا عمل مخصوص ایجنٹوں کے حوالے کر دیا گیا جنہوں نے عوامی بھلائی کو اپنی ذاتی کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ اطلاعات کے مطابق، ہر سروے ایجنٹ نے مستحق خواتین کے نام شامل کرنے کے لیے مبینہ طور پر 2000 سے 3000 روپے فی خاتون بطور رشوت لیے۔ اس کے نتیجے میں، وہ گھرانے جو حقیقتاً مدد کے مستحق تھے، وہ اس فہرست سے باہر رہ گئے، جبکہ رشوت دینے والے غیر مستحق افراد مستفید ہوتے رہے۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکتا۔ BISP کے ذریعے جو سہ ماہی قسط یعنی 13500 روپے کی رقم دی جاتی ہے، وہ بھی مکمل طور پر مستحق خواتین تک نہیں پہنچ پاتی۔ ایک بار پھر وہی ایجنٹ یا مقامی بینک عملہ میدان میں آتے ہیں اور فی قسط 1000 سے 2000 روپے "کٹوتی” کے نام پر اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں۔ غریب عورتیں، جو پہلے ہی کسمپرسی کا شکار ہوتی ہیں، وہ اس کٹوتی کے خلاف آواز بلند کرنے سے قاصر رہتی ہیں کیونکہ یہ پیسہ ان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوامی پوسٹس اور رپورٹس اس تلخ حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ غریب خواتین کو یہ رقم حاصل کرنے کے لیے طویل قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے، اور کٹوتی کے بعد ان کے ہاتھ میں بہت کم رقم آتی ہے۔ کیا یہی ریاستی ریلیف ہے؟ یا یہ قوم کو بھکاری بنانے کا نیا انداز؟

    یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ کسی کی بیٹی، کسی کی بہن، یا کسی کی ماں 13500 روپے کے لیے لمبی لائنوں میں ذلیل ہو۔ کیا یہ ہمارا اسلامی، مشرقی اور اخلاقی معاشرہ ہے؟ خواتین جو اپنے گھروں میں پردے اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہیں، انہیں سرعام قطاروں میں کھڑا کر کے ان کی عزت پامال کی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں بے غیرت ایجنٹ ان کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں، ان سے رشوت لیتے ہیں، اور کئی بار ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ "یہ امداد نہیں، بلکہ قوم کو بھکاری بنانے کا منصوبہ ہے۔” یہ الفاظ درحقیقت کروڑوں پاکستانیوں کے دل کی آواز ہیں جو اس تذلیل کو روز دیکھتے اور جھیلتے ہیں۔ اگر حکمران واقعی قوم سے مخلص ہوتے، تو یہی پروگرام معاشی خود انحصاری کا ذریعہ بن سکتا تھا۔ بجائے محض وظیفہ دینے کے، حکومت کو چاہیے تھا کہ ان خاندانوں کے سربراہان یا بے روزگار نوجوانوں کو "ون ٹائم گرانٹ” جاری کرتی تاکہ وہ اپنا کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرتے۔ اس کے بعد ہر چھ ماہ بعد ان کے کاروبار کی انسپیکشن کی جاتی، بہتری کے لیے رہنمائی کی جاتی، اور انہیں عزت کے ساتھ جینے کا موقع دیا جاتا۔ مگر شاید حکمران چاہتے ہی نہیں کہ قوم اپنے پاؤں پر کھڑی ہو۔ انہیں ایک ایسی قوم چاہیے جو ہر سہ ماہی پر کشکول لے کر لائنوں میں لگے، عزت نفس قربان کرے، اور در در کی ٹھوکریں کھائے۔

    بی نظیر انکم سپورٹ پروگرام، جو غریب خاندانوں کے لیے امید کی کرن بن سکتا تھا، کرپشن اور بدانتظامی کی وجہ سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ پروگرام غربت کو کم کرنے کے بجائے قوم کو محتاج بنا رہا ہے، اور عوام کے ہاتھ میں کشکول تھما رہا ہے۔ اگر حکمرانوں کی ترجیحات میں قوم کی فلاح شامل ہو، تو وہ اس پروگرام کو ایک بھکاری بنانے والی مشین سے تبدیل کر کے ترقی کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ رشوت خور ایجنٹوں اور کرپٹ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہیں قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔ شفاف ڈیجیٹل سروے کرایا جائے جو بغیر کسی انسانی مداخلت کے مکمل ہو، نادرا کے ڈیٹابیس سے منسلک کر کے اور مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کر کے مستحقین کی درست شناخت یقینی بنائی جائے۔ BISP کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ہنر مند تربیت، چھوٹے قرضوں، اور کاروباری رہنمائی پر خرچ کیا جائے۔ خواتین اور نوجوانوں کے لیے مفت ہنر مندی کورسز (جیسے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ، یا زرعی تربیت) شروع کیے جائیں تاکہ وہ خود کفیل ہو سکیں۔ نقد امداد کی بجائے، بے روزگار نوجوانوں یا گھر کے سربراہوں کو ایک دفعہ کے لیے گرانٹ (مثلاً 1 سے 2 لاکھ روپے) جاری کی جائے جس سے وہ چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کر سکیں۔ امداد کی تقسیم کو ایجنٹس کے بجائے براہ راست مستحقین کے بینک اکاؤنٹس یا موبائل ایپلیکیشنز (جیسے ایزی پیسہ یا جاز کیش) کے ذریعے کیا جائے۔ ہر تقسیم کے بعد آڈٹ کیا جائے تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو۔

    حکمرانوں کو اب یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ قوم کو خیرات نہیں، عزت چاہیے۔ یہ 13500 روپے کی سہ ماہی قسط اگر کسی ماں بہن کی عزت نفس کو پامال کر دے، اسے سڑکوں پر ذلیل کر دے، اور رشوت خوروں کی ہوس کا شکار بنا دے تو یہ ریلیف نہیں بلکہ ریاستی جرم ہے۔ جو ریاست اپنی خواتین کو معاشی تحفظ دینے کے بجائے بازاروں میں قطاروں میں کھڑا کر دے، وہ ریاست نہیں بلکہ تماشا بن جاتی ہے۔ اگر واقعی حکمران فلاحی ریاستِ کا خواب سچ کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی قوم کو کشکول سے نجات دینی ہوگی، خیرات کے بجائے خودداری سکھانی ہوگی اور بھیک مانگنے کے بجائے روزگار پیدا کرنا ہوگا۔ قوموں کی ترقی وظیفوں سے نہیں بلکہ عزت، محنت اور شفاف نظام سے ہوتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکمران اپنی ترجیحات بدلیں، ورنہ یہی قوم ایک دن سوال کرے گی کہ کیا تمہیں بھکاری بنانے کے لیے ووٹ دیا تھا یا باوقار زندگی کی امید پر؟ اب یہ فیصلہ حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ قوم کو عزت دیتے ہیں یا اسے مزذلت کے اندھیروں میں دھکیلتے رہتے ہیں۔

  • سیالکوٹ: فانا گینگ کا سرغنہ گرفتار، لاکھوں کا مال مسروقہ اور اسلحہ برآمد

    سیالکوٹ: فانا گینگ کا سرغنہ گرفتار، لاکھوں کا مال مسروقہ اور اسلحہ برآمد

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، ڈویژنل بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ پولیس نے ڈکیتی اور راہزنی میں ملوث بدنامِ زمانہ فانا گینگ کے سرغنہ سمیت دو خطرناک ملزمان کو گرفتار کر کے لاکھوں روپے کا مال مسروقہ اور ناجائز اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ یہ اہم کارروائی ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں جاری جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مہم کے تحت عمل میں لائی گئی۔

    ڈی ایس پی صدر سرکل کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ کوٹلی لوہاراں سب انسپکٹر شہباز اشرف نے جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے یہ کامیابی حاصل کی۔ ترجمان پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان شہریوں سے اسلحہ کے زور پر موٹر سائیکلیں، نقدی، قیمتی موبائل فونز چھیننے اور چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھے۔ ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے درجنوں وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔

    پولیس نے ملزمان کے قبضے سے درج ذیل اشیاء برآمد کی ہیں:2 عدد چوری شدہ موٹر سائیکلیں،نقدی 1 لاکھ 30 ہزار روپے،2 عدد قیمتی سمارٹ موبائل فونز،2 عدد 30 بور ناجائز پسٹل بمعہ متعدد گولیاں

    گرفتار ملزمان کی شناخت عرفان ولد عبدالرحمن سکنہ چک 142 سلانوالی ضلع سرگودھا، اور طاہر ولد رحمت اللہ سکنہ چک 116 سلانوالی ضلع سرگودھا کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں ملزمان تھانہ کوٹلی لوہاراں کی حدود میں متعدد وارداتوں میں ملوث رہے، جن سے 11 مقدمات ٹریس کیے گئے ہیں۔ پولیس نے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر حوالات بھجوا دیا ہے۔

    ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو سراہتے ہوئے افسران و جوانوں کے لیے تعریفی اسناد اور نقد انعام کا اعلان کیا ہے۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • تونسہ میں ایڈز اسکریننگ مہم کا آغاز، 50 ہزار سے زائد افراد کی جانچ کا ہدف

    تونسہ میں ایڈز اسکریننگ مہم کا آغاز، 50 ہزار سے زائد افراد کی جانچ کا ہدف

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواداکبر) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے "صحت مند پنجاب” وژن اور سیکرٹری محکمہ صحت و آبادی نادیہ ثاقب کی ہدایات کی روشنی میں، پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام نے ضلع ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ میں گھر گھر ایچ آئی وی/ ایڈز اسکریننگ مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مہم پروگرام کی پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سمیرہ اشرف کی سربراہی میں شروع کی گئی ہے۔

    اس مہم کے تحت تقریباً 5600 گھروں اور 50,000 سے زائد افراد کی ایچ آئی وی/ ایڈز اسکریننگ کی جائے گی، جس کے لیے 40 ٹیمیں بھرپور لگن کے ساتھ تونسہ میں کام کر رہی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کی معاونت سے جاری اس مہم کو مقامی آبادی کی جانب سے انتہائی مثبت ردعمل ملا ہے۔

    اس اسکریننگ مہم کا مقصد نہ صرف علاقہ میں پھیلی ایڈز کی وبا پر قابو پانا ہے، بلکہ اس مرض میں مبتلا افراد کو ٹی ایچ کیو ہسپتال تونسہ میں موجود پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے سینٹر سے مفت علاج اور ادویات بھی فراہم کی جائیں گی۔ یہ مہم صوبے میں ایچ آئی وی سے نمٹنے کے لیے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی کوششوں اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔