Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی میں ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے پر آگاہی سیمینار

    بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی میں ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے پر آگاہی سیمینار

    بہاولپور (باغی ٹی وی ، نامہ نگار حبیب خان) ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے کے موقع پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے میڈیکل اینڈ ہیلتھ ڈویژن کے زیر اہتمام ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں صحت عامہ سے متعلق ماہرین، اساتذہ، فیکلٹی ممبران اور ملازمین نے بھرپور شرکت کی۔ سیمینار کا مقصد ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی روک تھام، اس سے بچاؤ، اور صحت کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔

    وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "تندرستی ہزار نعمت ہے” اور ایک تندرست معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پہلے ہی "ہیپاٹائٹس فری کیمپس” کے ہدف پر کام کر رہی ہے اور ملازمین و طلبا کی صحت کے تحفظ کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    ڈاکٹر قاضی مسرور علی، سابق ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ قائداعظم میڈیکل کالج، نے ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ میں سماجی رویوں کی تبدیلی کو کلیدی عنصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صاف ستھری زندگی اور طبی اصولوں کی پابندی ہی اس موذی مرض سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے ویکسینیشن، محفوظ انجیکشن اور باقاعدہ طبی معائنہ کو بھی ناگزیر قرار دیا۔

    ڈائریکٹر ہیلتھ بہاولپور ڈاکٹر سید تنویر حسین نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور نائجیریا دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں ہیپاٹائٹس کا پھیلاؤ سب سے زیادہ ہے، اور پاکستان میں اس وقت 1.2 کروڑ افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی سے متاثر ہیں۔

    چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد عثمان چیمہ نے بتایا کہ یونیورسٹی میں 2020 سے ایک فعال ہیپاٹائٹس کلینک کام کر رہا ہے جہاں فیکلٹی، طلبہ اور ملازمین کی اسکریننگ اور علاج کی سہولیات دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم ہیپاٹائٹس فری کیمپس کے ویژن کی عملی مثال ہے۔

    سیمینار کے دوران پرنسپل میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ملیحہ عارف نے ہیپاٹائٹس کی وجوہات، احتیاطی تدابیر اور طبی پہلوؤں پر مفصل پریزنٹیشن دی، جبکہ ویمن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر صباء طاہر نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

    اس بامقصد سیمینار کے ذریعے نہ صرف ہیپاٹائٹس کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہوا بلکہ یہ پیغام بھی عام ہوا کہ اگر صحت کے اصولوں کو زندگی کا حصہ بنا لیا جائے تو ہیپاٹائٹس جیسے مہلک امراض سے نجات ممکن ہے۔ شرکاء نے یونیورسٹی انتظامیہ کے اس مثبت اقدام کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جلد "ہیپاٹائٹس فری کیمپس” کا ہدف حاصل کر لے گی۔

  • اوچ شریف: سبزی و فروٹ منڈی میں آڑھتیوں کی من مانی، پرائس کنٹرول غائب

    اوچ شریف: سبزی و فروٹ منڈی میں آڑھتیوں کی من مانی، پرائس کنٹرول غائب

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ، نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ کی سبزی و فروٹ منڈی میں پرائس کنٹرول کا مکمل فقدان، آڑھتیوں نے من مانی نرخ مقرر کرنا شروع کر دیے، جس سے مہنگائی کا طوفان عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی عدم موجودگی کے باعث روزمرہ سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جبکہ معیار بھی شدید متاثر ہوا ہے۔

    ذرائع کے مطابق منڈی میں سرکاری نرخ نامے صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو چکے ہیں، اور آڑھتی 20 سے 30 فیصد زائد نرخ وصول کر کے صارفین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ مختلف اقسام کی اشیاء کو مصنوعی طور پر "اعلیٰ” اور "ادنیٰ” درجہ دے کر نرخوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ منڈی میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بولیوں میں انتظامیہ کی غیر موجودگی نے آڑھتیوں کو مکمل آزادی دے رکھی ہے۔

    شہریوں نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی مہنگائی کی خبریں میڈیا پر آتی ہیں، متعلقہ افسران چند دنوں کے لیے متحرک ہوتے ہیں لیکن جلد ہی سارا عمل پھر پرانی ڈگر پر آ جاتا ہے۔ ایسی عارضی کارروائیاں عوام کو مستقل ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

    سماجی اور فلاحی تنظیموں کے نمائندوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے اپیل کی ہے کہ احمدپور شرقیہ کی سبزی و فروٹ منڈیوں میں روزانہ کی بنیاد پر مجسٹریٹس اور دیگر ذمہ دار افسران کی حاضری یقینی بنائی جائے تاکہ قیمتوں پر کنٹرول قائم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایماندار اور بااختیار افسران بولی کے عمل کو خود مانیٹر کریں تو نرخوں میں استحکام ممکن ہے۔

    شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ اگر موجودہ حالات پر قابو نہ پایا گیا تو غریب طبقے کے لیے سستی سبزی اور پھل کا حصول خواب بن کر رہ جائے گا، جس سے معاشرتی بے چینی اور عوامی غصہ بڑھ سکتا ہے۔

  • علی پور:: رشتہ نہ دینے پر محنت کش کی بیٹی اغوا، پولیس پانچ روز سے خاموش،ورثاء سراپا احتجاج

    علی پور:: رشتہ نہ دینے پر محنت کش کی بیٹی اغوا، پولیس پانچ روز سے خاموش،ورثاء سراپا احتجاج

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور کے نواحی گاؤں موضع مکول ہڈیر میں رشتہ نہ دینے کا سنگین نتیجہ غریب محنت کش خاندان کو بھگتنا پڑا۔ ساڑھے پندرہ سالہ سائرہ بی بی کو مبینہ طور پر بااثر ملزمان صفدر، راشد بڈو اور نذیر موہانہ زبردستی گھر سے اٹھا کر لے گئے، لیکن واقعہ کو گزرے پانچ دن بیت جانے کے باوجود پولیس مغوی لڑکی کو بازیاب نہ کرا سکی۔ پولیس تھانہ صدر علی پور نے مقدمہ تو درج کر لیا، لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، جس پر اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈی پی او مظفر گڑھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    متاثرہ لڑکی کے والد ملک انور آرائیں نے اپنی اہلیہ، بیٹوں اور محلہ داروں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ”چوبیس جولائی کی صبح دس بجے میں جانوروں کے لیے گھاس کاٹنے گیا ہوا تھا۔ اس وقت میری بیٹی سائرہ گھر میں اکیلی تھی۔ اسی دوران ملزمان موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے اور میری بیٹی کو گھر سے زبردستی اٹھا کر لے گئے۔ ساتھ ہی گھر سے بکس میں رکھی رقم اور دیگر سامان بھی لے گئے۔ ہم نے شور سن کر ان کا پیچھا بھی کیا، مگر وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔”

    انور آرائیں کا کہنا ہے کہ مقدمہ نمبر 862/25 تھانہ صدر علی پور میں تو درج ہو گیا، مگر ملزمان کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ملزمان کریمنل ریکارڈ یافتہ ہیں اور مقامی بااثر زمیندار ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
    "ہم غریبوں کی مدد کرنے کے بجائے ہمیں ہی دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر زبان کھولی تو تمہارے خلاف بھی اغوا کا مقدمہ درج کر دیں گے۔”

    اہل علاقہ نے اس واقعے کو ظلم و ناانصافی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی پی او مظفر گڑھ فوری طور پر اس واقعہ کا نوٹس لیں، لڑکی کو بازیاب کروائیں اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    رابطہ کرنے پر پولیس ذرائع نے مؤقف اختیار کیا کہ”تاحال یہ معلوم ہو رہا ہے کہ لڑکی اپنی مرضی سے گئی ہے، لیکن چونکہ وہ اٹھارہ سال سے کم عمر اور غیر شادی شدہ ہے، اس لیے معاملے کا قانونی پہلو سے جائزہ لے کر انصاف فراہم کیا جائے گا۔”

    شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر قانون صرف طاقتور کے لیے ہے تو کمزور کہاں جائے؟ کیا ایک محنت کش کی بیٹی کی جان و عزت کی کوئی قیمت نہیں؟
    اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ اس معاملے پر کب عملی قدم اٹھاتی ہے یا غریب خاندان انصاف کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھاتا رہے گا۔

  • کپاس کی فصل پر تباہ کن حملے، محکمہ زراعت وٹس ایپ تک محدود، کاشتکار بے بس

    کپاس کی فصل پر تباہ کن حملے، محکمہ زراعت وٹس ایپ تک محدود، کاشتکار بے بس

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگار حبیب خان) تحصیل احمد پور شرقیہ کی سب تحصیل اوچ شریف اور گردونواح میں کپاس کی فصل اس وقت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے، گرمی کی حبس، غیر معمولی موسمیاتی تبدیلیوں اور کیڑے مکوڑوں کے تباہ کن حملوں نے فصلوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے، جبکہ محکمہ زراعت کی کارکردگی صرف واٹس ایپ گروپ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

    چوک بھٹہ، خیرپور ڈاہا، دھوڑکوٹ، ترنڈ بشارت، سرور آباد، بکھری، حلیم پور، رسول پور، بیٹ احمد، بیٹ بختیاری، کچی شکرانی، مستوئی، طاہر والی، چنی گوٹھ سمیت متعدد دیہی علاقوں میں کپاس کی فصل پر سفید مکھی، گلابی سنڈی، سبز تیلہ اور تھرپس کے حملوں نے شدید تباہی مچا دی ہے۔ مقامی کاشتکاروں کے مطابق فصلیں سوکھ رہی ہیں، پتے جھڑ رہے ہیں اور پھول متاثر ہو رہے ہیں، لیکن محکمہ زراعت عملی طور پر غیر حاضر ہے۔

    کسانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ زراعت کی ملی بھگت سے غیر معیاری زرعی ادویات مارکیٹ میں دھڑلّے سے فروخت ہو رہی ہیں، جن کی وجہ سے سپرے کے باوجود کیڑوں پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ غیر مؤثر سپرے سے نہ صرف فصل تباہ ہوئی بلکہ کسانوں کے مالی وسائل بھی ضائع ہو گئے۔ ایک کاشتکار نے بتایا کہ "ہماری زمینیں جل رہی ہیں، لیکن محکمہ صرف مشورے واٹس ایپ پر بھیج رہا ہے، کوئی افسر فیلڈ میں نظر نہیں آتا۔”

    کسانوں نے محکمہ زراعت کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صرف میٹنگز، تصاویر اور موبائل پیغامات سے زمینی حقائق نہیں بدل سکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر فیلڈ افسران کو متاثرہ علاقوں میں بھیجا جائے،غیر معیاری زرعی ادویات کی فروخت پر کریک ڈاؤن کیا جائے،کسانوں کو سستی، مؤثر اور معیاری سپرے مہیا کیا جائے،بیماریوں سے بچاؤ کی تربیت اور بروقت مشورے فیلڈ میں فراہم کیے جائیں۔

    کاشتکاروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ زراعت کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، ورنہ نہ صرف کپاس کی پیداوار متاثر ہوگی بلکہ ملکی معیشت کو بھی بڑا دھچکا لگے گا۔ اگر یہ روش برقرار رہی تو کسان سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

    کیا محکمہ زراعت اب بھی واٹس ایپ سے باہر نکلے گا؟

  • اوچ شریف: لاریب سکول کی سعدیہ بی بی 1141 نمبر لے کر نمایاں

    اوچ شریف: لاریب سکول کی سعدیہ بی بی 1141 نمبر لے کر نمایاں

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)میٹرک رزلٹ 2025 میں اوچ شریف روڈ پر واقع چنی گوٹھ کے نواحی علاقے چک نمبر 151 این پی کے لاریب پبلک ہائی سکول نے تعلیمی میدان میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ادارے کی ہونہار طالبہ سعدیہ بی بی نے پنجاب بورڈ کے سالانہ امتحان میں 1141 نمبر حاصل کر کے نہ صرف اپنے اسکول بلکہ پورے علاقے کا نام فخر سے بلند کر دیا۔

    اس شاندار کامیابی پر اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر محمد اکرم خان نے طلبہ، والدین اور اساتذہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ:

    "یہ کامیابی ہماری مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔ میں والدین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہم پر اعتماد کیا، اور اپنے جملہ سٹاف کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بچوں کی تعلیمی و اخلاقی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔”

    یاد رہے کہ یہ اسکول پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) سے الحاق شدہ ہے اور علاقے بھر میں گورنمنٹ و پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں میں اپنی تعلیمی کارکردگی کے باعث ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ والدین نے بھی اس موقع پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کی تعریف کی اور کہا کہ:

    "ڈاکٹر محمد اکرم خان اور ان کے اساتذہ نے ہمارے بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت دی، ہم ان کے شکر گزار ہیں۔”

    ڈاکٹر محمد اکرم خان نے مزید کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ PEF کے معیار کے مطابق حکومت پنجاب کے تعلیمی ویژن کو سامنے رکھتے ہوئے ادارے میں ہائی کوالیفائیڈ اسٹاف کا انتخاب کیا جائے، طلبہ کی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے اور تدریس کے جدید اصولوں کو اپنایا جائے تاکہ ادارہ مزید کامیابیوں کی راہ پر گامزن رہے۔

    اس کامیابی نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر جذبہ، محنت اور نیت خالص ہو تو دیہی علاقوں کے تعلیمی ادارے بھی بڑے شہروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ سعدیہ بی بی کی کامیابی پورے علاقے کے لیے ایک روشن مثال بن گئی ہے۔

  • اوچ شریف: قانون کی رٹ دفن، گلیاں قبرستانوں کا منظر، شہری محصور، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف: قانون کی رٹ دفن، گلیاں قبرستانوں کا منظر، شہری محصور، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف اس وقت بدترین بدانتظامی، لاقانونیت اور مجرمانہ غفلت کا شکار ہو چکا ہے۔ شہر کی تنگ و تاریک گلیاں اب رہائشی راستے نہیں بلکہ قبرستانوں کا منظر پیش کر رہی ہیں، جہاں ہر قدم پر غیر قانونی تھڑے، ریت بجری کے ڈھیراور بے لگام تجاوزات شہری زندگی کے لیے مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔

    صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس، فائر بریگیڈ یا پولیس کی گاڑی بروقت متاثرہ مقام تک نہیں پہنچ پاتی۔ متعدد بار ایسے سانحات سامنے آ چکے ہیں جہاں مریض بروقت اسپتال نہ پہنچنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے اور آگ بجھانے والی گاڑیاں راستہ نہ ہونے کے باعث جائے وقوعہ تک نہ پہنچ سکیں۔ یہ انسانی المیے اب صرف اتفاقات نہیں بلکہ ریاستی ناکامی کے واضح ثبوت بن چکے ہیں۔

    شہر میں تعمیراتی مافیا کی حکمرانی نظر آتی ہے، جو دن دہاڑے سرکاری زمینوں پر قابض ہو کر غیر قانونی تعمیرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر ان سب تجاوزات کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ اور وہ کون سے عناصر ہیں جن کے ہوتے ہوئے قانون خاموش اور انتظامیہ بے بس ہے؟

    ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ متعلقہ افسران یا تو لا علم ہیں یا جان بوجھ کر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ شہری حلقے اس خاموشی کو "منتخب بے حسی” قرار دے رہے ہیں جو کہ عوام کے بنیادی حقوق پر کھلا حملہ ہے۔

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، کمشنر بہاولپور، اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطالبات درج ذیل ہیں:

    شہر بھر سے تمام غیر قانونی تھڑے، تجاوزات اور رکاوٹیں فی الفور ہٹائی جائیں۔
    ایمرجنسی سروسز کے راستے بحال کیے جائیں تاکہ جان بچانے والی گاڑیاں بروقت پہنچ سکیں۔
    مجرمانہ غفلت برتنے والے سرکاری اہلکاروں اور تعمیراتی مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    شہریوں نے واضح کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے فوری اقدامات نہ اٹھائے تو وہ سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کریں گے۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ کیا حکومت بروقت حرکت میں آ کر اوچ شریف کو بچا پائے گی یا یہ شہر اپنی ہی گلیوں میں کسی بڑے سانحے کا منتظر ہے؟

  • نارنگ منڈی: ہوٹل پر ڈکیتی، مالک پر بہیمانہ تشدد،85ہزار چھین کر فرار

    نارنگ منڈی: ہوٹل پر ڈکیتی، مالک پر بہیمانہ تشدد،85ہزار چھین کر فرار

    نارنگ منڈی (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد وقاص)نارنگ منڈی کے نواحی گاؤں لدھیکے سٹاپ پر واقع ایک ہوٹل پر خوفناک ڈکیتی کی واردات پیش آئی، جہاں چھ نامعلوم ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر ہوٹل سے 85 ہزار روپے نقدی لوٹ لی اور فرار ہونے سے قبل ہوٹل مالک پر انسانیت سوز تشدد کیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق ڈاکو واردات کے دوران نہایت سنگدلی سے پیش آئے۔ ہوٹل مالک کو شدید مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور مبینہ طور پر اس کے نازک حصے میں زہریلا مواد ڈال دیا گیا، جس سے اس کی حالت نازک ہو گئی۔ متاثرہ شخص کو فوری طور پر تشویشناک حالت میں اہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

    علاقہ مکینوں میں واقعے کے بعد شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ عوام نے پولیس کی ناکامی پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ نواحی دیہات میں جرائم پیشہ عناصر بے خوف ہو چکے ہیں اور پولیس کی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس انسانیت سوز واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، ڈاکوؤں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور علاقے میں سیکیورٹی کے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو تحفظ کا احساس ہو سکے۔

  • اوچ شریف: مقدس مزارات کے اطراف گندگی ، زائرین پریشان، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف: مقدس مزارات کے اطراف گندگی ، زائرین پریشان، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)روحانی، تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے پاکستان کے اہم ترین شہروں میں شمار ہونے والا اوچ شریف اس وقت سنگین صفائی کے بحران سے دوچار ہے۔ حضرت محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ، اور مخدوم جلال الدین سرخ پوشؒ سمیت دیگر بزرگانِ دین کے مزارات کے اردگرد گندگی کے ڈھیر، ابلتی نالیاں، بدبو اور مچھروں کی بہتات نے زائرین کو پریشان کر دیا ہے۔

    ملک بھر سے عقیدت کے جذبے سے سرشار ہو کر اوچ شریف پہنچنے والے زائرین اس صورتحال پر سخت نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ رحیم یار خان سے آنے والے زائر محمد رمضان نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم یہاں روحانی سکون کی تلاش میں آئے تھے، مگر گندگی اور بدبو نے سارا تاثر برباد کر دیا۔”

    دیگر زائرین نے بھی شکایت کی کہ نہ تو پینے کا صاف پانی میسر ہے، نہ بیت الخلاء کا مناسب بندوبست، اور نہ ہی مچھروں سے بچاؤ کے لیے کوئی اقدام کیا گیا ہے۔ مزارات کے خادمین اور متولیان کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور بہاولپور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (بی ڈبلیو ایم سی) کو بارہا تحریری اور زبانی شکایات کی گئیں، لیکن کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔

    نالیوں کی صفائی نہ ہونے کے باعث گندا پانی سڑکوں پر بہہ رہا ہے، جبکہ گندگی کے ڈھیر روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ مچھر مار سپرے اور فوگنگ جیسی بنیادی سہولیات کا مکمل فقدان ہے، جس سے نہ صرف شہر کی روحانی عظمت متاثر ہو رہی ہے بلکہ زائرین کی صحت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

    شہریوں اور زائرین نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور درج ذیل اقدامات پر زور دیا ہے:

    * تمام مزارات کے اطراف روزانہ کی بنیاد پر صفائی یقینی بنائی جائے۔
    * بی ڈبلیو ایم سی مچھر مار اسپرے اور فوگنگ مہم فوری شروع کرے۔
    * زائرین کے لیے صاف پانی، بیت الخلاء، اور سایہ دار بیٹھنے کی جگہیں مہیا کی جائیں۔
    * مزارات کی بے حرمتی پر ذمہ داران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔

    زائرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر متعلقہ اداروں نے فوری اقدامات نہ کیے تو مقدس مقامات کی زیارت سے محروم ہونا پڑے گا۔ "یہ مزارات ہمارے ایمان اور عقیدت کا مرکز ہیں، لیکن انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی ہمیں یہاں آنے سے روک رہی ہے،” ایک زائر نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ اوقاف کب تک خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں یا زائرین کی اس آواز پر کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں۔

  • میرپورخاص: ایم کیو ایم پاکستان کا "معرکہ حق، جشنِ آزادی” بھرپور جوش و جذبے سے منانے کا اعلان

    میرپورخاص: ایم کیو ایم پاکستان کا "معرکہ حق، جشنِ آزادی” بھرپور جوش و جذبے سے منانے کا اعلان

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)ایم کیو ایم پاکستان میرپورخاص ڈسٹرکٹ آفس میں جشن آزادی کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ انچارج خالد تبسم، جوائنٹ انچارجز آفاق احمد خان اور سلیم میمن نے اعلان کیا کہ "معرکہ حق، جشن آزادی” کو شہر بھر میں انتہائی جوش و خروش اور قومی جذبے سے منایا جائے گا۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ یکم اگست سے 14 اگست تک میرپورخاص کی تمام یوسیز میں قومی پرچم کشائی اور کیک کاٹنے کی تقریبات منعقد کی جائیں گی، جبکہ 13 اگست کو ڈسٹرکٹ آفس سے ایک عظیم الشان ریلی بھی نکالی جائے گی۔ رہنماؤں نے کہا کہ یہ تقریبات محض رسمی نہیں بلکہ قوم کی قربانیوں، جذبے اور نظریے کی نمائندگی کریں گی، اور اس امر کا اظہار ہوں گی کہ مہاجر اس وطن کے اصل وارث ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل ہے، اور ہمارا عزم ہے کہ اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے پاکستان کو دنیا کی عظیم طاقت بنایا جائے۔ انہوں نے گورنر سندھ اور مرکزی کمیٹی کے دورہ میرپورخاص کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عوام کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔

    رہنماؤں نے کارکنان کو ہدایت کی کہ جشن آزادی کی تقریبات میں طلبا، خواتین، بزرگوں اور زندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھرپور شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ کمیٹی، یوسیز، شعبہ خواتین، ایلڈرز ونگ، اے پی ایم ایس او سمیت دیگر تمام شعبہ جات کے ذمہ داران نے شرکت کی۔

  • اوکاڑہ: پولیس مقابلے میں 115 وارداتوں میں ملوث 3 خطرناک ڈاکو ہلاک، 3 فرار

    اوکاڑہ: پولیس مقابلے میں 115 وارداتوں میں ملوث 3 خطرناک ڈاکو ہلاک، 3 فرار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ کے نواحی علاقے دیپالپور میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ مقابلے کے دوران تین بین الاضلاعی خطرناک ڈاکو ہلاک ہو گئے، جب کہ تین ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان 115 سے زائد قتل، اقدامِ قتل اور ڈکیتی جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث تھے۔

    واقعہ اس وقت پیش آیا جب شہری اسد نے پکار 15 پر اطلاع دی کہ گنگووال کے علاقے میں چھ ڈاکو واردات کر کے فرار ہو رہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او صدر دیپالپور انسپکٹر غازی اختر خان اپنی ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور ڈاکوؤں کا تعاقب شروع کیا۔ ڈاکوؤں نے پولیس کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں پولیس نے مؤثر کارروائی کی۔

    فائرنگ کے تبادلے کے دوران تین ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کی زد میں آکر ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت شعبان عرف جانو، نزیر عرف بگی اور عبدالمنان کے ناموں سے ہوئی، جو لاہور، قصور، پاکپتن اور فیصل آباد سمیت کئی اضلاع میں پولیس کو مطلوب تھے۔

    پولیس نے موقع سے اسلحہ، شناختی کارڈز اور نقدی بھی برآمد کر لی ہے، جبکہ فرار ہونے والے تین ڈاکوؤں کی تلاش جاری ہے۔ علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور سرچ آپریشن میں پولیس کی بھاری نفری حصہ لے رہی ہے۔

    ترجمان پولیس کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔