Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ملک ظفر اقبال بھوہڑ کو عوامی میڈیا کونسل کا چیئرمین منتخب ہونے پر آل پاکستان بھوہڑ ایسوسی ایشن کی مبارکباد

    ملک ظفر اقبال بھوہڑ کو عوامی میڈیا کونسل کا چیئرمین منتخب ہونے پر آل پاکستان بھوہڑ ایسوسی ایشن کی مبارکباد

    اوکاڑہ (نامہ نگار باغی ٹی وی) آل پاکستان بھوہڑ ایسوسی ایشن نے سینئر صحافی، معروف کالم نگار اور سماجی رہنما ملک ظفر اقبال بھوہڑ کو عوامی میڈیا کونسل اوکاڑہ کا چیئرمین منتخب ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مرکزی قائدین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ملک ظفر اقبال جیسے باہمت، سچ گو اور مخلص صحافی کی قیادت میں عوامی میڈیا کونسل مزید مؤثر اور فعال کردار ادا کرے گی۔

    بیان میں کہا گیا کہ ملک ظفر اقبال بھوہڑ کی صحافتی خدمات، عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں ان کی مسلسل جدوجہد، اور بے باک اندازِ صحافت ان کی قیادت کو قابل اعتماد بناتا ہے۔ ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی کہ وہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ اور مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔

    اس موقع پر عوامی میڈیا کونسل اوکاڑہ کی جانب سے "بہترین رپورٹر” کی شیلڈ بھی دی گئی جو صدر اوکاڑہ پریس کلب شہباز شاہین نے ملک ظفر اقبال کے حوالے کی۔ اس اعزاز کو صحافتی برادری نے ایک خوش آئند اقدام قرار دیا۔

  • مسافر خان: 38 سالہ خاتون  تیزدھار آلے کے وار سے قتل

    مسافر خان: 38 سالہ خاتون تیزدھار آلے کے وار سے قتل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) بہاولپور کے نواحی علاقے مسافر خانہ میں ایک اندوہناک قتل کا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 38 سالہ خاتون رضیہ بانو زوجہ محمد ہاشم کو مبینہ طور پر سر پر تیز دھار آلے کے وار سے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے جبکہ پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے حرکت میں آ چکے ہیں۔

    ریسکیو 1122 کو ایک شہری کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ ایک خاتون کی ناک سے خون بہہ رہا ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔ ریسکیو ٹیم فوری طور پر روانہ ہوئی، مگر اس دوران لواحقین زخمی خاتون کو ایک رکشے پر خود لے کر آ گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر ہی طبی معائنہ کیا، جس میں یہ انکشاف ہوا کہ خاتون جانبر نہ ہو سکی تھیں۔ ان کے تمام وائیٹل سائنز ختم ہو چکے تھے اور سر کے اوپری حصے، پیریٹل ریجن، پر تیز دھار آلے سے لگنے والا گہرا زخم موجود تھا، جس سے واضح ہوا کہ یہ ایک پرتشدد حملہ تھا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق خاتون کی موت ایک سے دو گھنٹے قبل واقع ہو چکی تھی۔ جب ریسکیو عملے نے لواحقین سے وقوعے کی تفصیل جاننے کی کوشش کی تو اُنہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ سب سوئے ہوئے تھے، اور کسی نامعلوم شخص نے خاتون کو قتل کر کے فرار ہو گیا۔ اُن کا مؤقف تھا کہ وہ صرف یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ خاتون زندہ ہیں یا نہیں۔

    ریسکیو کنٹرول روم نے واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس کو فوری طور پر مطلع کیا تاکہ قانونی کارروائی شروع کی جا سکے، مگر اس کے باوجود لواحقین لاش کو کسی کارروائی کے بغیر ہی واپس گھر لے گئے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور مختلف پہلوؤں سے معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پولیس مقتولہ کے شوہر، اہل خانہ اور قریبی افراد سے تفتیش کر رہی ہے اور فرانزک شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا مطالبہ ہے کہ قاتل کو جلد از جلد گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

  • کلبھوشن سے بنگلزئی تک،آپریشن بنیان مرصوص II،وقت کا تقاضا

    کلبھوشن سے بنگلزئی تک،آپریشن بنیان مرصوص II،وقت کا تقاضا

    کلبھوشن سے بنگلزئی تک،آپریشن بنیان مرصوص II،وقت کا تقاضا
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    سوراب جوکہ بلوچستان کے قلب میں واقع ایک چھوٹا سا شہرہے جہاں شہری امن سے اپنی روزمرہ زندگی گزار رہے تھے، اچانک دہشت گردی کی لپیٹ میں آ گیا۔بھارتی پراکسی دہشت گردوں نے بازاروں، بینکوں اور معصوم شہریوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا۔ ان دہشت گردوں کا بلوچوں سے یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ صرف بھارتی پیڈ اور قاتل ہیں جو معصوم شہریوں کو قتل کر رہے ہیں۔ اس خونریز حملے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی نے شہریوں کی جان بچاتے ہوئے اپنی زندگی قربان کر دی۔ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اسے "فتنہ الہندوستان” کا نام دیا جو بھارتی خفیہ ایجنسی RAW کی حمایت یافتہ بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) جیسے پراکسی دہشت گرد گروہوں کی تخریبی کارروائیوں کا تسلسل ہے۔ یہ حملے نہ صرف بلوچستان کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش ہیں بلکہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازش کا حصہ ہیں جو پاکستان کی معاشی خوشحالی کا ضامن ہے۔

    یہ تنازع کوئی نیا نہیں ہے بلکہ مئی 2025 میں بھارتی زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پہلگام میںمودی کے فالزفلیگ اپریشن کے نتیجہ میں 26 افراد کے قتل کے بعد انڈیا نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں انڈیا نے "آپریشن سندور” کے نام سے پاکستان کے اندر شہری آبادی پر حملے کیے، پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا سے ٹھوس ثبوت مانگے لیکن بھارت کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا اور یہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا تاکہ عالمی برادری میں پاکستان کو بدنام کیا جائے۔ اس کے برعکس پاکستان نے بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔تین مارچ 2016کو پاکستانی ایجنسیوں نے چمن کے علاقے ماشخیل سے کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا تھا۔ 53 سالہ کلبھوشن یادیو 2003 سے بھارتی ایجنسی را کے لیے پاکستان میں منظم دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھا۔اس کی سب سے واضح مثال ہے۔ یادیو نے اعتراف کیا کہ وہ RAW کے لیے کام کر رہا تھا اور بلوچستان میں بم دھماکوں اور فرقہ وارانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔

    2020 میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے سامنے ایک ڈوزیئر پیش کیا، جس میں RAW کی بلوچستان میں تخریبی سرگرمیوں کے شواہد شامل تھے۔ مزید برآں 2023 میں بلوچ نیشنل آرمی کے کمانڈر سرفراز بنگلزئی نے ہتھیار ڈالتے ہوئے بھارتی مالی اور لاجسٹک حمایت کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں، جن میں تیسرے ممالک کے ذریعے فنڈنگ اور زخمی بھارتی پراکسی دہشت گردوں کو بھارت میں طبی امداد فراہم کرنے کے ثبوت شامل تھے۔

    ان ثبوتوں کے باوجود عالمی برادری کا دوہرا معیار پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ جب انڈیا بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان پر حملہ آور ہو سکتا ہے، تو کیا پاکستان کے پاس کلبھوشن یادیو جیسے واضح ثبوتوں کے ساتھ جوابی کارروائی کا حق نہیں؟ چین کے ماہر لیو زونگئی نے بھارت کے دوہرے معیار کی نشاندہی کی، جو ایک طرف دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف بلوچستان میں بھارتی پراکسی دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے۔ جب پاکستان نے بھارتی مداخلت کے ثبوت مغربی ممالک کے سامنے پیش کیے ہوئے ہیں تو ان کی خاموشی ان کے تعصب کو عیاں کرتی ہے۔

    یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اب وقت ہے کہ اپنی سفارتی اور فوجی حکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دیا جائے۔ بھارتی دہشت گردی کے ثبوتوں کو عالمی فورمز پر زیادہ جارحانہ انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ کلبھوشن یادیو جیسے کیسز کو عالمی عدالت انصاف میں لے جا کر بھارت پر دبائو بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے عوام کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ بھارتی پراکسی دہشت گردوں کی حمایت کو کم کیا جا سکے، جن کا بلوچستان یا اس کے عوام سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ وہ صرف بھارت کے ایجنڈے کے آلہ کار ہیں۔ CPEC جیسے منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنانا پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ یہ منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی خوشحالی کا ضامن ہے۔

    بھارت کی چانکیہ سیاست اور اس کے ناپاک ہتھکنڈوں نے اب صبر کے پیمانے لبریز کر دیے ہیں۔ مودی، اجیت ڈوول، جے شنکر، راج ناتھ سنگھ اور آر ایس ایس جیسے عناصر کی سرپرستی میں RAW کی تخریبی سرگرمیاں پاکستان کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی دبائو اور مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر بھارت کو اس کے جرائم کی سزا دی جائے۔ پاکستان کو اپنی سرزمین پر بھارتی پراکسی دہشت گردوں کے حملوں کے جواب میں بھارت کے اندر جا کر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

    آخرہم کب تک اپنے شہریوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟ ہم کب تک سوراب جیسے شہروں میں خون کی ہولی دیکھتے رہیں گے؟ ہم کب تک عالمی برادری کو ثبوت پیش کرتے رہیں گے جبکہ وہ بھارت کے جرائم پر خاموش رہتی ہے؟ پاکستانی قوم کا صبر اب جواب دے چکا ہے۔ ہر پاکستانی کے دل سے ایک ہی آواز بلند ہو رہی ہے کہ بھارت کو اس کی دہشت گردی کا جواب دینا فرض بن چکا ہے۔ پاکستانی قوم اب "آپریشن بنیان مرصوص II” کا مطالبہ کر رہی ہے جو نہ صرف بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجائے بلکہ اس کی تخریبی سازشوں کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے۔ یہ ہمارے شہیدوں کا قرض ہے، یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی امانت ہے اور یہ ہماری قوم کی عزت کی جنگ ہے۔ اب وقت ہے کہ پاکستان ایک آہنی طاقت بن کر بھارت کو سبق سکھائے اور اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے۔

  • صادق آباد:صحت کے نام پر فراڈ، نجی ہسپتال میں جعلی اپینڈکس آپریشنز ،ہسپتال سیل

    صادق آباد:صحت کے نام پر فراڈ، نجی ہسپتال میں جعلی اپینڈکس آپریشنز ،ہسپتال سیل

    صادق آباد(باغی ٹی وی رپورٹ)صحت کے نام پر فراڈ، نجی ہسپتال میں جعلی اپینڈکس آپریشنز ،ہسپتال سیل

    رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد میں ایک نجی اسپتال کے ڈاکٹروں نے انسانیت کی تمام حدود پار کرتے ہوئے سادہ لوح دیہاتیوں کو ہوس زر کا نشانہ بنا ڈالا۔ سی ای او ہیلتھ کے مطابق، اس درندہ صفت عمل کا انکشاف چک 212 پی کے دیہاتیوں کے ساتھ کیا جانے والا غیر ضروری آپریشنز ہے۔ محض پندرہ دنوں کے قلیل عرصے میں اسپتال کے بدنام زمانہ ڈاکٹروں نے 24 افراد کے اپینڈکس کے آپریشن کیے، جن میں سے کئی مریض صرف ڈی ہائیڈریشن کا شکار تھے۔

    یہ دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت سامنے آیا جب 29 مئی کو فیس بک پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ایک مقامی رپورٹر نے صادق آباد ٹلو بنگلہ چک 212 پی میں اپینڈکس کی "پراسرار” بیماری کے پھیلنے کی اطلاع دی۔ رپورٹر کے مطابق ایک ہی خاندان کے 40 سے زائد بچے اس مرض میں مبتلا ہوئے، جن میں سے 25 کے آپریشن ہو چکے تھے جبکہ 15 ابھی تک ہسپتال میں داخل تھے۔ یہ رپورٹر کی کال اور اس کے بعد سی ای او ہیلتھ کی تحقیقات نے ہسپتال کے بھیانک جرم کا پردہ چاک کیا۔

    سی ای او ہیلتھ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس نجی ہسپتال کو سیل کر دیا ہے اور اس گھناؤنے جرم کی مکمل رپورٹ ہیلتھ کیئر کمیشن کو ارسال کر دی گئی ہے۔ محکمہ صحت کی ٹیم نے چک 212 پہنچ کر متاثرہ افراد کے الٹراساؤنڈ کیے ہیں تاکہ اس فراڈ کی گہرائی کا اندازہ لگایا جا سکے۔

    محکمہ صحت پنجاب کے سیکرٹری صحت نے اس انسانیت سوز واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال کو سیل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ یہ محض ایک اسپتال کو سیل کرنا نہیں بلکہ اس مافیا کو بے نقاب کرنا ہے جو صحت کی آڑ میں غریب اور مجبور لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جو انسانیت کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے اور اس کے ذمہ داروں کو عبرتناک سزا ملنی چاہیے۔

    وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب، ڈی سی رحیم یار خان اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور اس انسانیت دشمن فعل کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا پرزور مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس خاندان کو فوری طبی امداد اور قانونی چارہ جوئی میں مدد فراہم کی جائے۔ عوام الناس سے بھی گزارش ہے کہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس مافیا کو بے نقاب کرنے میں مدد کریں۔

  • اوچ شریف: چھری چاقو اور ٹوکے کی قیمتیں آسمان پر، لوہاروں کا کام چمک اٹھا

    اوچ شریف: چھری چاقو اور ٹوکے کی قیمتیں آسمان پر، لوہاروں کا کام چمک اٹھا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) عید قربان قریب آتے ہی اوچ شریف اور گرد و نواح کے بازاروں میں چھری، چاقو، ٹوکے اور بغدے کی مانگ میں زبردست اضافہ ہو گیا ہے۔ قصائیوں اور عام شہریوں کی طرف سے قربانی کے جانور ذبح کرنے کے لیے اوزاروں کی خریداری زوروں پر ہے، جس سے لوہاروں کی چاندی ہو گئی ہے۔

    لوہاروں کی دکانوں پر دن رات کام جاری ہے۔ بھٹیوں کی آگ، ہتھوڑوں کی گونج اور لوہے کی چمک نے دکانوں کو ورکشاپس میں بدل دیا ہے۔ کاریگر پرانے اوزاروں کو تیز بھی کر رہے ہیں اور نئے اوزار بھی تیار ہو رہے ہیں۔

    دکانداروں کے مطابق اس سال چاقو، چھری اور ٹوکے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جو چھری پچھلے سال 300 روپے میں ملتی تھی، وہ اس سال 1000 روپے سے اوپر جا چکی ہے۔ بغدے اور بڑے ٹوکے 2500 سے 4000 روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔

    خریداروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے قربانی کے اخراجات بڑھا دیے ہیں۔ اوزاروں کے دام سن کر کئی لوگ گھبرا جاتے ہیں لیکن مجبوری یہ ہے کہ قربانی کے لیے اچھے اوزار تو لینے ہی پڑتے ہیں۔ کچھ شہریوں نے شکایت کی کہ چائنا کے بنے ہوئے اوزار صرف خوبصورت دکھتے ہیں، مگر جلد کند ہو جاتے ہیں، اس لیے مقامی لوہاروں کے ہاتھ سے بنے اوزار ہی قابل بھروسہ ہیں۔

    دوسری طرف لوہاروں کا کہنا ہے کہ خام مال، کوئلہ، بجلی اور دکانوں کے کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کا اثر اوزاروں کی قیمتوں پر پڑا ہے۔ ان کے مطابق یہ کام صرف عید کے چند دنوں کا ہوتا ہے، باقی سال مشکل سے گزارا ہوتا ہے۔

    عید قربان کی تیاریوں میں جہاں جانوروں کی خریداری زوروں پر ہے، وہیں چھری، چاقو، ٹوکا اور بغدہ بنانے والوں کے ہاں بھی خوب رونق ہے۔

  • اوچ شریف: بستی مقبول آرائیں میں دن دیہاڑے ڈکیتی، 40 ہزار نقدی اور موبائل فونز لوٹ لیے

    اوچ شریف: بستی مقبول آرائیں میں دن دیہاڑے ڈکیتی، 40 ہزار نقدی اور موبائل فونز لوٹ لیے

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) نواحی علاقے بستی مقبول آرائیں میں دن دہاڑے ہونے والی مسلح ڈکیتی کی واردات نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی۔ واردات اس وقت پیش آئی جب کوک وین کا عملہ معمول کے مطابق مشروبات کی ترسیل میں مصروف تھا۔

    دو نامعلوم مسلح افراد، جو نقاب پہنے موٹر سائیکل پر سوار تھے، اچانک موقع پر پہنچے اور اسلحے کے زور پر عملے کو یرغمال بنا کر تقریباً 40 ہزار روپے نقدی اور دو قیمتی موبائل فونز لوٹ کر فرار ہو گئے۔

    متاثرہ ڈرائیور محمد ساجد نے میڈیا کو بتایا کہ ملزمان نہایت منظم، تربیت یافتہ اور جدید اسلحے سے لیس تھے، جنہوں نے چند لمحوں میں پوری واردات مکمل کر کے فرار ہونے میں کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق نقاب کی وجہ سے ڈاکوؤں کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس موقع پر پہنچی، شواہد اکٹھے کیے اور علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی تلاش جاری ہے اور جلد گرفتاری کی توقع ہے۔

    دوسری جانب شہریوں نے واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دن دیہاڑے ہونے والی یہ واردات سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ مقامی مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے نشان عبرت بنایا جائے تاکہ ایسے جرائم کا سدباب ہو سکے۔

  • گوجرانوالہ: ڈپٹی کمشنر کا THQ کامونکی کا دورہ، مریضوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کی ہدایت

    گوجرانوالہ: ڈپٹی کمشنر کا THQ کامونکی کا دورہ، مریضوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کی ہدایت

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ہیلتھ ریفارمز پروگرام کے تحت ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ نوید احمد نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کامونکی کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال میں طبی سہولیات، ڈاکٹرز و طبی عملے کی حاضری، ادویات کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے مریضوں سے ملاقات کر کے ان سے سہولیات کے بارے میں دریافت کیا اور ڈاکٹرز و عملے کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اپنے فرائض ایمانداری، احساس ذمہ داری اور خوش اخلاقی سے سرانجام دیں۔ انہوں نے اس موقع پر واضح کیا کہ مریضوں کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی یا علاج میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    اس موقع پر ایم ایس THQ ڈاکٹر سعد احمد خان نے ڈپٹی کمشنر کو ہسپتال میں دستیاب سہولیات، درپیش مسائل اور انتظامی امور سے آگاہ کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سعد احمد خان نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت سے جو قلبی سکون حاصل ہوتا ہے، وہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اچھا ڈاکٹر وہی ہے جو مریضوں کے درد کو سمجھے اور ان کے لیے نرم دلی اور حساسیت کا مظاہرہ کرے۔

    ڈاکٹر سعد احمد خان نے ہسپتال کی انتظامیہ اور طبی عملے کو ہدایت دی کہ ہسپتال آنے والے ہر مریض کو مکمل عزت، توجہ اور بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدتمیزی، کوتاہی یا علاج سے انکار کی شکایت پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ڈپٹی کمشنر نوید احمد نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی اولین ترجیح عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ہے، اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہسپتال میں موجود پیرامیڈیکل اسٹاف اور سکیورٹی گارڈز سے متعلق موصول ہونے والی شکایات پر فوری ایکشن لینے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ غیرذمہ دار عناصر کو ملازمت سے فوری برطرف کیا جائے گا۔

    ڈاکٹر سعد احمد خان کی شفاف، نڈر اور ہمہ وقت متحرک قیادت میں ہسپتال میں مریضوں کو درپیش مسائل کو عقابی نگاہ سے مانیٹر کیا جا رہا ہے، اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔

  • لیہ: یونیورسٹی آف لیہ میں بائیو اور ڈائیگناسٹک لیب کا افتتاح

    لیہ: یونیورسٹی آف لیہ میں بائیو اور ڈائیگناسٹک لیب کا افتتاح

    لیہ (باغی ٹی وی رپورٹ) یونیورسٹی آف لیہ میں بائیو اور ڈائیگناسٹک لیب کا افتتاح، انفراسٹرکچر کی تکمیل کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کا اعلان

    صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے گزشتہ روز یونیورسٹی آف لیہ میں جدید بائیو اور ڈائیگناسٹک لیبارٹری کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر ابوبکر اور کیمپس انچارج ڈاکٹر محمد علی بزدار بھی موجود تھے۔

    صوبائی وزیر نے ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز ڈیپارٹمنٹ کا دورہ کیا، لیبارٹری کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور تحقیق و تدریس کے معیار کو سراہا۔ انہوں نے شعبے میں تیار کی گئی مختلف سائنسی پروڈکٹس کا مشاہدہ کرتے ہوئے ان کی افادیت کو سراہا اور یقین دلایا کہ حکومت پنجاب ان مصنوعات کو بڑے پیمانے پر متعارف کروانے میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے رانا سکندر حیات نے کہا کہ یونیورسٹی آف لیہ کے لیے آج کا دن تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یونیورسٹی کا ہاسٹل اور دیگر ضروری انفراسٹرکچر رواں سال کے دوران مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے یونیورسٹی کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جس سے طلبہ و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کی سہولیات ایک معیاری تعلیمی ماحول میں میسر آئیں گی۔

    صوبائی وزیر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر ابوبکر اور کیمپس انچارج ڈاکٹر محمد علی بزدار کی تعلیمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں یونیورسٹی آف لیہ ترقی کی نئی منازل طے کر رہی ہے، اور ان کی اپنی خدمات بھی ہر وقت ادارے کے لیے دستیاب رہیں گی۔

  • سکھر: بیٹی کی بازیابی کیلئے خواتین کا رات بھر قرآن اٹھا کر احتجاج

    سکھر: بیٹی کی بازیابی کیلئے خواتین کا رات بھر قرآن اٹھا کر احتجاج

    سکھر، باغی ٹی وی( نامہ نگار مشتاق علی لغاری) سکھر کے علاقے نیوپنڈ، حد مائکرو کالونی میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں جتوی برادری کی خواتین نے اپنی لاپتہ بیٹی کی بازیابی کے لیے رات کے سناٹے میں سڑکوں پر احتجاج کیا۔ ہاتھوں میں قرآن پاک تھامے، اپنی ننھی بچیوں اور چھوٹے بچوں کے ہمراہ یہ خواتین رات کے چار بجے جب پورا شہر نیند کی آغوش میں تھا، اپنی فریادیں لے کر نکل آئیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، زبان پر دعائیں تھیں اور دل میں ایک ہی پکار تھی: "ہماری بیٹی واپس دلاؤ!”

    مظاہرین خواتین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی اپنے شوہر کے گھر سے لاپتہ ہو گئی ہے اور اب اس کے سسرال والے ان پر الٹا دباؤ ڈال رہے ہیں کہ "بہو واپس کرو”، جبکہ وہ خود اس صورتحال سے لاعلم اور سخت پریشان ہیں۔

    ایک بوڑھی ماں نے قرآن کو سینے سے لگاتے ہوئے دردناک انداز میں چیخ کر کہا، "ہمیں کیوں سزا دی جا رہی ہے؟ ہماری بیٹی غائب ہے اور ہم پر ظلم ہو رہا ہے! یا اللہ انصاف کر!”

    احتجاج کے دوران مظلوم عورتوں نے پولیس حکام سے پرزور اپیل کی:

    "ہم ایس ایس پی سکھر، ڈی آئی جی سکھر، اور آئی جی سندھ سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں انصاف دلایا جائے۔”
    "ہماری بیٹی کو ان ظالموں سے بازیاب کروایا جائے۔”
    "ہماری فریاد سنی جائے، ہمیں تحفظ دیا جائے۔”
    خواتین نے خبردار کیا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ قرآن پاک سر پر رکھ کر مزید سخت احتجاج پر مجبور ہوں گی۔ یہ احتجاج حکام کی توجہ مبذول کرانے اور اپنی لاپتہ بیٹی کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرنے کے لیے ایک علامتی لیکن شدید اقدام تھا۔

  • ہانگ کانگ میں عالمی ثالثی تنظیم کا قیام اور پاکستان کا کردار

    ہانگ کانگ میں عالمی ثالثی تنظیم کا قیام اور پاکستان کا کردار

    ہانگ کانگ میں عالمی ثالثی تنظیم کا قیام اور پاکستان کا کردار
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    30 مئی 2025 کو پاکستان نے ہانگ کانگ میں قائم ہونے والی عالمی ثالثی تنظیم (International Organization for Mediation – IOMed) کے کنونشن پر دستخط کیے۔ یہ اقدام عالمی تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اس تقریب میں پاکستان کی نمائندگی کی اور چین کے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے عالمی تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے خاص طور پر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں اور جموں و کشمیر کے تنازع کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی حالیہ فوجی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں و کشمیر تنازع کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق چین IOMed کو عالمی عدالت انصاف (ICJ) کے ہم پلہ ادارے کے طور پر دیکھتا ہے، جس کا مقصد ہانگ کانگ کو تنازعات کے حل کا ایک معتبر عالمی مرکز بنانا ہے۔ ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے دعویٰ کیا کہ یہ تنظیم دی ہیگ کی اقوام متحدہ کی ثالثی عدالت (Permanent Court of Arbitration – PCA) کے مساوی حیثیت رکھے گی۔ اس تنظیم کا صدر دفتر ہانگ کانگ کے وان چائی علاقے میں ایک سابقہ پولیس اسٹیشن میں قائم کیا جائے گا جو 2025 کے آخر یا 2026 کے اوائل میں فعال ہوگا۔ دستخطی تقریب میں چین، پاکستان، انڈونیشیا، لاؤس، کمبوڈیا، سربیا اور اقوام متحدہ سمیت 20 سے زائد بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    ہانگ کانگ کا انتخاب اس کی تاریخی حیثیت کی وجہ سے اہم ہے کیونکہ اسے مشرق اور مغرب کے درمیان ایک "سپر کنیکٹر” کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم ہانگ کانگ کی چین کے خصوصی انتظامی علاقے کی حیثیت اس کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھاتی ہے، خاص طور پر مغربی ممالک کے نقطہ نظر سے جو اس کی عالمی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ 2019-2020 کے احتجاج اور چین کے بڑھتے ہوئے کنٹرول نے ہانگ کانگ کی بین الاقوامی ساکھ پر اضافی دباؤ ڈالا ہے، جو IOMed کی قبولیت کو محدود کر سکتا ہے۔

    IOMed کا مقصد عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک متبادل پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو موجودہ اداروں جیسے کہ ICJ اور PCA سے عدم اطمینان رکھتے ہیں۔ چین کی حالیہ سفارتی کامیابیاں جیسے کہ 2023 میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان صلح کرانا، اس کی ثالثی کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ تنظیم ایشیا اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک پرکشش فورم ہو سکتی ہے کیونکہ موجودہ عالمی اداروں پر مغربی ممالک کا غلبہ بعض اوقات غیر مغربی ممالک کے لیے تحفظات کا باعث بنتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس کی غیر جانبداری اور شفافیت پر ہوگا۔ اگر یہ تنظیم چین کے سیاسی ایجنڈے سے وابستہ سمجھی گئی تو مغربی ممالک اور ان کے اتحادی اسے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ دکھا سکتے ہیں۔

    پاکستان کے لیے IOMed ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے علاقائی تنازعات، خاص طور پر جموں و کشمیر اور سندھ طاس معاہدے اور پاکستان میں بھارت کی پراکسی وار اور دہشت گردی سے متعلق مسائل کو عالمی سطح پر اٹھائے۔ پاکستان کی چین کے ساتھ گہری شراکت، جو سی پیک (CPEC) اور 1963 کے سرحدی معاہدے جیسے منصوبوں سے ظاہر ہوتی ہے، اسے اس تنظیم میں ایک اہم شراکت دار بناتی ہے۔ تاہم پاکستان کی معاشی کمزوریاں اور چین پر بڑھتا ہوا انحصار اس کی خودمختاری پر سوالات اٹھاتا ہے۔ اسے اس پلیٹ فارم کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنے معاشی اور اسٹریٹجک توازن کو برقرار رکھنا ہوگا۔

    IOMed کی عالمی تنازعات کے حل میں صلاحیت کا جائزہ لیتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایشیا اور ترقی پذیر ممالک کے تنازعات کے لیے ایک مؤثر فورم بن سکتی ہے، لیکن اس کی عالمی سطح پر قبولیت اس کی غیر جانبداری پر منحصر ہوگی۔ ICJ کے ہم پلہ ادارے کے طور پر اسے تسلیم کیے جانے کے لیے اسے ایک طویل مدتی عمل سے گزرنا ہوگا۔ IOMed کے لیے PCA کے مساوی حیثیت حاصل کرنا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے اسے عالمی برادری کی حمایت اور ایک مضبوط فریم ورک کی ضرورت ہوگی۔ IOMed کے لیے ICJ یا PCA کا مکمل متبادل بننے کے بجائے ان کے ساتھ تعاون کرنا زیادہ عملی ہوگا۔ یہ تنظیم ایشیا میں تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن سکتی ہے، لیکن عالمی تنازعات کے حل کے لیے اسے موجودہ اداروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا ہوگی۔ پاکستان کو اس تنظیم کی غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ یہ صرف چین یا پاکستان کے ایجنڈے تک محدود نہ رہے۔