Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گھوٹکی: تھانہ بی سیکشن پولیس کی بڑی کارروائی، دو شراب فروش گرفتار،

    گھوٹکی: تھانہ بی سیکشن پولیس کی بڑی کارروائی، دو شراب فروش گرفتار،

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی ہدایات پر جرائم پیشہ افراد کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران تھانہ بی سیکشن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں شراب اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔

    ایس ایچ او تھانہ بی سیکشن محمد قابل بھیو نے عملے کے ہمراہ خفیہ اطلاع پر انٹرچینج گھوٹکی کے قریب کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان، فیاض احمد ولد اللہ وسایو چوہان اور سلیم ولد پیر بخش چوہان، سکنہ رفیق آباد رحیم یار خان، کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 288 آدھیہ شراب اور ایک کار برآمد ہوئی۔ ایک اور ملزم، محمد فرخ بشیر ولد بشیر احمد، پولیس کو دیکھتے ہی موقع سے فرار ہو گیا۔

    پولیس نے گرفتار ملزمان کو برآمد شدہ شراب سمیت تھانے منتقل کر دیا ہے، جبکہ فرار ہونے والے ملزم کی تلاش جاری ہے۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 51/2025 بجرم دفعہ 3/4 منشیات حدود آرڈیننس کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔

    ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے اسے منشیات کے خلاف جاری جنگ میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

  • سیالکوٹ: 5 جون عالمی یوم ماحولیات پر شجرکاری، سیمینار، زیرو پلاسٹک مہم

    سیالکوٹ: 5 جون عالمی یوم ماحولیات پر شجرکاری، سیمینار، زیرو پلاسٹک مہم

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو) عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر 5 جون کو ضلع سیالکوٹ میں خصوصی تقریبات منعقد ہوں گی، جن میں شجرکاری مہم، زیرو پلاسٹک آگاہی، سیمینار، واک اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے ایکشن پلان کا اعلان شامل ہے۔ ان سرگرمیوں کی نگرانی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اقبال سنگھیڑا کریں گے۔

    ضلع بھر میں قدرتی وسائل کے تحفظ اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف مؤثر اقدامات پر مبنی پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس میں سیمینار اور واک کا اہتمام کیا جائے گا، جبکہ ڈی سی آفس میں شجرکاری کی جائے گی۔ محمد اقبال سنگھیڑا نے تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ متعلقہ اداروں، صنعتکاروں، شاپنگ مالز، دکانداروں اور مقامی قیادت کے ساتھ مل کر ایک مؤثر ایکشن پلان تیار کریں۔

    اجلاس میں اے ڈی سی پلاننگ مظفر مختار، اے سی سیالکوٹ انعم بابر، اے سی ڈسکہ عثمان غنی، اے سی پسرور سدرہ ستار اور ڈی سی ماحولیات جوہر عباس بھی شریک ہوئے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ ماحولیات کو فعال بناتے ہوئے فوری اور مؤثر کارروائیاں یقینی بنائی جائیں گی تاکہ پائیدار ترقی اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھا جا سکے۔

    ان اقدامات کا مقصد نہ صرف ماحول کو محفوظ بنانا ہے بلکہ شہریوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانا بھی ہے تاکہ معاشرے میں ماحول دوست رویوں کو فروغ حاصل ہو۔

  • اوکاڑہ: کاروباری رنجش پر بیوپاری پر انسانیت سوز تشدد، 5 ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ: کاروباری رنجش پر بیوپاری پر انسانیت سوز تشدد، 5 ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار ملک ظفر )اوکاڑہ کے نواحی گاؤں چک نمبر 52/3R میں کاروباری رنجش پر مویشیوں کے بیوپاری شہزاد حسین پر پانچ ملزمان نے انسانیت سوز سلوک کرتے ہوئے تشدد کیا، سر کے بال اور مونچھیں مونڈھ ڈالیں اور اس کا منہ بھی کالا کر دیا۔ واقعہ نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا، جبکہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ شخص شہزاد حسین مویشیوں کا کاروبار کرتا ہے جبکہ ملزمان دانش، لیاقت، اظہر، بگی اور زین بھی اسی کاروبار سے منسلک ہیں اور ان کے شہزاد سے کاروباری رنجش چلی آ رہی تھی۔ گزشتہ شب ان افراد نے شہزاد کو اغوا کر کے ملزم لیاقت کے گھر لے جا کر اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، اس کی تذلیل کی، اور اس کی شکل بگاڑ کر ویڈیوز بنانے کی کوشش کی۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) اوکاڑہ محمد راشد ہدایت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس تھانہ اوکاڑہ کینٹ کو فوری کارروائی کا حکم دیا۔ پولیس نے چابکدستی سے کارروائی کرتے ہوئے تمام نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا اور ان کے خلاف مقدمہ نمبر 225/25 درج کر لیا گیا۔

    پولیس ترجمان کے مطابق واقعے کی مکمل تفتیش جاری ہے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ڈی پی او نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور شہریوں کے وقار و تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا۔

  • سیالکوٹ: بیل سنوکر کھیلنے پہنچ گیا، کھلاڑیوں کی دوڑیں لگ گئیں!

    سیالکوٹ: بیل سنوکر کھیلنے پہنچ گیا، کھلاڑیوں کی دوڑیں لگ گئیں!

    سیالکوٹ ( باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ کے علاقے شہاب پورہ میں واقع ایک نجی سنوکر کلب اُس وقت ہنگامہ خیز منظر کا گواہ بن گیا جب ایک بپھرا ہوا بیل اچانک سنوکر کھیلتے کھلاڑیوں کے درمیان جا گھسا۔ سنوکر کی کیو پکڑے کھلاڑی ایک لمحے میں کلب چھوڑ کر دروازوں اور دیواروں کی طرف دوڑ پڑے، اور دیکھتے ہی دیکھتے کلب میدان جنگ بن گیا۔

    بیل کی غیر متوقع "انٹری” پر کلب میں افرا تفری مچ گئی۔ سنوکر ٹیبلز کے گرد دوڑتے کھلاڑیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو گئیں، جس میں سنوکر کے بجائے کھلاڑیوں کو اپنی جان بچاتے ہوئے دوڑ لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    مقامی افراد کے مطابق بیل قریبی گلی سے بھاگتا ہوا کلب میں داخل ہوا اور چند لمحے وہاں موجود رہا، مگر خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واقعہ نے سنوکر کے سنجیدہ ماحول کو ایک لمحے میں مزاحیہ اور سنسنی خیز منظر میں بدل دیا، اور کھلاڑیوں کو نہ صرف پسینے میں نہلا دیا بلکہ یادگار لمحہ بھی دے گیا۔

  • سیالکوٹ: شیرپور میں چار سالہ بچے کی لاش برآمد، درزی کے قاتل کو سزائے موت

    سیالکوٹ: شیرپور میں چار سالہ بچے کی لاش برآمد، درزی کے قاتل کو سزائے موت

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ میں افسوسناک واقعات کا سلسلہ جاری ہے، تھانہ کوٹلی لوہاراں کے علاقے شیرپور میں چار سالہ بچے کی لاش کار سے برآمد ہوئی جبکہ تھانہ ہیڈمرالہ کے علاقے گوندل میں درزی کو قتل کرنے والے ملزم کو عدالت نے سزائے موت سنا دی۔

    شیرپور میں چار سالہ بچہ گزشتہ روز کھیلتے ہوئے لاپتہ ہو گیا تھا، جس کی لاش آج ایک کار سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے نعش قبضے میں لے کر ہسپتال منتقل کر دی ہے۔ کمسن بچے کی موت پر علاقے میں کہرام مچ گیا ہے اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی جدید ٹیکنالوجی کے باوجود بچہ بازیاب نہ ہو سکا اور ایک اور معصوم زندگی کا چراغ گل ہو گیا۔

    دوسری جانب تھانہ ہیڈمرالہ کے علاقے گوندل میں تیرہ جولائی 2024 کو درزی اعجاز کو لڑائی چھڑوانے کی پاداش میں چھریاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ ملزم ساجد محمود عرف بلا کو ہومی سائیڈ یونٹ کے انسپکٹر شبیر گل نے گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کیا اور شواہد جمع کیے۔ ایڈیشنل سیشن جج شہزادی نجف نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد جرم ثابت ہونے پر ملزم کو سزائے موت اور سات لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

    دونوں واقعات نے ضلع بھر میں خوف، افسوس اور غم کی فضا قائم کر دی ہے، جبکہ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے پولیس کو جدید اقدامات کرنے ہوں گے اور مجرموں کو سخت ترین سزائیں دے کر انصاف کا نظام مضبوط بنانا ہو گا۔

  • اوکاڑہ: تھانہ گوگیرہ کے قریب پولیس مقابلہ، 4 ڈاکو گرفتار، 2 زخمی، 3 فرار

    اوکاڑہ: تھانہ گوگیرہ کے قریب پولیس مقابلہ، 4 ڈاکو گرفتار، 2 زخمی، 3 فرار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)تھانہ گوگیرہ کی حدود میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان ہونے والے مقابلے میں 4 خطرناک ڈاکو گرفتار کر لیے گئے جن میں سے 2 زخمی حالت میں پکڑے گئے جبکہ 3 ڈاکو فرار ہو گئے۔ پولیس نے مقابلے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن کیا جس کے دوران مزید 2 ڈاکو گرفتار کر لیے گئے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق ڈی پی او اوکاڑہ راشد ہدایت کی ہدایت پر ڈاکو ناکہ جات کے خاتمے کے لیے سپیشل ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں اور گشت کے نظام کو مزید مؤثر بنایا گیا۔ تھانہ گوگیرہ کے علاقہ 42 جی ڈی میں 7 ڈاکو ناکہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے، جس پر شہری دلشاد نے پکار 15 پر پولیس کو اطلاع دی۔

    ایس ایچ او گوگیرہ نے فوری طور پر اپنی ٹیم کے ہمراہ کارروائی کی، تاہم ڈاکوؤں نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہو گئے اور گرفتار کر لیے گئے۔

    بعد ازاں سرچ آپریشن کے دوران مزید دو ڈاکو عثمان اور علی حیدر کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ تین ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ گرفتار ڈاکو سنگین نوعیت کے 36 مقدمات میں مطلوب اور اشتہاری نکلے۔

    ابتدائی تفتیش میں زخمی ڈاکوؤں کی شناخت رحیم اور تنویر کے ناموں سے ہوئی، جو ڈکیتی اور راہزنی کے 9 مقدمات میں ملوث پائے گئے۔ پولیس کے مطابق ڈاکوؤں کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ فرار ہونے والے تین ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • عیدالاضحی ایثار، خلوص اور محبت کا پیغام ہے: احتشام جمیل شامی

    عیدالاضحی ایثار، خلوص اور محبت کا پیغام ہے: احتشام جمیل شامی

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹس کے مرکزی صدر، معروف شاعر، صحافی و کالم نگار احتشام جمیل شامی نے عیدالاضحی کے بابرکت موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ یہ عظیم دن حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال قربانی کی یاد تازہ کرتا ہے، جو ہمیں اطاعتِ الٰہی، خلوص، ایثار اور محبت کا درس دیتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ قربانی محض جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اصل قربانی اپنے نفس، لالچ، بغض، حسد اور نفرتوں کو مٹا کر خلوص و وفا کا راستہ اپنانا ہے۔ آج کے معاشرے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قربانی کی حقیقی روح کو سمجھیں اور اس پر عمل کر کے ایک پرامن، روادار اور محبت بھرا سماج تشکیل دیں۔

    احتشام جمیل شامی نے کہا کہ عیدالاضحی ہمیں موقع دیتی ہے کہ ہم اپنے گردونواح میں موجود محروم طبقے کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔ یہی عمل اس تہوار کو حقیقی معنوں میں "بڑی عید” بناتا ہے۔

    انہوں نے تمام اہل اسلام کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے دعا کی کہ یہ عید ہمارے لیے رحمت، برکت اور قربتِ الٰہی کا ذریعہ بنے۔

  • سیالکوٹ: ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کی مشترکہ سیلابی فرضی مشق، اداروں کی عملی تیاریوں کا مظاہرہ

    سیالکوٹ: ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کی مشترکہ سیلابی فرضی مشق، اداروں کی عملی تیاریوں کا مظاہرہ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی سٹی رپورٹر مدثر رتو)ریسکیو 1122 نے ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے دریائے چناب پر کمبھرانوالہ کے مقام پر سیلابی صورتحال سے نمٹنے کی فرضی مشق کا انعقاد کیا۔ مشق کا مقصد ممکنہ ہنگامی صورتحال میں ادارہ جاتی تیاری اور باہمی رابطے کو جانچنا تھا۔

    یہ مشق بانی ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیر کی ہدایت اور ریجنل ایمرجنسی آفیسر گوجرانوالہ کی نگرانی میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال کی قیادت میں منعقد کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی کی خصوصی ہدایت پر ضلعی سطح کے تمام ادارے مشق میں شریک ہوئے۔

    تمام محکموں نے اپنے آلات اور تیاریاں عوام کے سامنے پیش کیں۔ ریسکیو 1122 نے پانی میں ڈوبنے والوں کی تلاش، ابتدائی طبی امداد اور سیلابی ریسکیو آپریشن کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔ فیلڈ میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا گیا جس میں ریسکیو اہلکاروں نے فوری طبی سہولیات فراہم کرنے کی مشق کی۔

    ڈی ڈی ایم سی کے کیوان حسن نے مشق کے کامیاب انعقاد پر تمام محکموں کو سراہا اور تیاریوں کو تسلی بخش قرار دیا۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نوید اقبال کے مطابق ایسی مشقوں سے نہ صرف اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے بلکہ باہمی تعاون کو فروغ دے کر ممکنہ آفات میں بروقت ردعمل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

    مشق میں ریسکیو محافظین کے علاوہ سول ڈیفنس، واسا، میونسپل کارپوریشن، محکمہ صحت، انہار، لائیو اسٹاک، ٹریفک پولیس، سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن، حیی الفلاح اور روز ویلفیئر آرگنائزیشن نے بھی شرکت کی۔

  • اویس لغاری  ہٹاؤ، حکومت اور عوام بچاؤ

    اویس لغاری ہٹاؤ، حکومت اور عوام بچاؤ

    اویس لغاری ہٹاؤ، حکومت اور عوام بچاؤ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    جب جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں کے محنت کش کسان نے محدود وسائل کے باوجود اپنے چھوٹے سے گھر میں دو بجلی کے میٹر نصب کیے، تو یہ کوئی چالاکی نہ تھی بلکہ مہنگائی کے عذاب میں کچھ سانس لینے کی آخری کوشش تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر "پروٹیکٹڈ سلیب” میں رہے تو شاید چولہا جلتا رہے اور بچوں کی فیس ادا ہو جائے۔ مگر اویس لغاری کی وزارت توانائی نے ایسا حکم صادر کیا جس نے لاکھوں غریب گھرانوں کی آخری امید روند ڈالی۔ دو میٹروں پر پابندی لگا کر صارفین کو ظالمانہ "نان پروٹیکٹڈ” سلیب میں دھکیل دیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب قوم کی کمر واقعی ٹوٹ گئی۔

    اویس لغاری کی وزارت توانائی عوامی اذیت کا استعارہ بن چکی ہے۔ ان کے متضاد بیانات، گمراہ کن اعلانات اور فیصلوں نے عام شہری کو نہ صرف مالی نقصان دیا بلکہ عزت نفس کو بھی مجروح کیا۔ آج غریب کے بجلی کے بل مڈل کلاس کے بنک اکاؤنٹ سے زیادہ وزنی ہو چکے ہیں۔ اویس لغاری نے عوام کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اب وزیر اعظم کو کسی دشمن یا سازش کی ضرورت نہیں رہی بلکہ اویس لغاری کی وجہ سے عوامی غیظ و غضب خود دہکتا لاوا بن چکا ہے۔

    پاک بھارت جنگ کے بعد حکومت کی عالمی سطح پر سفارتی کامیابیاں بھی اس لاوے کو روکنے میں ناکام ہیں کیونکہ جب گھر کا بلب بجھ جائے، چولہا ٹھنڈا ہو اور بل ہزاروں میں ہوں تو قوم کے لیے حکومتی کامیابیاں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ اویس لغاری کے اقدامات نہ صرف عوام پر معاشی بمباری ہیں بلکہ وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے بھی سیاسی بارودی سرنگ ہیں۔

    اویس لغاری کی وزارت کا آغاز ہی جھوٹے وعدوں سے ہوا۔ عام انتخابات سے قبل بلاول بھٹو نے 300 یونٹ مفت بجلی کا اعلان کیا جو غریب عوام کے لیے امید کی کرن تھا۔ لیکن جب اویس لغاری نے وزارت سنبھالی تو نہ صرف یہ وعدہ پورا نہ ہوا بلکہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اور دیگر سرچارجز کے ذریعے بل کئی گنا بڑھا دیے گئے۔ ایک عام گھرانے کا بل جو پہلے چند ہزار کا تھا، اب لاکھوں تک جا پہنچا۔ اویس لغاری کے دعوے، جیسے "ہم نے قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کیے ہیں” یا "بلنگ کا نظام شفاف بنایا ہے”، عملاً بے معنی ثابت ہوئے۔ پروٹیکٹڈ سے نان پروٹیکٹڈ سلیب کی منتقلی، ناجائز ڈیٹیکشن بلز اور دو میٹروں پر پابندی نے ان کے تمام دعوؤں کو جھوٹا کر دیا۔

    بلنگ سسٹم میں سلیب کی تبدیلی خاص طور پر ظالمانہ تھی۔ 200 یونٹ سے ایک یونٹ زیادہ پر صارف "نان پروٹیکٹڈ” کیٹگری میں آ جاتا، جس سے بل کئی گنا بڑھ جاتا۔ وزیر اعظم نے اوور بلنگ پر برہمی کا اظہار کیا لیکن اویس لغاری نے معاملہ نیپرا کو سونپ کر جان چھڑا لی۔ سوشل میڈیا پر شکایات عام ہو گئیں کہ بل 8 ہزار سے 25 ہزار تک پہنچ گیا حالانکہ بجلی کا استعمال وہی تھا۔

    دو میٹروں پر پابندی نے دیہی علاقوں کے صارفین کی مشکلات دوچند کر دیں۔ کئی گھرانوں میں بجلی کا بوجھ تقسیم کرنے کے لیے دو میٹر استعمال ہوتے تھے، جس سے نہ صرف نظام بہتر چلتا بلکہ صارفین پروٹیکٹڈ سلیب سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ اب یا تو وہ استعمال کم کریں یا مہنگے سلیب پر بل ادا کریں۔ ایک دیہاتی صارف نے بی بی سی کو بتایا کہ دو میٹروں سے فائدہ ہو رہا تھا، لیکن ایک میٹر ہٹانے سے بل دوگنا ہو گیا۔

    ناجائز ڈیٹیکشن بلز نے بھی عوام کو نچوڑ کر رکھ دیا۔ بجلی چوری کے الزامات لگا کر بھاری جرمانے عائد کیے گئے، اکثر بغیر ثبوت۔ اویس لغاری نے خود تسلیم کیا کہ اوور بلنگ ہو رہی ہےلیکن ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ سوشل میڈیا پر ان پر رشوت خوری اور جاگیردارانہ ذہنیت کے الزامات لگے۔ ان کے فورٹ منرو کے گھر کا بل محض 124 روپے بتایا گیا جبکہ عوام ہزاروں روپے کے بل ادا کر رہے ہیں۔ اگرچہ وضاحت دی گئی کہ میٹر بند تھا، لیکن معاملہ عوامی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔

    بیوروکریسی اور اشرافیہ کو دی گئی مفت بجلی کی سہولت ختم نہ کی جا سکی۔ نگران حکومت نے اسے ختم کرنے کا عندیہ دیاتھا مگر اویس لغاری نے اسے جاری رکھا۔ سالانہ 500 ارب روپے سے زائد مفت بجلی اشرافیہ کھا جاتی ہے اور بوجھ عوام اٹھاتے ہیں۔ 2024 کے دوران بجلی کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس نے عوام کو بدترین معاشی بحران میں جھونک دیا۔ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو دی گئی یہ سہولت عوامی اشتعال کا باعث بنی۔

    اویس لغاری کے فیصلوں نے وزیر اعظم کی حکومت کو آتش فشاں کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ عوام کا غصہ اب قابو سے باہر ہو رہا ہے، جو کسی بھی وقت سڑکوں پر ابل سکتا ہے۔ دشمنوں کے خلاف سفارتی کامیابیاں بھی اب عوامی بھوک، پیاس اور اندھیرے کے سامنے غیر متعلق ہو چکی ہیں۔ جب عزت نفس اور بنیادی ضروریات چھن جائیں تو صرف اشتعال باقی رہ جاتا ہے.

    اویس لغاری کی پالیسیاں قوم کی اجتماعی خود کشی کامکمل سامان پیدا کر چکی ہیں۔ عوام کے پاس دینے کو کچھ نہیں بچا، لیکن قربانی کے لیے اویس لغاری جیسے وزراء کی فہرست طویل ہے۔ ان کا سیاسی ماضی بھی غیر مستقل مزاجی کی گواہی دیتا ہے ، مسلم لیگ (ق) سے مسلم لیگ (ن)، پھر تحریک انصاف کی چوکھٹ تک۔ ایسے افراد سے اصول اور وفاداری کی توقع عبث ہے۔ اگر حکومت عوامی غیض و غضب کی لپیٹ میں آئی تو اویس لغاری سب سے پہلے کشتی چھوڑ دیں گے۔

    لیکن میاں صاحب! اس عوامی طوفان کا سامنا آپ کو کرنا ہو گا۔ اگر اب بھی فیصلہ نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف آپ کی حکومت بلکہ مریم نواز شریف کی ابھرتی ہوئی قیادت کو بھی لے ڈوبے گا۔ اویس لغاری کو برطرف کرنا، بجلی کے نرخ کم کرنا، سلیب سسٹم کی اصلاح، ناجائز ڈیٹیکشن بلز کا خاتمہ اور دو میٹروں پر سے پابندی اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ورنہ تاریخ آپ کو عوام دشمن وزیر کا محافظ لکھے گی۔

    وزیر اعظم صاحب! اب فیصلہ کن اقدام کا وقت ہے۔ یہ محض ایک وزارت کی کارکردگی نہیں بلکہ آپ کی حکومت کے وجود اور سیاسی وراثت کی بقا کا سوال ہے۔ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب یا آپ عمل کریں گے یا پھر عوام کا طوفان سب کچھ بہا لے جائے گا۔

  • لنڈی کوتل: یاجد اکبر کا پریس کانفرنس میں دعویٰ، "ہماری زمین میں چچازاد حصہ دار نہیں

    لنڈی کوتل: یاجد اکبر کا پریس کانفرنس میں دعویٰ، "ہماری زمین میں چچازاد حصہ دار نہیں

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ) ڈسٹرکٹ خیبر پریس کلب (رجسٹرڈ) میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یاجد اکبر اور راحیل اکبر نے پشاور کے علاقے سربند شینواری قلعہ میں واقع اپنی خاندانی جائیداد کے تنازع پر اپنا مؤقف پیش کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ ان کے دادا مرحوم محمد اکبر کی جائیداد، جو وراثت انتقال نمبر 1107 سال 2008 کے تحت پانچ بیٹوں اور تین بیٹیوں میں تقسیم ہوئی تھی، اس کے بعد سے کچھ مسائل کا شکار ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران یاجد اکبر اور راحیل اکبر نے دعویٰ کیا کہ اکبر خان ولد نسیم اکبر نے اپنے حصے کی زمین فروخت کر کے نقد رقم حاصل کر لی تھی، حالانکہ ان کے چچازادگان نے انہیں بارہا ایسا کرنے سے منع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نسیم اکبر کے بیٹوں نے ان کی تنبیہ کے باوجود اپنی زمین فروخت کی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جاوید اکبر، جمیل اکبر (پسران نعیم اکبر) اور محمد اکبر کی بیٹیوں نے اپنی حصہ اراضی 2022 میں ہارون اور شاہد نامی افراد کو فروخت کر دی اور زر ثمن بھی وصول کر لیا ہے۔ ان کے دیگر چچازادگان، جن میں پرویز اور صدیق اکبر کے بیٹے شامل ہیں، نے بھی اپنی اراضی ہارون اور شاہد کو فروخت کی ہے۔ انہوں نے ہارون اور شاہد کو کاروباری لوگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی اعتماد کے ساتھ یہ معاملہ طے کیا ہے۔

    یاجد اکبر اور راحیل اکبر نے واضح کیا کہ ان کے چچازاد بھائی اکبر خان ولد نسیم اکبر کا ان کے ساتھ کوئی شرعی یا قانونی حصہ نہیں بنتا۔ انہوں نے تمام سرکاری محکموں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتوں سے اپیل کی کہ وہ ان کے بیانات کی آزادانہ چھان بین کریں، اور انہیں یقین ہے کہ وہ سرخرو ہوں گے۔

    پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بالخصوص ڈی پی او خیبر سے گزارش کی کہ اکبر خان ولد نسیم اکبر کے خلاف دروغ گوئی اور بے جا الزامات لگانے کی پاداش میں قانونی اور سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔