Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • پیناڈول، رائزک اور جگر کے امراض: سچ کیا ہے؟

    پیناڈول، رائزک اور جگر کے امراض: سچ کیا ہے؟

    پیناڈول، رائزک اور جگر کے امراض: سچ کیا ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    حال ہی میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پوڈکاسٹ ویڈیو نے پیناڈول (پیراسیٹامول) اور رائزک (اومیپرازول) جیسی عام ادویات کے استعمال اور جگر کے امراض سے ان کے تعلق پر کافی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس ویڈیو میں کچھ حیران کن دعوے کیے گئے جو ایک طرف تو عوامی صحت کے لیے تشویش کا باعث بنے تو دوسری طرف کئی غلط فہمیوں کو بھی جنم دیا۔ ان دعوؤں کا حقیقت کی کسوٹی پر جائزہ لینا ضروری ہے۔

    ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانیوں نے پچھلے سال رائزک نامی دوا پر تقریباً 8 ارب روپے خرچ کیے اور یہ دوا معدے اور جگر پر "تیزاب ڈالنے” جیسا اثر رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رائزک دراصل اومیپرازول ہے جو کہ ایک پروٹون پمپ انہیبیٹر (Proton Pump Inhibitor) ہے اور اس کا کام معدے میں تیزاب کی پیداوار کو کم کرنا ہے۔ یہ سینے کی جلن، بدہضمی اور السر کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ کہنا کہ یہ دوا معدے یا جگر پر تیزاب ڈالتی ہے، سائنسی طور پر درست نہیں، کیونکہ یہ دوا تیزاب کی پیداوار کو روکتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں رائزک کا بے جا اور غیر ضروری استعمال عام ہے، جہاں لوگ بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے اسے درد کش ادویات کے ساتھ یا معمولی تیزابیت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سائنسی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس دوا کا طویل استعمال وٹامن B12 کی کمی، گردوں کے مسائل اور جگر کے افعال میں بگاڑ کا باعث بن سکتا ہے، تاہم اس کا براہ راست تعلق جگر کے کینسر سے ابھی تک ثابت نہیں ہوا۔ 8 ارب روپے کے خرچ کا دعویٰ بھی غیر مصدقہ ہے کیونکہ اس کی کوئی سرکاری رپورٹ دستیاب نہیں۔

    پوڈکاسٹ میں پیناڈول کے بارے میں کہا گیا کہ یہ دوا آج کل "ٹافیوں” کی طرح استعمال ہو رہی ہے اور اس کا زیادہ استعمال فیٹی لیور اور جگر کی دیگر پیچیدہ بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ یہ دوا دنیا میں بند ہو چکی ہے اور پاکستان میں بھی سات سال پہلے بین ہو چکی ہے۔ یہ دعوے مکمل طور پر غلط ہیں۔ پیناڈول (پیراسیٹامول) درد اور بخار کے علاج کے لیے دنیا بھر میں استعمال ہونے والی ایک انتہائی عام اور مؤثر دوا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اسے بنیادی دواؤں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے اور پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ دوا آج بھی دستیاب ہے۔ البتہ، یہ بات سچ ہے کہ پیراسیٹامول کا زیادہ استعمال، خاص طور پر اگر روزانہ 4 گرام سے زیادہ مقدار لی جائے یا اسے شراب کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ جگر کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسے مریض جو پہلے سے ہی ہیپاٹائٹس یا جگر کی کسی بیماری میں مبتلا ہوں، ان کے لیے پیراسیٹامول کا بے احتیاط استعمال مزید پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ دوا جگر کا کینسر پیدا کرتی ہے۔ جگر کے کینسر کی سب سے بڑی وجہ ہیپاٹائٹس B اور C کے وائرل انفیکشنز ہیں۔

    ویڈیو میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان میں جگر کے کینسر کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اگلے 15 سالوں میں 30 لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ جن لوگوں کے PCR ٹیسٹ "نیگیٹو” آتے ہیں، وہ بھی کینسر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں جگر کے امراض، خاص طور پر ہیپاٹائٹس B اور C ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں، اور ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن 30 لاکھ افراد کو کینسر ہونے کا دعویٰ مبالغہ آمیز ہے اور اس کی کوئی سائنسی رپورٹ یا ثبوت موجود نہیں۔ جگر کے کینسر کی اصل وجوہات میں غیر محفوظ انجیکشن، خون کی غیر معیاری منتقلی اور ناقص صفائی شامل ہیں۔ جہاں تک PCR ٹیسٹ کا تعلق ہے، یہ وائرس کی مقدار چیک کرتا ہے۔ اگر یہ نیگیٹو آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ فی الحال وائرس موجود نہیں، لیکن یہ کینسر یا دیگر بیماریوں کی موجودگی کو رد نہیں کرتا۔ ویڈیو میں کینسر کے کچھ مخصوص ٹیسٹس (جیسے ایلفا فیٹوپروٹین، CA125، CA15-3، CA19-9، اور CEA) کا ذکر کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ ان سے اکثر میں کینسر کی ابتدائی علامات نکل آئیں گی۔ یہ ٹیسٹ مخصوص کینسرز کی نشاندہی میں مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی تشریح صرف ماہر ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے۔ یہ تمام ٹیسٹ ہر مریض پر لاگو نہیں ہوتے اور ہر مثبت نتیجہ کینسر کی حتمی تشخیص نہیں ہوتا۔ مزید براں CA125، CA15-3، اور CA19-9 جیسے ٹیسٹ بنیادی طور پر جگر کے کینسر کے لیے نہیں، بلکہ بالترتیب رحم/بیضہ دانی، چھاتی اور لبلبہ/گال بلیڈر کے کینسر سے متعلق ہیں۔

    یہ پوڈکاسٹ اگرچہ کچھ غلط معلومات پر مبنی ہے، لیکن اس میں دواؤں کے غلط اور غیر ضروری استعمال کے بارے میں جو تشویش ظاہر کی گئی ہے وہ بالکل درست ہے۔ پاکستان میں عام لوگ اکثر معمولی بخار یا درد پر خود ہی دوا لے لیتے ہیں یا کسی کی رائے پر عمل کرتے ہیں۔ یہ رویہ خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب بات جگر جیسے نازک عضو کی ہو۔ یہ معاملہ صرف ان دو دواؤں تک محدود نہیں بلکہ ہمارے مجموعی صحت کے نظام اور عوامی شعور کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اوور دی کاؤنٹر دواؤں کی فروخت پر سخت قوانین نافذ کرے، فارمیسیوں کی نگرانی کرے اور عوام کو دواؤں کے درست استعمال کے بارے میں آگاہی دے۔ ساتھ ہی میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلنے والے طبی دعوؤں کی سچائی جانچنا اور ان پر اندھا یقین کرنے سے گریز کرنا بھی ضروری ہے۔

    اس طرح کی ویڈیوز میں کئی بار خوف پھیلانے کا عنصر شامل ہوتا ہے اور وہ حقیقت سے دور ہو سکتی ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم بطور قوم اپنی صحت کے معاملات کو سنجیدگی سے لیں، اپنی زندگیوں کو غیر ضروری دواؤں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں اور اگر کسی دوا کا استعمال کریں تو مستند ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔ جگر ایک خاموش مگر نہایت اہم عضو ہے، جب یہ بولتا ہے تو اکثر دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس لیے ہیپاٹائٹس B کی ویکسین لگوائیں، محفوظ انجیکشن استعمال کریں اور باقاعدہ چیک اپ کروائیں۔ سوشل میڈیا کے دعوؤں پر بھروسہ کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا معتبر ذرائع سے تصدیق کرنا ہمیشہ بہتر ہے۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا،تحریر:رفعت شوکت کھرل

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا،تحریر:رفعت شوکت کھرل

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا
    از قلم: رفعت شوکت کھرل
    تمباکو ایک زرعی پیداوار ہے جو کہ ایک سالانہ فصل ہے، جو عام طور پر سگریٹ، نسوار اور دیگر مواد بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سائنسی ریسرچ کے مطابق تمباکو میں نیکوٹین موجود ہوتا ہے جو نشہ آور ہوتا ہے۔ تمباکو کے پتوں سے مزید نشہ آور ادویات بنائی جاتی ہیں جو کہ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔ اس طرح، سگریٹ بھی تمباکو کے پتوں کو خشک کر کے تیار کی جاتی ہے۔ سگریٹ کو جلانے اور اس کے دھویں کو سانس لینے سے نیکوٹین مادے کا اثر زیادہ ہوتا ہے جو نشہ آور ہے اور جسم میں مختلف نقصان دہ اثرات پیدا کرتا ہے۔

    یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ مہنگائی کے اس دور میں بھی سگریٹ کا استعمال عروج پر ہے۔ یہ ایسی خاموش موت کا سبب بنتی ہے، جو انسان کو اندر ہی اندر سے ختم کر دیتی ہے۔ اس کے مسلسل استعمال سے امیر و غریب طبقہ موت کے موت میں دھنسا جاتا ہے۔

    دنیا میں سب سے زیادہ پسماندہ طبقات ہی اس نشے میں مبتلا ہوتے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو  آگاہی ہی نہیں ہوتی کہ جو سگریٹ کا استعمال وہ کثرت سے کر رہے ہیں تو اس کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟

    اس لیے لوگ نقصان کی پرواہ کیے بغیر سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ مگر سگریٹ بنانے والے اس بات سے با خبر ہوتے ہیں کہ وہ جو مواد استعمال کر رہے ہیں، وہ نہایت ہی زہریلا ہے۔ مگر اس کے برعکس ، سگریٹ بنانے والی کمپنیز دن رات ہی یہ زہریلا مواد تیار کر رہی ہیں اور سستے داموں بیچ رہی ہیں، تاکہ معاشرے کو جسمانی طور پر نقصان ہو۔

    سگریٹ نوشی لیے نقصان دہ ہے کیونکہ اس کے شدید مضر اثرات ہیں۔ یہ جسم کو نقصان دہ کیمیکلز سے بے نقاب کرتی ہے جو پھیپھڑوں، دل اور خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے سانس کی بیماریاں، قلبی مسائل اور کینسر ہوتے ہیں۔ اس کا مسلسل استعمال سے عوام گاہے بگاہے مفلوجیت کا شکار ہو رہی ہے، مگر پھر بھی حکمران اس بات سے ناواقف ہیں کہ غلط پروڈکٹس کو زیادہ ترجیح کیوں دی جا رہی ہے؟

    سگریٹ نوشی کے نقصانات جاننے کے باوجود بھی عوام اسکو استعمال کر رہی ہے۔ اب غریب عوام کو اس نشے کی لت لگ چکی ہے، وہ تو ہر صورت خرید کر استعمال کریں گے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اس پروڈکٹ کو سستے داموں بیچ کر عادی بنایا جا رہا ہے۔ جس سے غریب طبقہ مزید غربت کا شکار ہو رہا ہے۔ عوام اپنی جان کی پروا کیے بغیر اس کے استعمال کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔

    حکمران ریاست سے درخواست ہے کہ وہ سگریٹ بنانے والی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دے اور جو پروڈکٹس تیار شدہ ہیں، ان پر مزید ٹیکس لگا دیں تاکہ یہ زہریلا مواد عوام کی پہنچ سے دور رہے۔ ایسا کرنا نہایت مشکل کام ہے مگر ان اقدامات سے معاشرے میں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا،تحریر: روبینہ اصغر

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا،تحریر: روبینہ اصغر

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا
    تحریر: روبینہ اصغر
    آج کل سگریٹ اور تمباکو نوشی کو فیشن سمجھا جاتا ہے۔یہ لت موجودہ دورمیں ہر عمر کے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔مرد تو مرد آج کل بچے،نوجوان بوڑھے،جوان بچیاں اور خواتین بھی محفوظ نہیں۔یہ ایک ایسا شکنجہ ہے کہ جو شخص ایک دفعہ اس میں پھنس جائے تو مشکل سے ہی خلاصی ملتی ہے۔جو شخص ایک دفعہ اس کا ذائقہ چکھ لے اسےبار بار اس کی طلب ہوتی ہے۔یوں یہ زہر آہستہ آہستہ اس کی رگوں میں سرایت کرنے لگتا ہے۔آخر کار نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ وہ اس کا اس حد تک رسیا ہوجاتا ہے۔کہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی کے بغیر وہ بِن موت مرجائے گا۔حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔سگریٹ اور تمباکو کسی بھی سگریٹ نوش کو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی تباہ کرکے رکھ دیتے ہیں۔

    موجودہ معاشرے میں جہاں ہر دوسرا شخص اس لعنت میں مبتلا نظر آتا ہے۔محکمہ صحت کے مطابق اس کی روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس سے نجات اور بچاؤ ممکن تو ہے مگر کیسے؟

    اگر موجودہ موضوع کو لیا جائے کہ”سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا”تو میں اس سے مکمل اتفاق نہیں کرتی۔کیونکہ اس موضوع کے حوالے سے پھر ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا سگریٹ نوشی میں صرف غریب طبقہ ہی مبتلا ہے؟ یا امراء بھی اس کے عادی ہیں؟ایک لمحے کے لیے اگر سوچ لیا جائے کہ سگریٹ کا مہنگاپن غریب کو تو سگریٹ سے دور رکھ دے گا تو امراء کا کیا ہوگا؟ان کے لیے بھی کوئی ایسا لائحہ عمل ہونا چاہیے۔جس سے سگریٹ امیر طبقہ بھی ترک کرنے پر مجبور ہوجائے۔

    سگریٹ اور تمباکواستعمال کرنے والے احباب اس کے نقصانات سے بخوبی واقف بھی ہیں۔پھر بھی وہ اسے دھڑا دھڑ استعمال کررہے ہیں اور جانتے بوجھتے یہ زہر اپنے اندر انڈیل رہے ہیں۔وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ تنہائی،غم،دکھ،ذہنی پریشانی اور تناؤ اس کےاستعمال کا سبب بنتے ہیں۔جب ان کا خاتمہ ہوگا تو یہ اسباب اپنی موت آپ مر جائیں گے۔

    اس زہر قاتل سے نجات صرف ایک فرد کی ہی ذمہ داری نہیں بلکہ ہرشخص کو اپنے معاشرے کے بچاؤ کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔اس کے لیے امیر، غریب اور متوسط ہر طبقہ کو آگے بڑھنا ہوگا۔تاکہ ہم ایک صحت مند معاشرے کو جنم دیں اور ہماری آئندہ آنے والی نسلیں جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط،صحتمند اور خوشحال قوم بن کر ابھریں۔

    اس کے لیے ہمیں درج ذیل اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
    1-تمباکو کی کاشت اور اس کی درآمد پر پابندی لگانا حکومتِ وقت کا فرض ہے اور سنجیدگی سے اس پر غور کرنے کی ضرورت بھی ہے۔
    2-سگریٹ تیار کرنے والے کارخانوں کو فی الفور بند کیا جائے۔تاکہ اس کی ترسیل کا خاتمہ ہوسکے۔
    3-جب ایسی مضر صحت اشیاء کی پیداوار کم ہوگی تو تمباکو اور سگریٹ نوشی کی عادت بھی رفتہ رفتہ کم ہو جائے گی۔ایک دن ایسا آئے گا کہ ہمارا معاشرہ تمباکو سے پاک معاشرہ کہلائے گا۔
    4-سگریٹ مہنگا کرنے کی بجائے اس کی تیاری اور تمباکو کی پیداوار کو روک کر کیوں نہ اس نشے کا جڑ سے ہی خاتمہ کردیا جائے۔نہ رہے گابانس نہ بجے گی بانسری
    5-سگریٹ اور تمباکو کے استعمال میں امیر اور غریب دونوں طبقات ملوث ہیں لہذا ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے اس طرح دوررس اثرات مرتب ہوں کہ تمباکو اور سگریٹ دونوں طبقات کی پہنچ سے دور ہوجائیں۔کیونکہ دونوں طبقات ہمارے معاشرے کی ضرورت ہیں۔ان میں سے کسی کوبھی ہم تباہی میں نہیں دھکیل سکتے۔
    6-یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پہلے سگریٹ کی ڈبیہ تیار کرتے ہیں پھر اس پر”خبردار!تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے”لکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا فرض ادا ہوگیا۔بھئی! ایسا کرنے سے کچھ نہیں ہوگا یہ اندھوں کا دیس ہے۔بِن دیکھے اور سمجھے سب ایک ہی رو میں بہتے جارہے ہیں۔کوئی تو وقت کا مسیحا ہو جو اس معاشرے کو اندھے کنویں میں گرنے سے بچا لے۔
    7-تمباکو اور سگریٹ نوشی معاشرے کا ایک ناسور ہیں۔صرف "ایک” دن منانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ہمیں ہر روز اس غلط عادت کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور کرتے رہنا چاہیے تاوقتیکہ اس کا کاروبار ٹھپ ہو جائے اور معاشرہ تمباکو سے پاک معاشرہ کہلائے۔اس سلسلے میں ہمارے مصنفین اور ادباء کو بھی اپنے قلم کا زور آزمانے کی ضرورت ہے۔برقی اور اشاعتی ذریعے سے عوام کو اس کے نقصانات سے آگاہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
    8-یہ دونوں انسانی جسم کو اندرونی طور پر مکمل کھاجاتے ہیں۔جس کے نتیجے میں انسان پھیپھڑوں کے کینسر اور دیگر کئی عوارض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔نتیجتاً بیمار معاشرہ دیکھنے کو ملے گا۔سگریٹ نوش کے ساتھ ساتھ اس کے ارد گرد بیٹھے لوگ بھی اس کے زہریلے دھویں سے محفوظ نہیں رہ پاتے۔سانس کے ذریعے ہوا میں شامل یہ دھواں ان کے اجسام میں سرایت کرکے اپنا اثر دکھاتا ہے۔جس سے کئی قسم کی سانس کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
    9-یہ غلط لت معاشرے میں ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔اس زہریلے درخت کو چوٹی سے کاٹنے کی بجائے جڑ سے ہی اکھاڑ کر ختم کردینا چاہیے۔تاکہ ہمارے معصوم شہریوں کی قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں۔
    10-تمباکو نوشی چونکہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔اس میں ہرملک و ملت کو بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ہر ملک اپنے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی درآمد و برآمد پر پابندی عائد کرے۔اس سلسلے میں چور بازاری کو ہوا نہ دے۔تو "ان شاءاللہ”وہ وقت دور نہیں جب ان زیریلی چیزوں کا خاتمہ ہوگا اور ایک مثالی صحت مند معاشرہ دیکھنے کو ملے گا۔جو ملکی خوشحالی میں بھرپور کردار ادا کرے گا۔جس سے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کے مواقع میسر آئیں گے۔نہ۔صرف ملک بلکہ ہرشخص خوشحال ہوگا۔

  • عید کے کپڑے نہ ملے، 3 جانیں چلی گئیں؛ بھوک سے بزرگ خاتون جاں بحق

    عید کے کپڑے نہ ملے، 3 جانیں چلی گئیں؛ بھوک سے بزرگ خاتون جاں بحق

    رحیم یارخان،بہاولپور(باغی ٹی وی)غربت کے زخم، عید کے کپڑے نہ ملے، بھوک سے جان گئی، دو شہروں کی دو دردناک داستانیں

    رحیم یار خان اور بہاولپور میں غربت اور بھوک نے دو الگ خاندانوں کو نگل لیا، جہاں ایک جانب عید کے کپڑے مانگنے پر مجبور باپ نے تین بچوں سمیت زہریلی گولیاں کھا لیں، وہیں دوسری طرف کئی روز کی فاقہ کشی نے ایک بزرگ خاتون کی جان لے لی۔

    رحیم یار خان کی تحصیل رکن پور کے علاقے سردار گڑھ بستی حاجی پیر میں یہ دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک محنت کش باپ نے دو معذور بیٹوں اور ایک بیٹی کو زہریلی گولیاں کھلائیں اور خود بھی زندگی ختم کرلی۔ ترجمان شیخ زید اسپتال کے مطابق دو بیٹے اور باپ موقع پر ہی دم توڑ گئے، جب کہ بیٹی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ پولیس کے مطابق باپ ٹریکٹر ٹرالی چلا کر روزی کماتا تھا لیکن کئی دنوں سے بے روزگار اور شدید پریشان تھا۔ اہل علاقہ کے مطابق عید قریب آتے ہی بچوں نے جب کپڑوں کا مطالبہ کیا تو غربت کے ہاتھوں مجبور باپ نے یہ انتہائی قدم اٹھا لیا۔

    ادھر بہاولپور کے علاقے لوہار والی گلی میں بھوک کی شکار دو بزرگ بہنیں بے ہوشی کی حالت میں پائی گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچے تو ایک خاتون دم توڑ چکی تھیں جبکہ دوسری کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ بچ جانے والی بہن نے بتایا کہ وہ دونوں کئی دنوں سے فاقہ کشی کا شکار تھیں۔ اہل محلہ کے مطابق دونوں بہنیں غیر شادی شدہ تھیں، گھر میں تنہا رہتی تھیں اور ان کا اکلوتا بھائی بھی کئی سالوں سے لاپتا ہے۔

    دونوں واقعات نے یہ سنگین سوال اٹھا دیا ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشرتی بے حسی کے اس دور میں ہمارا فلاحی نظام کہاں کھڑا ہے؟ عید کے کپڑوں کی خواہش یا روٹی کی طلب کیا واقعی موت کی قیمت پر پوری ہونی چاہیے؟

  • قصور: اپووا کا تاریخی دورہ، ادبی و فلاحی مرکز کا قیام  اور گنڈا سنگھ بارڈر کا وزٹ

    قصور: اپووا کا تاریخی دورہ، ادبی و فلاحی مرکز کا قیام اور گنڈا سنگھ بارڈر کا وزٹ

    قصور(باغی ٹی وی رپورٹ) آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بانی صدر ایم ایم علی کی قیادت میں قصور کا ایک یادگار دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد ادبی اور فلاحی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور ملک بھر میں اپووا کے دفاتر کے قیام کے عزم کو دہرانا تھا۔

    اپووا وفد میں سینئر نائب صدر حافظ محمد زاہد، نائب صدر سفیان علی فاروقی، نائب صدر (میل ونگ) اسلم سیال اور ممبر و ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان شامل تھے۔ قصور پہنچنے پر طارق نوید سندھو نے اپنے دوستوں عباس علی بھٹی، عابد علی بھٹی، چوہدری اکبر علی اور مہر شوکت علی کے ہمراہ وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ طارق نوید سندھو، جو باغی ٹی وی کے ڈسٹرکٹ رپورٹراور سینئر صحافی ہیں، نے وفد کے اعزاز میں ایک پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا جس میں مقامی ادبی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔


    ظہرانے کے بعد وفد نے قصور کی عظیم روحانی شخصیات، بابا بلھے شاہؒ اور بابا کمال چشتیؒ کے مزارات پر حاضری دی۔ اس موقع پر ملک کی سلامتی، خوشحالی، اور بالخصوص آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کی تعمیر و ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، جو تنظیم کے فلاحی اور روحانی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔

    بعد ازاں اپووا وفد کو پاک-بھارت سرحد پر واقع گنڈا سنگھ بارڈر کا دورہ کرایا گیا۔ وفد نے وہاں پرچم اتارنے کی پروقار تقریب (پریڈ) کا مشاہدہ کیا، جو قومی غیرت اور سلامتی کا عکاس ہے۔ اس دوران وفد نے بارڈر پر موجود اعلیٰ عسکری اور سول افسران سے بھی ملاقاتیں کیں، جہاں باہمی دلچسپی کے امور اور ملک کی ثقافتی و ادبی ترقی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس دورے کی سب سے اہم پیش رفت قصور میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے دفتر کا قیام ہے۔ یہ اقدام مقامی ادیبوں، لکھاریوں، اور فنکاروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرے گا جہاں وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھار سکیں گے اور ادبی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر سکیں گے۔ اس موقع پر اپووا کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں اپووا کے دفاتر کھولے جائیں گے تاکہ ملک بھر میں ادبی سرگرمیوں کا جال بچھایا جا سکے۔

    اپووا وفد نے قصور سے اپووا کے اراکین سے بھی ملاقاتیں کیں۔ بانی و صدر اپووا ایم ایم علی نے میزبان طارق نوید سندھو کا اس شاندار استقبال اور انتظامات پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ اپووا کا یہ دورہ قصور میں ادبی اور فلاحی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایک نئی روح پھونکے گا اور یہ شہر قومی سطح پر ادبی منظرنامے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ دورہ اس بات کا غماز ہے کہ اپووا ملک بھر میں ادبی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے۔


  • جلالپور پولیس کا مبینہ دھاوا، چادر و چار دیواری کی پامالی، متاثرین ہائیکورٹ پہنچ گئے

    جلالپور پولیس کا مبینہ دھاوا، چادر و چار دیواری کی پامالی، متاثرین ہائیکورٹ پہنچ گئے

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) تھانہ دھوڑکوٹ کی حدود میں جلالپور پولیس کی جانب سے موضع بیٹ لنگاہ میں محنت کش خاندانوں کے گھروں پر مبینہ طور پر دھاوا بولنے، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور گھریلو سامان اٹھا لے جانے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ افراد نے لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بنچ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پولیس کی اس غیر قانونی کارروائی نے ان کی زندگیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

    پٹیشن گزار بلال ڈاہڑ، اعظم ڈاہڑ، راجو ڈاہڑ، امیر بخش ڈاہڑ و دیگر کے مطابق درجنوں اہلکار، جن میں بعض وردی اور بعض سادہ لباس میں تھے، پانچ سے چھ پولیس گاڑیوں پر سوار ہو کر بلا اجازت ان کے گھروں میں داخل ہوئے، بغیر سرچ وارنٹ کارروائی کی، قیمتی سامان الٹ پلٹ کر لے گئے اور دیگر اشیاء کو بھی نقصان پہنچایا۔ خواتین و بچوں کے سامنے توڑ پھوڑ کی گئی، نازیبا زبان استعمال کی گئی، جبکہ چیخ و پکار کے باوجود اہلکار باز نہ آئے۔

    متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ "پولیس نے جس انداز سے گھروں پر دھاوا بولا، ایسا محسوس ہوا جیسے بھارتی فوج نے حملہ کر دیا ہو۔” واقعے کی ویڈیوز میں ٹوٹی چارپائیاں، بکھرا ہوا سامان اور تباہ شدہ اشیاء واضح دیکھی جا سکتی ہیں۔

    متاثرین نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ نہ صرف پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے بلکہ سامان کی واپسی، مزید ہراسانی و جھوٹے مقدمات سے تحفظ اور واقعے کی شفاف انکوائری بھی یقینی بنائی جائے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید بےچینی پائی جاتی ہے، جبکہ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی پولیس کے اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قانون کے محافظ خود قانون شکن بن جائیں تو عوام کے لیے عدل و انصاف کا تصور بھی باقی نہیں رہتا۔

  • اوچ شریف:بنگلہ مستوئی روڈ پر موٹر سائیکل حادثہ، ماں اور دو سالہ بیٹی زخمی

    اوچ شریف:بنگلہ مستوئی روڈ پر موٹر سائیکل حادثہ، ماں اور دو سالہ بیٹی زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) بنگلہ مستوئی روڈ کے قریب بستی ماسٹر منظور کے مقام پر موٹر سائیکل حادثے میں ایک خاتون اور ان کی دو سالہ بیٹی زخمی ہو گئیں۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل کے ٹائر میں کپڑا پھنس جانے کے باعث گاڑی عدم توازن کا شکار ہو کر گر گئی۔

    زخمیوں کی شناخت فاطمہ بی بی زوجہ عبدالرؤف (عمر 32 سال) اور ان کی دو سالہ بیٹی نفیسہ بی بی دختر عبدالرؤف کے طور پر ہوئی ہے، جو موضع نور والا، بستی ماچھی کے رہائشی ہیں۔ حادثے کے نتیجے میں فاطمہ بی بی کو پیشانی پر معمولی چوٹیں آئیں جبکہ ننھی نفیسہ کے چہرے پر متعدد خراشیں اور زخم آئے۔

    ریسکیو ٹیم نے موقع پر پہنچ کر فوری طبی امداد فراہم کی اور زخمی ماں بیٹی کو رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) اوچ شریف منتقل کر دیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

  • اوچ شریف: گھریلو جھگڑے پر نوجوان نے زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی

    اوچ شریف: گھریلو جھگڑے پر نوجوان نے زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے محلہ بخاری میں گھریلو تنازع پر ایک نوجوان نے مبینہ طور پر زہریلی گولیاں نگل کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ متوفی کی شناخت محمد ثاقب ولد امداد حسین کے طور پر ہوئی ہے جو محلہ بخاری اوچ شریف کا رہائشی تھا۔

    اہل خانہ کے مطابق، نوجوان گھریلو مسائل کے باعث شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا تھا، جس کے باعث اس نے گندم میں رکھی جانے والی زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی۔ واقعہ کی اطلاع پر ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پر پہنچی اور متاثرہ شخص کو فوری ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، تاہم حالت تشویشناک ہونے کے باعث اُسے رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) اوچ شریف منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا۔

    واقعے کے بعد علاقے میں افسوس کی فضا چھا گئی، جبکہ مقامی پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • گھوٹکی:کچہ میں ڈاکوؤں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن جاری، شر، ماچھی اور میرانی گینگ کے ٹھکانے مسمار

    گھوٹکی:کچہ میں ڈاکوؤں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن جاری، شر، ماچھی اور میرانی گینگ کے ٹھکانے مسمار

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ضلع گھوٹکی کے کچہ ایریا میں اغواء کاروں اور ڈاکوؤں کے خلاف پولیس اور رینجرز کا مشترکہ ٹارگیٹڈ آپریشن ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی قیادت میں بھرپور انداز میں جاری ہے۔ شر گینگ، ماچھی گینگ اور میرانی گینگ کے خلاف سب ڈویژن رونتی کے تھانہ شہید دین محمد لغاری کی حدود میں جاری آپریشن میں مغویوں کی بازیابی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    پولیس اور اغواء کاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے جبکہ پولیس اور رینجرز نے ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کا گھیراؤ تنگ کر کے انہیں مسمار کر دیا اور کئی مقامات کو نظر آتش کر دیا گیا ہے۔ کچہ کے دشوار گزار علاقوں میں سخت سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے تاکہ ڈاکوؤں کے تمام محفوظ مقامات ختم کیے جا سکیں۔

    آج کے آپریشن میں ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی قیادت میں ڈی ایس پی اباوڑو عبدالقادر سومرو، متعدد تھانوں کے ایس ایچ اوز، اے پی سی چین اور بکتر بند گاڑیوں سمیت پولیس و رینجرز کی بھاری نفری شریک ہے۔

    ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے عزم ظاہر کیا ہے کہ انشاء اللہ بہت جلد تمام مغویوں کو بحفاظت بازیاب کروا لیا جائے گا اور اغواء کاروں و ڈاکوؤں کے مکمل خاتمے تک کچہ کے علاقے میں آپریشن جاری رہے گا۔

  • اوکاڑہ: محرم الحرام انتظامات پر اجلاس، اوقات میں رد و بدل اور زیرو ٹالرنس پالیسی پر اتفاق

    اوکاڑہ: محرم الحرام انتظامات پر اجلاس، اوقات میں رد و بدل اور زیرو ٹالرنس پالیسی پر اتفاق

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل حافظ محمد عمر طیب کی زیر صدارت محرم الحرام کی مجالس اور جلوسوں کے پرامن اور منظم انعقاد کے لیے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اہل تشیع کے نمائندگان سید کوثر رضوی، صداقت علی بھٹی، سید امیر حسین کے علاوہ محکمہ صحت، واپڈا، میونسپل کمیٹی اور پولیس حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس میں حکومت پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں موسم کی شدت کے پیش نظر جلوسوں اور مجالس کے اوقات میں ممکنہ رد و بدل، مجالس میں ذاکرین کی ویڈیو ریکارڈنگ، مشی واک پر زیرو ٹالرنس پالیسی، اور سیکیورٹی سمیت دیگر اہم انتظامات پر غور کیا گیا۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل حافظ محمد عمر طیب نے واضح کیا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائنز پر ہر صورت عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مجالس اور جلوسوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ قریبی روابط قائم رکھیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے موثر طور پر نمٹا جا سکے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تمام محکمے محرم الحرام کے دوران اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانے کے لیے مکمل تیار رہیں اور امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور تعاون کو یقینی بنائیں۔