Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سگریٹ پر ٹیکس: غریب کی صحت کا تحفظ یا معاشی بوجھ؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

    سگریٹ پر ٹیکس: غریب کی صحت کا تحفظ یا معاشی بوجھ؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

    سگریٹ پر ٹیکس: غریب کی صحت کا تحفظ یا معاشی بوجھ؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    31 مئی کو تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا جاتا ہے جو دنیا بھر میں تمباکو کے مضر اثرات سے آگاہی دینے اور اسکے استعمال کو کم کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ اس سال کرومیٹک ٹرسٹ اور باغی ٹی وی کی طرف سے منتخب کردہ عنوان "سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا” ایک ایسی بحث کو جنم دیتا ہے جو صحت عامہ، معاشی انصاف اور سماجی ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ موضوع پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے تناظر میں خاص طور پر اہم ہے جہاں غربت، صحت کی ناکافی سہولیات اور تمباکو کی صنعت کا اثر و رسوخ ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ آئے اس اہم موضوع کا گہرائی سے جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں،

    تمباکو نوشی صحت کا ایک عالمی مسئلہ ہے ، جس سے ہر سال لاکھوں افراد کی زندگیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت WHOکے مطابق تمباکو سے منسلک بیماریوں کی وجہ سے ہر سال تقریباً 8 ملین افراد ہلاک ہوجاتے ہیں، جن میں سے 1.2 ملین غیر فعال تمباکو نوشی (second-hand smoking) کے شکار ہوتے ہیں پاکستان میں یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں ہر سال تقریباً 100,000 سے زائد افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں جیسے پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، سانس کی بیماریوں اور منہ کے کینسر کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں تمباکو کی کھپت کی شرح بھی خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ملک کی تقریباً 32 فیصد بالغ مرد اور 8 فیصد بالغ خواتین سگریٹ نوشی کرتی ہیں جبکہ پان، چھالیہ، گٹکہ اور نسوار جیسے دیگر تمباکو مصنوعات کے استعمال کو شامل کیا جائے تو یہ شرح 54 فیصد تک جا پہنچتی ہے۔ خاص طور پر غریب طبقہ جو صحت کی سہولیات اور آگاہی سے محروم ہوتا ہے، اس لت کا زیادہ شکار ہے۔ سگریٹ کی کم قیمت اسے غریب طبقے کے لیے آسانی سے قابل رسائی بناتی ہے، جس سے ان کی صحت اور معاشی حالات دونوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    سگریٹ پر ٹیکس بڑھانا تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کی ایک ثابت شدہ حکمت عملی ہے۔ WHO کے مطابق سگریٹ کی قیمت میں 10 فیصد اضافے سے ترقی پذیر ممالک میں اس کے استعمال میں 4 سے 5 فیصد کمی ہوتی ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ کمی 3 سے 4 فیصد ہوتی ہے۔ اس کی وجہ معاشی اصول ہے کہ جب کسی چیز کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کی مانگ کم ہوتی ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے میں جو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پہلے ہی جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سگریٹ کی قیمت عالمی معیار کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ جہاں سری لنکا میں ایک سگریٹ کا پیکٹ تقریباً 9 ڈالر کا ہے، وہیں پاکستان میں یہ ایک ڈالر سے بھی کم میں دستیاب ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کم ایکسائز ٹیکس اور غیر قانونی سگریٹ کی اسمگلنگ ہے۔ اگر پاکستان سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کرے تو نہ صرف تمباکو کا استعمال کم ہوگا بلکہ حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا،جو صحت عامہ کے منصوبوں اور غریب طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر مالی سال 2019-20 میں پاکستان نے سگریٹ پر ٹیکس بڑھایا تھا، جس کے نتیجے میں 147 ارب روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی جو کہ پچھلے سال کے 114 ارب روپے سے نمایاں اضافہ تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس بڑھانا نہ صرف تمباکو کے استعمال کو کم کرتا ہے بلکہ معاشی فوائد بھی دیتا ہے۔ تاہم موجودہ ٹیکس نظام میں خامیاں ہیں، جیسے کہ غیر قانونی سگریٹ کی فروخت اور تمباکو کمپنیوں کی جانب سے ٹیکس چوری جو اس پالیسی کی افادیت کو کم کرتی ہیں۔

    سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ غریب طبقے کو تمباکو کی لت سے بچا سکتا ہے۔ غریب خاندان اپنی محدود آمدنی کا ایک بڑا حصہ سگریٹ پر خرچ کرتے ہیں، جو ان کے بچوں کی تعلیم، خوراک اور صحت جیسی بنیادی ضروریات کو متاثر کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں غریب گھرانوں کے افراد اپنی آمدنی کا 10 سے 15 فیصد تمباکو پر خرچ کرتے ہیں۔ اگر سگریٹ مہنگا ہو جائے تو یہ پیسہ ان کی زندگی کی بہتری کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ مزید برآں تمباکو سے متعلق بیماریوں کا علاج صحت کے نظام پر بھاری بوجھ ڈالتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال تمباکو سے متعلق بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، جو کہ غریب طبقے کے لیے اکثر ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے سے نہ صرف ان بیماریوں کی شرح کم ہو گی بلکہ صحت کے نظام پر بوجھ بھی کم ہو گا، جس سے غریب طبقے کو بہتر صحت کی سہولیات میسر ہو سکیں گی۔ تاہم اس پالیسی کے کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ سگریٹ کے عادی افرادخاص طور پر غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے قیمتوں میں اضافے کے باوجود اپنی لت کو برقرار رکھنے کے لیے دیگر ضروریات پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ خوراک یا تعلیم پر خرچ کم کر کے سگریٹ خریدنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے ان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ غیر قانونی سگریٹ کی اسمگلنگ اور سستے متبادلات کی دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کی مارکیٹ کا حجم تقریباً 40 فیصد ہے جو کہ ٹیکس بڑھانے کی پالیسی کی افادیت کو کم کرتی ہے۔

    تمباکو انڈسٹری کا پروپیگنڈا ایک اہم نکتہ ہے۔ تمباکو کمپنیاں جیسے کہ پاکستان ٹوبیکو کمپنی اور فلپ مورس مارکیٹ کے 98 فیصد حصے پر قابض ہیں اور "غریب کے لیے سستی سگریٹ” کا بیانیہ پھیلا کر اپنی فروخت کو برقرار رکھتی ہیں۔ یہ کمپنیاں ہر سال اربوں روپے کا منافع کماتی ہیں اور اشتہارات کے ذریعے نئی منڈیاں بناتی ہیں، خاص طور پر نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہوئے۔ یہ بیانیہ کہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانا غریب طبقے پر ظلم ہے، دراصل تمباکو انڈسٹری کی طرف سے ایک فریب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سستی سگریٹ غریب طبقے کو بیماری اور معاشی تباہی کی طرف دھکیلتی ہے۔ تمباکو کمپنیاں نہ صرف ٹیکس چوری کرتی ہیں بلکہ غیر قانونی سگریٹ کی فروخت کو بھی فروغ دیتی ہیں، جس سے حکومتی پالیسیوں کی افادیت کم ہوتی ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانا ایک مشکل لیکن ضروری اقدام ہے۔ تاہم اس پالیسی کو کامیاب بنانے کے لیے کچھ اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے سگریٹ پر یکساں اور بھاری ایکسائز ٹیکس لگایا جائے جو تمام برانڈز پر یکساں طور پر نافذ ہو تاکہ غیر قانونی سگریٹ کی فروخت کو روکا جا سکے۔ غیر قانونی سگریٹ کی اسمگلنگ اور فروخت کو روکنے کے لیے سخت قوانین اور ان کا نفاذ ضروری ہے، جس کے لیے سرحدی نگرانی اور مارکیٹ چیکنگ کے نظام کو مضبوط کیا جائے۔ تمباکو کے مضر اثرات کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے میڈیا، سکولوں اور کمیونٹی سینٹرز کے ذریعے مہمات چلائی جائیں اور خاص طور پر نوجوانوں اور غریب طبقے کو ہدف بنایا جائے۔ سگریٹ کے عادی افراد کے لیے مفت یا کم لاگت کے بحالی پروگرامز متعارف کرائے جائیں، جو غریب طبقے کے لیے خاص طور پر مفید ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ سگریٹ پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک بڑا حصہ صحت عامہ کے منصوبوں، غریب طبقے کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خرچ کیا جائے۔ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی لگائی جائے اور حقہ کیفوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس کے علاوہ سگریٹ کے اشتہارات پر مکمل پابندی اور پیکٹس پر واضح انتباہی پیغامات کو مزید نمایاں کیا جائے۔

    31 مئی کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ تمباکو نوشی نہ صرف ایک صحت کا سنگین مسئلہ ہے بلکہ ایک سماجی اور معاشی چیلنج بھی ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانا اس بحران سے نمٹنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے جو خاص طور پر غریب طبقے کو تمباکو کی لت سے بچا سکتا ہے۔ اگرچہ اس پالیسی کے کچھ وقتی چیلنجز ہیں، جیسے کہ عادی افراد پر معاشی دباؤ اور غیر قانونی سگریٹ کی فروخت لیکن جامع منصوبہ بندی اور سخت نفاذ سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ حکومت، سول سوسائٹی اور عوام کو مل کر اس سمت میں کام کرنا ہو گا کہ تمباکو کی صنعت کے فریب سے نکلا جائے اور ایک ایسی پالیسی اپنائی جائے جو غریب طبقے کی صحت اور معاشی استحکام کو ترجیح دے۔ سگریٹ کو غریب کی پہنچ سے دور کرنا ظلم نہیں بلکہ ان کی زندگیوں کو بچانے اور ان کے مستقبل کو روشن کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس سلسلے میں کرومیٹک ٹرسٹ اور باغی ٹی وی کی کوششیں قابل تحسین ہیں جو ہر سال تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ یہ دونوں ادارے نہ صرف تحریری مقابلوں کے ذریعے سگریٹ نوشی اور تمباکو سے بنی اشیاء کے کنٹرول کے لیے شعور اجاگر کرتے ہیں بلکہ کرومیٹک ٹرسٹ مختلف فورمز پر سیمینارز اور ورکشاپس کے ذریعے آگاہی پھیلانے کی انتھک کوشش کرتا ہے۔ یہ اقدامات نوجوان نسل کو اس ان دیکھے دشمن سے بچانے کی جدوجہد کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی ان کوششوں کی بدولت معاشرے میں تمباکو کے مضر اثرات کے خلاف ایک مضبوط آواز بلند ہو رہی ہے اور وہ اس عظیم مقصد کے لیے خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ آئیے اس عالمی دن کے موقع پر عہد کریں کہ ہم ایک صحت مند، خوشحال اور تمباکو سے پاک پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں۔

  • سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریرحبیب خان

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہو گا.تحریرحبیب خان

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا، غریب کی پہنچ سے دور ہوگی
    تحریر: حبیب خان، نامہ نگار باغی ٹی وی اوچ شریف
    ہر سال 31 مئی کو پوری دنیا میں عالمی یومِ تمباکو نوشی منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تمباکو نوشی کوئی معمولی عادت نہیں، بلکہ ایک خاموش قاتل ہے جو لاکھوں زندگیاں برباد کر رہا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں تمباکو نوشی کے باعث ہر سال کروڑوں افراد اپنی جان گنواتے ہیں، اور ہمارے نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ تمباکو کمپنیاں بڑے دھوکے اور فریب کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ وہ انہیں آزادی، اسٹائل اور بغاوت کے نعرے دے کر موت کا زہر بیچتی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر پکڑا گیا سگریٹ، ہر چلایا گیا ویپ، ہر چبایا گیا گٹکا، ہمارے نوجوانوں کی صحت، ان کے خواب، اور ہمارے مستقبل کو برباد کر رہا ہے۔ دنیا میں ہر روز بے شمار لوگ آنکھیں بند کرتے ہیں لیکن کچھ اموات حادثہ نہیں ہوتیں ، وہ خود ساختہ ہوتی ہیں۔

    تمباکو نوشی انہی "سست زہروں” میں سے ایک ہے جو ہر سانس کے ساتھ انسان کو موت کے قریب لے جاتی ہے۔ یہ صرف ایک سگریٹ نہیں، یہ ایک چپ چاپ قتل ہے ، جو ہاتھوں میں سلگتی ہے، اور اندر ہی اندر جسم، ذہن اور روح کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا "قابلِ گریز” المیہ ہے، جسے صرف بیداری، قانون سازی اور سنجیدہ اقدامات سے روکا جا سکتا ہے۔ پاکستان، جہاں صحت کے وسائل پہلے ہی محدود ہیں، ان مہلک اثرات کی لپیٹ میں تیزی سے آ رہا ہے۔

    چین، پاپوا نیو گنی اور نائجیریا کے بعد پاکستان کا چوتھے نمبر پر آ جانا ایک قومی سانحہ ہے۔ جس پر اگر اب بھی خاموشی رہی، تو انجام ناقابلِ تصور ہو گا۔ سلگتی سگریٹ سے آج کی نوجوان نسل کا زوال ہو گیا ہے۔ تمباکو کمپنیاں کامیاب، ہم ناکام؟ نوجوان وہ بنیاد ہوتے ہیں جن پر قوموں کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ مگر افسوس، انہی ہاتھوں میں سگریٹ، ویپ، حقہ، گٹکا اور نسوار تھما دی گئی ہے۔

    تمباکو کمپنیاں جانتی ہیں کہ نوجوان ان کا "منافع بخش ہدف” ہیں۔ وہ اشتہارات میں "آزادی”، "بغاوت” اور "شخصیت” کے نام پر زہر بیچتے ہیں. اور نوجوان؟ وہ سمجھتے ہیں کہ سگریٹ پکڑنا مردانگی ہے، ویپ کرنا اسٹائل ہے، اور گٹکا کھانا روایت ہے۔

    یہ فکری زہر ہے ، جو جسمانی زہر سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ کبھی تم نے جلتی ہوئی سگریٹ کو غور سے دیکھا ہے؟ وہ دھیرے دھیرے خود کو راکھ میں بدلتی ہے . بالکل ویسے ہی جیسے ایک انسان تمباکو نوشی کا عادی ہو کر خود کو ختم کرتا ہے۔ لیکن فرق صرف یہ ہے کہ سگریٹ کی راکھ زمین پر گرتی ہے، انسان کی راکھ کسی ماں کی گود، کسی بچے کی امید، یا کسی قوم کے مستقبل پر۔

    یہ کیسی عادت ہے جسے ہم "اپنی مرضی” کہتے ہیں، مگر درحقیقت یہ ایسی غلامی ہے جس کی زنجیر ہم نے خود پہنی ہے؟ تمباکو نہ فقط جسم کو بیمار کرتا ہے بلکہ سوچ کو مفلوج، ارادے کو کمزور اور انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا نشہ ہے جس کا نشہ صرف چند لمحے ہوتا ہے، اور نقصان عمر بھر۔

    آج جب تم کسی نوجوان کو ویپ یا سگریٹ پکڑے دیکھتے ہو تو یہ مت سمجھو کہ وہ صرف دھواں اڑا رہا ہے ، وہ اپنی سانسیں، اپنی صحت، اپنے خواب اور اپنے خاندان کی خوشیاں بھی جلا رہا ہے۔ تمباکو کمپنیاں یہ جانتی ہیں کہ نوجوان ان کے سب سے نفع بخش شکار ہیں، اسی لیے وہ اشتہارات میں خوشنما وعدے اور جھوٹے خواب بیچتی ہیں اور بدلے میں موت کا سودا کر لیتی ہیں۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس دھوکے کو پہچانتے ہیں؟ کیا ہمارا میڈیا، ہمارے ادارے، اور ہماری قیادت اس سازش کو بے نقاب کرتی ہے؟ اکثر نہیں ، لیکن باغی ٹی وی ان گنت چینلز میں وہ واحد صدا ہے جو نہ بکتی ہے، نہ جھکتی ہے۔

    باغی ٹی وی صرف خبروں کا ادارہ نہیں، یہ ضمیر کی آواز ہے، بیداری کی چنگاری ہے، جو تمباکو نوشی کے خلاف ایک ایسی بغاوت چھیڑ چکا ہے جس کا ہدف صرف "خبریں دینا” نہیں بلکہ زندگیاں بچانا ہے۔ کرومیٹک کے ساتھ ان کی مشترکہ جدوجہد صرف مہم نہیں، ایک تحریک ہے۔ ایک ایسا قافلہ جو دہلیز دہلیز جا کر کہہ رہا ہے:
    "اب مزید کوئی بچہ، کوئی نوجوان، تمباکو کی بھینٹ نہ چڑھے!”

    انہوں نے دکھایا کہ سستا سگریٹ دراصل مہنگی موت ہے اور شعور ہی واحد بچاؤ ہے۔ ہمیں اب خاموشی نہیں، آواز بننا ہے۔ تمباکو کے خلاف یہ جنگ صرف باغی ٹی وی کی نہیں، ہر اُس ماں کی ہے جس نے بیٹے کو کھانستے دیکھا، ہر اُس بیوی کی ہے جس نے شوہر کو ہسپتال کے بستر پر تڑپتے دیکھا اور ہر اُس قوم کی ہے جو زندہ رہنا چاہتی ہے۔

    آو قلم کو تلوار، زبان کو آواز، اور عمل کو ہتھیار بنائیں۔
    ہم تمباکو کی ہر شکل کو رد کریں گے۔
    ہم اس دھوئیں سے زندگی کو چھین کر واپس لائیں گے۔
    ہم نسلوں کو بچائیں گے، کیونکہ زندگی ابھی ختم نہیں ہوئی، مگر اگر ہم نے آنکھ نہ کھولی… تو شاید جلد ہو جائے گی۔

    آؤ، عہد کریں:
    ہم تمباکو نہیں، صحت کا انتخاب کریں گے۔
    ہم خاموش نہیں، بیدار ہوں گے۔
    ہم باغی ٹی وی کی آواز بن کر، تمباکو کی ہر شکل کو مسترد کریں گے۔
    کیونکہ سانس وہی قیمتی ہوتی ہے، جو دھوئیں کے بغیر لی جائے۔

  • لیہ: مریم نواز کا لیپ ٹاپ و اسکالرشپ اسکیم کا آغاز، طلبہ کا پرتپاک استقبال

    لیہ: مریم نواز کا لیپ ٹاپ و اسکالرشپ اسکیم کا آغاز، طلبہ کا پرتپاک استقبال

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹرشاہد خان)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لیہ میں ہونہار اسکالرشپ فیز ٹو اور لیپ ٹاپ اسکیم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا، جس کے تحت ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے ہزاروں طلبہ میں لیپ ٹاپ اور نقد وظائف تقسیم کیے گئے۔ سپورٹس اسٹیڈیم لیہ میں منعقدہ پُروقار تقریب میں طلبہ و طالبات نے وزیر اعلیٰ کا والہانہ استقبال کیا، نعرے لگائے اور تالیوں کی گونج میں انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

    تقریب میں یونیورسٹی آف لیہ کی طالبہ نے منظوم کلام کے ذریعے وزیراعلیٰ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ طلبہ نے ہاتھ سے بنے ہوئے پنسل اسکیچز اور پورٹریٹس بھی وزیر اعلیٰ کو پیش کیے۔ وزیراعلیٰ نے نہ صرف طالبات کو گلے لگایا بلکہ بچوں کے ساتھ سیلفیاں بھی بنائیں۔ پنجاب کی روایتی شال پہن کر اور ”پنجاب دی پگ…… پنجاب دی دھی رانی دے سنگ“ جیسے نعروں میں ان کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا۔

    ڈی جی خان، مظفرگڑھ، لیہ اور راجن پور کے طلبہ و طالبات میں 1,645 لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے، جن میں 586 لیپ ٹاپ سرکاری یونیورسٹیز، 199 میڈیکل کالجز اور 860 لیپ ٹاپ کالج طلبہ کو دیے گئے۔ اسکالرشپ فیز ٹو کے تحت 1,696 طلبہ کو ایک کروڑ 93 لاکھ روپے کی مالی معاونت دی گئی، جن میں 414 اسکالرشپس سرکاری جامعات، 62 میڈیکل کالجز اور 1,220 کالج طلبہ شامل تھے۔

    تقریب کے دوران لیہ اور ڈی جی خان کے طلبہ نے ملی نغمہ ”اے میرے نوجواں، تم ہی بنیان مرصوص بن کر رہو“ پیش کیا، جس پر وزیراعلیٰ نے داد دی اور طالبات کو گلے لگایا۔ تلاوت اور نعت پڑھنے والے طلبہ کو بھی تحائف پیش کیے گئے۔ پولیس کے چاک و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تقریب میں ڈی سی لیہ امیرا بیدار کو اسٹیج پر بلا کر ان کی کارکردگی کو سراہا، اور "نواز شریف سینٹر آف ایکسی لینس فار ارلی چائلڈ ایجوکیشن” کی تعارفی ویڈیو بھی پیش کی گئی۔ اس تقریب نے جنوبی پنجاب میں تعلیمی ترقی کی جانب ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔

  • تنگوانی: ڈاکو چرواہے کو گولی مار کر بکری لے اڑے، ہائی وے پر وینیں لوٹ لی گئیں

    تنگوانی: ڈاکو چرواہے کو گولی مار کر بکری لے اڑے، ہائی وے پر وینیں لوٹ لی گئیں

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی اور گردونواح میں ڈاکوؤں کی دیدہ دلیری بڑھتی جارہی ہے، شبیر آباد اور ڈیرہ سرکی تھانہ کی حدود میں پیش آنے والے دو مختلف وارداتوں نے عوام کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ پولیس مکمل طور پر خاموش تماشائی بنی رہی۔

    تفصیلات کے مطابق تنگوانی کے نواحی علاقے شبیر آباد تھانے کی حدود میں موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح ڈاکوؤں نے چرواہے پر حملہ کرتے ہوئے مزاحمت پر گولی مار کر زخمی کر دیا اور اس کی بکری لے کر با آسانی فرار ہوگئے۔ زخمی چرواہے کو فوری طور پر سکر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ضلعی سطح پر شہریوں کی جان و مال غیر محفوظ ہوچکی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر غیر فعال نظر آ رہے ہیں۔

    دوسری طرف، آج دن کے وقت ڈیرہ سرکی تھانے کی حدود میں صیفل اسٹاپ کے مقام پر ہائی وے پر مسافر وینوں کو روک کر ڈاکوؤں نے متعدد افراد سے نقدی اور موبائل فونز لوٹ لیے۔ واردات کے دوران پولیس کچھ فاصلے پر موجود ہونے کے باوجود کوئی کارروائی نہ کر سکی۔ متاثرہ مسافروں نے واقعے کے فوراً بعد سڑک پر احتجاج کیا اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مسافروں کا کہنا تھا کہ وہ اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے خود سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    مسلسل وارداتوں اور پولیس کی مجرمانہ خاموشی نے عوام کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں امن و امان کی بحالی اور ڈاکوؤں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

  • سیالکوٹ: چچا نے بھتیجے کو قتل کر دیا، باپ اور دوسرا بیٹا زخمی

    سیالکوٹ: چچا نے بھتیجے کو قتل کر دیا، باپ اور دوسرا بیٹا زخمی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، مدثر رتو) تھانہ حاجی پورہ کے علاقے مبارک پورہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں چچا نے فائرنگ کر کے اپنے بھتیجے زویار کو قتل کر دیا، جبکہ مقتول کا والد سفیان اور چھوٹا بھائی اذان گولیاں لگنے سے زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق زویار کی عمر تقریباً 25 سال تھی، جو موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کر کے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور جلد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

  • سیالکوٹ: عید پر شراب سپلائی کی کوشش ناکام، 150 بوتلیں برآمد، ملزم گرفتار

    سیالکوٹ: عید پر شراب سپلائی کی کوشش ناکام، 150 بوتلیں برآمد، ملزم گرفتار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو) سیالکوٹ پولیس نے ڈی پی او سیالکوٹ کے خصوصی احکامات پر مؤثر کارروائی کرتے ہوئے لاہور سے شراب کی بڑی کھیپ لا کر عید پر فروخت کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔ تھانہ صدر کے ایس ایچ او میاں عبدالرزاق کی سربراہی میں ہونے والی کارروائی میں ملزم راہول مسیح کو گرفتار کر لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم عید کے موقع پر سیالکوٹ میں قیمتی شراب فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ دورانِ تلاشی ملزم کے قبضے سے 150 بوتلیں ولایتی شراب برآمد کی گئیں، جب کہ شراب کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

    پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ عید جیسے مذہبی تہواروں پر ناقص یا زہریلی شراب کے استعمال سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ رہتا ہے، جس کے پیش نظر ڈی پی او سیالکوٹ نے تمام تھانوں کو منشیات فروشوں اور شراب سپلائرز کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ایکشن جاری رہے گا۔

  • ننکانہ صاحب: عید پر امن و انتظامات کیلئے کمشنر لاہور کی زیر صدارت اجلاس

    ننکانہ صاحب: عید پر امن و انتظامات کیلئے کمشنر لاہور کی زیر صدارت اجلاس

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) کمشنر لاہور ڈویژن زید بن مقصود کی زیر صدارت ریجنل اور ضلعی امن کمیٹیوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل، ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ، ڈی پی او سید ندیم عباس، اسسٹنٹ کمشنرز، اے ڈی سیز، ضلعی امن کمیٹی ممبران، علماء کرام اور سکھ برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    اجلاس میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر امن و امان، صفائی، قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کی مناسب تلفی، کھالوں کے جمع کرنے کے ضابطے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ جیسے اہم نکات پر غور کیا گیا۔ کمشنر لاہور زید بن مقصود نے کہا کہ ننکانہ صاحب بھائی چارے اور رواداری کی سرزمین ہے، اور اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے تمام مذاہب اور مکاتب فکر کو ساتھ لے کر امن کے ماحول کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

    علماء کرام سے اپیل کی گئی کہ وہ خطبات کے ذریعے عوام میں صفائی، قانون کی پاسداری اور مذہبی رواداری کا پیغام دیں۔ قربانی کے جانوروں کی آلائشیں شاپر میں ڈال کر مقررہ مقامات پر پہنچانے کی ترغیب دی جائے تاکہ صفائی کا معیار بہتر ہو۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ بغیر اجازت کھالیں جمع کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا اور ضلعی کنٹرول روم عید کے ایام میں فعال رہے گا تاکہ صفائی اور دیگر عوامی شکایات کا فوری ازالہ کیا جا سکے۔

    عید کے موقع پر پولیس کی جانب سے ضلع بھر میں سخت سیکیورٹی اقدامات، مساجد و عید گاہوں پر نفری کی تعیناتی، لاوڈ اسپیکر، ون ویلنگ اور ہلڑ بازی کے خلاف کارروائی کا بھی اعلان کیا گیا۔

    اجلاس کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ بعد ازاں کمشنر لاہور زید بن مقصود نے ننکانہ صاحب میں مویشی منڈیوں اور سیل پوائنٹس کا دورہ کیا، جہاں شہریوں اور بیوپاریوں کے لیے فراہم کی گئی سہولیات کا جائزہ لیا اور ضلعی انتظامیہ کو مزید بہتری کی ہدایات جاری کیں۔

  • حافظ آباد: تھانہ سٹی پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی، 2 گرفتار

    حافظ آباد: تھانہ سٹی پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی، 2 گرفتار

    حافظ آباد(باغی ٹی وی،خبر نگارشمائلہ) تھانہ سٹی پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی، 2 گرفتار، 50 لیٹر دیسی، 11 بوتلیں ولایتی شراب برآمد

    تفصیل کے مطابق تھانہ سٹی حافظ آباد کی منشیات فروشوں کے خلاف کامیاب کارروائی، ایس ایچ او انسپکٹر مذمل عباس اور انچارج چوکی اے ڈویژن سب انسپکٹر محمد عمران کی قیادت میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران دو منشیات فروشوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزمان میں عظمت مسیح ولد اکبر مسیح اور آقاش ولد یونس مسیح ساکنان محلہ خانپورہ شامل ہیں۔

    کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 50 لیٹر دیسی شراب اور 11 بوتلیں ولایتی شراب برآمد کی گئیں۔ پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 1050/25 درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    حافظ آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق منشیات فروشوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ معاشرے کو منشیات جیسے مہلک ناسور سے محفوظ رکھا جا سکے اور نوجوان نسل کا مستقبل بچایا جا سکے۔

  • ننکانہ صاحب: محفوظ پنجاب ویژن کے تحت ٹریفک آگاہی مہم، ریلیوں کا انعقاد

    ننکانہ صاحب: محفوظ پنجاب ویژن کے تحت ٹریفک آگاہی مہم، ریلیوں کا انعقاد

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے محفوظ پنجاب ویژن کے تحت ننکانہ صاحب میں ٹریفک قوانین سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے بھرپور آگاہی مہم جاری ہے۔ اس سلسلے میں ضلع بھر میں ریلیاں نکالی گئیں، جن کی قیادت سٹی ننکانہ میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سید ندیم عباس نے ڈی ایس پی ٹریفک کے ہمراہ کی۔

    ریلیوں میں انجمن تاجران، ڈی ایس پیز، طلباء، سول سوسائٹی اور میڈیا نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ اس مہم کا مقصد شہریوں میں ٹریفک قوانین کی اہمیت اجاگر کرنا اور سڑکوں کو محفوظ بنانا ہے۔

    ڈی پی او سید ندیم عباس نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کم عمر بچوں کو ڈرائیونگ نہ کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائیاں جاری ہیں اور عوامی تعاون ہی ٹریفک نظام کو بہتر بنا سکتا ہے۔

    تاجر برادری نے بھی پولیس کے ساتھ تعاون کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مہم میں ضلعی پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں تاکہ ننکانہ صاحب کو ایک محفوظ اور قانون پسند شہر بنایا جا سکے۔

  • اوچ شریف: مہنگائی نے عید کی خوشیاں چھین لیں، بازار سنسان، عوام و تاجر شدید پریشان

    اوچ شریف: مہنگائی نے عید کی خوشیاں چھین لیں، بازار سنسان، عوام و تاجر شدید پریشان

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) عید قربان جیسے پرمسرت موقع پر بھی اوچ شریف کے بازار مہنگائی کے سائے میں ویران نظر آ رہے ہیں۔ اشیائے ضروریہ، قربانی کے جانوروں اور قصابوں کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کی قوت خرید کو مفلوج کر دیا ہے، جس سے عید کی روایتی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں۔

    شہر کی مارکیٹیں سنسان ہو چکی ہیں، خریدار نہ ہونے سے دکاندار پریشان اور کاروباری طبقہ بدترین مالی دباؤ کا شکار ہے۔ مقامی تاجروں عمر خورشید، اکرم، شوکت اور دیگر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر فوری ریلیف نہ دیا گیا تو مقامی معیشت تباہ ہو جائے گی اور عوام غربت کی لکیر سے بھی نیچے جا گریں گے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی نے زندگی اجیرن کر دی ہے، دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی مشکل ہو گیا ہے جبکہ کاشتکار گندم کی کم قیمتوں سے شدید متاثر ہیں۔ تاجر اور عوام دونوں نے حکومت سے ہنگامی معاشی پالیسیوں اور ریلیف پیکج کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو عید کی خوشیاں صرف خواب بن کر رہ جائیں گی۔