Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز کی مستقل تعیناتی نہ ہونے سے تعلیمی و انتظامی نظام متاثر

    ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز کی مستقل تعیناتی نہ ہونے سے تعلیمی و انتظامی نظام متاثر

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) پنجاب کے اہم ڈویژن ڈیرہ غازی خان میں ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز کی کلیدی آسامی طویل عرصے سے خالی ہے، جس کے باعث ایک افسر کو عارضی چارج دے کر تعلیمی و انتظامی امور چلائے جا رہے ہیں، مگر اس عبوری نظام کے باعث نہ صرف تعلیمی نظم و نسق متاثر ہو رہا ہے بلکہ متعدد انتظامی فیصلے بھی تاخیر کا شکار ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ڈویژن کے پانچ اضلاع میں کالجوں کی نگرانی، تدریسی معیار اور دیگر کلیدی ذمہ داریاں اسی پوسٹ سے وابستہ ہیں، لیکن مستقل افسر کی عدم تعیناتی سے نظام میں بے ترتیبی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ اضافی چارج رکھنے والے افسر پر دباؤ بڑھنے سے روزمرہ فیصلوں اور معاملات میں سست روی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    عوامی، سماجی اور تعلیمی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز کی خالی پوسٹ پر فوری اور مستقل افسر تعینات کیا جائے تاکہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں تعلیمی معاملات میں بہتری آئے اور انتظامی عمل درست خطوط پر بحال ہو سکے۔

  • اوچ شریف:دریائے ستلج،بیٹ لنگاہ پل ٹوٹ پھوٹ کا شکار، آمدورفت معطل، فوری مرمت کا مطالبہ

    اوچ شریف:دریائے ستلج،بیٹ لنگاہ پل ٹوٹ پھوٹ کا شکار، آمدورفت معطل، فوری مرمت کا مطالبہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) دریائے ستلج پر واقع تاریخی بیٹ لنگاہ پل شدید خستہ حالی کا شکار ہو چکا ہے، جس کے باعث علاقے کے ہزاروں مکین آمد و رفت کے بنیادی حق سے محروم ہو چکے ہیں۔ عوامی شکایات کے باوجود کئی برسوں سے اس پل کی مرمت یا ازسر نو تعمیر کی جانب کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا، جس پر شہریوں اور دیہی علاقوں کے رہائشیوں نے شدید احتجاج اور فوری نوٹس کا مطالبہ کیا ہے۔

    پل کے متعدد تختے اور لکڑیاں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں، جبکہ مقامی افراد کے مطابق حالیہ دنوں میں نامعلوم افراد کی جانب سے پل کے بعض حصے چرا لیے گئے، جس سے پیدل چلنے والوں تک کے لیے گزرنا جان جوکھوں کا کام بن گیا ہے۔ نہ صرف موٹر سائیکل، رکشہ یا ٹریکٹر جیسی سواریوں کا گزرنا ممکن نہیں رہا بلکہ اسکول جانے والے بچے، بزرگ، مریض اور خواتین سب شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    بیٹ لنگاہ پل، احمدپور شرقیہ کے ساتھ ساتھ قریبی دیہات کو اوچ شریف اور دیگر شہری مراکز سے ملانے والا واحد اور اہم ذریعہ ہے۔ پل کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے اب لوگوں کو دریائے ستلج کے پار جانے کے لیے طویل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں، جس سے وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔

    مقامی دیہاتیوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بیٹ لنگاہ پل صرف لکڑی کے تختوں سے تعمیر کردہ ایک عارضی ڈھانچہ رہ گیا ہے جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔ عوامی حلقے حکومتِ پنجاب، محکمہ ہائی وے، محکمہ انہار اور ضلعی انتظامیہ بہاولپور سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر پل کی حالت کا نوٹس لیں اور اس کی فوری مرمت یا ازسرنو تعمیر کا کام شروع کریں۔

    شہریوں نے منتخب نمائندوں، بالخصوص ایم این اے، ایم پی اے، اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ زمینی حقائق کا خود مشاہدہ کریں اور اس اہم پل کو علاقائی ترقی اور عوامی فلاح کے تناظر میں ترجیحی بنیادوں پر بحال کریں۔ یہ پل صرف ایک گزرگاہ نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کے روزمرہ کے مسائل، تعلیم، صحت اور تجارت سے جڑی معاشی زندگی کا بنیادی سہارا ہے۔

    اگر بیٹ لنگاہ پل کی فوری بحالی نہ کی گئی تو عوام شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

  • سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کا سیل پوائنٹس اور منڈیوں کا دورہ، سہولیات بہتر بنانے کی ہدایت

    سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کا سیل پوائنٹس اور منڈیوں کا دورہ، سہولیات بہتر بنانے کی ہدایت

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیورو چیف شاہد ریاض) ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے عیدالاضحی کے تناظر میں سیالکوٹ شہر میں قربانی کے جانوروں کے لیے قائم کردہ سیل پوائنٹس اور منڈیوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے اکبر آباد چوک میں جانوروں کی عارضی منڈی کا معائنہ کیا، جہاں انہوں نے بیوپاریوں سے فراہم کی گئی سہولیات سے متعلق استفسار کیا اور مجموعی انتظامات کا جائزہ لیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صفائی، پینے کے پانی، شیڈز اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ نہ صرف شہریوں کو سہولت ہو بلکہ جانور لانے والے بیوپاری بھی کسی پریشانی کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عیدالاضحی کے موقع پر ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح شہریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ہے۔

    بعد ازاں، انہوں نے ایمن آباد روڈ پر قائم نئی سبزی و فروٹ منڈی کا دورہ کیا، جہاں صفائی ستھرائی، نرخوں کے تعین اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سیکرٹری مارکیٹ کمیٹی کو فوری طور پر منڈی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے احکامات جاری کیے۔

    دورے کے موقع پر چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ملک اعجاز احمد، سیکرٹری مارکیٹ کمیٹی ملک عبداللہ، اور ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ محبوب الٰہی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

  • اوچ شریف: قربانی میں پروفیشنل قصابوں کی مانگ، موسمی قصاب نظرانداز

    اوچ شریف: قربانی میں پروفیشنل قصابوں کی مانگ، موسمی قصاب نظرانداز

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)ذوالحج کا چاند نظر آتے ہی اوچ شریف میں موسمی قصابوں کی سرگرمیاں تیز ہو گئیں، جو گھر گھر جا کر ایڈوانس بکنگ کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم ماضی کے خراب تجربات کے باعث شہری ان کی خدمات لینے سے کترانے لگے ہیں۔

    اس کے برعکس پروفیشنل اور تربیت یافتہ قصابوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور وہ قربانی کے عمل میں وی وی آئی پی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اب صرف انہی قصابوں پر اعتماد کریں گے جو تجربہ اور مہارت رکھتے ہوں تاکہ قربانی کا عمل شرعی تقاضوں کے مطابق بخوبی انجام پائے۔

    پروفیشنل قصابوں نے بھی بکنگ شروع کر دی ہے، بعض جانور کی جسامت اور قیمت دیکھ کر اجرت طے کر رہے ہیں تاکہ دونوں طرف شفافیت برقرار رہے۔ شہریوں کے مطابق گزشتہ برس سوشل میڈیا پر موسمی قصابوں کی ناقص کارکردگی کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، جس کے بعد اب وہ کسی قسم کا رسک لینے کو تیار نہیں۔

    اوچ شریف کے عوام قربانی کے اس مقدس فریضے کے لیے مہارت رکھنے والے قصابوں کو ترجیح دے رہے ہیں، چاہے اس کے لیے انہیں قربانی کے عمل میں تاخیر ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔

  • فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس وفد کی کلکٹر اظودالمہدی سے ملاقات، تجارتی رکاوٹوں کے حل پر زور

    فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس وفد کی کلکٹر اظودالمہدی سے ملاقات، تجارتی رکاوٹوں کے حل پر زور

    پشاور (باغی ٹی وی رپورٹ) فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے صدر ضیاء الحق سرحدی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے کلکٹر کسٹمز آپریزمنٹ پشاور، اظودالمہدی (Azood Ul Mehdi) سے کسٹمز ہاؤس پشاور میں اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر خالد شہزاد، نائب صدر امتیاز احمد علی، جنرل سیکریٹری میاں وحید باچا، اور ایگزیکٹو ممبران فاروق احمد، منصور احمد، طارق خان آفریدی، نظام شاہ، عامر رضا، تنویر احمد اور جاوید خان شامل تھے۔

    صدر ضیاء الحق سرحدی نے کلکٹر اظودالمہدی کو نئی تعیناتی پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ قابلیت اور تجربے کو بزنس کمیونٹی کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا۔ انہوں نے کلکٹر کو پاک افغان تجارت، ایکسپورٹرز، امپورٹرز اور کسٹمز ایجنٹس کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور ان کے دیرپا حل کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں۔ خاص طور پر فیس لیس اسسمنٹ سسٹم کو کاروباری طبقے اور کلیئرنگ ایجنٹس کے لیے مشکلات کا باعث قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

    ملاقات میں فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے کسٹمز حکام کو بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ضیاء الحق سرحدی نے کلکٹر اظودالمہدی کے سابقہ دور میں بھی بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل میں ادا کیے گئے کردار کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اس بار بھی غلام خان، خرلاچی، انگور اڈہ، طورخم بارڈرز پر تجارتی مشکلات، اور اضاخیل ڈرائی پورٹ کو مکمل فعال بنانے جیسے اہم مسائل پر توجہ دیتے ہوئے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔

    یہ ملاقات پاک افغان باہمی تجارت کی بہتری، کسٹمز اصلاحات اور بزنس ماحول کو سازگار بنانے کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

  • پاکستان کی فیصلہ کن فتح اور عربوں کی خاموشی

    پاکستان کی فیصلہ کن فتح اور عربوں کی خاموشی

    پاکستان کی فیصلہ کن فتح اور عربوں کی خاموشی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی
    2025 کا پاک،بھارت تنازعہ جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر ابھرسامنے آیا ،کیا یہ صرف ایک عسکری تصادم تھا یا اس نے خطے کے طاقت کے توازن کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا؟ پہلگام میں ہونے والے مودی سرکار کے فالز فلیگ آپریشن یا دہشت کردی کی کارروائی سے شروع ہونے والی یہ کشیدگی، "آپریشن بنیان مرصوص” کی صورت میں پاکستان کی غیر متوقع، فیصلہ کن اور کامیاب جوابی کارروائی میں تبدیل ہوئی، جس نے نہ صرف بھارت کی جارحیت کو ناکام بنایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری صلاحیت اور سفارتی بصیرت کو نمایاں کر دیا۔ لیکن اس فتح کی کہانی صرف میدان جنگ تک محدود نہیں بلکہ اس میں عرب دنیا کی معنی خیز خاموشی جیسے اہم سوالات بھی پوشیدہ ہیں سوالات جو خطے کے جغرافیائی سیاسی منظرنامے، عالمی اتحادیوں کے کردار اور مستقبل کی سمت کے بارے میں گہرے غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔

    اس تنازع کے دوران پاکستان نے ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان سے فعال حمایت حاصل کی،سیزفائرکے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ان ممالک کے دورے کیے، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے چین سے مضبوط تعاون حاصل کیا۔ ترکیہ، ایران، اور آذربائیجان نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی جبکہ چین نے سیاچن اور لداخ میں بھارت کے خلاف محاذ کھول کر اپنا کردار ادا کیا۔ الجزیرہ نے 10 مئی 2025 کو رپورٹ کیا کہ ایران نے پاک بھارت تنازع میں غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ بیجنگ کے سہ فریقی اجلاس نے پاک-افغان تعلقات کی بحالی کی راہ ہموار کی۔ تاہم، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کی غیر جانبداری نے سوالات اٹھائے۔ تاریخی طور پر پاکستان نے 1965 اور 1971 کی جنگوں میں عرب ممالک سے سفارتی اور عسکری حمایت حاصل کی تھی۔ سعودی عرب نے اقوام متحدہ میں پاکستان کا ساتھ دیا، مالی امداد فراہم کی جبکہ ایران نے اسلحہ اور تیل دیا۔ بدلے میں پاکستان نے فلسطین کے لیے عرب ممالک کی حمایت کی اور سعودی عرب میں فوج تعینات کی۔ لیکن 2025 میں عرب ممالک کی غیر جانبداری ان کے بھارت کے ساتھ بڑھتے معاشی تعلقات کی وجہ سے تھی۔ ٹیلی گراف نے 11 مئی 2025 کو رپورٹ کیا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بھارت کے ساتھ 50 ارب ڈالر سے زائد کی تجارت اور سرمایہ کاری نے ان کے فیصلوں کو متاثر کیا۔ ابراہم معاہدوں کے بعد متحدہ عرب امارات اور بحرین کا اسرائیل کے ساتھ تعاون بھی اس معاشی ترجیح کی عکاسی کرتا ہے۔

    عالمی سفارتی نقشہ دو واضح بلاکس میں تقسیم ہو تا ہوا واضح نظر آرہا ہے ایک طرف چین، روس، ترکیہ، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک پاکستان کے ساتھ ہیں اور دوسری طرف امریکہ، یورپ اور بھارت مغربی مفادات کے ساتھ ہیں۔ فوٹو نیوز نے 12 مئی 2025 کو رپورٹ کیا کہ امریکہ کی ثالثی اور غیر جانبداری پاکستان کی سفارتی کامیابی تھی۔ تاہم، عرب ممالک کی غیر جانبداری ایک چیلنج ہے۔

    اگر بھارت دوبارہ جارحیت کرتا ہے تو ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور چین پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، جیسا کہ آئی آر آئی اے نے 11 مئی 2025 کو رپورٹ کیا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شہباز شریف سے ملاقات میں غیر مشروط حمایت کا وعدہ کیا۔ قطر محدود سفارتی حمایت دے سکتا ہے کیونکہ اس نے ماضی میں پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے ہیں۔ پاکستان کو عرب ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے لیے معاشی تعاون کو ترجیح دینی چاہیے، جیسے کہ سی پیک میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پاک-سعودی جوائنٹ انویسٹمنٹ فنڈ قائم کرنا۔ ویژن 2030 کے ساتھ توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں شراکت داری کی جانی چاہیے۔ اسلامی تعاون تنظیم میں فلسطین اور کشمیر کے مسائل کو مشترکہ ایجنڈے کے طور پر اٹھایا جائے۔ قطر کے ساتھ توانائی اور دفاعی معاہدوں کو وسعت دی جائے۔ سعودی عرب کے ساتھ عسکری تربیتی پروگراموں اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے معاہدوں کو مضبوط کیا جائے۔ پاک عرب ثقافتی میلے، تعلیمی وظائف اور میڈیا کے ذریعے عرب عوام کے ساتھ رابطے بڑھائے جائیں۔

    آپریشن بنیان مرصوص محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا فیصلہ کن لمحہ تھا جس نے نہ صرف دشمن کی جارحیت کو ناکام بنایا بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان اپنے دفاع، خودمختاری اور خطے کے امن کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔ اس کامیابی نے پاکستان کی عسکری برتری اور سفارتی بصیرت کو نمایاں کیا، مگر ساتھ ہی عرب دنیا کی خاموشی نے یہ اہم سوال بھی اٹھایا کہ آیا مذہبی اور ثقافتی قربتیں عملی حمایت میں کیوں نہیں بدل سکیں۔ یہ لمحہ اس امر کا متقاضی ہے کہ پاکستان اب محض عسکری طاقت پر نہیں بلکہ فعال، وسعت پذیر اور دور اندیش سفارت کاری پر بھی انحصار کرے۔ عرب ممالک کے ساتھ معاشی، ثقافتی اور سفارتی روابط کو ازسرنو ترتیب دینا ہو گا تاکہ محض عوامی ہمدردی نہیں، بلکہ حکومتی سطح پر عملی حمایت بھی حاصل ہو۔ اسی کے ساتھ ساتھ ترکیہ، ایران، چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ موجودہ اشتراکِ عمل کو مزید وسعت دینا ہوگی تاکہ پاکستان آئندہ کسی بھی بحران میں نہ صرف تنہا کھڑا ہو بلکہ پورے خطے کو اپنے ساتھ لے کر ایک مؤثر اور متوازن عالمی کردار ادا کر سکے۔ 2025 کی فتح کو ایک مستقل حکمت عملی کی بنیاد بنا کر ہی پاکستان خطے میں پائیدار امن اور قومی وقار کا علم بلند رکھ سکتا ہے۔

  • بھارت پر سفری پابندیاں سخت، ملائیشیا نے تمام پروازیں معطل کر دیں

    بھارت پر سفری پابندیاں سخت، ملائیشیا نے تمام پروازیں معطل کر دیں

    بھارت پر سفری پابندیاں سخت، ملائیشیا نے تمام پروازیں معطل کر دیں،وندے بھارت مشن بھی متاثر، 20 سے زائد ممالک کی بھارتی شہریوں پر سفری پابندیاں
    کوالالمپور (باغی ٹی وی رپورٹ) ملائیشیا نے بھارت سے آنے والی تمام پروازوں پر تاحکم ثانی مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جس کے باعث بھارت اور ملائیشیا کے درمیان شہریوں کی واپسی کا مشن "وندے بھارت” بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہ فیصلہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا، جس کا اطلاق بدھ سے ہو چکا ہے۔

    ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ وی کا شیونگ نے ایک فیس بک پوسٹ میں اعلان کیا کہ تمام ملکی و غیر ملکی ایئرلائنز اور پورٹ آپریٹرز کو اس پابندی پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت دی گئی ہے۔ بھارتی سفارت خانے نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملائیشیا نے بھارت کے ساتھ فضائی رابطہ عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، جو اگلے حکم تک جاری رہے گا۔

    ملائیشیا کی اس پابندی سے نہ صرف دوطرفہ سفری سہولیات متاثر ہوئیں بلکہ بھارت کی بین الاقوامی ساکھ اور سفارتی تعلقات کو بھی دھچکا پہنچا ہے۔ اس سے قبل برطانیہ، نیوزی لینڈ، ہانگ کانگ، ایران، متحدہ عرب امارات، کینیڈا، عمان، بنگلہ دیش، اور آسٹریلیا سمیت 20 سے زائد ممالک بھارت سے مسافروں کے داخلے پر مکمل پابندیاں یا سخت شرائط عائد کر چکے ہیں۔

    بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق ان پابندیوں کی دو بڑی وجوہات ہیں ایک تو یہ ہے کہ بھارت میں 2021 میں کووڈ-19 کی تباہ کن دوسری لہر کے دوران ڈیلٹا ویرینٹ کا دنیا بھر میں پھیلاؤ اور دوسری حالیہ پاک-بھارت تنازع کے دوران بھارت کی جارحانہ عسکری اور سفارتی حکمتِ عملی، جسے عالمی برادری نے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

    ان اقدامات کے نتیجے میں بھارتی شہریوں، خاص طور پر بیرونِ ملک ملازمت پیشہ افراد، طلبہ اور سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایئرلائن انڈسٹری کو بھی بھاری مالی نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ بھارت کا "وندے بھارت” مشن کئی ممالک میں تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی بین الاقوامی تنہائی بڑھتی جا رہی ہے اور اسے اپنی خارجہ پالیسی پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ پاکستان کو اس سفارتی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عرب، ایشیائی اور مغربی دنیا میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنی چاہیے۔

  • ڈیرہ سمیت پنجاب کے 190 شہروں میں سیوریج نظام کی تبدیلی کا اعلان

    ڈیرہ سمیت پنجاب کے 190 شہروں میں سیوریج نظام کی تبدیلی کا اعلان

    ڈیرہ غازی خان (نیوز رپورٹر) چیئرپرسن وزیراعلیٰ پنجاب انسپکشن، سرویلنس و مانیٹرنگ ڈائریکٹوریٹ بریگیڈیئر بابر علاؤالدین (ستارہ امتیاز ملٹری، ریٹائرڈ) نے ڈیرہ غازی خان ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ترقیاتی اداروں کے افسران کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ڈیرہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کوہ سلیمان اتھارٹی، اور پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرلز اور افسران نے شرکت کی۔

    بریگیڈیئر بابر نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ پنجاب کے 190 شہروں، بشمول ڈیرہ غازی خان، تونسہ اور کوٹ چھٹہ میں نیا سیوریج نظام متعارف کرایا جائے گا، جس کے لیے 700 ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کی خوبصورتی اور میونسپل خدمات کی بہتری کو ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے دفاتر کو فعال اور مستحکم بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ شہری سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔

    اجلاس میں سٹاف آفیسر عبدالجبار بھٹی، میجر نوید اسلم، کوآرڈینیٹر عمر فاروق بھٹی، ڈی جی ڈیرہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی خالد منظور، ڈی جی کوہ سلیمان بابر بشیر، اور ڈی جی پی ایچ اے قدسیہ ناز بھی شریک تھے۔

  • ڈیرہ غازی خان: بریگیڈیئر بابر علاؤالدین کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور سفارشات وزیراعلیٰ کو پیش کرنے کا اعلان

    ڈیرہ غازی خان: بریگیڈیئر بابر علاؤالدین کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور سفارشات وزیراعلیٰ کو پیش کرنے کا اعلان

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواداکبر) چیئرپرسن وزیراعلیٰ پنجاب انسپکشن، سرویلنس و مانیٹرنگ ڈائریکٹوریٹ بریگیڈیئر بابر علاؤالدین (ستارہ امتیاز ملٹری) نے ڈپٹی کمشنر آفس ڈیرہ غازی خان میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب کے تمام محکموں کی مانیٹرنگ، ترقیاتی منصوبوں کے معائنے، گڈ گورننس اور دیگر عوامی مسائل کے جائزے کے لیے صوبے بھر کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، پنجاب کے 38 اضلاع کا وزٹ مکمل ہو چکا ہے جبکہ جلد ہی راجن پور کا تفصیلی دورہ بھی کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ان دوروں کا بنیادی مقصد مفاد عامہ کے منصوبوں کی بروقت تکمیل، معیاری کام کی یقین دہانی، میونسپل سروسز کی بہتری اور عوامی شکایات کے حل کے لیے سفارشات تیار کرکے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو پیش کرنا ہے۔

    بریگیڈیئر بابر علاؤالدین نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان اپنی منفرد جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے نہایت اہمیت کا حامل ضلع ہے، جہاں سے صرف آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر بلوچستان کے بعض علاقے واقع ہیں جن میں امن و امان کی صورتِ حال ابتر ہے۔ تاہم، پنجاب کے ادارے اور بلوچ اقوام ملک میں امن قائم رکھنے میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کبھی بھی ملک دشمن عناصر سے محبت نہیں کرتی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے 30 سال بعد بارڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیوی میں بھرتیوں کی منظوری دی گئی ہے، جن میں اب تک 650 سے زائد افسران و جوان شامل ہو چکے ہیں، اور مزید بھرتیاں بھی شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر جاری رہیں گی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سخی سرور اور دیگر بڑے قصبوں میں صفائی، ترقیاتی امور اور دیگر شہری سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں "ہمت کارڈ”، "لائیو اسٹاک کارڈ”، "گرین ٹریکٹرز”، دیہی خواتین کے لیے مویشیوں کی فراہمی، اسکول کے بچوں کے لیے دودھ پروگرام، لیپ ٹاپ اسکیم، آسان قرضے، چار مرلے کے پلاٹس، اور سولر سسٹم جیسے عوامی فلاحی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی طرف سے "پہلگام ڈرامے” کے بعد پاکستانی میڈیا نے ذمہ دارانہ صحافت کا مظاہرہ کیا اور دنیا بھر میں پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔

    اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل قدسیہ ناز، مسلم لیگی رہنما عبدالحمید جلبانی، سٹاف آفیسر عبدالجبار بھٹی، میجر نوید اسلم، کوآرڈینیٹر عمر فاروق بھٹی اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: اے سی ہیڈکوارٹر کا مختلف بازاروں پر چھاپہ، گرانفروشی پر مرغی فروش گرفتار

    ڈیرہ غازی خان: اے سی ہیڈکوارٹر کا مختلف بازاروں پر چھاپہ، گرانفروشی پر مرغی فروش گرفتار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان)ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر نذر حسین کورائی نے شہر کے مختلف علاقوں اور بازاروں کا اچانک معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران گرانفروشی ثابت ہونے پر ایک مرغی فروش کو گرفتار کروا دیا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نذر حسین کورائی نے خیابان سرور، سمینہ چوک، چورہٹہ، گولائی کمیٹی اور دیگر مقامات کا دورہ کیا جہاں پھل، سبزیوں، گوشت کے معیار اور نرخوں کی جانچ پڑتال کی گئی، جبکہ ہوٹلوں کا بھی معائنہ کیا گیا۔

    انہوں نے دکانوں میں سرکاری نرخ نامے کی دستیابی، پرائس کنٹرول ایکٹ پر عمل درآمد اور دیگر متعلقہ معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر اے سی ہیڈ کوارٹر کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر پرائس کنٹرول ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔

    انہوں نے تمام دکانداروں کو ہدایت کی کہ وہ سرکاری نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں اور مقررہ نرخوں پر ہی پھل، سبزی، گوشت اور دیگر اشیائے خوردونوش فروخت کریں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔