Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: پولیس حراست سے فرار ہونے والا ملزم نسیم اختر دوبارہ گرفتار

    سیالکوٹ: پولیس حراست سے فرار ہونے والا ملزم نسیم اختر دوبارہ گرفتار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف: شاہد ریاض) ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد کی بروقت نگرانی، مؤثر حکمت عملی اور ہدایات کی روشنی میں پولیس کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، تھانہ کوٹلی سید امیر کی پولیس حراست سے عدالت میں پیشی کے دوران فرار ہونے والا ملزم نسیم اختر دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ملزم نسیم اختر، جو مقدمہ نمبر 106/25 بجرم 379 (چوری) اور مقدمہ نمبر 187/25 بجرم 380 (رہائشی یا نجی جگہ سے چوری) میں زیرِ تفتیش تھا، گزشتہ روز عدالت میں پیشی کے دوران پولیس کی گرفت سے فرار ہوگیا تھا۔ واقعہ کے فوری بعد ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے سخت نوٹس لیتے ہوئے فرائض میں غفلت برتنے والے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کروایا اور ملزم کی فوری گرفتاری کے لیے ڈی ایس پی صدر کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

    پولیس ٹیموں نے جدید ٹیکنالوجی، ہیومن انٹیلیجنس اور پیشہ ورانہ مہارت کا استعمال کرتے ہوئے مسلسل چھاپے مارے اور بالآخر فرار ہونے والے ملزم کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔ ذرائع کے مطابق ملزم اس وقت پولیس کی حراست میں ہے، اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    ڈی پی او فیصل شہزاد نے پولیس ٹیم کی اس کامیاب کارروائی کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ جرائم پیشہ عناصر کو کسی صورت قانون سے فرار کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیالکوٹ پولیس اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں اور ہر قیمت پر قانون کی عملداری کو یقینی بنائے گی۔

  • سیالکوٹ: عیدالاضحی پر مثالی صفائی کے انتظامات، ضلعی امن کمیٹی کا اجلاس

    سیالکوٹ: عیدالاضحی پر مثالی صفائی کے انتظامات، ضلعی امن کمیٹی کا اجلاس

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیورو چیف: شاہد ریاض) ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی کی زیر صدارت ضلعی امن کمیٹی کا خصوصی اجلاس عیدالاضحی کے انتظامات کے حوالے سے ڈی سی آفس کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صفائی ستھرائی، قربانی کے جانوروں کی باقیات کی محفوظ تلفی اور شہری سہولیات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق عیدالاضحی پر صفائی کے انتظامات کو مثالی بنایا جائے گا۔ سیالکوٹ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (SWMC) صفائی کے لیے خصوصی اقدامات کرے گی۔ شہریوں کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن نمبرز 1139، 1718 اور 052-9250011 کو چوبیس گھنٹے فعال رکھا جائے گا تاکہ عوام کسی بھی شکایت کی فوری اطلاع دے سکیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ چاروں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور لوکل گورنمنٹ کے افسران عید کے تینوں دن اپنی ڈیوٹیوں پر موجود رہیں گے تاکہ صفائی ستھرائی کے کام میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ قربانی کے جانوروں کی آلائشیں اور فضلات SWMC کے عملے کے حوالے کریں اور صفائی عملے سے مکمل تعاون کریں۔

    ڈپٹی کمشنر نے علما کرام سے بھی اپیل کی کہ وہ خطباتِ عید اور جمعہ میں صفائی کی اہمیت پر روشنی ڈالیں اور عوام کو ترغیب دیں کہ وہ حکومت اور متعلقہ محکموں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔

    اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس مظفر مختار، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن کاشف نواز رندھاوا، اسسٹنٹ کمشنرز انعم بابر، غلام فاطمہ، عثمان غنی، سدرہ ستار سمیت اراکینِ ضلعی امن کمیٹی نے بھرپور شرکت کی۔

    اجلاس کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے دعا کی گئی۔

  • اوکاڑہ: جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانے کے لیے قائم نجی آپریشن تھیٹر بے نقاب، ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ: جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانے کے لیے قائم نجی آپریشن تھیٹر بے نقاب، ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) تھانہ سٹی دیپالپور پولیس نے اہم کارروائی کرتے ہوئے جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانے کے لیے استعمال ہونے والا نجی آپریشن تھیٹر بے نقاب کر دیا ہے۔ ایس ایچ او فخر وٹو نے ٹیم کے ہمراہ چھاپہ مار کر مرکزی ملزم سمیت دو افراد کو گرفتار کر کے سازو سامان بھی تحویل میں لے لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی کہ ایک شہری اپنے مخالفین کو پھنسانے کی نیت سے جھوٹے میڈیکل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے خودساختہ زخم لگوا رہا ہے۔ ایس ایچ او فخر وٹو نے فوری کارروائی کرتے ہوئے رتہ کھنہ روڈ پر واقع ایک رہائشی مکان پر قائم جعلی آپریشن تھیٹر پر چھاپہ مارا۔ پولیس کے مطابق مرکزی ملزم ندیم خان نے اپنے ڈرائیور کو جان بوجھ کر زخمی کروایا تاکہ سرکاری اسپتال سے جعلی میڈیکل حاصل کیا جا سکے۔ ملزم نے اپنے ڈرائیور کو علاج کے بہانے نجی مقام پر لے جا کر بازو پر گہرا زخم لگایا۔ یہ کام سرکاری اسپتال کے درجہ چہارم ملازم آصف کی مدد سے انجام دیا گیا۔

    پولیس نے جعلی آپریشن تھیٹر میں موجود طبی آلات، پٹیاں، سرنجیں اور دیگر مواد قبضے میں لے کر دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر راشد ہدایت نے اس کامیاب کارروائی پر ایس ایچ او فخر وٹو اور ان کی پوری ٹیم کو سراہتے ہوئے تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔

    یاد رہے کہ ضلع اوکاڑہ میں محکمہ صحت کے کئی درجہ چہارم ملازمین اپنے طور پر غیر قانونی کلینکس چلا رہے ہیں، جہاں نہ صرف علاج کے نام پر جعلسازی کی جاتی ہے بلکہ قانون اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ اس کارروائی نے ایسے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے، جسے شہریوں نے خوش آئند قرار دیا ہے۔

  • حافظ آباد: ٹریفک پولیس کا دہرا معیار، عام شہری چالانوں کی زد میں، امراء کو کھلی چھوٹ

    حافظ آباد: ٹریفک پولیس کا دہرا معیار، عام شہری چالانوں کی زد میں، امراء کو کھلی چھوٹ

    حافظ آباد (باغی ٹی وی،خبر نگارشمائلہ) ضلعی ہیڈ کوارٹر حافظ آباد میں ٹریفک پولیس کی کارروائیوں نے عام شہریوں بالخصوص موٹر سائیکل سواروں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ چالانوں کی بھرمار نے نہ صرف عوام کے اوسان خطا کر دیے ہیں بلکہ امیر طبقے کی من مانیوں نے قانون کی بالادستی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    شہریوں کے مطابق موٹر سائیکل جو عوام کی بنیادی سواری ہے، اسی پر سخت ترین قوانین لاگو کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب شہر میں بڑی گاڑیاں بلا نمبر پلیٹ، برادریوں کے ناموں کے ساتھ آزادانہ گھومتی ہیں جنہیں ٹریفک پولیس روکنے کی زحمت تک نہیں کرتی۔ ایک شہری نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ "شہر میں کئی گاڑیاں دیکھی ہیں جن پر نمبر پلیٹس کی جگہ برادری کے نام درج ہیں اور وہ کھلے عام شاہراہوں پر دندناتی پھرتی ہیں”۔

    شہر کے مختلف حصوں میں پارکنگ کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ سرکاری زمینیں جو عوامی پارکنگ کے لیے استعمال کی جا سکتی تھیں، انہیں خود سرکاری اداروں نے غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ تحصیل احاطہ اور پٹوارخانہ کے سامنے خالی جگہوں پر بااثر افراد کی پشت پناہی سے غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈ قائم کر دیے گئے ہیں جہاں مبینہ طور پر فیس بھی وصول کی جا رہی ہے۔ شہریوں نے اس غیر قانونی فیس پر آواز اٹھائی تو ہر طرف سے خاموشی دیکھنے میں آئی۔

    ڈی ایس پی رائے ملازم حسین نے اعتراف کیا کہ پارکنگ غیر قانونی ہے اور ایف آئی آر درج کرنے کی بات کی، تاہم جب ٹریفک انچارج نے وضاحت دی کہ "یہ پارکنگ انجمن تاجران کے زیرِ نگرانی ہے” اور وہاں تعینات شخص موٹر سائیکل چوری روکنے کے لیے بٹھایا گیا ہے، تو پولیس حکام نے خاموشی اختیار کر لی۔

    شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پارکنگ کو فیس پارکنگ میں تبدیل کرنا ہے تو حکومت کو ٹھیکے پر دے تاکہ عوام کو سہولت اور حکومت کو آمدن حاصل ہو۔ شہر میں موجود کئی سرکاری جگہیں مثلاً دانہ منڈیاں، اسلامیہ گرلز کالج کے قریب میدان، جلالپور روڈ اور ریلوے کی زمین اس مقصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں، مگر ترجیحات کچھ اور نظر آتی ہیں۔

    اسی طرح روزانہ ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی بھاری گاڑیاں، جن میں 80 ٹن وزنی ڈمپر شامل ہیں، سرگودھا، چنیوٹ اور ونیکے تارڑ سے پتھر اور ریت لے کر شہر میں داخل ہوتی ہیں۔ یہ گاڑیاں اکثر بغیر لائسنس، بغیر کاغذات اور کم عمر بچوں کے زیرِ استعمال ہوتی ہیں۔ جب اس حوالے سے ٹریفک پولیس سے سوال کیا گیا تو یہ کہہ کر جان چھڑائی گئی کہ "ایکسل لوڈ کی ذمہ داری ڈی آر ٹی اے سیکرٹری کی ہے” اور جب کاغذات کے متعلق پوچھا گیا تو حکام نے خاموشی اختیار کر لی۔ وجہ واضح ہے: یہ گاڑیاں بڑے ٹرانسپورٹرز، سرکاری افسران اور سیاسی بااثر افراد کی ملکیت ہیں۔

    شہر کے مرکزی علاقوں جیسے کچہری روڈ، ڈاکخانہ چوک، فوارہ چوک، مدنی بازار، کلمہ چوک وغیرہ میں نو پارکنگ زونز میں کھڑی بڑی گاڑیوں کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، لیکن موٹر سائیکل سواروں کو موقع پر ہی پکڑ کر دو ہزار روپے کے چالان تھما دیے جاتے ہیں۔

    عوامی سطح پر مطالبہ ہے کہ اگر چالان کیے جائیں تو ساتھ شعور بھی دیا جائے۔ شہری مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے اخراجات کی وجہ سے پہلے ہی پریشان ہیں۔ ایسے میں دو ہزار روپے کے چالان ان کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن چکے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ اگر عام شہریوں پر سختی ہے تو طاقتور اور امیر افراد کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ قانون پر عمل کریں، لائسنس، رجسٹریشن اور ہیلمٹ کا استعمال یقینی بنائیں، چھوٹے بچوں کو موٹر سائیکل چلانے نہ دیں اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔

    قانون کی بالادستی، عوامی شعور اور محکموں کی غیر جانب داری ہی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ جب تک قانون کا اطلاق سب پر برابر نہ ہوگا، حافظ آباد جیسے شہروں میں شہری پریشانی کا شکار رہیں گے اور اداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان قائم رہیں گے۔

  • بولان بس حادثہ: ڈرائیور کی غفلت سے 4 افراد جاں بحق، 28 مسافر زخمی

    بولان بس حادثہ: ڈرائیور کی غفلت سے 4 افراد جاں بحق، 28 مسافر زخمی

    بولان/تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ) بلوچستان کے ضلع بولان میں قومی شاہراہ پر افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں صادق آباد سے کوئٹہ جانے والی "سدا بہار” مسافر کوچ دوسا چوکی کے قریب بے قابو ہو کر الٹ گئی۔ حادثے میں چار مسافر موقع پر جاں بحق جبکہ 28 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی علاقہ سوگ میں ڈوب گیا، خاص طور پر تنگوانی میں اس وقت کہرام مچ گیا جب معلوم ہوا کہ جاں بحق ہونے والوں میں مقامی نوجوان نظام الدین ولد غلام سرور بھی شامل ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ کوچ صادق آباد سے کوئٹہ جا رہی تھی، جس کے دوران ڈرائیور کی غفلت، تیز رفتاری اور ممکنہ طور پر نیند کی حالت میں گاڑی چلانے کے باعث دوسا چوکی کے قریب گاڑی بے قابو ہو کر اُلٹ گئی۔ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر چیخ و پکار مچ گئی اور ہر طرف انسانی لاشیں، زخمی مسافر اور تباہ شدہ سامان بکھرا ہوا تھا۔

    حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، ایف سی اہلکار، لیویز فورس اور ہائی وے پولیس موقع پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال سبی منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ سول ہسپتال کے ایم ایس کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جنہیں کوئٹہ ریفر کیا جا سکتا ہے۔

    اس حادثے میں اب تک چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں امداد علی ولد غوث بخش (ٹھل سے کوئٹہ جانے والا)، نظام الدین ولد غلام سرور (کشمور کے علاقے تنگوانی کا رہائشی) شامل ہیں جبکہ دو دیگر جاں بحق افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ تنگوانی میں جب نظام الدین کی ہلاکت کی خبر پہنچی تو گھر میں کہرام مچ گیا، والدین پر غشی کے دورے پڑے اور اہلِ محلہ سوگ میں ڈوب گئے۔

    حادثے میں زخمی ہونے والے 28 مسافروں کا تعلق سندھ اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔ صادق آباد سے خیر احمد، عبداللہ اور امتیاز زخمی ہوئے. ٹھل سے شیر احمد، گل میر، غلام مصطفی، گلزار، نیاز احمد، غفار، خادم حسین، انور، ابوبکر اور منیر شامل ہیں. کندھ کوٹ سے سلیمان، کشمور سے یاسر، سکھر سے نعمان، گمبٹ سے محمد عامر اور عنایت اللہ، رحیم یار خان سے روحیل، محمد عارف اور ماجد جبکہ علی آباد سے ثناء اللہ، سجاد علی، حبیب خان، گنج بخش، انور اور محمد اکرم زخمی ہوئے۔ ایک مسافر مینگل ولد عمر دین کا علاقہ درج نہیں ہو سکا۔ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

    انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ لیویز فورس بالاناڑی اس حادثے کی تمام تفصیلات جمع کر رہی ہے اور قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔ مقامی حکام نے ڈرائیور کی غفلت کو ابتدائی وجہ قرار دیا ہے، تاہم کوچ کی فٹنس، کمپنی کی نگرانی اور ممکنہ تکنیکی خرابی کے پہلوؤں پر بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

    حادثے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے علاقے میں پھیل گئی۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے فوری مالی امداد، زخمیوں کے بہتر علاج اور جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہری حلقوں نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور مسافر کوچز کی ناقص نگرانی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد ایسے حادثات معمول بن چکے ہیں، جن پر حکومت اور متعلقہ ادارے فوری توجہ دیں۔

    یہ حادثہ ایک بار پھر بین الصوبائی شاہراہوں پر جاری ٹریفک نظم و ضبط کی بدترین صورتحال، غیر ذمہ دار ڈرائیونگ اور سڑکوں کی حالتِ زار کو عیاں کرتا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے سانحات روز کا معمول بن جائیں گے اور معصوم جانوں کا ضیاع جاری رہے گا۔

  • مودی کی گولی، سیندور اور سردار

    مودی کی گولی، سیندور اور سردار

    مودی کی گولی، سیندور اور سردار
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    26 مئی 2025 کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات کے شہر بھوج میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو کھلی دھمکی دی، جس نے پاک بھارت تعلقات میں ایک نیا تناؤ پیدا کر دیا۔ مودی کا یہ بیان کہ "پاکستان کے عوام سوچیں کہ انہوں نے کیا حاصل کیا؟ انڈیا آج دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے اور پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ پاکستان کے لوگوں کو آتنک سے نجات کے لیے خود آگے آنا ہوگا، ورنہ میری گولی تو ہے” جوعالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور علاقائی امن کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ پاکستان نے اسے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی، جس نے نام نہاد "آپریشن سندور” کی ناکامی اور بھارت کی سفارتی کمزوری کو مزید بے نقاب کر دیا۔

    مودی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب پاکستان نے بھارت کے تین رافیل سمیت سات طیاروں اور 26 دفاعی تنصیبات کو تباہ کر دیا تھا، جس سے بھارت کی جھنجھلاہٹ صاف ظاہر ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں 15 مئی 2025 کو ایک سکھ سردار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں انہوں نے آپریشن سندور کے نام اور اس کی تاریخی اہمیت پر طنزیہ تبصرہ کیا۔ سردار نے دعویٰ کیا کہ جب ہندوستان پر غیر ملکی حملہ آور جیسے ترک اور مغل وغیرہ حملہ کرتے تھے تو وہ نہ صرف مال و اسباب لوٹتے تھے بلکہ ہندوستانی خواتین کو بھی اغوا کرکے لے جاتے اور بیچ دیتے تھے۔ ان کے مطابق اُس وقت کے ہندوستانی مردوں نے، جنہیں وہ "بزدل” کہتے ہیں، حملہ آوروں سے منت کی کہ وہ ہماری کنواری لڑکیوں کو لے جائیں لیکن شادی شدہ خواتین کو چھوڑ دیں اور ان کی شناخت کے لیے شادی شدہ خواتین کی مانگ میں سندور لگانا شروع کیا۔ سردار نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ روایت ہندوؤں کی بزدلی کی علامت ہے کیونکہ انہوں نے اپنی خواتین کی حفاظت کے لیے کوئی عسکری اقدام کرنے کے بجائے ایک علامتی نشان اپنایا۔ انہوں نے مودی کی غیرت اور "گولی مارنے کی اوقات” کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور کی ناکامی اور مودی کی دھمکی اسی تاریخی کمزوری کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ سندور کی روایت ہندو مذہب میں صدیوں سے موجود ہے اور اس کا تعلق ویدک رسومات سے ہے، سردار کا یہ بیان مودی کی ناکامی کو ایک طنزیہ انداز میں پیش کرتا ہے۔

    پاکستان نے مودی کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اشتعال انگیز، نفرت پھیلانے والا اور عالمی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے پریس ریلیز میں کہا کہ ایک جوہری طاقت کے وزیر اعظم کا اس انداز میں بیان دینا انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اپنا دفاع کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ مودی کا بیان خطے کے امن کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی اشتعال انگیز سیاست اور انتہا پسندانہ سوچ کا نوٹس لے۔

    آپریشن سندور سے قبل بھارت نے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا، حالانکہ بین الاقوامی قانون اسے یہ اختیار نہیں دیتا۔ بھارت نے تمام پاکستانی شہریوں کے ویزوں کو منسوخ کر دیا، حتیٰ کہ علاج کے لیے بھارت میں موجود پاکستانیوں کو بھی کوئی رعایت نہیں دی گئی۔ پاکستانی خواتین جو بھارت میں بیاہی گئی تھیں اور بھارتی خواتین جو پاکستان میں بیاہی گئی تھیں اور اپنے میکے ملنے بھارت گئی تھیں، انہیں بھی سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔

    7 مئی 2025 کو شروع ہونے والے آپریشن سندور میں بھارتی فضائیہ نے رافیل طیاروں کے ذریعے پاکستان اور آزاد کشمیر میں مبینہ دہشت گرد کیمپوں پر میزائل حملے کیے۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے جیش محمد، لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے ٹھکانوں پر کیے گئے، تاہم پاکستان میں حملےشہری علاقوں میں کئے گئے، جس میں بہاولپور کی ایک مسجد سمیت دیگر مقامات کو نقصان پہنچا اور 40 شہری شہید ہوئے۔ پاکستان نے 10 مئی کو "آپریشن بنیان مرصوص” کے نام سے جوابی کارروائی کی، جس میں پاکستانی فضائیہ نے بھارتی فضائی دفاعی نظام، تین رافیل سمیت سات طیاروں اور 26 فوجی تنصیبات کو تباہ کیا۔ بھارتی فوج کی ترجمان کرنل صوفیہ قریشی نے پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ پاکستان نے 26 بھارتی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور بھارت مزید لڑائی نہیں چاہتا۔

    بھارتی میڈیا نے ابتدا میں آپریشن سندور کو کامیابی کے طور پر پیش کیا، لیکن پاکستانی جوابی کارروائی نے بھارت کی ناکامی کو عیاں کر دیا۔ جرمن میڈیا نے رپورٹ کیا کہ رافیل طیاروں کی تباہی نے آپریشن سندور کو ناکام بنا دیا، اور سابق بھارتی وزیر خارجہ یشونت سنہا نے کہا کہ مودی حکومت "گودی میڈیا” کے ذریعے اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے ناقابل تردید شواہد پیش کیے کہ بھارتی میڈیا نے جھوٹی خبریں پھیلائیں، جن میں لاہور بندرگاہ (جو حقیقت میں موجود نہیں) کی تباہی جیسے مضحکہ خیز دعوے شامل تھے۔ آپریشن سندور کے بعد پاکستان نے بھارتی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں اور تجارتی تعلقات معطل کر دیے۔ آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے بھارتی آپریشن کی مذمت کی اور دونوں فریقوں سے ضبط کی اپیل کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا جو مودی کی سفارتی ناکامی کا واضح ثبوت تھا۔

    آپریشن سندور کی ناکامی، مودی کی کھوکھلی دھمکیاں اور سکھ سردار کی طنزیہ ویڈیو اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت طاقت کے گھمنڈ اور جھوٹے فخر میں حقیقت سے منہ موڑ چکا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف میدان جنگ میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا بلکہ دنیا کو دکھا دیا کہ ہم امن چاہتے ہیں، لیکن دفاع سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مودی جس "گولی” کی بات کرتا ہے، وہ اب ایک مذاق بن چکی ہے اور "سندور” جو بھارت اپنی غیرت کی علامت بتاتا ہے، وہ درحقیقت ان کی تاریخ کی کمزوریوں کی یاد دہانی ہے۔

    اب بھی وقت ہے کہ بھارتی عوام مودی کی انتہاپسند سوچ، نفرت انگیز پالیسیوں اور جنگی جنون کے آگے بند باندھیں۔ اسے صاف اور دو ٹوک انداز میں یہ پیغام دینا ہوگا کہ بس بہت ہو گیا، ہمیں جنگ نہیں، امن چاہیے۔ پاکستان نے کبھی بھی جنگ کی پہل نہیں کی، لیکن اگر مودی نے دوبارہ ایسی کسی مہم جوئی کی حماقت کی، تو اُسے ایک بار پھر اسی پاکستان سے سامنا کرنا پڑے گا جو نہ صرف ایک مضبوط، متحد اور باہمت قوم ہے بلکہ ایسی جرأت مند مسلح افواج رکھتا ہے جو دشمن کو اس کی سرزمین میں گھس کر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس بار جنگ صرف میدان میں نہیں ہوگی بلکہ بھارت کا پورا شیرازہ بکھر جائے گا اور تاریخ مودی کے غرور کو ایک سبق کے طور پر یاد رکھے گی۔

  • اوکاڑہ: پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یومِ تکبیر پر عظیم الشان جلسہ و ریلی

    اوکاڑہ: پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یومِ تکبیر پر عظیم الشان جلسہ و ریلی

    دیپالپور(باغی ٹی وی ،نامہ نگارامتیازشاہین چوہدری) پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یومِ تکبیر پر عظیم الشان جلسہ و ریلی، پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی اور ایٹمی پاکستان کو خراجِ تحسین

    تفصیل کے مطابق یومِ تکبیر کے موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع اوکاڑہ کے زیر اہتمام گول چوک میں ایک عظیم الشان جلسہ اور ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہریوں، پارٹی کارکنان اور رہنماؤں کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے پرجوش نعروں اور قومی جذبے کے ساتھ پاک فوج، پاکستان کی خودمختاری اور ایٹمی طاقت کے حق میں آواز بلند کی۔

    جنرل سیکرٹری انجینیئر محمد عمران، عبدالغفار المدنی، احسان الٰہی وٹو اور ابوعمار صدیق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومِ تکبیر صرف ایک دن نہیں بلکہ پاکستان کی غیرت، اسلامی شناخت اور نظریاتی پختگی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی تجربات نہ صرف دفاعی کامیابی تھے بلکہ ایک نظریاتی پیغام بھی تھے کہ پاکستان کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتا۔

    مقررین نے پاک فوج کو "ہمارے خون کا حصہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان کی قربانیاں، خصوصاً شہداء کا خون، قوم میں حب الوطنی اور استقامت کا وہ جذبہ پیدا کرتا ہے جو تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

    جلسے میں چوہدری معظم (سرپرست ضلع اوکاڑہ) اور میاں شہزاد ڈولہ (صدر تعلقات عامہ) نے بھی شرکت کی اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان دوبارہ نظریاتی اور سیاسی خودمختاری کی طرف لوٹے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو یاد دلایا کہ یومِ تکبیر صرف ماضی کی کامیابی نہیں بلکہ مستقبل کی ذمہ داری بھی ہے۔

    جلسے کے اختتام پر کشمیر اور فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے نعرے لگائے گئے اور ملکی سلامتی، استحکام اور امت مسلمہ کی فلاح و فتح کے لیے دعا کی گئی۔

  • ڈسکہ: وزیر بلدیات میاں ذیشان کے کیمپ آفس میں یومِ تکبیر کی تقریب

    ڈسکہ: وزیر بلدیات میاں ذیشان کے کیمپ آفس میں یومِ تکبیر کی تقریب

    سیالکوٹ،ڈسکہ (باغی ٹی وی، بیورورپورٹ +نامہ نگار) ملک بھر کی طرح ڈسکہ شہر میں بھی 28 مئی یومِ تکبیر قومی جوش و جذبے سے منایا گیا۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق کے کیمپ آفس میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں کیک کاٹا گیا اور ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے قومی ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

    تقریب میں مسلم لیگ ن کے سٹی صدر محمد افضل منشاء، سابق صدر بار عمران بٹ، صدر مرکزی انجمن تاجراں میاں محمد اشرف، سید داؤد بخاری، ڈاکٹر رومان عاشر، لیگی کارکنان، وکلا، تاجر تنظیموں اور شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی و سماجی رہنماؤں نے کہا کہ 28 مئی 1998 وہ دن ہے جب پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں چاغی کے پہاڑوں کو گواہ بنا کر ایٹمی تجربات کیے اور ملک کو ناقابلِ تسخیر دفاعی طاقت بنا دیا۔ مقررین نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بے مثال قیادت اور تکنیکی صلاحیتوں کے بغیر یہ تاریخی کارنامہ ممکن نہ ہوتا۔

    شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یومِ تکبیر کا پیغام صرف دفاعی خودمختاری تک محدود نہیں بلکہ یہ دن ہمیں قومی اتحاد، ترقی اور قربانی کا سبق بھی دیتا ہے۔ تقریب کا اختتام "پاکستان زندہ باد” اور "افواجِ پاکستان زندہ باد” کے فلک شگاف نعروں سے ہوا۔

  • ننکانہ صاحب: یومِ تکبیر پر ضلعی انتظامیہ کی شاندار تقریب،اقلیتوں کی بھی شرکت

    ننکانہ صاحب: یومِ تکبیر پر ضلعی انتظامیہ کی شاندار تقریب،اقلیتوں کی بھی شرکت

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) ضلعی انتظامیہ ننکانہ صاحب کے زیر اہتمام ضلع کونسل ہال میں یومِ تکبیر کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں طلبہ، افسران، سکھ برادری، اقلیتوں، تاجر تنظیموں اور میڈیا نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔

    تقریب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل شاہد کھوکھر، اسسٹنٹ کمشنر عطیہ عنائیت، سی او ایجوکیشن شازیہ بانو سمیت متعدد اہم شخصیات شریک ہوئیں۔ اسکول کے بچوں نے وطن سے محبت پر مبنی تقاریر اور خوبصورت ٹیبلو پیش کیے جنہیں شرکاء نے سراہا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے کہا کہ یومِ تکبیر پاکستان کی خودمختاری، مسلسل جدوجہد اور قربانی کے جذبے کا مظہر ہے۔ 28 مئی 1998 کا دن پاکستان کے دفاعی استحکام کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری افواج اور سائنسدانوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان ایک پرامن مگر ناقابلِ تسخیر ایٹمی طاقت ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ یومِ تکبیر قوم کے اتحاد اور قومی سلامتی کے عزم کا دن ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا مقصد کسی پر حملہ نہیں بلکہ اپنی خودمختاری اور سالمیت کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں معاشی استحکام، سائنسی ترقی اور قومی اتحاد کے سفر کو بھی جاری رکھنا ہوگا۔

    تقریب کے اختتام پر ڈی سی آفس سے گوردوارہ جنم استھان تک یومِ تکبیر ریلی نکالی گئی جس کی قیادت خود ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے کی۔ اس ریلی میں ضلعی افسران، سکھ کمیونٹی، علما کرام، تاجر برادری اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے “افواج پاکستان زندہ باد” اور “پاکستان زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگا کر قومی جوش و جذبے کا اظہار کیا۔

    یومِ تکبیر کی یہ تقریب قومی یکجہتی، بین المذاہب ہم آہنگی اور پاکستان کی دفاعی خودمختاری کے عزم کی علامت بن گئی۔

  • میرپورخاص: یومِ تکبیر پر مرکزی مسلم لیگ کی شاندار ریلی،پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے والوں کو خراجِ تحسین

    میرپورخاص: یومِ تکبیر پر مرکزی مسلم لیگ کی شاندار ریلی،پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے والوں کو خراجِ تحسین

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)مرکزی مسلم لیگ میرپورخاص کی جانب سے 28 مئی یومِ تکبیر کے موقع پر ایک شاندار ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنان نے بھرپور شرکت کی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر مرکزی مسلم لیگ میرپورخاص اور دیگر مقررین نے کہا کہ یومِ تکبیر پاکستان کی قومی غیرت، خودمختاری اور ایٹمی دفاعی صلاحیت کی علامت ہے۔

    مقررین نے کہا کہ 28 مئی 1998 وہ دن ہے جب پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں میں کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان نہ صرف ایک خودمختار ریاست ہے بلکہ اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ یہ کامیابی ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور اُن کی ٹیم کی برسوں کی انتھک محنت کا نتیجہ تھی، جس نے پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بنا دیا۔

    مقررین نے اس موقع پر بھارت کے 1974 اور 1998 کے ایٹمی دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی دباؤ، پابندیوں اور شدید اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود بروقت اور جرأت مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے ایٹمی تجربات کیے، جو ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی سمت ایک سنگِ میل ثابت ہوئے۔

    ریلی کے شرکاء سے خطاب میں کہا گیا کہ یومِ تکبیر صرف ایٹمی طاقت بننے کی یادگار نہیں بلکہ قومی اتحاد، سائنسی ترقی اور حب الوطنی کا استعارہ ہے۔ اس دن پوری قوم نے تمام تر سیاسی، سماجی اور نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی سلامتی پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

    مقررین نے زور دیا کہ آج کے دور میں بھی یومِ تکبیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صرف دفاعی صلاحیت نہیں، بلکہ تعلیم، معیشت، سائنس اور قومی اتحاد بھی ایک خودمختار اور باوقار ریاست کے اہم ستون ہیں۔ اس دن کی یاد ہمیں مسلسل ترقی، خودانحصاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتی ہے۔

    ریلی کا اختتام دعاؤں اور قومی نغموں کے ساتھ کیا گیا، جہاں شرکاء نے وطن سے محبت اور دفاع پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔