Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • آم :پھلوں کا بادشاہ اور میرپورخاص کی پہچان

    آم :پھلوں کا بادشاہ اور میرپورخاص کی پہچان

    آم :پھلوں کا بادشاہ اور میرپورخاص کی پہچان
    تحریر: سید شاہزیب شاہ
    پاکستان کی سرزمین قدرتی نعمتوں سے مالا مال ہے، اور انہی میں ایک انمول نعمت "آم” ہے، جسے بجا طور پر پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ آم صرف ایک خوش ذائقہ پھل نہیں، بلکہ یہ ہماری ثقافت، زراعت اور معیشت کا اہم ستون بھی ہے۔ پاکستان آم کی پیداوار میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہے، اور جب آم کی بات ہو تو سندھ کا شہر میرپورخاص اپنے منفرد ذائقے، اعلیٰ اقسام اور تاریخی روایت کے باعث سرفہرست آتا ہے۔

    ضلع میرپورخاص، اپنی زرخیز زمین، خوشگوار آب و ہوا اور محنتی کسانوں کی بدولت آم کی کاشت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہاں آم کی کاشت ایک صدی سے زائد پرانی روایت ہے، جو وقت کے ساتھ جدید زرعی تکنیکوں سے مزید ترقی پا چکی ہے۔ یہ علاقہ آم کی متعدد اعلیٰ اقسام کے لیے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔

    میرپورخاص میں پیدا ہونے والی آم کی مشہور اقسام میں سندھڑی، چونسہ، لنگڑا، انور رٹول، دوسہری اور بیگن پالی شامل ہیں۔ ان میں سے سندھڑی کو مٹھاس، خوشبو اور رس کی فراوانی کے باعث آم کا بادشاہ کہا جاتا ہے، جبکہ چونسہ گرمیوں کے اختتام پر آنے والا دیرپا ذائقہ رکھنے والا آم ہے، جو اپنی لاجواب لذت کے باعث ہر سال مقبولیت میں اضافہ کرتا ہے۔

    میرپورخاص سے ہر سال لاکھوں من آم اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک برآمد کیے جاتے ہیں۔ اس برآمدی عمل سے جہاں کسانوں کو روزگار اور منافع حاصل ہوتا ہے، وہیں ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ پاکستانی آم بالخصوص مشرقِ وسطیٰ، یورپ، اور امریکہ کی منڈیوں میں انتہائی پسند کیے جاتے ہیں۔ آم کی تجارت صرف زرعی شعبے تک محدود نہیں بلکہ یہ ملکی معیشت کا فعال کردار بن چکی ہے۔

    میرپورخاص میں ہر سال آم میلہ (مینگو فیسٹیول) منعقد کیا جاتا ہے، جہاں آم کی درجنوں اقسام کی نمائش ہوتی ہے۔ یہ میلہ کسانوں اور تاجروں کے لیے نہ صرف معاشی فوائد کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ عوام اور سیاحوں کے لیے تفریح، ثقافت اور ذائقے کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ آم میلہ اس علاقے کی زراعت، روایت اور تہذیب کی جھلک بھی پیش کرتا ہے، جہاں نہ صرف خرید و فروخت ہوتی ہے بلکہ کسانوں کو ان کی محنت کا اعتراف بھی ملتا ہے۔

    اگرچہ میرپورخاص آم کی کاشت میں ایک روشن مقام رکھتا ہے، مگر یہاں کے کسان بعض سنجیدہ مسائل کا سامنا بھی کر رہے ہیں، جن میں پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، کیڑوں اور بیماریوں کا پھیلاؤ اور جدید زرعی تحقیق تک محدود رسائی شامل ہیں۔ اگر حکومت، زرعی ادارے، میڈیا اور نجی شعبے اس شعبے کو جدید سہولیات، تحقیق اور مالی معاونت فراہم کریں، تو آم کی صنعت نہ صرف مقامی سطح پر ترقی کرے گی بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی پاکستان کا مقام مزید مستحکم ہوگا۔

    آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ پاکستانی زراعت کی شان اور میرپورخاص کی پہچان ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اس قیمتی اثاثے کو قومی سرمایہ سمجھ کر اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ کسان خوشحال ہوں، معیشت مضبوط ہو، اور پاکستان کا نام دنیا میں مزید روشن ہو۔

  • سیالکوٹ: سابق ایم پی اے چوہدری محمد اکرام سپرد خاک، بیٹے  نماز جنازہ پڑھائی

    سیالکوٹ: سابق ایم پی اے چوہدری محمد اکرام سپرد خاک، بیٹے نماز جنازہ پڑھائی

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرمدثررتو) سابق ایم پی اے چوہدری محمد اکرام سپرد خاک، بیٹے چوہدری فیصل اکرام نے خود نماز جنازہ پڑھائی

    سیالکوٹ میں سابق ایم پی اے چوہدری محمد اکرام کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں سیاسی، سماجی، مذہبی، اور عوامی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ چوہدری محمد اکرام، موجودہ ایم پی اے چوہدری فیصل اکرام کے والد محترم تھے۔

    اہم اور قابل ذکر پہلو یہ رہا کہ چوہدری فیصل اکرام نے اپنے والد محترم کی نماز جنازہ خود پڑھائی، جو نہ صرف ایک دینی و روحانی فریضہ ہے بلکہ والدین کے حقوق کی ادائیگی اور اولاد کے لیے باعثِ فخر عمل بھی سمجھا جاتا ہے۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ شاید سیالکوٹ کی سیاسی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی ایم پی اے نے اپنے والد کا جنازہ خود پڑھایا ہو۔

    شرکاء نے چوہدری محمد اکرام کی سیاسی و سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعائیں کیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور چوہدری فیصل اکرام کو صبر جمیل اور اجر عظیم عطا کرے۔ آمین۔

  • گھوٹکی: درندوں کو مات، بھینس کی زبان کاٹ دی گئی، مقدمہ درج

    گھوٹکی: درندوں کو مات، بھینس کی زبان کاٹ دی گئی، مقدمہ درج

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی ،نامہ نگارمشتاق لغاری)گھوٹکی میں درندوں کو مات ہوگئی،ظالموں بے بھینس کی زبان کاٹ دی گئی، مقدمہ درج

    تفصیل کے مطابق گھوٹکی کے نواحی علاقے سردار گڑھ میں درندگی کی انتہا کرتے ہوئے نامعلوم افراد نے ایک بے زبان بھینس کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کی زبان کاٹ دی۔ پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ انسانی بے حسی اور سفاکیت کا کھلا ثبوت ہے، جس نے شہریوں کو شدید غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جانوروں کے ساتھ اس قسم کے سلوک کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انسانی حقوق کے کارکنوں اور ویٹرنری ماہرین نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔

  • شالیمار ایکسپریس ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئی، 12 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 5 زخمی

    شالیمار ایکسپریس ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئی، 12 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 5 زخمی

    فیصل آباد(باغی ٹی وی رپورٹ) ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرانے کے باعث شالیمار ایکسپریس حادثے کا شکار، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، ریلوے ٹریفک معطل

    فیصل آباد کے نواحی علاقے چک جھمرہ کے گاؤں چھوٹی گھرتل کے قریب شالیمار ایکسپریس خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی، جب ٹرین ایک کچے ریلوے پھاٹک پر کھڑی اینٹوں سے لدی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئی۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب کراچی سے لاہور جانے والی مسافر ٹرین ٹریک پر موجود رکاوٹ سے ٹکرا گئی، جس کے باعث انجن سمیت 12 سے زائد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں اور ٹرین تقریباً ایک کلومیٹر تک الٹتی چلی گئی۔

    ریلوے حکام کے مطابق حادثے کے نتیجے میں ٹرین کے ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور سمیت کم از کم 5 افراد زخمی ہوئے ہیں، جب کہ متعدد مسافروں کو بھی معمولی چوٹیں آئی ہیں۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حادثے سے چند لمحے قبل ٹریکٹر ٹرالی ریلوے لائن پر پھنس گئی تھی۔ جب ڈرائیور نے دور سے آتی ٹرین کو دیکھا تو اس نے عجلت میں ٹریکٹر کو ٹرالی سے الگ کر کے فرار ہو گیا، تاہم تیزی سے آتی ہوئی ٹرین اینٹوں سے بھری ٹرالی سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں خوفناک تباہی ہوئی۔

    حادثے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے فوری امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور متاثرہ مسافروں کو امدادی ٹرین کے ذریعے روانہ کر دیا گیا۔

    ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی بنیادی وجہ ٹریکٹر ٹرالی میں آئل ختم ہونا بنی، جس کے باعث وہ پھاٹک پر رک گئی تھی۔ ڈرائیور حادثے کے فوراً بعد موقع سے فرار ہو گیا۔

    حادثے کے باعث ساہیانوالہ سے سالار والا تک ریلوے ٹریک کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے سبب فیصل آباد سے لاہور اور وزیرآباد کے درمیان ٹرینوں کی آمد و رفت مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ ٹریک کی بحالی میں کم از کم چھ گھنٹے لگیں گے، جب کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کے لیے انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • بھارت کی سفارتی ناکامی اور آم ڈپلومیسی کا زوال

    بھارت کی سفارتی ناکامی اور آم ڈپلومیسی کا زوال

    بھارت کی سفارتی ناکامی اور آم ڈپلومیسی کا زوال
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
    سفارت کاری بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہے۔ دنیا کے ممالک مختلف طریقوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے استوار کرتے ہیں، جن میں بیک ڈور ڈپلومیسی یعنی خفیہ مذاکرات، ٹریک ٹو ڈپلومیسی جو غیر سرکاری افراد کے ذریعے رابطوں پر زور دیتی ہے، کرکٹ ڈپلومیسی جو کھیلوں کے ذریعے ممالک کو قریب لاتی ہے، ثقافتی ڈپلومیسی جو فنون اور روایات کے تبادلے سے روابط بڑھاتی ہے اور آم ڈپلومیسی جو تحائف کے ذریعے خیر سگالی کا اظہار کرتی ہے شامل ہیں۔ بھارت نے اپنے مشہور الفانسو اور کیشر آموں کو سفارتی تحفے کے طور پر استعمال کر کے اپنی سافٹ پاور کو فروغ دینے کی کوشش کی، لیکن یہ منصوبہ نہ صرف ناکام ہوا بلکہ اس کی خارجہ پالیسی کی کمزوریوں اور چالاکیوں کو بھی عیاں کر گیا۔ بھارت نے اس منصوبے کے ذریعے امریکہ کے ساتھ سیاسی، معاشی اور سفارتی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی مگر ناقص منصوبہ بندی اور دستاویزات کی خامیوں نے اسے شرمندگی سے دوچار کیا۔

    8 اور 9 مئی 2025 کو ممبئی سے 15 کنٹینرز پر مشتمل آموں کی کھیپ شعاع ریزی کے عمل سے گزر کر امریکہ بھیجی گئی جو کیڑوں کو ختم کرنے اور آموں کی شیلف لائف بڑھانے کے لیے ضروری تھا۔ تاہم امریکی حکام نے PPQ203 فارم کی نامکمل تیاری کا بہانہ بنا کر اس کھیپ کو لاس اینجلس، سان فرانسسکو اور اٹلانٹا کے ہوائی اڈوں پر مسترد کر دیا۔ بھارتی برآمد کنندگان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے شعاع ریزی کا عمل مکمل کیا تھا اور PPQ203 فارم بھی تیار تھامگر یا تو بھارتی عملے کی غفلت یا امریکی حکام کی سخت پالیسی کی وجہ سے یہ کوشش ناکام ہوئی۔ نتیجتاً برآمد کنندگان کو دو مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا، آموں کی کھیپ واپس بھارت بھیجیں، جو خراب ہونے والے آموں کے لیے مہنگا اور غیر عملی تھا یا اسے امریکہ میں تباہ کر دیں۔ انہوں نے آموں کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے تقریباً 500,000 ڈالر یعنی 4.15 کروڑ روپے کا مالی نقصان ہوا۔ یہ واقعہ بھارت کے برآمدی نظام کی خامیوں اور سفارتی تیاری کی کمی کو واضح کرتا ہے۔

    یہ ناکامی صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کا تسلسل ہے۔ ماضی میں بھی بھارت نے 1950 کی دہائی میں چین کے ساتھ آم ڈپلومیسی کی کوشش کی تھی جو خاطر خواہ نتائج نہ لا سکی۔ اس بار بھی بھارت کی نام نہاد سافٹ پاور امریکی ہوائی اڈوں پر ضائع ہو گئی، جو اس کی سفارتی ناکامی کی علامت بن گئی۔ ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور مہاراشٹر اسٹیٹ ایگریکلچرل مارکیٹنگ بورڈ کے درمیان رابطوں کی کمی نے اس ناکامی کو مزید گہرا کیا۔ یہ واقعہ بھارت کے برآمدی نظام میں شفافیت کی کمی اور ناقص انتظامی ڈھانچے کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

    بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے چالاکی اور چاپلوسی پر مبنی رہی ہے۔ وہ اپنے مفادات کے لیے عالمی طاقتوں کے سامنے سر جھکاتا ہے، لیکن اس کی ناقص منصوبہ بندی اسے ہر بار ناکام کرتی ہے۔ حالیہ پاک بھارت چار روزہ جنگ (مئی 2025) میں پاکستان کے ہاتھوں میدان جنگ میں شرمناک شکست نے بھارت کی عسکری اور سفارتی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ اس جنگ نے نہ صرف بھارت کے فوجی دعووں کی قلعی کھولی بلکہ اسے عالمی سطح پر سفارتی تنہائی سے بھی دوچار کیا۔ امریکہ جو بھارت کا اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے نے بھی اس موقع پر بھارت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا۔ آم ڈپلومیسی کی ناکامی اور امریکی حکام کی جانب سے کھیپ کی مستردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اپنی چالاکیوں سے عالمی برادری کو متاثر نہیں کر سکتا۔

    اب سفارت کاری کا دور بدل چکا ہے اور بھارت کی دھونس دھاندلی، عیاری اور مکاری عالمی سطح پر ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستانی خارجہ پالیسی اور اس کے پالیسی ساز بھارت کی ان چالاکیوں کو ہر عالمی فورم پر بے نقاب کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ بھارت جہاں جہاں جائے گا پاکستان اس کی بچھائی ہوئی چالیں دنیا کے سامنے لاتا رہے گا اور اس کی ہر مکروہ سازش کو ناکام بنائے گا۔ اب وہ وقت چلا گیا جب روس بھارت کے لیے اقوام متحدہ میں ویٹو پاور استعمال کر کے اسے بچا لیتا تھا۔ بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کی سافٹ پاور کے دعوے محض دھوکا ہیں اور اس کی ناقص خارجہ پالیسی عالمی برادری میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔ اگر بھارت نے شفافیت، پیشہ ورانہ تیاری اور مضبوط نظام کو نہ اپنایا تو آم ڈپلومیسی کی طرح اس کی تمام سفارتی کوششیں ناکامی کا شکار ہوتی رہیں گی اور عالمی برادری اسے مکمل طور پر مسترد کرتی رہے گی۔

  • رحیمیارخان:موٹروے ایم-5، ڈرائیور کو نیند آنے پر بس حادثہ، 4 جاں بحق، 14 زخمی

    رحیمیارخان:موٹروے ایم-5، ڈرائیور کو نیند آنے پر بس حادثہ، 4 جاں بحق، 14 زخمی

    رحیم یار خان(باغی ٹی وی رپورٹ) موٹر وے ایم-5 پر افسوسناک حادثہ، بس ڈرائیور کی غفلت سے 4 افراد جاں بحق، 14 زخمی

    رحیم یار خان کے قریب موٹر وے ایم-5 پر کشمور کے مقام پر ایک المناک ٹریفک حادثے میں 4 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہو گئے۔ حادثہ ایک مسافر بس اور مزدا گاڑی کے درمیان شدید تصادم کے نتیجے میں پیش آیا، جس کی بنیادی وجہ ڈرائیور کو نیند آنا اور غفلت برتنا قرار دی جا رہی ہے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ ترجمان کے مطابق 3 افراد کو جائے وقوعہ پر ابتدائی طبی امداد دی گئی، جبکہ 11 شدید زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    پولیس اور موٹروے حکام نے جائے حادثہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بس ڈرائیور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیند کی حالت میں گاڑی چلا رہا تھا، جس کے باعث یہ سانحہ رونما ہوا۔

    جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور ان کے لواحقین کو اطلاع دے دی گئی ہے۔ حادثے سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔

  • آر پی او شیخوپورہ کی ننکانہ صاحب میں کھلی کچہری، شہریوں کے مسائل کے حل کے احکامات

    آر پی او شیخوپورہ کی ننکانہ صاحب میں کھلی کچہری، شہریوں کے مسائل کے حل کے احکامات

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) آر پی او شیخوپورہ رینج اطہر اسماعیل نے ڈی پی او سید ندیم عباس کے ہمراہ تھانہ سید والا اور مانگٹانوالا میں کھلی کچہری منعقد کی۔ آر پی او نے شہریوں کی شکایات سن کر موقع پر حل کے احکامات جاری کیے۔

    تھانہ سید والا میں صحافیوں نے ٹریفک مسائل اور پولیس نفری کی تعیناتی کے سوالات اٹھائے، جس پر آر پی او نے مسائل کے حل کی یقین دہانی کروائی۔ تھانہ مانگٹانوالا میں قصبہ موڑ کھنڈا کے دار ارقم سکول اور جاوید ہسپتال کے ساتھ پولیس ویلفیئر معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ معاہدوں کے تحت شہداء پولیس کے خاندانوں کو علاج اور تعلیمی اخراجات میں سہولیات، جبکہ حاضر سروس ملازمین کے بچوں کو 40 فیصد فیس رعایت اور دو بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی۔ جاوید ہسپتال موڑ کھنڈا میں ملازمین کے بچوں کو 50 فیصد فیس رعایت ملے گی۔

    صحافیوں نے موڑ کھنڈا میں ٹریفک، تجاوزات اور منشیات فروشی کے مسائل اٹھائے، جس پر آر پی او نے فوری حل اور منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی ہدایات دیں۔ تھانہ مانگٹانوالا میں مسیحی برادری سے ملاقات کرتے ہوئے چرچوں کی سیکیورٹی اور تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی۔ تھانہ فیض آباد میں انجمن تاجران و امن کمیٹی سے میٹنگ کی گئی۔

    آر پی او نے تینوں تھانوں (سید والا، مانگٹانوالا، فیض آباد) کا دورہ کیا اور ریکارڈ رجسٹرز کا جائزہ لے کر اپنے تاثرات قلمبند کیے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس شہداء کے خاندانوں اور ویلفیئر کے لیے تمام اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، اور کھلی کچہریوں کا مقصد شہریوں کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اور آئی جی پنجاب کے ویژن کے مطابق کھلی کچہریوں کے سلسلے کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

    دورے کے دوران ایس پی انویسٹی گیشن حنا نیک بخت سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

  • آسمانی شادی

    آسمانی شادی

    غربت کی رسی سے خودکشی کرنے والے باپ کی بیٹی کے نصیب
    ظفریات کتاب کا حقیقت پر مبنی دل سوز مضمون: آسمانی شادی
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    2020 مجھے ساری زندگی نہیں بھول سکتا۔ اس سال نے انسانیت کو کرونا وائرس جیسی وبا کے امتحان میں ڈالا، جو خود تو نظر نہیں آتی تھی مگر کئی واقعات دکھا کر گئی۔ جب ملک بھر میں لاک ڈاؤن لاگو کر دیا گیا، یہ کہانی ہے ایک ایسے مزدور کی جو روزانہ اپنا کنواں کھود کر پانی نکالتا تھا، یعنی روز کمایا تو کھایا ورنہ فاقہ۔ لاک ڈاؤن کو دوسرا ماہ تھا، عوام گھروں میں قید تھی۔ جن کے گھر وافر راشن اور رقم تھی، وہی بے فکر تھے۔ باقی سبھی خوراک کی خوراک بنتے جا رہے تھے۔

    مشکل میں مصیبت کو دُور کرنے والے انسانوں کے جہان کا تو پتہ نہیں، مگر پاکستان، پنجاب کے مسلمانوں نے اپنی دکانوں پر پڑی چیزیں مہنگی کر دی تھیں۔ دورِ حاضر میں یہ مجبوری کا فائدہ اٹھانے والے لوگ حیوانوں کو اشرف المخلوقات ہونے پر کبھی پچھتانے نہیں دیتے۔ نجانے کتنے لاچار، بے بس، غریب انسانوں کو کرونا وائرس کے دور میں موت کا خوف اپنی لپیٹ میں مبتلا کر چکا تھا، مگر یہ کہانی ایک ایسے غریب مزدور کی، جس نے اپنے بچوں کی بھوک مٹانے میں ناکامی کا یہ حادثہ پیش کیا کہ شہر کے بیچ میں ایک درخت پر پھندہ بنا کر جھول گیا۔

    اس کی تصویریں سوشل میڈیا پر دیکھیں تو رُوح کانپ اُٹھی۔ قریبی شہر کا واقعہ تھا۔ میں بھی دو بچوں کا باپ ہوں، اور باپ کے حساس دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک دن اس خوفناک موت کا شکار ہونے والے باپ کے گھر پہنچا۔ایک چھوٹا سا گھر، جس کی کچی دیواریں اور چھت اس میں رہنے والوں کے حالات بیان کر رہی تھیں۔ بیوہ اپنی بچیوں کو آغوش میں لیے خون کے آنسو بہاتی ہوئی کہہ رہی تھی: بیٹی کا رشتہ طے کیا تھا، اس کے سسرالیوں کو گمان تھا کہ باپ جہیز میں کچھ نہ کچھ تو ضرور دے گا، مگر اب وہ بھی دامن چھڑواتے نظر آ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کچھ روز میں شادی سے انکار کر دیں،مجھ سے کچھ بولا نہ گیا اور اگلے نقصان کا اعلان سن کر دُکھی سا لوٹ آیا۔

    کسی غیبی طاقت نے مجھے ان کے لیے کوشش کرنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے اپنے ایک بیرون ملک مقیم کزن سے مدد کی بات کی تو اس نے مجھے بیس ہزار روپے بھیجے۔ کچھ رقم میں نے اپنے شافعِ محشرؑ کے غلام مسیحا سے حاصل ہونے والی شامل کی اور مزید کے لیے بے قرار ہو گیا۔روز میرا دل مجھے کسی نیلام گھر جہیز والے کے پاس پہنچنے کو مجبور کرتا اور میں سوچتا کہ معمولی سی رقم سے جہیز کا سامان متاثرہ گھر میں کیسے پہنچ سکتا ہے، مگر مجھے چلانے والی طاقت نے جہیز مارکیٹ جانے پر مجبور کر دیا۔

    بندے کی جیب میں پچاس ہزار ہو اور دو، ڈھائی، تین لاکھ کا سامان لینے چلا جائے، ظاہری طور پر تو یہ بے وقوفانہ جرات ہے، جس کا نتیجہ شرمندگی کے سوا کچھ نہیں، مگر یہ جو صاحبِ حیثیت لوگ ہوتے ہیں، ان کو قدرت اپنے کسی بندے کی مدد کے لیے صاحبِ دل بھی کر لیتی ہے۔میں دکانوں کے آگے سے گزر رہا ہوں اور میری نظریں دکان میں سامان نہیں، انسان تلاش کر رہی تھیں۔ خدا کی حکمت سے واقفیت کا پہلو بھی سن لیجئے: مالک خوبصورت روحوں پر خوبصورت چہرے سجاتا ہے۔ ہمارا واسطہ کئی ایسے افراد سے پڑتا ہے جن کی شکل دیکھ کر عقل محبت کے احساس کا پتہ دیتی ہے، اور کئی ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے ہمارا بگاڑا بھی کچھ نہیں ہوتا، اور وہ ہمیں اچھے بھی نہیں لگتے، یعنی نظریں کئی چہروں کو روح کے فیصلے پر چھوڑ دیتی ہیں اور کئی چہرے دل کے فیصلے میں آ جاتے ہیں۔

    ایسے ہی میں ایک دکان مالک بزرگ انسان، گورا چہرہ، سفید داڑھی، سفید لباس، ہونٹوں پہ تبسم، نگاہوں میں مہربانی — ہماری نظریں ملتے ہی توجہ کا جذبہ اجاگر ہوا۔
    میں ان کی طرف کھنچا چلا گیا، اور انہوں نے مجھے اپنی طرف آتے ہی ملازم کو کرسی لانے کا پیغام دیا۔میں قریب پہنچا تو کرسی مجھ سے پہلے پہنچ گئی۔ میں نے سلام کیا۔ جواب دیتے ہی "تشریف رکھیے” کا اشارہ زبان اور ہاتھ پر اتر آیا۔میں کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا کہ بات کیسے اور کہاں سے شروع کروں۔ وہ میرا چہرہ دیکھتے رہے۔ میں نے ہمت جمع کرکے کہا: محترم، میں گاہک نہیں، خدا کا پیغام ہوں جو آیا نہیں، بھیجا گیا ہوں۔

    پھر موبائل سے وہ غریب مزدور کی پھانسی لینے والی تصویر سامنے کرتے ہوئے واقعہ بیان کیا کہ میں حادثے کے بعد اس کے گھر گیا تھا۔ اس کی بیوی اور بچیاں اپنی زندگی کا خدا سے اس بات کا شکوہ کر رہی تھیں کہ اس دور میں کیوں پیدا کیا، جس میں انسان تو ہیں، مگر انسانیت نہیں بستی۔کاش ہمارے ہاں ہمسایوں کے حالات سے باخبر رہنے کی روایت زندہ ہوتی تو ہمارا باپ عزتِ نفس کی رسی کو اپنے گلے کا ہار بنا کر انسانوں کے جہاں سے روانہ نہ ہو جاتا، اور چوک میں پھندا لینا یعنی انسانوں میں انسانیت جگانے کی کوشش تھی، ورنہ مر تو وہ گھر کی چار دیواری میں بھی سکتا تھا۔

    اُس بزرگ بندے کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے شروع ہوئے، کہنے لگا: "ہمیں قدرت کا کیا کام کرنا ہے؟”میں نے کہا "اس کی ایک جوان بچی ہے جس کا رشتہ طے کر کے گیا تھا، اب وہ لوگ جہیز کے سامان کے نہ ملنے کی وجہ سے رشتہ توڑ سکتے ہیں۔ اگر کچھ سامان میسر آ جائے تو ہم مرنے والے کو تو نہیں بچا سکے، مگر گھٹ گھٹ کر زندگی اور حالات کو کوسنے والی ایک بچی کا گھر بسنے سے پہلے اُجڑ جانے سے بچا سکتے ہیں۔”
    اور وہ رقم جو میرے پاس تھی نکالتے ہوئے ان کی طرف بڑھا دی۔انہوں نے وہ رقم گنی بھی نہیں اور ملازموں کو بلا کر کہا: "جو سب سے اچھا جہیز کا سیٹ پڑا ہے وہ گاڑی میں لوڈ کرو اور چائے کے لیے آرڈر دو، کہ اللہ کا قاصد ہمارا مہمان بنا ہے۔”

    میں اپنی خود غرضی کی غلاظت سے بھری اوقات دیکھتے ہوئے رو پڑا کہ مالک نے کیسا کام لیا جس نے مجھے انسانیت کا ترجمان بنا دیا۔ بس ایک عیب چھپانے والی رحمت کی چادر تھی، جس نے میرے کردار کو انمول بنایا ہوا تھا۔سامان لوڈ ہوا تو اس بزرگ بندے نے گاڑی ڈرائیور کو کرایہ دیتے ہوئے کہاکہ "کسی سے کوئی پیسوں کا مطالبہ نہ کرنا اور ان صاحب کے ساتھ چلے جاؤ، جہاں یہ کہیں سامان چھوڑ آنا۔”

    میرے پاس اس بزرگ بندے کا شکریہ ادا کرنے کے الفاظ نہیں تھے، مگر اس کا جواب قدرت خود ہی اسے دے گی۔میں گاڑی والے کے ساتھ بیٹھا اور ہم متاثرہ گھر کی جانب روانہ ہو گئے۔ میں دل میں اُس بیوہ ماں کی کیفیت کو محسوس کرکے اشک بہا رہا تھا کہ جب اُس بچی اور ماں کو معلوم ہوگا کہ قدرت نے اُن کی رُوح کا ایک بڑا بوجھ ہلکا کر دیا ہے، تو ان کی کیفیت کیا ہوگی۔

    مجھ سے یہ منظر دیکھا نہ جائے گا۔ مالک ہمت عطا کرے گا۔

    ہم دو گھنٹے بعد اس متاثرہ گھر کے دروازے پر پہنچے، دستک دی، اندر سے بچی کی آواز آئی: "کون؟”
    "بیٹی، اللہ کا بندہ ہوں، اپنی ماں کو کہو وہ جو بندہ دوسرے شہر سے تعزیت کے لیے آیا تھا وہ دوبارہ آیا ہے، ملنا چاہتا ہے۔”
    بچی نے اپنی ماں کو بتایا تو اُس نے اندر آنے کی اجازت دی۔
    میں اندر گیا، ٹوٹی ہوئی چارپائی پر بیٹھی عورت نے میرا دیکھا ہوا چہرہ پہچان لیا۔

    میں نے سلام کیا اور دونوں ہاتھ جوڑ کر کہاکہ "اللہ نے آپ کی بچی کے لیے سامان بھیجا ہے، اسے قبول کرکے مجھ پر احسان کریں۔”
    ان کے ذہن میں آیا کہ کوئی چھوٹی موٹی رقم یا چیز ہوگی جو ابھی میں جیب سے نکال کر ان کے حوالے کروں گا مگر میں نے ان کا ہاتھ تھاما اور انہیں دروازے سے باہر گاڑی کے پاس لے آیا۔
    ڈرائیور سے کہا: "ترپال اُٹھائیں۔”

    جب جہیز کے سامان پر اس عورت اور بچی کی نظر پڑی تو وہ بے اختیار روتے ہوئے آپس میں گلے لگ گئیں۔

    بچی ماں کو کہنے لگی کہ "بابا نے خدا کے پاس جا کر خدا کو منا کر میری زندگی کے آباد ہونے کا سامان بھیجا ہے۔ بھلا ایسا بابا کسی بچی کو نصیب ہوا ہو گا جو مجھے ملا تھا۔”
    ہم نے سامان گاڑی سے نکال کر ان کے کمرے میں رکھنا شروع کیا۔

    گلی میں ہمسائے دیکھتے گزرتے تو وہ عورت کہتی کہ "میرے میاں نے اللہ کے پاس جا کر ہمارے زخم دکھائے تو رب نے مرہم بھیجا ہے۔”مکمل سامان حوالے کرنے کے بعد اس کی تصویریں بچی کے سسرال والوں کو بھیجیں تو انہوں نے فوری آنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔ان کے آنے سے پہلے میں وہاں سے بیوہ کو یہ کہہ کر روانہ ہو گیا کہ "یہ میرا نمبر ہے، شادی کی تاریخ طے کر کے بتا دیجئے گا اور اس کا شکریہ بھیجنے والے رب کو ادا کیجئے گا۔”

    اُس رات اُس گھر میں لاوارثی کا نہ صرف احساس ختم ہوا بلکہ دُکھ کے جسموں نے خوشی کا لباس بھی پہنا۔ افلاس کے ہاتھوں ننگے ہوتے انسان محفوظ ہو گئے۔
    دو روز بعد اُس عورت کا فون آیا کہ بچی کے سسرال والوں نے بچی کو آنکھوں پر بٹھا کر بسانے کا یقین دلایا ہے۔ہم نے ایک ماہ بعد شادی کی تاریخ مقرر کر لی ہے۔
    سو لوگ بارات میں آئیں گے۔

    مجھے طے شدہ تاریخ کا بتایا گیا تو میں کچھ روز بعد ہی اسی شہر کے ایک شادی ہال کے مالک کے پاس پہنچا اور اسے اپنا تعارف کروا کر سارا ماجرہ سنایا۔وہ شخص اس موت سے باخبر تھا مگر جب میری زبانی بات سنتا گیا تو اس کے دل پر قدرت کا احساس نازل ہوتا گیا۔

    وہ میرے جڑے ہاتھ، اشکوں میں بھیگے، منت سے لبریز الفاظ سنتے ہوئے اپنی خاموشی توڑ کر کہنے لگاکہ "بھائی، خدا کا کام ہے، میرے شادی ہال کا مجھ پر کوئی خرچہ نہیں، مگر بارات کا کھانا میری طرف سے ہوگا، ورنہ میں رب کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔””ساری زندگی پیسہ کمایا ہے، آج انسانیت کمانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دوں گا۔”ہم دونوں متاثرہ گھر میں گئے اور اُس بیوہ عورت کو بارات کے سارے انتظامات کے بارے میں بتایا۔

    بچی کے دلہن کے لباس سے لے کر عام پہننے کے کپڑے، جوتے اور باقی افراد کے شادی پر پہننے کے جوتے کپڑے جیسی تمام اشیاء سے بے فکر کرکے اُٹھے۔
    کچھ روز بعد یہ سامان شادی ہال کے مالک اور اس کی بیوی کے ہاتھوں پہنچ گیا۔
    مجھے بتایا اور ساتھ کہا کہ جہیز کے موجود سامان کے علاوہ کسی اور سامان کی ضرورت و فکر نہیں۔
    بچی کے سسرال والوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا ہے کہ لڑکے نے باقی انتظام کر لیا ہے۔

    شادی ہال کے مالک نے اپنے صاحبِ حیثیت دوستوں کو بتایا تو وقت آنے پر ان میں کسی نے مہندی کا سامان پہنچایا تو کسی نے کھانا۔ہمسایوں کے ساتھ بیوہ عورت کے اپنے اور خاوند کے قریبی عزیز و اقارب نے ان متاثرہ افراد کے سر پر چھوٹی چھوٹی مہربانیوں کی چھت بنا ڈالی۔اگلے دن شادی ہال میں بارات پہنچی، نکاح پڑھایا گیا، شاہی کھانا کھلایا گیا۔

    مجھے یقین ہے یہ شادی آسمان والے کے کیمرے میں ریکارڈ کی گئی، اور خودکشی کرنے والے باپ کی رُوح نے آسمان سے رب کی رحمت کے پھول اپنی بچی پر برسا کر رُخصت کیا ہوگا۔کیونکہ دلہن اس موقع پر اپنے بابل کے سینے لگ کر کندھے پہ سر رکھ کے رونے والے احساس میں جکڑی کہہ رہی تھی کہ "یہ وہی شادی ہے جس کا میرا بابل دلاسہ دیا کرتا تھا۔”

    میں اس موقع پر جان بوجھ کر شریک نہیں ہوا کہ بچی یا اس کی ماں کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔اُن کی نگاہوں میں اُس احسان کی تصویر نہ اتر آئے جو میں نے کیا ہی نہیں، بلکہ میں تو خود اپنی روح کا سجدہ خدا کے حضور پیش کر رہا تھا، جس نے مجھے آسمانی فیصلے کی تکمیل کا حصہ بنایا۔

    ہاں، میں اتنا ضرور کہوں گاکہ اس سوئے ہوئے احساسِ انسانیت کے معاشرے میں دردِ انسانیت کے شعور کو اجاگر کیا جائے، تو کوئی غریب لاچار، بے بس زندگی خودکشی نہ کرے۔
    انسان موت کو گلے تب لگاتا ہے، جب معاشرہ انسانیت کو گلے لگانا چھوڑ دیتا ہے۔

  • تنگوانی: بھینس چوری کی واردات کے دوران مزاحمت پر فائرنگ، گھر کا مالک شدید زخمی

    تنگوانی: بھینس چوری کی واردات کے دوران مزاحمت پر فائرنگ، گھر کا مالک شدید زخمی

    تنگوانی (باغی ٹی وی،نامہ نگارمنصوربلوچ) تنگوانی کے نواحی گاؤں شیر دل کھوسو میں چوروں نے بھینس چوری کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کر کے گھر کے مالک کو شدید زخمی کر دیا۔ واقعہ تھانہ تنگوانی کی حدود میں پیش آیا۔

    تفصیلات کے مطابق ولایت علی لاشاری کے گھر میں رات گئے نامعلوم چور داخل ہوئے اور بھینس چوری کر کے فرار ہونے لگے۔ اس دوران اہلِ خانہ کی آنکھ کھل گئی، جس پر انہوں نے چوروں کا پیچھا کیا۔ ہاتھا پائی کے دوران چوروں نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں احمد لاشاری نامی نوجوان شدید زخمی ہو گیا۔

    زخمی کو فوری طبی امداد کے لیے سکھرہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم تاحال ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے۔

  • اوچ شریف: ڈکیتی پر مزاحمت، فائرنگ سے شہری شدید زخمی

    اوچ شریف: ڈکیتی پر مزاحمت، فائرنگ سے شہری شدید زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے موضع مانک میں ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کر کے ایک شخص کو زخمی کر دیا۔ ریسکیو 1122 کنٹرول روم کے مطابق اطلاع شام 8 بج کر 57 منٹ پر موصول ہوئی، جس پر ریسکیو یونٹ BPA-27 صرف 17 منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق لواحقین نے بتایا کہ ظفراقبال ولد اللہ ودھایا عمر 45 سال ساکن موضع مانک نوشہرہ، کو ڈاکوؤں نے مزاحمت پر دونوں ٹانگوں پر گولیاں مار دیں۔ ریسکیو ٹیم نے جائے وقوعہ پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے زخمی کو فوری طور پر آر ایچ سی اوچ شریف منتقل کر دیا۔

    جبکہ پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔