Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • حکومت نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی

    حکومت نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی

    اسلام آباد(باغی ٹی وی رپورٹ) وفاقی کابینہ نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر (نشانِ امتیاز ملٹری) کو فیلڈ مارشل کے اعلیٰ ترین عسکری عہدے پر ترقی دینے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس تاریخی فیصلے کا اعلان وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس کے بعد کیا گیا۔

    وزیراعظم نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان حال ہی میں اپنی تاریخ کے ایک کٹھن مرحلے سے کامیابی سے گزرا۔ انہوں نے 6 اور 7 مئی 2025 کی رات بھارتی جارحیت کو "معرکۂ حق” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن نے بلا اشتعال اور بلاجواز حملہ کرکے نہ صرف پاکستان کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کو چیلنج کیا بلکہ سول آبادی میں معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاک فوج نے "آپریشن بنیانِ مرصوص” کے تحت بروقت اور مؤثر کارروائی کرکے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ وزیراعظم نے اس شاندار کامیابی پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے جنرل سید عاصم منیر کی دلیرانہ عسکری قیادت کو سراہا اور انہیں پاکستان کے دفاع، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے پر فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی تجویز کابینہ کے سامنے رکھی، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

    وفاقی کابینہ نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ آرمی چیف نے مثالی جرات، عزم اور حکمتِ عملی سے نہ صرف پاک فوج کی قیادت کی بلکہ تمام مسلح افواج کی جنگی صلاحیتوں اور آپریشنل ردِعمل کو ہم آہنگ کرکے پاکستان کو ایک تاریخی عسکری فتح سے ہمکنار کیا۔ کابینہ نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ جنرل عاصم منیر کی بہادری، قائدانہ صلاحیتوں اور ملکی دفاع کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے بعد ازاں صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور اس فیصلے پر انہیں اعتماد میں لیا۔ ایوانِ صدر سے اس سلسلے میں آئینی منظوری کی توقع کی جا رہی ہے۔

    اجلاس میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی خدمات کو بھی سراہا گیا اور ان کی مدتِ ملازمت مکمل ہونے کے باوجود ان کی قیادت میں تسلسل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مزید برآں، وفاقی کابینہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ آپریشن بنیانِ مرصوص کے دوران شاندار خدمات انجام دینے والے افواجِ پاکستان کے افسران، جوان، غازیان، شہداء اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کو قومی اعزازات سے نوازا جائے گا۔

    پاکستان کی تاریخ میں فیلڈ مارشل کا عہدہ محض علامتی نہیں بلکہ ملک کے اعلیٰ ترین عسکری اعزازات میں شمار ہوتا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان کو یہ رینک دیا گیا تھا۔ جنرل عاصم منیر کو یہ رینک دے کر حکومت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کی قیادت میں نہ صرف دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا بلکہ پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا گیا۔

    یہ فیصلہ نہ صرف فوجی تاریخ کا سنگِ میل ہے بلکہ پوری قوم کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • بجٹ 2025-26 ریونیو کے نام پر عوام کا معاشی قتل!

    بجٹ 2025-26 ریونیو کے نام پر عوام کا معاشی قتل!

    بجٹ 2025-26 ریونیو کے نام پر عوام کا معاشی قتل!
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
    پاکستانی عوام کی معاشی حالت دن بہ دن ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور توانائی کے بڑھتے نرخوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور اب آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ کی تیاریوں نے ان زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کا بندوبست کر لیا ہے۔ حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات کا مقصد 700 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز اکٹھا کرنا ہے اور یہ بوجھ براہ راست عوام کے کندھوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ، پنشنرز، تمباکو اور مشروبات کے شعبے، ہر کوئی اس نئے ٹیکس کے طوفان کی زد میں ہے۔ اس کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات پر نئی لیوی، بجلی کے بلوں میں ڈیبٹ سروس سرچارج اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ عوام کے لیے ایک اور معاشی دھچکا ثابت ہوگا۔ دل دکھتا ہے یہ سوچ کر کہ جن بزرگ شہریوں نے اپنی زندگی ملک کی خدمت میں گزاری، ان کے منہ سے بھی اب نوالہ چھینا جا رہا ہے۔

    حکومت کی طرف سے پنشنرز پر انکم ٹیکس عائد کرنے کا عندیہ ظلم کی نئی داستان رقم کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں بزرگ شہریوں کو ٹیکس چھوٹ سمیت کئی مراعات دی جاتی ہیں، مگر پاکستان میں یہ طبقہ نہ صرف سہولیات سے محروم ہے بلکہ معمول کے ٹیکسز بھی اس سے پورے وصول کیے جاتے ہیں۔ اب ان کی محدود پنشن پر انکم ٹیکس لگانے کی بات ان کے لیے آخری سہارا چھیننے کے مترادف ہے۔ سرکاری ملازمین اپنی ملازمت کے دوران انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں جو حکومتی خزانے کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ کیا یہ انصاف ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جب وہ عمر کے اس حصے میں ہوں جہاں صحت اور مالی تحفظ ان کی بنیادی ضرورت ہے، ان پر مزید بوجھ ڈالا جائے؟ کاروباری طبقے کو تو سیلف اسسمنٹ سکیم کے تحت اخراجات منہا کرنے کی اجازت ہے لیکن ملازمین اور پنشنرز کے لیے ایسی کوئی رعایت نہیں۔ یہ طبقہ جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، کم از کم ٹیکس چھوٹ کا مستحق ہے۔ قابل ٹیکس آمدنی کی حد بڑھانے سے بھی ان پر کچھ بوجھ کم ہو سکتا ہے مگر کیا حکومت اس طرف سوچے گی؟

    اس بجٹ کی تیاری میں آئی ایم ایف کا دباؤ واضح ہے۔ 14307 ارب روپے کے ریونیو ہدف پر پاکستان اور آئی ایم ایف متفق نہیں ہو سکے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ایف بی آر 13200 ارب روپے سے زیادہ نہیں اکٹھا کر سکتا، جس سے 300 ارب روپے کا فرق پیدا ہو گیا ہے۔ اس فرق کو پورا کرنے کے لیے 700 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی حکومتی تجویز پر آئی ایم ایف نے اعتراض اٹھایا ہے جبکہ تمباکو اور مشروبات کے شعبوں پر نئے ٹیکسز لگانے کی تیاری ہے۔ خاص طور پر تمباکو کی اشیاء، بالخصوص سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگانے کی تجویز ہے، جس سے سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ یہ اقدام ایک طرف سے مثبت ہو سکتا ہے کیونکہ سگریٹ مہنگے ہونے سے لوگ خاص طور پر مزدور طبقہ جو سستے سگریٹ پیتا ہے، اسے کم خریدے گا۔ یہ طبقہ سب سے زیادہ تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کا شکار ہوتا ہے۔ سگریٹ کی قیمت بڑھنے سے ان کی قوت خرید متاثر ہوگی اور کم سگریٹ پینے سے وہ بیماریوں سے بچ سکتے ہیں، جس سے صحت پر اٹھنے والے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ تمباکو کے شعبے میں کم از کم قانونی قیمت (ایم ایل پی) بڑھانے کی تجویز کے باوجود 80 فیصد سے زائد سگریٹ برانڈز اس سے کم یا قدرے زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔ غیر عمل شدہ تمباکو پر ایڈوانس ٹیکس کی نگرانی سے ریونیو بڑھانے کی کوشش کی جائے گی، مگر یہ اقدامات صحت کے مسائل حل کرنے کے بجائے سگریٹ کی سستی دستیابی کو بڑھا سکتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تمباکو سے متعلقہ بیماریوں سے ایک لاکھ سے زائد اموات ہوتی ہیں۔ کیا یہ وقت نہیں کہ صحت عامہ کو ترجیح دی جائے؟

    توانائی کا شعبہ بھی عوام کے لیے کوئی خوشخبری نہیں لا رہا۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی، بجلی کے بلوں میں 10 فیصد ڈیبٹ سروس سرچارج، اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک خبرکے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جس میں 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد کرنے اور آئندہ مالی سال میں فی لیٹر پیٹرولیم لیوی 100 روپے سے زائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔ مزید برآں استعمال شدہ گاڑیوں کی ڈیوٹیز کی مجموعی شرح نئی گاڑیوں سے 40 فیصد زیادہ ہوگی، جو ہر سال 10 فیصد کم ہوگی اور 2030 تک مکمل خاتمہ متوقع ہے۔ آئی ایم ایف نے سابقہ فاٹا/پاٹا کے لیے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور کھاد پر جنرل سیلز ٹیکس کی عمومی شرح نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
    حکومت یہ فیصلے یکم جولائی 2025 سے نافذ ہوں گے۔ گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 1252 ارب روپے قرض لیا جائے گا، جو اگلے 6 سال میں بجلی صارفین سے وصول کیا جائے گا۔ بجلی اور گیس پر سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ بھی عوام کے لیے ایک اور مالیاتی بوجھ ہے۔ کیا متوسط طبقہ جو پہلے ہی بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے قرض لے رہا ہے، اس اضافی سرچارج کو برداشت کر پائے گا؟ گردشی قرضوں کو 2031 تک صفر پر لانے کا ہدف تو طے کر لیا گیا مگر اس کی قیمت عوام سے وصول کی جا رہی ہے۔

    نان فائلرز کے خلاف سخت اقدامات بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔ حکومت نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کرنے اور ان کے لیے گاڑیوں، جائیداد کی خریداری اور مالی لین دین پر پابندی لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔ تاجر دوست اسکیم اپنے اہداف پورے نہ کر سکی، لیکن غیر رجسٹرڈ دکانداروں پر ودہولڈنگ ٹیکس بڑھانے سے فائلرز کی تعداد میں 51 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹیکس نظام کو موثر بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی ڈیٹا کا تجزیہ اور کمپلائنس رسک منیجمنٹ سسٹم کو فعال کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات یقیناً ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھائیں گے مگر کیا یہ اس قیمت پر ہونا چاہیے کہ متوسط طبقے اور غریب عوام کی زندگی مزید مشکل ہو جائے؟

    یہ بجٹ عوام کے لیے ایک اور امتحان ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ میں اضافی ٹیکسز، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، اور پنشنرز پر انکم ٹیکس جیسے فیصلے متوسط طبقے کی کمر توڑ دیں گے۔ دل رنجیدہ ہوتا ہے یہ سوچ کر کہ ایک دیہاڑی دار مزدور جو بمشکل 700 روپے روزانہ کماتا ہے، جس نے اسی 700 روپے میں گھر چلانا ہوتا ہے، کیا حکومت نے یہ سوچا ہے کہ اس مزدور کا کیا ہوگا، اس کے بچے، بوڑھے والدین اور دیگر گھر والے کیسے زندہ رہ پائیں گے؟یا جن بزرگ شہریوں نے اپنی زندگی ملک کی خدمت میں گزاری، انہیں اب اپنی پنشن پر ٹیکس دینا پڑے گا۔ کیا یہ ان کی خدمات کا صلہ ہے؟ تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرحوں میں کمی، پنشنرز کے لیے ٹیکس چھوٹ اور قابل ٹیکس آمدنی کی حد بڑھانے جیسے اقدامات اس وقت کی ضرورت ہیں۔

    توانائی کے شعبے میں عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے گردشی قرضوں کو کم کرنے کے لیے موثر اصلاحات کی جانی چاہئیں۔ تمباکو پر بھاری ٹیکسز سے صحت عامہ کے تحفظ کی طرف قدم بڑھایا جا سکتا ہے، خاص طور پر مزدور طبقے کو بیماریوں سے بچانے کے لیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کی فلاح کو ترجیح دے۔ معاشی استحکام ضروری ہے مگر اس کی قیمت عوام کی زندگیوں کو مزید کٹھن بنا کر نہیں چکانا چاہیے۔ یہ بجٹ اگر صرف ریونیو کے نام پر عوام پر بوجھ ڈالتا رہا تو یہ محض ایک معاشی قتل ہی کہلائے گا۔ یہی وقت ہے کہ حکومت ایسی پالیسیاں اپنائے جن سے نہ صرف قومی خزانہ بھرجائے بلکہ عوام کے چہروں پر بھی مسکراہٹیں لانے کیلئے بھی اقدامات ضرورکئے جائیں ۔

  • ڈیرہ نواب صاحب: حیات کلینک میں مسلح ڈکیتی، ڈاکٹرسے نقدی و اہم کاغذات لوٹ لیے

    ڈیرہ نواب صاحب: حیات کلینک میں مسلح ڈکیتی، ڈاکٹرسے نقدی و اہم کاغذات لوٹ لیے

    بہاولپور (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ کے علاقے ڈیرہ نواب صاحب میں واقع حیات کلینک پر دو مسلح ڈاکوؤں نے ہلہ بول کر ڈاکٹر یاسر حیات قریشی سے 65 ہزار روپے نقدی، شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، دو اے ٹی ایم کارڈز اور پی ایم ڈی سی رجسٹریشن کارڈ چھین لیے۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے جس کی مدد سے ملزمان کی شناخت کی جا رہی ہے۔

    واردات پیر کی شب 9 بج کر 10 منٹ پر پیش آئی جب دو نامعلوم افراد بغیر نمبر پلیٹ چائنا موٹر سائیکل پر کلینک کے احاطے میں داخل ہوئے۔ دونوں ڈاکوؤں نے داخل ہوتے ہی اسلحہ تان کر ڈاکٹر کو یرغمال بنایا اور لوٹ مار کے بعد ہوائی فائرنگ کے بغیر موقع سے فرار ہو گئے۔

    پولیس نے متاثرہ ڈاکٹر کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے اور جلد پیش رفت متوقع ہے۔

    دوسری جانب اہلِ علاقہ نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی کے انتظامات بہتر بنائے جائیں، خاص طور پر کلینکس، میڈیکل مراکز اور کاروباری اداروں کے گرد پولیس گشت کو مؤثر بنایا جائے تاکہ شہری عدم تحفظ کا شکار نہ ہوں۔

  • سیالکوٹ: الشیخ جناح میموریل ہسپتال میں دو روزہ فری میڈیکل کیمپ

    سیالکوٹ: الشیخ جناح میموریل ہسپتال میں دو روزہ فری میڈیکل کیمپ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیورو چیف شاہد ریاض) مہنگائی کے موجودہ دور میں دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت الشیخ جناح میموریل (ویلفیئر) ٹیچنگ ہسپتال سیالکوٹ کی جانب سے 19 اور 20 مئی 2025 کو ایک عظیم الشان فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں تقریباً 4500 مریضوں کو مفت طبی معائنہ، ادویات، اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں۔

    کیمپ میں شوگر، کولیسٹرول، دل کے امراض اور بی ایم ڈی کے مفت ٹیسٹ فراہم کیے گئے، جبکہ ایکسرے، الٹرا ساؤنڈ اور لیبارٹری ٹیسٹوں پر 50 فیصد رعایت دی گئی۔ کیمپ کے دوران جن مریضوں کو سرجری یا سرجیکل پروسیجر کی ضرورت تشخیص کی گئی، انہیں آئندہ پندرہ روز کے اندر ہسپتال میں 50 فیصد خصوصی رعایتی پیکج پر آپریشن کی سہولت دی جائے گی۔

    اس موقع پر انجمن شیخاں (رجسٹرڈ) کے صدر شیخ محمد اشرف حیدر نے افتتاحی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد صرف عام انسانوں کی خدمت اور غریبوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الشیخ ہسپتال کا مکمل کنسلٹنٹ و سپیشلسٹ عملہ ہمہ وقت مریضوں کی خدمت میں مصروف ہے۔

    تقریب میں ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر طارق محمود چودھری، ایڈمنسٹریٹر محمد یوسف کھوکھر، محمد عرفان، شیخ محمد افتخار، حکیم شیخ محمد عبدالواحد، شیخ جاوید حیدر، شیخ امجد عزیز، شیخ سعید ناصر، شیخ عاطف عبدالرحمان، شیخ محمد اسلم، ڈاکٹر عاف شیخ اور شیخ بلال کپور سمیت متعدد شخصیات شریک ہوئیں۔

  • لنڈی کوتل:ڈی ایچ کیو ہسپتال، کرپشن کے خلاف پیرا میڈیکس کا دھرنا، انتظامیہ پر سنگین الزامات

    لنڈی کوتل:ڈی ایچ کیو ہسپتال، کرپشن کے خلاف پیرا میڈیکس کا دھرنا، انتظامیہ پر سنگین الزامات

    لنڈی کوتل (تحصیل رپورٹر مہد شاہ شینواری) ضلع خیبر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل میں پیرا میڈیکل اسٹاف نے مبینہ کرپشن، بدانتظامی، رشوت خوری اور اقرباپروری کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ہسپتال کے احاطے میں دھرنا دے دیا ہے۔ یہ احتجاج پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے ضلعی صدر ولی خان آفریدی کی قیادت میں کیا جا رہا ہے، جس میں منتخب عوامی نمائندے، سماجی کارکن اور مقامی عمائدین بھی شریک ہیں۔

    مظاہرین نے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس)، ڈپٹی ایم ایس اور کلریکل عملے پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال فنڈز میں کروڑوں روپے کی مبینہ خردبرد کی گئی، پوسٹنگز اور ڈیوٹی تبادلوں میں رشوت کا بازار گرم ہے اور سرکاری رہائش گاہوں کا غیر قانونی استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایک مقامی این جی او کی خاتون کو خلاف ضابطہ اسٹاف کوارٹر میں ٹھہرایا گیا جبکہ ہیلتھ مینجمنٹ کمیٹی (ایچ ایم سی) فنڈز ممبران کی منظوری کے بغیر نکلوائے گئے۔

    ولی خان آفریدی نے الزام لگایا کہ ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹروں کی تعداد آٹھ سے کم ہو کر صرف دو رہ گئی ہے، صفائی، لیبارٹری اور پیتھالوجی کے شعبے بری طرح متاثر ہیں، اور گوسٹ ملازمین کو تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ اے آئی پی پروگرام کے تحت بھرتی کیے گئے عملے کی تنخواہوں سے ناجائز کٹوتیاں کی جا رہی ہیں اور این او سی کے اجرا میں رشوت طلب کی جاتی ہے۔

    ڈینٹل بلاک کی مرمت جیسے دیرینہ مسائل بھی حل نہیں کیے جا رہے جبکہ مستقل ایم ایس کی عدم تقرری سے ہسپتال کی نگرانی مفلوج ہو چکی ہے۔ موجودہ ایم ایس کو جمرود اور لنڈی کوتل دونوں ہسپتالوں کی اضافی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جو موثر انتظامی کنٹرول کے لیے ناکافی ہے۔

    تحصیل چیئرمین شاہ خالد شینواری کی جانب سے مذاکرات اور ثالثی کی متعدد کوششیں اب تک ناکام ہو چکی ہیں، اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، دھرنا جاری رہے گا۔

    سماجی کارکن اختر علی شینواری نے بھی دھرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ماہر ڈاکٹروں کی کمی نے غیر تربیت یافتہ افراد کو اسپتال کے نظام کو غلط استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، جس سے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ ہسپتال کے ایک اہلکار نے سابق ایم ایس جمشید شیرانی کے دور کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نظم و ضبط کے سخت نفاذ کی وجہ سے ہسپتال میں بہتری لائے تھے۔

    مقامی صحافیوں کی جانب سے جب یہ معاملہ صوبائی وزیر عدنان قادری کے علم میں لایا گیا تو انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ معاملہ اعلیٰ حکام کے ساتھ اٹھائیں گے اور جلد از جلد ہسپتال کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ یہ احتجاجی دھرنا آج دوسرے روز بھی جاری رہا اور مظاہرین نے اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج ختم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • کشمور: محتسب اعلیٰ کے حکم پر پنشن مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد

    کشمور: محتسب اعلیٰ کے حکم پر پنشن مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد

    کندھ کوٹ (باغی ٹی وی،نامہ نگار مختیار اعوان) صوبائی محتسب اعلیٰ کے حکم پر عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کشمور ایٹ کندھ کوٹ میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت ریجنل ڈائریکٹر محتسب اعلیٰ زاہد حسین برڑو نے کی۔ کچہری میں سرکاری ملازمین کی پنشن، ریٹائرمنٹ اور درستگی سے متعلق مسائل سنے گئے اور ان کے فوری حل کے لیے موقع پر ہدایات جاری کی گئیں۔

    اس موقع پر ڈائریکٹر محتسب اعلیٰ زاہد حسین برڑو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی محتسب اعلیٰ کی ہدایت پر ہم عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کے لیے آئے ہیں تاکہ سرکاری دفاتر سے متعلق شکایات کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔

    کھلی کچہری میں شہریوں نے پنشن کے اجرا میں تاخیر، ریٹائرمنٹ فوائد اور دستاویزی غلطیوں کی نشاندہی کی، جن پر ریجنل ڈائریکٹر نے متعلقہ افسران کو فوری اقدامات کی ہدایت دی۔ کچہری میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر عبدالرسول ابڑو، اکاؤنٹنٹ شميم، غلام مرتضیٰ سیٹھار، سید واجد شاہ، عبدالواحد سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی شریک ہوئے۔

    عوامی سطح پر اس اقدام کو سراہا گیا اور سرکاری امور میں شفافیت و سہولت کے فروغ کی امید ظاہر کی گئی۔

  • ڈسکہ: تنظیم الااخوان کا ماہانہ ذکر قلبی اجتماع

    ڈسکہ: تنظیم الااخوان کا ماہانہ ذکر قلبی اجتماع

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران) سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ تنظیم الااخوان ضلع سیالکوٹ کا ماہانہ ذکر قلبی اجتماع دارالعرفان ڈسکہ مرکز میں منعقد ہوا، جس میں خواتین سمیت ضلع بھر سے سالکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    اجتماع سے تنظیم الااخوان پاکستان کے سربراہ شیخ سلسلہ امیر عبدالقدیر اعوان نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا، جبکہ صاحبِ مجاز عبدالحمید چھینہ ایڈووکیٹ نے نئے آنے والے شرکاء کو طریقۂ ذکر سکھایا اور ان کی رہنمائی کی۔

    اجتماع کے اختتام پر ملکی ترقی، سلامتی، امت مسلمہ کی فلاح اور عوامی استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، جب کہ تمام سالکین کی لنگر سے تواضع کی گئی۔ اجتماع میں روحانی سکون اور اتحادِ ملت کے جذبے کو اجاگر کرنے پر زور دیا گیا۔

  • اوچ شریف: اکبر ٹاؤن گندگی اور تعفن کا شکار، "ستھرا پنجاب پروگرام” صرف کاغذوں تک محدود؟

    اوچ شریف: اکبر ٹاؤن گندگی اور تعفن کا شکار، "ستھرا پنجاب پروگرام” صرف کاغذوں تک محدود؟

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) تاریخی شہر اوچ شریف کا نواحی علاقہ اکبر ٹاؤن بدترین صفائی، بہتے سیوریج اور تعفن زدہ ماحول کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جہاں "ستھرا پنجاب پروگرام” کے حکومتی دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ گلیوں میں جمع گندگی، نالوں سے اُبلتا ہوا گندا پانی، اور خالی پلاٹوں میں کھڑا تعفن زدہ پانی نہ صرف مکینوں کے لیے اذیت کا باعث بن رہا ہے بلکہ علاقے کو وبائی امراض کے خطرے کی جانب دھکیل رہا ہے۔

    مقامی رہائشی محمد عامر، ساجد خان، یونس ادریس، غلام مصطفیٰ اور دیگر شہریوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صفائی کی ابتر صورتحال، گٹروں کی بندش اور نکاسی آب کے ناقص نظام سے روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق بلدیہ کو بارہا شکایات درج کرانے کے باوجود کوئی موثر اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ نہ صفائی عملہ متحرک ہے اور نہ ہی گٹروں کی مرمت کا کوئی سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

    شہریوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اکبر ٹاؤن کو فی الفور "ستھرا پنجاب پروگرام” میں شامل کر کے صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کے مؤثر انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق سے ذاتی طور پر نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

    علاقہ مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو احتجاجی مظاہروں، دھرنوں اور قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ "صفائی صرف بینرز اور اشتہارات سے نہیں، عملی اقدامات ہی عوامی مسائل کا حل ہیں۔

  • ترنڈ بشارت: موٹر چلاتے ہوئے کرنٹ لگنے سے 18 سالہ نوجوان جاں بحق

    ترنڈ بشارت: موٹر چلاتے ہوئے کرنٹ لگنے سے 18 سالہ نوجوان جاں بحق

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے ترنڈ بشارت میں ایک المناک حادثہ پیش آیا، جہاں 18 سالہ محمد نوید بوہڑ بجلی کا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ اہلِ خانہ اور عینی شاہدین کے مطابق محمد نوید موٹر آن کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اُسے اچانک شدید کرنٹ لگا جس سے وہ موقع پر ہی بے ہوش ہو گیا۔ فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔

    اس اندوہناک واقعے پر پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ نوجوان کی ناگہانی موت پر اہلِ علاقہ، عزیز و اقارب اور دوست احباب بڑی تعداد میں تعزیت کے لیے اُس کے گھر پہنچے اور غمزدہ خاندان سے اظہارِ ہمدردی کیا۔ محمد نوید کی نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد اُسے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

  • ڈسکہ: نوشین افتخار کی یومِ تشکر ریلی، پاک فوج کو خراجِ تحسین، ریلی کے اختتام پر آتشبازی

    ڈسکہ: نوشین افتخار کی یومِ تشکر ریلی، پاک فوج کو خراجِ تحسین، ریلی کے اختتام پر آتشبازی

    ڈسکہ (باغی ٹی وی نامہ نگار ملک عمران) یومِ تشکر کے موقع پر حلقہ این اے 73 سے رکن قومی اسمبلی محترمہ سیدہ نوشین افتخار کی قیادت میں نکالی گئی ریلی جب یونس آباد پہنچی تو سابق کونسلر مرزا عرفان علی نے سینکڑوں ساتھیوں کے ہمراہ ان کا شاندار استقبال کیا۔ ریلی ایک بڑے جلوس کی صورت اختیار کرتے ہوئے میلاد چوک پہنچی جہاں شرکاء نے جوش و خروش سے شرکت کی۔

    میلاد چوک میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایم این اے نوشین افتخار نے کہا کہ پاک فوج نے حالیہ کامیاب آپریشن "بنیان مرصوص” کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے قرآن کریم سے مکمل رہنمائی حاصل کی، اور حضور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جنگی حکمت عملی کو سامنے رکھتے ہوئے دشمن پر کاری ضرب لگائی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہوئے پاک فوج نے اپنے سے کئی گنا زیادہ طاقتور دشمن سے ٹکرا کر فتح و نصرت کا پرچم بلند کیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عالمی میڈیا نے بھی پاک فوج کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے مختلف القابات سے یاد کیا، کسی نے "فضاؤں کا بادشاہ”، کسی نے "آسمان کا سلطان” اور کسی نے "دنیا کی مضبوط ترین افواج” جیسے خطابات دیے۔ نوشین افتخار نے کہا کہ اگر پوری قوم "قومِ رسولِ ہاشمی” بن کر میدان میں اُترے تو کامیابی ہمارا مقدر بنے گی۔ انہوں نے ایک شاعر کا شعر پڑھتے ہوئے کہا:
    "میرے ہاتھ میں تھا جب تک میرے مصطفیٰ کا دامن، میرے پاؤں چومتی تھی یہ گردشِ زمانہ”

    ریلی کے اختتام پر شاندار آتشبازی کی گئی جس سے شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور فضا "پاکستان زندہ باد” کے نعروں سے گونج اُٹھی۔