Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • علی پور:ناقص مونگ بیج سے کروڑوں کا نقصان، کسان روٹر پھیرنے پر مجبور، ڈیلر کی دھمکیاں

    علی پور:ناقص مونگ بیج سے کروڑوں کا نقصان، کسان روٹر پھیرنے پر مجبور، ڈیلر کی دھمکیاں

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں محکمہ زراعت پنجاب کی مبینہ غفلت یانااہلی اور مقامی بیج ڈیلر کی ملی بھگت سے درجنوں کسان کروڑوں روپے کے نقصان سے دوچار ہو گئے۔ غیر معیاری مونگ کے بیج کی فروخت سے فصلیں زرد پڑ گئیں اور کاشتکاروں کو روٹر پھیر کر فصل تباہ کرنا پڑی۔ احتجاج کرنے والے کسانوں کو ازالے کی بجائے ڈیلر کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ محکمہ زراعت محض درخواستیں جمع کر کے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔

    موضع بیٹ برڑہ کے کاشتکار محمد اعجاز سندھا نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر زراعت علی پور رانا اعجاز کو تحریری درخواست میں بتایا کہ اس نے الحافظ ٹریڈر علی پور کے مالک چوہدری بشیر ارائیں سے مونگ کا بیج خریدا تھا جو انتہائی ناقص نکلا۔ بیج سے اُگنے والی فصل کے پتے پیلے پڑ گئے جبکہ آس پاس کے کسانوں کی فصلیں بہتر حالت میں ہیں۔ اعجاز کے مطابق جب اس نے ڈیلر سے بیج کی واپسی یا نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا تو اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

    اعجاز نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس کی چار لاکھ روپے کی فصل تباہ ہو گئی ہے جبکہ درجنوں دیگر متاثرہ کسان جن میں پرویز گوپانگ، محمد یامین سندھا، رانا دلشاد نمبردار، دلاور نقلی، فرید نقلی، مختیار ماچھی، مداح شاہ، سلیم شاہ نمبردار اور رجب کبوتری شامل ہیں، سب کو الحافظ ٹریڈر سے خریدے گئے بیج کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

    کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر جلد از جلد انصاف نہ ملا تو وہ بھرپور احتجاج کریں گے۔ دوسری جانب ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر زراعت علی پور رانا اعجاز نے تصدیق کی ہے کہ اعجاز سندھا کی درخواست موصول ہوئی ہے اور دیگر متاثرہ کسانوں کو بھی تحریری درخواست دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد ڈیلر اور کسانوں کو بلا کر انکوائری کریں گے، تاہم ان کے اختیارات محدود ہیں اور چھاپہ مار کارروائی فیڈرل سیڈ ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

    کسانوں نے اعلیٰ حکام خاص طورپر ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ اور کمشنر ڈیرہ غازیخان سے نوٹس لیکر معاملے کی فوری شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا اور غفلت کے مرتکب افسران و ڈیلر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

  • اوچ شریف: ڈاکخانہ عوام کے لیے عذاب، بدسلوکی معمول، انجمن تاجران کا نوٹس کا مطالبہ

    اوچ شریف: ڈاکخانہ عوام کے لیے عذاب، بدسلوکی معمول، انجمن تاجران کا نوٹس کا مطالبہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے مرکزی ڈاکخانے میں عملے کی ہٹ دھرمی، بدسلوکی اور غفلت نے شہریوں کو شدید اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ انجمن تاجران اوچ شریف کے صدر عمر خورشید سہمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صورتحال کو "عوامی تذلیل کا تسلسل” قرار دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    عینی شاہدین اور متاثرہ شہریوں کے مطابق ڈاکخانے کا عملہ اختیارات کے نشے میں چور اور عوامی خدمت کے جذبے سے مکمل طور پر خالی ہے۔ بزرگوں، خواتین اور نوجوانوں کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ معمول بن چکا ہے۔ سرکاری اوقات کار صبح 8 سے شام 4 بجے تک ہیں، لیکن ڈاکخانہ دوپہر 12 بجے ہی بند کر دیا جاتا ہے۔ شہریوں کو دھکے، گالم گلوچ اور بےعزتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    عمر خورشید سہمن کے مطابق اگر اس معاملے پر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو انجمن تاجران احتجاجی دھرنے، ریلیوں اور پریس کانفرنسز کے ذریعے اپنا موقف بھرپور انداز میں سامنے لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکخانے کا معاملہ محض ایک ادارے کی بدانتظامی نہیں بلکہ عوامی اعتماد کا بحران ہے، جس پر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ڈاک کی مسلسل خاموشی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

    عوامی، سماجی اور تاجر حلقوں نے بھی غفلت، بدتمیزی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب عملے کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بصورتِ دیگر یہ مسئلہ ایک بڑے عوامی احتجاج کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

  • احمدپورشرقیہ:: بیوی اور بیٹے کے اغوا کا ڈرامہ رچانے والا شخص ساتھیوں سمیت گرفتار

    احمدپورشرقیہ:: بیوی اور بیٹے کے اغوا کا ڈرامہ رچانے والا شخص ساتھیوں سمیت گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولپور محمد حسن اقبال کی ہدایات پر تھانہ سٹی احمد پور شرقیہ کی ٹیم نے پکار 15 پر جھوٹی اطلاع دینے والے شخص کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا۔ ڈی پی او کی ہدایت پر جھوٹے مقدمات درج کروانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں، ایس ڈی پی او احمد پور شرقیہ نے پریس کانفرنس میں بتایا۔

    چند روز قبل محمد ارسلان یعقوب نے پکار 15 پر اطلاع دی کہ وہ اپنی بیوی صباء بی بی اور تین سالہ بیٹے کے ساتھ موٹر سائیکل پر ڈیرہ مستی جا رہے تھے کہ عباسیہ چوک پر سفید کار سوار نامعلوم افراد نے ان کی بیوی اور بیٹے کو اغوا کر لیا۔

    پولیس نے فوری مقدمہ درج کر کے کارروائی کا آغاز کیا، تاہم ابتدائی تفتیش میں وقوعہ مشکوک پایا گیا۔ مدعی کو شاملِ تفتیش کر کے اس کا کریمنل ریکارڈ چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ماضی میں بھی جھوٹے مقدمات درج کروانے کا عادی رہا ہے۔

    مزید تحقیق کے بعد انکشاف ہوا کہ اغوا کا یہ ڈرامہ خود محمد ارسلان نے اپنے دوستوں ریحان ریاض، وقاص اکرم اور اپنی بیوی صباء بی بی کے ساتھ مل کر رچایا تھا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بیوی اور بیٹے کو ان کے سسرال سے بازیاب کرا لیا جبکہ ملزم ریحان ریاض کے قبضے سے وقوعہ میں استعمال ہونے والی آلٹو کار بھی برآمد کر لی گئی۔

    پولیس نے ملزمان کے خلاف اینٹی ریپ ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں جیل منتقل کر دیا۔ ایس ڈی پی او نے کہا کہ پکار 15 پر جھوٹی اطلاع دینا سنگین جرم ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • ڈسکہ: انجمن خدمتِ خلق کا اجلاس، ہسپتال میں UPS اور شہر میں سڑکوں کی تعمیر کا مطالبہ

    ڈسکہ: انجمن خدمتِ خلق کا اجلاس، ہسپتال میں UPS اور شہر میں سڑکوں کی تعمیر کا مطالبہ

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران) انجمن خدمتِ خلق رجسٹرڈ ڈسکہ کا 753واں ماہانہ اجلاس زچہ بچہ ہسپتال ڈسکہ میں زیر صدارت میاں سعید احمد صراف منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت حافظ عبدالغفار نے حاصل کی، جب کہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ انوار احمد سیال نے پیش کی۔

    جنرل سیکرٹری محمد انور مغل نے مارچ 2025 کے اجلاس کی کاروائی پیش کی، جسے باقاعدہ توثیق دے دی گئی۔ فنانس سیکرٹری انور احمد سیال نے ماہ مارچ کے مالی گوشوارے پیش کیے جنہیں بحث کے بعد منظور کر لیا گیا۔ شعبہ نشرو اشاعت کی رپورٹ شاہنواز مغل نے پیش کی، جبکہ اجلاس کے دوران سیکرٹری نشرو اشاعت سہیل سلمان ٹھروہی بھی تشریف لائے۔

    اجلاس میں زچہ بچہ ہسپتال میں جاری لوڈشیڈنگ کے باعث UPS لگانے کے مسئلے پر غور و خوض کیا گیا۔ ممبران نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری حل کا مطالبہ کیا تاکہ مریضوں کو پریشانی سے بچایا جا سکے۔

    شرکائے اجلاس نے انتظامیہ ڈسکہ سے مطالبہ کیا کہ شہر میں سڑکوں اور نکاسی آب کے نظام کی تعمیراتی سرگرمیوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ ان کاموں کی سست روی کی وجہ سے شہر میں گرد و غبار کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے جس سے دکاندار اور شہری ناک، گلے اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

    اجلاس کا اختتام حافظ عبدالغفار کی دعا اور میزبان کی طرف سے پرتکلف تواضع کے ساتھ کیا گیا۔

  • اوکاڑہ کے دو معصوم بہن بھائی خضدار میں دہشتگردی کا شکار، بچی شہید، بھائی زخمی

    اوکاڑہ کے دو معصوم بہن بھائی خضدار میں دہشتگردی کا شکار، بچی شہید، بھائی زخمی

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) بلوچستان کے علاقے خضدار میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والی مسافر بس میں اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 52/2-ایل کے رہائشی دو بہن بھائی بھی سوار تھے۔ افسوسناک واقعے میں ساتویں جماعت کی طالبہ، سات سالہ حفضہ کوثر افتخار موقع پر شہید ہوگئی، جبکہ اس کا چھوٹا بھائی، چھٹی جماعت کا طالبعلم محمد حذیفہ افتخار شدید زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔

    دونوں بچے حصولِ تعلیم کے سلسلے میں اپنے والد، پاک آرمی کے حوالدار افتخار کے ساتھ خضدار میں مقیم تھے۔ حملے کے بعد شہید بچی کا جسد خاکی اس کے والد آبائی گاؤں اوکاڑہ لے کر پہنچے، جہاں نمازِ جنازہ میں اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    ورثاء نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کے خون کا بدلہ ضرور لیا جائے گا، وہ دہشتگردی کے خلاف اپنی افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے واضح پیغام دیا کہ اس قسم کی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔

    یہ افسوسناک واقعہ نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پوری قوم کے لیے دکھ اور صدمے کا باعث بنا ہے۔ عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بھی معصوم شہید بچی کے لیے دعاؤں اور اظہارِ افسوس کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ دہشتگردوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

  • پاکستان کے خلاف افغانستان استعمال کرنے کی مودی سرکار کی ناکام کوشش

    پاکستان کے خلاف افغانستان استعمال کرنے کی مودی سرکار کی ناکام کوشش

    پاکستان کے خلاف افغانستان استعمال کرنے کی مودی سرکار کی ناکام کوشش
    تحریر: نصیب شاہ شینواری
    افغانستان کے حزبِ اسلامی کے رہنما انجینئر گلبدین حکمتیار کے ایک بیان کو "افغانستان انٹرنیشنل پشتو” کے ویب سائٹ پر شائع کیا گیا ہے۔بیان کے مطابق حکمتیار کا کہنا ہے کہ اگر بھارت اپنے پڑوس میں ایک خودمختار اور طاقتور بنگلہ دیش، سری لنکا اور پاکستان برداشت نہیں کر سکتا، تو وہ ایک خودمختار اور طاقتور افغانستان کو کیسے برداشت کرے گا، جس نے دہلی پر کئی صدیوں تک حکومت کی ہے؟

    حکمتیار کے اس بیان میں افغان حکومت کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ بھارت کی طرف سے پاکستان یا دیگر پڑوسی ممالک کے خلاف بلا اشتعال جارحیت کی کھل کر مخالفت کرے۔اگر افغانستان کھل کر بھارتی جارحیت کی مذمت کرتا ہے تو اس سے وہ پڑوسی ممالک کے دل جیت سکتا ہے اور بھارت کو سفارتی سطح پر شکست دے سکتا ہے۔

    مضبوط اور خودمختار افغانستان کے لیے ضروری ہے کہ افغان سیاسی رہنما آپس میں متحد ہوں، ایسا نہ ہو کہ 70 کی دہائی کی طرح افغانستان میں سیاسی رہنماؤں کے درمیان ذاتی تعصب اتنا پروان چڑھے کہ وہ اپنے ذاتی سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو قتل کریں، بالکل اسی طرح جیسے افغانستان میں ہوا تھا، جس کا فائدہ پھر روس نے اٹھایا اور دس سال تک افغانستان میں خون کی ہولی کھیلی گئی، لاکھوں بے گناہ افغان شہریوں کو شہید کیا گیا اور لاکھوں کی تعداد میں افغان شہریوں نے پاکستان ہجرت کی۔

    روس انقلاب میں، پڑوسی ایران کے برعکس، پاکستان میں افغان مہاجرین کو مکمل آزادی حاصل تھی اور افغان مہاجرین نے پاکستان آتے ہی پاکستان کے تقریباً ہر شہر میں اپنا کاروبار اور ان کے بچوں نے تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔

    ایسی صورت حال میں، جب مودی سرکار نے 22 اپریل کو پہلگام کا جعلی ڈرامہ رچایا اور عالمی سطح پر پاکستان کو اس دہشت گردی کے واقعے میں ملوث کرنے کی کوشش کی، لیکن مودی سرکار کے اس جھوٹے پروپیگنڈے سے پاکستان بدنام نہ ہو سکا۔ اگرچہ حال ہی میں افغان حکومت نے پہلگام واقعے کی مذمت کی، لیکن پاکستان پر بلا اشتعال بھارت کی جارحیت کی افغان حکومت نے مذمت تک نہ کی اور ایسا متنازعہ بیان جاری کیا جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے خوشگوار تعلقات ایک دفعہ پھر خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

    اس صورت حال میں، جس افغان حکومت نے پہلگام واقعے کی مذمت کی، بالکل اسی طرح افغان حکومت کو چاہیے تھا کہ پاکستان پر انڈیا کے بلا اشتعال حملے کی بھی بھرپور مذمت کرتی اور بھارت کو اس جارحیت سے روکتی۔ اس لیے کہ جب افغانستان کا پڑوسی ایٹمی ملک پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہوں اور وہ دیگر سازشی ممالک کے اشاروں پر نہ چلے، تب جا کر پاکستان جیسے نیوکلیئر طاقت رکھنے والے ملک دوسرے سازشی عناصر کو شکست فاش دے سکتے ہیں۔

    پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی اور حالیہ جنگی محاذ پر بھی بھارت کو شکست دی ہے، لیکن بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور 7 مئی سے 12 مئی تک جنگ کے دوران بھارت شکست کھانے کے باوجود، مودی سرکار کے نمائندے ایسے بیانات جاری کرتے ہیں جن سے سازش اور جنگ کی بو آتی ہے۔

    ایسی صورت حال میں، اگر بھارت کو فضائی یا زمینی فوجی قوت میں برتری حاصل ہے تو پاکستانی بری، فضائیہ اور بحریہ کی فوج کی مثال بھی نہیں ہے۔ نیوکلیئر طاقت کے ساتھ ساتھ پاکستانی افواج اور قوم میں ایمان و جہاد کا جذبہ ہے اور تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ مسلمانوں نے کم تعداد اور وسائل کے باوجود، زیادہ تعداد اور وسائل رکھنے والے مخالفین کو شکست دی ہے۔

    پاکستان بطور مضبوط نیوکلیئر پاور کا عملی مظاہرہ دنیا نے 10 مئی کی فجر کی نماز کے بعد دیکھا جب پاکستانی فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی حدود میں گھس کر دشمن کو دندان شکن شکست دی۔ پاکستانی شاہینوں نے 6 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے جن میں تین فرانس ساختہ رافیل طیارے بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے شاہینوں کی طرف سے بھارت کے طیارے گرانے کی تصدیق بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی کی اور اب تو پاکستانی فضائیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم نے دشمن کے 7 طیارے مار گرائے ہیں اور اس شکست کی وجہ سے مودی سرکار نے ایک بھوکے کتے کی طرح بھونکنا شروع کیا ہے۔

    جنگ کے دنوں میں پاکستان کے آہنی وار نے انڈیا کی خاتون فوجی ترجمان کرنل صوفیہ قریشی کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور ان دنوں اس خاتون فوجی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ انڈیا کبھی بھی پاکستان کے ساتھ جنگ اور جارحیت نہیں چاہتا، جس سے ثابت ہوا کہ پاکستانی شاہینوں نے مودی سرکار کو سیزفائر کے لیے آمادہ کیا۔

    بھارت کی بین الاقوامی منافقت اور سازش کو دیکھیں کہ جب سے پاک-انڈیا کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے، تو بھارت پاکستان کے مسلمان ہمسایہ افغانستان کے ساتھ نزدیکی بڑھانے کی کوشش کرتا آ رہا ہے تاکہ پاکستان اور افغانستان میں غلط فہمیاں پیدا کی جائیں، حالانکہ بات ایسی نہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں۔ روس انقلاب ہو یا روس انقلاب کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی، پاکستان نے ہر وقت افغان حکومت اور افغان بھائیوں کے لیے بارڈر کھلا رکھا ہے۔

    اب تو مودی سرکار ایسی سازشوں پر اُتر آئی ہے کہ افغانستان میں بھی ڈیم بنانے کے منصوبوں پر افغان حکومت کے ساتھ پلان شروع کیا تاکہ افغانستان سے نکلنے والے دریاؤں کا پانی پاکستان کے لیے روکا جا سکے۔

    ایسی صورت حال میں افغانستان کی موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ گلبدین حکمتیار کے بیان کے عین مطابق بھارتی سازش کا حصہ نہ بنے، اس لیے کہ حکمتیار نے پہلے ہی کہا ہے کہ انڈیا جب پڑوس میں ایک آزاد اور خودمختار پاکستان اور بنگلہ دیش برداشت نہیں کر سکتا، تو بھارت ایک آزاد، مضبوط اور خودمختار افغانستان کو کیسے برداشت کر سکتا ہے؟

  • پیر عادل: موٹرسائیکل اور پھٹہ رکشہ میں تصادم،طالب شدید زخمی

    پیر عادل: موٹرسائیکل اور پھٹہ رکشہ میں تصادم،طالب شدید زخمی

    پیر عادل (باغی ٹی وی، نامہ نگار باسط علی گاڈی) تھانہ شاہصدر دین کی حدود میں واقع دربار پیر عادل کے قریب موٹرسائیکل اور پھٹہ رکشہ کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں سکول سے چھٹی کے بعد گھر جانے والا ایک بچہ شدید زخمی ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق حادثہ اُس وقت پیش آیا جب ایک موٹرسائیکل، جو تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہو گیا، دربار پیر عادل کے قریب ٹی آراور گاڈر سے لوڈ پھٹہ رکشہ سے جا ٹکرایا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ موٹرسائیکل سوارطالب علم بچہ بری طرح زخمی ہو گیا۔

    حادثے کی اطلاع پر ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور زخمی بچے کو طبی امداد کے لیے علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق بچے کی حالت تشویشناک ہے۔

    پولیس نے حادثے کی ابتدائی رپورٹ درج کر لی ہے اور مزید کارروائی جاری ہے۔ مقامی افراد نے سڑک پر ٹریفک کی بدانتظامی اور تیز رفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: کچہری میں فائرنگ ، ایک شخص زخمی، ملزم موقع پر گرفتار

    ڈیرہ غازی خان: کچہری میں فائرنگ ، ایک شخص زخمی، ملزم موقع پر گرفتار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواداکبر) ڈسٹرکٹ کورٹ ڈیرہ غازی خان میں پیشی کے دوران فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ تھانہ سول لائن پولیس کو اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور ملزم کو موقع پر گرفتار کر لیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ عامر ولد افضل قوم کشانی، سکنہ موضع مندوس دراہمہ، نے عدالت کے احاطے میں دلاور ولد سلطان قوم کشانی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دلاور زخمی ہو گیا۔ پولیس نے زخمی کو فوری طبی امداد کے لیے ٹراما سینٹر منتقل کیا۔

    واقعے کے فوراً بعد ڈی ایس پی سٹی رانا اقبال، سب انسپکٹر سیف اللہ ارشد اور تھانہ سول لائن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف جائے وقوعہ کا کنٹرول سنبھالا بلکہ ملزم عامر کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔

    ایس پی انویسٹی گیشن بختیار احمد خان بھی اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچے اور تفتیشی کارروائی کی براہِ راست نگرانی کی۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد مقدمہ نمبر 299/23 بجرم 302 تھانہ دراہمہ کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہوئے تھے اور ان کے درمیان پرانی دشمنی چلی آ رہی تھی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش جاری ہے اور ملزم کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عدالتوں میں سیکیورٹی انتظامات پر بھی نظرثانی کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • ڈی جی خان:خاتون سے تعلق، پنچایت کے حکم پر پانی میں ڈبویا گیا نوجوان بیان سے مکر گیا

    ڈی جی خان:خاتون سے تعلق، پنچایت کے حکم پر پانی میں ڈبویا گیا نوجوان بیان سے مکر گیا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے زین جو کوہ سلیمان کے دامن میں واقع ہے، میں 17 مئی 2025 کو ایک واقعہ پیش آیا جس نے قومی اور بین الاقوامی توجہ حاصل کی۔ ایک نوجوان جمال خان ولد رحیم بخش پر خاتون سے مبینہ تعلقات کے الزام کے تحت غیر قانونی جرگے کے حکم پر "آف پانی” کی رسم ادا کی گئی۔ اس واقعے نے قبائلی رسومات، غیر قانونی جرگوں کے فیصلوں اور ان کے سماجی و قانونی مضمرات پر بحث کو جنم دیا۔ معاملہ اس وقت پیچیدہ ہو گیا جب جمال خان نے اپنے ابتدائی بیان سے مکرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے کسی نے پانی میں نہیں ڈبویا بلکہ وہ اپنی مرضی سے نہانے گیا تھا۔ یہ رپورٹ واقعے کی مکمل تفصیلات اور اس سے جڑے قانونی و سماجی پہلوؤں کا جائزہ پیش کرتی ہے۔

    واقعہ زین میں پیش آیا، جہاں زیادہ تر بلوچ قبائل آباد ہیں۔ جمال خان پر اس کے چچا نے اپنی بیٹی (جمال کی کزن) کے ساتھ مبینہ جنسی تعلقات کا الزام عائد کیا۔ چچا کا دعویٰ تھا کہ جمال اس کی بیٹی پر "بری نظر” رکھتا ہے۔ اس الزام کی بنیاد پر غیر قانونی جرگہ منعقد کیا گیا، جس نے روایتی رسم "آف پانی” کے ذریعے بے گناہی یا قصور واری ثابت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس رسم میں ملزم کو رسی سے باندھ کر 200 فٹ گہرے تالاب میں چھلانگ لگانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ ملزم کو تقریباً چار منٹ تک پانی کے اندر سر ڈبو کر رہنا ہوتا ہے۔ اگر وہ زندہ باہر نکلے، تو بے گناہ سمجھا جاتا ہے اگر ڈوب جائے تو قصوروار قرار دیا جاتا ہے۔ رسی کا مقصد ڈوبنے کی صورت میں لاش نکالنا ہوتا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق تالاب کی گہرائی 200 فٹ سے زیادہ تھی جو رسم کی خطرناک نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔

    جمال خان نے جرگے کے حکم پر تالاب میں چھلانگ لگائی اور مقررہ وقت کے بعد زندہ باہر نکل آیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں اس کی کمر پر رسی بندھی دکھائی دی ،18 مئی 2025 کو جمال خان نے بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کے تھانہ زین میں ایف آئی آر درج کروائی، جس میں دعویٰ کیا کہ اسے زبردستی تالاب تک لے جایا گیا اور پانی میں ڈبویا گیا۔ ایف آئی آر میں پانچ افراد، جن میں جرگے کا سرپنچ بھی شامل تھا، کو نامزد کیا گیا۔ بی ایم پی نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے، لیکن ملزمان نے مقامی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی اور تفتیش میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی۔

    کمانڈنٹ بی ایم پی محمد اسد چانڈیا نے بتایا کہ ایف آئی آر میں جرگے کے انعقاد کی تفصیلات نہیں تھیں۔ تفتیش سے پتا چلا کہ جمال اور الزام لگانے والے چچا کے خاندان سمیت قبیلے کے 10 خاندان ایک ہی جگہ رہتے ہیں۔ جمال کو گواہ پیش کرنے کا کہا گیا لیکن وہ کوئی گواہ پیش نہیں کر سکا۔

    جیونیوز کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں جرگے کے فیصلے پرگہرے پانی میں ڈالےگئے نوجوان نے پولیٹیکل انتظامیہ کوبیان حلفی جمع کرا تے ہوئے درج مقدمہ خارج کرنے کا کہہ دیا۔بیان حلفی اور ویڈیو بیان میں نوجوان نے کہا کہ اسے کسی نے پانی میں نہیں ڈبویا، اپنے رشتے داروں کے ساتھ تالاب میں نہانےگیا تھا، پانی میں جانےکی ویڈیو کسی نامعلوم شخص نے بنا کر وائرل کی۔

    پولیٹیکل اسسٹنٹ کے مطابق یہ بیان عدالت میں پیش کیا جائے گا اور جمال کے خلاف غلط بیانی پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا جمال پر دباؤ ڈالا گیا یا اس نے اپنی مرضی سے بیان تبدیل کیا۔

    کوہ سلیمان کے قبائلی علاقوں میں غیر قانونی جرگے مقامی مسائل کے حل کے لیے منعقد ہوتے ہیں۔ ان کے فیصلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، لیکن قبائلی دباؤ کی وجہ سے عملدرآمد ہوتا ہے۔ ایک مقامی رہائشی شخص کے مطابق جرگے کے فیصلے سے اختلاف کرنے والے کو باغی قرار دے کر قبیلے سے نکال دیا جاتا ہے اور بعض اوقات اسے قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔ "آف پانی” کی رسم میں ملزم کو چار منٹ تک گہرے پانی میں سر ڈبو کر رہنا ہوتا ہے۔ ایک اور رسم میں ملزم کو گرم لوہے کا راڈ پکڑنے اور اس پر تین بار زبان لگانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اگر ہاتھ یا زبان جل جائے تو قصوروار سمجھا جاتا ہے۔ چھوٹے جرائم کے لیے لوہے کے راڈ کی رسم اور سنگین جرائم کے لیے "آف پانی” کی رسم رائج ہے۔ ایک شخص کا کہنا تھاکہ ہ "ونی” کی رسم بھی عام ہے، جس میں تنازعات کے حل کے لیے لڑکیوں کی شادیاں کی جاتی ہیں۔ اسد چانڈیا کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان میں یہ رسومات تقریباً ختم ہو چکی ہیں، لیکن بلوچستان کے کچھ علاقوں میں اب بھی موجود ہیں۔

    یہ واقعہ قبائلی رسومات اور قانونی نظام کے درمیان تصادم کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کے قانون کے تحت غیر قانونی جرگوں کا انعقاد اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد ممنوع ہے، لیکن قبائلی دباؤ کی وجہ سے ان کا اثر و رسوخ برقرار ہے۔ وائرل ویڈیو نے رسم کی خطرناک نوعیت اور قانونی نظام کے نفاذ کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ واقعے کے بعد جمال کے بھائیوں اور قبیلے کے ارکان نے کلمہ چوک تونسہ پر احتجاج کیا اور جرگے کے ارکان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مقامی صحافیوں اور رہائشیوں نے بھی انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ بی ایم پی تفتیش کر رہی ہے، لیکن ملزمان کی ضمانت اور جمال کے تبدیل شدہ بیان نے معاملے کو پیچیدہ کر دیا ہے۔ پولیٹیکل انتظامیہ جمال کے حلفیہ بیان کو عدالت میں پیش کرے گی اور اس کے خلاف غلط بیانی کا مقدمہ درج کرے گی۔

    یہ واقعہ غیر قانونی جرگوں اور ان کے خطرناک فیصلوں کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ اگرچہ جمال زندہ بچ گیا، لیکن اس واقعے نے قبائلی رسومات کے خطرناک نتائج اور ان کے خاتمے کی ضرورت کو عیاں کیا۔ قانونی اداروں کو شفاف تفتیش کے ذریعے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔ قبائلی علاقوں میں تعلیم، شعور، اور قانونی نظام کے نفاذ سے ایسی غیر انسانی رسومات کا خاتمہ ممکن ہے۔

  • بھارتی دہشت گردی: فیصلہ کن جواب وقت کا تقاضا

    بھارتی دہشت گردی: فیصلہ کن جواب وقت کا تقاضا

    بھارتی دہشت گردی: فیصلہ کن جواب وقت کا تقاضا
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
    بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا ڈھونگ رچاتا آرہاہے، برسوں سے اپنے ہمسایوں خاص کر پاکستان کے خلاف پراکسی وار کے ذریعے دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ 21 مئی 2025 کو بلوچستان کے شہر خضدار میں ایک سکول بس پر خودکش حملہ اس کی بھیانک مثال ہے، جس میں تین معصوم بچوں سمیت پانچ افراد شہید اور 38 زخمی ہوئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے واضح کیا کہ یہ بزدلانہ فعل بھارت کی منصوبہ بندی کے تحت اس کی پراکسی تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے انجام دیا۔ یہ حملہ بھارت کی اس شدید مایوسی کی عکاسی کرتا ہے جو اسے آپریشن سندور کے جواب میں آپریشن بنیان مرصوص کی صورت میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    بی ایل اے کوئی مقامی علیحدگی پسند تحریک نہیں ہے بلکہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایک ہتھیار ہے جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ گرفتار دہشت گردوں نے بارہا اعتراف کیا کہ انہیں بھارت سے مالی امداد، ہتھیار، تربیت اور اہداف کی ہدایات ملتی ہیں۔ 2015 سے اب تک بی ایل اے کے 18 سے زائد حملوں میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جن کے تمام ترسازشوں کے راستے دہلی جاکے ملتے ہیں۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے اعترافات نے اس پراکسی نیٹ ورک کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی جاری ہے۔ بھارتی میڈیا، جیسے زی نیوزودیگر دہشت گردوں کی مذمت کرنے کے بجائے انہیں پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں جو ان کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔ خضدار کا سانحہ اسی بزدلانہ حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس میں بھارت میدان جنگ میں ناکامی کے بعد معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر اپنی شکست کا بدلہ لے رہا ہے۔

    اسی طرح شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں 19 مئی 2025 کو ہونے والا حملہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی ایک اور دہشت گرد تنظیم ’فتنہ الخوارج‘ کا کارنامہ تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ گروہ مساجد کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں، ان کی بے حرمتی کرتے ہیں اور معصوم شہریوں کو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیےبلی چڑھادیتے ہیں۔ فتنہ الخوارج کے دہشت گردمساجد میں جوتوں سمیت گھومتے ہیں، سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کرتے ہیں اور مساجد کی حرمت کو جان بوجھ کر پامال کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی فورسز مقدس مقامات کی عزت کی وجہ سے جوابی کارروائی سے گریز کریں گی۔ پاکستانی قوم اور افواج ان کے مکروہ مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہیں۔

    بھارت کی ناکامی صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں ہے،سی پیک جیسے منصوبوں نے پاکستان کو معاشی خودمختاری کی راہ پر گامزن کیا ہے لیکن بھارت اس ترقی سے خوفزدہ ہے۔ گوادر، دشت اور خضدار میں ہونے والے حملے پاکستان کی معاشی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازش کا حصہ ہیں۔آپریشن سندور کے جواب میں آپریشن بنیان مرصوص کی صورت میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت نے پراکسی جنگوں پر انحصار بڑھا دیا، جن میں بی ایل اے اور فتنہ الخوارج اس کے آلہ کار ہیں۔ یہ حملے پاکستان کے امن و استحکام کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں لیکن پاکستانی قوم ہر بار ان سازشوں کو ناکام بناتی آرہی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ حالیہ پاک بھارت محدود جنگ کے دوران اسرائیل نے بھارت کی بھرپور مدد کی۔ جنگ سے قبل اسرائیل کے 150 تربیت یافتہ افراد بھارت پہنچے اور سری نگر سمیت دیگر مقامات پر اسرائیلی ہتھیار استعمال کیے گئے۔ یہ گٹھ جوڑ نہ صرف پاکستان کے خلاف ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان نے جنگ بندی کی کوئی درخواست نہیں کی بلکہ بالغ نظری سے حالات کو سنبھالا۔ انہوں نے پسرور چیک پوسٹ کا ذکر کیا جہاں پاکستانی فوجیوں نے آخری دم تک مقابلہ کیا اور اپنی پوزیشن نہیں چھوڑی جو پاک فوج کی بہادری اور عزم کی روشن مثال ہے۔

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 83 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے۔ جب بھی ملک میں امن قائم ہونے لگتا ہے، بھارت اپنی پراکسی تنظیموں کو متحرک کر دیتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر بھارت جنگ چاہتا ہے تو پاکستان اس کے لیے تیار ہے، لیکن ہم امن کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایٹمی جنگ دونوں ممالک کے لیے تباہ کن ہوگی اور بھارت کا جھوٹا بیانیہ اب دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے قوم سے اتحاد کی اپیل کی اور کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔

    بھارت کی ریاستی دہشت گردی اب مزید برداشت سے باہر ہے۔ خضدار کے معصوم شہداء کا خون پاکستانی قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ چکا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ اس مکار دشمن سے اپنے بچوں اور بے گناہ شہریوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے۔ پاکستانی قوم ایک متحد اور بنیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی دیوار کی طرح اس دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہے اور ہماری بہادر افواج ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ بھارت کا مکروہ چہرہ عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کیا جائے اور اس کا ہر سہولت کار، ہر دہشت گرد اور ہر سرپرست انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    پاکستان امن، ترقی اور غیرت کی علامت ہے لیکن ہمارا صبر اب جواب دے چکا ہے۔ بھارت کے اس گھناؤنے کھیل کا خاتمہ ناگزیر ہے اور ہمیں اپنے شہداء کے خون کا بدلہ فیصلہ کن اور بے رحم انداز میں لینا ہے، اب کسی مصلحت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ عالمی برادری سے اپیل ہے کہ وہ بھارت کے اس شیطانی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کے کارروائی کرے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام اور بھارتی دہشت گردی کو روک لگانے کےلیے اپنا کردار ادا کرے۔